Header Ads

Roshan Sitara novel 57th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels


 

Roshan Sitara novel  57th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels 

Roshan Sitara is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels

Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front 

of the world and improve their abilities in that field.

 Roshan Sitara  Novel by Umme Hania | Roshan Sitara  novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Roshan Sitara  novel by Umme Hania Complete PDF download

Online Reading

 ناول "روشن ستارا"۔

  مصنفہ "ام ہانیہ"۔

Official pg : Umme Hania official

57th epi...

ہم یہاں آنے والے تھے ماں۔۔۔ وہ پریشانی سے گویا ہوا۔۔۔ 
پتہ نہیں۔۔۔ میں خود کچھ نہیں جانتی ۔۔۔ ماں نے بھی اسے پریشان نگاہوں سے دیکھتے شانے اچکائے۔۔۔
دونوں گاڑیاں آگے پیچھے جا کر کار پورچ میں رکی تو مرتسم لودھی نے گاڑی سے اترے کوٹ کا بٹن بند کرتے جانچتی نگاہوں سے ولا کو دیکھا اور گہری سانس خارج کرتے ماں کی جانب دیکھا۔۔۔ اسکی جانب دیکھتے ماں بھی مسکرا دیں۔۔۔
تب تک اگلی گاڑی سے بھی نفیس سی ساڑھی میں ملبوس بالوں کا اونچا جوڑا بنائے لیڈی نکلتی انٹرس کی جانب بڑھی۔۔۔ 
مرتسم اور ناہید بیگم نے اسکی تقلید کی۔۔
دو زینے چڑھ کر اندرونی دروازہ وا کرتے ہی مسٹر اور مسز خانزداہ مرتسم اور ناہید بیگم کو دیکھتے ہی چونک اٹھے۔۔۔
ارے مسز لودھی آپ۔۔۔ اس سے پہلے کے وہ خاتون تعارف کے مراحل طے کرواتیں مسز خانزادہ خوشگوار حیرت سےناہید بیگم کی جانب بڑھی۔۔۔۔
اسلام علیکم انکل۔۔۔ کیسے ہیں آپ۔۔۔ مرتسم گہرا سانس خارج کرتا مسٹر خانزادہ سے بغلگیر ہوا۔۔۔
اسے اپنی ساری تیاری پر افسوس ہوا۔۔۔ کاش وہ ماں سے پہلے لڑکے کا نام اور ساری معلومات حاصل کر لیتا تو اتنا تردد نا کرنا پڑتا۔۔۔
کیا آپ دونوں ایک دوسرے کو جانتے ہیں۔۔۔ وہ خاتون اچھنبے سے گویا ہوئیں۔۔
ارے ایسا ویسا۔۔۔ اگر مجھے پہلے اندازہ ہوتا نا مسز لودھی کے آپ علایہ کے لئے رشتہ تلاش کر رہی ہیں تو ٹرسٹ می مجھے اتنے پاپڑ بیلنے ہی نا پڑتے۔۔۔ بھلا میرے لئے علایہ سے بڑھ کر بھی کوئی ہو سکتی ہے۔۔۔ ارے اپنے گھر کی دیکھی بھالی بچی ہے۔۔۔ پورا بچپن میری آنکھوں کے سامنے گزرا۔۔۔ میں تو یوں جھٹ رشتہ لے کر پہنچ جاتی لودھی ہاوس۔۔۔ اور پھر چاہیے آپ لوگوں سے ہاں کروانے کے لئے چوکھٹ کیوں نا پکڑنی پڑتی۔۔۔ میں پکڑ کر بیٹھی رہتی ۔۔۔ تب تک جب تک آپ لوگ اس رشتے کے لئے ہاں نا کہہ دیتے۔۔۔
مسز خانزادہ مسکرا کر کہتیں انہیں ساتھ لئے ڈرائینگ روم تک آئیں۔۔  ۔
ناہید بیگم مسکرا کر بیٹی کی تعاریفیں سن رہی تھیں۔۔۔ بیٹی کی تعریف سننا تو ہر ماں کے لئے ہی لمحہ فخر ہوتا ہے.  
گھر سے نکلنے سے پہلے میرے دل میں اس رشتے کو لے کر جتنے بھی خدشات تھے۔۔ جتنے بھی وسوسے تھے وہ یہاں اس گھر میں داخل ہوتے ہی اپنی موت آپ مر گئے۔۔۔ وہاج تو مجھے بھی بالکل مرتسم کی طرح ہے۔۔۔ باقی جو اللہ کو منظور ہو۔۔۔ مجھے تو وہاج بالکل پسند ہے۔۔۔ مگر اپنی لاڈلی کے لئے انتخاب کا اختیار باپ اور بھائی نے اپنے ہاتھ میں لے رکھا ہے۔۔۔۔۔
ناہید بیگم نے انکی جلد بازیاں ملاخظہ کرتے بال ان باپ بیٹے کے کورٹ میں ڈالی کے یہ سچ تھا کے انہیں وہاج ہر لحاظ سے اپنی بیٹی کے لئے پسند تھا۔۔۔
دفعتاً ملازمہ چائے کے لوازمات سے بھری ٹرالی گھسیٹتی اندر داخل ہوئی۔۔
بالکل مسز لودھی کیوں نہیں۔۔۔ بیٹیوں کے معاملے میں باپ بھائیوں کا اتنا حساس ہونا تو بنتا ہے۔۔۔ ہمیں کوئی جلدی نہیں۔۔ آپ لوگ اپنی جانب سے مکمل تسلی کر لیں۔۔۔
مسٹر خانزادہ نے چائے کا کپ اٹھاتے گفتگو میں حصہ لیا۔۔۔
انکل وہ خود کہاں ہے۔۔۔ مرتسم چاروں جانب دیکھتا وہاج کی غیر موجودگی محسوس کرتا پوچھ بیٹھا۔۔ 
بیٹا وہ اپنے کمرے میں ہے۔۔۔ میں بلواتا ہوں اسے۔۔۔
ارے رہنے دیں انکل ۔۔ اس سے پہلے کے وہ ملازمہ کو آواز دے کر وہاج کو بلانے کا کہتے مرتسم سرعت سے انہیں روک گیا۔۔۔
Don't be so formal ...
 میں خود جا کر اسے لاتا ہوں۔۔۔ مرتسم مسکرا کر کہتا اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔
نا یہ گھر اس کے لئے اجنبی تھا اور نا ہی اس خرافاتی دوست کا کمرا۔۔۔
وہ ڈرائینگ روم سے نکلتا گولائی میں اوپر چڑھتے زینوں کی جانب بڑھا۔۔۔
******
مرتسم کمرے کا دروازہ دھکیل کر اندر داخل ہوا تو زیرو پاور کی نیلنگوں روشنی نے اسکا استقبال کیا۔۔۔ کمرا اے سی کی کولنگ سے خنک تھا۔۔۔ جبکہ وہاج خانزادہ بنا شرٹ کے بستر پر اونڈھے منہ لیٹا خواب خرگوش کے مزے لے رہا تھا۔۔۔
اسے دن کے گیارہ بجے یوں نیند کے مزے لیتے دیکھ مرتسم کے ماتھے پر شکنوں کا جال بچھا ۔۔ اسنے سوئچ بورڈ پر ہاتھ مارتے ایک ساتھ ہی کمرے کی سبھی بتیاں جلا ڈالیں۔۔۔ یکدم ہی کمرا روشنیوں میں نہا گیا۔۔۔
بے غیرت انسان نیچے لڑکی والے تمہیں دیکھنے آئے ہیں اور  تم یہاں گھوڑے گدھے سب بھیچ کر سو رہے ہو۔۔۔ مرتسم اسکے سر پر پہنچ کر اتنی زور سے ڈھارا کے وہاج بے ساختہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا۔۔۔
تم یہاں کیا کر رہے ہو مرتسم۔۔۔ وہ مندھی مندھی آنکھیں کھول کر کسلمندی سے بیڈ کراون سے ٹیک لگاتا نیم دراز ہوا۔۔
کیا پہلی دفعہ آیا ہوں یہاں۔۔۔ مرتسم چڑا۔۔۔
او یار۔۔۔ وہ مطلب نہیں تھا۔۔۔ مطلب آج میری بینڈ بجنے والی ہے تو اس موقع پر تجھے کس نے بلا لیا اور تم اتنے سوٹڈ بوٹڈ بن کر کیوں گھوم رہے ہو۔۔۔ دماغ وماغ چکرا گیا کیا۔۔۔ یا پریکٹیکل لائف میں قدم رکھتے تمہیں بھی آفس میں پھینکا جا رہا ہے۔۔۔ وہاج اسے سر سے پاوں تک دیکھتا بیزار سے لہجے میں گویا ہوا۔۔۔۔
نہیں۔۔۔ مرتسم کمینگی سے مسکرا دیا۔۔۔ مجھے انکل نے آج تمہارے اتنے خاص دن پر بلایا تھا۔۔۔
نکمے انسان۔۔۔ مجھے اور فائز کو باتیں کر رہے تھے کے چھپ کر نکاح کر لیا۔۔۔ کم از کم ہم نے تمہیں نکاح پر بلایا تو صحیح۔۔۔
تم تو بڑے چھپا رستم نکلے۔۔۔ سب بالا ہی بالا کر کے ہمیں محض انفارم کرنا چاہتے تھے۔۔۔ مرتسم نےگھور کر دیکھتے اسے آڑے ہاتھوں لیا۔۔۔
چھوڑو یار۔۔۔ یہ جو یونیورسٹی ختم ہو گئ نا۔۔۔ بڑا ظلم ہوا یہ مجھ پر۔۔۔۔ یکدم ہی میری ماں کے اکلوتے بیٹے کے سر پر سہرا سجانے کے ارمان جاگ اٹھے مرتسم۔۔۔
مت پوچھو یار کل یہاں گھر پر کون کونسے ایموشنل میلو ڈرامے لگے ہیں۔۔۔
وہ بیچارگی سی صورت بناتا سدھا ہو کر بیٹھا اور اسے خود پر ٹوٹے ظلم کی داستان سنانے لگی۔۔۔
میں تو کملا کر رہ گیا۔۔۔ مطلب اتنی خاندانی سیاست۔۔۔
مرتسم بھی پوری دلچسپی سے اسکی داستان سن رہا تھا۔۔۔ آخر کو اکلوتی بہن کا معاملہ تھا۔۔۔
مجھے نافرمان ناحلف اور ناجانے کون کون سی اولاد بنا دیا گیا۔۔ جسے نا ماں باپ کی پرواہ ہے اور نا ہی اس سونے آنگن کی۔۔۔
اسکی دہائی پر مرتسم نے بامشکل ہسی ضبط کی۔۔۔
میری ماں نے تو کل مجھ سے سارے واسطے تعلق ختم کرنے کی ٹھان لی تھی۔۔۔ تمہیں دودھ نہیں بخشوں لگی۔۔۔ میرا مرا منہ مت دیکھنا۔۔۔ اور ناجانے کیا کیا۔۔۔ اتنا پریشرائز کیا کے میرا تو نروس بریک ڈاون ہونے والا۔۔۔
اچھااااا۔۔۔۔ او ہو۔۔۔ پھر۔۔۔ مرتسم بھرپور ہمدردی سے گویا ہوا۔۔۔
پھر کیا یار رات ساڑھے بارہ بجے مجھے ہار مانتے سیز فائز کرنا پڑا یار۔۔۔ مام صبح سے بھوکی تھیں۔۔۔ بامشکل رضا مندی دے کر انہیں کھانا کھلایا۔۔۔
مجھے تو یہ تھا کہ رشتے تھوڑی ناچھت پر پڑے ہیں جو میرے ہاں کرتے ہی آ ٹپکے گیں۔۔۔ مگر یہ واقعی مجھے شاک لگ گیا۔۔۔۔
اب کیا کروں مرتسم۔۔۔وہ چہرے پر ہاتھ پھیرتا پریشانی سے اسکی جانب رخ کر گیا۔۔۔
کیا مطلب کیا کروں۔۔۔ جا کر لڑکی والوں سے مل۔۔۔۔ 
یار کوئی آئیڈیا ہی دے دو جس سے لڑکی والے انکار کر دیں۔۔۔ وہ الجھا سا دکھائی دیتا تھا۔۔
ایک۔۔۔۔ منٹ۔۔۔۔ایک منٹ۔۔۔ ایک منٹ۔۔۔۔۔اور تم شادی کرنا کیوں نہیں چاہتے۔۔۔ جہاں تک مجھے پتہ ہے تم کسی میں انٹرسڈ بھی نہیں۔۔۔ فیوچر تمہارا برائٹ ہے۔۔۔ ڈگری تم مکمل کر چکے ہو تو پھر مسلہ کیا ہے۔۔۔
حالانکہ ہم دوستوں میں سے صرف تم ہی بچے ہو۔۔۔ تو پھر پرابلم کیا ہے۔۔۔ مرتسم سیدھا ہوتا سنجیدگی سے گویا ہوا۔۔۔
کیا یار ۔۔۔ بس ابھی نہیں سوچا نا شادی کا۔۔ یونیورسٹی سے فری ہو کر کچھ دیر بندہ عیش تو کر لے۔۔۔۔۔ وہ خاصا جھنجھلایا۔۔۔
تو مت کرو ابھی شادی۔۔۔ ابھی صرف انگیجمنٹ کروا لو۔۔۔ مرتسم کے کہنے پر وہ سر پر ہاتھ مار کر رہ گیا۔۔۔
یار مجھے کیا پتہ لڑکی کون ہے کیسی ہے۔۔۔ میری ماں کا بس چلے تو راستے سے گزرتی کسی بھی لڑکی کو بہو بنا کر گھر لے آئے۔۔۔ اسنے نیا دکھڑا سنایا۔۔۔
لڑکی کو تم جانتے ہو۔۔۔ مرتسم کے کہنے پر وہاج نے جھٹکے سے سر اٹھایا۔۔۔
کیا مطلب۔۔ 
مطلب یہ کہ میں لڑکی کا بھائی ہوں۔۔۔ نا کر یار۔۔۔ مرتسم کے کہنے پر اسے شاک لگا۔۔۔ وہ شاک کی سی کیفیت میں آنکھیں پھاڑے گویا ہوا۔۔۔
اور یہاں میں اپنی بہن کے لئے لڑکا دیکھنے ہی آیا تھا وہ تو یہاں آ کر پتہ چلا کے لڑکا کونسی مخلوق ہے جو دوپہر چڑھے تک سویا رہتا ہے۔۔۔ مرتسم کے تاسف سے کہنے پر وہ پرجوش سا ہاتھ پر ہاتھ مارتا اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔ ایک لمحہ لگا تھا اسے ابتدائی فیز سے نکلنے میں۔۔۔
گریٹ۔۔۔ ویری گڈ ہو گیا۔۔۔ اب تم ایک کام کرو۔۔۔ میرے اندر سے اچھی اچھی سی پانچ سات برائیاں نکال کر یہ رشتہ ریجیکٹ کر دو۔۔۔ وہاج کے پرجوش انداز میں کہنے پر مرتسم نے اسے یوں دیکھا جیسے اسکا دماغ چل گیا ہو۔۔۔
اور میں ایسا کیوں کروں بھلا۔۔۔ حالانکہ تم مجھے پسند ہو۔۔۔ مرتسم بیڈ کراون سے ٹیک لگاتا گردن اکڑا کر بولا۔۔۔
میں کیسے بھول گیا تم دنیا کے نمبر ون کمینے ہو۔۔۔ مگر دیکھو مرتسم کمینگی کا بھی ایک وقت ہوتا ہے۔۔۔ جب عزرائیل سر پر کھڑا ہو تب دوست کی جان بچائی جاتی ہے۔۔۔ کمینگی نہیں دکھائی جاتی۔۔۔ وہ عاجزی سے بات کرتا آخر پر دانت پیس کر گوی ہوا۔۔۔۔
مرتسم تاسف سے سر نفی میں ہلا کر رہ گیا۔۔۔
تم جانتے نہیں اس جنگلی بلی کو کیوں مجھے پوری زندگی کا روگ لگوانا چاہتے ہو۔۔۔  وہ سر کھرچتا بے بسی سے ادھر ادھر دیکھتا گویا ہوا۔۔۔
وہاججججج۔۔۔۔۔ وہاج کے دکھڑا رونے پر مرتسم غراتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔
بہن کے معاملے میں مذاق نہیں۔۔۔
بس جاگ گئ غیرت۔۔۔۔ دوست چاہیے سولی لٹک جائے۔۔۔ وہ چھلانگ لگا کر اسکی پہنچ سے دور ہوتا واش روم میں گھس کر دروازہ زور دار انداز میں بند کر گیا۔۔۔
مرتسم مسکرا کر رہ گیا۔۔۔ وہ باخوبی آگاہ تھا اسکی نوٹنکی اور جولی پن سے۔۔۔
ویسے سن۔۔۔ اور کون آیا ہے تمہارے ساتھ۔۔۔ وہ جھٹ سے دروازہ کھول کر سر باہر نکالتا معصومیت سے گویا ہوا۔۔۔ ماں آئی ہیں۔۔۔
مطلب ابھی انکے سامنے بھی اچھے اور شریف لڑکے کے طور پر خود کو ریپریزینٹ کرنا ہے مجھے۔۔۔ اللہہہہہ کیا مصیبت ہے۔۔۔ وہ جھنجھلا کر کہتا دروازہ ٹھک سے بند کر گیا۔۔۔ جبکہ اس بار مرتسم چاہ کر بھی اپنا قہقہ نا روک پایا۔۔۔
*****
ماں مجھے لڑکا پسند ہے آپ بابا  سے بات کر کے  علایہ سے پوچھ لیں۔۔۔ پھر ہی بات آگے بڑھائیں گے۔۔۔ خیر میری طرف سے اوکے ہے۔۔۔ نا تو وہاج کے کردار میں کوئی جھول ہے اور نا ہی اس میں کوئی بری عادت پائی جاتی ہے۔۔۔ وہ اپنے رشتوں کو لے کر حساس اور ذمہ دار شخص ہے۔۔۔ وہ ہر لحاظ سے کسی بھی لڑکی کے لئے بہترین انتخاب ثابت ہو سکتا ہے۔۔۔ رشتوں کے معاملے میں کھڑا اور سچا انسان۔۔۔خانزادہ ہاوس سے واپسی پر گاڑی سڑک پر رواں دواں تھی جب مرتسم صدق دل سے گویا ہوا۔۔۔۔
ماں بھی کافی مطمیئں تھی۔۔۔ وہ جو سوچ رہی تھیں کے بیٹی کے لئے بہترین شخص کے لئے ناجانے کتنی تلاش کرنی پڑے لگی۔۔۔ وہ پہلی بار میں ہی مطمیئں ہو کر لوٹیں تھیں۔۔۔ گھر آتے ہی انہوں نے لودھی صاحب کے گوش ساری بات گزارتے جمعہ کے روز مسٹر اور مسز خانزادہ کی اپنے گھر آمد متوقع بتائی تھی۔۔۔
بھلا سلمان صاحب کو کیا اعتراض ہونا تھا۔۔۔ بچہ دیکھا بھالا تھا اور سب سے بڑی بات مرتسم اور ماں دونوں کو پسند تھا۔۔
لیکن حتمی فیصلہ انکی شہزادی کا ہی ہونا تھا۔۔۔
تبھی وہ اس غرض سے بالخصوص خود چل کر علایہ کے پاس اسکے کمرے میں آئے ۔۔۔
ارے بابا آپ۔۔۔ کوئی کام تھا تو مجھے بلوا لیتے۔۔۔ جس وقت لودھی صاحب دروازہ ناک کر کے اندر داخل ہوئے علایہ سٹڈی ٹیبل پر بیٹھی اپنی اسائمنٹ بنا رہی تھی۔۔۔ انہیں دیکھتے ہی جھٹ سے اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔
ارے نہیں بیٹا۔۔۔ کام مجھے تھا تو میں خود ہی آگیا۔۔۔ آو یہاں آو میرے پاس۔۔۔ وہ مسکرا کر بیڈ پر بیٹھتے ہاتھ سے اپنے ساتھ بیٹھنے کا اشارہ کرتے گویا ہوئے۔۔۔
جی بابا۔۔۔ بابا کے انداز اسے الجھا رہے تھے تبھی وہ محتاظ سے انداز میں آکر انکے پاس بیٹھی۔۔۔
بیٹا مرتسم اور تمہاری ماں آج تمہارے لئے لڑکا دیکھنے گئ تھی۔۔۔ بابا کی بات ہر اسکا دل زور سے ڈھرکا۔۔۔
جی بابا۔۔ وہ سر جھکاتی ہلکی سے آواز میں گویا ہوئی۔۔۔
ان دونوں کو بلکہ مجھے بھی لڑکا پسند ہے۔۔۔ مرتسم جانتا ہے اسے اچھے سے اسکا دوست ہے۔۔۔ اس جمعہ کو وہ لوگ گھر آ رہے ہیں۔ تم اگر لڑکے سے ملنا چاہو تو۔۔۔
نہیں بابا اسکی ضرورت نہیں۔۔ مجھے آپکے فیصلے پر یقین ہے۔۔۔ اس سے پہلے کے وہ اپنی بات مکمل کرتے علایہ بھرائی آواز میں انکی بات کاٹ گئ۔۔۔
آنسو ٹپ ٹپ آنکھوں سے بہنے لگے تھے۔۔۔
تو پھر یہ آنسو کیسے بیٹا۔۔۔ بابا کے نرمی سے کنے پر وہ انکے شانے میں چہرا چھپا گئ۔۔۔
مجھے ابھی شادی نہیں کرنی بابا۔۔۔۔
ہم ابھی آپکی شادی کر بھی نہیں رہے بیٹا۔۔ ابھی تو بس بات پکی کریں گے۔۔۔ یا زیادہ سے زیادہ انگیجمنٹ کر دیں گے۔۔۔ شادی آپکی پڑھائی مکمل ہونے کے بعد ہی کریں گے۔۔۔ بابا نے محبت سے اسکا سر تھپتھپایا۔۔۔
مجھے اپنی شہزادی سے یہ ہی امید تھی۔۔ وہ اسکے سر کا بوسہ لیتے اٹھ کھڑے ہوئے جبکہ علایہ وہیں نڈھال سی ڈھے گئ۔۔۔
بیٹیوں کو آخر اتنی جلدی کیوں اپنا گھر چھوڑنا پڑتا ہے۔۔۔۔ ایک آنسو اسکی آنکھ سے ٹوٹا۔۔۔
****
اگلی صبح بہت البیلی تھی۔۔۔ ماہرہ ہنوز بستر پر محو استراحت تھی۔۔  جبکہ کمرے کے بلائنڈز ہٹے تھے جہاں سے سورج کی روشنی سیدھا اسکے چہرے پر پڑتی صبح ہونے کا عندیا دے رہی تھی۔۔۔ ایسے میں ماہرہ نے چہرے پر پڑتی تپش کے باعث کسلمندی سے آنکھیں کھولی۔۔۔ اور کمرے کے کھلے بلائنڈز کو دیکھ کر اسنے کمرے میں چاروں جانب نگاہ دوڑائی۔۔ کمرا خالی تھا۔۔۔ غالباً فائز اٹھ چکا تھا۔۔۔ وہ ویسے بھی صبح خیز تھا۔۔۔ رات جتنی بھی دیر سے سوتا صبح فجر کے وقت اٹھ ہی جاتا۔۔۔ ابھی بھی کمرے کے بلائنڈز اسنے ماہرہ کو اٹھانے کی غرض سے ہی کھولے تھے۔۔۔
ایک آسودہ مسکراہٹ نے ماہرہ کا  کے ہونٹوں کا احاطہ کیا۔۔۔
وہ کسلمندی سے اٹھتی بیڈ کروان سے ٹیک لگا گئ۔۔۔ کل کی رات اسکی زندگی کی سب سے خوبصورت رات تھی۔۔۔ دفعتاً اسکی نگاہ سائیڈ ٹیبل پر پڑے پیپر پر پڑی جسکا کونا ٹیبل لیمپ کے نیچے دیا گیا تھا۔۔۔
اسنے اچھنبے سے وہ کاغذ نکالا۔۔۔
نئ زندگی کی پہلی صبح بہت بہت مبارک ہو مسز۔۔۔ پہلی لائن پڑھتے ہی اس طرز تخاطب سے اسکا دل زور سے ڈھرکا۔۔۔ چہرے کی مسکراہٹ مزید گہری ہوئی۔۔۔ تم اتنے پرسکون انداز میں سو رہی تھی کے اٹھانے کا دل ہی نہیں چاہا۔۔۔ خیر ضروری کام تھا جسکی وجہ سے جا رہا ہوں ۔۔۔ کچھ دیر تک لوٹ آوں گا۔۔  تمہارا ناشتہ بنا کر اوون میں رکھ دیا ہے۔۔۔ یاد سے کر لینا۔۔۔ بھوکی مت بیٹھی رہنا۔۔۔
تحریر مکمل ہوتے ہی اسنے کاغذ اکھٹا کرتے آنکھیں میچتے ان لمحات کو مسحوس کرتے جینا چاہا۔۔۔
زندگی اسقدر مکمل اور مطمین ہو جائے گی اسنے کب سوچا تھا۔۔۔
وہ جوتا پاوں میں اڑستی بیڈ سے اتری۔۔۔
اندر کا موسم خوشگوار تھا تو خودبخود ہر چیز اچھی لگ رہی تھی۔۔ ۔۔
اسنے فریش ہو کر ناشتہ کیا اور سارا گھر نئے سرے سے دیکھنے لگی۔۔۔ آج گھر کی ایک ایک چیز پہلے سے خوبصورت لگ رہی تھی۔۔۔
گھر دیکھتے دیکھتے وہ لیب میں چلی آئی اس سے پہلے وہ بہت کم فائز کی لیب میں ائی تھی۔۔  آئی بھی تھی تو کھڑے کھڑے فائز کو بلانے۔۔۔ اب وہ اس لیب کی ایک ایک چیز کو تفصیلی نگاہوں سے دیکھ رہی تھی۔۔۔ وہ اپنے شوہر کی دن رات کی محنت کی قدردان تھی۔۔۔ ابھی وہ کمپوٹر سکرین پر جھکی کچھ دیکھ ہی رہی تھی جب اسے اپنی بازو پر ابھرتی آہنی گرفت سے اپنا بازو ٹوٹتا محسوس ہوا۔۔ اور اپنے پیچھے کھڑے شخص کے لیپ ٹاپ کی سکرین پر ابھرتے عکس کو دیکھ وہ جی جان سے لرز گئ۔۔۔ دل گویا ڈھرکنا ہی بند ہو گیا تھا۔۔۔ اسے اپنی جان ہولے سے پاوں کے راستے سے نکلتی محسوس ہوئی۔۔۔۔۔
وہ پوری ہمت مجتمع کرتی حلق کے بل چیخی۔۔۔ یوں کے پورا اپارٹمنٹ اسکی دلدوز چیخوں سے لرز اٹھا۔۔۔
******


No comments

Powered by Blogger.
4