Header Ads

Roshan Sitara novel 50th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels


 

Roshan Sitara novel  50th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels 

Roshan Sitara is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels

Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front 

of the world and improve their abilities in that field.

 Roshan Sitara  Novel by Umme Hania | Roshan Sitara  novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Roshan Sitara  novel by Umme Hania Complete PDF download

Online Reading

 ناول "روشن ستارا"۔

  مصنفہ "ام ہانیہ"۔

Official pg : Umme Hania official

پچاسویں قسط۔۔۔۔
اتنے پریشان کیوں ہو فائز۔۔۔ گاڑی روڈ پر فراٹے بھرتی جا رہی۔۔۔ وہاج خانزادہ گاڑی ڈرائیو کر رہا تھا جبکہ فائز علوی پیسنجر سیٹ پر گم صم سے انداز میں بیٹھا باہر بھاگتی دوڑتی زندگی کو دیکھ رہا تھا۔۔۔
پتہ نہیں یار۔۔۔ یوں محسوس ہو رہا ہے جیسے سب کچھ سمبھالنے کی کوشیش میں سب ہاتھ سے سوکھی ریت کی مانند پھسلتا جا رہا ہے۔۔۔
اسنے بے بسی سے ہاتھ پھیلاتے اپنے ہاتھوں کو دیکھا۔۔۔
ہوا کیا ہے۔۔۔ وہاج کو کچھ کھٹکا۔۔۔
ہونا کیا ہے یار۔۔۔ ماہرہ سونم کی اپارٹمنٹ میں موجودگی برداشت نہیں کر پارہی۔۔۔ اور اب تو سونم بھی ماہرہ کے بارے میں سوال کرنے لگی ہے۔۔۔ اسنے تھک کر آنکھیں میچتے سر سیٹ کی پشت سے لگایا۔۔۔
تم دونوں کو اعتماد میں کیوں نہیں لے لیتے فائز۔۔۔ وہاج کے چہرے پر  پریشانی کے اثرات ابھرے۔۔۔
نہیں لے سکتا یار۔۔ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔۔۔ وہ لبوں پر زبان پھیرتا سیدھا ہوا۔۔۔ سونم کو تو کسی صورت میں کچھ پتہ نہیں لگنے دے سکتا۔۔۔
تو پھر کم از کم ماہرہ کو تو اعتماد میں لے لو۔۔۔۔
اسے بھی نہیں وہاج۔۔۔ وہ حد سے زیادہ جذباتی لڑکی ہے۔۔۔ وہ بے چین دکھائی دینے لگا تھا۔۔۔
وہ تم سے ۔۔۔ محبتتت ۔۔  کرتی ہے۔۔۔ وہاج لفظ چبا چبا کر گویا ہوا۔۔۔
اور اسکی یہ ہی محبت مجھے لے ڈوبے گی۔۔۔ کوئی اگر اسے گن پوائنٹ پر کہے گا نا کے منہ کھولو ورنہ وہ فائز علوی کو شوٹ کر دے گا تو یوں۔۔۔ فائز نے جذباتیت سے کہتے چٹکی بجائی۔۔۔ یوں طوطے کی طرح اسکی زبان کھلے گی اور وہ ساری سچائی بیان کرتی چلے جائے گی۔۔۔ مجھے اسکی محبت پر کوئی شبہ نہیں۔۔۔ اور جہاں بات اسی محبت کی آ جائے تو وہ ہر نفع و نقصان سے بالاتر ہوجاتی ہے۔۔۔۔ یاررررر
میں کسی صورت رسک نہیں لے سکتا۔۔۔ 
وہ دونوں ہاتھوں سے سر تھام گیا۔۔۔
پھر۔۔۔ اس سب کا کیا حل ہے۔۔۔ وہاج نے موبائل سے لوکیشن دیکھتے موڑ کاٹا۔۔۔ آگے سے کچھ کچا راستہ شروع ہو رہا تھا۔۔۔ وہ دونوں اپنے پڑاجیکٹ کے سلسلے میں کسی سے ملنے جا رہے تھے۔۔۔
پتہ نہیں۔۔۔ کچھ سمجھ نہیں آ رہی۔۔۔
ماہرہ کے تجسس کو مزید ہوا دو گے تو نقصان اٹھاو گے فائز۔۔۔
نقصان اٹھا رہا ہوں میں۔۔۔اس تجسس کے کھلنے سے پہلے وہ جتنی متجسس ہے تجسس ختم ہونے کے بعد اتنی ہی وہمی ہو جائے لگی۔۔۔ وہم پالنے لگے گی ۔۔۔ اور وہ زیادہ خطرناک صورتحال ہوگئ۔۔۔ اس لئے  اسے متجسس رہنا پڑے گا۔۔۔ کم از کم تب تک جب تک یہ پڑاجیکٹ مکمل نہیں ہو جاتا۔۔۔ 
وہ لب بھینچتا باہر بھاگتے دوڑتے راستوں کو دیکھنے لگا۔۔۔
اور پراجیکٹ کب تک مکمل ہوگا۔۔۔
کوشیش بڑھا تو دی ہے۔۔۔ میں ہر کام بہت جلدی ختم کرنا چاہتا ہوں تاکے میرےسر پر لٹکی یہ تلوار ہٹ سکے اور میں بھی کوئی سکون کا سانس لے سکوں۔۔۔ بہت ہی اکورڈ سچوئشن بنے لگی ہے۔۔۔
وہ جیسے تھکنے لگا تھا۔۔۔
انشااللہ ایسے ہی ہوگا۔۔۔ وہاج نے کہتے گاڑی ایک سائیڈ پر لگائی۔۔۔کیونکہ سامنے ابکی منزل تھی۔۔۔ وہ مطلوبہ مقام تک پہنچ گئے تھے۔۔۔
*****
چچا جان۔۔۔ یوں پہیلیاں مت بجھوائیں۔۔۔ حکم کریں۔۔ آپ کو کم آز کم مجھ سے بات کرتے وقت یوں شش و پنج کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔۔۔۔ مرتسم نے کرسی گھسیٹ کر مزید انکے قریب کی اور عقیدت سے چچا جان کا ہاتھ تھامتے اسے تھپتھپایا۔۔
میں ایک بیٹی کا باپ ہوں۔۔۔۔ انکی آواز ہلکی سی کپکپائی۔۔
امم۔۔ ہممم۔۔ آپ میرے بھی باپ  ہیں۔۔۔ 
اسکے بے ساختہ انداز پر بابا جان مسکرا دیئے۔۔۔
بیٹا تم جانتے ہو تم ہمارے خاندان کے وارث ہو۔۔۔ اور میرے لئے سب سے زیادہ قابل اعتبار۔۔۔ میں نہیں چاہتا کے میرے پیچھے  اس زمین جائداد کے چکروں میں فاہا کے لئے کئ امیدوار اٹھ کھڑے ہوں۔۔۔ جو محض زمین کے ٹکروں اور روپے پیسے کے پیچھے میری معصوم سی بچی کو رول کر رکھ دیں۔۔۔ اس وقت جب فاہا کا باپ بستر مرگ پر ہے تو ہر طرف سے اسکے پرپوزل آ رہے ہیں۔۔۔ ان سب کو میری بیٹی کی چاہت نہیں ہے انہیں صرف ایک اے ٹی ایم کارڈ چاہیے۔۔۔ جو باپ کی اکلوتی اولاد ہو اور باپ کے بعد جسے وہ جیسے چاہیں کیش کروا سکیں۔۔۔ تم سمجھ رہے ہو نا مرتسم۔۔۔۔ چچا جان کی وضاحت پر وہ کہنی کرسی کی بازو پر رکھتا ہاتھ کی مٹھی ہونٹوں پر جما گیا۔۔۔
لیکن مجھے میری بیٹی کا ساتھی وہ چاہیے جو اسکا قدردان ہو۔۔۔۔ جو اسکی دولر سے نہیں ۔۔۔ اس سے محبت کرے۔۔۔۔ہر باپ کی طرح مجھے بھی اپنی بیٹی کے لئے کوئی شہزادہ چاہیے۔۔  جسکے زور بازو اتنی طاقت ہو کے وہ میری بیٹی کا محافظ بن سکے۔۔۔ اسے زمانے کی دھوپ چھاوں سے بچا سکے۔۔۔ جو باپ کے بعد اسے بکھرنے سے بچا سکیں۔۔۔
مرتسم خاموشی سے انہیں سن رہا تھا حالانکہ انکے بار بار اپنے نا بچنے کی مایوس کن باتوں پر بھی انہیں ٹوک نہیں سکا۔۔۔ وہ انکا تسلسل توڑنا نہیں چاہتا تھا۔۔۔ وہ واقعی چاہتا تھا کے چچا جان دل میں موجود آخری پھانس تک اس کے سامنے کھول کر رکھ دیں۔۔۔
میں کئ بار اس موضوع پر سوچ چکا ہوں۔۔۔ اور اس بار بھائی صاحب کے آنے پر میں ان سے اس متعلق بات بھی کرنے والا تھا۔۔۔ لیکن ناجانے کیوں اس وقت دل بہت گھبرا رہا ہے۔۔ اور تمہیں دیکھ کر دل چاہا کے مجھے اپنا دل تمہارے سامنے ہلکا کر لینا چاہیے۔۔۔۔ 
کوئی زبردستی نہیں مرتسم۔۔۔ یہ صرف ایک باپ کی خواہش ہے۔  ہوسکتا ہے کے تمہاری خواہش کچھ اور ہو۔۔۔ اس لئے بنا کسی دباو کے بالکل ریلیکس انداز میں مجھے بتانا بیٹا۔۔۔ جیسے ہمیشہ سے اپنے چچا جان سے تم سب شیئر کرتے آئے ہو۔۔۔ 
چچا جان اسکا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں تھامے سنجیدگی سے کسی غیر مری نقطے کو دیکھتے بول رہے تھے۔۔۔
کہ۔۔۔ کیا تم۔۔۔ ایک لمحے کو انکی زبان لڑکھڑائی۔۔ کیا تم میری بیٹی۔۔۔۔
بہت اچھا کیا آپ نے چچا جان جو اپنا دل میرے سامنے ہلکا کر لیا۔۔۔ جس الفاظ کو خود سے ادا کرتے انکی زبان ساتھ نہیں دے رہی تھی وہ مرتسم لودھی بنا انکی زبان سے نکالے ہی سمجھ گیا تھا۔۔۔ تبھی تو انکی بات کاٹتا مان سے گویا ہوا۔۔۔
باپ بیٹوں کے سامنے ہی دل ہلکا کرتے ہیں۔۔۔
اور آپکا حکم سر آنکھوں پر چچا جان۔۔۔ یہ میری خوش بختی ہے کہ آپ نے آفیشلی مجھے اپنی فرزندی میں لینے کا سوچا۔۔  اسنے فیصلہ کرنے میں لمحہ بھی نہیں لیا تھا۔۔۔ یہ چچا جان کی خواہش تھی اور انکے لئے تو وہ بنا سوچے سمجھے سر تک قلم کروا دیتا تو یہ کیاچیز تھی۔۔۔۔
آپ زرا سا صحتیاب ہو جائیں چچا جان۔۔۔ میں پوری شان سے بارات لاوں گا۔۔۔ اور ایسی بارات کے پورا گاوں دیکھتا رہ جائے گا۔۔۔
وہ انکے ہاتھ تھپتھپاتا مان سے کہتا انکا سیروں خون بڑھا گیا۔۔۔
چچا جان پورے دل سے مسکرا دیئے۔۔۔ وہ بہت آسانی سے انکا مسلہ سمجھتا انہیں مان سے نواز گیا تھا۔۔۔
شکریہ بیٹا۔۔
پلیز چچا جان۔۔ ان فارمیلیٹیز کو سامنے نبھانے کی ضرورت نہیں۔۔  وہ مسکراتا ہوا قطعیت سے انہیں ٹوک گیا۔۔۔
وہ پھیکا سا مسکرا دئے۔۔۔لیکن میں نکاح آج اور  ابھی کروانا چاہتا ہوں۔۔۔ انکے آہستگی سے کہنے پر مرتسم شاک رہ گیا۔۔۔
چچا جان ابھی۔۔۔ تب سے اب پہلی مرتبہ اسکے چہرے پر تفکرات کے سائے لہرائے تھے۔۔۔
پر چچا جان۔۔۔ ابھی تو بابا آوٹ آف سٹیشن ہیں۔۔۔ اور انکے بنا۔۔۔ وہ پریشانی سے کہتا بات ادھوری چھوڑ گیا۔۔۔
اتنی ہنگامی بنیاد پر ماں کو اعتماد میں لینا تو ایک مشکل امر تھا وہ بھی تب جب وہ پریہا کے سنگ اسکے لئے دور تک پلانینگ کر چکی تھیں۔۔۔
البتہ بابا باآسانی بات کو سمجھتے اس وقت چچا جان کا ساتھ دیتے اس خوشی میں شریک ہو جاتے۔۔۔ اور بابا کی شمولت کے بعد ماں کو قائل کرنا بھی مشکل نا رہتا۔۔۔ سب کچھ آسانی سے ہو جاتا ۔۔۔  
مگر اب ۔۔۔
جانتا ہوں مرتسم۔۔۔ میں نے بھی انسے رابطہ بحال کرنے کی کوشیش کی لیکن انکا نمبر نہیں لگ رہا۔۔۔۔ چچا جان نے تھک کر سیدھے ہو کر لیٹنا چاہا جب مرتسم نے جلدی سے اٹھتے انکے پیچھے سے تکیوں کی باڑ ہٹائی اور انہیں آرام سے لیٹنے میں مدد دی۔۔۔
جی چچا جان ۔۔ وہ جس جگہ پر گئے ہیں وہاں سگنل پرابلم ہے۔۔۔۔
کیا ہم یہ نکاح  آپکی سرجری کے بعد نہیں کر سکتے۔۔۔ مطلب کے تب تک بابا بھی واپس آ جائیں گے۔۔۔ وہ دراصل جلد از جلد اپنے سبھی کام نبٹا ہی اس لئے رہے تھے کے آپکی سرجری کے دنوں میں مکمل اطمیئنان سے آپ کے پاس رہ سکیں۔۔۔
مجھے بھائی صاحب کے خلوص اور محبت پر کوئی شبہ نہیں۔۔۔ لیکن اسکے باوجود میں ابھی یہ نکاح چاہتا ہوں۔۔۔تم فکر مت کرو بیٹا۔۔۔ میں ان سے رابطہ استوار ہوتے ہی ان سے اس معاملے میں بات کروں گا۔۔۔ لیکن میرا دل گھبرا رہا ہے میں مزید اس معاملے میں تاخیر نہیں کر سکتا۔۔۔
مرتسم انکی بات پر کئ لمحے گم صم سا کچھ سوچتا رہا۔۔۔۔
ٹھیک ہے چچا جان ۔۔ جیسی آپکی مرضی۔۔۔ وہ آہستگی سے سر اٹھاتا نرمی سے مسکرایا۔۔۔
مجھے تم سے یہ ہی امید تھی۔۔۔ چچا جان نے اسکا ہاتھ تھپتھپایا۔۔۔
دفعتا فاہا ٹرالی گھسیٹتی ہوئی اندر داخل ہوئی۔۔۔
یہ لیں مرتسم بھائی۔۔۔ چائے پیئں۔۔۔ یقیناً میں لیٹ نہیں ہوئی نا۔۔۔ وہ ان دونوں کو دیکھتی مسکرائی۔۔۔
بابا نے نفی میں سر ہلایا۔۔۔ جبکہ مرتسم اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔
ارے کیا ہوا۔۔۔ چائے تو پیئیں۔۔۔ وہ حیرت زدہ سی اسے دیکھتی گویا ہوئی جو سنجیدگی سے اسے گھور رہا تھا۔۔۔
چچا جان میں انتظام کروا کے آتا ہوں۔۔۔ وہ اسے نظر انداز کئے چچا جان سے مخاطب ہوتا کمرے سے نکل گیا۔۔۔
ایڈیٹ۔۔  اتنی مشکل سے بھائی کا لاحقہ اتارا تھا ساتھ سے گاوں آتی پھر سے شروع ہو گئ۔۔۔ اسنے کمرے سے نکلتے غصے سے سر جھٹکا۔۔۔۔
اندازہ نہیں تھا کے اسکا لفظ بھائی سے چڑںا انہیں یوں اس طرح سے بھی ایک بندھن میں باندھ سکتا تھا۔۔۔
اور فاہا کو تو اسنے کبھی اس نظر سے دیکھا تک نا تھا۔۔۔ ہاں وہ اسکے چچا کی بیٹی تھی۔۔۔ شہر میں اسکی زمہ داری تھی۔۔۔ وہ اسے پڑوٹیکٹ کرتا تھا ایک فیملی ممبر کی طرح اور بس۔۔۔ 
آج تو چچا نے اچانک ہی دھماکہ کر ڈالا تھا۔۔۔
*****
اسے سارے انتظامات کرتے کچھ وقت لگا تھا۔۔۔ صد شکر کے فائز اور وہاج یہاں قریب ہی کسی کام سے آئے ہوئے تھے۔۔۔ کم از کم اسکے اس ہنگامی بنیاد پر ہونے والے نکاح میں اسکے دوست تو شامل ہوتے۔۔۔ ان دونوں سے رابطہ بحال کر کے انہیں ساری تفصیلات سے آگاہ کرنے کے بعد وہ ان دونوں کا انتظار کرنے لگا تھا۔۔۔ وہ ہی اپنے ساتھ مولوی صاحب کو لانے والے تھے۔۔۔ کچھ ہی دیر میں اسے اسکے دوستوں کے حویلی پہنچنے کی خبر ملی تو وہ مہمان کھانے کی طرف بڑھا۔۔۔
ارے بھئ مبارکاں۔۔۔ میرا ایک اور یار چھپ چھپا کر منزل پانے نکلا ہے۔۔۔
 اسکے مہمان خانے میں داخل ہوتے ہی وہاج پرجوش سے انداز میں باہیں کھولے اسکی جانب لپکا اور اسے زوردار انداز سے خود میں بھینچتا شوخ ہوا۔۔۔ جبکہ وہ اسکی آخری بات پر اسے خود سے دور کرتا اسے گھور کر رہ گیا۔۔۔ مگر جو بھی تھا وہاج خانزادہ حسب توقع اتنی سنجیدہ صورتحال میں بھی اسکے لبوں پر مسکراہٹ کھلا گیا تھا۔۔۔
ویسے کیا تم دونوں نے قسم کھا رکھی ہے یوں ہی ہنگامی بنیادوں پر تن تنہا نکاح کرنے کی۔۔۔ وہ ان دونوں سے کچھ فاصلے پر کھڑا آنکھیں چندھی کئے دونوں کو گھور رہا تھا۔۔۔
مطلب یار میں ترس گیا ہوں دوستوں کی شادی کے چھوہارے کھانے کو۔۔۔ وہ خود کو ڈھیلا چھوڑتا اپنا دکھڑا بیان کر گیا۔۔۔ جبکہ وہ دونوں مسکرا دیئے۔۔۔
تمہیں خدا کا واسطہ ہے مرتسم۔۔۔ رخصتی اس کی طرح کی مت کروانا۔۔  بھئ میرے بھی کوئی ارمان ہیں دوستوں کی شادی کو لے کر۔۔۔ اسکی دہائیاں عروج پر تھیں۔۔۔
تم فکر مت کرو وہاج۔۔۔ ہم تمہارے سبھی ارمان تمہاری شادی پر پورے کریں گے۔۔۔ فائز نے اسے اسکے گلے سے دبوچا۔۔۔
قسم خدا کی یار۔۔۔ میری ایسی کوئی کزن نہیں۔۔۔ وہ نیچے سے گھومتا اسکے بازو کا حصار توڑ کر سامنے آیا۔۔۔ جیسے فیملی ممبر کی طرح پڑوٹیکٹ کرتے کرتے بعد میں میں یوں ہنگامی بنیاد پر اسے نکاح میں لے لوں۔۔۔ اسکی شرارتی نگاہیں ان دونوں پر ٹکی تھیں۔۔۔
یہ مرے گا میرے ہاتھوں۔۔۔ مرتسم دانت پیستا اسکی جانب بڑھا جبکہ اسکے منہ سے ہسی کا فوارہ چھوٹا اور وہ سرپٹ وہاں سے بھاگا۔۔۔
*****
بابا جان یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں۔۔۔ شادیاں یوں تھوڑی نا ہوتی ہیں۔۔۔ آپ یوں بیمار بستر پر ہیں۔۔  اور پھر میں کہیں بھاگی تھوڑی جا رہی ہوں۔۔۔ آپا کچھ صحتیاب تو ہو لیں۔۔۔
مرتسم چچا جان کے کمرے میں انہیں انفارم کرنے آیا تو سامنے ہی وہ دونوں ایک دوسرے میں مصروف تھے۔۔۔ چچا جان تکیوں کے سہارے نیم دراز تھے جبکہ فاہا انکے پاس ہی بستر پر بیٹھی انکا ہاتھ اپنے کپکپاتے ہاتھوں میں تھامے ہوئے تھی۔۔۔ آنسو موتیوں کی لڑیوں کی مانند ٹوٹ ٹوٹ کر پھسل رہے تھے۔۔۔
مرتسم وہیں کھڑا لب بھینج گیا۔۔۔ اسے یوں اندر جا کر مداخلت کرنا مناسب نا لگا۔۔۔
کچھ پل وہیں رکنے کے بعد وہ ان دونوں کو متوجہ کرنے کی خاطر دروازے پر دستک دے گیا۔۔۔
وہ دونوں چونک کر اسکی جانب متوجہ ہوئے۔۔۔ چچا جان سب انتظام ہو گیا ہے اور مولوی صاحب بھی آگئے ہیں۔۔۔ وہ چچا جان کی طرف دیکھتا سنجیدہ سا گویا ہوا جبکہ فاہا  بابا کے سینے میں چہرا چھپاتی پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔
ہاں بیٹا تم بلاو انہیں اندر۔۔۔ چچا جان کے نرمی سے گویا ہونے پر وہ سر ہاں میں ہلاتا ایک اچٹتی نگاہ فاہا پر ڈالتا باہر نکل گیا۔۔۔
بس بیٹا۔۔۔ اچھی بیٹیاں یوں نہیں کرتیں۔۔۔ کیا تمہیں لگتا ہے تمہارا باپ تمہارے لئے درست فیصلہ نہیں لے گا۔۔۔
انہوں نے کپکپاتے ہاتھوں سے اسکا سر سہلایا۔۔۔ ہرگز نہیں بابا جان۔۔۔ میرا وہ مطلب تو نہیں تھا۔۔۔ وہ گیلی سانس اندر کھینچتی تڑپ کر ان سے الگ ہوئی۔۔  آنکھیں رونے کے باعث سرخ ہو گئ تھیں۔۔۔
دل کے نہاں خانوں میں یہ خواہش تو اسکی بھی تھی۔۔۔ لیکن یوں ۔۔۔ اچانک اتنی ہنگامی بنیاد پر۔۔۔ اس طرح۔۔۔ اسکا دل بے طرح گھبرا رہا تھا۔۔۔
بیٹا اگر تم مجھ پر یقین رکھتی ہو تو  اپنے باپ کی دور اندیشی سمجھ کر اس فیصلے کو قبول کر لو۔۔۔  خدا کے ہر کام میں کوئی حکمت ہوتی ہے۔۔  اس میں بھی ہوگئ۔۔۔
میری بیٹی میرا مان ہے۔۔۔ اور مجھے اپنی بیٹی پر فخر ہے۔۔۔ بابا نے محبت سے اسکے آنسو صاف کئے۔۔۔
دفعتاً مولوی صاحب  چند ایک اور افراد کی معیت میں وہاں داخل ہوئے تو بابا نے اسکے سر پر اوڑھے آنچل کو چہرے کی جانب زرا سا کھینچ کر اسے گھونگٹ اوڑھا دیا۔۔۔
اور وہیں باپ کے پاس بستر پر بیٹھے وہ اپنا سب کچھ اس شخص کے نام کر گئ جو اسکی نس نس میں زندگی بن کر بستا تھا۔۔۔ نکاح نامے پر دستخط کرتے اسکے ہاتھ کپکپائے آنکھوں سے آنسو ایک مرتبہ پھر سے جاری ہوگئے۔۔۔ کئ طرح کے خدشات اور وسوسے دل میں سر ابھرنے لگے تھے۔۔۔ ناجانے اسنے کیسے فاہا جیسی ڈرپوک اور کم ہمت لڑکی کو ہمسفر کے روپ میں قبول کیا تھا یقیناً بابا کی طبیعت کے پیش نظر۔۔  ورنہ وہ کئ دفعہ اسکے سامنے بھی اعتراف کر چکا تھا کے اسے اسقدر کم ہمت بزدل اور بات بات پر آنسو بہاتی لڑکیاں سخت زہر لگتی ہیں ۔۔۔ اسکا دل مزید بھر آیا۔۔۔ وہ روتی ہوئی باپ کے کمرے سے نکلی ارادہ اپنے کمرے میں جا کر سکون سے یہ شغل پورا کرنے کا تھا۔۔۔ وہ دل کی عجیب طرح کی کیفیت پر یوں باپ کے سامنے آنسو بہا کر انہیں پریشان نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔۔
ایجاب و  قبول کے مراحل طے کروا کر وہ سب کمرے سے باہر نکل گئے۔۔۔ 
مرتسم باہر راہداری میں کھڑا سب کو الوداع کر رہا تھا۔۔۔ مولوی صاحب اور باقی سب جا چکے تھے فائز اور وہاج بھی بس نکلنے ہی والے تھے جب فاہا لودھی روتی ہوئی آندھی طوفان کی طرح وہاں سے نکلی اور مرتسم لودھی کی نظر انداز کرتی سیدھا اپنے کمرے کی جانب بھاگی۔۔۔
مرتسم نے چونک کر اسکی جانب دیکھا۔۔۔ اسکی سنجیدہ نگاہوں نے دور تک فاہا کا پیچھا کیا تھا۔۔۔۔
آہممم۔۔۔ میرا خیال ہے کےےےے۔۔۔ اس سے پہلے کے وہاج ناک مسلتا پھر سے شوخ ہوتا مرتسم خونخوار بنا اسکی جانب پلٹا۔۔
میرا خیال ہے کے مجھے جوتا اتارنا چاہیے۔۔۔
وہاج خانزادہ کا قہقہ بے ساختہ تھا۔۔۔ اب ایسا بھی نہیں کہا میں نے۔۔ بس ایک ظالم دیو نے معصوم بچی کو ڈرا دیا۔۔۔ یقیناً زبردستی کا معاملہ ہے۔۔۔ ورنہ کون ایک غصیلے دیو کو قبول۔۔۔
آہہہ۔۔۔ وہاج خانزادہ کے الفاظ مرتسم لودھی کی جانب سے کمر میں پڑنے والے گھونسے کے باعث منہ میں ہی چھوٹے تھے۔۔۔
تمہارا کام ختم ہوگیا۔۔۔ لحاظہ یہاں سے نکلنے کی کرو۔۔۔ مرتسم نے ہاتھ سے چٹکی بجاتے اسے باہر کا راستہ دکھایا جبکہ فائز مسلسل چہرا جھکائے مسکراہٹ دابنے کی کوشیش کر رہا تھا۔۔۔
احسان فراموش ۔۔ تیرے نکاح کے لئے ہم کتنیییی دور سے آئے اور تجھے یہ بھی نہیں پتہ کے نکاح کے بعد کھانا کھلایا جاتا ہے۔۔۔ وہ ہنوز مسکراہٹ دابتا شرارت پر آمادہ تھا۔۔۔
فائز۔۔۔ تمہاری مہربانی اسے لے کر نکل یہاں سے۔۔۔ اور ہاں اسے راستے میں کھانا کھلا دینا۔۔۔ وہ وہاج سے مغز ماری کرنے کی بجائے فائز کی جانب متوجہ ہوا۔۔ جو ہاں میں سر ہلاتا وہاج کی جانب مڑا۔۔۔
اچھا جا رہا ہوں یار۔۔۔ وہ سیز فائر کے انداز میں ہاتھ اٹھاتا باہر کو بڑھا جب جاتا جاتا رک کر واپس پلٹا اور بھاگ کر مرتسم کی جانب بڑھا۔۔۔
نکاح مبارک میرے یارر۔۔۔
مرتسم کا رخ دوسری جانب تھا جب وہ اس سے لپٹتا ایک زور دار بوسہ اسکے چہرے پر دیتا انہی قدموں ہر واپس بھاگا۔۔۔
مرتسم چہرے پر ہاتھ رکھے مسکرا کر اسکی جانب پلٹا لیکن تب تک وہ راہداری عبور کر چکا تھا۔۔۔ وہ مسکرا کر سر جھٹک کر رہ گیا۔۔۔
******

No comments

Powered by Blogger.
4