Roshan Sitara novel 46th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Roshan Sitara novel 46th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Roshan Sitara is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels
Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front
of the world and improve their abilities in that field.
Roshan Sitara Novel by Umme Hania | Roshan Sitara novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Roshan Sitara novel by Umme Hania Complete PDF download
Online Reading
ناول "روشن ستارا"۔
مصنفہ "ام ہانیہ"۔
Official pg : Umme Hania official
چھیالیسویں قسط۔۔۔
ماہرہ کیپری اور شاٹ شرٹ میں ملبوس کچن میں کھانا تیار کر رہی تھی۔۔۔ بالوں کا رف سا جوڑا بنا رکھا تھا جبکہ آنچل باہر صوفے پر پڑا تھا۔۔۔
وہ ابھی اپنے کمرے سے سونم کیساتھ باتیں کرتے ہی اٹھ کر آئی تھی۔۔۔ گو کے وہ بہت کم گو تھی یا اس اچانک اتنے بڑے سانحے نے اسے ایک چپی لگا دی تھی۔۔۔ وہ محض ہوں ہاں میں ہی جواب دیتی رہی جب ماہرہ رات اترتے دیکھ اٹھ کر کچن میں آگئ جبکہ سونم گھبراہٹ محسوس کرنے کی وجہ سے لاوئنج کی دیوار گیر ونڈو کھول کر باہر آسمان پر موجود تنہا چاند کو دیکھنے لگی۔۔۔
پلاو بناتی ماہرہ گاہے بگاہے اس پر بھی نظر ڈال لیتی۔۔۔ دفعتا فائز اپنی چھوٹی سی لیب سے آنکھیں مسلتا باہر نکلا۔۔۔ اسکے چہرے پر تھکان تھی۔۔۔وہ ماہرہ کو کچن میں کھڑا دیکھ اسکے پاس ہی آگیا۔۔۔
کیا بنا رہی ہو۔۔۔ اسنے کچن میں آتے ہی فریج کھول کر پانی کی بوتل نکالی۔۔۔
چکن پلاو۔۔ سنک پر چاول دھوتے وہ مصروف سے انداز میں گویا ہوئی۔۔۔
کوئی ہیلپ چاہیے۔۔اسے کہاں عادت تھی یوں باقاعدگی سے کوکنگ کرنے کی تبھی وہ پوچھ بیٹھا۔۔۔
ہاں پلیز تم رائتہ بنا لو۔۔۔ دہی فریج میں پڑا ہے۔۔۔
ایک ہاتھ سے چکن بھونتی ساتھ کے ساتھ وہ بکھیر بھی سمیٹتی جا رہی تھی۔۔۔ یہ فائز علوی کی صحبت کا ہی اثر تھا کے اب رفتہ رفتہ اسکے ہاتھ میں مہارت اترتی جا رہی تھی۔۔۔
ویسے میں ڈنر باہر سے لینے جانے والا تھا جب تمہیں کچن میں مصروف دیکھ یہیں چلا آیا۔۔۔
اسنے دہی پھینٹے کے بعد کیبٹنٹس کھول کر نمک اور کالی مرچ کے ڈبے نکالے۔۔۔
ہاں وہ چکن پڑا تھا اور چاول بھی۔۔۔ سوچا پلاو ہی بنالوں۔۔۔ جلدی بن جائے گا۔۔۔ ویسے بھی مجھے بھوک لگ رہی تھی تو یقینا تمہیں اور سونم کو بھی لگ رہی ہوگئ۔۔۔۔۔
سونم کے نام پر وہ ٹھٹھکا۔۔۔
وہ ہے کہاں۔۔۔
بھنے ہوئے چکن میں پانی شامل کرتے اسنے آنکھ سے ونڈو کی جانب اشارہ کیا۔۔۔
رائتے میں کٹے ہوئے ٹماٹر اور باریک کٹے ہوئے کھیرے شامل کر کے اسنے فریج میں رکھا اور کچن سے نکل آیا۔۔۔
اسکا رخ سونم کی جانب تھا۔۔۔ ماہرہ نے ایک نظر اسے سونم کی طرف جاتے دیکھ نظر انداز کیا اور واپس اپنے کام میں مشغول ہو گئ۔۔۔
اب کیسی طبیعت ہے سونم ۔۔۔ وہ اس سے کچھ فاصلے پر سینے پر ہاتھ باندھتے کھڑا ہوا۔۔۔
سونم چونک کر اسکی جانب متوجہ ہوئی۔۔ بھیگی نم آنکھیں اٹھا کر اسے دیکھا۔۔۔
صبر نہیں آرہا مجھے۔۔۔ لگتا ہے یہ سب ایک خواب ہے۔۔۔ بابا کو کچھ نہیں ہوا۔۔۔ بس کوئی کسی طرح سے مجھے اس خواب سے جگا دے۔۔۔ دل اپنے اس عظیم نقصان کو قبول کرنے سے انکاری ہے۔۔۔ اسکی آواز بھرا گئ۔۔۔ فائز نے کرب سے آنکھیں میچیں۔۔۔
سنیں۔۔۔ وہ بڑی آس سے گویا ہوئی۔۔۔
ہممم۔۔۔ فائز اپنے خیال سے چونکا۔۔۔۔آپ مجھے قبرستان لے جائیں گے پلیز۔۔۔۔
اسکی آواز میں اتنی حسرت تھی کے فائز چاہ کر بھی اسے انکار نا کر سکا۔۔۔
اچھا لیکن زیادہ دیر نہیں ۔۔۔ ہم جلدی واپس آ جائیں گے اور تم وہاں ضد نہیں کرو گی۔۔۔ فائز کو اندازہ تھا کے وہ وہاں جا کر بکھر جائے گی تبھی حفظ ما تقدم کے طور پر گویا ہوا۔۔۔
تم چادر لے آو۔۔۔ پھر چلتے ہیں۔۔۔ ابھی تمہارا عبایہ یہاں نہیں۔۔۔ صبح تک میں تمہاری چیزیں مکمل کر دوں گا تو پھر تمہیں دشواری نہیں ہو گئ۔۔ فائز کے کہنے پر وہ سر ہاں میں ہلاتی کمرے میں بھاگ گئ۔۔۔ جبکہ فائز کمرے سے بائیک کی چابی اٹھا کر کچن میں ماہرہ کے پاس آیا جو پلاو کو دم پر لگا کر کاونٹر ٹاپ صاف کر رہی تھی۔۔۔
ماہرہ میں سونم کو قبرستان لے کر جا رہا ہوں ہم کچھ دیر تک آ جائیں گے۔۔۔ فائز کے کہنے پر اسنے سر ہاں میں ہلایا جبکہ انکے گھر سے نکلتے ہی وہ گہرا سانس خارج کرتی کاونٹر ٹاپ سے ٹیک لگا گئ۔۔۔
یہ مشکل تھا۔۔۔ ناجانے کیوں رقابت کا احساس اسکے اندر چٹکیاں کاٹ رہا تھا۔۔۔ باوجود ضبط کے ایک آنسو ٹوٹ کر آنکھ سے پھسلا ۔۔
سونم مظلوم تھی۔۔۔ اس پر ظلم کا پہاڑ ٹوٹا تھا۔۔۔ اسے انکی مدد کی ضرورت تھی۔۔۔ وہ خود اسے اس فیز سے نکالنا چاہتی تھی۔۔۔ لیکن اسکے باوجود اندر کہیں رقابت کا احساس پیدا ہو رہا تھا۔۔۔
وہ فائز پر شک نہیں کر رہی تھی۔۔۔ لیکن یہ رقابت بھی اسے کہیں کا نہیں چھوڑ رہی تھی۔۔۔
وہ جو فائز علوی کے لئے اتنی پوزہسیو تھی وہ اب اسے سونم کے ساتھ بات کرتا اسکے ساتھ کہیں آتا جاتا نہیں دیکھ پا رہی تھی۔۔وہ اپنی کیفیت پر قابو پاتی کچن سے نکل کر کمرے میں آگئ۔۔۔ اور بنا لائٹ آن کئے بستر پر چت لیٹتی آنکھوں پر بازو رکھ گئ۔۔۔دل یکدم ہی ہر چیز سے اچاٹ ہو گیا تھا۔۔۔ وہ اس وقت صرف سونا چاہتی تھی۔۔۔ شاید یہ اسکی فرار کی ایک کوشیش تھی۔۔۔
******
بائیک روڈ پر فراٹے بھرتی جا رہی تھی۔۔۔ جبکہ سونم گم صم سی فائز کے پیچھے بیٹھی اسکے کندھے پر ہاتھ رکھے ہوئے تھی۔۔۔
سونم جب پورے گھر کی کیمرے ہیک ہوگئے تو تمہارے لیپ ٹاپ پر پروفیسر صاحب کی وہ فوٹیج کیسے آئی۔۔۔ مطلب انکے کمرے کا کیمرا ہیک کیوں نا ہوا۔۔۔
وہ جو تب سے لیب میں بیٹھا اسی چیز پر کام کر رہا تھا بلآخر پوچھ بیٹھا۔۔۔
انہوں نے سارے گھر کے ہی کیمرے ہیک کئے تھے۔۔ لیکن یہ بابا کے کمرے میں ایک خفیہ کیمرا تھا جسکا گھر کی سکیورٹی سسٹم سے کوئی لنک نہیں تھا۔۔۔ یہ میرے لیپ ٹاپ سے کنیکٹ تھا۔۔۔ اس لیے جب انہوں نے پورے گھر کے سکیورٹی سسٹم کو ہیک کیا تو یہ ہیک نا ہو سکا۔۔سونم نے گیلی سانس اندر کھینچی۔۔۔
ہممم۔۔۔ ثبوت تو ہے ہمارے پاس واضح۔۔ پروفیسر صاحب کے قتل کا۔۔۔ لیکن ابھی وقت نہین اسے ایکسپوز کرنے کا۔۔۔ ایک دفعہ ہمارا پراجیکٹ مکمل ہو جائے پھر ہم یہ کیس عدالت میں کھولیں گے اور انشااللہ پروفیسر صاحب کے قاتلوں کو کفر کاردار تک پہنچائیں گے۔۔۔ لیکن تب تک یہ بات راز ہی رہنی چاہیے کے ہمارے پاس ایسا کوئی ثبوت بھی ہے۔۔۔ فائز تنبیہاً گویا ہوا۔۔۔
سونم کی آنکھیں پھر سے بھر آئیں۔۔۔
جی۔۔۔۔
بائیک قبرستان کے احاطے میں داخل ہوئی تو سونم کی کیفیت عجیب سی ہونے لگی۔۔۔ کہاں اسکے بابا ہستے کھیلتے اس شہر خاموشاں میں آ بسے تھے۔۔۔ انکی قبر کے پاس پہنچ کر تازہ مٹی پر ہاتھ پھیرتے فائز کی توقع کے عین مطابق وہ بری طرح بکھری تھی۔۔۔
انکی قبر سے لپٹ کر روتی وہ فائز علوی سے سمبھالنی مشکل ہوگئ۔۔۔
دیکھو سونم حوصلہ رکھو۔۔۔ اگر تم یوں کرو گئ تو میں دوبارہ تمہیں یہاں نہیں لاوں گا۔۔۔ آخری حربے کے طور پر وہ دھمکی دے گیا۔۔۔ اور دھمکی کارگر گزری۔۔۔ وہ آنسو صاف کرتی ضبط سے سیدھی ہوئی۔۔۔ بہت دیر ہوگئ ہے اب ہمیں چلنا چاہیے۔۔۔۔
فائز بامشکل اسے وہاں سے واپس لے آنے میں کامیاب ہو پایا تھا۔۔۔
*****
فائز اسے لئے گھر واپس آیا تو گھر میں خلاف معمول خاموشی کا راج تھا۔۔۔ فائز نے سب باریک بینی سے نوٹ کیا۔۔۔ پلاو ہنوز دم پر تھا۔۔ جبکہ ماہرہ ندارد ۔۔۔ اسنے آگے بڑھتے چولہا بند کیا اور دھکن ہٹا کر چاولوں میں چمچ چلایا۔۔۔ چاول خوشبو سے ہی بہت مزے کے لگ رہے تھے۔۔۔ ماہرہ کے کمرے کا دروازہ بند تھا وہ شاید اندر تھی۔۔ جبکہ سونم نڈھال سی لاوئنج میں صوفے پر پشت سے ٹیک لگائے بیٹھی تھی۔۔۔ آنکھوں کی سطح ہنوز نم تھی۔۔
سونم میں کھانا لگا رہا ہوں تم پلیز ماہرہ کو بلا لاو۔۔۔ فائز کی آواز پر وہ سر ہاں میں ہلاتی اٹھ کر اندر چلی گئ ۔۔۔۔
وہ کہہ رہی ہیں آپ لوگ ڈنر کر لیں انہیں بھوک نہیں۔۔۔ کچھ ہی دیر میں وہ واپس آئی اور ماہرہ کا پیغام دیا۔۔ وہ گہری سانس خارج کرتا سر ہاں میں ہلا گیا ۔۔ پلاو اور رائتہ ٹرے میں رکھتے لاوئنج میں آیا۔۔۔ تم شروع کرو میں تمہاری دوائی لاتا ہوں۔۔۔ فائز کے کہنے پر وہ منہ بنا کر رہ گئ۔۔ خیر خوشبو اچھی تھی۔۔۔ اسنے سیر ہو کر کھانا کھایا۔۔۔
اب تم آرام کرو۔۔۔ اسے دوائی کھلا کر وہ برتن سمیٹتا گویا ہوا تو وہ چڑ گئ۔۔۔۔
تھک گئ ہوں میں آرام کر کر کے۔۔۔ ایک انسان دن میں کتنا سو سکتا ہے۔۔۔ میں صبح سے سو ہی رہی ہوں۔۔۔ مجھے کھلی ہوا مین قرآن پاک پڑھنا ہے۔۔۔ شاید ایسے ہی میرے بے چین دل کو سکون مل سکے۔۔۔ وہ بیزار سے لہجے میں گویا ہوئی۔۔۔۔ٹھیک ہے پھر تم بالکنی میں بیٹھ جاو۔۔۔ ۔جب تک سونم نے اٹھ کر وضو کیا فائز نے اسے قرآن پاک لا دیا۔۔۔ وہ قرآن پاک تھامتی بالکنی میں آگی۔۔۔ خاموش آنسو پھر سے بہہ نکلے تھے۔۔۔ابھی شاید صبر آتے آتے ہی آنا تھا۔۔۔
فائز واپس کچن میں آیا اور ٹرے پھر سے سیٹ کی۔۔۔ وہ خود صبح سے بے آرام تھا لیکن خود سے وابسطہ رشتوں کو سمبھالتے سمبھالتے وہ ہلقان ہونے لگا تھا۔۔۔
ٹرے لئے وہ کمرے میں آیا تو کمرے میں نیم تاریکی کا راج تھا۔۔۔ وہ بستر پر چت لیٹی تھی۔۔۔ فائز نے سوئچ بورڈ پر ہاتھ مارا تو کمرا روشنیوں سے نہا گیا۔۔۔
اٹھو ماہرہ۔۔۔ اسنے ٹرے سائیڈ ٹیبل پر رکھی مگر وہ ٹس سے مس نا ہوئی۔۔۔
یار کیا بچپنا ہے۔۔ اٹھو نا کھانا کھائیں۔۔۔ اسنے نرمی سے ماہرہ کی آنکھوں سے بازو ہٹائی۔۔۔
فائز مجھے بھوک نہیں۔۔۔ تم لوگ کھانا کھاو۔۔۔ وہ سرخ آنکھوں سے اسے دیکھتی تحمل سے گویا ہوئی۔۔
ایسے کیسے بھوک نہیں۔۔۔ بھوک تھی تو پلاو بنانے گئ تھی۔۔۔ یاد نہیں خود ہی بتایا تھا تم نے مجھے۔۔۔ وہ اسکے قریب ہی کرسی گھسیٹ کر بیٹھتا دوستانہ انداز میں گویا ہوا۔۔۔
لیکن۔۔۔
بس۔۔۔ بحث ختم کرو۔۔۔ جلدی سے اٹھو۔۔۔ مجھے خود بہت بھوک لگی ہے۔۔۔ اسنے سائیڈ ٹیبل سے ٹرے اٹھاتے بیڈ پر رکھی۔۔۔ اسے ناچار ہی اٹھنا پڑا۔۔۔
سونم۔۔۔۔
وہ کھانا کھا چکی ہے۔۔۔ فائز کے سنگ کھانا کھاتی وہ پرسکون ہوگئ تھی۔۔۔ ناجانے کیوں اس شخص کا ایک مرتبہ نرمی سے ہس کر بات کرنا اسکے سبھی شکوک و شبہات مٹا جاتا تھا ۔۔
اب بھی اسکا کیئرنگ انداز دیکھ کر دل نے پچھلے سبھی خیالات کی نفی کی تھی۔۔۔
*****
ڈین سے اچھا خاصا سر کھپا کر آ رہے ہیں لیکن مجال ہے جو وہ بات سن لے۔۔۔ مرتسم لودھی کینٹین میں بیٹھا موبائل سکرول ڈاون کر رہا تھا جب فائز اور وہاج شکست خوردہ سے وہاں آ کر بیٹھے۔۔۔
بامشکل ایک ہفتہ رہتا تھا فائنلز میں اور ڈین ضد پر اڑا ہوا تھا۔۔۔
کیا کہتا ہے وہ۔۔۔ مرتسم نے موبائل بند کر کے میز پر رکھا اور سیدھا ہو کر بیٹھا۔۔۔
یہ ہی کے تمہاری ڈگری کینسل ہوگئ اور فاہا کو یونی سے خارج کیا جائے گا۔۔۔۔
فائز نے پریشانی سے ماتھا مسلہ۔۔۔
فاہا کا یہاں کیا ذکر بھلا۔۔۔ جب میں الزام اپنے سر لے کر اسے بری الزمہ کروا چکا ہوں تو پھر۔۔۔ اسکے ماتھے پر شکنوں کا جال بچھا۔۔۔
وہ یہ بات سننے کو تیار نہیں۔۔۔ انکی نظر میں تم دونوں مجرم ہو۔۔۔ اور تم نے محض فاہا کو بچانے کے لئے اسکا الزام اپنے سر لیا ہے۔۔۔
ایسا کیسے کر سکتے ہیں وہ فائز۔۔۔
میرے خیال سے انکا فیصلہ درست ہے مرتسم۔۔۔ تمہارے بعد اسکا اس یونیورسٹی میں پڑھنا مشکل ہو جائے۔۔۔ وہاج کے جھجھک کر کہنے پر وہ ٹھٹھکا۔۔۔
مطلب۔۔۔
مطلب یہ کے یونیورسٹی میں تمہارے اور فاہا کے بارے میں بہت غلط باتیں پھیلائی جا رہی ہیں۔۔ تو میرا نہیں خیال کے پھر یوں ۔۔۔ وہاج بات کرتے کرتے رکا۔۔۔ جبکہ مرتسم لب بھینچ گیا۔۔۔
یہ زبیر لغاری میرے ہاتھوں مرے گا۔۔۔ اسنے غصے سے ہاتھ کا مکہ بنا کر ماتھے پر مارا۔۔۔
دوبارہ اپنے غصے کے ہاتھوں کوئی بے وقوفی مت کرتا مرتسم۔۔۔ فائز تنہیاً گویا ہوا۔۔۔
مرتسم کی ڈگری کینسل ہو گئ تو ہم بھی فائنل نہیں دیں گے۔۔۔ بھاڑ میں جائے سب۔۔ پاس آوٹ ہونگے تو اکھٹے نہیں تو نا سہی۔۔۔ وہاج نے بھرپور جذباتیت سے میز پر ہاتھ مارا۔۔۔
بس کردو وہاج خانزادہ بس کردو۔۔۔ اتنے لیلی مجنوں بن کر جذباتی ہونے کی ضرورت نہیں۔۔۔
اپنی تیاری مکمل رکھو۔۔ ہم فائنل دیں گے اور انشااللہ مرتسم بھی دے گا۔۔۔
میں پر امید ہوں ابھی ایک ہفتہ پڑا ہے۔۔۔ ہم کوئی نا کوئی سدباب نکال ہی لیں گے۔۔۔ اگر بات سیدھی طرح سے نا بنی تو ہم انگلی ٹیرھی بھی کر لیں گے۔۔ لیکن خوامخواہ میں ڈگری کینسل تو نہیں ہونے دیں گے۔۔۔
ارے واہ۔۔۔ یہ انگلی ٹیرھی کرنے کی بات کر کون رہا ہے بھلا۔۔۔ مرتسم اتنی سنجیدہ صورتحال میں بھی مسکرا دیا۔۔۔
فکر نا کرو بگڑے دوستوں کے لئے کبھی کبھار بگڑ جانے میں کوئی مضائقہ نہیں۔۔۔ کوشیش تو ہم فیئر طریقے سے ہی کر رہے ہیں اگر بات نا بنی تو ہم ہر حال میں بات بنا لیں گے۔۔۔
اور فائز علوی ایسا کیا کرے گا۔۔ وہاج بھی شوخ ہوا۔۔۔
یہ میں کر کے بتاوں گا۔۔۔
ابھی اٹھو کام ہے کچھ۔۔۔ وہ بات مکمل کر کے اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔
*****
بابا۔۔۔ بابا کیا ہوا آپکو۔۔۔۔ فاہا حسب معمول ڈنر کے بعد سونے سے پہلے باپ کے پاس چکر لگانے آئی جب انہیں دل تھامے درد سے کراہتے ہوئے دیکھ اسکے ہاتھ پاوں پھولے۔۔۔
ابھی کچھ دیر پہلے تو وہ انہیں پرہیزی کھانا کھلا کر آرام کرنے کی تلقین کر کے گئ تھی۔۔۔ پھر اب۔۔۔
بابا۔۔۔ بابا حوصلہ کریں میں ابھی ڈرائیور چچا کو بلا کر لاتی ہوں۔۔۔ بے چینی سے باپ کے پاس آ کر کہتی وہ انہی قدموں پر باہر بھاگی۔۔۔
کچھ ہی دیر میں وہ بوا اور ڈرائیور چچا کے ہمراہ وہاں تھی۔۔۔ بامشکل بابا کو انکے ساتھ ہسپتال لے کر جاتے اسے قدم قدم پر شدت سے کسی اپنے کی کمی محسوس ہوئی تھی۔۔۔
ہسپتال جاکر بابا کی طبیعت مزید خراب ہوگئ۔۔۔ اسکے تو ہاتھ پاوں ہی پھول گئے۔۔ ڈاکٹروں کا پینل کبھی اندر جاتا کبھی باہر آتا۔۔۔ کوئی اسے کچھ بتا بھی تو نہیں رہا تھا۔۔۔ اسے اپنا آپ بے دم ہوتا محسوس ہوا۔۔۔
تبھی غیر محسوس انداز میں ہاتھ خودبخود مرتسم کا نمبر ملانے لگے۔۔۔ اسے نہیں پتہ اس وقت ٹائم کیا تھا۔۔۔ یا اسے اس وقت مرتسم کو فون کرنا بھی چاہیے یا نہیں۔۔۔ بس اس مشکل وقت میں اسے وہی یاد آیا تھا اور پوری شدت سے یاد آیا تھا۔۔۔
دوسری جانب بیل جا رہی تھی اور وہ بے چینی سے اسکے فون اٹھانے کی منتظر تھی۔۔۔۔
ابھی کچھ دیر پہلے ہی مرتسم لودھی گھر آ کر سویا تھا۔۔۔ پہلے فائنل کی تیاری اور پھر پراجیکٹ کا کام۔۔۔ ڈگری کینسل ہونے کا سننے کے باوجود بھی فائز نے اسے اپنی تیاری مکمل رکھنے کو کہا تھا۔۔۔
وہ ابھی ابھی وہاج کی طرف سے واپس آیا تھا۔۔۔
ابھی وہ بستر پر اونڈھے منہ لیٹا نیند کی وادی میں اترا ہی تھا جب فون کی چنگارتی آواز نے نیند میں خلل ڈالا ۔۔۔۔وہ پریشانی سے ایک ہی سانس میں سب پوچھتا چلا گیا۔۔ آخری سوال اس نے نجانے کس خدشے کے تحت کیا تھا۔۔۔۔
جبکہ جواب میں فاہا مزید شدت سے رو دی۔۔۔
******

No comments