Roshan Sitara novel 55th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Roshan Sitara novel 55th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Roshan Sitara is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels
Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front
of the world and improve their abilities in that field.
Roshan Sitara Novel by Umme Hania | Roshan Sitara novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Roshan Sitara novel by Umme Hania Complete PDF download
Online Reading
ناول "روشن ستارا"۔
مصنفہ "ام ہانیہ"۔
Official pg : Umme Hania official
55 th epi..
اور تم بتاو ڈگری کلیئر ہوگئ تمہاری۔۔۔۔
اریز کے پوچھنے پر وہ چائے کا مگ واپس میز پر رکھ گئ۔۔۔ آنکھئن سرعت سے گیلی ہونے لگی تھیں۔۔۔
ارے اب کیا ہوا۔۔۔ وہ پریشان ہوتا پوچھ بیٹھا۔۔۔۔
اب تو اسنے ایسی کوئی بات نہیں کی تھی جس سے اسکی دل آزاری ہوتی۔۔۔ یا اسے پروفیسر صاحب یاد آتے۔۔۔ لیکن شاید یہ اریز کی خام خیالی تھی۔۔۔
بابا نے امتحانات دینے سے منع کر دیا تھا۔۔۔
لیکن میں نے بہت ضد کی کے مجھے پیپرز دینے ہیں میں نے بہت محنت کی ہے۔۔ میں نے بابا سے اتنی ضد کی کے انہیں میری ضد کے آگے ہتھیار ڈالتء میری بات مانتے ہی بنی۔۔۔
انہوں نے مجھے فائز بھائی کے ساتھ کالج سے رولنمبر سلپ لینے بھیجا۔۔۔ لیکن تبھی ہم پر حملہ ہوگیا۔۔۔
وہ قیامت خیز منظر تھا اریز۔۔۔ وہ لوگ مسلسل ہم پر فائرینگ کر رہے تھے۔۔۔ یہ فائز بھائی کا حوصلہ تھا کے وہ کس طرح سے ان لوگوں کو ڈاج دے کر مجھے سہی سلامت واپس لا پائے تھے۔۔۔ ورنہ میں نے تو موت کو بہت قریب سے دیکھا تھا۔۔۔ میں اتنی خوفزدہ ہوگئ تھی اریز اتنی خوفزدہ کے تین دن تک مسلسل مجھے بخار چڑھتا رہا۔۔۔۔ بابا ساری ساری رات میرے سرہانے بیٹھتے میرے سر پر ٹھنڈے پانی کی پٹیاں کرتے رہتے تھے۔۔۔ باپ کے ذکر پر اسکی آواز بھرا گئ۔۔۔۔ اسکے بعد تو پیپروں کا بھوت اچھے سے دماغ سے اتر گیا۔۔۔
بات دماغ میں اچھے سے بیٹھ گئ کے اگر بابا مجھے منع کر رہے ہیں تو کسی وجہ سے ہی۔۔۔ اور میں مزید اپنے باغی پن اور خود سری کے باعث انہیں کسی مصیبت میں مبتلا نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔۔
پھر جو وہ اسے تب سے اپنے سبھی حالات بتانے لگی تو آخر تک سب بتاتی چلی گئ۔۔۔ اریز ضبط سے سرخ پڑتی آنکھوں سے اس پر بیتی ہر قیامت سے آگاہ ہوتا چلا گیا۔۔۔
آپکو پتہ ہے اس بیچ فائز بھائی نے میری بہت مدد کی۔۔۔ بہت۔۔۔ بہت زیادہ۔۔۔ اتنی کے اگر کبھی بابا کی طبیعت خراب ہونے پر یا کسی ڈراونے خدشے کے تحت میں نے انہیں آدھی رات کو بھی فون کیا تو انہوں نے جھٹ سے اٹھایا اور پہلی فرصت میں ہمارا مسلہ حل کیا۔۔۔بس جس روز بابا کی ڈیٹھ ہوئی اس روز وہ فون نہیں اٹھا پائے تھے۔۔۔ ویسے ہر کام میں اللہ کی طرف سے بہتری ہی ہوتی ہے۔۔۔ یقیناً اس میں بھی تھی۔۔۔ ورنہ جس برے ارادے اور نیت سے وہ لوگ ہمارے گھر آئے تھے۔۔۔ شاید میں اس رات باپ کے ساتھ بھائی بھی کھو دیتی۔۔۔ اسنے سر نیچے جھکاتے آنکھوں کے نم گوشے صاف کئے۔۔۔
کیا تم ان لوگوں کو پہچان سکو گی سونم۔۔۔ میرا مطلب اگر وہ مجرم تمہارے سامنے ہوں تو۔۔۔
باقی سب نے تو ماسک پہن رکھے تھے اریز۔۔۔ صرف ایک شخص تھا شاید وہ انکا لیڈر تھا۔۔ میر نام تھا اسکا ۔۔۔ جس نے بابا کے ساتھ بدتمیزی کرنے کے بعد انہیں شاک لگایا۔۔۔ اسنے ماسک نہیں لگایا تھا ۔۔
اریز جھٹکے سے ٹیک چھوڑتا سیدھا ہو بیٹھا۔۔۔
تم اسکا سکیچ بنوا سکتی ہو۔۔۔
فائز بھائی کے پاس اس روز کی فوٹیج ہے جس میں وہ سارا واقعہ ریکارڈ ہے۔۔۔ اس میں اس میر نامی شخص کی شناخت بھی ہوتی ہے۔۔۔
کیاااا۔۔۔۔۔ یہ تو بہت بہترین بات ہے۔۔۔ ہمارے پاس تو ثبوت بھی ہے۔۔۔ ہمارا کیس تو بہت مضبوط ہو جائے گا۔۔۔
ہان لیکن مجھے فائز بھائی نے یہ بات کسی سے بھی کرنے کو منع کیا تھا وہ کہہ رہے تھے کے ابھی دشمن کو بھنک بھی نہیں لگنی چاہیے کے ہمارے پاس انکے خلاف کوئی ثبوت بھی ہے۔۔ اور یہ کہ ایک مرتبہ انکا پراجیکٹ مکمل ہو جائے تو وہ پھر اس کیس کو کھولوائیں گے۔۔۔
سونم گم صم سی مگ کے کنارے پر انگلی پھیرتی سب بتا رہی تھی۔۔۔۔ہممم۔۔ چلو ٹھیک ہے میں صبح اس بارے میں خود فائز سے بات کر کے وہ ثبوت حاصل کروں گا۔۔۔ پھر اس کیس کا جو بھی کرنا ہوا وہ میں دیکھ لوں گا۔۔۔
اور تم فکر مت کرو۔۔۔ اسلام آباد کینٹ جا کر میں تمہارا داخلہ آرمی کالج میں کروا دوں گا۔۔۔
واقعی۔۔۔ اتنی لمبی گفتگو میں پہلی مرتبہ اسکے چہرے پر مسکراہٹ کے پھول کھلے تھے۔۔ اریز اسکے معصوم اور بے ریا چہرے کو دیکھ کر رہ گیا پھر اسے اپ ی تصدیق کا منتظر پا کر مسکرا کر سر ہاں میں ہلا گیا۔۔۔
ابھی چلو چل کر کچھ دیر آرام کر لو پھر ہمیں صبح فرسٹ ٹائم نکلنا ہے ۔۔۔
اریز کے کہنے پر وہ مسکراتی ہوئی اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔
آپ چلیں میں یہ چائے والے برتن دھو کر آتی ہوں۔۔۔ رات میں برتن یونہی نہیں چھوڑتے۔۔۔ بے برکتی ہوتی ہے۔۔ سونم کے کہنے پر اریز مسکرا دیا۔۔۔
******
آج شہر سے سب لوگ حویلی میں آئے تھے۔۔ چچا جان کو اس دنیا سے گئے سوا مہینہ ہو گیا تھا۔۔۔ حویلی میں بہت بڑے پیمانے پر قرآن خوانی کروائی گئ تھی۔۔۔ گ
غریبوں کو کھانا کھلانے کے ساتھ ساتھ ان میں کپڑے اور راشن بھی تقسیم کیا گیا تھا۔۔۔
ہر کام فاہا نے اپنی زیر نگرانی کروایا تھا۔۔۔
شام کے وقت مرتسم فاہا کو ساتھ لئے ہی حویلی سے نکلا تھا حالانکہ وہ ابھی مزید یہاں رہنا چاہتی تھی یہاں اسکے باپ کی یادیں تھیں۔۔۔ لیکن اس بار مرتسم نے اسکی ایک نا چلنے دی۔۔۔
اب بھی وہ جب سے شہر آئی تھی گم صم سی اپنے کمرے میں بند تھی حتکہ رات کا کھانا کھانے بھی باہر نا نکلی۔۔۔
علایہ اسے دو مرتبہ بلانے بھی آئی مگر وہ بھوک نا ہونے کا بہانہ کرتی ٹال گئ۔۔۔
اس وقت وہ سب ڈائینیگ ٹیبل پر بیٹھے ڈنر کر رہے تھے جب مرتسم لودھی ڈھیلے سے ٹراوزر شرٹ میں ملبوس موبائل پر کچھ ٹائپ کرتا وہاں داخل ہوا اور موبائل پر مصروف ہی کرسی گھسیٹ کر وہاں بیٹھا۔۔۔
بیٹا فاہا نہیں آئی۔۔۔
سلمان صاحب وہاں فاہا کی غیر موجودگی نوٹ کر کے علایہ سے مستفسر ہوئے۔۔۔
بابا کے کہنے پر مرتسم نے بھی بالخصوص موبائل سے نگاہیں ہٹا کر ڈائینینگ ٹیبل کی جانب دیکھا۔۔۔
بابا میں گئ تھی اسے بلانے مگر وہ کہہ رہی تھی کے اسے بھوک نہیں۔۔۔
علایہ نے مایوسی سے کہتے چاولوں کا چمچ منہ میں ڈالا۔۔۔
لودھی صاحب صبح مجھے رشتے کروانے والی کی توسط سے ایک جگہ علایہ کے لئے لڑکا دیکھنے جانا ہے آپ میرے ساتھ چلیں گے۔۔ کھانے کھاتے ناہید بیگم کے کہنے پر علایہ کو کھانسی کا پھندا لگی۔۔۔ وہ کھانس کھانس کر دہری ہوگئ جب سلمان صاحب نے اسکی کمر پر تھپکی دیتے پانی کا گلاس بھر کر اسے تھمایا۔۔۔
مرتسم بھی سر تھام کر رہ گیا۔۔۔
What is this mom...
یہ اچانک بیٹھے بیٹھائے آپکو میرے لئے رشتہ دیکھنے کا خیال کہاں سے آگیا۔۔۔ اس سے پہلے کے لودھی صاحب کچھ کہتے علایہ روہانسی ہوتی بول اٹھی۔۔۔
تو کیا بنا دیکھے تمہارا رشتہ کر دیں گے۔۔۔ ناہید بیگم چڑ کر گویا ہوئیں۔۔
لیکن ماں یہ اچانک سے میری شادی کہاں سے ٹپک پڑی بھائی مجھ سے بڑے ہیں۔۔۔ آپ کو نہیں لگتا کے آپکو مجھ سے پہلے بھائی کے بارے میں سوچنا چاہیے۔۔۔
علایہ نے انہیں شکایتی انداز میں دیکھتے توپوں کا رخ مرتسم کی جانب کروانا چاہا۔۔۔
اسکے بارے میں بھی میں فیصلہ کر چکی ہوں۔۔۔ اسکے لئے لڑکی دیکھی بھالی ہے۔۔۔۔ جلد میں اسکا معاملہ بھی بنٹ دوں گی۔۔۔۔ اور اس بار یہ مجھے زرا انکار کر کے دکھائے۔۔۔
ماں کے سخت انداز میں کہنے پر وہ بے بسی سے آنکھیں مونڈ گیا۔۔۔
بابا میں کھانا کھا لوں۔۔۔ وہ عاجز انداز میں ماں کی بجائے باپ سے گویا ہوا ۔۔
آہمممم۔۔۔ تم تو یہ بات مجھ سے پوچھ رہے ہو۔۔۔ میں یہ بات کس سے پوچھوں۔۔۔ بابا بھی گلہ کنگارتے اسی کے انداز میں گویا ہوئے تو مرتسم سے ہسی چھپانی مشکل ہوئی۔۔۔
ناہید بیگم نے کینہ توز نگاہوں سے ان دونوں کو دیکھا۔۔۔
آپ دونوں مل کر زیادہ ہوشیار بننے کی کوشیش مت کریں۔۔ آپ لوگ مجھے میری بات سے نہیں ہٹا سکتے۔۔۔ وہ سخت لہجے میں دونوں کو وارن کرتیں گویا ہوئیں۔۔۔
مرتسم نے توبہ توبہ والے انداز میں سر نفی میں ہلاتے ہاتھ کانوں کو لگائے۔۔۔
ویسے ماں آپ علایہ کے لئے کل رشتہ دیکھنے جانے والی تھی۔۔۔
مرتسم انکی توپوں کا رخ اپنی جانب دیکھ بامشکل انکا رخ علایہ کی جانب مبذول کروانے کی کوشیش کرنے لگا۔۔۔
علایہ نے تڑپ کر بھائی کی طرف دیکھا۔۔۔
نو ماں پہلے بھائی۔۔۔۔
خاموش ہو جاو علایہ۔۔۔ اس سے پہلے کے علایہ احتجاج بلند کرتی ماں کی تیز آواز پر اسے خاموش ہونا پڑا۔۔۔
ابھی اس سارے معاملے میں تمہارا کوئی عمل دخل نہیں۔۔۔
ابھی ہم صرف لڑکا دیکھ رہے ہیں۔۔ اگر کوئی تمہارے لائق لگا۔۔۔ کوئی ہمیں پسند آیا تو تم سے پوچھ کر تمہاری رائے لے کر ہی بات آگے بڑھائیں گے۔۔۔ تب تک تمہیں اپنی چونچ کھولنے کی ضرورت نہیں۔۔۔
ماں کے سختی سے کہنے پر وہ دل مسوس کر رہ گئ۔۔۔۔۔
بیٹا کیا آپ کو کوئی پسند ہے۔۔۔ لودھی صاحب یکدم اسکا مرجھایا چہرا دیکھ کر اس سے پوچھ بیٹھے۔۔۔
انکے یوں پوچھنے پر ماں اور مرتسم نے بھی چونک کر علایہ کو دیکھا۔۔۔
یکدم ہی خفت سے علایہ کا چہرا سرخ پڑا۔۔۔ وہ سر جھکا گئی۔۔۔ باپ بھائی کے سامنے ایسی گفتگو سن کر اسکا دل چاہا زمین پھٹے اور وہ اس میں سما جائے۔۔۔
ایس۔۔ ایسی کوئی بات ۔۔۔ نہیں بابا۔۔۔ وہ بامشکل خشک پڑتے لب تر کرتی گویا ہوئی۔۔۔
گفتگو یکدم یہ رخ اختیار کر جائے گی اسنے سوچا تک نا تھا۔۔۔
اگر ایسی کوئی بات ہے بھی بیٹا جانی تو آپ اپنے بابا سے شیئر کر سکتی ہیں۔۔۔
تمہارا باپ بالکل بھی کنزرویٹو نہیں۔۔۔ میری پہلی ترجیح ہمیشہ میری بیٹی کی پسند ہی ہوگئ۔۔۔ بابا نے اسکے شانے پر تھپکی دیتے اسکا حوصلہ بڑھایا۔۔۔
نہیں بابا۔۔۔ اسنے تڑپ کر بھرائی نگاہوں سے باپ کی جانب دیکھا۔۔
ایسی کوئی بات نہیں۔۔۔ میرے لئے آپ اور ماں جو فیصلہ لیں گی مجھے وہ منظور ہوگا۔۔۔ مجھے آپکے کسی فیصلے پر کوئی اعتراض نہیں۔۔۔ بس میں ابھی شادی نہیں کرنا چاہتی۔۔۔ وہ نظریں جھکا کر کہتی اٹھ کر اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئ۔۔۔ جبکہ مرتسم گہری سانس خارج کر کے رہ گیا۔۔۔
کل آپکے ساتھ لڑکا دیکھنے میں جاوں گا۔۔۔
اپنی گڑیا کے لئے لڑکا میں خود دیکھوں گا۔۔۔ اگر کوئی مجھے اس قابل لگا کے اسکے ہاتھ میں میں اپنی بہن کا ہاتھ تھما سکوں تو ہی آپ ہاں کہیں گی۔۔۔ مرتسم کے تنبیہاً کہنے پر ناہید بیگم سر ہاں میں ہلا گئ۔۔۔
****
فاہا بیڈ پر بیٹھی گھٹنے سینے سے لگائے انکے گرد بازووں کا حصار بنائے گھٹنوں پر سر رکھے گم صم سی بیٹھی نجانے سوچوں کے کس جہاں میں پہنچی تھی جب دروازہ ناک کر کے مرتسم اندر داخل ہوا۔۔۔
فاہا چونک کر سیدھی ہو بیٹھی۔۔۔ چہرے پر سوگواریت پھیلی تھی۔۔۔ جبکہ آنکھیں جیسے ویران سی تھیں۔۔۔
کھانا کھانے باہر کیوں نہیں آئی۔۔۔ وہ سامنے صوفے پر بیٹھا ٹانگ پر ٹانگ جما گیا۔۔۔
جانچتی نگاہیں اسی پر ٹکی تھیں۔۔۔
مجھے بھوک نہیں تھی۔۔۔ وہ گلہ کنگارتی گویا ہوئی۔۔۔
تمہیں پتہ ہے تم میرے سامنے جھوٹ نہیں بول سکتی۔۔۔ اسنے اپنی آئبرو پر انگلی پھیری۔۔۔
جانتی ہوں۔۔ وہ جیسے ہار مان گئ۔۔۔
لیکن ضروری نہیں ہر بار دوسرے کو جھوٹا ثابت کر کے شرمندہ ہی کیا جائے۔۔ بعض دفعہ کسی کا بھرم بھی قائم رہنے دیا جاتا ہے۔۔۔
اسکی آواز بھرا گئ۔۔۔
میرا مقصد تمہیں شرمندہ کرنا نہیں ہے فاہا ۔۔ بلکہ یہ بتانا مقصد ہے کے مرنے والوں کے ساتھ مرا نہیں جاتا۔۔۔
آپ خواہ جتنا بھی ٹوٹ چکے ہوں خود کو تنکا تنکا کر کے جوڑنا اور پھر سے اٹھ کھڑے ہونا ہی زندگی ہے۔۔۔
زندگی کا ہر دن ایک امتحان ہے جسے ہمت حوصلے اور اللہ پر توکل رکھتے گزارا جاتا ہے۔۔۔
یہ زندگی ہے ہی امتحان گاہ۔۔۔ تو مشکلات تو آئیں گی نا۔۔۔ ور مشکلات بھی اللہ اپنے بندوں کو آزمانے کے لئے بھیجتا ہے کہ کون ان مشکلات کے سامنے ہار جاتا ہے اور کون مجھ پر توکل رکھتا ان مشکلات کے سامنے ڈٹ جاتا ہے۔۔۔
جانے والے کو کوئی نہیں روک سکتا فاہا۔۔۔ چچا جان کی ناگہانی وفات نے میری بھی کمر توڑ دی ہے لیکن ہم یوں ہمت ہار کر بیٹھ تو نہیں سکتے نا۔۔۔
مرنے والوں کے ساتھ ہم زندہ لوگوں کو تو زندہ درگو نہیں کرسکتے نا۔۔۔ چچا جان چلے گئے۔۔۔ لیکن تمہارے اور بہت سے رشتے ابھی دنیا میں باقی ہیں۔۔ جنہیں تم یوں ہمت ہار کر دکھ دے رہی ہو۔۔۔ یقین مانو وہ سب تمہیں دوبارہ سے ہمت کر کے اٹھتے دیکھنا چاہتے ہیں۔۔۔
بلاشبہ چچا جان نہیں رہے۔۔ لیکن انکے تمہارے حوالے سے دیکھے جانے والی خواب ابھی بھی زندہ ہیں۔۔۔
لحاظہ تمہیں نہیں لگتا کے تمہیں ان خوابوں کو پورا کرنے کے لئے اس خود اذیتی سے نکل کر تنہائی کے اس خول کو توڑتے دن رات ایک کر دینا چاہیے۔۔۔
مرتسم کے سوالیہ انداز پر فاہا نے خالی خالی نگاہوں سے اسے دیکھا۔۔۔
یکدم ہی باپ کا خواب اسے پوری شدت سے یاد آیا تھا۔۔۔ ساتھ ہی آنکھیں بھرا گئیں۔۔۔ جسے بڑی مشکل سے اسنے جھپک جھپک کر چھلکنے سے روکا۔۔۔
مرتسم اسکی ایک ایک حرکت کو غور سے دیکھ رہا تھا۔۔۔
میں نے تمہارا ایڈمیشن آل وومن یونیورسٹی میں کروا دیا ہے فاہا۔۔۔ وہاں تمہیں کسی قسم کی کوئی پریشانی نہیں ہوگئ۔۔۔ تم اپنی عادت کے مطابق پرسکون ہو کر وہاں پڑھائی کر پاو گئ۔۔۔
کل سے تم یونیورسٹی جا رہی ہو ۔۔۔ صبح وقت پر تیار رہنا۔۔ کیونکہ پہلے ہی تمہاری پڑھائی کا بہت حرج ہو چکا ہے۔۔۔ مزید دیر تم افورڈ نہیں کر سکتی۔۔۔
صبح ڈرائیور تمہیں وہاں ڈراپ کر دے گا اور لے بھی آئے گا۔۔۔
کوئی بھی مسلہ ہوا تو تم مجھ سے رابطہ کر سکتی ہو۔۔۔
وہ نرمی سے اسے سمجھا رہا تھا جبکہ فاہا بھرائی آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔
اور اب اٹھو پہلے جا کر کچن سے جا کر کچھ کھا کر آو۔۔۔ تمہاری شکل ہی بتا رہی ہے کے تم بھوکی ہو۔۔۔ اور تمہاری آج کی کھانا نا کھانے والی حرکت سے میں اندازہ لگا سکتا ہوں کے یونہی خود سے لاپرواہی برت برت کر تم نے اپنی صحت متاثر کی ہے۔۔۔
خود سے ضد نہیں لگائی جاتی فاہا نا ہی خود کو اذیت پہنچائی جاتی ہے۔۔۔
ہمارا سب کچھ ہمارے پاس اس رب کی ماانت ہے اس لئے ہمیں خود کا خیال رکھنا چاہیے۔۔۔
سیلف لو زندگی کی ترجیہات میں سے ہماری پہلی ترجیح ہونا چاہیے۔۔۔
چلو اٹھو شاباش۔۔۔ کچن میں کھانا پڑا ہے جا کر کھانا کھاو۔۔۔ اور کل سے وقت پر تم مجھے ڈائینینگ ٹیبل پر ملنی چاہیے ۔۔ بات مکمل کر کے وہ صوفے سے اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔ اور اب وہ وہیں کھڑا اسکے اٹھنے کا منتظر تھا۔۔۔
اسے اپنا منتظر پا کر فاہا کو ناچار اٹھنا پڑا۔۔۔
اسکے اٹھتے ہی مرتسم نے اسے ہاتھ سے پہلے کمرے سے نکلنے کا اشارہ کیا ۔۔۔ اور اسکے کمرے سے نکلتے ہی وہ خود بھی وہاں سے نکل گیا۔۔۔
******
فائز کو واپس پہنچتے پہنچتے بہت دیر ہوگئ تھی۔۔۔ اسنے پوری کوشیش کی تھی کے وہ صبح ہونے سے پہلے گھر واپس پہنچ جائے۔۔۔ اب بھی رات نے اپنا آنچل ابھی آسمان پر سے سرکایا نا تھا۔۔۔ ابھی تو فجر ہونے میں بھی ایک ڈیرھ گھنٹہ باقی تھا۔۔۔
اپنے پاس موجود چابی سے اپارٹمنٹ کا دروازہ وا کر کے وہ اندر داخل ہوا۔۔۔
اندر ہو کا عالم تھا۔۔۔
حالانکہ ایک گھنٹہ پہلے ہی اسکی ماہرہ سے بات ہوئی تھی۔۔۔ ماہرہ مسلسل اسکے ساتھ رابطے میں تھی۔۔ وہ اسے بتا چکا تھا کے وہ سونم کو اسکے شوہر کے پاس چھوڑ کر واپس آ رہا ہے۔۔۔ وہ ہر ایک آدھ گھنٹے بعد فون کر کے اس سے پوچھ لیتی کے وہ کتنی دیر تک وہاں پہنچے گا۔۔۔
اب بھی اسکی ماہرہ سے آخری دفعہ بات ایک گھنٹہ پہلے ہوئی تھی۔۔
اسکے مطابق تو ماہرہ اسکی منتظر تھی تو اسے لاوئنج میں ہی ملنا چاہیے تھا۔۔۔ لیکن یہ کیا۔۔۔ یہاں تو ہر چیز اندھیرے میں ڈوبی ہوئی تھی۔۔۔
ہر بری سوچ کو جھٹکتا وہ کمرے کی جانب بڑھا جسکا دروازہ پہلے ہی نیم وا تھا۔۔۔
اسنے پہلے سے نیم وا دروازے کو کھولا ۔۔۔
اندر بھی مکمل تاریکی کا راج تھا۔۔۔ فائز کے ماتھے پر شکنیں ابھری۔۔۔ وہ یہاں بھی نہیں تھی تو کہاں تھی۔۔۔
وہ الجھا سا جیب سے موبائل نکال کر ماہرہ کا نمبر ٹائپ کرتا پلٹا۔۔۔۔ جب اسے پیچھے سے بالکل اپنے قریب ہی شعلہ جلنے کی آواز آئی ساتھ ہی شعلے کے باعث تاریکی نیم تاریکی میں بٹی ۔۔۔ فائز جھٹکے سے پلٹا۔۔۔۔
******

No comments