Header Ads

Roshan Sitara novel 51st Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels


 

Roshan Sitara novel  51st Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels 

Roshan Sitara is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels

Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front 

of the world and improve their abilities in that field.

 Roshan Sitara  Novel by Umme Hania | Roshan Sitara  novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Roshan Sitara  novel by Umme Hania Complete PDF download

Online Reading

 ناول "روشن ستارا"۔

  مصنفہ "ام ہانیہ"۔

Official pg : Umme Hania official

51st epi...
 باہر سے اندھا دھند بھاگتی آتی فاہا نے کمرے میں آ کر ہی دم لیا۔۔۔ کمرے میں داخل ہوتے ہی اسنے بعجلت کمرے کا دروازہ بند کیا اور دروازے سے ٹیک لگاتے گہرے گہرے سانس بھرنے لگی۔۔۔
وہ شاک کی سی کیفیت میں کھڑی تھی۔۔۔ دائیاں ہاتھ کھلے منہ پر سختی سے جما تھا جبکہ آنکھیں حیرت و شاک سے کھلی پڑی تھیں۔۔۔
وہ تو سب کے کمرے سے نکل جانے کے بعد کمرے سے نکلی تھی وہ کہاں جانتی تھی کے مرتسم اور اسکے دوست باہر راہداری میں ہی کھڑے ہونگے۔۔۔
وہ تو کسی کی نظروں میں آئے بنا اپنے کمرے میں آ کر دل ہلکا کرنا چاہتی تھی۔۔۔ اور یہاں وہ خود ہی سب کی نظروں میں آگئ تھی۔۔۔
پشیمانی سی پشیمانی تھی۔۔۔ کیا سوچ رہے ہونگے مرتسم کے دوست۔۔۔ اور خود مرتسم بھی۔۔۔ اسے بے چینی لاحق ہوئی اسنے پشیمانی سے انکھیں سختی سے میچیں۔۔۔
اللہ۔۔۔ سارے بلنڈرز آج ہی ہونے تھے کیا۔۔۔
بابا کے کمرے سے نکلتے ہی سامنے مرتسم کو غیر متوقع دیکھ کر بوکھلائی تھی۔۔ قدم ڈگمگا گئے تھے وہ نکاح کے بعد اتنی جلدی اس سے سامنا نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔۔ وہ وہیں سے واپس پلٹ جانا  چاہتی تھی۔۔۔  لیکن اب یوں انہی قدموں پر بابا کے کمرے میں بھی واپس جانا محض حماقت تھا ۔۔۔ وہ الگ مزید پریشان ہو جاتے۔۔۔۔تبھی وہ کمال جرات کا مظاہرہ کرتی انہیں نظر انداز کر کے سرپٹ بھاگی ۔۔۔۔ وہ ابھی تک اسکی حیرت بھری نگاہیں خود پر محسوس کر سکتی تھی۔۔۔
یا خدا۔۔۔۔ وہ ماتھا مسلتی بے چین سی بستر پر آ کر ڈھیر ہوئی۔۔۔
وہ انہی سوچوں میں غلطاں تھی جب دروازے پر دستک ہوئی۔۔۔
وہ چونک کر سیدھی ہو بیٹھی۔۔۔ ناجانے کون تھا۔۔۔ وہ بجلی کی سی تیزی سے اٹھ کر ڈریسنگ کے سامنے آئی۔۔۔ انسووں کی بدولت گیلا نم چہرا رگڑ  کر صاف کیا۔۔۔ رگڑنے سے چہرا مزید سرخ ہو گیا۔۔۔  آنکھیں سوگوار ہو کر مزید دوآتشہ ہو گئیں تھیں۔۔
ہاتھوں سے بال سنوار کر اسنے آنچل درست کیا تب تک دوسری دفعہ دستک ہو چکی تھی۔۔۔
اسنے لپک کر دروازہ کھولا۔۔۔
اور دروازہ کھولتے ہی دل دھک سے رہ گیا۔۔۔ سامنے مرتسم لودھی کھڑا تھا۔۔۔ 
ہاتھ پشت پر باندھے قدم قدم اندر بڑھتا۔۔۔
فاہا کی آنکھیں خودبخود جھکتی چلی گئیں۔۔۔
اسنے پیچھے ہٹ کر اسے راستہ دیا۔۔۔وہ اتنی جلدی اسکی اپنے کمرے میں آمد کی توقع نہیں رکھتی تھی۔۔۔  وہ پہلی مرتبہ یوں اسکے کمرے میں نہیں آیا تھا نا ہی وہ اس سے پہلی مرتبہ بات کر رہا تھا۔۔۔ اس کے باوجود شاید یہ نئے جڑ چکے رشتے کا احساس تھا جو وہ نظریں تک نا اٹھا پا رہی تھی۔۔۔ ورنہ تو وہ اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بھی بحث پر اترتی رہی تھی۔۔۔ اب تو جیسے سب ہی الٹ ہو گیا تھا۔۔۔
دل الگ ہی جیسے سینے کی دیواریں توڑ کی باہر آنے کے در پر تھا۔۔۔۔
میں واپسی کے لئے نکل رہا ہوں فاہا۔۔۔ کمرے میں اسکی گھمبیر آواز ابھری۔۔۔ چچا جان سے ملنے ہی آیا تھا ۔۔۔ کچھ کام ہیں پیچھے جن کی بنا پر میں فلحال انکے پاس مزید نہیں رک سکتا۔۔۔ انکی سرجری سے پہلے ایک دو روز تک میں واپس آ جاوں گا۔۔۔۔ تمہیں اس بارے میں ٹینشن لینے کی ضرورت نہیں۔۔۔ سرجری کے وقت میں اور بابا دونوں چچا جان کے ساتھ ہی ہونگے۔۔۔ وہ اس وقت دوائی کھا کر سو رہے ہیں۔۔۔ اس بیچ میں کہیں پر بھی میری ضرورت محسوس ہو تو تم مجھے فون کر سکتی ہو۔۔۔
وہ حسب معمول ذمہ دارانہ انداز میں بول رہا تھا جو اپنے رشتوں کو لے کر اسکی ذات کا خاصا تھا۔۔۔
ےوہ سر ہاں میں ہلا کر رہ گئ۔۔۔ مرتسم ایک نظر اس دیکھ کر واپس پلٹ گیا۔۔۔ جب دروازے سے نکلتا نکلتا  رک کر پلٹا۔۔۔ فاہا کی جیسے سانس وہیں اٹک گئ۔۔۔ 
یہ رشتہ جتنا تمہارے لئے اچانک اور غیر متوقع ہے اتنا ہی میرے لئے بھی ہے۔۔۔ لیکن بعض دفعہ اپنے جان سے پیارے رشتوں کے لئے ان غیر متوقع چیزوں پر بھی مسکرا کر رضا مندی دی جاتی ہے تاکے آپکے عمل سے وہ پرسکون  محسوس کر سکیں۔۔۔ امید ہے کہ تم میری بات سمجھ چکی ہوگئ۔۔۔ وہ جاتے جاتے بھی ہمیشہ کی طرح اسکے آنسووں پر چوٹ کرتا اسے بہت کچھ سمجھا گیا تھا۔۔۔اسکے جاتے ہی وہ آنکھیں بند کر کے گہرے گہرے سانس لیتی بستر پر ڈھے گی۔۔۔ 
وہ ویسا ہی تھا کمپوزڈ۔۔ اپنے رشتوں سے مخلص۔۔۔ اسی کھرے انداز میں بات کرتا ہوا۔۔۔ اندر کی دنیا تو اسکی تہہ و بالا ہوگئ تھی
*****
فائز کے گھر واپس لوٹنے تک رات اتر آئی تھی۔۔۔ وہ گھر میں داخل ہوا تو خاموشی نے اسکا استقبال کیا۔۔ سونم حسب معمول عشا کی نماز کے بعد بالکنی میں بیٹھی قرآن پاک کی تلاوت کر رہی تھی جبکہ ماہرہ غالباً اپنے کمرے میں تھی۔۔۔ فائز علوی فریش ہو کر سیدھا کچن میں ہی آیا۔۔۔ کچھ دیر بعد وہ ہاتھ میں  ٹرے تھامے ماہرہ کے کمرے میں داخل ہوا۔۔۔ وہ ڈھیلے سے ٹراوزر پر کھلی سی شرٹ پہنے صوفے پر بیٹھی لیپ ٹاپ پر کوئی فائل بنا رہی تھی۔۔۔بالوں کا گول مول سا رف سا جوڑا بنا رکھا تھا۔۔۔ دروازہ کھلنے کی آواز پر اسنے ایک نظر سر اٹھا کر فائز کو دیکھا اور واپس اپنے کام میں مشغول ہوگئ۔ ۔ فائز نے کافی والی ٹرے وہیں اسکے پاس میز پر رکھی اور اسکے ساتھ ہی بیٹھ گیا۔۔۔
ابھی تک ناراض ہو۔۔۔ وہ ٹانگ پر ٹانگ جمائے۔۔۔ صوفے کی پشت پر کہنی رکھے اسکی جانب رخ کئے بیٹھا تھا۔۔۔ وہ ہنوز اسے نظر انداز کئے اپنے کام میں مشغول تھی۔۔۔
یاررر۔۔۔ شوہر سے کون اتنی لمبی ناراضگی رکھتا ہے۔۔۔ اسنے ہاتھ بڑھاتے ماہرہ کا لیپ ٹاپ کی کیز پر متحرک  دودھیا ہاتھ تھاما۔۔۔۔  
تمہیں میری ناراضگی کی پرواہ ہے فائز علوی۔۔۔ وہ جیسے ہارنے لگی تھی۔۔۔ فائز کی اتنی سی پیش قدمی ہی اسے پچھلہ سب بھلانے لگتی تھی۔۔۔ 
اگر تمہاری ناراضگی کی پرواہ نا ہوتی تو اس وقت یہاں تمہارے پاس بیٹھا کیا کر رہا ہوتا۔۔  وہ اسے نرم نگاہوں سے تکتا مسلسل اسکا ہاتھ سہلا رہا تھا۔۔۔تمہاری ناراضگی تو بہت خطرناک ہے یار۔۔۔ اپنے ہوش تک بھلا دیتی ہے۔۔۔ اور کھانے پینے کا تو ہوش رہتا ہی نہیں۔۔۔ وہ ہاتھ کی گول مٹھی بنائے گال تلے رکھتا اسے شوخ نگاہوں سے دیکھتا گویا ہوا۔۔۔
سیریسلی۔۔۔ اور میں جو اتنے دنوں سے اذیت میں ہوں۔۔۔ اسکا کیا۔۔۔ اسکی آنکھیں بھرانے کیساتھ ساتھ آواز بھی بھرا آئی۔۔۔۔
تبھی تو کہہ رہا ہوں۔۔۔ ختم کرو ناراضگی۔۔۔ چلو صلح کرتے ہیں۔۔۔ فائز کا انداز دوستانہ تھا۔۔۔ وہ نم آنکھوں سےا سے دیکھتی رہی۔۔۔
تمہیں پتہ ہے فائز میں زیادہ دیر تک تم سے اپنے دل کا حال نہیں چھپا سکتی۔۔۔ شوہر سے پہلے تم میرے کزن اور بیسٹ فرینڈ ہو۔۔۔ جب تک اپنا دل کھول کر تمہارے سامنے نا رکھ دوں مجھے سکوں نہیں آتا۔۔۔ گیلی سانس اندر کھینچتی وہ چہرا جھکا گئ۔۔۔
تو کہو نا یار۔۔۔ جو کہنا ہے۔۔۔ میں تو منتظر بیٹھا ہوں۔۔۔
سونم کو تمہارے ساتھ دیکھ کر مجھے تکلیف ہوتی ہے۔۔۔ وہ سارا سارا دن لیب میں تمہارے ساتھ ہوتی ہے اور۔۔۔
شک کر رہی ہو مجھ پر۔۔۔ فائز کے بے ساختہ ٹوکنے پر وہ خاموشی سے اسے دیکھنے لگی۔۔۔
تم پر شک نہیں کر سکتی فائز۔۔۔ لیکن رقابت کا احساس جنم لے رہا ہے مجھ میں۔۔۔ ضروری نہیں جو شوہر یا بیوی ایک دوسرے پر روک ٹوک کرے یا پابندیاں عائد کریں وہ شکی ہی ہو۔۔۔ انسان اپنی چیز کے بارے میں بہت پوزیسیو ہو جاتا ہے۔۔۔
ایک پل کے لئے۔۔ صرف ایک پل کے لئے۔۔۔ وہ چہرے پر پھسلے بال دونوں ہاتھوں سے کانوں کے پیچھے اڑستی رخ اسکی جانب موڑ گئ۔۔۔
تم یہ تصور کرو کے تمہاری جگہ میں ہوں جو ایک نامحرم شخص کے ساتھ پورا پورا دن تنہائی میں۔۔۔
سٹاپ اٹ ماہرہ۔۔۔ ہلیز سٹاپ اٹ۔۔۔ 
وہ اسکی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی ہاتھ اٹھا کر قطعیت سے بات کاٹتا سیدھا ہو کر بیٹھا۔۔۔ 
وہ دونوں گھٹنوں پر کہنیاں ٹکائے ہاتھ باہم پیوست کئے آنکھیں بند کر کے گہرے گہرے سانس لیتا خود کو کمپوز کر رہا تھا۔۔۔
کیا ہوا۔۔۔ ہوئی تکلیف۔۔۔ کسی نے اندر سے دل آری سے کاٹا۔۔۔ وہ طنزیہ مسکرائی۔۔۔
محسوس کرو اس تکلیف کو فائز علوی۔۔۔ میں روز اس اذیت سے گزرتی ہوں۔۔ 
تمہارے خیال میں میں کیا کرتا ہوں اسکے ساتھ سارا سارا دن لیب میں۔۔۔ 
فائز نے ضبط کی کوشیشوں میں ہلکان اپنی سرخ آنکھیں اٹھا کر اسے دیکھا۔۔۔
یہ تو تم ہی بتا سکتے ہو۔۔۔ وہ بھی اسے ہی دیکھ رہی تھی۔۔۔
فائز لبوں پر زبان پھیرتا چہرا موڑ گیا۔۔۔
وہ اس پڑاجیکٹ میں میری ہیلپ کردیتی ہے۔۔۔ میرا کام زرا سہل۔۔۔
فائز اسکے آنے سے پہلے بھی تمہارا کام چل ہی رہا تھا۔۔۔ وہ اسے ٹوک گئ۔۔۔
فائز گہری سانس خارج کر کے رہ گیا۔۔۔
ٹھیک ہے دوبارہ وہ تمہیں لیب میں دکھائی نہیں دے گی۔۔۔
میں واقعی سنجیدگی سے سوچ رہی تھی کے کچھ دن مام کی طرف رہ آوں۔۔۔ واقعی اس ماحول میں فیڈ آپ ہوگئ ہوں۔۔۔ اور پھر تم بھی تو یہ ہی چاہتے تھے نا۔۔۔ وہ اتنی جلدی اسے بخشنے کی موڈ میں کہاں تھی۔۔۔ اب پرانے کھاتے کھلے تھے تو سارے حساب ہی بے باک ہونے چاہیے تھے نا۔۔۔  اور اندر آگ بھی تو اسی ایک بات نے لگائی تھی کے وہ اسے گھر سے جانے کو بول رہا تھا۔۔۔
میری اس بات کو لے کر وہ اٹینش ہرگز نہیں تھی ماہرہ جو تم سمجھی ہو۔۔۔ میں صرف تمہارے احساس کے لئے کہہ رہا تھا کے تم اس ماحول میں فیڈ آپ ہو چکی ہو تو کچھ دن۔۔۔
تو یقیناً پھر تم میرے جانے کے بعد ایک نامحرم لڑکی کے ساتھ تنہا تو ہرگز نہیں رہتے رائٹ۔۔۔۔ وہ اسکے بات مکمل کرنے سے پہلے ہی اگلا پوائنٹ رکھ چکی تھی۔۔۔
فائز ماتھا مسل کر رہ گیا۔۔۔
اسے آج دنیا میں سب سے سخت اور کڑی عدالت بیوی کی عدالت ہی لگ رہی تھی۔۔۔
ظاہر سی بات ہے یار۔۔۔ وہ بدقت گویا ہوا۔۔
   تو اسے اس وقت تم کہاں شفٹ کرتے فائز۔۔۔ تم تھوڑی سے مہربانی کرکے اسے میری موجودگی میں ہی وہیں شفٹ کر دو۔۔۔ میری جان کو بھی تھوڑی سہولت ہو جائے گی۔۔۔ وہ اسے جانچتی نگاہوں سے دیکھتے مسکراتے ہوئے پورا رخ اسکی جانب کر گئ۔۔۔
فائز ہاتھ کی مٹھی ماتھے پر مار کر رہ گیا۔۔۔۔
اسے کیسے کہیں اور شفٹ کرتا یار۔۔  خود ہی مرتسم کی جانب چلا جاتا۔۔۔
اللہ اللہ۔۔۔ فائز علوی تم کیا چیز ہو۔۔۔ ماہرہ حیرت سے سر دونوں ہاتھوں میں تھام گئ۔۔
ویسےایک بات بولوں ۔۔۔ میرے پاس اس مسلے کا ایک حل ہے۔۔ وہ اچانک سر اٹھاتی اسکی جانب دیکھتی گویا ہوئی۔۔۔
ہمممم۔۔۔ فائز صوفے کی پشت سے سر ٹکاتا اسے دیکھنے لگا نجانے وہ اب کیا انکشاف کرنے والی تھی۔۔۔
کیوں نا ہم کہیں رشتہ دیکھ کر سونم کی شادی۔۔۔ 
For God sake mahira...
 وہ بے چینی سے اٹھتا اسے شدت سے ٹوک گیا۔۔۔
کیا ہوا۔۔۔ کیا اس میں بھی کوئی قباحت ہے۔۔۔ اسنے حیرت سے فائز کو دیکھا جو پشت پر ہاتھ باندھے کمرے میں چکر کاٹتا گویا ضبط کے مراحل سے گزر رہا تھا۔۔۔
ماہرہ وہ شادی شدہ ہے۔۔۔ اسکی آواز پست تھی۔۔۔
کیا۔۔۔۔ ماہرہ شاک سی سیدھی ہو بیٹھی۔۔۔ تو پھر مسلہ کیا ہے۔۔۔ کہاں ہے اسکا شوہر۔۔۔ بلاو اسکے شوہر کو اور سونم کو اسکے سنگ رخصت کرو۔۔۔ ماہرہ کی حیرانگی دیدنی تھی ۔ 
ایسا ہی کروں گا۔۔۔ فائز نے بے چینی سے ماتھا مسلہ۔۔۔
کب۔۔۔۔
جلد ہی۔۔۔ اور پلیز اب اس بات کو لے کر پھر سے جھگڑا مت شروع کرنا۔۔۔ اتنی مشکل سے تو ہماری صلح ہوئی ہے۔۔۔ پلیز اب کچھ کھلا دو میں صبح سے بھوکا ہوں۔۔ وہ بے چارگی سے کہتا اسکے سامنے آن کھڑا ہوا۔۔۔ مقصد صاف ماہرہ کا ذہن اس ٹاپک سے ہٹانا تھا۔۔۔
اوہ۔۔۔ تم بیٹھو میں ابھی تمہارے لئے کچھ بنا کر لاتی ہوں۔۔۔ وہ ماتھے پر ہاتھ مارتی جھٹ سے اٹھ کھڑی ہوئی ۔۔ جبکہ فائز اسکے جانے کے بعد گہری سانس خارج کرتا صوفے پر دھپ سے بیٹھا۔۔۔
کیا تفتیشی بیوی ملی ہے۔۔ وہ بڑبڑا کر رہ گیا۔۔۔
*****
کیا ہوا پریہا بیٹا اتنی اداس کیوں ہو۔۔۔۔
وہ ٹانگ پر ٹانگ جمائے صوفے کی پشت سے ٹک لگائے مضحمل سی بیٹھی تھی۔۔۔
وہ سیاہ جینز پر سفید اور سیاہ امتزاج کی ڈھیلی سی سلیو لیس شرٹ زیب تن کئے ہوئے تھی۔۔۔ بال نیچے سے کرل کر کے پشت پر کھلے چھوڑ رکھے تھے جبکہ کچھ بال دائیں شانے پر موجود تھے
کانوں میں ہیرے کے چھوٹے چھوٹے ٹاپس تھے جبکہ کلائی پر رسٹ واچ پہن رکھی۔۔۔ چہرے پر نفاست سے میک آپ کیا تھا۔۔۔ وہ خوبصورت تھی یا اسے خود کو خوبصورت بنائے رکھنے کا فن آتا تھا۔۔
خالہ۔۔۔ میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے آپکے پاس آنا چاہتی ہوں۔۔ وہ کشن اٹھا کر گود میں رکھتی سیدھی ہوئی۔۔۔
ناہید بیگم مسکرا دی۔۔۔ 
پلیز آپ مرتسم سے شادی کی بات کریں نا۔۔۔ 
فکر مت کرو بیٹا تم شادی کی تیاریاں شروع کرو بہت جلد تم میری بہو کے روپ میں میرے پاس ہوگئ۔۔۔
ناہید بیگم کے تسلی دینے پر وہ چہک اٹھی۔۔۔
سچ خالہ۔۔۔ لیکن مرتسم۔۔۔ یکدم ہی وہ اداس ہوئی۔۔۔
ارے مرتسم کی فکر تم مت کرو پریہا۔۔۔ ماوں کے پاس بیٹوں کو راضی کرنے کے سو طریقے ہوتے ہیں۔۔۔ وہ میرا بیٹا ہے اور اسے کس طرح سے ایموشنل بلیک میل کر کے اس بات کے لئے قائل کرنا ہے میں باخوبی جانتی ہوں۔۔۔۔
وہ تم سے ہی شادی کرے گا اور بہت جلد کرے گا اس بات کی گارنٹی میں لیتی ہوں۔۔۔ ناہید بیگم اطمینان سے گویا ہوئیں۔۔۔
پھر بھی۔۔۔ آپ اسے  راضی کیسے کریں گی۔۔۔ پریہا متجسس سی اٹھ کر انکے پاس بیڈ پر آئی۔۔۔
یہ میرا مسلہ ہے پری۔۔۔ مجھے میرا بیٹا بہت عزیز ہے اور مجھے امید ہے کے تم دونوں ایک دوسرے کے سنگ بہت خوش رہو گئے۔۔۔ انہوں نے مسکرا کر پریہا کا چہرا تھپتھپایا۔۔۔
تو پھر میں جا کر یہ خوشخبری مام کو دوں۔۔۔ وہ ایکسائٹڈ سی اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔
ہاں ہاں کیوں نہیں۔۔۔
اور مجھے شاپنگ کے لئے بھی جانا ہے۔۔ لیکن خالہ میں شادی اور ریسیپشن کا جوڑا مرتسم کے ساتھ ہی جا کر لاوں گی۔۔۔
جاتی جاتی یاد آنے پر پلٹی۔۔۔
کیوں نہیں بیٹا۔۔  بالکل۔۔۔ وہ نالائق تمہیں خود اپنے ساتھ لے کر جائے گا۔۔۔
اوہ تھینک یو تھینک یو تھینک یو سو مچ خالہ جانی۔۔ آپ دنیا کی بیسٹ خالہ جانی ہو۔۔
وہ مسکراتی ہوئی خالہ تک آئی اور ان پر جھک کر انہیں شدت سے گلے سے لگا کر انکے چہرے کا بوسہ لے گی۔۔
ناہید بیگم مسکرا کر رہ گئ۔۔۔ ہمیشہ ایسے ہی خوش رہو۔۔۔
پریہا کے جانے کے بعد ناہید بیگم اپنے ہی خیالوں میں کھو چکی تھیں ابھی انہیں اپنے اتھرے ہوئے بیٹے کو نکیل ڈالنی تھی جو شادی جیسے موضوع کی طرف آتا ہی نا تھا۔۔۔ اسی کے بارے میں سوچتے انکے چہرے پر ایک مسکراہٹ ابھری۔۔۔ وہ جانتی تھیں انہیں کیا کرنا ہے۔۔۔
******

No comments

Powered by Blogger.
4