Roshan Sitara novel 48th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Roshan Sitara novel 48th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Roshan Sitara is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels
Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front
of the world and improve their abilities in that field.
Roshan Sitara Novel by Umme Hania | Roshan Sitara novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Roshan Sitara novel by Umme Hania Complete PDF download
Online Reading
ناول "روشن ستارا"۔
مصنفہ "ام ہانیہ"۔
Official pg : Umme Hania official
اڑتالیسویں قسط۔۔۔۔
فلیٹ سے نکل کر ماہرہ بے مقصد ہی گاڑی سڑکوں پر دوراتی رہی۔۔۔۔ ایک دل چاہا کے مام کے پاس چلی جائے انکی گود میں چہرا چھپا کر اتنے آنسو بہائے کے دل ہلکا ہو جائے۔۔۔
لیکن نہیں وہ مام کے پاس نہیں جا سکتی تھی۔۔۔ ماں کی فائز کے خلاف باتوں کی وجہ سے اسکی ماں سے تلخ کلامی ہوئی تھی جسکے بعد سے وہ مام سے ناراض ہوگئ تھی۔۔ نا انکا فون اٹھاتی اور نا ہی ان سے ملنے جاتی۔۔۔
اس بات کو وہ اگر پس پشت ڈال بھی دیتی تو بھی مام شاید اسکی نا بات سمجھتی نا حالت۔۔۔ وہ فائز کو ہی مولدالزام ٹھہرا کر اسے واپس گھر آنے کو کہتیں۔۔۔ وہ اپنا یہ مسلہ مام سے شیئر نہیں کر سکتی تھی۔۔۔
وہ باپ کے بہت قریب تھی لیکن وہ یہاں اس مقام پر دل کی بات انکے سامنے بھی کھول کر نہیں رکھ سکتی تھی۔۔۔ اسے شوہر کی عزت سب سے زیادہ عزیز تھی۔۔ وہ باپ کی نظروں میں کسی طور اسکی امیج ہلکی پڑتے نہیں دیکھ سکتی تھی۔۔
یہاں اس مقام پر وہ خود کو بہت اکیلا اور بے بس محسوس کر رہی تھی۔۔۔ کس سے شیئر کرتی وہ سب جو وہ محسوس کر رہی تھی۔۔۔
دل بہت بھرا رہا تھا۔۔۔ تبھی وہ روڈ کنارے پارک کے سامنے گاڑی روکتی چہرا ہاتھوں میں چھپاتی پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔
کافی دیر تک رو کر دل کا غبار نکال کر وہ سیدھی ہوئی تو محسوس ہوا کے کافی دیر ہو چکی ہے۔۔۔ رونے کے باعث سر الگ درد کر رہا تھا اور فائز پر غصہ الگ تھا۔۔۔۔
کیوں وہ سونم کے سامنے انکا رشتہ ظاہر نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔۔ انکا رشتہ تو پہلے ہی بے نام تھا۔۔۔ لیکن وہ اچھے دوست تو تھے ہی نا۔۔۔ پھر کیوں وہ انکے رشتے میں مزید اتنی دوریاں لے آیا تھا۔۔۔
اگر وہ سونم کے سامنے انکا رشتہ ظاہر کر دیتا تو کم از کم وہ اپنے کمرے میں تو آ سکتا تھا۔۔۔ سونم دوسرے کمرے میں ٹھہر جاتی۔۔۔ اسے تو شوہر کا کچھ نا کچھ حوصلہ ہوتا۔۔۔
لیکن فائز علوی نے اسے اچھا خاصا الجھا دیا تھا۔۔۔ وہ ایک الجھے ہوئے شخص سے محبت کر کے خود بھی الجھ چکی تھی۔۔۔
******
فائز علوی لاوئنج میں سر تھامے بیٹھا تھا۔۔۔ ابھی کچھ دیر پہلے ہی اسنے کھانا باہر سے آرڈر کیا تھا۔۔۔ جبکہ سونم بھی پاس ہی بیٹھی لیپ ٹاپ پر کچھ کر رہی تھی۔۔۔
دفعتا دروازہ کھلنے کی آواز پر وہ چونک کر اس جانب متوجہ ہوا جہاں سے ماہرہ تھکے تھکے قدم اٹھاتی اندر آ رہی تھی۔۔۔
فائز کے ماتھے پر شکنوں کا جال بچھا۔۔۔ کم از کم جاتے ہوئے وہ موبائل تو ساتھ لیجا سکتی تھی ۔۔۔ وہ اتنی خواری سے تو بچ جاتا۔۔۔
کہاں سے آ رہی ہو۔۔۔ وہ اسکے قریب سے گزر کر اسے نظر انداز کرتی اپنے کمرے میں جا رہی تھی جب اسکی پاٹ دار آواز پر ماہرہ کے قدم رکے۔۔۔
سونم کے سامنے فائز کے اس لہجے میں تفتش پر اسکے سر پر لگی تلوں پر بجھی۔۔۔
تم سے مطلب۔۔۔ وہ ایریوں کے بل گھومتی پھنکار کر بولی۔۔۔
فائز اسے دیکھ کر رہ گیا۔۔۔ وہ بنا اسے کچھ بھی کہنے کا موقع دیئے سیدھا کمرے میں گئ اور زوردار آواز میں دروازہ بند کیا۔۔۔
فائز اتنی ہی تیزی سے اٹھ کر اندر اسکے پیچھے بڑھا۔۔۔
ہینڈل گھما کر اندر گیا ۔۔۔
یہ اچھی لڑکیوں کا شیوہ نہیں ماہرہ۔۔۔ اب کی بار اسکا لہجہ نرم تھا۔۔۔
میں اچھی لڑکی ہوں ہی نہیں فائز علوی۔۔۔ وہ بل کھا کر گھومی۔۔۔ وہ ہے نا باہر بیٹھی ۔۔۔ اچھی لڑکی۔۔۔ اسنے آنکھ سے باہر کی جانب اشارہ کیا۔۔۔
فائز نے غصے سے دروازہ بند کیا ۔۔۔ مبادا آواز باہر نا جائے۔۔۔
اس سب میں اسکا کیا ذکر۔۔۔ وہ کھوجتی نگاہوں سے اسے دیکھتا سینے پر ہاتھ باندھ گیا۔۔۔
میرا دماغ خراب کرنے کی ضرورت نہیں ہے فائز علوی۔۔۔ جاو میرے کمرے سے۔۔۔ وہ دکھتا سر دابتی بیڈ پر بیٹھی۔۔۔ اسے ناجانے کس کس بات پر غصہ آ رہا تھا۔۔۔
ماہرہ میں پریشان تھا تمہارے لئے۔۔۔ تمہارے لئے گھنٹوں سڑک پر خوار ہوتا رہا ہوں۔۔۔ ماموں کے ہاں بھی چکر لگا آیا۔۔۔ مگر تم وہاں بھی نا تھی۔۔۔ مجھے فکر ہو رہی تھی تمہاری یار۔۔۔۔ اوپر سے تم موبائل بھی گھر چھوڑ گئ تھی۔۔۔
وہ خود کو کمپوز کرتا نرمی سے اسے سمجھانے لگا۔۔۔
ماہرہ نے سر سے ہاتھ ہٹا کر اسے دیکھا۔۔۔
تمہیں واقعی میری فکر ہو رہی تھی فائز۔۔۔ یہ تو وہی حال ہو گیا کے زندہ انسان کی قدر نہیں مردوں کی قبر پر جا کر رو رو کر بتانا کے تمہاری میری زندگی میں کیا اہمیت تھی۔۔۔ وہ ہنوز تلخ تھی اور بھرپور تلخی نکال رہی تھی۔۔۔
اس بکواس سی مثال کا مقصد۔۔۔
وہ ناسمجھی سے سر نفی میں ہلاتا صوفے کے کنارے پر ٹکا۔۔۔
مطلب یہ ہی کے سارا دن گھر میں ہوتے ہوئے تمہیں میں دکھائی نہیں دیتی۔۔۔ کبھی دو گھڑی میرے پاس بیٹھے تک نہیں اور اب تمہیں میری فکر ہونے لگی۔۔۔ وہ اسے دیکھتی شکوہ کناں ہوئی۔۔۔ بامشکل وہ آنکھوں کی نمی کو چھلکنے سے روکے ہوئے تھی۔۔۔
فائز نے پریشانی سے ماتھا مسلہ۔۔۔
مصروف ہوتا ہوں ماہرہ۔۔۔ تمہارے سامنے ہی ہے سب۔۔۔ وہ بے بسی سے گویا ہوا۔۔۔
ماہرہ آنکھوں کی نمی کو چھپانے کے لئے رخ موڑ گئ۔۔۔ وہ گیلی سانس اندر کھینچتی خود کو کمپوز کرنے کو کسی غیر مری نقطے کو گھور رہی تھی جبکہ فائز کہنیاں گھٹنوں پر رکھے ہاتھوں کی انگلیاں باہم پیوست کئے سر جھکائے شکستہ سے انداز میں بیٹھا تھا۔۔۔
سونم واپس کب جائے گی۔۔۔ کچھ دیر بعد وہ خود کو کمپوز کرتی فائز کی جانب رخ کر کے گویا ہوئی۔۔۔
وہ کہاں جائے گی بھلا۔۔۔ فائز نے جھٹکے سے سر اٹھاتے اسے دیکھا۔۔۔
ماہرہ کے ماتھے پر ناسمجھی سے بل پڑے۔۔۔
مطلب کیا یے تمہارا فائز علوی ۔۔۔ کیا وہ ہمیشہ کے لئے یہاں رہنے والی ہے۔۔۔
فائز نے خشک پڑتے لبوں پر زبان پھیری۔۔۔
جب تک اسکا کوئی مناسب ارینج نہیں ہوجاتا تب تک تو یہیں ہے وہ۔۔۔
وہ بے ضرر ہے ماہرہ۔۔۔ اسکی ذات سے تمہیں کیا ہریشانی۔۔۔
پریشانی ہے۔۔۔ ہے مجھے پریشانی فائز۔۔۔ وہ تلخی سے اسکی بات کاٹ گئ۔۔۔
میری پرائیویسی ڈسٹرب ہو رہی ہے۔۔۔ وہ روہانسی ہوئی۔۔۔
نہیں تو پھر اسکے سامنے ہمارا رشتہ کلیئر کرو۔۔۔ کیوں اسے بے نام رکھا ہوا ہے۔۔۔ اسکے اندر آگ لگی پڑی تھی۔۔۔ سمجھ نہیں آ رہا تھا فائز کو کیسے اپنی بات سمجھائے۔۔۔
نہیں کر سکتا ابھی۔۔۔ میری کچھ مجبوری ہے۔۔۔ وہ جھنجھلا اٹھا۔۔۔
ایسی کیا مجبوری ہے تمہاری۔۔۔ تم بتانا پسند کرو گے۔۔۔
اسکا خون کھول اٹھا۔۔۔ مٹھیاں میچے وہ بامشکل خود پر قابو پا رہی تھی۔۔۔
میں اپنی ہر بات تم سے شئیر نہیں کر سکتا ۔۔۔ یکدم ہی وہ اجنبی بنا۔۔۔
تو پھر ٹھیک ہے۔۔ اسے میرے گھر سے بھیج دو۔۔۔ مجھے میری پرائیویسی عزیز ہے۔۔۔ اسے اجنبی بنتا دیکھ ماہرہ نے بھی آنکھیں پھیرتے دو ٹوک فیصلہ سنایا۔۔۔
فلحال وہ کہیں نہیں جا سکتی۔۔۔ ہاں اگر تم اس ماحول سے فیڈ آپ ہو گئ ہو اور کچھ چینج چاہتی ہو تو تم کچھ دن کے لئے ماموں کے ہاں چلی جاو۔۔۔
ابکی بار فائز کا لہجہ کچھ نرم تھا۔۔
ماہرہ نے جھٹکے سے سر اٹھاتے حیرت سے اسے دیکھا۔۔۔
وہ گمّ صم رہ گئ تھی۔۔۔ یکدم ہی اندر سناٹے اترنے لگے تھے۔۔۔ کتنی بڑی بات بول گیا تھا وہ۔۔۔ وہ اسکے مقابلے میں ایک غیر لڑکی کو اہمیت دے گیا تھا۔۔۔ سختی سے مٹھیاں میچتے اسنے جسم کی لغزش پر قابو پایا۔۔
دل چاہ رہا تھا سب کچھ تہس نہس کر دے۔۔۔ آنکھیں چھلکنے کو بے تاب تھیں۔۔۔
نکلو میرے کمرے سے۔۔۔ کچھ دیر بعد آواز کی لغزش پر قابو پاتے وہ خونخوار تیور لئے ڈھاری۔۔۔
ماہرہ وہ۔۔۔
نکلو یہاں سے فائز علوی۔۔۔ فلحال میں تمہاری شکل تک نہیں دیکھنا چاہتی۔۔۔
وہ کپکپاتے ہاتھوں سے سر تھامے خود کو کمپوز کرنے میں بے حال ہو رہی تھی۔۔۔
ماہرہ۔۔۔
جاو یہاں سے۔۔۔ وہ شدت سے چلائی کے فائز اسے تاسف سے دیکھتا کمرے سے نکل گیا۔۔۔
وہ بستر پر اوندھے منہ لیٹتی تکیے میں چہرا گھسا گئ۔۔۔
کسی کے سامنے اپنا یہ شکستہ حال دکھانا بھی اسکی انا کے خلاف تھا۔۔۔ اسے اپنا یہ بھرم سب سے عزیر تھا۔۔۔ مگر آج اسے فائز پر غصہ حد سے زیادہ تھا۔۔۔۔
*****
فائز باہر آ کر گم صم سے انداز میں صوفے پر بیٹھا ۔۔۔۔ماتھا مسلتا وہ کسی گہری سوچ میں غرق تھا۔۔ یہ جو کچھ بھی ہو رہا تھا بالکل ٹھیک نہیں تھا۔۔ وہ جس میس میں بری طرح پھس چکا تھا وہاں سے نکلنے کا اسے کوئی راستہ دکھائی نہیں دے رہا تھا۔۔۔ ماہرہ کا ردعمل اسکی باتیں اسکا تلخ لہجہ اسے بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر رہا تھا۔۔۔
کچن میں کھڑی کھانا برتنوں میں نکالتی سونم نے ایک نظر اسکے گم صم سے انداز کو دیکھا۔۔۔ کھانا ابھی ابھی ہوم ڈیلیوری والا دے کر گیا تھا۔۔۔
اسنے کھانے کی ٹرے لا کر فائز کے سامنے میز پر رکھی ۔۔۔
کھانا۔۔۔ اسکے پکارنے پر فائز کسی گہری سوچ سے ابھرا۔۔ ایک نظر کھانے کی ٹرے کی طرف دیکھا اور دوسری نظر سیاہ آنچل کے ہالے میں دمکتے اسکے شفاف چہرے کو۔۔
تم نے کھایا۔۔۔ وہ سر جھٹکے گویا ہر سوچ کو جھٹکتا گویا ہوا۔۔۔
نہیں ۔۔ ابھی ابھی آیا ہے۔۔۔۔وہ پاس ہی سنگل صوفے پر بیٹھ گئ۔۔۔
شروع کرو۔۔۔ فائز نے اسے ہاتھ سے اشارہ کیا۔۔۔
آپ نہیں کھائیں گے۔۔ اسنے پلیٹ میں کھانا نکالتے فائز کی جانب بڑھایا۔۔۔
نہیں ابھی بھوک نہیں۔۔ سر درد یکدم ہی بڑھ گیا تھا۔۔۔ ماہرہ کے ساتھ ہوئی تلخ کلامی کے بعد بھوک تو ویسے ہی مر گئ تھی۔۔۔
سونم نے وہی پلیٹ اپنے سامنے کھسکا لگی۔۔۔
کیا میری وجہ سے کوئی ڈسٹربنس ہے۔۔۔ وہ کھانے پر جھکی عام سے انداز میں گویا ہوئی۔۔۔
ہرگز نہیں۔۔۔ تمہیں یہ کس نے کہہ دیا۔۔۔ وہ چونک کر اسکی جانب متوجہ ہوتا شدت سے نفی کر گیا۔۔۔۔
بس ایسے ہی محسوس ہوا مجھے۔۔۔
وہ چھوٹے چھوٹے نوالے لیتی کھانا کھا رہی تھی۔۔
ایسی کوئی بات نہیں ہے سونم۔۔۔ فضول میں وہم مت پالا کرو۔۔۔ وہ ہلکا سا مسکرایا۔۔۔
سونم کھانا کھا کر اٹھ کر قرآن پاک لیتی بالکنی میں چلی گئ تو وہ ٹرے لیے کر ایک مرتبہ پھر سے ماہرہ کے پاس کمرے میں موجود تھا۔۔۔
وہ اوندھے منہ تکیے میں منہ گھسائے لیتی تھی۔۔۔ فائز کی کمرے میں موجودگی محسوس کر کے بھی ویسے ہی لیٹی رہی۔۔۔
وہ اپنی یہ بے بس حالات اور آنسو کسی صورت فائز کو بھی نہیں دکھانا چاہتی تھی۔۔۔
فائز سائیڈ ٹیبل پر ٹرے رکھتا اسکے پاس ہی بیٹھا۔۔۔اٹھو ماہرا یار چلو کھانا کھائیں۔۔۔ اسنے نرمی سے ماہرہ کا سر سہلایا۔۔۔ ماہرہ کرب سے آنکھیں میچ گئ۔۔۔
اٹھو نا یار ۔۔۔ پلیز۔۔۔ دیکھو میں نے بھی ابھی تک کھانا نہیں کھایا۔۔۔ وہ نرمی سے اسکے کانوں میں رس گھول رہا تھا۔۔۔
ماہرہ کا دل پھٹنے کے قریب ہوا۔۔۔ مگر وہ بے حس بنی ویسے ہی لیٹی تھی۔۔۔۔
کیوں اسنے انکا رشتہ بے نام رکھا ہوا تھا۔۔۔
وہ کافی دیر بیٹھا اسے اٹھنے کی التجائیں کرتا رہا مگر اسنے نا اٹھنا نا اٹھی۔۔۔ اسے اسکا بھرم زیادہ عزیز تھا۔۔۔ فائز کو وہ اس وقت اپنی بے بس صورت نہیں دکھا سکتی تھی۔۔۔ کافی دیر کی کوشیش کے بعد فائز تھک ہار کر ٹرے اٹھاتا باہر آ گیا۔۔۔
اسنے ٹرے لا کر کچن میں رکھی اور خود باہر نکل آیا۔۔۔
جب ماہرہ نے نہیں کھانا کھایا تو اسکے کھانے کا تو سوال ہی نا تھا۔۔۔
*****
صبح فائز حسب معمول تیار ہو کر اپنے وقت پر کمرے سے نکلا۔۔۔ آج اسکا فائنلز کا پہلا پیپر تھا۔۔۔ اور پیپر تو آج ماہرہ کا بھی تھا۔۔۔ وہ کل سے اس سے روٹھی ہوئی تھی۔۔۔ وہ اس سے بات کر کے اس مسلے کا کوئی حل نکالنا چاہتا تھا۔۔۔
کل رات اسے کمرے سے نکلنے پر اپنے الفاظ کی سختی کا احساس ہوا تو لب بھینچ گیا۔۔۔
اب بھی وہ باہر نکلا تو سونم کچن میں ناشتہ تیار کر رہی تھی۔۔۔ وہ سیدھا اسکے پاس ہی آیا۔۔۔
ماہرہ تیار ہو گئ۔۔۔ وہ انکے کمرے کی جانب دیکھتا مستفسر ہوا۔۔۔
وہ تو چلی بھی گئیں۔۔۔ سونم نے پڑاتھا اتار کر ڈش میں رکھا۔۔۔
کیا۔۔۔ وہ شاکڈ ہوا۔۔۔ کلائی پر بندھی گھری میں وقت دیکھا۔۔۔ ابھی تو کافی وقت تھا۔۔۔
کب گئ۔۔۔
کافی دیر ہوگئ ہے۔۔۔۔
آپ ناشتہ نہیں کریں گے۔۔۔ وہ فائز کو لب بھینچے باہر نکلتا دیکھ بے چینی سے مستفسر ہوئی۔۔۔
نہیں۔۔۔ بھوک نہیں۔۔۔
آپ نے رات بھی کھانا نہیں کھایا تھا۔۔۔ سونم کی فکر مندانہ آواز پر اسکے قدم ٹھٹھک کر رکے۔۔۔۔
میری فکر مت کرو سونم۔۔۔ تم ناشتہ کرو۔۔۔ مجھے دیر ہو رہی ہے میں یونیورسٹی سے کچھ کھا لوں گا۔۔۔ وہ پلٹ کر ہلکی سی مسکراہٹ سے کہتا باہر نکل گیا۔۔۔ جبکہ سونم فائز کو دیکھ کر ایک نظر ناشتے کو دیکھ کر رہ گئ۔۔۔ پھر ناشتے کی ٹرے اٹھاتی باہر لاوئنج میں ہی آگئ۔۔۔
******
تم نے کیا کیا۔۔۔ کونسی جادو کی جھڑی گھمائی یا ڈین کو کونسی گیڈر سنگھی سونگھائی جو وہ لائن پر آگیا۔۔۔ کہاں وہ ڈگری کینسل کرنے کی دھمکیاں دے رہا تھا کہاں آج مجھے امتحان میں بیٹھنے دے دیا۔۔۔
کمرہ امتحان سے آج فائنلز کا پہلا پرچہ دے کر باہر نکلتے ہی مرتسم نے پریشانی سے یہاں وہاں کسی کو تلاش کرتے فائز کو چھلانگ لگاتے گلے میں بازو ڈال کر دبوچا۔۔۔
وہ تاسف سے اپنے اس سر پھرے یار کو دیکھ کر رہ گیا۔۔۔
وہاج بھی مسکراتے ہوئے انکی طرف ہی آ رہا تھا۔۔۔
کیسا ہوا پیپر۔۔۔
اسنے آتے ہی مرتسم کے سر پر چیت رسید کی۔۔۔
آوٹ کلاس۔۔۔
مجھے تو چھوڑو۔۔۔ مجھے کس چیز کی سزا ہے۔۔۔ تمہیں کمرا امتحان میں بیٹھانے کی۔۔۔
وہ فائز کی گردن کہنی میں دبوچے نیچے کو کئے جا رہا تھا جب وہ اسکی گرفت سے خود کو آزاد کراتا جھنجھلایا۔۔۔
مرتسم قہقہ لگاتا پیچھے ہٹا۔۔۔
تمہیں کس چیز کی سزا دینگے تم تو اپنے شہزادے ہو۔۔۔ مرتسم نے مسکراتے اسے ساتھ لگایا۔۔
ہم تو بس یہ جاننا چاہ رہے تھے کے تم نے گھی سیدھی انگلی سے نکالا کے ٹیرھی سے۔۔۔ وہاج چھلانگ لگا کر اسکی بائیں جانب آیا۔۔۔
ٹیرھی انگلی سے۔۔۔ فائز نے انکی جانب دیکھتے آنکھ ماری۔۔۔۔اوے ہوئے۔۔ واقعی۔۔۔
یار سیدھا سادھا لڑکا خراب ہو گیا۔۔۔وہ دونوں ایک دوسرے کے ہاتھ پر ہاتھ مارتے ہس دیئے۔۔۔
فائز سر جھٹکتا مسکرا دیا۔۔
پھر بھی کیا کیا۔۔۔ وہاج تجسس کے ہاتھوں مجبور ہوا۔۔۔
کچھ خاص نہیں۔۔ آرام سے سمجھانے کی بہت کوشیش کی لیکن نہیں مان رہا تھا۔۔۔
پھر۔۔۔ مرتسم نے ماتھے پر بل ڈالتے ٹکرا لگایا۔۔۔
پھر کیا ۔۔۔ ہر انسان کے کچھ راز ہوتے ہیں۔۔۔ اسکے ای میل ایڈریس تک رسائی حاصل کی تو اسکے کچھ گھپلوں کے بارے میں پتہ چلا۔۔۔ جسکے بعد وہ تیر کی طرح سیدھا ہوتا لائن پر آگیا۔
فائز کی متلاشی نگاہیں ابھی بھی بے چینی سے کسی کو تلاش رہی تھیں۔۔۔
اوہ۔۔۔ انہوں نے سمجھ کر سر ہلایا۔۔۔
گھپلا کیا تھا جو اسنے کیا۔۔۔ مرتسم کا انداز سنجیدہ تھا۔۔
کیا چل رہا ہے تمہارے خرافاتی دماغ میں۔۔۔ فائز ٹھٹھکا۔۔۔ مرتسم کا انداز پر اسرار تھا۔۔۔ سمجھ کر فائز سر تھام گیا۔۔۔
دیکھو مرتسم ہمارا کام نکل گیا نا بات ختم۔۔ سیدھے سے اپنی ڈگری مکمل کرو اور آگے پریکٹیکل لائف کا سوچو۔۔ خوامخواہ کے پھڈوں میں حصہ نا ڈالو۔۔۔ فائز سنجیدگی سے گویا ہوا۔۔۔
چھوڑو فضول کے اس ٹاپک کو۔۔ یہ بتاو تب سے ڈھونڈ کسے رہے ہو۔۔
وہاج نے بات بگڑتی دیکھ موضوع بدلنا چاہا۔۔
کچھ نہیں یار بس ماہرہ کو دیکھ رہا تھا۔۔ کہیں دکھ نہیں رہی۔۔۔
وہاج کی کاوش کامیاب ٹھہری وہ واقعی موضوع بدل گیا ۔۔۔ اوہ تو مسز کی یاد ستا رہی ہے۔۔۔ وہاج کے پرشوخ انداز میں کہنے پر وہ اسے گھور کر رہ گیا۔۔۔۔
اچھا چلو ٹھیک ہے تم دیکھو مجھے کچھ کام ہے۔۔۔ وہ فائز کا کندھا تھپتھپا کر آگے بڑھ گیا۔۔۔ جبکہ فائز پریشانی سے پھر سے اسے تلاشنے لگا۔۔
جب اسے ڈھونڈتے ڈھونڈتے وہ پارکنگ میں آیا لیکن اسکی گاڑی وہاں موجود نا پر کر لب بھینچ گیا۔۔۔ مطلب وہ یہاں سے جا چکی تھی۔۔۔
ماہرہ یار۔۔۔ مت کرو ایسا۔۔۔ وہ بے بسی سے ہاتھ سر پر مار کر رہ گیا۔۔۔۔
مطلب آگ یک طرفہ نہیں لگی تھی۔۔ تبھی تو اب نظر اندازی کھل رہی تھی۔۔۔
وہ آج تک زندگی میں کبھی نہیں روٹھی تھی۔۔۔ نا کبھی فائز کو اسکے پیچھے جانے کی نوبت آئی تھی۔۔۔ ہمیشہ وہی تو آتی تھی اسکے پیچھے۔۔۔ اب روٹھی تھی تو فائز کو اپنے تک آنے کا راستہ بھی نہیں دے رہی تھی۔۔۔
بڑئ خطرناک ناراضگی تھی اسکی۔۔۔
عجیب لڑکی تھی۔۔۔ محبت کرتی تھی تو پر شدت۔۔۔ ناراض ہوتی تھی تو ساری کشتیاں جلا کر۔۔۔
******

No comments