Roshan Sitara novel 45th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Roshan Sitara novel 45th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Roshan Sitara is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels
Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front
of the world and improve their abilities in that field.
Roshan Sitara Novel by Umme Hania | Roshan Sitara novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Roshan Sitara novel by Umme Hania Complete PDF download
Online Reading
ناول "روشن ستارا"۔
مصنفہ "ام ہانیہ"۔
Official pg : Umme Hania official
پینتالیسویں قسط۔۔۔
ماہرہ حق دق سی دروازے میں کھڑی تھی۔۔۔ جب منتشر ہوتے حواس یکجا کر کے ہینڈ کیری وہیں چھوڑتی انہیں ناسمجھی سے دیکھتی آگے بڑھی۔۔۔
سونم بھی دوائی کھا کر اب اسی جانب متوجہ تھی۔۔۔
ماہرہ تم۔۔۔ اتنی جلدی آگئ۔۔۔ تم تو تین دن بعد آنے والی تھی نا۔۔۔ فائز ناسمجھی سے آئبرو مسلتا گویا ہوا۔۔۔۔۔
کیوں۔۔۔ کیا نہیں آنا چاہیے تھا مجھے واپس۔۔۔ اسکا انداز سنجیدہ تھا۔۔
نہیں ایسی تو کوئی بات نہیں۔۔۔ ویل سونم اس ملو یہ ہے ماہرہ میری کزن۔۔۔ اور ماہرہ یہ سونم ہے۔۔۔۔
فائز نے صورتحال سمبھالنے کو تعارف کے مراحل طے کروائے۔۔۔ لیکن اتنا روکھا اور ادھورا تعارف۔۔۔ ماہرہ کے ماتھے پر چند تیوریاں ابھری مگر وہ لب بھینچ گئ۔۔۔
سونم تم نے دوائی کھا لی ہے تو تم کچھ دیر اندر جا کر آرام کرو۔۔۔ شام تک بہتر محسوس کرو گئ۔۔۔
فائز کے ہلکا سا مسکرا کر کہنے پر وہ سر ہاں میں ہلاتی اٹھ کر اندر چلی گئ۔۔۔ جبکہ اسے اپنے کمرے میں جاتا دیکھ ماہرہ کچھ کہنے کی خواہش میں لب کھولتے کھولتے رہ گئ کچھ دیر وہیں کھڑی وہ اسے کمرے میں جاتا دیکھتے رہی پھر جھٹکے سے مڑی اور کچن میں چلے گئ۔۔۔
وہ فائز کے سامنے انکے بیڈ روم میں گئ تھی لیکن وہ خاموش رہا پھر وہ کیوں بولتی۔۔۔
ماہرہ کے کچن میں جاتے ہی فائز سر تھام کر صوفے پر ڈھنے کے انداز میں بیٹھ گیا۔۔۔۔ وہ ماہرہ کو اعتماد میں لے کر اسے ہر چیز سے آگاہ کرنا چاہتا تھا لیکن اسکی اچانک واپسی سے اسے سب مشکل ہوتا لگ رہا تھا۔۔۔
*****
ارے میری شہزادی آئی ہے۔۔۔۔ بابا لاوئنج میں داخل ہوتے ہی دونوں بازو وا کرتے بشاشت سے گویا ہوئے۔۔۔
وہ جو صوفے پر بیٹھی بوا اور دوسرے ملازمین سے بات چیت کر رہی تھی بابا کی آواز پر یکدم اٹھ کر انکی جانب متوجہ ہوئی۔۔۔
وہ اسے پہلی نظر میں ہی بہت کمزور لگے تھے۔۔۔۔ بے ساختہ اسکا دل بھر آیا۔۔۔ وہ جھٹ سے بھاگتی ہوئی انکی کھلی باہوں میں سمائی اور انکے شانے سے سر ٹکاٹی پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔
ارے۔۔۔ارےرےےےےےے یہ کیا۔۔۔ اتنی دیر بعد آئی ہو۔۔۔ تمہیں تو خوش ہونا چاہیے۔۔۔ پھر یہ آنسو۔۔۔ وہ اسے باہوں کے حلقے میں لئے ہی صوفے کی جانب بڑھے۔۔۔
یہ آپ نے بالکل ٹھیک نہیں کیا بابا۔۔۔ آپکی طبیعت اتنی خراب تھی اور آپ نے مجھے کانوں کان خبر تک نا ہونے دی۔۔۔ حالانکہ اس بیچ ہماری کتنی دفعہ بات ہوئی۔۔۔ میں آپ سے بہت شدید ناراض ہوں بابا۔۔۔ کیا آپ نے مجھے شہر خود سے دور اس لئے بھیجا تھا کے مجھے پرایا کر کے مجھ سے باتیں چھپائیں ۔۔۔۔
وہ سوں سوں کرتی شکوہ کناں ہوئی۔۔۔۔ایسی بات نہیِں ہے بیٹآ۔۔۔ اور میں بالکل ٹھیک ہوں۔۔۔ ایسے چھوٹے موٹے مسلے ہوتے ہی رہتے ہیں اور
خاک ٹھیک ہیں آپ۔۔۔ صحت دیکھیں آپنی۔۔ جیسے دنوں میں نچھڑ کر رہ گئے ہوں۔۔۔ سکون پھر نہیں آپکو۔۔۔ اتنا تو خیال کریں بیمار ہیں آپ۔۔۔ پھر بھی زمینوں پر گئے ہوئے تھے۔۔۔
مجھے اپنی رپورٹس دکھائیں۔۔۔ میں خود چیک کروں لگی۔۔۔ اور باقاعدہ آپکی ڈائٹ کا خیال رکھوں گئ۔۔۔
وہ خفگی سے انکی بات کاٹتی گویا ہوئی ۔۔۔ بابا جان قہقہ لگا کر ہس دیئے۔۔۔ ارے میری گڑیا تو اتنی بڑی ہوگئ۔۔۔
وہ صوفے کی ہتھی پر کہنی رکھے ہاتھ کی مٹھی ہونٹوں پر رکھے مسکراتے ہوئے اسکا خفا خفا انداز دیکھ رہے تھے۔۔۔۔ سبھی ملازمین نے مسکراتے ہوئے باپ بیٹی کی یہ جھڑپ دیکھی ۔۔۔
بابا میں مذاق نہیں کر رہی۔۔۔ وہ روہانسی ہوتی انکے قریب دوزانو بیٹھی۔۔۔
ارےےےے۔۔۔
آپ کیوں اپنی صحت سےعفلت برت رہے ہیں۔۔۔
بیٹا کیا ہو گیا ہے۔۔۔ میں ٹھیک ہوں۔۔۔ پھر یہاں کے کام کاج۔۔۔ زمینیں۔۔۔ بستی کے لوگ۔۔۔ انہیں میں نہیں دیکھوں گا تو کون دیکھے گا۔۔۔ بستی کے لوگوں کی بہت سی توقعات وابسطہ ہیں مجھ سے۔۔۔ میں اپنے فرائض سے روگردانی کیسے کر سکتا ہوں۔۔۔
بابا نے نرمی سے اسکا سر تھپتھپایا۔۔۔
آپ کی سب باتیں بجا بابا جان۔۔۔ لیکن آپکی صحت سب سے پہلے نمبر پر آتی ہے۔۔۔ جب تک آپ مکمل طور پر صحتیاب نہیں ہو جاتے آپ مکمل بیڈ ریسٹ کریں گے اور اس معاملے میں اب مزید بحث نہیں ہوگئ۔۔۔
چلیں اٹھیں اب کمرے میں چلیں میں بوا کیساتھ مل کر آپکے لئے سوپ بنا کر لاتی ہوں۔۔۔ وہ حتمی انداز میں کہتی بات ختم کر کے اٹھ کھڑی ہوئی ناچار بابا کو بھی اپنی جگہ سے اٹھنا پڑا۔۔۔
بیٹا اِبھی تو آئی ہو۔۔۔ کچھ دیر آرام تو کر لو۔۔۔ مجھے تو خود تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی۔۔۔ وہ اسکا ستا ہوا چہرا دیکھ اداسی سے گویا ہوئے۔۔
میں ٹھیک ہوں بابا۔۔۔ اور اپنے گھر میں ائی ہوں کہیں مہمان نہیں گئ جو آرام کروں۔۔۔ آپ میری فکر نا کریں۔۔۔ وہ انکے ساتھ ہی انکے کمرے میں جا رہی تھی۔۔۔ پچھلے پورے چوبیس گھنٹوِں کے اعصاب شکن واقع نے اس پر اثرات تو مرتب کئے تھے۔۔۔ وہ خود کو بیمار محسوس کر رہی تھی۔۔۔ سر کے ساتھ ساتھ سارا جسم درد کر رہا تھا ۔۔۔ وہ شدت سے ایک بھرپور نیند لینے کی خواہشمند تھی۔۔۔ لیکن باپ کی بیماری نے سب بھلا دیا تھا۔۔۔ اسکے لئے اسکے باپ سے بڑھ کر اور کچھ نا تھا۔۔۔
*****
ماہرہ جب کچھ دیر تک کچن سے نا نکلی تو وہ اٹھ کر اسکے پیچھے ہی کچن میں آگیا۔۔۔
وہ اپنے لئے چائے بنا کر کپ میں انڈیل رہی تھی۔۔۔ آنچل سر پر اوڑھ رکھا تھا جبکہ چہرا ہنوز سنجیدہ تھا۔۔۔۔
واپس کیوں آگئ۔۔۔۔ تمہارا ٹور تو تین دن کا تھا۔۔۔ وہ اسکی طرف رخ کر کے کاونٹر ٹاپ سے ٹیک لگا گیا۔۔۔
کیوں کیا تمہیں میرا واپس آنا اتنا ہی برا لگا ہے۔۔۔ پین واپس چولہے پر رکھتے اسکا انداز تیکھا تھا۔۔۔
نہیں مجھے کیوں برا لگے گا۔۔ میں تو ویسے ہی پوچھ رہا ہوں کے تم بہت ایکسائٹڈ تھی وہاں جانے کے لئے ۔۔۔ پھر۔۔۔ وہ ارادتاً بات ادھوری چھوڑ گیا۔۔۔
ماہرہ کپ سے ہاتھ کھینچتی ڈھیلے سے انداز میں اسکی جانب متوجہ ہوئی۔۔۔۔
صبح تم ناراض تھے مجھ سے میری رات کی حرکت کی وجہ سے۔۔ تمہاری ناراضگی کے باعث میرا دل ہر چیز سے اچاٹ ہو گیا۔۔۔ ساری اکسائٹمنٹ مر گئ۔۔۔ کسی چیز میں دل نا لگا تو آدھے راستے سے ہی واپس پلٹ آئی۔۔۔
لیکن اب سونم کو یہاں دیکھ کر مجھے ناجانے کیوں ایسا لگ رہا ہے کے جیسے کہیں کچھ گڑبڑ ہے۔۔۔ کیا رات کچھ ہوا۔۔۔ کیا اسے واقعی تمہاری مدد کی ضرورت تھی۔۔۔
اسکی آنکھوں میں نمی تھی اور انداز پشیمان تھا۔۔۔۔
فائز نے گہری سانس خارج کی۔۔۔۔
کل رات کچھ نامعلوم افراد انکے گھر حملہ آور ہوئے تھے
انہوں نے پروفیسر صاحب کی جان لے لگی۔۔۔
مائے گاڈ۔۔۔ وہ منہ پر ہاتھ رکھتی چند قدم پیچھے ہٹی۔۔۔۔ سونم محفوظ رہی کیونکہ پروفیسر صاحب نے اسے چھپا دیا تھا۔۔۔ وہ بہت خوفزدہ ہوگئ تھی۔۔۔ اسی لئے مدد کے لئے پکار رہی تھی۔۔۔۔
وہ بہت بری مینٹل کنڈیشن میں ہے ماہرہ۔۔۔ اس نے باپ کو آنکھوں کے سامنے دم توڑتے دیکھا ہے۔۔۔اللہ نا کرے کے ایسا وقت کبھی کسی دشمن پر بھی ٹوٹے۔۔۔۔ اسے اس وقت ہماری مدد کی ضرورت ہے۔۔۔
مجھے امید ہے کے تم ایک اچھی دوست کی طرح اس مشکل وقت میں اسکے کام آو گئ۔۔۔
وہ لب چباتا آہستگی سے بول رہا تھا۔۔۔ جب وہ دو قدم اسکی جانب بڑھتی اسکے ہاتھ تھام گئ۔۔۔
آئم سوری فائز۔۔۔ رئیلی رئیلی سوری۔۔۔مجھے اندازہ نہیں تھا کے حالات اس نہج پر ہونگے۔۔۔۔ مجھے نہیں پتہ تھا کہ وہ تمہیں کیوں فون کر رہی ہے۔۔۔ پتہ ہوتا تو کبھی ایسی حرکت نا کرتی۔۔۔
میں نے جان بوجھ کر کچھ نہیں کیا فائز۔۔۔ سچ میں۔۔۔ بے ساختہ اسکے آنسو بہہ نکلے تھے۔۔۔ وہ مسلسل نفی میں سر ہلاتی اسے اپنی یقین دہانی کروا رہی تھی۔۔
جو گزر گیا اس پر ہم قادر نہیں ماہرہ۔۔۔ لیکن جو ہے ہم اسے بہتر بنا سکتے ہیں۔۔ پلیز اسکے ساتھ اپنا رویہ درست رکھنا۔۔۔ وہ سنجیدگی سے گویا ہوا۔۔۔
ماہرہ آنسو پیتی سر ہاں میں ہلا گئ۔۔۔
اور ہاں۔۔۔ وہ جیسے یکدم کچھ یاد آنے پر گویا ہوا۔۔۔
وہ نہیں جانتی ہمارے رشتے کے بارے میں۔۔۔ اور پلیز اسے پتہ چلنا بھی نہیں چاہیے۔۔۔ اسقدر غیر متوقع بات پر ماہرہ ٹھٹھکی۔۔۔۔بالفرض اگر پتہ چل گیا تو۔۔۔ ماہرہ کا انداز جانچتا تھا۔۔۔
کسی صورت پتہ نہیں لگنا چاہیے۔۔۔۔ نا کی گنجائش ہی نہیں۔۔۔ اسکا دو ٹوک انداز ماہرہ کے اندر سناٹے اتار گیا۔۔۔
اور ہاں پلیز تم دونوں ہمارا بیڈروم شیئر کر لینا۔۔۔ میں دوسرے کمرے میں قیام کروں گا۔۔۔ ہمارے گھر میں ائیر کندیشن ایک ہی ہے اور میں نہیں چاہتا کے اسے یہاں کسی بھی قسم کی دشواری ہو۔۔۔
فائز کے کہنے پر وہ خاموشی سے سر ہاں میں ہلا گئ۔۔۔ اب وہ مزید کوئی بے تکا سوال اٹھا کر فائز کو خود سے متنفر نہیں کروانا چاہتی تھی۔۔۔
کیا تمہیں بھی یہ ہی لگتا ہے کہ پروفیسر صاحب کی ڈیٹھ کی وجہ میں ہوں۔۔۔ وہ باہر نکلنے کو تھا جب ماہرہ کی بھرائی آواز سنائی دی۔۔۔۔
مائے گاڈ ماہرہ میں نے ایسا کب کہا۔۔۔ تقدیر کو کوئی بدل نہیں سکتا۔۔۔ میں نہیں کہتا کے اگر میں وقت رہتے وہاں پہنچ جاتا تو پروفیسر صاحب کی جان بچا لیتا۔۔۔ کیونکہ زندگی موت تو اللہ کے ہاتھ میں ہے۔۔۔
ہاں مگر تدبیر کی جاسکتی تھی۔۔۔
تو پھر اتنے اجنبی بن کر بات کیوں کر رہے ہوں۔۔۔ اسکے شکستہ اور مجرمانہ انداز پر وہ سر تھام کر رہ گیا۔۔۔۔
ایسی بات نہیں ماہرہ۔۔۔
وہ نرمی سے کہتا اسکی جانب بڑھا۔
پروفیسر صاحب میرے لئے میری ریڈھ کی ہڈی کے مترادف تھے۔۔۔ انکی اچانک موت نے میری کمر توڑ دی یے۔۔۔ میں خود اس وقت مینٹلی ڈسٹرب ہوں شاید اس وجہ سے تمہیں میرا رویہ ایسا محسوس ہوا ہو۔۔
وہ اسکا گال سہلاتا اسے اس شرمندگی سے نکالنے کو دوستانہ انداز میں گویا یوا۔۔۔
وہ جانتا تھا کے وہ ایک حساس دل کی لڑکی ہے۔۔۔ چاہے فوری طور پر ردعمل دے یا جلد ٹمپر لوز کر جائے لیکن وہ ایک بہت خوبصورت دل کی مالکن تھی جو کسی کی زرا سی تکلیف پر تڑپ اٹھتا تھا۔۔ وہ بہت جلد اپنی غلطی تسلم کر لیتی تھی اور یہ ہی چیز اسے اسکی ماں سے منفرد بناتی تھی۔۔ وہ یہ سب اوصاف باپ کے چرا لے گئ تھی۔۔۔
*****
وہ لڑکی کون تھی مرتسم جسے اس کیس میں تمہارے ساتھ انوالو کیا جا رہا ہے اور جسے بچانے کو تم نے اسکا سب کیا ڈھرا اپنے سر لے لیا۔۔۔
مرتسم لودھی اس وقت اپنے باپ کے آفس میں موجود صوفے پر ٹانگ پر ٹانگ ڈھرے بیٹھا تھا جبکہ سلمان لودھی کڑے تیوروں سے اسکے سامنے کھڑے مستفسر تھے۔۔۔
اسنے باپ کو اعتماد میں لینے کے لئے سارا واقعہ انکے گوش گزارا تھا پہلے تو وہ بات سنتے ہی بھڑک اٹھے کے یونیورسٹی کی انتظامیہ کیسے مرتسم پر اتنا گھٹیا الزام لگا سکتی تھی اور تھانے کا ایس ایچ او کیسے اسکے خلاف اتنی ہنگامی بنیاد پر پرچہ کاٹ سکتا تھا۔۔۔
لیکن وہیں بیٹھے بیٹھے جب انتظامیہ اور تھانے میں بات کرنے پر کوئی اور کہانی انہیں پتہ چلی تو وہ اس پر بھڑک اٹھے۔۔۔
مرتسم بے بسی سے سر تھام کر رہ گیا۔۔۔ یہ وہ آخری چیز تھی جو وہ نہیں چاہتا تھا۔۔۔ وہ کسی صورت فاہا کا نام اس میس میں شامل نہیں ہونے دے سکتا تھا۔۔۔
تم سے کچھ پوچھ رہا ہوں مرتسم۔۔۔ کون ہے وہ لڑکی۔۔۔ وہ پھر سے ڈھارے۔۔۔
بابا کوئی نہیں ہے یار۔۔۔ وہ جیسے بے بس ہوا۔۔۔
کیا کسی میں انوالو ہو تم۔۔۔ بابا کا لہجہ جانچتا تھا۔۔۔۔۔ماں تمہاری پریہا کے ساتھ دور تک کی پلانینگ کر چکی ہے اور تم۔۔۔
او خدا کا خوف کریں بابا ۔۔۔ میں غریب اور عام سا بندہ ہوں کہاں اپنی ماں کی سٹائلش اور رئیس زادی بھانجی کے ساتھ میری نبھے لگی۔۔۔ میری اماں کو ویسے ہی گھر میں رونق لگائے رکھنے کا شوق ہے اسی لئے میرے کلیئرلی ہر بات واضح کرنے کے بعد اب بھی وہ اسکے ساتھ بہو بہو کھیل رہی ہیں۔۔۔ لیکن آپ تو کچھ رحم کریں پلیز انکے اس کھیل میں شمولیت اختیار مت کریں ورنہ میں اکیلا رہ جاوں گا۔۔ وہ چڑ کر بولا۔۔۔
بابا نے آنکھیں چندہی کئے اسے غور سے دیکھا اور اپنی رہوالونگ چیئر پر آ کر بیٹھے۔۔۔
رہ گئ بات کسی لڑکی میں انوالو ہونے کی تو بابا جانی۔۔۔ معذرت کیساتھ ابھی تک کوئی ایسی نظروں کو بھائی ہی نہیں جسکے بارے میں میں کہہ سکوں کے وہ آپکے بیٹے کو سمجھ سکتی ہے یا جسکی سنگت میں میری زندگی پرسکون گزر سکتی ہے۔۔ جب بھی کوئی ملی سب سے پہلے آپکو ہی بتاوں گا۔۔
رہ گئ اس لڑکی کی بات جسے یہ لوگ فضول میں میرے ساتھ رگیڈنے کی بات کر رہے ہیں تو بتا دوں وہ ایک عام سی شریف زادی ہے جسے زبیر لغاری مجھ سے بدلہ لینے کے لیے اس سب میں گھسیٹ رہا ہے۔۔۔
میری کلاس میٹ ہے اور فاہا نام ہے اسکا۔۔۔ اسنے جلدی سے کہانی گھڑی۔۔۔ نام فاہا ہی رہنے دیا کے جلد یا بدہر بابا کو نام بھی پتہ لگ ہی جانا تھا۔۔۔ صد شکر کے ان سب کی نظروں میں فاہا ایک دن پہلے ہی حویلی جا چکی تھی۔۔۔۔
وہ صرف کلاس میٹ ہے اور میں اسکی عزت کرتا ہوں۔۔۔ میری طرح وہ بھی بے قصور ہے اور میں ایک بہن کا بھائی ہوتے ہوئے کسی کی بہن پر بے بنیاد الزام لگتے نہیں دیکھ سکتا ۔۔۔۔ آخر ہر لڑکی کی عزت انمول ہوتی ہے اس لئے میں نے اسے کلیئر کروانے کو سارا الزام اپنے سر لے لیا۔۔۔ اسنے گہری سانس خارج کرتے کچھ سچ کچھ جھوٹ ملا کر اپنی ابھی ابھی بنائی جانے والی کور سٹوری پر نظر ثانی کی کے کہیں کوئی جھول تو نہیں رہ گیا۔۔۔
مرتسم لودھی اگر تم اقرار جرم نا کرتے تو تمہارے باپ کے لئے یہ سب سمبھالنا مشکل نا ہوتا۔۔۔۔ یہاں تو مجرم مرتے مر جاتے ہیں اور جرم کا اقرار نہیں کرتے اور تم نے پہلے ہی وار پر بے قصور ہوتے اقرار جرم کر لیا۔۔۔
تمہاری الٹی کھوپری کا کیا کروں میں۔۔۔ بابا اسکی اس حرکت سے عاجز آئے۔۔۔
پرچہ کاٹا جا چکا تھا۔۔۔ اور پرچہ خارج کروانا اتنا آسان بھی نا تھا۔۔۔
یہ اس وقت کی ڈیمانڈ تھی بابا۔۔
خاک ڈیمانڈ تھی۔۔۔ ایک آن ڈیوٹی انسپیکٹر پر اسکے پورے عملے کے سامنے ہاتھ نا اٹھاتے تو حالات یکسر مختلف ہوتے۔۔۔
اس انسپیکٹر کے ساتھ اب ذاتی پرخاش ہوگئ ہے بابا۔۔ پلیز اسکا تبادلہ کروا دیں ورنہ اسکی آنکھیں وانکھیں نکال دینی ہے میں نے پھر خوامخواہ ہی آپ بیٹے پر ہوئے دو دو پرچے بھگتے رہیں گے۔۔۔ اسنے غصے سے سر جھٹکا۔۔۔
مرتسم لودھی۔۔۔ بابا کی آواز میں تمبیہہ تھی۔۔
تم اتنے سر پھرے کبھی نا تھے۔۔۔
غلط بات پر میں اتنا ہی سر پھرا ہوں۔۔۔ اسنے ناک سے مکھی اڑائی۔۔۔
چلو دیکھتے ہیں۔۔۔ انشااللہ سب بہتر ہوگا۔۔۔ بابا نے جیسے تھک کر بات سمیٹنی چاہی۔۔۔
اور ہاں۔۔۔ وہ یاد آنے پر گویا ہوئے۔۔۔۔مرتسم جی جان سے انکی جانب متوجہ ہوا۔۔۔
تمہاری ماں علایہ کے لئے رشتہ ڈھونڈ رہی ہے۔۔۔
یا خدایا۔۔۔ وہ زور سے ہاتھ ماتھے پر مار کر رہ گیا۔۔۔
مسٹر لودھی یہ آپکی مسز کو چین کیوں نہیں۔۔۔ کہیں بیٹے کے زبردستی شادی کی تیاریاں اور کبھی بیٹی کے لئے لڑکے کی تلاش۔۔۔
سلمان لودھی اسکے اس انداز پر مسکرا دیئے۔۔۔
بابا ابھی اسکی پڑھائی تو مکمل ہو لینے دیں۔۔۔
بھئ یہ بات اپنی ماں سے کہنا۔۔۔ میں اپنے حصے کی بحث کر کے کیس ہار چکا ہوں۔۔۔ تمہاری ماں کا کہنا ہے کے وہ اسکی ماں ہے اور وہ مجھ سے بہتر اسکا اچھا بھلا سمجھتی ہیں۔۔۔ اسی غرض سے وہ رشتے کروانے والی کی توسط سے کچھ لڑکے دیکھنے جانے والی ہے۔۔۔ اگر تم بھی انکے ساتھ جانا چاہو تو۔۔۔
باپ کی بات پر وہ سر ہاتھوں میں تھام کر رہ گیا۔۔۔
علایہ جانتی ہے یہ سب ۔۔ یکدم یاد آنے پر وہ باپ کی جانب متوجہ ہوا۔۔۔
اسکے تو فرشتوں کو بھی علم نہیں۔۔۔ پتہ چلے گا تو الگ آسمان سر پر اٹھائے لگی۔۔۔
پھر ماں کو کیوں جلدی ہے۔۔۔ وہ عاجز آیا۔۔۔۔
اسکا کہنا ہے کے بیٹیاں جتنی جلدی اپنے گھر کی ہو جائیں اتنا اچھا ہے۔۔ اور بہتریں رشتہ بھی ایک دن میں نہیں ملتا۔۔۔ اور وہ تھوڑی نا ابھی بیٹی کو رخصت کر رہی ہے۔۔۔۔۔ ابھی تو صرف رشتہ تلاشہ جا رہا ہے۔۔ باپ کی بات پر وہ تاسف سے نفی میں سر ہلا کر رہ گیا۔۔۔
******

No comments