Header Ads

Roshan Sitara novel 49th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels


 

Roshan Sitara novel  49th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels 

Roshan Sitara is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels

Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front 

of the world and improve their abilities in that field.

 Roshan Sitara  Novel by Umme Hania | Roshan Sitara  novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Roshan Sitara  novel by Umme Hania Complete PDF download

Online Reading

 ناول "روشن ستارا"۔

  مصنفہ "ام ہانیہ"۔

Official pg : Umme Hania official

انچاسویں قسط۔۔۔۔
ماہرہ یونیورسٹی سے سیدھی ماں کے پاس ہی آئی تھی۔۔۔ رات فائز کی نافہم باتوں کے زیر اثر موڈ اسقدر آف تھا کے اسے شدت سے کسی اپنے کی ضرورت محسوس ہو رہی تھی جسکی گود میں سر رکھ کر دل ہلکا کیا جاسکتا۔۔۔۔۔۔ کھانا نا رات میں کھایا تھا اور نا ہی صبح اسنے ناشتہ کیا تھا۔۔۔ پریشانی بھوک اور ٹینش نے اسے اعصابی طور پر بہت توڑ پھوڑ کا شکار کر دیا تھا۔۔۔۔
اسی لئے تو وہ اس وقت مام سے  سبھی ناراضگی بھلائے سیدھی وہیں آ موجود تھی۔۔۔ ڈرائیوے پر گاڑی روکتی وہ گاڑی سے نکلی۔۔۔
ماں صدقے۔۔۔ میری بیٹی آئی ہے۔۔۔ مام لاوئنج کی ونڈو سے اسکی گاڑی اندر آتی دیکھ اسکے گاڑی سے نکلنے تک باہر آ چکی تھیں ۔  وہ خوشی سے مسکراتے باہیں وا کئے اسکی منتظر تھی۔۔۔۔ماہرہ بھی بنا تاخیر کئے انکی کھلی باہنوں میں آ سمائی۔۔۔
کوئی ماں سے یوں بھی ناراض ہوتا ہے کیا میری جان۔۔۔ وہ اسکے ماتھے کا بوسہ لے کر اسے بازو کے حلقے میں لئے اندر داخل ہوئیں۔۔۔
ماہرہ کا دل بھر بھر آیا۔۔۔۔
وہ ماں کے ساتھ انہی کے کمرے میں آگئ۔۔۔
اچھا بتاو کیا کھاو لگی۔۔۔ وہ محبت سے اسکے بل سہلاتی گویا ہوئیں۔۔۔
کچھ بھی مام جو جلدی سے کھانے کو مل جائے۔۔۔ بہت بھوک لگی ہے ۔۔۔۔ یونیورسٹی سے سیدھی یہیں آ رہی ہوں۔۔۔  وہ نڈھال سے انداز میں بیڈ کراون سے ٹیک لگاتی پاوں اوپر کر گئ۔۔۔۔ماہرہ بیٹا تم ٹھیک تو ہو نا ۔۔ مجھے تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی۔۔۔ 
مام اسکا چہرا اور انداز دیکھ ٹھٹھکیں۔۔۔ پہلے وہ فرط جذبات میں شاید نوٹ نہیں کر پائیں تھیں۔۔۔
مام۔۔۔ سر درد کر رہا ہے۔۔  اوپر سے پیپر کی تیاری میں مصروف رہی ہوں تو اب مزید طبیعت بوجھل لگ رہی ہے۔۔۔
اسکا انداز بیزار سا تھا۔۔۔ جیسے وہ اس موضوع پر بات نا کرنا چاہتی ہو۔۔۔۔
ٹھیک ہے تم لیٹو میں تمہارے لئے کھانے کو کچھ لانے کیساتھ ساتھ دوائی بھی لاتی ہوں۔۔۔
مام کے پریشانی سے کمرے سے نکلنے کے بعد وہ ڈھیلے سے انداز میں سر تکیے پر گرا گئ۔ ۔
کچھ ہی دیر میں مام کی واپسی کمرے میں ہوئی۔۔۔ پیچھے ہی ملازمہ ٹرالی گھسیٹتی ہوئی اندر داخل ہوئی۔۔۔
انواع و اقسام کے لذیز کھانوں کی خوشبو سے اسکی بھوک چمک اٹھی تھی۔۔ لنچ کا ٹائم تھا اور لنچ بروقت تیار تھا۔۔۔ اسے زیادہ انتظار نا کرنا پڑآ۔۔۔ 
ماں کے ساتھ مل کر اسنے سیر ہو کر کھانا کھایا اور دوائی کھا کر مام کی گود میں ہی سر رکھتی لیٹ گئ۔۔۔
کیا بات ہے ماہرہ ۔۔۔ سب خیریت تو ہے نا۔۔۔ تمہارا اسقدر بجھا بجھا انداز مجھے تشویش میں مبتلا کر رہا ہے ۔۔۔۔
فکر مندی مام کے لہجے سے عیاں تھیں۔۔ وہ نرمی سے اسکے بالوں میں انگلیاں چلاتیں گویا ہوئیں۔۔۔ ماں تھی آخر کیسے نا بیٹی کی پریشانی بھانپتی۔۔۔
مام میں خود آپ سے ہر بات شیئر کرنا چاہتی ہوں۔۔  اگر آپ مجھے سمجھیں اور بیٹی کے طور پر بہتریں مشورہ دیں تو۔۔۔
اور اگر آپ فائز کے بارے میں کچھ بھی الٹا سیدھا بولیں گی تو میں یہاں سے چلی جاوں گی۔۔۔۔
ماہرہ کی آواز شکستہ تھی۔۔۔ تھکن زدہ سی ۔۔
کیسی باتیں کر رہی ہو ماہرہ۔۔۔ اب ماں کو کتنا شرمندہ کرو گئ ۔۔ تمہاری ناراضگی کے بعد میں باخوبی سمجھ چکی ہوں کے میری بیٹی مجھے کتنی عزیز ہے۔۔  اگر تمہاری خوشی اسی میں ہے تو میں تمہارے لئے یہ کڑوا گھونٹ پینے کو بھی تیار ہوں۔۔۔ لیکن پلیز دوبارہ اپنی ماں سے یوں ناراض مت ہونا۔۔۔ میری بھی ایک ہی بیٹی ہے۔۔۔ اسکی ناراضگی میں کیسے مول لے سکتی ہوں بھلا۔۔
ماں کے نرم لہجے میں کہنے ہر وہ سیدھی ہو کر بیٹھتی انکا ہاتھ تھام گئی۔۔۔
وہ مزید یہ بوجھ دل پر رکھنا بھی نہیں چاہتی تھی۔۔۔
وہ اپنا اور فائز کا جگھڑا ور چند ایک باتیں حذف کرتی مام کو سب بتاتی چلی گئ۔۔۔
اسکی پوری بات سن کر ماں سناٹوں میں رہ گئ۔۔۔
وہ لڑکی ہے کون ماہرہ۔۔۔ مام سنجیدہ تھیں۔۔۔
فائز کے پروفیسر کی بیٹی یے۔۔۔
پروفیسر کی بیٹی اور اتنی کئیر۔۔۔ تمہیں دال میں کچھ کالا نہیں لگ رہا  ماہرہ۔۔۔
مام کا انداز پراسرار تھا۔۔۔
مطلب۔۔۔ ماہرہ الجھی۔۔۔
مطلب بات کہیں کچھ اور تو نہیں۔۔۔ 
کیسی کوئی اور بات مام۔۔۔ مام کا انداز ماہرہ کو پریشان کر رہا تھا۔۔۔
فائز کا رویہ تمہارے ساتھ کیسا ہے۔۔۔ مطلب تمہارے ساتھ ٹھیک ہے وہ۔۔۔  مام کے استفسار پر وہ گم صم رہ گئ۔۔۔ وہ چاہ کر بھی مام کو اپنے اور فائز کے بیچ در آ چکی دوریوں کے بارے میں بتا نا پائی۔۔۔
جی مام۔۔۔ وہ بالکل ٹھیک ہے میرے ساتھ میرا بہت خیال رکھتا ہے۔۔۔
دیکھو ماہرہ ایسے کسی اجنبی پر یوں ہی تو اتنی عنایات نہیں ہوتی۔۔۔
اور میں فائز علوی کے خلاف جتنا بھی رہی ہوں لیکن ایک بات کی گارنٹی دیتی ہوں کے وہ بدکردار نہیں۔۔۔ ماہرہ حیرت سے انکی بات سنتی انکی بات کا مفہوم سمجھنے کی کوشیش کر رہی تھی۔۔۔
کہیں وہ لڑکی فائز کے نکاح میں تو نہیں۔۔۔
دھڑ دھڑ دھڑ۔۔۔ گویا ساتوں آسمان اس پر ٹوٹ چکے ہوں۔۔۔ وہ تھوک نگل کر رہ گئ۔۔۔دل ڈوب کر ابھرا تھا۔۔۔
نہیں مام۔۔۔ کیسی باتیں کر رہی ہیں آپ۔۔۔ ایسا کچھ نہیں۔۔۔ فائز مجھے کبھی دھوکہ نہیں دے سکتا ۔۔
بظاہر مضبوط لہجے میں کہتی لیکن دل ہی دل وہ فائز کی ایک ایک حرکت کو کنگال رہی تھی۔۔۔
دیکھو بیٹا یہ مرد ذات نہایت ناقابل اعتبار ہوتی ہے۔۔۔ جہاں موقع ملے یہ اپنا رنگ دکھانے سے باز نہیں آتی۔۔۔
مام پلیز۔۔۔۔ مام کے تلخی سے کہنے پر وہ چٹخ اٹھی۔۔۔
آپ مجھے فائز کے خلاف نہیں کر سکتیں۔۔۔ میرا فائز ایسا نہیں۔۔۔ وہ بے بسی سے چٹخی۔۔۔
مام گہرا سانس خارج کر کے رہ گئیں۔۔
خدا تمہارا یقین سلامت رکھے ماہرہ۔۔۔ دعا گو ہوں کے ایسا نا ہی ہو۔۔۔ ورنہ میری بیٹی کو دکھ دینے کا انجام وہ شخص تصور بھی نہیں کر سکتا۔۔۔
مام آپکو خدا کا واسطہ ہے یار۔۔۔ اسی لئے تو کوئی بات آپ سے شیئر نہیں کرتی میں۔۔۔ آپ منٹ سے پہلے ہائپر ہو جاتی ہیں۔۔۔ وہ چڑ کر کہتی نروٹھے پن سے چہرا موڑ گئ۔۔۔
اچھا بابا نہیں کہتی کچھ تمہارے فائز کو۔۔۔ اتنی ٹینش مت لو۔۔۔ یہ کوئی اتنا بڑا مسلہ نہیں۔۔۔
اللہ کرے یہ میرا گمان ہی ہو۔۔  تم فائز سے بات کر کے اس لڑکی کے لئے کوئی اچھا رشتہ تلاش کرو اور اسے اسکے گھر کا کرو۔۔۔ پھر تمہارا مسلہ حل ہو جائے گا۔۔۔
مام کا آئیڈیا اسے پسند آیا تھا۔۔۔ 
ہاں یہ ہو سکتا ہے۔۔۔ کروں گی اس بارے میں فائز سے بات۔۔۔ وہ سوچ کر رہ گئ۔۔۔
*****
یونیورسٹی سے واپسی پر فائز اپنے ایک دو کام نبٹا کر گھر واپس آیا تو ماہرہ وہاں ہنوز ناموجود تھی۔۔
وہ گہری سانس خارج کر کے رہ گیا۔۔۔
کہاں ہو۔۔۔ اسنے جیب سے موبائل نکالتے میسج ٹائپ کر کے سینڈ کا بٹن دبایا۔۔۔
مام کی طرف۔۔۔ لمحے میں اسکا جواب موصول ہوا۔۔۔ ٹو دو پوائنٹ۔۔۔ وہاں ابھی بھی نو لفٹ کا بورڈ چسپاں تھا۔۔۔ لیکن اسکی پریشانی کے باعث وہ اسے انفارم کر چکی تھی۔۔۔
فائز کو تسلی ہوئی۔۔۔ وہ ناراضگی میں بھی اسے ریپلائے کر چکی تھی۔۔۔۔
فائز وہیں لاوئنج میں بیٹھا ہاتھ میں تھامے کاغذات پھیلائے اپنا کام کرنے لگا تھا۔۔۔ جب لیپ ٹاپ لئے سونم بھی وہیں آ بیٹھی۔۔۔
کیسا ہوا آپ کا پیپر۔۔۔
ہمم۔۔  بہت اچھا۔   وہ کاغذات پر نظریں جمائے مصروف سے انداز میں گویا ہوا۔۔۔
اور وہ ڈین والے کام کا کیا بنا۔۔۔ اسکے مزید مستفسر ہونے پر وہ مسکرا دیا۔۔
فائز نے آہستگی سے سر اٹھا کر اسے دیکھا۔۔۔
 تم نے کام ہی اتنا پرفیکٹ کر کے دیا تھا کے اس ڈین کو مانتے ہی بنی۔۔۔
اسکی بات پر سونم بھی مسکرا دی۔۔۔

پورا دن لگا تھا اس کام کو کرتے۔۔۔ پرفیکٹ تو ہونا ہی تھا نا۔۔۔  وہ لیپ ٹاپ پر کچھ ٹائپ کرتی مصروف سی گویا ہوئی۔۔۔
ویسے ایک بات پوچھوں آپ سے۔۔ اگر آپ برا نا منائیں تو۔۔۔
لیپ ٹاپ پر ٹائپ کرتی سونم کی انگلیاں کچھ سست پڑیں۔۔جیسے وہ شش و پنج کا شکار ہو۔۔۔
ہمم پوچھو۔۔۔ وہ واپس میز پر بکھرے کاغذات پر جھک چکا تھا۔۔۔
عین اسی وقت ماہرہ داخلی روازہ کھول کر اندر  داخل ہوئی جسے کام میں مصروف وہ دونوں ہی نوٹ نا کر پائے تھے۔۔۔۔۔
ماہرہ آپکی کزن ہے نا۔۔۔ 
سونم لیپ ٹاپ کی کیز پر انگلی پھیرتی الجھن زدہ سی گویا ہوئی۔۔۔
ہممم۔۔۔ فائز کا انداز مصروف تھا۔۔۔
دروازے کے پاس کھڑی ماہرہ کے ماتھے پر بل پڑے۔۔۔
تو پھر وہ آپکے ساتھ اس گھر میں کیوں رہتیں ہیں۔۔۔ مطلب کس حق سے۔۔۔
تم اسکے ساتھ اس گھر میں کیوں رہ رہی ہو۔۔۔
الفاظ ابھی سونم کے منہ میں ہی تھے جب ماہرہ غراتی ہوئی آگے بڑھی۔۔۔
سونم کی اس بات نے گویا اسے تیزاب ڈال کر جھلسا دیا ہو۔۔۔
وہ بے طرح بلبلائی۔۔
اسے غیر متوقع طور پر وہاں دیکھ اور اسکے تیور ملاخظہ کر کے جہاں سونم حواس باختہ سی کھڑی ہوئی وہاں فائز بھی حیرت سے اسکی دھار سنتا اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔
میرے بارے میں پوچھنے والی تم زیادہ پارسا۔۔  اپنا بتاو تم کیوں۔۔۔
ماہرہ بی ہیو۔۔۔
ماہری کی ڈھار پر فائز حواس باختہ سا اسکی طرف بڑھا۔۔۔
اور وہ جو جارحانہ انداز میں سونم کی طرف بڑھنے والی تھی اسکے سامنے آ رکتا دونوں میں رکاوٹ بنا۔۔۔
سونم ماہرہ کے غیر متوقع ردعمل پر حق دق سی کھڑی تھی۔۔۔
تم مجھے کہہ رہے ہو۔۔۔ اور وہ جو فضول بول رہی ہے۔۔۔
فائز نے سر جھٹکتے حواس بحال کرنے کی کوشیش میں چہرے پر ہاتھ پھیرا اور اسے بازو سے کھینچتا اندر لیجانے لگا۔۔۔
صورتحال بہت غیر متوقع تھی۔۔۔
میرے ہی گھر میں کھڑے ہو کر وہ تم سے پوچھ رہی ہے کہ میں یہاں کیوں رہ رہی ہوں۔۔۔ اور تم مجھے خاموش ہونے کو بول رہے ہو سٹرینج۔۔۔
چیخ چیخ کر گویا ہونے سے اسکی رگیں پھولنے لگی تھیں۔۔۔ آنکھوں کی سرخی مزید بڑھ گئ تھی۔۔۔
کمرے میں لاتے ہی حواس باختہ سے فائز نے کمرے کا دروازہ بند کیا۔۔۔
کیا ہو گیا ہے ماہرہ یار۔۔۔
وہ بات سمبھالنے کو ہلکان ہو رہا تھا۔۔۔۔
کیا تم نے نہیں دیکھا کے کیا ہوا۔۔۔۔ وہ خونخوار ہوئی۔۔۔
وہ آنکھیں بند کر کے سر نفی میں ہلاتا گہرا سانس خارج کر گیا۔۔۔
ماہرہ یار اسکا یہ مطلب نہیں تھا۔۔۔ 
اسکا جو بھی مطلب تھا میں نہیں سمجھنا چاہتی۔۔۔
عین اسی وقت ڈور بیل کی آواز پر وہ آنکھیں میچ کر رہ گیا۔۔۔
ناجانے اب کون آگیا تھا۔۔۔
ماہرہ پلیز بیہیو یار۔۔۔ پلیز ہائپر مت ہو۔۔۔ مجھے باہر دیکھ آنے دو پلیززز۔۔ 
وہ منت بھرے لہجے میں کہتا باہر کو بڑھا۔۔۔
جبکہ ماہرہ گہرے گہرے سانس خارج کرتی خود کو کمپوز کرنے لگی۔۔۔
*****
بابا اب کیسا محسوس کر رہے ہیں آپ۔۔۔ انشااللہ آپ بالکل ٹھیک ہو جائیں گے۔۔۔ فاہا سوپ کا باول ہاتھ میں تھامے باپ کے کمرے میں داخل ہوئی جو بیڈ کراوں سے ٹیک لگائے تکیوں کے سہارے بیٹھے تھے۔۔۔
وہ فاہا کو دیکھ کر مسکرا دیئے۔۔۔
جتنی میری بیٹی میری کیئر کر رہی ہے۔۔ ٹھیک ہونا بنتا بھی ہے۔۔
بس بس۔۔۔ زیادہ مسکے نہیں۔۔۔ سوپ پورا ختم کرنا پڑے گا۔۔۔ چلیں جلدی سے ختم کریں۔۔۔ وہ مسکراتی ہوئی باپ کے پاس ہی کرسی گھسیٹ کر بیٹھی۔۔۔
بابا نے اسکے ہاتھوں سے باول پکڑا اور سوپ پینے لگے۔۔۔ فاہا انہیں نم آنکھوں سے دیکھ رہی تھی جو پہلے سے بہت کمزور ہو گئے تھے۔۔۔ انکی روبدار شخصت کہیں گھل سی گئ تھی البتہ آواز کا دبدبہ ابھی بھی برقرار تھا۔۔۔
دفعتاً دروازہ ناک ہونے کی آواز پر دونوں ہی دروازے کی جانب متوجہ ہوئے۔۔۔
اسلام علیکم چچا جان ۔۔۔ کیسے ہیں آپ۔۔۔
دروازے میں ایستادہ نیلی جینز اور سفید شرٹ میں ملبوس نکھرے نکھرے سے مرتسم لودھی کو دیکھ فاہا کا دل زور سے ڈھرکا۔۔
وہ دونوں باہیں وا کئے پرجوش سا گویا ہوتا چچا جان کی جانب بڑھا۔۔۔
ارے وعلیکم اسلام ۔۔۔ میرا شیر آیا ہے۔۔۔ اسے دیکھتے ہی بابا بھی کھل اٹھے۔۔۔
وہ بابا کی جانب بڑھ رہا تھا جب فاہا سرعت سے کرسی سے اٹھتی کرسی بھی گھسیٹ کر دوسری جانب کرتی اس کے لئے راستہ چھوڑ گئ۔۔۔
اب کیسی طبیعت ہے چچا جان ۔۔ ان سے گلے مل کر وہ فاہا کی چھوڑی کرسی کھینچ کر وہیں بیٹھ گیا جہان کچھ دیر پہلے فاہا بیٹھی تھی۔۔۔
فاہا بابا کی پائنتی کی جانب بیٹھ گئ۔۔۔
ہمم طبیعت تو بہتر ہے ۔۔۔ تھانیدارنی جو ہر وقت سر پر ہوتی یے۔۔۔ بابا نے مسکراتے ہوئے بات کو مزاح کا رخ دیتے فاہا کی جانب اشارہ کیا۔۔۔
چلیں ٹھیک ہے تھانیدارنی ہی سہی۔۔۔ پہلے سوپ مکمل کریں۔۔۔۔ وہ ہس کر ٹال گئ۔۔۔
ارے پی رہا ہوں۔۔۔ تم جاو مرتسم کے لئے چائے پانی کا انتظام کرواو۔۔۔
ارے نہیں چچا جان۔۔۔ ان فارمیلٹیز کی ضرورت نہیں۔۔ مجھے جب جو چاہیے ہو گا مانگ لوں۔۔ آفٹر آل میرا اپنا گھر ہے۔۔۔۔ مرتسم نے ہاتھ سے اشارہ کرتے اسے اٹھنے سے منع کیا۔۔۔
بلاشبہ یہ تمہارا اپنا گھر ہے مرتسم۔۔۔ اور فارمیلیٹی کیسی۔۔۔ محبت ہے ہماری۔ اتنی دور سے آیا ہے میرا بیٹا۔۔۔ یقیناً تھک گیا ہو گا۔۔۔ 
چچا جان کے اس محبت بھرے مان پر وہ مسکرا کر رہ گیا۔۔۔ وہ شروع سے ہی انکے قریب تھا۔۔۔ انکے درمیان تو گاوں سے شہر کا فاصلہ بھی نہیں آیا تھا۔۔۔ مرتسم لودھی اس خاندان کا واحد چشم و چراغ تھا۔۔۔ چچا اکثر کام کی غرض سے شہر آتے رہتے اور وہ سارے کا سارا وقت انکے ساتھ گزاراتا۔۔ لڑکپن سے جوانی میں قدم رکھا تو چچا جان نے اسے اپنا ہمنوا اپنا ہمراز بنایا۔۔۔ وہ ہر خاص و عام معاملے میں اس سے مشورہ طلب کرتے تھے اور وہ بھی پوری توجہ سے انکی بات سنتا انہیں بہتریں مشورے سے نوازنے کی کوشیش کرتا۔۔۔
بابا کے اشارہ کرنے پر فاہا اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔
دھیاں رکھیے گا مرتسم۔۔۔ بابا پورا سوپ ختم کریں۔۔۔ اس معاملے میں بابا اکثر ڈنڈی مار جاتے ہیں۔۔۔ کمرے سے جاتے جاتے بھی وہ مرتسم کو تنبیہہ کرنا نا بھولی۔۔۔ جبکہ اسکی بات پر بابا قہقہ لگاتے ہس دیئے اور مسکراہٹ تو مرتسم کے ہونٹوں کو بھی چھو گئ۔۔۔
مرتسم بیٹا مجھے تم سے ایک ضروری بات کرنی ہے۔۔۔ فاہا کے کمرے سے نکلتے ہی چچا جان کے چہرے پر تفکرات کے سائے لہرائے۔۔۔
حکم چچا جان۔۔۔ وہ کرسی مزید انکی جانب بڑھاتا ہمہ تن گوش ہوا۔۔۔
بیٹا بہت مان ہے مجھے تم پر۔۔۔ اور مجھے پورا یقین ہے کے تم میرا مان نہیں توڑو گے۔۔۔ انکی آواز میں خدشات تھے۔۔۔ مرتسم ٹھٹھکا۔۔۔
آپ حکم کریں چچا جان۔۔۔ آپکے لئے تو میری جان بھی حاضر ہے۔۔  وہ سنجیدہ ہوا۔۔۔
حکم نہیں بیٹا۔۔۔ التجا۔۔۔۔
چچا جان کی بے بس آواز مرتسم کے ذہن میں خدشات و تفکرات بڑھانے لگی تھئ۔۔۔
*****
کیسے ہو فائز بیٹا۔۔۔
فائز اپارٹمنٹ کا دروازہ وا کر کے باہر نکلا تو سامنے ہی بلڈنگ کے تین چار معززیں بزرگ کھڑے تھے۔۔۔
جی انکل شکر الحمدللہ۔۔۔
آپ سب یہاں خیریت۔۔۔ فائز اپنے ازلی پرخلوص انداز میں گویا ہوا۔۔
جی۔۔ جی۔۔۔ بیٹا ۔۔ دراصل آج کل آپکے اپارٹمنٹ میں شاید کوئی آیا ہوا ہے نا۔۔ بلڈنگ کے لوگ کہہ رہے تھے کے دو لڑکیاں آپکے ساتھ رہ رہی ہیں۔۔۔
ہم نے سوچا آپ سے دریافت کر آئیں۔۔  کیونکہ ماشااللہ سے آپکی شرافت اور نیک نامی تو ہم سب کے سامنے ہیں۔۔۔
غلط تو ہم کچھ آپکے بارے میں سوچ نہیں سکتے۔۔۔ وہ لوگ دھکے چھپے انداز میں اسے بہت کچھ باور کروا چکے تھے۔۔۔ فائز پریشانی سے ماتھا مسل کر رہ گیا۔۔۔ اسی دن سے تو وہ ڈرتا تھا۔۔۔
جی وہ انکل دراصل ۔۔۔ گاوں سے فیملی آئی ہوئی ہے۔۔۔ میں نے تو انہیں کہا کے آس پاس آئیں جائیں۔۔ دل لگا رہے گا انکا۔۔۔ مگر کچھ مصروفیت کی بنا پر وہ آ نہیں سکیں۔۔ دراصل شہر پڑھائی کی غرض سے آئی ہیں تو۔۔۔ مصروف ہوتی ہیں۔۔
فائز بدقت بات کو سمبھال پانے میں کامیاب ہوا۔۔۔
اوہ۔۔۔ تو بہنیں آئی ہیں آپکی۔۔۔ 
کچن کے دروازے میں کھڑی ماہرہ کے ہونٹوں پر ایک طنزیہ مسکراہٹ ابھری۔۔۔ اس بزرگ کے سوال کے جواب میں اسے فائز کی کوئی آواز نہیں ائی تھی۔۔۔ ناجانے اسنے کیا کہا تھا۔۔۔
وہ کچن میں داخل ہوتی فریج سے دودھ نکالنے لگی۔۔۔
چچ۔۔ چچ۔۔۔چچ۔۔۔ نہایت شرم کی بات ہے۔۔۔ بیوی کو بہن بنا کر آ رہے ہو۔۔۔ وہ پریشان سا ماتھا مسلتا کچن میں  داخل ہوا جب ماہرہ مسکراتی ہوئی تیکھے چتونوں سے گویا ہوئی۔۔۔
شٹ آپ ماہرہ۔۔۔ میں نے ایسا کچھ نہیں کہا۔۔۔ اسنے فریج سے پانی کی بوتل نکالتے منہ سے لگائی۔۔
ہاں تصدیق نہیں کی تو تردید بھی نہیں کی۔۔۔ اور ایسے شخص کو پتہ ہے کیا کہتے ہیں۔۔۔ وہ سب کچھ چولہے کے پاس ویسے ہی چھوڑتی اسکے قریب آئی۔۔۔
فائز یک ٹک اسکی آنکھوں میں دیکھنے لگا۔۔
دوغلا انسان۔۔۔ وہ اسکے کان کے پاس جھکتی اسکی آنکھوں میں دیکھ کر کہتی کچن سے نکل گئ۔۔۔ جبکہ اسکے جاتے ہی وہ آنکھیں میچتا چہرے پر ہاتھ پھیر کر رہ گیا۔۔۔
*****

No comments

Powered by Blogger.
4