Header Ads

Roshan Sitara novel 58th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels


 

Roshan Sitara novel  58th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels 

Roshan Sitara is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels

Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front 

of the world and improve their abilities in that field.

 Roshan Sitara  Novel by Umme Hania | Roshan Sitara  novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Roshan Sitara  novel by Umme Hania Complete PDF download

Online Reading

 ناول "روشن ستارا"۔

  مصنفہ "ام ہانیہ"۔

Official pg : Umme Hania official

58th epi...
  فائز اپنے دھیان میں فلیٹ کا دروازہ کھولتا اندر داخل ہوا جب ماہرہ کی دلدوز چیخیں سن کر اسکے پاوں تلے سے زمین کھسکی۔۔۔۔
ماہرہہہہہہ۔۔۔ وہ چلاتا ہوا آواز کی سمت اندھا دھند بھاگا۔۔۔۔ آواز لیب سے آ رہی تھی۔۔۔
وہ حواس باختہ سا بھاگتا ہوا لیب کے دروازے تک آیا اور دروازہ تھامتا بامشکل پاوں گھسیٹ کر رکا۔۔۔
سامنے کا منظر ناقابل یقین تھا جو اسے ساکت و جامد کر گیا۔۔۔
وہ شل سا پھٹی پھٹی آنکھوں سے سامنے دیکھ رہا تھا۔۔۔ دل ایک دم ہی زور سے ڈھرکنے لگا تھا۔۔۔
ماہرہ۔۔۔ اسکے لبوں سے سرگوشانہ نکلا۔۔۔
فائزہ۔۔۔ وہ جو تب سے لرزتی کانپتی آنکھیں میچے چیخ رہی تھی فائز کی موجود محسوس کر کے اسکی جانب دیکھتی  تڑپ کر گویا ہوئی اور  پوری ہمت مجتمع کر کے اپنے پیچھے موجود نفوس کو دیکھے اسے پیچھے دھکیلتی اندھا دھند فائز کی جانب لپکی۔۔۔
وہ الگ بات کے اسکے دھکے کے باعث وہ انچ بھر بھی نا ہلا البتہ ماہرہ کی بازو پر گرفت کچھ ڈھیلی پری تو وہ بھاگتی ہوئی فائز کے سینے میں چہرا چھپاتی پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔ اسکا سارا بدن خوف سے ہچکولے کھا رہا تھا۔۔۔
فائز کسی ٹرانس کی سی کیفت میں اسی جانب دیکھتا ہاتھ اٹھا کر اسکی کمر سہلانے لگا۔۔۔
ریلیکس ماہرہ ریلیکس۔۔۔ کچھ نہیں ہوا۔۔۔  وہ وہیں نظریں جمائے دھیمے سے انداز میں گویا ہوا۔۔۔
ماہرہ نے اسکے سینے سے سر اٹھاتے اچھنبے سے اسے دیکھا۔۔۔
اور اسکا ارتکار نوٹ کر کرے واپس اس جانب پلٹی۔۔۔ جہاں وہ وہیں کھڑا ان دونوں کو دیکھ رہا تھا۔۔۔
Can you believe its my creativity mahira... I can't...
Look Mahira ... My body is shivering...
 اسنے اپنا کپکپاتا ہاتھ ماہرہ کے سامنے کیا۔۔۔۔ فائز کی آنکھیں نم تھیں اور ہونٹوں پر مسکراہٹ۔۔۔
ماہرہ نے تھوک نگلتے اسے دیکھا۔۔۔
میں بہت ڈر گئ تھی فائز۔۔۔ اسنے یکدم سے مجھے پکڑ لیا۔۔۔ وہ روہانسی ہو اٹھی۔۔۔
فائز نے چونک کر اسکی جانب دیکھا۔۔۔
تم کیا کر رہی تھی وہاں۔۔۔ 
میں وہاں لیپ ٹاپ۔۔۔ وہ بوکھلائی سی لیپ ٹاپ کی جانب اشارہ کر گئ۔۔۔ فائز بھاگتا ہوا لیپ ٹاپ کی سکرین کے سامنے گیا۔۔۔ جہاں پروسیسنگ کے ساتھ دو لکیریں ابھر رہی تھیں۔۔۔
مائے گاڈ ماہرہ۔۔۔ میں پچھلے کچھ دنوں سے اسکا سوفٹ ویئر اپڈیٹ کر رہا تھا پر ہر دفعہ اپڈیٹ فیل آ رہی تھی تم نے انجانے میں ہی سہی اپڈیٹ سکسیسفل کروا دی۔۔۔ اوہ گاڈ۔۔۔ وہ کرسی پر بیٹھتا چہرے پر ہاتھ پھیر کر ایکسائٹڈ سا گویا ہوا۔۔۔اسکی خوشی دیدنی تھی۔۔
اپنے بنائے شہکار کو چلتے پھرتے باتیں کرتے سمجھ کر جواب دیتے دیکھنا بھی الگ ہی جذبہ تھا۔۔۔ وہ بہت پرجوش تھا اور پرجوش سا ہی واپس لیپ ٹاپ کی سکرین پر جھکا جہاں اسی روبورٹ کا سکیچ ابھر رہا تھا۔۔۔۔ 
ماہرہ بھی قدم قدم چلتی اسکے پاس آئی۔۔۔
یہ دوبارہ تو مجھے کچھ نہیں کہے گا نا۔۔۔ اسکے لہجے میں خدشات تھے۔۔۔ یہ تمہیں نقصان نہیں پہنچائے گا۔۔۔ یہ کسی کو بھی نقصان نہیں پہنچا سکتا اسکی پروگرامنگ ہی اس انداز میں کی گئ ہے۔۔۔ بس تم ہی غیر متوقع طور پر اسے حرکت کرتا دیکھ گھبرا گئ تھی۔۔۔
فائز چند ایک کیز دبا کر واپس اسکی جانب پلٹا۔۔۔
ہیلو ڈئیر۔۔ کیسے ہو۔۔۔ 
وہ اب مسکراتا ہوا براہ راست اس اے آئی بیس روبورٹ سے مخاطب تھا۔۔۔
میں ٹھیک ہوں۔۔ بتائیے میں آپکی کیا مدد کر سکتا ہوں۔۔ کمرے میں اسکی روبورٹک آواز ابھری۔۔۔ جہاں فائز کے خوشی سے آنسو چھلک پڑے وہیں ماہرہ بھی حیرت و شاک سے منہ پر ہاتھ جما گئ کیونکہ وہ بالکل انسانی ماڈل کا روبورٹ تھا جو بالکل ویسے ہی منہ سے بول رہا تھا۔۔۔
فائز نے آنسو صاف کرتے مسکرا کر ماہرہ کو دیکھا اور واپس اسکی جانب متوجہ ہوا۔۔۔ 
تم کون ہو۔۔۔ 
میں ایک اے آئی بیس روبورٹ ہوں جو انسان کی خدمت کے لئے بنایا گیا ہے۔۔۔ اسکے جواب پر فائز ہس کر چہرے پر ہاتھ رکھتا سر نفی میں ہلا گیا۔۔۔
تمہیں کس نے بنایا ہے۔۔۔ 
مجھے اے آئی کے تھرو ایک ٹیم کے ذریعے تشکیل دیا گیا ہے میرا کوئی ایک تخلیق کار نہیں۔۔۔ 
مائے گاڈ۔۔۔ ماہرہ کے منہ سے بے ساختہ نکلا۔۔۔ یہ تو بالکل انسان جیسا لگتا ہے لیکن کیا اسکی روبورٹک آواز فکس نہیں کی جا سکتی۔۔۔ مطلب محض آواز کی بیس پر یہ روبورٹ لگ رہا ہے۔۔۔ ماہرہ چمکتی آنکھوں سے فائز کو دیکھتی گویا ہوئی۔۔۔
میری آواز کو بالکل تبدیل کیا جا سکتا ہے۔۔۔ اس کے لئے آواز کی پچ اور وائس سینسر کو اپ گریڈ کرنا ہوگا۔۔۔
جواب فائز کی جانب سے آنے کی بجائے روبورٹ کی جانب سے آیا تو وہ دونوں ہی کھلکھلا دیئے۔۔۔
کیا تمہیں مطلب روبورٹ کو میں اپنی شکل دے سکتی ہوں۔۔۔ ماہرہ کا ابتدائی خوف جاتا رہا تھا تبھی اب فن کرتے شوخ ہوئی۔۔
روبورٹ کو کسی بھی انسان کی شکل پر تشکیل دیا جا سکتا ہے۔۔۔ اس کے لئے چند اقدامات درپیش ہیں۔۔۔ جیسے۔۔
اچھا بس۔۔۔ اتنا طویل جواب نہیں چاہیے۔۔۔ اس سے پہلے کے وہ ڈیٹیل میں اترتا ماہرہ سرعت سے اسے خاموش کروا گئ۔۔۔
ماہرہ تم اندازہ نہیں لگا سکتی کے یہ روبورٹ مارکیٹ میں اترے  گا تو تہلکہ مچا دے گا۔۔۔ ہمیں مزید دیر نہیں کرنی چاہیے۔۔۔ اسکے ابتدائی چند ٹیسٹ کے بعد اسے لانچ کر دینا چاہیے۔۔۔
تم اس کے ساتھ وقت گزارو میں تب تک مرتسم اور وہاج کو فون کر کے یہ خوشخبری سنا کر آتا ہوں۔۔۔  یقیناً اسکی کمپنی تمہیں بور نہیں کرے لگی۔۔ وہ مسکرا کر جیب سے موبائل نکالتا باہر نکلتا گویا ہوا۔۔۔
یہ مجھے کچھ کہے گا تو نہیں۔۔  ماہرہ حفظ ما تقدم کے طور ہر گویا ہوئی۔۔۔ یہ تمہاری ہر ممکن مدد کرے گا میں بس ابھی آتا ہوں۔۔۔ 
فائز کے باہر نکلتے ہی ماہرہ مسکراتی ہوئی اسکے قریب آئی۔۔۔ تم بہت اچھے ہو۔۔۔ وہ شرارتی انداز میں گویا ہوئی۔۔
تعریف کا بہت شکریہ۔۔۔ 
کیا تم مجھ سے شادی کرو گے۔۔ وہ پیٹ  پکڑے ہسی ضبط کرنے کو دوہری ہوتی مزید شوخ ہوئی۔۔۔
میں ایک اے آئی بیس روبورٹک ماڈل ہوں اور روبورٹ شادی نہیں کرتے۔۔۔ 
ماہرہ کھلکھلا کر ہس دی۔۔
تم تو بہت مزے کے ہو۔۔ تمہارے ساتھ اچھا وقت کٹے گا۔۔۔ آجاو باہر۔۔۔ وہ ایک ادا سے کہتی لیب سے باہر نکلی. روبورٹ نے بھی اسکی تقلید کی۔۔ اور پھر صوفے پر بیٹھتے اسنے فائز کے آنے تک روبورٹ سے اتنے اوٹ پٹانگ سوال پوچھے کے خود ہی ہس ہس کر دہری ہوتی رہی۔۔۔
*******
کیا ہوا اتنا گھبرا کیوں رہی ہو۔۔۔ علایہ کھلے سے کپری پر ٹی پنک شارٹ فراک زیب تن کئے شفون کا سفید نگوں سے مزین آنچل سلیقے سے سر پر جمائے ہلکا سا میک اپ کئے کنفیوز سی بیڈ پر بیٹھی  تھی۔۔۔ جب فاہا اسکا اسقدر بے چین انداز دیکھ کر پوچھ بیٹھی۔۔۔
یارررر۔۔۔ تمہاری زندگی میں ابھی یہ مقام نہیں آیا نا جب تمہیں یوں تیار شیار ہو کر لڑکے والوں کے سامنے جانا پڑے۔۔۔ پتہ نہیں کیوں مجھے عجیب سی ٹینشن ہو رہی ہے۔۔۔ پتہ نہیں مجھے ہو کیا رہا ہے۔۔۔ بس ۔۔  بس دل گھبرا رہا ہے۔۔۔
وہ بے چین سی انگلیاں چٹخاتی گویا ہوئی۔۔۔ جبکہ اسکی اس بات پر  بے ساختہ فاہا کے سامنے اسکے نکاح کا منظر گھوم گیا۔۔  وہ لب چبا کر رہ گئ۔۔۔
اوکے بی ریلیکس۔۔۔ اتنی بھی کوئی گھبرانے والی بات نہیں۔۔۔ لڑکے والے آ رہے ہیں کوئی آدم خور نہیں۔۔۔ فاہا نے سر جھٹکتے اسے تسلی دینی چاہی۔۔۔
لڑکا بھی ساتھ ہو گا۔۔۔ علایہ بے چین سی نگاہیں اٹھا کر سوالیہ مستفسر ہوئی۔۔۔
تائی جان کہہ رہی تھیں کے لڑکا مرتسم کا دوست ہے۔۔۔۔ تو میرے خیال سے تو آئے گا ساتھ۔۔۔ فاہا اسکی حالت سمجھتی آہستگی سے گویا ہوئی۔۔۔
اب یہ کونسا دوست ہے بھائی کا ۔۔ وہ جھنجھلائی سی اٹھ کر ڈریسنگ ٹیبل تک آئی۔۔۔
وہ کافی خوبصورت لگ رہی تھی۔۔۔ تم انکے دوستوں کو جانتی نہیں کیا۔۔۔ 
میں نے کیا کرنا ہے انکے دوستوں کے بارے میں جان کر  فاہا۔۔۔ وہ جھنجھلا کر پلٹی۔۔ اپنی دوستیاں مجھ سے نبھائی نہیں جاتیں دوسروں کی ٹوہ میں لگ جاوں اب میں۔۔۔ وہ چڑچڑی ہو رہی تھی۔۔۔ دفعتاً ملازمہ کے آ کر لڑکے والوں کے آنے کی اطلاع دینے اور ماں کے اسے باہر آنے کا حکم دینے پر وہ لب چباتی فاہا کی جانب دیکھنے لگی۔۔۔
تم بھی چلو نا۔۔۔ 
ارے میں کیا کروں گی جا کر۔۔۔۔۔ تم پہنچو میں بعد میں آتی ہوں سلام کرنے۔۔۔ فاہا نے اسے ٹالا۔۔۔
بعد میں کیوں میرے ساتھ ہی آو نا۔۔۔ وہ بے چینی سے اسکی جانب بڑھی اور اسکا ہاتھ پکڑ کر اسے اٹھانے لگی۔۔۔ ناچار فاہا کو اسکی بات مانتے اٹھنا ہی پڑا۔۔۔
*****
وہ کنفیوز سی چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی ڈرائینگ روم میں داخل ہوئی۔۔۔
اسلام علیکم۔۔۔ اسنے ڈرائینگ روم میں آتے ہی اجتماعی سلام کیا ۔۔
وعلیکم اسلام ارے میری بیٹی آ گی۔۔۔ مسز خانزادہ کافی پرجوش انداز میں اٹھ کر اسکی جانب بڑھیں ۔۔ جبکہ وہاں غیر متوقع طور پر مسٹر اور مسز خانزادہ کو دیکھ کر علایہ کو اپنے سر پر آسمان ٹوٹتا محسوس ہوا۔۔۔
یکدم ہی اسکی نظروں کے سامنے زمین آسمان کے کلاپے گھوم گئے۔۔۔
اسے پوری جزئیات سے وہ دن یاد آیا جب وہ نیم برہنہ حالت میں بے حجاب سی وہاج کے سامنے بے بسی کے عالم میں کھڑی تھی اور وہ ضبط کے کڑے مراحل سے گزرتا اس نظر انداز کرتا اسے واپس لایا تھا۔۔۔
یہ سب کیا ہو رہا تھا بھلا۔۔۔ اسکا ننھا سا دل کپکپا کر رہ گیا۔۔۔ کیا وہ ہر چیز سے آگاہ تھا۔۔۔ ۔ کیا وہ جانتا تھا کے یہاں اسکے والدیں کس مقصد سے آئے ہیں۔۔۔
مسز خانزادہ اسے محبت سے اپنے حصار میں لئے اپنے ساتھ لا کر بیٹھا چکی تھیں۔۔۔ وہاں ناجانے کیا کیا باتیں ہو رہی تھیں جبکہ علایہ کو اپنے کان سائیں سائیں کرتے محسوس ہوئے۔۔۔
اسنے حواس باختہ دھندلی نگاہیں اٹھا کر اسے تلاشنے کی کوشیش کی جس سے کبھی زندگی میں دوبارہ سامنا نا ہونے کی اسنے دعائیں مانگیں تھیں۔۔۔ اسنے متلاشی نگاہ ڈرائینگ روم میں ڈالی۔۔۔ وہ وہاں کہیں نہیں تھا۔۔۔ اسکے ساتھ ساتھ مرتسم بھی وہاں کہیں نا تھا۔۔۔
اسکا دل خون کے آنسو رو کر رہ گیا۔۔۔ وہ اس بھیانک رات کے بعد جس کے اثرات اس رات کے بعد ناجانے کتنی راتوں تک اس سے چمٹے رہے تھے اس کے بعد وہ خود میں دوبارہ وہاج خانزادہ سے سامنا کرنے کی ہمت مفقود پاتی تھی۔۔۔ کہاں وہ اسکے سائے تک سے بھی دور بھاگ جانا چاہتی تھی اور کہاں یہ قسمت کی ستم ظریفی کے قسمت اسے تاعمر اسکے ساتھ نتھی کر رہی تھی۔۔۔
اپنے ہاتھ پر کچھ غیر معمولی محسوس کر کے وہ چونکی۔۔۔
لیں بھائی صاحب آج سے یہ ہماری بیٹی ہوئی۔۔ مسز خانزادہ نے اسکی انگلی میں انگھوٹی پہناتے خوشی سے کہا تو وہ چونک کر حواسوں میں لوٹتی ششدر سی اپنا ہاتھ دیکھ کر رہ گئ۔۔۔
کہاں وہ لوگ لڑکی دیکھنے آ رہے تھے اور کہاں یہ سب۔۔۔ اتنی جلدی۔۔۔ دماغ مفلوج ہونے لگا تھا۔۔۔
وہاں مبارک باد کا شور اٹھا تھا۔۔۔ فاہا سب کے سامنے مٹھائی کی پلیٹ کرتی منہ میٹھا کروا رہی تھی۔۔۔ علایہ کو اپنے جسم پر چیونٹیاں رینگتی محسوس ہوئیں۔۔۔
بس بھائی صاحب ہم زیادہ لمبے وقت تک انتظار نہیں کر سکتے۔۔۔ دو دن بعد چھٹی ہے اتوار ہے اور گھر ہی کی بات ہے۔۔۔ ہمیں اتوار کے روز بچی کا نکاح دے دیں رخصتی آپ جب کہیں گے تب سہی۔۔۔
اگلے ہفتے ہمیں عمرے پر جانا ہے اور جانے سے پہلے ہم اپنے فرض سے سبکدوش ہو کر جانا چاہتے ہیں۔۔۔ مسز خانزادہ کی آواز پر علایہ کو اپنے جسم سے جان نکلتی محسوس ہوئی۔۔۔ وہ پھٹی پھٹی نگاہوں سے باپ کا چہرا دیکھنے لگی۔۔۔
یہ اسکی زندگی میں ہو کیا رہا تھا۔۔۔
علایہ آپ ہی کی بیٹی ہے مسز خانزادہ۔۔۔ لیکن ابھی وہ پڑھ رہی ہے۔۔۔ اگر بات محض نکاح کی ہے تو نیک کام میں دیری کیسی۔۔۔ رخصتی ہم اسکے امتحانات کے بعد کر دیں گے۔۔ یہ آواز اسکی ماں کی تھی۔۔۔ اور یہ وہ آخری الفاظ تھے جو وہ فلحال بلکل نہیں سننا چاہتی تھی۔۔۔
ایکسکیوز می۔۔۔ وہ بدقت کہتی وہاں سے اٹھی اور بنا کسی کی جانب دیکھتے تیز تیز قدم  اٹھاتی کمرے سے نکلی۔۔۔ 
بہت ہی شریف اور سلجھی بچی ہے۔۔۔ آج کل کی تیز طرار لڑکیوں والی کوئی بات ہی نہیں۔۔ شادی کی بات سن کر ہی شرما گئ۔۔۔
مسز خانزادہ کے کہنے پر وہاں موجود سبھی افراد مسکرا دیئے۔۔۔
*****
علایہ ڈرائنگ روم  سے نکلتے ہی اندھا دھند اپنے کمرے کی جانب بھاگی اور کمرے میں پہنچتے ہی وہ دروازہ بند کرتی زاروقطار رو دی۔۔۔
مائے گاڈ۔۔ مائے گاڈ۔۔۔۔۔
یہ سب کچھ دیر پہلے کیا ہوا۔۔۔
اب وہ بابا کو کس منہ سے اس رشتے سے انکار کرے گی۔۔۔ جب خود ہی اتنے مان سے انہیں کہا تھا کے اسے انکے کسی فیصلے سے انکار نہیں۔۔۔ اب کیسے کہتی انہیں کے اپنی زبان سے مکر جائیں۔۔۔۔اسنے بھرائی نگاہوں سی انگلی میں پہنی ہیرے کی نفیس سی انگوٹھی کو دیکھا اور وہ انگوٹھی جسکے نام کی تھی اسکے بارے میں سوچتے ہی دل خون کے آنسو رونے لگا تھا۔۔ اب وہ کیا کرے۔۔۔ کیا کرے ۔۔۔۔۔ کیا کرے۔۔۔
وہ بے چینی سے سوچ رہی تھی جب دماغ میں یکدم ہی ایک جھماکہ ہوا۔۔۔
وہ آنکھیں رگڑ کر صاف کرتی کمرے سے نکلی۔۔۔ اب اسکا رخ مرتسم کے کمرے کی جانب تھا۔۔۔ ہاں یقیناً وہ اسکی مدد ضرور کرتا۔۔۔
وہ بھاگتے ہوئے مرتسم کے کمرے میں داخل ہوئی۔۔۔ مرتسم جو کے میز سے فائل اٹھا رہا تھا اسے یوں آندھی طوفان کی مانند اپنے کمرے میں داخل ہوتا دیکھ ٹھٹھک کر رکا۔۔۔
بھائی۔۔۔ اسکے تڑپ کر پکارنے پر وہ خود ٹرپ اٹھا۔۔۔
کیا ہوا علایہ۔۔۔ کیا تم روئی ہو۔۔۔ وہ اسکا رویا رویا سا چہرا دیکھے پریشانی سے گویا ہوا۔۔۔
بھائی کیا آپ جانتے ہیں نیچے کون آیا ہے۔۔۔ بابا میری شادی آپکے دوست وہاج سے طے کر رہے ہیں۔۔۔ وہ زاروقطار رو دی۔۔۔ مرتسم نے اسے دیکھنے کے بعد ایک پریشان نگاہ سٹڈی روم کے کھلے دروازے پر ڈالی۔۔
اور ٹھٹک تو دوسری جانب سٹڈی روم میں بیٹھا وہاج خانزادہ بھی گیا تھا۔۔۔ جو یہاں آتے ہی نیچے سب کے ساتھ بیٹھنے کی بجائے مرتسم کے کمرے میں آ گیا تھا۔۔۔
ہاں میں جانتا ہوں علایہ۔۔۔ ہم بعد میں اس بارے میں بات کریں گے۔۔ ابھی تم اپنے کمرے میں جاو میں وہیں آتا ہوں۔۔۔ مرتسم ماتھا مسلتا اسے کمرے سے بھیجنے کی خاطر گویا ہوا۔۔۔
بھائی مجھے اس سے شادی نہیں کرنی۔۔۔ پلیز آپ بابا کو منع کر دیں۔۔۔ وہ بنا اسکی بات سمجھے روتے ہوئے گویا ہوئی۔۔
اسکی بات پر جہاں وہ پریشان ہو اٹھا وہیں اندر بیٹھے وہاج خانزادہ کے ماتھے پر شکنوں کا جال بچھا۔۔۔
کیوں شادی نہیں کرنی ۔۔۔ حالانکہ یہ سب تمہاری رضا مندی سے ہو رہا ہے۔۔۔ وہ محتاط سے انداز میں گویا ہوا۔۔۔ جہاں تک اسے پتہ چلا تھا کے علایہ نے بابا کو ہاں بولی تھی تو ہی وہ لوگ آج یہاں موجود تھے۔۔
مجھے نہیں پتہ تھا کے لڑکا وہاج خانزادہ ہے۔۔۔ وہ سسک اٹھی۔۔۔
وہاج میں کیا برائی ہے۔۔۔ مرتسم سختی سے گویا ہوا۔۔
وہ چاہ کر بھی مرتسم کو مین بات نا بتا پائی۔۔
وہ اچھا نہیں ہے۔۔۔ بس بھرائی آواز میں اتنا ہی بولی۔۔۔ کیا مطلب وہ اچھا نہیں۔۔۔ وہ ایک باکردار مرد ہے۔۔۔ مرتسم اسکی صفائی میں لفظ چبا کر گویا ہوا۔۔
نہیں ہے وہ با کرادر ۔۔ وہ چٹخ اٹھی۔۔۔ اسکا کردار بالکل بھی اچھا نہیں۔۔۔ وہ خود نہیں جانتی تھی کے اس وقت کیا بول رہی ہے بس وہ اس وقت مرتسم کو قائل کرنا چاہتی تھی۔۔۔
کیا جھول دیکھا تم نے محترمہ میرے کردار میں زرا مجھے بھی تو پتہ چلے زرا۔۔۔ وہاج خانزادہ جلتے انگاروں پر لوٹتا غراتا ہوا کمرے سے ملحقہ سٹڈی روم سے نکلا۔۔۔
جبکہ علایہ غیر متوقع طور پر اسکی آواز سن کر خوف سے اچھلتی پلٹی۔۔۔۔ اسکے خطرنک تیور دیکھ کر علایہ کی آنکھیں پھٹ پڑیں جبکہ رنگت خطرناک حد تک سپید پر گئ۔۔۔
******

No comments

Powered by Blogger.
4