Roshan Sitara novel 56th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Roshan Sitara novel 56th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Roshan Sitara is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels
Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front
of the world and improve their abilities in that field.
Roshan Sitara Novel by Umme Hania | Roshan Sitara novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Roshan Sitara novel by Umme Hania Complete PDF download
Online Reading
ناول "روشن ستارا"۔
مصنفہ "ام ہانیہ"۔
Official pg : Umme Hania official
56th epi...
وہ الجھا سا جیب سے موبائل نکال کر ماہرہ کا نمبر ٹائپ کرتا پلٹا۔۔۔۔ جب اسے پیچھے سے بالکل اپنے قریب ہی شعلہ جلنے کی آواز آئی ساتھ ہی شعلے کے باعث تاریکی نیم تاریکی میں بٹی ۔۔۔ فائز جھٹکے سے پلٹا۔۔۔۔
لائٹر کے ٹمٹماٹے شعلے کے پیچھے ماہرہ کا مسکراتا چہرا نمایاں ہوا۔۔۔ شعلے کی زرد روشنی اسکے چہرے پر پڑ رہی تھی۔۔۔
ہیپی برتھ ڈے ٹو یو۔۔۔ ہیپی برتھ ڈے ٹو یو۔۔۔ ہیپی برتھ ڈے ڈئیر فائز۔۔ ہیپی برتھ دے ٹو یو۔۔۔
ساتھ ہی کمرے میں مدہم روشنیاں روشن ہو گئ تھیں۔۔۔
وہ شاک کی سی کیفیت میں کھڑا یک ٹک ماہرہ کو دیکھ رہا تھا۔۔۔ جو اسکے سامنے کھڑی قیامت ڈھا رہی تھی۔۔۔
بلڈ ریڈ کلر کی ساڑھی میں ملبوس اسکا تراشا ہوا سراپا مزید نمایاں ہو رہا تھا۔۔۔
کھلے بالوں کی آبشار دائیں کندھے پر ڈال رکھی تھی۔۔
کانوں میں چھوٹے چھوٹے سے اویزیں تھے جبکہ چہرے پر بڑی دلجمعی سے میک کیا گیا تھا۔۔۔ ہونٹوں پر لگی ساڑھی کے ہم رنگ لپ اسٹک اسکے حسن کو مزید دو آتشہ رہی تھی۔۔۔
وہ شاید آج فائز علوی کو چاروں شانے چت کروانے کے سبھی ہتھیاروں سے لیس ہو کر کھڑی تھی۔۔۔
فائز کو آج اس حسن کی مورت سے نگاہ ہٹا پانا دنیا کا سب سے مشکل ترین کام لگا۔۔۔ وہ بے خود ہوتا مسلسل اسے ہی تکے جا رہا تھا۔۔۔
کیسی لگی ارینجمنٹس۔۔۔ دو قدم مزید اسکی جانب بڑھی اور اسکی آنکھوں کے سامنے چٹکی بجاتی شوخ انداز میں گویا ہوئی۔۔۔
فائز چونک کر حواسوں میں واپس لوٹا۔۔۔
اسنے بامشکل ماہرہ کے کہنے پر اس سے نگاہ ہٹاتے کمرے کی تیارہوں پر نگاہ ڈورائی۔۔۔
پوری کمرے میں پیلے نیلے اور سرخ رنگ کی مدہم روشنیاں روشن تھی۔۔۔ کمرے کو سرخ گلاب اور سرخ اور سفید غباروں کی مدد سے سجایا گیا تھا۔۔۔ سینٹرل میز پر پھولوں کی پتیوں کی مدد سے دل بنا کر اس میں کیک رکھا گیا تھا جسکے ساتھ ہی کچھ گفٹس ریپنگ میں لپٹے پڑے تھے۔۔۔
ساتھ ایک بکے پڑا تھا۔۔۔
کمرے کا موحول بہت فسوں خیر تھا۔۔۔ اسنے کمرے سے نگاہیں ہٹاتے واپس اپنی نگاہیں ماہرہ پر مرکوز کیں۔۔۔ وہ بے خود ہوتا خود پر اختیار کھوتا جا رہا تھا۔۔۔
منہ ٹوٹ نہیں جاتا کسی کا اگر کوئی دو لفظ تعریف کے ہی بول دے۔۔۔ وہ فائز کا گم صم سا انداز دیکھ کر منہ بناتی گویا ہوئی۔۔۔ ویسے تم جیسے خشک مزاج اور چوبیس گھنٹے سافٹ ویئرز اور ربورٹک چیزوں سے سر کھپانے والے انسان سے اور توقع بھی کیا کی جاسکتی ہے۔۔۔
اتنی محنت لگا کر تیار ہوئی تھی۔۔۔ مگر مجال ہے جو تم دو لفظ تعریف کے بول دو۔۔۔ چلو میری تو چھوڑو۔۔۔ میری تعریف کرنا تو تمہارے لئے گناہ کے زمرے میں آتا ہے نا۔۔ بندہ ارینجمنٹس کی ہی تعریف کر دیتا ہے۔۔۔ کس کی محنت کو اپریشیٹ ہی کر دیتا ہے۔۔۔ وہ سر جھٹکتی دلبرداشتہ سی گویا ہوئی۔۔۔
ماہرہ وہ۔۔ اچھا بس بس پلیز۔۔۔ اس سے پہلے کے وہ اسکی غلط فہمی دور کرنے کو کچھ بولتا وہ سرعت سے اسکی بات کاٹ گی۔۔
زیادہ میری خوشی خراب کرنے کی ضرورت نہیں یہ کہہ کر میں اب کوئی چھوٹا بچہ نہیں جو یہ سیلبریش کروں۔۔ بی پریکٹیکل۔۔۔ مجھے یہ سب پسند نہیں بلا بلا۔۔۔ وہ منہ بناتی اسکے پچھلے سال کی سبھی باتیں دہرانے لگی جو پچھلے سال اسکی سالگرہ کے دن کیک بکے اور گفٹس لے کر اسکے گھر آنے پر فائز نے اس سے کہی تھی۔۔
خیر تم سے مجھے کوئی گلہ نہیں۔۔ روبورٹک چیزوں کے ساتھ رہتے رہتے تم بھی روبورٹ ہی بن چکے ہو۔۔۔ مت کرو تعریف۔۔ ہم بھی اپنے سبھی شوق پورے کریں گے۔۔ تمہارے ساتھ رہ رہ کر ربورٹ نہیں بنیں گے۔۔۔ اگر میری کمپنی تمہارے اندر کے روبورٹ کو ختم نہیں کر سکتی۔۔۔ تو ٹرسٹ می تمہاری کمپنی میں میں بھی اپنے ارمانوں کو مرنے نہیں دوں لگی۔۔۔ تمہارے خشک رویوں کے باوجود میں ایسی ہی زندہ دل رہوں گی پچاس سال بعد بھی۔۔۔
وہ یکدم ہی مسکرا کر اسکی جانب بڑھی اور بڑے حق سے اسکی بازو میں بازو حائل کئے اسے لے کر صوفے کی طرف بڑھی۔۔۔
فائز بے خود سا اسکے ساتھ کھنچتا چلا گیا۔۔۔
وہ بولتی ہوئی کس قدر اسے ڈس اٹریکٹ کر رہی تھی وہ چاہ کر بھی نا اسے بتا پایا اور نا ہی اس پر سے توجہ ہٹا پا رہا تھا۔۔۔
ویسے بیوی کی تعریف کرنا گناہ نہیں ہوتا۔۔۔ لیکن یہ باتیں ہر کسی کی سمجھ میں نہیں آتی۔۔
وہ خود بھی اسکے ساتھ ہی بیٹھتی ربن میں لپٹی چھڑی اٹھا کر اسے تھما گئ۔۔۔
وہ مسکرا کر سر ہلا گیا۔۔
اچھی لگ رہی ہو تم۔۔۔۔۔
ارے رہنے دو۔۔۔ جانتی ہوں میں سب۔۔۔ میں ہوں ہی اچھی۔۔۔ مجھے تمہاری اس لولی لںگڑی اور زبردستی کی تعریف کی کوئی ضرورت نہیں۔۔۔
چلو کیک کاٹو۔۔۔
وہ سر جھٹکتی اسکی بات ہوا میں اڑا گئ۔۔۔
فائز اسکی بے اعتباری پر مسکرا دیا۔۔۔ اسنے زندگی میں پہلی مرتبہ دل سے اسکی تعریف کی تھی اور پہلی ہی مرتبہ بے اعتبار ٹھہرایا گیا تھا۔۔۔
چلو کیک کاٹو۔۔۔ وہ مسکرا کر اسکا ہاتھ تھامتی کیک کاٹنے لگی۔۔۔
وہ کیک کاٹتا بھی ہنوز اسے ہی دیکھ رہا تھا ۔۔ ماہرہ نےکیک کا پیس اٹھا کر اسے کھلانے کی غرض سے اسکی جانب رخ کیا تو پہلی مرتبہ اسکی نگاہوں کے بدلے زاویوں کو نوٹ کر کے ٹھٹھکی۔۔۔
وہ ماہرہ کے دیکھنے پر بھی یک ٹک اسے ہی دیکھتا رہا۔۔۔ آنکھوں میں الوہی جذبوں کی چمک تھی۔۔۔
اسکے منہ کی جانب بڑھتا ماہرہ کا ہاتھ ٹھٹھکا۔۔۔
کیا ہوا ۔۔۔ یوں کیوں دیکھ رہے ہو تم۔۔۔ ماہرہ کی مسکراہٹ سمٹی اور نگاہیں خودبخود جھکنے کے ساتھ ہی ہاتھ بھی سست پڑتا نیچے آنے لگا۔۔۔ جب فائز نے سرعت سے اسکا ہاتھ تھامتے کیک اپنے منہ میں ڈالا۔۔۔
کہا نا کے تم بہت اچھی لگ رہی ہو۔۔۔ اتنی کے میں بے خود ہو رہا ہوں۔۔۔ اتنی کے میری نگاہیں تم پر سے ہٹنے سے انکاری ہیں۔۔۔
وہ اسے نگاہوں کے حصار میں رکھتا بے خودی کے عالم میں گویا ہوا۔۔
ماہرہ کا چہرا حیا کی سرخی چھلکانے لگا۔۔۔ نگاہیں خودبخود ہی حیا کے بھاڑ تلے دبتیں جھکتی چلی گئیں۔۔۔ یہ الگ ہی جذبہ تھا جس سے آج وہ شخص اسے روشناس کروا رہا تھا۔۔۔
R you in your sences faiz...
وہ بدقت ساتھ چھورتی آواز میں آہستگی سے گویا ہوئی۔۔۔
نو۔۔۔۔ اور رہنا چاہتا بھی نہیں۔۔۔ فائز علوی آج ہر مصلحت۔۔ ہر حکمت عملی۔۔۔ اور خود سے کئے ہر عہد کو بھلائے اسے خود میں سماتا چلا گیا۔۔۔
اس وقت وہ مستقبل کے بارے میں سوچنا تک نہیں چاہتا تھا۔۔۔ کل کا سورج وہ دیکھ پاتا بھی یا نہیں۔۔۔ اسکا پراجیکٹ مکمل ہو پاتا کے نا۔۔۔ وہ مستقبل کے ہر طرح کے اندیشے سے نکلتا اس وقت میں جی رہا تھا۔۔۔ ہر تدبیر ہر حکمت ہر مصلحت اسنے فراموش کر دی تھی۔۔۔ حتکہ خود سے کیا عہد بھی کے جب تک وہ ماہرہ کو ایک سکیور اور بلا خوف و خطر کی زندگی مہیا نہیں کر دیتا اور اس رشتے کو آگے نہیں بڑھائے گا وہ سب بھلا گیا تھا۔۔۔
******
آج فاہا کا آل وومن یونیورسٹی میں پہلا دن تھا۔۔۔ اسی لئے آج وہ صبح ہی صبح اٹھتی مطلوبہ وقت سے پہلے ہی تیار ہو گئ تھی۔۔۔ یہ رات مرتسم کے سمجھانے کا ہی اثر تھا کے وہ اب اپنے بابا کا خواب پورا کرنے کے لئے جی جان ایک کر دینے والی تھی۔۔۔
شاید مضبوط بننے کے لئے ٹوٹنا ضروری تھا۔۔۔ باپ کو کھو دینے کے خوف کے آگے ہر خوف ہیچ لگنے لگا تھا۔۔۔ وہ اب اپنی سبھی توجہ پڑھائی پر ہی مرکوز کرنا چاہتی تھی۔۔۔ اسے اب بالکل ویسا بننا تھا جیسا اس کے بابا اسے بنتے ہوئے دیکھنا چاہتے تھے۔۔۔
یہ ہی وجہ تھی کے آج وہ خود ہی وقت پر ناشتے کے لئے ڈائینینگ ٹیبل پر موجود تھی۔۔۔
ارے واہ آج تو ہماری شہزادی صبح ہی صبح ٹیبل پر موجود ہے۔۔۔ ڈائینیگ ٹیبل کی طرف آتے آفس جانے کے لئے تیار سے تایا جان نے اسے وہاں آتے دیکھ مسکرا کر اسکے سر پر دست شفقت دراز کرتے کہا تو بے ساختہ فاہا کی آنکھیں نم ہو گئ۔۔۔ تایا جان نے نرمی سے اسے ساتھ لگاتے اسکا سر تھپتھپایا۔۔
بابا جان نہین ہے تو کیا ہوا۔۔۔ میں تو ہوں نا۔۔۔ اور میں صرف علایہ کا ہی نہیں آپکا بھی بابا ہوں۔۔۔
تایا جان کے محبت سے تھپکی دینے پر وہ زارو قطار رو دی۔۔۔
کالج یونیفارم میں ملبوس کالج بیگ کندھے پر لٹکائے وہاں آتی علایہ نے اداسی سے یہ منظر دیکھا۔۔۔ جبکہ مرتسم تو ڈائینینگ ٹیبل کی کرسی گھسیٹتا باقاعدہ ٹھٹھکا۔۔۔
آہممم لودھی صاحب۔۔۔ آپ صرف علایہ کے ہی نہیں غالباً میرے بھی بابا ہیں۔۔۔ اور آپکو نہیں لگتا صبح ہی صبح ایموشنل سین کچھ زیادہ ہو گیا۔۔۔
مرتسم کے گلہ کنگار کر کہنے ہر بابا نے اسے کینہ توز نگاہوں سے دیکھا۔۔۔ جبکہ فاہا بھی خود کو کمپوز کرتی انگلی کی پور سے آنکھ کا کونا صاف کرتی کرسی گھسیٹ کر بیٹھی۔۔۔۔
فاہا بیٹا۔۔ تمہیں کوئی بھی کسی قسم کی پریشانی ہو۔۔ کوئی بھی مسلہ ہو یا کچھ بھی چاہیے ہو تو بلاجھجھک میرے پاس آنا۔۔۔
گھبرانا بالکل نہیں ہے۔۔۔ انفیکٹ اگر آپ نے اپنے مسائل خود تک رکھتے ہم سے چھپانے کی کوشیش کی تو میں ناراض ہو جاوں گا۔۔۔ تایا جان کے مان سے کہنے پر وہ اداسی سے مسکراتی سر ہاں میں ہلا گئ۔۔۔
یہ رکھو آپ۔۔۔ تایا جان نے جیب سے والٹ نکالتے اندر سے کچھ نوٹ نکال کر اسکی جانب بڑھائے۔۔۔
وہ تایا جان کی طرف دیکھتی جھجھک گئ۔۔۔
اس کی ضرورت نہیں ہے تایا جان۔۔۔ میرے پاس ہیں پیسے۔۔۔
میں جانتا ہوں بیٹا۔۔۔ بلاشبہ ہونگے آپکے پاس پیسے لیکن یہ آپکی پاکٹ منی ہے بالکل ویسے جیسے علایہ کو پاکٹ منی ملتی ہے۔۔۔ اور بیٹیوں کے پاس جتنے بھی پیسے ہوں وہ حق سے باپ سے پاکٹ منی لیتی ہیں۔۔۔چلو شاباش جلدی سے پکڑو اسے۔۔۔ تایا جان کے محبت بھرے مان سے کہنے پر وہ سر ہاں میں ہلاتی پیسے تھام گئ۔۔۔
صحیح کہہ رہا تھا مرتسم۔۔۔ اس سے محبت کرنے والے ابھی اور بھی بہت سے رشتے تھے جو واقعی اسے اداس نہیں دیکھ سکتے تھے۔۔۔ اور وہ مسلسل خود کو کمرا بند کر کے انہیں تکلیف سے دوچار کر رہی تھی۔۔۔
صاحبزادے صاحب جی کیا ارادہ ہے آپکا۔۔۔ یونیورسٹی سے آپ فارغ ہو چکے ہیں۔۔۔ فائنلز ہوگے۔۔ اب آفس جوائن کرو۔۔۔
ناشتہ کر کے علایہ اور فاہا کے چلے جانے کے بعد بابا نے لگے ہاتھوں مرتسم کی بھی کلاس لے ڈالی۔۔۔ وہ جو ٹشو پیپر سے ہاتھ صاف کرتا اٹھنے والا تھا۔۔۔ اٹھتے اٹھتے پھر سے بیٹھ گیا۔۔۔ماں تمہاری تمہارے سر پر سہرا سجانے کی تیاریاں کر رہی ہے اور تم ابھی تک یوں ہی پھر رہے ہو شتر بے مہار۔۔ آنے والی کو کھلاو گے کیا۔۔۔ بابا نے اسے آڑے ہاتھوں لیا۔۔۔
آہممم۔۔۔ مرتسم پلیٹ کھسکاتا تھوڑا سا باپ کی جانب جھکا۔۔۔ جسے لانے کی آپکی مسز تیاریاں کر رہی ہیں نا۔۔۔ اسکے اگلے پچھلے بہت سٹرانگ ہیں۔۔۔ پوری زندگی اسے بیٹھا کر کھلا سکتے ہیں۔۔۔ مرتسم نے باپ کی جانب دیکھتے آنکھ مار کر کہا۔۔۔
مرتسمممممم۔۔۔ ماں یکدم ہی ہاتھ می تھامی چمچ پلیٹ میں پٹختی غصے سے ڈھاری۔۔۔
جسٹ کڈنگ مام۔۔۔ وہ سرعت سے دونوں ہاتھ اٹھاتا سیدھا ہو بیٹھا۔۔۔
وہ دراصل بابا مجھے آج مام کے ساتھ جانا ہے علایہ کے لئے لڑکا دیکھنے۔۔۔ تو کل سے پلانینگ کرتے ہیں آفس جوائن کرنے کی۔۔۔ ابکی بار وہ شرافت سے گویا ہوا۔۔۔ ماں ان دونوں باپ بیٹے کو گھورتی ٹیبل سے اٹھ کھڑی ہوئیں۔۔
جبکہ انکے اٹھتے ہی بابا بھی آفس کے لئے نکل گے۔۔۔ اور مرتسم وہ بیچارا سر تھام کر رہ گیا۔۔۔۔کیا بھلا دنیا میں کوئی اس سے بھی زیادہ بیچارا تھا۔۔۔
*****
جانا کہاں ہے ماں۔۔۔ فارمل سوٹ میں ملبوس برانڈد جوتے پہنے بال جیل سے سیٹ کئے مرتسم لودھی ماں کے لئے پیسنجر سیٹ کا دروازہ وا کرتا گویا ہوا۔۔۔
سر سے لے کر پاوں تک وہ اپنی امارت کا منہ بولتا ثبوت لگ رہا تھا۔۔۔
بلکل کسی مغرور شہزادے کی مانند۔۔۔ وہ بہت دل سے تیار ہوا تھا۔۔ تاکے سامنے والے کی شخصیت کو اچھے سے جانچ سکے۔۔۔ گرے کوٹ کے نیچے پہنی سفید شرٹ کے اوپری بٹن کھلے تھے۔۔۔
بال جیل سے پیچھے کو سیٹ کرنے پر تیکھے مغرور نقوش مزید نمایاں ہو گئے تھے۔۔۔
پتہ نہیں ۔۔۔ میرج بیورو سے لیڈی ہمیں راستے میں جوائن کر لے گئ۔۔۔
انہوں نے شہر کے سب سے بڑے میرج بیورو سے رابطہ کیا تھا جسکے توسط سے وہ آج پہلا لڑکا دیکھنے جا رہی تھیں۔۔۔
اچھا لڑکا کرتا کیا ہے۔۔۔ مرتسم نے گاڑی سٹارٹ کرتے گیٹ سے باہر نکالی۔۔۔
باپ کا امپورٹ ایکسپورٹ کا بزنس ہے۔۔۔
کیاااا۔۔۔۔ ماں کے کہنے پر اسے جھٹکا لگا۔۔۔ یہ کیا مذاق ہے ماں۔۔۔ باپ کا امپورٹ ایکسپورٹ کا بزنس ہے تو محترم خود کیا کرتے ہیں۔۔۔ جب وہ خود کچھ کرتا ہی نہیں تو آپ کیسے ایکسپیکٹ کر سکتی ہیں کے میں اپنی لاڈوں پلی بیٹی کا رشتہ ایسے نکمے انسان کے ہاتھ میں دوں گا۔۔۔
یہ رشتہ دیکھنے سے پہلے ہی میری طرف سے ریجیکٹ ہے۔۔۔ مطلب حد نہیں ہوگئ۔۔۔ اس میں ایسا ہے ہی کیا جو میں تو کیا کوئی بھی باپ اسے اپنی بیٹی دے دے۔۔۔۔ماں کی بات سن کر وہ کھول ہی تو اٹھا اتھا ابھی ناجانے غصے میں اور کیا کیا کہتا جب ماں درشتی سے اسکی بات کاٹ گئ۔۔۔
زیادہ فضول بولنے کی ضرورت نہیں مرتسم۔۔۔ باپ کا سب کچھ اسی کا تو ہے۔۔۔ آج نہیں تو کل وہی سب سمبھالے گا۔۔۔ اور اگر ایسی بات ہی ہے تو کرتے تو تم بھی کچھ نہیں۔۔۔ ابھی تک باپ کی ہی دولت پر ٹھاٹ سے بیٹھے عیش کر رہے ہو۔۔۔
ماں کا تانا سیدھا دل پر ٹھاہ کر کے لگا تھا۔۔۔ وہ ماں کو دیکھ کر رہ گیا۔۔۔
تم میں ایسا کیا ہے کو کوئی باپ اپنی بیٹی کا ہاتھ تمہیں تھما دے۔۔۔
ماں کی باتوں پر وہ لب بھینچ گیا۔۔۔
کل سے جوائن کر رہا ہوں بابا کا آفس۔۔۔ وہ پست لہجے میں گویا ہوا۔۔۔ اور میں نہیں کہہ رہا کے کوئی باپ مجھے اپنی بیٹی کا ہاتھ دے۔۔۔ جب ویل سٹیلٹڈ ہو جاوں گا تو سوچا جائے گا شادی کے بارے میں بھی۔۔۔ لیکن میں تو ایک ویلے نکمے اور باپ کے پیسے پر عیش کرنے والے کے ہاتھ میں اپنی بہن کا ہاتھ کبھی نا دوں۔۔۔ وہ چڑ کر بگھڑا۔۔۔ ماں اسے گھور کر رہ گئ۔۔۔
رشتہ دیکھنے میں کوئی ہرج نہیں۔۔۔ میٹر یہ کرتا ہے کہ لڑکے کا کردار کیسا ہے۔۔ وہ ذمہ دار ہے بھی یا نہیں۔۔۔ آج نہیں تو کل وہ بھی باپ کا بزنس جوائن کر لے گا۔۔۔ یہ کوئی بڑی بات نہیں ۔۔ باپ کا سب اولاد کا ہی ہوتا ہے۔۔۔ ماں بھی اس دفعہ رسانیت سے گویا ہوئیں۔۔۔
وہ چاہ کر بھی ماں کو کہہ نا سکا کے مکمل طور پر باپ پر انحصار کرنا اسکی نظر میں درست نہیں۔۔
اگر ماں اسے بھی اس ان دیکھے لڑکے کیساتھ کی کیٹگری میں کھڑا کر رہی تھیں تو وہ غلط تھیں۔۔۔۔
اسنے ایک بہتریں پڑاجیکٹ پر اپنا پیسہ وقت اور دماغ تینوں خرچ کئے تھے۔۔۔ یقیناً وہ جب لانچ ہوتا تو تہلکہ مچا دیتا۔۔۔ تب شاید وہ بھی ماں کو فخریہ بتا سکتا کے وہ مکمل طور پر اپنے باپ پر انحصار نہیں کرتا۔۔۔ لیکن قبل از وقت ماں سے سب کہنا محض حماقت تھی۔۔۔ ابھی وہ روبوٹک ماڈل انہیں قطعاً سمجھ نا آتا۔۔۔
راستے سے ہی میرج بیورو کی لیڈی نے انہیں جوائن کیا تھا۔۔۔ وہ اپنی گاڑی میں آگے آگے جا رہی تھی جبکہ وہ دونوں اسے فالو کر رہے تھے۔۔۔۔ مرتسم میں تمہاری اور علایہ کی شادی اکھٹے۔۔۔
مام پلیز۔۔۔ ابھی ہم علایہ کے لئے لڑکا دیکھنے آئے ہیں بہتر ہے وہی کام کریں۔۔۔ باقی سبھی باتیں ہم پھر کسی وقت کریں گے۔۔۔ وہ جانے پہچانے راستوں کو دیکھتا دو ٹوک انداز میں گویا ہوا۔۔۔ یوں کے ماں بھی فلحال خاموش ہو گئ۔۔۔
اس لیڈی کے ایک ولا کے گیٹ سے گاڑی اندر لیجاتے دیکھ مرتسم نے تعجب سے ماں کو دیکھا۔۔۔ وہ بھی حیران نظر آ رہی تھیں۔۔۔
ہم یہاں آنے والے تھے ماں۔۔۔ وہ پریشانی سے گویا ہوا۔۔۔
پتہ نہیں۔۔۔ میں خود کچھ نہیں جانتی ۔۔۔ ماں نے بھی اسے پریشان نگاہوں سے دیکھتے شانے اچکائے۔۔۔
*****

No comments