Roshan Sitara novel 53rd Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Roshan Sitara novel 53rd Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Roshan Sitara is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels
Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front
of the world and improve their abilities in that field.
Roshan Sitara Novel by Umme Hania | Roshan Sitara novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Roshan Sitara novel by Umme Hania Complete PDF download
Online Reading
ناول "روشن ستارا"۔
مصنفہ "ام ہانیہ"۔
Official pg : Umme Hania official
53rd epi...
فائز علوی اپنی لیب میں بیٹھا بری طرح کام میں منہمک تھا۔۔۔ اسکا پراجیکٹ بالکل آخری مراحل پر تھا۔۔۔ اسکے سامنے میز پر کئ طرح کی ڈیٹا چپس اور سینس سینسر موجود تھے جکہ ساتھ ہی روبوٹ کی انسانی جسامت سے مشبہ مختلف حصے پڑے تھے۔۔ جیسے اوپر کا ڈھر۔۔۔ بازو ہاتھ اور کھوپری۔۔۔ ۔۔ سب سے پہلے اسنے کہنی اور بازو کا جوڑ لگا کر اس میں مختلف سینسر سیٹ کئے اور اسے ہاتھوں سے جوڑا۔۔۔۔ یہ ہی عمل دوسری بازو پر دہرا کر وہ روبورٹ کی کمر کے مقام پر مختلف بیٹریز چارجینک چپس اور ڈیٹا پاور سیٹ کر رہا تھا۔۔۔ سب سیٹ کر کے اسنے اس جگہ کو کور کیا اب وہ کھوپری کی جانب بڑھا جو کے سر کے مقام سے آدھی کھلی پڑی تھی۔۔۔ یہ روبورٹ کا سب سے حساس حصہ ہوتا ہے۔۔۔
اسنے کھوپری میں سارے ڈیٹے کی پروگرامینگ کی دیکھنے اور سننے کے سینسر فٹ کئے اور مہارت سے اسے بند کرنے لگا۔۔۔
یہ سب کرتے اسے کئ گھنٹے لگ گئے تھے۔۔۔ اور اب وہ اپنے کام سے مطمئن دکھائی دیتا تھا۔۔۔ لیب میں آنے سے پہلے وہ ماہرہ اور سونم کو اچھے سے بتا کر آیا تھا کے اسے کوئی بھی ڈسٹرب نا کرے یہ ہی وجہ تھی کے کافی وقت گزر جانے کے بعد بھی اسے کسی نے ڈسٹرب نا کیا تھا۔۔۔
اب وہ کافی تھک چکا تھا لیکن وہ اپنا کام جلد سے جلد مکمل کرنا چاہتا تھا۔۔ تبھی اب ان سبھی پارٹس کو جوانٹ کی مدد سے جوڑنے لگا کچھ وقت لگا تھا مگر وہ مختلف حصے ایک انسانی شکل کے روبورٹ کی صورت اسکے سامنے تھے۔۔۔ فائز اپنے اس شاہکار کو دیکھ کر بے تحاشہ خوش تھا۔۔۔ اسکی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نا تھا۔۔۔ بالآخر اتنے مہینوں کی محنت رنگ لائی تھی۔۔ فرط جذبات سے اسکی آنکھیں نم ہو اٹھیں تھیں۔۔۔
لگاتار کئ گھنٹے محنت کے بعد اب جسم تھکان کا شکار ہونے لگا تھا لیکن جوش و جذبہ ہر چیز پر غالب تھا۔۔۔ اسنے مسکراتے ہوئے روبورٹ کی جانب دیکھا ا ور واپس اپنی کرسی سمبھالی۔۔۔
اسکے ہاتھ تیزی سے لیپ ٹاپ کی کیز پر چل رہے تھے۔۔۔ وہ مسلسل اسکا سافٹ ویئر اپڈیٹ کر رہا تھا۔۔۔ وہ جاگتی آنکھوں سے اپنا خواب پورا ہوتا دیکھنا چاہتا تھا جب اسکا روبورٹ چلتا۔۔ چیز اٹھاتا ۔۔۔ بات سمجھ کر اپنے فیڈ شدہ ڈیٹے کی بیس پر جواب دیتا۔۔جگماتی آنکھوں میں کئ ستارے چمک رہے تھے۔۔۔ لیکن یہ کیا۔۔۔
اپڈیٹ فیل۔۔۔ نوٹیفکیشن پر فائز کے چہرے کی خوشی زرا مانند پڑی۔۔۔
اسنے ایک نظر روبورٹ کو دیکھتے دوبارہ سے سافٹ ویئر اپڈیٹ کرنا چاہا۔۔۔ اینٹر کا بٹن دباتے ہی پھر سے اپڈیٹ فیل۔۔۔
وہ الجھا۔۔۔ پھر ایک بار دو بار اور پھر بار بار۔۔ وہ مسلسل سافٹ ویئر اپڈیٹ کر رہا تھا لیکن ہر بار اپڈیٹ فیل۔۔۔
تھک ہار کر وہ سر کرسی کی پشت سے ٹکا گیا۔۔۔
شاید وہ بہت تھک چکا تھا اس لئے کچھ مس کر رہا تھا۔۔۔ اسے کچھ دیر آرام کرنا چاہیے تھا پھر ایک ریلیکس مائنڈ کے ساتھ دوبارہ سے کام کرتا تو یقیناً ایرر فکس ہو جاتا۔۔۔ اسنے آنکھیں مونڈتے شہادت کی انگلی اور انگوتھے کی مدد سے اپنی آنکھیں مسلی۔۔۔
دفعتا موبائل کی بپ پر وہ چونک کر سیدھا ہوا۔۔۔ میز پر پڑا موبائل اٹھا کر دیکھا تو ساکت رہ گیا۔۔۔ وہاں جو اسے اطلاع دی جا رہی تھی وہ قابل غور تھی۔۔ یکدم ہی وہ کرسی سے اٹھتا باہر بھاگا۔۔
*********
مرتسم اور سلمان صاحب تیسرے دن ہی واپس شہر آ گئے تھے۔۔۔ بیچ میں وہ وہاں چکر لگاتے رہے تھے۔۔۔ جبکہ ناہید بیگم اور علایہ ہفتے بعد شہر واپس آئی تھیں۔۔۔ آنے سے پہلے انہوں نے فاہا کو بھی فورس کیا تھا کہ وہ بھی اسکے ساتھ شہر چلے۔۔۔اب بھلا وہاں کیا رکھا تھا۔۔۔
شہر جا کر یونیورسٹی دوبارہ جوائن کرتی تو دل بہل جاتا۔۔ یہاں تو وہ ہمہ وقت باپ کی یادوں میں بیٹھی پہروں آنسو بہاتی رہتی۔۔۔
وہ بہت مشکلوں سے سٹیبل ہوئی تھی۔۔۔ تائی جان اور علایہ نے بھرپور اسکا خیال رکھا تھا۔۔۔ وہ پہروں ایک جگہ پر بیٹھ کر کسی غیر مری نقطے کو دیکھتی کھوئی رہتی۔۔۔ باپ کی کوئی چیز دیکھتی تو پھوٹ پھوٹ کر رو دیتی۔۔۔۔
اب جا کر وہ کہیں رفتہ رفتہ سٹیبل ہو رہی تھی۔۔۔ تبھی تائی جان اسے اپنے ساتھ لیجانا چاہ رہی تھیں لیکن اسکی نا ہاں میں نا بدلی وہ کم از کم سوا مہینے تک یہیں رہنا چاہتی تھی۔۔۔ وہاں تعزیت کو روز کوئی نا کوئی آیا ہوتا۔۔۔ ایسے میں وہ باپ کے آبائی گھر کو بند نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔۔
مرتسم کو فاہا کے اس فیصلے پر اعتراض تھا۔۔۔ وہ وہاں تنہا رہتی تو یقیناً اس ٹراما سے نکل نا پاتی۔۔۔ اور معمولات زندگی کے روان ہونے کے باعث علایہ اور تائی جان مزید وہاں نہیں رک سکتے تھے۔۔۔ علایہ کے بھی کالج شروع تھے اور وہ مزید چھٹیاں افورڈ نہیں کر سکتی تھی۔۔۔ یہ ہی بات فاہا کو سمجھانے مرتسم خود آیا تھا کے اسکی پڑھائی کا حرج ہو رہا ہے۔۔ اسے بھی جا کر اپنی یونیورسٹی جوائن کرنی چاہیے۔۔۔
لیکن وہ بضد تھی۔۔۔ اپنی بات سے ایک انچ نا ہلی۔۔۔ بلآخر مرتسم کو ہی ہار ماننا پڑی۔۔۔ لیکن آنے سے پہلے وہ تمام ملازمیں کو اسکا خیال رکھنے کی خاص تاکید کر کے آیا تھا۔۔۔
******
فائز علوی ڈورتا ہوا لیب سے نکلا۔۔۔ باہر لاوئنج میں ہی سونم اور ماہرہ بیٹھی ایل ای ڈی پر کوئی مووی دیکھ رہی تھیں۔۔۔ جب سے فائز نے سونم سے اختیاط برتنی شروع کی تھی تب سے ہی ماہرہ اور سونم کے تعلقات بہتر ہونے لگے تھے۔۔۔
سونم اٹھو جلدی کرو ہمیں ابھی نکلنا ہے۔۔۔ اپنا سامان پیک کرلو اور ہاں عبایہ پہن لینا۔۔۔ جلدی جلدی پلیز۔۔۔ وقت بہت کام ہے۔۔۔ وہ چٹکی بجانا بعجلت گویا ہوتا خود ہی کمرے کی جانب بڑھا۔۔۔
سونم اور ماہرہ حق دق سی اسکی جانب بڑھیں۔۔
ہوا کیا ہے فائز۔۔۔ کیوں اتنی ہربونگ مچا رہے ہو۔۔۔ کچھ بتاو تو سہی۔۔۔ ماہرہ اسکے پیچھے آتی مستفسر ہوئی۔۔۔
کچھ نہیں ماہرہ یار ابھی کچھ جلدی ہے واپسی پر بتاوں گا۔۔۔ وہ خود ہی آگے بڑھتا وارڈروب کے اوپر سے بیگ اتار کر سونم کے کپڑے اس میں ٹھونسنے لگا تھا۔۔
فائز لیکن۔۔۔
یہ پکرو سونم اور جا کر پہنو۔۔۔ اسنے وارڈروب میں لٹکتا اسکا عبایہ اتار کر سونم کو تھمایا۔۔۔ وہ حواس باختا سی لے کر واش روم کی جانب بھاگی۔۔۔
وہ جلدی ہی اتنی مچا رہا تھا کے سونم کے ہاتھ پاوں پھولنے لگے تھے۔۔۔
ماہرہ اسے بے بسی بھری نگاہوں سے دیکھ رہی تھی۔۔۔
تم نے قسم کھا رکھی ہے فائز علوی کے مجھے کبھی کچھ نہیں بتاو گے۔۔۔
ماہرہ کی بھرائی آواز پر بیگ کی زپ بند کرتے فائز کے ہاتھ ٹھٹھکے۔۔۔
اسنے ہاتھ بڑھا کر ماہرہ کو اپنی جانب کھینچا۔۔۔ وہ ٹوٹی ڈال کی مانند اس کی جانب لڑھکی۔۔۔ اس سے پہلے کے وہ اس سے ٹکراتی ماہرہ نے فائز کے چوڑے سینے پر ہاتھ رکھتے خود کو اس سے ٹکرانے سے روکا۔۔۔
ریلیکس ہو جاو۔۔۔ فائز نے محبت سے اسکا چہرا ہاتھوں کے پیالے میں بھرا۔۔۔
آ کر سب بتاوں گا۔۔۔ ابھی بس دعا کرنا کے جس مقصد کے لئے جا رہا ہوں خدا اس میں مجھے کامیاب کرے ۔۔۔ شاید میں رات میں واپس نا آ پاوں۔۔۔ شاید لیٹ ہو جاوں یا شاید کل صبح ہی لوٹوں اس لئے تم آج رات ماموں کی جانب چلی جانا۔۔۔ کل واپس آ جانا۔۔۔ وہ نرمی سے اسکی گال سہلا رہا تھا۔۔۔
وہ خاموشی و بے خودی کے عالم میں اسے دیکھے گئ۔۔۔
پلیز۔۔۔
میں یہاں رہ کر بھی تمہارا نتظار کر سکتی ہوں فائز۔۔۔ مجھے ڈر نہیں لگتا۔۔۔ وہ آہستگی سے گویا ہوئی۔۔۔
مجھے پتہ ہے تم بہت بہادر ہو لیکن یوں میرا دھیاں ہر وقت تمہاری طرف ہی لگا رہے گا۔۔
وہ ہلکا سا مسکرایا۔۔۔
اور میں یہ ہی چاہتی ہوں ۔۔ کے تمہارا دھیاں ہر وقت میری طرف ہی لگا رہے۔۔۔ میری طرف سے کبھی ہٹے ہی نا۔۔۔ سوتے جاگتے اٹھتے بیٹھے۔۔۔ صرف ماہرہ ہی ماہرہ تمہارے حواسوں پر چھائی ہو۔۔۔وہ اسکی آنکھوں میں دیکھتی بے خودی کے عالم میں گویا ہوئی۔۔۔
خاموشی کا ایک وقفہ دونوں کے درمیان در آیا۔۔۔ دونوں ہی خاموشی سے ایک دوسرے کی جانب دیکھ رہے تھے۔۔۔ ماہرہ کی آنکھوں میں محبت تھی تو فائز کی نگاہوں میں تشکر۔۔۔
کچھ دیر بعد فائز نے مسکراتے ہوئے نظریں پھیریں۔۔۔
ضدی ہو بہت۔۔۔
شروع سے ہوں ۔۔ اور تم باخوبی آگاہ ہو اس بات سے۔۔۔ وہ بھی مسکرا دی۔۔۔
فی امان اللہ۔۔۔ فائز نے جھکتے ہوئے اسکے ماتھے پر مہر محبت ثبت کی اور واش روم کا دروازہ کھلنے کی آواز پر اس سے پیچھے ہٹتا سونم کا بیگ اٹھا کر باہر نکل گیا۔۔۔ جبکہ ماہرہ ابھی تک اسی ایک لمحے کے حصار میں تھی۔۔۔
******
ہم جا کہاں رہے ہیں۔۔۔ سونم اور فائز بس میں سوار تھے جبکہ بس سڑک پر رواں تیزی سے منزل کی جانب بڑھ رہی تھی جب سونم فائز سے مستفسر ہوئی۔۔
وہ حسب معمول چاروں جانب سے ارد گرد کا جائزہ لے رہا تھا۔۔۔ وہ کبھی بھی کہیں بھی دماغ بند کر کے اپنی سوچوں میں کھو کر بیٹھ ہی نہیں سکتا تھا۔۔۔ اسکی نگاہیں اور دماغ ہر وقت ایکٹو رہتی تھیں اور اب تو بالخصوص اسکے ساتھ سونم تھی تو اتنی اختیاط تو بنتی تھی۔۔۔
پہنچ کر پتہ چل جائے گا تمہیں۔۔۔ وہ فلحال اسے کچھ بھی بتا کر اسکی جانب سے کسی قسم کا جذباتی پن افورڈ نہیں کر سکتا تھا۔۔۔
بس تقریباً ایک گھنٹے کی مسافت کے بعد رکی تو وہ سونم کا ہاتھ تھامتا لوگوں کے ہجوم سے باہر نکلا۔۔۔
کچھ بتائیں تو سہی مجھے پریشانی ہو رہی ہے۔۔۔ باہر طرح طرح کے لوگ چھابری فروش اور مسافروں کو آتے جاتے دیکھ سونم الجھن زدہ سی گویا ہوئی۔۔
فائز نے ایک ٹیکسی کو ہاتھ دے کر روکا اور اس میں سوار ہوا۔۔۔
کچھ دیر کی مسافت کے بعد ٹیکسی ایک اپارٹمنٹ بلڈنگ کے سامنے رکی تو فائز ڈرائیور کو کرایہ ادا کرتا ٹیکسی سے اترا۔۔۔
سونم انجان نگاہوں سے بلڈنگ کو دیکھ رہی تھی۔۔۔ فائز کے آگے بڑھنے پر اسنے بھی فائز کی تقلید کی۔۔۔
لفٹ سے نکل کر وہ لوگ پانچویں فلور پر آئے۔۔۔ سونم خاموشی سے چپ چاپ اسکے پیچھے پیچھے چل رہی تھی۔۔
دفعتاً ایک فلیٹ کے سامنے رک کر فائز نے دستک دی۔۔۔ دوسری جانب سے قدموں کی چاپ ابھرتی سنائی دے رہی تھی۔۔۔۔ سونم کی توجہ دروازے کی جانب ہی تھی۔۔۔
دفعتا دروازہ کھلا۔۔۔ اور دروازے سے نمودار ہوتے شخص کو دیکھ کر سونم حیرت و شاک سے گنگ رہ گئ۔۔۔
سونم سختی سے ہاتھ منہ پر جمائے بہتی آنکھوں سے مسلسل سر نفی میں ہلا رہی تھی جبکہ نوارد اب فائز سے ملنے کے بعد اسکی جانب متوجہ ہوا ۔۔۔ وہ لب بھینچے بے بسی سے سونم کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔ جب فائز ایک اچٹتی نگاہ ان پر ڈالتا ارادتاً آگے بڑھ گیا۔۔۔ شاید وہ انہیں سپیس دینا چاہتا تھا
****
سونم۔۔۔
اب کیوں آئے ہیں آپ میجر اریز۔۔۔ مت آتے۔۔۔ میرا باپ مر گیا آپکا انتظار کرتے کرتے۔۔۔ تھک گئے تھے وہ آپ سے رابطہ کرنے کی کوشیشوں میں۔۔ مت آتے اب بھی۔۔۔ تھوڑا سا انتظار کر لیتے میجر اریز۔۔۔ بس میں بھی یہ قید تنہائی کاٹتے کاٹتے ختم ہونے ہی والی تھی۔۔۔ ہو جاتی تو آتے نا آپ۔۔۔ اکھٹا ہی ہم دونوں باپ بیٹی کی قبروں پر فاتحہ پڑھ لیتے۔۔۔
وہ بہتی آنکھوں سے شکوہ کناں ہوتی دل کا غبار نکال رہی تھی۔۔ اریز نے ٹوکنا مناسب نا سمجھا۔۔ شاید وہ بھی چاہتا تھا کے وہ اسکے سامنے اپنا دل ہلکا کرے۔۔۔
آپ۔۔۔ آپ۔۔۔ اس سے پہلے کے وہ کپکپاتے لبوں سے مزید کچھ کہتی اریز نے شدت سے اسے خود میں بھینچ لیا۔۔۔
وہ سہارا پاتے ہی پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔
ایم سوری سونم۔۔۔ میرے تمہارے نقصان کا اندازہ ہے۔۔۔ یہ نقصان ناقابل تلافی ہے۔۔ مگر عظیم انکل کی طرح میں بھی اپنے وطن کے ہاتھوں مجبور تھا۔۔
مش پر گیا ہوا تھا جانے سے پہلے انکل سے مل کر گیا تھا لیکن مشن کے دوران میں انسے رابطہ نہیں رکھ سکتا تھا۔۔۔ نا ہی مجھے اسکی اجازت تھی۔۔۔
آج صبح ہی کامیاب ہو کر بیس واپس لوٹا تو پتہ چلا کے عظیم انکل بارہا مجھ سے رابطہ کرنے کی کوشیش کر چکے ہیں اور اسکے ساتھ ساتھ فائز نامی شخص بھی۔۔۔
فائز نے وہاں اپنا رابطہ نمبر دے چھوڑا تھا تا کے میں جب بھی لوٹوں اس سے رابطہ کر سکوں ۔۔۔ اس لئے پتہ چلتے ہی میں نے پہلی فرصت میں اس سے رابطہ کیا ۔۔ اس سے بات کر کے مجھے عظیم انکل کے بارے میں پتہ چلا۔۔۔ اور تمہارا بھی کہ میرے پیچھے عظیم انکل تمہاری ذمہ داری فائز کے سپرد کر کے گئے ہیں۔۔۔
وہ نرمی سے اسکے بال سہلاتا ہر بات اسکے گوش گزار رہا تھا۔۔۔
لیکن میں تم سے وعدہ کرتا ہوں کے عظیم انکل کے ایک ایک مجرم کو کفرکاردار تک پہنچاوں گا۔۔۔
وہ کافی دیر تک اسے حوصلہ دیتا رہا۔۔۔ اور کافی دیر تک سوں سوں کرنے کے بعد سونم کو اپنی پوزیشن کا احساس ہوا تو جھٹ سے پیچھے یٹی۔۔۔
میرے خیال سے ہمیں اندر جانا چاہیے۔۔ وہ اس سے نظریں چراتی اندر کی جانب بڑھی تو میجر اریز نے بھی اسکی تقلید کی۔۔۔
ناجانے کیوں اس شخص کے واپس آنے سے سونم کو بہت سکون اور حوصلہ ملا تھا۔۔
******
اندر فائز لاوئنج میں موجود صوفے پر بیٹھا پاوں جھلاتا انکے اندر آنے کے انتظار میں گہری نظروں سے اپارٹمنٹ کا جائزہ لے رہا تھا۔۔۔ وہ اریز سے پہلی مرتبہ ملا تھا اور مجموعی طور پر وہ اسے پسند آیا تھا۔۔۔ وہ اونچا لمبا کسرتی وجود کا حامل شخص تھا۔۔۔ سیاہ جینز پر سفید ہاف سلیو شرٹ زیب تن کئے جس میں اسکے کسرتی بازو مزید نمایاں ہو رہے تھے۔۔۔ فوجی ہیئر کٹ بالوں میں اسکے نقوش مزید نمایاں ہو رہے تھے۔۔۔
اسے سونم اور اریز کی جوڑی پسند آئی تھی۔۔۔
دفعتاً سونم کے پیچھے پیچھے ہی اریز بھی اندر داخل ہوا تو فائز سیدھا ہو بیٹھا۔۔۔
سونم سر جھکائے آ کر سنگل صوفے پر بیٹھی تو فائز اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔
اوکے مسٹر اریز۔۔۔ اب مجھے اجازت دیں۔۔۔ میرا خدا گواہ ہے کے میں نے پروفیسر صاحب سے کیا اپنا وعدہ نبھایا اور آپکی امانت آپ تک پہنچائی۔۔ مجھے خوشی ہے کے جس مان اور اعتماد سے انہوں نے مجھے اتنی بڑی ذمہ داری سونپی تھی میں اسے نبھا پانے میں کامیاب ہوا۔۔۔ فائز نے صوفے سے اٹھتے اریز سے ہاتھ ملا کر اجازت چاہی۔۔
ارے ایسے کیسے فائز ۔۔۔ کھانا کھائے بنا آپ نہیں جا سکتے۔۔۔ کھانا بس تیار ہی ہے۔۔ اور شکر گزار ہوں آپکا کے آپ نے اتنی دیر تک سونم۔۔
اسکی ضرورت نہیں اریز۔۔۔ سونم محض آپکی بیوی ہی نہیں میری بہن بھی ہے اور بہنیں بھائیوں پر بوجھ نہیں ہوتیں۔۔۔۔ وہ مسکرا کر بعجلت اریز کی بات کاٹ گیا۔۔۔ اسکے بے ساختہ انداز پر اریز بھی مسکرا دیا۔۔۔
پلیز آپ بیٹھیں میں کھانا لگاتا ہوں۔۔۔
نہیں آپ دونوں بیٹھیں۔۔۔ کھانا میں لگاتی ہوں۔۔۔ اریز کے فائز کو کہنے پر سونم اٹھ کھڑی ہوئی۔۔
میجر اریز نے اسے گہری نگاہوں سے دیکھا۔۔۔
کچن کس طرف ہے۔۔۔ وہ اسکی نگاہوں سے کنفوز ہوتی بدقت گویا ہوئی۔۔۔
اریز کے ہاتھ سے دائیں جانب اشارہ کرنے پر وہ کچن کی جانب بڑھی۔۔۔
بیٹھیں آپ فائز۔۔۔ میں اسکی مدد کرتا ہوں۔۔۔ پہلی بار یہاں آئی ہے تو یقیناً اسے چیزوں کے بارے میں پتہ نہیں ہو گیا کے کونسی چیز کہاں ہے۔۔۔ اریز مسکرا کر وضاحت دیتا سونم کے پیچھے ہی کچن میں آیا۔۔۔
آہم۔۔۔
وہ چولہے پر پڑے پین سے ڈھکن ہٹا کر دیکھ رہی تھی جب پیچھے سے گلہ کنگارنے کی آواز پر سیدھی ہوئی۔۔۔
آج کے دن تو تم مہمان ہو۔۔۔ کم از کم آج تو تمہیں یہ سب نہیں کرنا چاہیے۔۔۔ باقی پوری زندگی تو یہ کرنا ہی ہے۔۔۔ وہ اسے ٹھٹک کر ہاتھ روکتا دیکھ آگے بڑھ کر کیبنز سے برتن نکال کر باہر رکھنے لگا۔۔۔
نہیں کوئی بات نہیں۔۔۔ وہ اس سے باول پکڑ کر ان میں کھانا نکالنے لگی۔۔۔
یہ سب آپ نے بنایا ہے۔۔۔ خالص دیسی کھانا چکن کڑاہی اور بریانی کے ساتھ رائتہ اور سلاد دیکھ کر وہ پوچھے بنا نا رہ سکی۔۔۔
کوئی شک۔۔۔ وہ برتن نکالنے کے بعد اب ٹرالی سیٹ کرنے لگا تھا۔۔۔ سونم نے اسے چور نگاہوں سے دیکھا۔۔۔وہ جھک کر ٹرالی سیٹ کرتا بہت خوبرو لگ رہا تھا ۔۔ وہ دل کی بے قابو ہوتی ڈھرکن کے ہاتھوں مجبور ہو کر رخ سیدھا کر گئ۔۔
آپکو یہ سب بنانا آتا ہے۔۔۔ وہ ہنوز معتجب تھی۔۔۔
مجھے سب بنانا آتا ہے۔۔۔ فیوچر میں تمہیں کافی آسانی ہونے والی ہے۔۔۔ خیر یہ سب میں نے آپ لوگوں کی امد کا سن کر ہی بنایا تھا۔۔۔ وہ شوخ سے انداز میں کہتا سیدھا ہوا اور اسکے ہاتھ میں تھامے برتن اٹھا کر ٹرالی میں رکھے۔۔۔
آجاو باہر ۔۔۔ پھر اسے باہر آنے کا کہتا ٹرالی گھسیٹ کر باہر لے آیا۔۔
کھانا خوشگوار ماحول میں کھایا گیا۔۔۔ کھانا کھانے کے بعد اریز ٹرالی واپس کچن میں رکھنے گیا جب سونم فائز سے گویا ہوئی۔۔
آپ سے ایک بات پوچھوں۔۔۔
ہمم۔۔۔ سونم کے پوچھنے پر فائز نے موبائل سے سر اٹھاتے اسے گویا اجازت دی۔۔۔
ماہرہ آپکی بیوی ہے نا۔۔ وہ آہستگی سے گویا ہوئی۔۔
کیاااااا؟؟؟ فائز کی حیرت بھری آواز ابھری۔۔۔
کس نے کہا یہ تم سے۔۔۔ یکدم ہی وہ غیر آرام دہ اور بے چین دکھائی دینے لگا تھا۔۔۔
********

No comments