Roshan Sitara novel 47th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Roshan Sitara novel 47th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Roshan Sitara is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels
Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front
of the world and improve their abilities in that field.
Roshan Sitara Novel by Umme Hania | Roshan Sitara novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Roshan Sitara novel by Umme Hania Complete PDF download
Online Reading
ناول "روشن ستارا"۔
مصنفہ "ام ہانیہ"۔
Official pg : Umme Hania official
سینتالیسویں قسط۔۔
فاہا کالم ڈاون یار۔۔۔ بات کیا ہے۔۔ بتاو تو سہی۔۔۔ اب مجھے پریشانی ہو رہی ہے۔۔۔ تم ہو کہاں اس وقت۔۔۔ وہ مضطرب سا بستر سے اتر کر سلیپر پہن رہا تھا۔۔۔
میں ہسپتال میں ہوں مرتسم۔۔۔ بابا کی طبیعت بہت خراب ہے۔۔۔ وہ کافی وقت سے اندر ہیں لیکن ڈاکٹر مجھے کچھ بتا نہیں رہے۔۔۔ میرا دل بہت گھبرا رہا ہے مرتسم۔۔۔ آپ پلیز آ جائیں۔۔۔ جلدی آ جائیں مرتسم مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے۔۔۔
وہ روتی ہوئی بامشکل بول رہی تھی۔۔۔
فکر مت کرو میں بس پہنچ رہا ہوں۔۔۔ ساتھ کون ہے تمہارے۔۔۔ بعجلت فون بند کرتے کرتے وہ رکا۔۔۔ صوفے سے اپنی شرٹ اٹھائی اور پہنتےپہنتے یاد آنے پر مستفسر ہوا۔۔۔
بوا اور ڈرائیور چچا ہیں۔۔۔
ٹھیک ہے میں پہنچ رہا ہوں۔۔ حوصلہ رکھو۔۔۔ بات مکمل کرتے ہی اسنے رابطہ منقطع کر کے فون حیب میں رکھا واش روم میں جا کر پانی کے چھپاکے چہرے پر مارے۔۔۔ اور ہیئر برش اٹھا کر بعجلت بال بنائے۔۔۔ والٹ اور کار کی چابی اٹھاتا باہر کو لپکا۔۔۔
ماں اور بابا کے کمرے کے پاس رک کر ناک کیا۔۔۔
جب وہ کچھ دیر تک نا نکلے تو وہیں سے آگے بڑھ گیا۔۔۔ وہ گاڑی سٹارٹ کر کے گھر سے نکل چکا تھا جب بابا کا فون آنے لگا۔۔۔
خیریت ہے نا مرتسم۔۔۔ دروازہ ناک کر کے پھر خود گھر سے نکلے گئے۔۔ فون اٹھاتے ہی بابا کی پریشان حال آواز ابھری۔۔
بابا جان۔۔۔ چچا جان کی طبیعت بہت خراب ہے ۔۔۔ فاہا کا فون آیا تھا وہ ہاسپٹلائزڈ ہیں اور فاہا وہاں اکیلی ہے۔۔۔ میں وہیں جا رہا ہوں۔۔۔ آپ بھی کچھ دیر تک نکل آئیں۔۔ اکھٹے جاتے تو مزید دیر ہو جاتی اور فاہا پہلے ہی بہت گھبرائی ہوئی ہے۔۔۔ مرتسم گاڑی ہواوں میں اڑا رہا تھا۔۔
ٹھیک ہے تم پہنچو میں بھی نکلتا ہوں۔۔
بابا نے پریشانی سے ماتھا مسلا
*****
اپنے کہے کے عین مطابق اگلے آدھے گھنٹے میں مرتسم وہاں موجود تھا۔۔ایک گھںتے کا راستہ وہ آدھے گھنٹے میں طے کر کے کیسے وہاں پہنچا تھا یہ وہی جانتا تھا۔۔
وہاں پہنچتے ہی اسنے سب سمبھال لیا تھا۔۔۔ فاہا کو اسکے وہاں پہنچنے سے بہت ڈھارس مل تھی۔۔ وہ بینچ پر بیٹھی دیوار سے ٹیک لگائے مسلسل زیر لب مختلف آیات کا ورد کرتی اسے ہی دیکھ رہی تھی جسکی ہر جانب دوڑیں لگی ہوئیں تھیں۔۔۔
کچھ دیر تک تایا جان اور تائی اماں بھی وہاں پہنچ گئے۔۔۔ فاہا تائی جان کے گلے لگتی پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔
بس بیٹا حوصلہ کرو۔۔۔ اللہ نے چاہا تو تمہارے بابا کو کچھ نہیں ہوگا۔۔۔
تائی امان نے اسکا سر سہلاتے اسے حوصلہ دیا۔۔۔
سلمان صاحب اور مرتسم پچھلے کافی وقت سے ڈاکٹر کے کمرے میں تھے۔۔ ناجانے وہاں کیا باتیں ہو رہی تھیں وہ قطعاً انجان تھی۔۔۔
مرتسم اور تایا جان ڈاکٹر کے کمرے سے باہر نکلے تو فاہا دیوانہ وار انکی جانب لپکی۔۔ کیا کہا ڈاکٹر نے تایا جان۔۔۔ میرے بابا ٹھیک ہو جائیں گے نا۔۔۔ وہ بہتی آنکھوں میں آس سموئے ان سے مستفسر تھی۔۔۔ تایا جان نے لب بھنچتے اسکے سر پر ہاتھ رکھا اور آگے بڑھ گئے۔۔۔
فاہا کے اندر کچھ چھن سے ٹوٹا۔۔۔ وہ گم صم سی انکا شکستہ انداز دیکھ کر رہ گئ۔۔۔ گردن میں گلٹی ابھر کر معدوم ہوئی۔۔۔ جیسے چھٹی حس کچھ غلط ہونے کی نشاندہی کر رہی ہو۔۔۔
مرتسم۔۔۔ آپ تو بتائیں کچھ۔۔ تایا جان۔۔۔ وہ شاک کی سی کیفیت میں مرتسم کی جانب پلٹی۔۔۔ حلق میں آنسووں کا گولہ سا اٹکا تھا۔۔۔ دل کی بے قابو ہوتی دھک دھک اسکے ارد گرد شدت سے کچھ غلط ہونے کا سائرن بجا رہی تھی۔۔
وہ ٹھیک ہیں فاہا۔۔۔ اور
پلیز مرتسم۔۔ پلیز۔۔۔ مجھ سے کچھ مت چھپانا۔۔۔ وہ کپکپاتے ہاتھوں سے اسکی بازو جھکرتی ملتجی ہوئی۔۔۔
مرتسم نے سنجیدگی سے اسے دیکھا۔۔۔
دیکھیں مرتسم مم۔۔۔ میں جانتی ہوں کے بابا ہارٹ پیشنٹ ہیں۔۔۔ پچھلے دنوں انہیں ہارٹ اٹیک بھی آیا تھا۔۔ اور ڈاکٹر کے کہنے کے باوجود وہ اپنی صحت سے لاپرواہی برتتے رہے ہیں۔۔۔ یہ سب مجھے یہیں آ کر پتہ چلا۔۔۔ وہ کپکپاتے لبوں سے ٹوٹے پھوٹے الفاظ ادا کر رہی تھی۔۔۔
یہ ہی بات ہے فاہا کے چچا جان نے اپنی بیماری ہم سب سے پوشیدہ رکھی۔۔۔ انکا مسلہ بڑھ گیا ہے۔۔۔ ڈاکٹر نے دل کا بائی پاس بتایا ہے۔۔۔ اور فلحال اس آپریشن کے لئے چاچا کی صحت بالکل بھی ٹھیک نہیں۔۔۔ ڈاکٹر نے دو ہفتے بعد کا ٹائم دیا ہے۔۔۔ اس بیچ انکا بی پی اور شوگر لیول کنٹرول رہنا چاہیے تو ہی آپریشن کامیاب ہو سکے گا۔۔۔ مرتسم ہاتھ پشت پر باندھے کسی غیر مری نقطے کو دیکھتا اس پر حوصلہ شکن انکشافات کر رہا تھا۔۔۔ جب وہ پہلے سے بہت کچھ جانتی تھی تو چھپانے کا فائدہ۔۔۔ اکلوتی بیٹی تھی وہ انکی۔۔۔ حق رکھتی تھی انکے بارے میں جاننے کا۔۔۔
فاہا کو مرتسم کی کہی ہر بات کے ساتھ اپنی ڈھرکنیں سست پڑتی محسوس ہوئیں۔۔۔
اب بابا کیسے ہیں۔۔۔ وہ لہجے کی کپکپاہٹ پر قابو پاتی گویا ہوئی۔۔
کچھ دیر تک انہیں ہوش آ جائے گا فاہا۔۔۔ لیکن تمہیں انکے سامنے خود کو کمپوز رکھنا ہوگا۔۔۔ ان دو ہفتوں میں انکی اچھی کیئر سے انشااللہ انکا آپریشن کامیاب رہے گا۔۔۔ تم انکے سامنے یوں بکھر نہیں سکتی۔۔۔ اور اگر تم خود پر ضبط نا رکھ سکو تو پھر کوشیش کرنا کے تم انکے سامنے مت آو۔۔۔ کیونکہ ڈاکٹر نے انہیں پریشانی سے دور رکھنے کو کہا ہے۔۔۔ مرتسم نے سنجیدگی سے اسے سمجھایا وہ ہاتھ کی پشت سے آنسو رگڑتی سر ہاں میں ہلا گئ۔۔۔
*****
ماہرہ لاوئنج میں صوفے پر بیٹھی گم صم سے انداز میں کافی پی رہی تھی ۔۔۔ ساتھ ہی ساتھ وہ فائز اور سونم کو لیب کے ادھ کھلے دروازے سے ساتھ بیٹھے کچھ ڈسکس کرتے صاف دیکھ سکتی تھی۔۔۔ سونم کو یہاں آئے دو ہفتے ہونے کو تھے۔۔۔ لیکن ہر گزرتا دن ماہرہ کے خدشات کو بڑھانے کے ساتھ ساتھ اس کے دل پر بھاری سلوں کا اضافہ کرتا جا رہا تھا۔۔ وہ سب کچھ دیکھتی محسوس کرتی اندر ہی اندر بجھتی جا رہی تھی۔۔۔ ہونٹوں پر ایک قفل سا لگنے لگا تھا۔۔۔
وہ چپکے سے کئ بار آنکھوں کی نمی صاف کر کے مسکراتے ہوئے فائز کے سامنے آئی تھی۔۔۔ وہ اب فائز کو لے کر اپنی حساسیات دیکھا کر فائز کی نظروں میں شکی القلب کہلاتی اپنا مقام نہیں کھونا چاہتی تھی۔۔۔ مگر اب اسکی ہمت جواب دیتی جا رہی تھی۔۔۔ یہ سب دیکھنا براداشت کرنا اسکے لئے جان لیوا تھا۔۔۔ اب سب برداشت سے باہر ہوتا جا رہا تھا۔۔۔
فائز کا سونم کی کیئر کرنا۔۔۔ اسکی فکر میں ہلکان رہنا۔۔۔ پہروں اسکے ساتھ بیٹھ کر باتیں کرنا اور ان دونوں کا سارا سارا دن لیب میں بند رہنا ماہرہ کے اندر شدت سے خطرے کی گھنٹیاں بجا رہا تھا۔۔۔
وہ چاہ کر بھی ہر جانب سے آنکھیں مونڈ نہیں سکتی تھی۔۔۔
گو کے فائز کا رویہ اسکے ساتھ بھی بدلا نا تھا۔۔۔ وہ آج بھی وہی فائز تھا۔۔۔ کھانا اسکے ساتھ کھاتا۔۔۔ اسکی چھوٹی چھوٹی چیزوں کا خیال رکھتا۔۔۔ کچن میں اسکے ساتھ مدد کرواتا۔۔۔ اسکی چھوٹی سی تکلیف پر بھی تڑپ اٹھتا۔۔۔ مگر اسکے باوجود کچھ تھا جو بدل رہا تھا یا بدل گیا تھا۔۔۔
سونم کے آنے سے ان دونوں میں بہت دوریاں آگئ تھیں۔۔۔
دور وہ اس سے پہلے بھی تھا۔۔۔ مگر اب تو یہ فاصلے بہت بڑھ گئے تھے۔۔۔
سونم کے سامنے وہ کسی طور اسے بیوی کے طور پر متعارف کروانے پر راضی نا تھا۔۔۔ اور یہ چیز ماہرہ کی زندگی کا سب سے بڑا روگ بن گئ تھی۔۔۔ خود وہ سونم کے ساتھ کمرا شیئر کر رہی تھی۔۔۔ پہلی بات کے وہ خود تو اس کمرے میں اتا ہی نا ۔۔۔ آتا تو اجنبیوں کی طرح ۔۔۔ جس کام سے اتا وہ کام کرتا اور نکل جاتا۔۔۔ وہ ترس گئ تھی فائز کے ساتھ بیٹھ کر اسکے کندحمھے پر سر رکھ کر دل ہلکا کرنے کو۔۔۔
پہلے تو ہر طرح کی بات اس سے کر لیتی۔۔۔ حتکی دل کی بھراس بھی نکال دیتی۔۔ اب اتنے دنوں سے دل کا غبار بھی اندر ہی اندر جمع ہو رہا تھا۔۔۔
وہ حقیقت سے نظریں چرانا چاہتی تھی۔۔ وہ فلحال فائز سے آمنے سامنے اس ٹاپک پر کھل کر بات نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔۔ اگر اسکی باز پرس کے نتجے میں اسنے کوئی ایسی حقیقت بتا دی جو ماہرہ پر بجلی بن کر گرتی تو وہ کیا کرے گئ۔۔۔
یہ ہی وجہ تھی کے وہ ابھی تک لب سیئے ہوئے تھی۔۔۔ مگر اب سب برداشت سے باہر ہوتا جا رہا تھا۔۔۔ دل زیادہ بھر آیا تو وہ اپنی گاڑی کی چابی اٹھاتی وہاں سے نکل آئی ۔۔۔ دل اس وقت شدت سے کسی کھلی فضا میں جی بھر کع رونے کا چاہ رہا تھا۔۔۔
اسکے فلیٹ سے نکلتے ہی فائز چونکتا ہوا لیب سے نکلا۔۔۔ گو کے وہ اسکی جانب سے بالکل بھی بے خبر نا تھا۔۔۔
جب تک بھاگ کر وہ بالکبی تک آیا ماہرہ اپنی گاڑی لے کر وہاں سے نکل چکی تھی۔۔۔
وہ پریشانی سے ماتھا مسل کر رہ گیا۔۔۔
کیا ہوا ۔۔۔ دفعتاً سونم بھی اٹھ کر باہر آتی ناسمجھی سے گویا ہوئی۔۔۔
فائز سر نفی میں ہلاتا واپس لیب میں آیا اور فون اٹھا کر ماہرہ کا نمبر ڈائل کیا۔۔۔ آج تک تو وہ ایسے بنا بتائے کہیں نہیں گئ تھی۔۔ بلکہ وہ تو شادی کے بعد سے اپنی ہر من مانی چھوڑ کر فائز پر انحصار کرنے لگی تھی ۔۔۔۔
ماہرہ کے فون کی بیل لاوئنج سے سنائی دی تو وہ غصے سے فون بند کر کے میز پر پٹخ کر رہ گیا۔۔۔
حد تھی حماقت کی۔۔۔ وہ جانے سے پہلے فون تک وہیں چھوڑ گئ تھی۔۔۔
****
فائز کا دھیان کام سے یکسر ہٹ گیا تھا۔۔۔ ماہرہ کو گھر سے گئے ایک گھنٹہ ہونے کو تھا مگر وہ ابھی تک واپس نہیں آئی تھی۔۔ فائز کو بے چینی لاحق ہونے لگی تھی۔۔۔ کچھ دنوں سے وہ اسکا بجھا بجھا سا انداز نوٹ کر رہا تھا ۔۔۔ مرتسم کا مسلہ فائنلز کی تیاری اور پھر جلد از جلد پڑاجیکٹ کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کی تگ و دود میں وہ آج کل اپنا آپ تک بھلائے ہوئے تھا۔۔۔ اسے سر کحجھانے تک کی فرصت نا تھی۔۔۔ وہ سارا سارا دن لیب میں گزار دیتا ۔۔۔ ماہرہ یا سونم اسے کھانے کے لئے بلانے آتی تو وہ بمشکل کام سے اٹھ کر آ کر کھانا کھاتا اور واپس لیب میں بند ہو جاتا۔۔۔
چائے کافی کے لئے اگر کوئی میسر ہوتا تو بنوا لیتا ورنہ خود اٹھ کر بنا لیتا۔۔۔ جنون اس حد تک سوار تھا کے وہ کام کرتا کرتا وہیں سڈی میں موجود صوفہ کم بیڈ پر ہی سو جاتا۔۔۔ کچھ دیر بعد جب آنکھ کھلتی تو منہ پر پانی کے چھپاکے مار کر وہیں سے کام شروع کر دیتا۔۔۔
اس بیج اسکی ماہرہ سے بالکل بھی تفصیلی بات چیت نا ہو پائی تھی اور شاید یہیں اس سے غلطی ہو گئ تھی۔۔۔
فائز بیٹھا اپنے پچھلے کچھ دنوں کے شیڈیول پر نظر ثانی کر رہا تھا۔۔۔ ماہرہ سے اسکا آمنا سامنا زیادہ تر کھانے کے وقت ہی ہوتا۔۔۔ لیکن جب جب ملاقات ہوتی وہ اچھے سے ملے تھے۔۔ اچھے سے بات چیت ہوئی ۔۔۔ حتکی وہ پوری کوشیش کرتا تھا ماہرہ کے ساتھ کھانا تیار کروانے میں پوری مدد کر سکے۔۔ کھانا کھاتے بھی وہ اکھٹے ہی تھے۔۔۔ اور پھر ماہرہ نے بھی تو اپنے کسی انداز سے اسے محسوس تک نا ہونے دیا تھا کے وہ فائز کے خلاف کوئی بدگمانی پال رہی ہے یا وہ اس سے ناراض ہے۔۔۔ ہاں وہ گم صم رہنے لگی تھی لیکن اسنے ناراضگی کا کوئی تاثر نا دیا تھا۔۔۔
پھر یکدم ایسا کیا ہوا کے وہ بنا بتائے ہی گھر سے نکل گئ ۔۔ شاید وہ اندر ہی اندر گیلی لکڑی کی مانند سلگ رہی تھی۔۔۔
فائز مسلسل لیپ ٹاپ کی سکرین کو غائب دماغی سے گھورتا ماہرہ کے ہی بارے میں سوچ رہا تھا۔۔۔
وہ جانتا تھا کے آگے جا کر ایسے حالات پیدا ہونے ہیں تبھی تو وہ ماہرہ سے شادی نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔۔ اسنے گہرہ سانس خارج کرتے چہرے پر ہاتھ پھیرا۔۔۔
باہر اب اندھیرا بڑھنے لگا تھا تو مزید اسکا انتظار کرنا ترک کئے اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔
مزید اب یہیں بیٹھ کر اسکا انتظار کرنا حماقت تھی۔۔۔
ماہرہ فائز علوی جذباتی تھی۔۔۔اور اسے لے کر وہ کچھ زیادہ ہی پوزیسیو تھی۔۔۔
تبھی وہ بنا مزید دیر کئے بائیک کی چابی اٹھا کر باہر نکلا۔۔۔ سونم کو بتا کر وہ اپارٹمنٹ سے نکل آیا۔۔۔
سب سے پہلے اسکا رخ ماموں جان کے گھر کی جانب ہی تھا۔۔۔ اور بھلا وہ کہاں جا سکتی تھی۔۔۔۔
اسے دیکھ کر چوکیدار نے فٹ سے دروازہ کھولا۔۔۔ اندر بڑھ کر بائیک طویل ڈرائیوے پر کھڑی کر کے وہ پریشانی سے ادھر ادھر دیکھتا بائیک سے اترا۔۔۔
ماہرہ کی گاڑی وہاں نہیں تھی۔۔۔ اور تشویش کا باعث بھی یہ ہی چیز تھی۔۔۔ وہ یہاں نہیں آئی تو کہاں گئ۔۔۔
وہ اندر جا کر چیک کرنا چاہتا تھا مگر فلحال مامی سے سامنا بھی نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔۔
کچھ دیر کی سوچ بچار کے بعد وہ سر جھٹکتا مضبوط قدم اٹھا کر اندر بڑھا۔۔۔
لاوئنج کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا تو پہلی نظر ہی صوفے پر شان سے بیٹھی مامی سے ٹکرائی ۔۔۔ وہ کوئی میگزین پڑھ رہی تھیں۔۔۔
اسے دیکھ کر وہ اٹھ کھڑی ہوئیں۔۔۔ حیرت انگیز طور پر فائز کو دیکھ کر انکے ماتھے پر بل نا پڑے تھے۔۔۔ انکی متلاشی نگاہیں فائز کے پیچھے کسی کو تلاش رہی تھیں۔۔۔ جب لاوئنج کا دروازہ بند ہونے پر انکی آنکھوں کی تلاش جیسے ناکام ہو کر واپس پلٹی۔۔
اکیلے آئے ہو فائز۔۔۔ ماہرہ ساتھ نہیں آئی۔۔ وہ اداس اور مایوس لہجے میں پوچھتی اسکی پریشانی مزید بڑھا گئ۔۔۔ مطلب وہ سچ میں یہاں نہیں تھی۔۔۔
فائز نے پریشانی سے ادھر ادھر دیکھا۔۔
وہ دراصل میں ماموں جان سے ملنے آیا تھا۔۔۔ اسنے بروقت بات بنائی۔۔
اوہ۔۔۔ انکے چہرے کی لو بجھ گئ۔۔۔
ناراض ہے مجھ سے وہ ۔۔۔ اسے کہو ماں سے ناراضگی ختم کر دے اور مجھ سے ملنے آئے۔۔۔ مامی پست سے لہجے میں کہتیں واپس صوفے پر بیٹھیں۔۔۔ فائز نے چونک کر انہین دیکھا۔۔۔
مامی کے رویے میں کافی تبدیلی آئی تھی۔۔۔ انکے لہجے میں فائز کے لئے پہلے سی حقارت نا تھی۔۔۔ ورنہ وہ اور فائز سے اپنا مسلہ بیان کر دے۔۔۔۔
جی۔۔۔ مجھے نہیں پتہ تھا اس بارے میں۔۔۔ خیر میں کروں گا بات اس سے وہ آجائے گی آپ سے ملنے۔۔۔ وہ بمشکل لفظوں کی تور جوڑ کر رہا تھا۔۔۔الفاظ ساتھ چھوڑتے محسوس ہو رہے تھے۔۔۔
بیٹھو تم۔۔۔ صغراں۔۔۔ فائز کے لئے چائے لاو۔۔۔ اسے صوفے کی جانب اشارہ کر کے بیٹھنے کو کہتیں وہ صغراں کو آواز دینے لگی۔۔۔
فائز نے حیرت و شاک سے مامی کا اتنا بدلہ رویہ ملاخظہ کیا۔۔۔
تمہارے ماموں ابھی گھر نہیں ہیں۔۔۔ تم بیٹھو چائے پیو۔۔۔ تب تک وہ بھی آ جائیں گے۔۔۔ مامی کا نداز صلہ جو تھا۔۔۔ شاید وہ اسے داماد والا پروٹوکول دے رہی تھیں۔۔۔
فائز اس کایا پلٹ پر حیران تھا۔۔۔
شاید اولاد چیز ہی ایسی ہوتی ہے۔۔ ماہرہ نے بھی انہیں زیر کر ہی لیا تھا۔۔۔ لڑ کر نہیں تو ناراضگی سے ہی سہی۔۔۔
آںنن۔۔۔ نہین وہ دراصل ابھی مجھے کچھ کام ہے میں بعد میں پھر آ جاوں گا۔۔۔ وہ بمشکل مسکراہت کھینچ کر ہونٹوں تک لاتا بات مکمل کر کے وہاں سے باہر نکلا۔۔۔۔ لیکن پریشانی اب مزید بڑھ چکی تھی۔۔۔ وہ اس وقت بھلا جا کہاں سکتی تھی اور وہ بھی موبائل گھر چھوڑ کر۔۔۔ اسے رہ رہ کر ماہرہ پر غصہ آ رہا تھا۔۔۔ ایک دفعہ واپس آتی تو وہ اسکی خوب کلاس لینے کا ارادہ رکھتا تھا۔۔۔
واپسی پر وہ ہر اس جگہ سے اسے دیکھتا گیا تھا جہاں اسکے ہونے کے امکانات ہو سکتے تھے۔۔۔ تھک ہار کر وہ اس امید پر گھر آیا کے شاید وہ اب تک گھر واپس آچکی ہو۔۔۔
بلڈنگ میں داخل ہوتے ہی اسکی گاڑی پارکنگ میں نا دیکھ وہ سر تھام کر رہ گیا۔۔۔ مطلب وہ واپس نہیں آئی تھی۔۔۔
مزید تصدیق اپارٹمنٹ پہنچ کر ہو گئ جب اسنے ماہرہ کو وہاں بھی موجود نا پایا۔۔۔
پریشانی سے وہ سر تھام کر رہ گیا۔۔۔
*****

No comments