Header Ads

Roshan Sitara novel 52nd Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels


 

Roshan Sitara novel  52nd Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels 

Roshan Sitara is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels

Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front 

of the world and improve their abilities in that field.

 Roshan Sitara  Novel by Umme Hania | Roshan Sitara  novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Roshan Sitara  novel by Umme Hania Complete PDF download

Online Reading

 ناول "روشن ستارا"۔

  مصنفہ "ام ہانیہ"۔

Official pg : Umme Hania official

52nd epi....
کافی دیر تک کمرے میں رہنے کے بعد جب رات اترنے لگی تو فاہا بابا سے ڈنر کا  پوچھنے کے لئے کمرے سے نکلی۔۔۔
بھوک کا احساس تو اسے بھی ہونے لگا تھا لیکن وہ پہلے بابا کو انکا پرہیزی کھانا کھلا کر پھر خود کچھ کھانا چاہتی تھی۔۔۔
وہ انکے کمرے کا دروازہ دھکیل کر اندر داخل ہوئی ۔۔۔ کمرے میں خاموشی کا راج تھا۔۔۔ بابا بستر پر دراز پرسکون انداز میں سو رہے تھے۔۔۔ انہیں اتنے سکون سے سوتا دیکھ فاہا کا دل نا چاہا انہیں جھگانے کو۔۔۔ 
لیکن انہیں کھانا کھلانا بھی ضروری تھا قدم قدم چلتی وہ انکے بستر تک آئی لیکن پھر انہیں بے آرام کرنے کے خیال سے واپس پلٹی۔۔۔۔
ابھی دو ہی قدم چلی تھی جب ٹھٹھک کر رکی۔۔۔ کچھ غلط ہونے کا احساس شدت سے دل میں جاگا۔۔۔۔
اسنے وہیں کھڑے کھڑے گردن موڑی۔ ہر چیز جیسے سلو موشن میں چلنے لگی تھی۔۔۔
وہ تھوک نگلتی واپس بابا کے بستر تک آئی۔۔۔ انکے سرہانے کے پاس رک کر پاوں زور سے زمین پر مارا۔۔۔۔ پھر تکیہ ہلایا۔۔۔ گھوم کر انکے بیڈ کے گرد چکر کاٹا۔۔۔
اسے اپنے جسم سے جان نکلتی محسوس ہوئی۔۔۔ بابا تو ہلکی سی آہٹ پر ہی اٹھ جاتے تھے پھر ۔۔ ابھی تک اٹھے کیوں نہیں۔۔۔
دل میں سر ابھارتے خدشات کا سر بے دردی سے کچلتی وہ انکے پاس آئی۔۔
بابا۔۔۔ بابا اٹھیں۔۔۔ ڈنر کا ٹائم۔۔۔ اسکی بات ادھوری رہ گی جب انکا بے جان بازو سینے سے لڑھک کر نیچے جھول گیا۔۔
فاہا کی آنکھیں پھٹ پڑیں۔۔۔۔
بااااابااااا۔ وہ چیختے ہوئے انہیں جھنجھوڑ گئ۔۔۔
بااااابااااا۔۔۔ اٹھیں باااابااااا۔۔۔ اسکی دردناک چیخیں حویلی کے درو دیوار لرزا گئ تھیں۔۔۔
وہ بے جان ہوتی وہیں انکے پاس ڈھے گئ۔۔۔ لمحوں میں اسکی چیخیں سن کر حویلی کے ملازمین وہاں اکھٹے ہوئے تھے۔۔۔
  یکدم ہی وہاں بھگڈر مچ گئ تھی۔۔۔
بی بی جی صبر کریں۔۔۔ صاحب جی اب ہم میں نہیں رہے۔۔۔ اسے کسی کی آواز سنائی دی۔۔  وہ پھٹی پھٹی نگاہوں سے انہیں دیکھ کر رہ گئیں۔۔۔ دماغ سب ماننے سے انکاری تھا۔۔۔
ابھی تو وہ بالکل ٹھیک تھے۔۔۔ ابھی تو و ہ انکے سینے سے لگی ہوئی تھی۔۔۔ اسکے سر پر ہاتھ رکھ کر تو انہوں نے اسکا نکاح کروایا تھا۔۔۔
تو کیا وہ صرف اسکے نکاح کا ہی انتظار کر رہے تھے۔۔۔ اسکی ذمہ داری کسی کو سونپتے ہی وہ کس قدر پرسکون ہوتے ابدی نیند سو گئے تھے۔۔۔
نہیںنننن۔۔۔ نہیںننن۔ جھوٹ بول رہے تو تم سب۔۔۔ بکواس ہے یہ۔۔۔ اٹھاو میرے بابا کو انہیں ہسپتال لے کر چلو۔۔۔ وہ دونوں ہاتھوں سے اپنے ارد گرد موجود ملازمیں کو پیچھے دھکیلتی اٹھی۔۔۔
اٹھیں صغراں اماں بابا کو ہسپتال لے کر جانا ہے۔۔۔ اسنے صغران اماں کو جھنجھوڑا وہ فاہا کی بات پر سر جھکاتی بین کرنے لگی۔۔۔
فاہا انہیں تاسف سے دیکھتی پیچھے ہٹی۔۔
رحمت چاچا آپ بابا کو لے کر باہر آئیں ہمیں ہسپتال چلنا ہے انہیں کچھ نہیں ہو گا۔۔۔
آپ سب سن کیوں نہیں رہے۔۔۔  آپ کو میری بات سمجھ نہیں آ رہی کیا۔۔۔۔۔ سب کو اپنے ماتھے پیتتے دیکھ وہ شدت سے چلائی۔۔۔ وہ دیوانوں کی مانند ادھر ادھر دیکھ رہی تھی کوئی اسکی بات نہیں سن رہا تھا۔۔۔
میں بابا سے شکایت کروں گی۔۔۔ انہیں ہوش میں آنے دیں میں بابا سے آپ سب کی شکایت کروں لگی۔۔۔ وہ روتے ہوئے انگلی اٹھا کر ان سب کو وارن کرتی باہر کو بھاگی۔۔۔ وہ سب مزید ڈھاریں مار مار کر رو دیئے۔۔۔
******
فاہا کمرے سے نکلتی اندھا دھند بھاگ رہی تھی۔۔۔ اسے اپنا جسم بے جان ہوتا محسوس ہو رہا تھا۔۔۔ جسم پر کپکپی طاری ہونے لگی تھی۔۔۔ اپنے کمرے کا دروازہ ڈھار سے کھولتی وہ گرتی پڑتی اندر داخل ہوئی ۔۔۔ اسنے سائیڈ ٹیبل سے جھپٹ کر موبائل اٹھایا۔۔۔ وہ کپکپاتے ہاتھوں سے تیزی سے نمبر ڈائل کر رہی تھی۔۔
دوسری طرف بیل جا رہی تھی۔۔۔
فاہا بے چینی سے فون اٹھائے جانے کی منتظر تھی۔۔۔
دوسری جانب مرتسم ابھی گھر لوٹا ہی تھا۔۔۔ اسنے کارپورچ میں آکر گاڑی روکی ۔۔۔ اس سے پہلے کے وہ دروازہ کھول کر باہر نکلتا اس کا فون بج اٹھا۔۔۔
فون ہر فاہا کا نمبر دیکھ کر وہ ٹھٹھکا۔۔
لمحے کی تاخیر کئے بنا اسنے فون اٹھا کر کان سے لگایا۔۔۔
ہیلو۔۔۔
ہیلو مرتسم۔۔۔ مرتسم میرے باباااا۔۔۔۔ ایئر پیس سے فاہا کی لرزتی کپکپاتی اندیشوں سے پر آواز سن کر اسکے قدموں تلے سے زمین کھسکی۔۔۔ گاڑی کے دروازہ کھولتے اسکے ہاتھ ٹھٹھکے۔۔۔
فاہا ۔۔۔ کیا ہوا چچا جان کو۔۔۔
مرتسم باباااا اٹھ نہیں رہے۔۔۔ سب پاگل ہو گئے ہیں۔۔ کوئی انہیں ہسپتال لے کر نہیں جا رہا۔۔۔ آپ آجائیں۔۔۔ پلیز آپ جلدی آ جائیں۔۔۔ میرے بابا۔۔ میرے بابا کو کچھ نہیں ہو گا۔۔۔ وہ اونچی آواز میں روتے کمرے سے نکلتی ٹوٹے پھوٹے الفاظ ادا کر رہی تھی۔۔۔ کمرے سے باہر نکلتے ہی چیخ و پکار اور بین کی آوازیں بڑھنے لگی تھیں۔۔۔
کوئی روکے ان سب کو۔۔۔ میرے بابا بے ہوش ہوگئے ہیں۔۔ یہ سب۔۔۔ سب پاگل ہیں۔۔۔ مجھے بھی کر دیں گے۔۔۔ مرتسم آپ جلدی آ جائیں کوئی میری بات نہیں سن رہا۔۔۔
فاہا کی حالت اسکے الفاظ اور اسکے پیچھے سے ابھرتی بین کی آوازیں سن کر مرتسم کو اپنی روح فنا ہوتی محسوس ہوئی۔۔ بہت کچھ غلط ہو جانے کی شدت سے دل نے گواہی دی تھی۔۔۔
وہ ایک مضبوط مرد ہو کر اس لمحے بکھر گیا تھا۔۔۔ فون کے دوسری جانب تو پھر باپ کی لاڈلی صنف نازک تھی۔۔۔ وہ اسکی حالت باخوبی سمجھ سکتا تھا۔۔۔۔
میں پہنچ رہا ہوں۔۔۔ اسکی اپنی آواز بھرا گئ اسنے یہ الفاظ کس قدر اذیت سے ادا کئے تھے یہ وہی جانتا تھا۔۔۔ آنکھوں کے آگے دھند کی دبیز تہہ جم گئ تھی۔۔۔۔۔
یہ غیر متوقع تھا۔۔  بالکل غیر متوقع۔۔۔
تو اس چیز کی جلدی تھی آپکو چچا جان۔۔ وہ گیلی سانس اندر کھینچتا سٹرینگ سے سر ٹکا گیا۔۔۔
پھر بجلی کی سی تیزی سے گاڑی کا دروازہ کھولتا اندر کی جانب بھاگا۔۔۔ آنکھیں شدت ضبط سے سرخ پڑنے لگیں تِھیں۔۔۔
اسنے آستیں سے نم آنکھیں رگڑیں۔۔۔
ماں۔۔۔ علایہ۔۔۔۔ لاوئنج میں کھڑا ہی وہ چلا کر گویا ہوا۔۔۔ آواز میں ایسی ڈھار تھی جو دل لرزا رہی تھی۔۔۔
ماں اور علایہ دل تھامے بھاگم بھاگ باہر نکلیں۔۔۔
جلدی چلیں۔۔۔ گاوں پہنچنا ہے۔۔ چچا جان نہیں رہے۔۔۔ اسکا شدت ضبط سے سرخ پڑتا چہرا اور بھیگا لہجہ اس ٹوٹ چکی قیامت کا گواہ تھا۔۔۔
کیااا۔۔۔
جلدی نکلیں آپ دونوں میں بابا سے رابطہ کرنے کی کوشیش کرتا ہوں۔۔۔ 
ہمیں فوراً وہاں پہنچنا ہے۔۔ فاہا وہاں اکیلی ہے اور اس وقت بہت بری حالت میں ہے۔۔۔
 علایہ کمرے سے اپنی چادر لینے بھاگی تو وہ موبائل پر بابا کا نمبر ڈائل کرتا باہر نکل آیا۔۔۔
اسے حویلی سے ملازمین کے فون آنے لگے تھے یقیناً وہ لوگ اسے یہ ہی خبر دینے کے لئے فون کر رہے تھے۔۔ وہ فون اٹھاتا گاڑی کی جانب بڑھا۔۔۔
*****
ماہرہ کچن میں فائز کے لئے کھانا بنا رہی تھی۔۔۔ فوری طور پر فلحال کچھ اور تو تھا نہیں اس لئے وہ آملیٹ بنا کر ساتھ تازہ چپاتیاں اتارنے لگی ۔۔۔۔ آملیٹ کا آمیزہ پین میں ڈال کر اسنے ہلکی آنچ پر رکھ کر اس پر ڈھکن دیا جبکہ دوسری طرف وہ چپاتی توے پر ڈال کر دوسری چپاتی بیل رہی تھی جب گم صم سی سونم کچن میں داخل ہوئی۔۔۔
ماہرہ کو کچن میں کام کرتا دیکھ وہ ایک پل کے لئے دروازے میں ٹھٹھکی ۔۔۔ دل چاہا وہیں سے واپس پلٹ جائے۔۔۔ لیکن پیاس شدت کی لگی تھی تبھی وہ سر جھکائے اندر داخل ہوئی اور کچن کی جانب بڑھی۔۔۔
ماہرہ اسے دیکھ کر لب بھینچ گئ۔۔۔ ایک پل کے لئے اپنا سخت رویہ یاد آیا تو اسے پشیمانی نے آ گھیرا۔۔۔
ایم سوری سونم۔۔۔ میں کچھ ہائپر ہو گئ تھی اور کچھ سمجھ نہیں آیا ۔۔۔۔میں تم اتنی روڈ ہوگئ۔۔۔
سونم گلاس کچن کاونٹر پر رکھے بوتل سے پانی اس میں انڈیل رہی تھی جب چپاتی سینکتی ماہرہ کی پشیمان سی آواز ابھری۔۔۔ 
سونم نے ایک سنجیدہ نگاہ سے اسے دیکھا۔۔۔ اسکی ضرورت نہیں ماہرہ۔۔۔ انفیکٹ ایم سوری۔۔۔ مجھے اندازہ نہیں تھا کے یہ گھر آپکا ہے۔۔۔ میں تو بس اینوی تجسس کے ہاتھوں پوچھ رہی تھی۔۔۔ سونم کا انداز بھی پشیمان تھا۔۔۔
چلو پھر ٹھیک ہے تم نے ایکسکیوز کر لیا میں نے کر لیا بات ختم۔۔۔ پلیز اب میری طرف سے دل صاف کر لو۔۔۔ دل میں کچھ مت رکھنا ۔۔۔ ماہرہ کے صلح جو انداز پر وہ مسکرا دی۔۔۔
اچھا ایک بات تو بتاو۔۔۔ ماہرہ ایک چپاتی اتار کر دوسری توے پر ڈالتی مصروف سے انداز میں گویا ہوئی۔۔۔
پلیز مجھے غلط مت سمجھنا۔۔ میرا مقصد تمہیں ہرٹ کرنا نہیں۔۔۔ بس جس طرح صبح تم تجسس کے ہاتھوں فائز سے میرے بارے میں پوچھ رہی تھی ویسے ہی  میں تم سے تجسس کے ہاتھوں پوچھ رہی ہوں۔۔۔ ماہرہ کے دفاعی انداز میں کہنے پر پانی کی بوتل فریج میں واپس رکھتے سونم کے ہاتھ ٹھٹھکے۔۔۔
جی پوچھییے۔۔۔ وہ وہیں کرسی گھسیٹ کر بیٹھتی گھونٹ گھونٹ پانی پینے لگی۔۔۔
تمہارے شوہر کا نام کیا ہے۔۔۔ اور وہ کہاں ہوتا ہے۔۔۔ اور تم اپنے شوہر کے ساتھ کیوں نہیں رہتی میرا مطلب۔۔۔
عین اسی وقت فائز پریشان سا لیب سے نکلا اور ماہرہ کے منہ سے یہ سب باتیں سن کر سر تھام کر رہ گیا۔۔۔
تجسس کا کونسا کیڑا تھا اس لڑکی میں۔۔۔ یہ سکون سے کیوں نہیں رہ سکتی تھی۔۔۔
سونم ہونق بنی اسے دیکھنے لگی تھی۔۔۔
میرے شوہر۔۔۔ وہ آہستگی سے گویا ہوئی۔۔۔
ہاں۔۔ تمہارا شوہر ۔۔ شادی شدہ ہو نا تم۔۔۔۔
میرے شوہر تو۔۔۔۔
آنننن۔۔۔ماہرہ۔۔۔
اس سے پہلے کے سونم کچھ بولتی وہ بعجلت مداخلت کرتا کچن کی جانب بڑھا۔۔ ماہرہ نے چونک کر اسکی جانب دیکھا۔۔
کیا تم پلیز میرے کپڑے پریس کر دو گئ۔۔۔ مجھے ابھی نکلنا ہے۔۔۔ دراصل مرتسم کے چچا کی وفات ہوگئ ہے مجھے اور وہاج کو گاوں کے لئے نکلنا ہے۔۔۔ وہ پریشانی سے ماتھا مسلتا بعجلت گویا ہوا۔۔۔
ماہرہ نے حیرانگی سے اسے دیکھا۔۔۔
آج تک ایسا کبھی نہیں ہوا تھا کے فائز علوی نے سوائے کھانے کے اسے اپنا کوئی پرسنل کام کہا ہو۔۔۔ اپنے سبھی کام وہ خود ہی کرتا تھا۔۔۔ اب بھی شاید وہ عجلت میں اس موضوع کو کور کرنے کی خاطر اس سے کہہ گیا تھا۔۔۔
ماہرہ کو اسکے یوں کام کہنے پر خوشی ہوئی۔۔۔
شیور کیوں نہیں۔۔۔۔ اور کیا ہوا مرتسم کے چچا کو۔۔۔ بیمار تھے کیا۔۔۔ وہ آملیٹ پلیٹ میں نکالتی گویا ہوئی۔۔۔
ہممم۔۔۔ پلیز زرا جلدی کرنا۔۔ وہاج آ رہا ہے مجھے لینے۔۔۔
اوکے ۔۔۔ کھانا تیار ہے تم تب تک یہ کھاو میں تمہارے کپڑے پریس کرتی ہوں۔۔۔ اسنے ٹرے میں آملیٹ کی پلیٹ چپاتیاں اور پانی کا گلاس رکھا۔۔۔
تھینک یو۔۔۔ فائز نے آگے بڑھتے ٹرے تھامی ۔۔۔ ماہرہ کے وہاں سے نکلتے ہی وہ گہری سانس خارج کر کے رہ گیا۔۔۔
سونم حیرت سے ان دونوں کو دیکھ رہی تھی۔۔۔
سنو سونم۔۔۔ وہ اسے حیرت سے اپنی جانب دیکھتا پا کر اسکی جانب متوجہ ہوا۔۔۔ اسنے ایک چور نگاہ کمرے کی جانب دیکھ کر ماہرہ کے اندر چلے جانے کی تصدیق کی اور گویا ہوا۔۔۔
فلحال ماہرہ تو کیا کسی کو بھی اس بارے میں کچھ بتانے کی ضرورت نہیں۔۔۔ تم سمجھ رہی ہو نا میری بات۔۔۔ صحیح وقت آنے پر میں خود سب کچھ مینج کر لوں گا۔۔۔ فائز کے تنبیہا کہنے پر سونم سر ہاں میں ہلا گئ۔۔۔
اور ابھی میں جا رہا ہوں تو اگر میرے پیچھے سے ماہرہ دوبارہ اس بارے میں کچھ پوچھے تو اسے ہینڈل کر لینا لیکن اسے حقیقت کسی صورت مت بتانا۔۔۔ اوکے۔۔۔
جی۔۔۔ فائز کے سمجھانے پر وہ سر ہاں میں ہلا گئ۔۔۔
فکر مت کرو سونم۔۔۔ انشااللہ سب ٹھیک ہو جائے گا۔۔۔ وہ اسے تسلی دیتا باہر نکل گیا جبکہ ایک آنسو سونم کی آنکھ سے ٹوٹ کر گرا۔۔۔
******
 فاہا پر بار بار غشی طاری ہو رہی تھی۔۔۔ وہ تڑپتی بلکتی پوری حویلی میں گھومتی سب کی منتیں کر رہی تھی کے اسکے باپ کو کچھ نہیں ہوا اسے ہسپتال لے کر جایا جائے وہ بالکل ٹھیک ہو جائیں گے۔۔۔ رفتہ رفتہ حویلی میں گاوں والوں کا رش بڑھنے لگا تو فاہا پر وحشت سوار ہونے لگی۔۔۔ وہاں بین اور سکیوں کو سن کر وہ ہوش کھوتی تیورا کر گر پڑی۔۔۔
ملازمین کے پانی کے چھینتے مارنے پر وہ ہوش میں آتی تو پھر سے متوحش متلاشی نگاہیں مرتسم کو ڈھنونڈنے لگتیں۔۔۔ وہ ابھی تک نہیں پہنچا تھا اور فاہا کی ساری امیدیں اب اسی سے وابسطہ تھیں۔۔ وہ بس جلدی سے پہنچ جائے۔۔۔ وہ پہنچے گا تو سب ٹھیک کر دے گا۔۔۔ اسکے بابا بالکل ٹھیک ہو جائیں گے۔۔ 
جس وقت تائی جان اور علایہ کے سنگ مرتسم وہاں داخل ہوا وہ عورتوں کے ہجوم کو چیرتی ہوئی اسکی جانب بڑھی۔۔۔ مرتسم۔۔۔ مرتسم میرے بابا۔۔ بابا کو ہسپتال لے کر چلیں ۔۔۔ کوئی انہیں ہسپتال لے کر نہیں جا رہا۔۔۔ انہیں کچھ نہیں ہوا۔۔۔ ہچکیوں کے باعث اسکا جسم ہچکولے کھا رہا تھا۔۔۔ آنکھین شدت گریہ سے لال انگارہ ہوئی پڑئی تھیں۔۔۔ آنسو چہرا تر کرنے کے بعد گردن بھی بھگونے لگے تھے۔۔۔ تنفس پھول رہا تھا۔۔۔ اس وقت وہ اپنے بس میں ہی نا لگ رہی تھی۔۔۔ مرتسم نے لب بھینچتے اسکے سر پر ہاتھ رکھا۔۔۔
تائی جان نے تڑپ کر اسے خود میں بھینچا۔۔۔ عزیز از جان کزن کی یہ حالت دیکھ کر علایہ بھی بلک اٹھی۔۔
فاہا نے تڑپ کر تائی جان کا حصار توڑ۔۔
بابا کو ہسپتال لے کر چلیں مرتسم۔۔۔ آپ یوں نہیں کرسکتے میں تب سے آپکا انتظار کر رہی تھی۔۔۔ 
وہ دیوانہ وار مرتسم کی جانب بڑھتی اسے جھنجھوڑ گئ۔۔۔
مرتسم نے انگوٹھے اور انگلی کی مدد سے آنکھیں مسلتے سر ہاں میں ہلایا۔۔۔
اگر اسکی تسلی یوں ہونی تھی اسے یوں ہی قرار آنا تھا تو یوں ہی سہی۔۔۔۔۔
اسنے فون کر کے ڈاکٹر ہی وہیں بلا لیا۔۔۔۔
فاہا ہاتھ مسلتی پر امید نگاہیں ڈاکٹر پر ٹکائے ہوئے تھی۔۔۔ لیکن جس وقت ڈاکٹر نے چیک آپ کے بعد بابا کی دیٹھ کی تصدیق کی فاہا وہیں ہوش و حواس سے بیگانہ ہوتی جھول گئ۔۔۔
*****.
حویلی پر ایک قیامت ٹوٹی تھی۔۔۔ سلمان لودھی بھی بھائی کی ناگہانی وفات کا سن کر ہر کام پس پشت ڈالے ڈورے چلے آئے تھے۔۔۔ انکا نمبر نہیں لگ رہا تھا مرتسم نے انہیں پے در پے کئ ای میلز کر ڈالی تھیں۔۔۔ اور اس خبر سے اگاہ ہوتے ہی وہ پہلی فرصت میں حویلی پہنچے تھے۔۔۔ فاہا مسلسل بے ہوش تھی۔۔۔ ایک ہاتھ پر ڈرپ چڑھا رکھی تھی۔۔۔ بے ہوش تھی یا اسکی حالت کے پیش نظر دوائیوں کے باعث غنودگی میں تھی۔۔۔۔
فائز اور وہاج بھی بروقت وہاں پہنچ گئے تھے۔۔۔ وقت رخصت حویلی میں کہرام مچ گیا تھا۔۔۔ گاوں کا ہر ایک شخص اس موت پر نوحہ کناں تھا۔۔۔ وہ ایک بہتریں شخص تھے جنہوں نے ہمیشہ اپنے مفاد پر لوگوں کے مفاد کو ترجیح دی تھی۔۔۔ یہ ہی وجہ تھی کے اس وقت ہر آنکھ اپنے اس ناقابل تلافی نقصان پر آشکبار تھی۔۔
جس وقت فاہا کو ہوش آیا اسکے جان سے پیارے باپ کو لیجایا جا رہا تھا۔۔۔ اسنے چیخ چیخ کر آسمان سر پر اٹھا لیا۔۔۔ ڈراپ ہاتھ سے نوچ پھینکی۔۔ وہ ایک صابر بچی تھی لیکن آج گویا وہ ضبط کا ہر دامن کھو گئ تھی۔۔۔ اسکی حالت کے پیش نظر اسے ایک بار پھر سے انجکشن کی مدد سے سلا دیا گیا تھا۔۔۔
******

No comments

Powered by Blogger.
4