Roshan Sitara novel 54th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Roshan Sitara novel 54th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Roshan Sitara is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels
Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front
of the world and improve their abilities in that field.
Roshan Sitara Novel by Umme Hania | Roshan Sitara novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Roshan Sitara novel by Umme Hania Complete PDF download
Online Reading
ناول "روشن ستارا"۔
مصنفہ "ام ہانیہ"۔
Official pg : Umme Hania official
54th epi...
ماہرہ آپکی بیوی ہے نا۔۔ وہ آہستگی سے گویا ہوئی۔۔
کیاااااا؟؟؟ فائز کی حیرت بھری آواز ابھری۔۔۔
کس نے کہا یہ تم سے۔۔۔ یکدم ہی وہ غیر آرام دہ اور بے چین دکھائی دینے لگا تھا۔۔۔
کسی نے بھی نہیں۔۔۔ بس مجھے ایسا لگا۔۔۔ وہ آہستگی سے کہتی سر جھکا کر اپنے ہاتھ کی لکیروں پر انگلیاں پھیرنے لگی۔۔۔
غلط لگا تمہیں سونم ایسی کوئی بات نہیں۔۔۔ وہ شدت سے سر نفی میں ہلا گیا۔۔۔
وہ آپکی بیوی ہے فائز بھائی۔۔۔ اور وہ میری اس فلیٹ میں موجودگی کے باعث انسکیور ہو رہی تھیں اسی لئے آپ کے جھگڑے ہو رہے تھے۔۔۔ مجھے سب سمجھ آتا ہے۔۔۔ میں بچی نہیں ہوں بھائی۔۔۔ پر پتہ نہیں آپ یہ بات کیوں چھپا رہے ہیں۔۔۔ اس میں ایسا تو کچھ بھی چھپانے والا نہیں۔۔۔
وہ حیرت سے جرح پر اتری۔۔۔ اسے فائز کا یہ رویہ سمجھ نہیں آ رہا تھا۔۔۔ وہ اسکی بیوی تھی تو فائز یہ بات چھپا کیوں رہا تھا۔۔۔
For God sake sonam...
جب ایسی کوئی بات ہے ہی نہیں تو میں چھپاوں گا کیوں۔۔۔ اگر وہ میری بیوی ہے تو مجھے کم از کم تم سے چھپانے کی کوئی ضرورت نہیں۔۔۔ اور تمہیں کیوں لگتا ہے کے میں تم سے کچھ چھپاوں گا۔۔۔ ایسی کوئی بات ہے ہی نہیں۔۔۔
وہ بس میری کزن ہے اور ہمارے ساتھ فلیٹ میں تمہاری وجہ سے رہ رہی تھی کیونکہ بے شک تم میری بہن ہو لیکن اسکے باوجود ہم دونوں اکیلے ایک فلیٹ شیئر نہیں کر سکتے تھے۔۔
فائز کے انداز میں قطعیت تھی۔۔۔ ایسی قطعیت کے سونم کو بھی اسکی باتوں پر یقین آنے لگا۔۔۔
لیکن پھر وہ آپ سے لڑتی کیوں تھیں۔۔۔ اور انہوں نے تو کہا تھا کے وہ گھر انکا ہے۔۔۔ وہ ہنوز الجھی ہوئی تھی۔۔۔ جیسے اپنے اندازے غلط ہونے پر اسے شاک لگا ہو۔۔۔
وہ گھر اسی کا ہے۔۔۔ اسی لئے تو لڑتی تھی کے ہم دونوں کی کبھی بنی نہیں۔۔ اور میں نے اس سے ریکویسٹ کی تھی کے ہمیں چند دنوں تک اسکے فلیٹ میں رکنا ہے۔۔۔ اسنے ہمدردی میں اجازت تو دے دی لیکن اب وہ شاید فیڈ آپ ہونے لگی تھی۔۔۔ اسی لئے بات بات پر جھگڑتی تھی کے ہم کسی طرح سے اسکے فلیٹ سے چلے جائیں کیونکہ بقول اسکے اسکی پرائیویسی ڈسٹرب ہو رہی تھی۔۔
وہ بدقت بات کور کر پایا تھا۔۔۔ یوں اس انداز میں کے سونم کو اپنے سبھی شکوک و شبہات بھربھری ریت کے توڈے کے مانند ڈھتے محسوس ہوئے اور وہ سمجھ کر سر ہلا گئ۔۔۔
سونم کے پیچھے کھرے اریز نے اسکی سبھی باتیں سمجھ کر سر ہلایا۔۔۔ اوکے اریز اب مجھے اجازت دو۔۔۔ فائز مسکرا کر اٹھ کھڑا ہو۔۔۔
رات یہیں رک جاو فائز ۔۔۔ صبح پہلے وقت ہی نکل جانا۔۔۔ ابھی تو آئے ہو اور ابھی جا رہے ہو۔۔۔
ارے نہیں ایسی کوئی بات نہیں۔۔۔۔ ابھی نکلوں گا تو وقت سے پہنچ جاوں گا۔۔۔ پھر مجھے پراجیکٹ پر بھی کام کرنا ہے۔۔۔ وہ سہولت سے منع کر گیا۔۔۔ وہ انہیں بتہ نا سکا کے اسکی بیوی گھر میں تنہا اسکی منتظر ہے۔۔۔
چلو ٹھیک ہے پھر۔۔۔
سونم تم دروازہ لاک کر لو میں فائز کو سٹاپ تک ڈراپ کر کے آتا ہوں۔۔ اریز سونم سے کہتا فائز کے ساتھ اپارٹمنٹ سے نکلا۔۔۔
******
تم نے سونم سے سب چھپایا کیوں۔۔۔ اور پلیز اب مجھ سے چھپانے کی کوشیش مت کرنا۔۔۔ گاڑی سٹارٹ کر کے روڈ پر لاتا اریز مسکرا کر فائز سے گویا ہوا۔۔۔ میں سب جانتا ہوں۔۔ آرمی میں اس عہدے پر یونہی فائز نہیں ہوا۔۔۔
فائز گہری سانس خارج کر کے رہ گیا۔۔۔ نہیں بتا سکتا اسے کچھ بھی ۔۔۔ میں اپنی بیوی سے بہت محبت کرتا ہوں اریز۔۔۔ اور اب سے نہیں بچپن سے۔۔۔ اور اس چیز کو میں خود سے بھی چھپاتے رہا ہوں۔۔۔ پہلے کچھ فیملی پرابلمز کی وجہ سے۔۔ اس کا اشارہ مامی کے نارواں رویے کی جانب تھا۔۔۔ اور اب اس پڑاجیکٹ کو لے کر۔۔۔ وہ مجھے عزیز ہے۔۔۔ بہت عزیز۔۔۔
میں نے ابھی تک ہمارے رشتے کو گمنام رکھا ہے۔۔۔ اس بات کو لے کر وہ کئ دفعہ تلخ بھی ہو جاتی ہے۔۔۔ لیکن میں اپنی وجہ سے اس پر کوئی رسک نہیں لے سکتا۔۔۔۔ میں فلحال شادی ہی نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔۔ کم از کم تب تک تو بالکل بھی بہیں جب تک اس پراجیکٹ کی تلوار میرے سر پر لٹکی تھی۔۔۔لیکن پھر کچھ حالات و واقعات ایسے بن گئے کے میں یہ ماننے پر مجبور ہو گیا کے انسان کی پلانینگ سے بڑی اللہ کی پلانینگ ہوتی ہے۔۔ ہنگامی طور پر میری شادی ہو گئ۔۔۔
لیکن اب میں اپنی بیوی کے لئے رسک نہیں لے سکتا۔۔ فائز علوی کے مسائل اسکے اپنے ہیں۔۔۔ اور یہ سب ماہرہ کے تحفظ کے لئے ضروری ہے۔۔۔
فائز علوی کی کوئی کمزوری دشمن کے ہاتھ نہیں آنی چاہیے۔۔۔
مجھ سے وابستہ یہ دونوں رشتے۔۔۔ سونم اور ماہرہ۔۔۔ جس قدر ایک دوسرے سے بے خبر رہیں اتنا ہی بہتر ہیں۔۔۔
کیونکہ یہ دونوں ہی بہت حساس ہیں۔۔۔ زرا سی سختی برداشت نہیں کر سکتی۔۔۔
پروفیسر صاحب نے اس وطن کے لئے جان دے دی۔۔۔ لیکن دشمن کے سامنے اپنے راز عیاں کرنے کو زبان تک نا کھولی۔۔۔ اور مجھے امید ہے کے ایسا وقت اگر تم پر یا مجھ پر آیا تو اس وطن کی خاطر ہم بھی جان کی بازی لگانے سے دریغ نہیں کریں گے۔۔۔ اور کسی صورت اپنے راز انکے ہاتھ نہیں تھمائیں گے۔۔۔
اریز نے سمجھ کر سر ہلایا۔۔۔
لیکن ایسی کوئی توقع میں ماہرہ اور سونم سے نہیں رکھتا۔۔۔
کیونکہ اگر ایسا ہوگیا۔۔۔ دشمن ان دونوں میں سے کسی ایک تک بھی پہنچ گیا۔۔۔
جو کے وہ جلد ہی پہنچ جائے گا۔۔۔ وہ کچھ توقف کو رکا۔۔۔
انہوں نے اپنی ہر حرکت کو بہت تیز کر دیا ہے۔۔۔ وہ لوگ پاگلوں کی طرح پروفیسر کی بیٹی کا سراغ لگا رہے ہیں۔۔۔ اریز نے ضبط سے مٹھیاں میچیں۔۔۔ آنکھوں میں خون اترنے لگا تھا۔۔۔اسکے ساتھ ساتھ انہیں وہ لڑکا بھی مطلوب ہے جو اس روز سونم کو بائیک پر کالج سے فرار کروا پانے میں کامیاب رہا۔۔۔ وہ لوگ بائیک کے ماڈل سے اس شخص تک پہنچنے کی کوشیش کر رہے ہیں۔۔۔
صد شکر کے بائیک میری نہیں تھی۔۔۔ دور پڑے کے دوست کی تھی۔۔۔ اور بائیک اپلائڈ فار تھی اس پر نمبر نہیں لگا تھا۔۔۔ اس لئے ان دنوں شہر سے سات اپلائڈ فار موٹر سائیکل اشو ہوئی تھیں۔۔۔ وہ ان ساتوں لڑکوں کا ڈیٹا کنگال رہے ہیں۔۔۔
دو دفعہ میرے اس دوست سے بھی تفتیش کر چکے ہیں لیکن چونکہ ابھی صرف شک ہے تو شک کی بنا پر انہوں نے کوئی قدم نہیں اٹھایا۔۔۔
لیکن اگر خدا نخواستہ وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوتے ہم میں سے کسی ایک تک بھی پہنچ گئے تو ہم میں چین لنک نہیں بننا چاہیے۔۔۔ کہ ایک پھسے تو دوسرے کو بھی لے ڈوبے۔۔۔
اپنے اور تمہارے بارے میں میں پر امید ہوں۔۔۔ لیکن اگر خدانخواستہ اللہ نا کرے سونم پر کوئی کڑا وقت آئے اور وہ اس حالات کے پیش نظر سب بتانے پر مجبور ہو جاتی تو اسکے دماغ میں فائز علوی کی کوئی کمزوری نہیں ہونی چاہیے جسے وہ لاشعوری طور پر بھی کسی کے سامنے بیاں کر سکے۔۔۔
یہ صورتحال ماہرہ پر بھی لاگو ہوتی ہے۔۔ وہ بھی سونم کے بارے میں اتنی ہی لاعلم ہے جتنی کے سونم ماہرہ کے بارے میں۔۔۔
وہ صرف اتنا جانتی ہے کے سونم پروفیسر کی بیٹی ہے۔۔۔ یا اب اسے محض یہ پتہ چلے گا کے وہ اپنے شوہر کے پاس چلے گئ۔۔۔ اسکا شوہر کون ہے کیا کرتا کہاں رہتا ہے یہ سب جاننا اسکے لئے ضروری نہیں۔۔۔
یہ میری حکمت عملی ہے اپنے سے وابسطہ رشتوں کو خود سے منسلک کسی بھی نقصان کی نظر ہونے سے بچانے کے لئے۔۔۔
میری بدولت میری بیوی پر ہلکی سی بھی آنچ آئے یہ میری برداشت سے باہر ہے۔۔۔
خود پر میں سب جھیل سکتا ہوں پر اس پر نہیں۔۔۔ نو نیور۔۔۔
فائز نے بے چینی سے ماتھا مسلہ۔۔۔
اریز سمجِھ کر سر ہلا گیا۔۔۔
اگر تم ان لوگوں کے بارے میں جانتے ہو تو بتاو ہم فورس سے مدد لیں گے۔۔۔ ہم انہیں شتر بے مہار کھلا نہیں چھوڑ سکتے وہ ہمارا پہلے ہی بہت نقصان کر چکے ہیں۔۔۔
اریز اپنا غصہ ضبط کرتا سنجیدگی سے گویا ہوا۔۔۔
یہ ہی تو بات ہے ڈائریکٹ بندہ سامنے نہیں آتا۔۔۔ اور جس دوست سے تفتیش کی گئ وہ بھی انکے بارے میں کچھ نہیں جانتا۔۔۔
مزید مجھے میرا پراجیکٹ مکمل کرنے کی جلدی ہے جو انشااللہ ایک دو روز تک مکمل ہو جا ئے گا۔۔۔ اس لئے فلحال میں اپنا فوکس پراجیکٹ سے ہٹا نہیں سکتا۔۔۔
ایک دفعہ پراجیکٹ مکمل ہو کر لانچ ہو جائے پھر ایک تو وہ سب اپنی موت خود ہی مر جائیں گے۔۔ نمبر دو تب ان پر حملہ کر کے انہیں ڈھول چٹانا مشکل نا ہوگا۔۔۔
فائز کے پرعزم انداز میں کہنے پر اریز سر ہاں میں ہلا گیا۔۔۔
تمہیں جہاں کہیں بھی میری مدد کی ضرورت ہو فائز مجھے صرف ایک فون کال کر دینا۔۔۔ اریز نے اسکا کندھا تھپتھپایا۔۔۔
*****
اریز فائز کو سٹاپ پر چھوڑ کر واپس گھر آیا تو اپنے پاس موجود چابی سے اپارٹمنٹ کا دروازہ وا کرتا اندر داخل ہوا۔۔۔
لاوئنج خالی تھا جبکہ لاوئنج کے صوفے پر سونم کا آنچل پڑا تھا ۔۔۔ اسے کچن سے کھٹ پٹ کی آواز سنائی دی تو وہ سیدھا وہیں چلا آیا۔۔۔
سونم کی اسکی جانب پشت تھی۔۔۔ وہ سنک کے سامنے کھڑی کھانے کے برتن دھو رہی تھی۔۔۔
لمبی سیاہ ریشمی آبشار کیچر میں مقید کمر پر بل کھاتی نیچے تک جا رہی تھی۔۔۔
ایک دلفریب مسکراہٹ نے اریز کے لبوں کو چھوا۔۔۔۔ یہ ایک مکمل منظر تھا۔۔۔
آہممم۔۔۔ وہ گلہ کنگارتا بالکل اسکے پیچھے آ رکا۔۔۔
اپنے پیچھے اسکی موجودگی محسوس کر کے سونم کے ہاتھ وہیں تھمیں۔۔۔
اسے اپنی فاش غلطی کا احساس ہوا۔۔۔ اسے کم از کم اپنا آنچل اپنے پاس ہی رکھنا چاہیے تھا۔۔۔یہ اسکا اپارٹمنٹ تھا تو یقیناً وہ اپنے پاس موجود چابی سے دروازہ کھول کر اندر آیا تھا تبھی اسے اسکی موجودگی کا اندازہ نا ہو سکا۔۔۔ اب اس میں اتنی ہمت تک مفقود تھی کے وہ پیچھے پلٹ کر اسکی جانب دیکھ پاتی۔۔۔
میں نے کہا بھی تھا کے آج تو تم مہمان ہو یار۔۔۔ آگے سے کرتی رہنا اپنے گھر میں جو بھی کرنا ہوا۔۔۔ آج آتی تو مت کام میں لگ جاتی۔۔۔
وہ اسکے پیچھے کھڑا دوستانہ انداز میں بول رہا تھا۔۔۔
سونم کو اپنا دل سینے کی دیواریں توڑ کر باہر آتا محسوس ہوا۔۔۔
وہ ساکت و جامد سی سینک کی سائیڈیں پکڑے کھڑی تھی۔۔۔ پانی کی ڈھار ایسے ہی بہتی چلی جا رہی تھی۔۔۔
وہ اسکے اسقدر قریب کھڑا تھا کے اگر سونم زرا سا بھی واپس پلٹتی تو یقیناً اس سے ٹکرا جاتی۔۔۔
نہیں ایسی کوئی بات نہیں۔۔۔ میرا اپنا گھر ہے تو آج یا کل کیسی۔۔۔
وہ بدقت گویا ہوتی۔۔ بامشکل پانی کی دھار کے نیچے برتن کرتی برتن دھونے لگی۔۔۔
اور اپنے گھر میں بندہ مہمان کیسا۔۔۔
وہ مزید گویا ہوئی۔۔۔
ہممم۔۔۔ اریز نے ستائشی امداز میں ائبرو اچکائی۔۔۔
گھر تو واقعی تمہارا ہے۔۔۔ وہ اسکی مشکل آسان کرنے کو سائیڈ پر پڑے برتن اٹھاتا ریک میں لگانے لگا۔۔۔
آخری برتن بھی دھو کر رکھتے سونم نے اسے مصروف دیکھ کر وہاں سے کھسکنا چاہا۔۔۔
جب دروازے کی جانب بڑھتی یکدم ہی اسے اپنی بازو ایک آہنی گرفت میں جھکڑتی محسوس ہوئی۔۔۔
اریز نے اسے جھٹکے سے کھینچا ۔۔۔ یوں کے وہ توازن برقرار نا رکھ پاتی سیدھا اسکے چوڑے سینے میں آ سمائی۔۔۔
ایم سوری سونم۔۔۔ جس وقت تمہیں میری سب سے زیادہ ضرورت تھی اس وقت میں تمہارے ساتھ نہیں تھا۔۔۔۔ اسکے چہرے پر بکھرے بال کان کے پیچھے اڑستا وہ سنجیدگی سے گویا ہوا۔۔۔
سونم کی آنکھیں بھر آئی۔۔۔
وہ شدت سے اسکی شرٹ اپنے کپکپاتے ہاتھوں میں جھکڑتی رو دی۔۔۔
اریز شدت ضبط سے لب بھینچتا اسکا سر سہلاتا رہا۔۔۔
میں تم سے بہت سے وعدے وعید نہیں کروں گا۔۔۔ لیکن صرف اتنا کہوں گا کے ہر اس شخص کو ان آنسووں کا حساب دینا ہوگا جو ان آنسووں کی وجہ بنا۔۔۔
اسنے محبت اور نرمی سے اپنی انگلیوں کی پوروں پر اسکے آنسو چنے۔۔۔
اور میں انتظار کروں گی ان پلوں کا جب میرے باپ کا ہر قاتل اپنے انجام کو پہنچے گا۔۔۔ وہ گیلی سانس اندر کھینچتی بھرائی آواز میں گویا ہوئی۔۔۔
اریز اسکے ماتھے سے ماتھا ٹکائے کئ لمحوں تک کھڑا رہا جب وہ کچھ پلوں بعد جھجھک کر پیچھے ہٹی ۔۔۔
اریز اسکی جھجھک محسوس کرتا مسکرا دیا۔۔۔
چائے پیئو گی۔۔۔ وہ فریج کی جانب بڑھا اور فریج کھول کر اندر سے دودھ نکالا۔۔۔
جی۔۔۔ آپ ہٹیں میں بناتی ہوں۔۔۔ وہ جھٹ سے بھاگتی لاوئنج تک گئ اور اپنا آنچل اوڑھ کر انہی قدموں پر واپس پلٹی۔۔۔
اسنے کاونٹر ٹاپ کے پاس آتے اریز کے ہاتھ سے دودھ تھامنا چاہا جب وہ مسکرا کر اسکا ہاتھ تھامتا اسے کچن میں موجود گول میز تک لایا اور کرسی کھینچ کر اسے وہاں بیٹھایا۔۔
یہاں سکون سے بیٹھو اور مجھےچائے بنانے دو۔۔۔ آج زرا شوہر کے ہاتھ کی چائے بھی پی کی دیکھ لو اتنا برا ذائقہ بھی نہیں میرے ہاتھ کا۔۔۔ وہ واپس کاونٹر ٹاپ تک آتا پین میں دودھ ڈالنے لگا۔۔
آپکے ہاتھ میں بہت ذائقہ ہے۔۔۔ میں آپکے ہاتھ کا کھانا کھا چکی ہوں۔۔۔ بہت مزے کا تھا وہ۔۔۔ سونم اسے انہماک سے کام کرتا دیکھ رہی تھی۔۔
مطلب تم ان ڈائریکٹلی میری تعریف کر رہی ہو۔۔۔ وہ اس انداز میں سونم کی جانب پلٹتا گویا ہوا کہ وہ خوامخواہ ہی کنفیوز ہوگئ۔۔۔
نہیں میرا وہ مطلب نہیں۔۔۔
نہیں مطلب تم ڈائریکٹلی میری تعریف بھی کر سکتی ہو۔۔۔۔ آفٹرآل شوہر کی تعریف کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔۔۔ وہ پھر سے اسکی بات پکڑتا شوخ سے انداز میں گویا ہوا۔۔
آپ مجھے چڑا رہے ہیں۔۔۔ سونم آنکھیں چندہی کئے اسے دیکھتی گویا ہوئی۔۔۔
ارے اس میں چڑانے والی کونسی بات۔۔۔ میں تو بس ایک بات کہہ رہا تھا۔۔۔
ایک میجر اور اتنا نان سیریس۔۔۔ وہ نا چاہتے ہوئے بھی کہہ گئ۔۔۔
جبکہ اریز قہقہ لگا کر ہس دیا۔۔۔ یار اب گھر میں تو میں میجر نہیں۔۔۔ اور ناہی تم کوئی مجرم ہوں۔۔۔
وہ شاید اسکی جھجھک ختم کرنے کو اسے باتوں میں الجھا رہا تھا۔۔۔ یوں اس انداز میں کے سونم کو احساس تک نا ہوا کے وہ جو اتنی کم گو ہوگئ تھی۔۔۔ زیادہ تر خاموش ہی رہنے لگی تھی وہ کیسے اتنے وقت سے اس سے بلاجھجک باتیں کر رہی تھی۔۔۔
یہ لو پکڑو چائے پیو اور دل کھول کر میری تعریف کرو۔۔۔ اریز نے دو مگ لا کر ٹیبل پر رکھے اور خود ریلیکس سے انداز میں کرسی کھینچ کر بیٹھ گیا۔۔۔
ہمم۔۔۔ اچھی ہے۔۔۔ لیکن اس سے زیادہ اچھی میں بنا لیتی ہوں۔۔۔ آپ نے خوامخواہ تکلف کیا۔۔۔
وہ چائے کی پہلی چسکی لیتے سر جھٹک کر گویا ہوئی۔۔۔ انداز شاہانہ تھا
اریز کا قہقہ بے ساختہ تھا۔۔۔
شیور مسز وائے ناٹ۔۔۔
کل سے یہ ڈیوٹی آپ ہی کی یے۔۔۔
خیر کل صبح ہمیں اسلام آباد جانے کے لئے نکلنا ہے تو ابھی تمہیں اپنا سامان ان پیک کرنے کی ضرورت نہیں یوں تمہیں آسانی رہے لگی۔۔۔
اسلام آباد کیوں۔۔۔ چائے پیتی وہ ٹھٹھکی۔۔۔
ہیڈ کوارٹر رپورٹ کرنا ہے۔۔ نیز میری ڈیوٹی اب وہیں ہے۔۔۔ اسلام آباد میں تم کینٹ ایریا میں ریو گی تو میری تمہری سیکیورٹی کو لے کر پریشانی ختم ہو جائے لگی۔۔۔ وہاں کوئی غیر معمولی شخص پر بھی نہیں مار سکتا۔۔۔
اور تم بتاو ڈگری کلیئر ہوگئ تمہاری۔۔۔۔
اریز کے پوچھنے پر وہ چائے کا مگ واپس میز پر رکھ گئ۔۔۔ آنکھئن سرعت سے گیلی ہونے لگی تھیں۔۔۔
ارے اب کیا ہوا۔۔۔ وہ پریشان ہوتا پوچھ بیٹھا۔۔۔۔۔

No comments