Header Ads

Roshan Sitara novel 44th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels


 

Roshan Sitara novel  44th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels 

Roshan Sitara is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels

Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front 

of the world and improve their abilities in that field.

 Roshan Sitara  Novel by Umme Hania | Roshan Sitara  novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Roshan Sitara  novel by Umme Hania Complete PDF download

Online Reading

 ناول "روشن ستارا"۔

  مصنفہ "ام ہانیہ"۔

Official pg : Umme Hania official

چوالیسویں قسط۔۔۔
یہ سب کیسے ممکن ہے۔۔۔ میڈیا اندر کیوں نہیں گئ۔۔۔ اور وہ انسپیکٹر۔۔۔ وہ اتنا بے وقوف کیسے ہو سکتا ہے۔۔۔ کیسے وہ اسے بنا اریسٹ کئے اسکی ضمانت ہونے دے سکتا ہے۔۔
بہت غلط کیا تم نے۔۔ بہت غلط۔۔۔ میڈیا کو اندر کیوں نہیں بھیجا۔۔۔ زبیر لغاری اپنے گھر کے ڈرائینگ روم میں بیٹھا چیزیں اٹھا اٹھا کر پٹختا فون پر اپنی کھولن نکال رہا تھا۔۔۔ اسکا بس نا چل رہا تھا کے سب کچھ تہس نہس کر کے رکھ دے۔۔۔
اتنی فل پرووف پلانینگ کے باوجود سب الٹا کیسے ہو گیا۔۔۔
مرتسم کا تماشا کیوں نا لگا۔۔۔ اور وہ فاہا۔۔۔ وہ کیسے بچ نکلی ۔۔
سر وہ مرتسم لودھی بہت چالاک نکلا اسنے سب الزام اپنے سر لے کر لڑکی کو بری الزمہ کروا دیا۔۔۔ اب اسکے لئے ہم زیادہ سے زیادہ یہ کر سکتے ہیں اٹھاریٹیز سے پریشرائز کروا کر مرتسم کی ڈگری کینسل کروا دی جائے اور اس لڑکی کو اس یونیورسٹی سے نکلوا دیا جائے۔۔۔میں پوری کوشیش کروں گا کے اس واقع کو یونیورسٹی میں پھیلا کر انہیں بدنام کیا جائے اور شام تک یونیورسٹی کی طرف سے کوئی حتمی فیصلہ آ سکے۔۔۔ یہ بدنامی بھی مرتسم لودھی کے لئے کوئی کم بدنامی نا ہوگئ۔۔۔
لیکن فلحال کے لئے آپ کے لئے سر کا حکم ہے کے کل صبح آپکی زمانت کینسل ہو رہی ہے اور مخالف پارٹی  آپکو دوبارہ گرفتار کروانے پر پولیس کو شدید پریشرائز کروا رہی ہے۔۔۔ اس لئے آپکو آج رات کی فلائٹ سے کینڈا جانا ہوگا کم از کم تب تک جب تک یہ کیس حل نا ہو جائے۔۔۔ اور رہ گئ بات یہاں کی تو یہاں کی چھوٹی سے چھوٹی بات سے میں آہکو آگاہ کرتا رہوں گا۔۔۔ اور ہمارا اگلا قدم آپکے حکم کا محتاج ہو گا۔۔۔ تو آپ بے فکر ہو کر جائیں۔۔۔ ہم تاک میں رہیں گے اور موقع ملتے ہی اپنا وار پھر سے کریں گے۔۔۔
اس شخص کے مکمل بریفینگ دینے پر زبیر لغاری نے سکون کا سانس خارج کیا۔۔۔
ٹھیک ۔۔۔ بہت بہتر۔۔۔ شام تک میری ٹکٹس پہنچا دینا۔۔۔
جی سر شیور۔۔۔
*****
مرتسم کے وہاں سے نکلتے ہی فائز اپنے اپارٹمنٹ میں واپس آیا۔۔۔ صد شکر کے سونم کو ابھی تک ہوش نہیں آیا تھا۔۔۔ بہتر تھا کے اسے پروفیسر صاحب کی آخری رسومات تک ہوش نا ہی آتا۔۔۔  وہاج نے وہاں سارے انتظامات سمبھال لئے تھے اور مرتسم بھی فاہا کو حویلی چھوڑ کر جنازے سے پہلے واپس آنے والا تھا۔۔۔
اسنے ایک دفعہ ساری تسلی کی سونم کے ابھی ہوش میں آنے کے کوئی اثرات نا تھے۔۔۔ اسنے غالباً کبھی نیند کی گولی نہیں کھائی تھی تبھی اب اسکا اثر زیادہ ہوا تھا۔۔۔ وہاج کا اسے فون آنے لگا تھا وہ غالباً سارے انتظامات مکمل کر کے اسے وہاں بلا رہا تھا۔۔۔
******
فاہا فریش ہو کر باہر آئی تو پہلے سے قدرے بہتر تھی ۔۔۔ کھانا دونوں نے خاموشی سے کھایا اور کھانا کھاتے ہی سفر ایک مرتبہ پھر سے شروع ہوا۔۔۔ پیٹ میں کچھ گیا تھا تو دماغ کچھ سوچنے سمجھنے کے قابل ہوا تھا۔۔۔۔
اسنے کن اکھیوں سے سنجیدگی سے ڈرائیونگ کرتے مرتسم کو دیکھا۔۔۔ جسکی سرد سنجیدہ نگاہیں ونڈ سکریں پر  جمی تھی جبکہ سٹرینگ مضبوط ہاتھوں تلے دبی تھی۔۔۔
اسکے چہرے سے ہوتی فاہا کی نظر اسکی گردن تک گئ ۔۔۔ شڑت کے کھلے گلے سے گردن کا کچھ حصہ واضح ہوتا تھا جہاں ڈنڈوں کے سرخ نشان تھے۔۔۔ نشانات پر نظر پڑتے ہی اسے صبح کے سبھی مناظر یاد آ گئے۔۔۔ سرعت سے اسکی آنکھیں گیلی ہوئیں۔۔۔ کتنا کچھ برداشت کیا تھا مرتسم نے محض اس کی خاطر۔۔۔۔۔ اسکے حصے کا الزام تک اپنے سر لے کر اسے بری الزمہ کروا  دیا۔۔۔ اب چاہے اسکی ڈگری بھی کینسل ہو جاتی۔۔۔ فاہا کا دل چاہا کے ڈھاریں مار مار کر رو دے۔۔۔ کتنا نقصان کروا چکی تھی وہ اس شخص کا۔۔۔
اسکی سنجیدگی و خاموشی اسکی واضح ناراضگی اور غصے کی نشاندہی  تھی۔۔۔
مرتسم میں وہاں صرف اسائمنٹ جمع کروانے گئ تھی۔۔۔ گود میں ڈھرے ہاتھوں کو مسلتی وہ آستگی سے منمنائی۔۔۔
کیا میں نے تم سے وضاحت مانگی۔۔۔ جب میرے کہے کی تمہارے نزدیک اہمیت ہی کوئی نہیں ہے۔۔  پاگل سمجھا ہے تم نے مجھے۔۔۔ تم نے کرنی ہی اپنی منمانی ہے تو پھر اس سارے ڈرامے کا مقصد۔۔۔ وہ سختی سے دو ٹوک انداز میں گویا یوا۔۔۔
فاہا کے آنسو بہہ نکلے۔۔۔
اسائمنٹ کی آخری تاریخ تھی اور۔۔
کیا تم نے یہ بات مجھے بتائی۔۔۔ وہ درشتی سے اسکی بات کاٹ گیا۔۔۔۔ 
تمہاری اسائمنٹ میں بھی جمع کروا سکتا تھا اگر تم منہ سے پھوٹتی تو۔۔۔ وہ خونخوار ہوا۔۔۔
ایم سوری۔۔۔۔ لب چباتی وہ منمنایئ۔۔۔
ضرورت نہیں ہے مجھے تمہاری سوری کی۔۔۔ جتنا نقصان تم میرا کر سکتی تھی کر چکی ہو۔۔۔ اب براہ کرم جب تک میں نا کہوں تب تک اپنی عقل استعمال کرتے واپس مت آنا۔۔۔ میں نہیں چاہتا جب تک یہ کیس حل نہیں ہو جاتا تم واپس آو۔۔۔ تمہارا نام اگر اس کیس کے حوالے سے کہیں پر بھی آتا ہے تو یہ میری غیرت پر ایک تازیانہ ہو گا۔۔۔ اس لئے چپ چاپ وہیں رہنا جب تک میں نا کہوں۔۔۔ اسکا لہجہ ہر طرح کی لچک سے پاک تھا۔۔۔ گویا انگارے چبائے بیٹھا ہو۔۔۔ اس ساری صورتحال نے دماغ ہی اتنا گھما ڈالا تھا کے وہ چاہ کر بھی اپنے غصے پر قابو نہیں کر پا رہا تھا۔۔۔ اور ہاں چچا جان کے سامنے کسی بات کا اشتہار مت لگانا۔۔۔ یہ بات جتنی دب سکے اتنی بہتر ہے۔۔۔ ورنہ کوئی نہیں کہے گا کے تم نے ایک رات یونیورسٹی کے بند آفس میں تنہا گزاری ہے۔۔۔ یہاں جتنے منہ ہیں اتنی باتیں بنیں گیں۔۔۔ اس لئے اس معاملے میں خاموشی اختیار کرنا باقی میں سمبھال لونگا۔۔۔
حویلی کے گیٹ کے سامنے اسنے گاری روکتے دھیمے لہجے میں اسے باور کروایا۔۔۔ انداز اب بھی اکھڑ ہی تھا۔۔۔ وہ اسکے اترنے کا انتظار کر رہا تھا۔۔۔
آپ اندر نہیں آئیں گے۔۔۔ وہ اسکے اترتے ہی مرتسم کو گاڑی بگا لے جانے کی کوشیشوں میں دیکھ پوچھ بیٹھی۔۔۔
پیچھے جو میس تم پھیلا کر آئی ہو۔۔۔ مجھے جا کر وہ سمیٹنا ہے۔۔  ابھی اندر آنے کا میرے پاس ٹائم قطعاً نہیں۔۔۔۔
وہ خاموشی سے سر جھکا گئ۔۔۔
کیس کا کیا بنے گا مرتسم۔۔۔ اسے نئ فکر لاحق ہوئی۔۔۔ آخر کو وہ دو دن کی ضمانت پر تھا کل نہیں تو پرسوں اسکی ضمانت کینسل ہو جاتی۔۔۔۔ 
کچھ کہا نہیں جا سکتا ۔۔۔ جا کر ہی دیکھا جا سکے گا کہ کیا بنتا ہے۔۔۔ وہ اب بھی کھنچا کھنچا سا تھا۔۔۔۔
بابا سے تو مل لیں۔۔۔ گاڑی کا دروازہ کھول کر باہر نکلتے نکلتے وہ پھر سے رکی۔۔۔
ابھی وقت نہیں اگلی دفعہ انشااللہ ان سے ملاقات ہو گئ۔۔۔ میں فون پر بات کر لوں گا۔۔۔
وہ اسکی جلدبازیاں ملاخظہ کرتی سر ہاں میں ہلاتی گاڑی سے اتر گئ۔۔۔ جبکہ اسکے اترتے ہی وہ گاڑی زن سے بھگا لے گیا۔۔۔۔
*****
مرتسم کے جاتے ہی فاہا نے گیٹ سے  قدم اندر بڑھائے۔۔۔ مستند سا چوکیدار مرتسم کی گاڑی دیکھ کر گیٹ پہلے ہی وا کر چکا تھا۔۔۔ فاہا کے سلام کرنے پر انہوں نے مسکرا کر فاہا کے سر پر ہاتھ رکھا۔۔۔۔
چھوٹی بی بی جی بہت خوشی ہو رہی ہے آپکو یوں اچانک دیکھ کر ۔۔۔بہت یاد کیا ہم سب نے آپکو۔۔۔ آپکے بنا تو حویلی ہی سونی ہوگئ تھی۔۔۔ ساری رونق تو آپ اپنے ساتھ لے گئ۔۔۔ فاہا مسکرا کر چوکیدار چاچا کی باتیں سن رہی تھی۔۔۔ اپنے گھر کا سکون ہی الگ تھا۔۔۔۔
اب آپ آ گئ ہیں نا چھوٹی بی بی جی اب بڑے صاحب بھی بھلے چنگے ہو جائیں گے۔۔ ۔
چوکیدار کے کہنے پر وہ چونکی۔۔۔۔
کیا مطلب چوکیدار چچا کیا ہوا بابا کو۔۔۔ لہجے میں خودبخود پریشانی اور فکرمندی در آئی تھی۔۔۔
کیا آپ نہیں جانتی بی بی جی۔۔۔ چوکیدار گھبرایا۔۔۔ وہ بی بی جی۔۔۔ پھر رازدرانہ انداز،میں ادھر ادھر دیکھتا اسکے قریب کھسکا۔۔۔
صاحب جی نے شاید یہ بات آپ سے چھپائی ہے۔۔۔۔ فاہا کا دل زور سے ڈھرکا۔۔۔ اسے بے چینی لاحق ہونے لگی۔۔۔ کیا ابھی کوئی اور بھی پریشانی باقی تھی۔۔۔
پچھلے کچھ دنوں سے انکی طبیعت بہت خراب تھی۔۔۔ اب تو پھر کچھ بہتر ہیں۔۔۔ دل کا دورہ پڑا تھا۔۔۔ ڈاکٹر نے مکمل بیڈ ریسٹ بتایا ہے۔۔۔ انہوں نے یہ بات آپ سے چھپائی کیونکہ شاید وہ وہاں دور پردیس میں آپکو پریشان نہیں کرنا چاہتے ہونگے۔۔۔
لیکن بی بی جی وہ اپنی صحت سے بہت عفلت برت رہے ہیں۔۔۔ ڈاکٹر کے کہنے کے باوجود انہوں نے ابھی تک سارا کام خود سمبھالا ہوا ہے۔۔۔ انہیں اپنی کوئی فکر نہیں۔۔۔ مجھے انکی پرواہ ہے بی بی جی۔۔۔ لیکن اب آپ آ گئ ہیں ںآ تو میں پر امید ہوں سب ٹھیک ہو جائے گا۔۔۔
فاہا کی دل کی ڈھرکن ہر لمحہ سست پڑ رہی تھی۔۔ آنکھیں بار بار نم ہونے لگیں تھیں ۔۔ وہ قدم رکھ کہیں رہی تھی پڑ کہیں رہا تھا۔۔۔ دماغ سائیں سائیں کر رہا تھا۔۔۔ بابا نے اتنی بڑی بات اس سے چھپائی۔۔۔۔ اگر بابا کو کچھ ہو جاتا تو ۔۔۔ بابا کے سوا اسکا اور تھا ہی کون۔۔۔۔ اسنے بے دردی سے گالوں پر پھسلی نمی کو رگڑ کر صاف کیا۔۔۔۔ اس ایک لمحے میں وہ اپنا پچھلہ سارا مسلہ جیسے بھول گئ تھی یاد تھا تو بس اپنے بابا۔۔۔۔ اگلے کچھ ہی منٹوں میں فاہا کی غیر یقینی طور پر حویلی میں موجودگی سے جیسے وہاں بونچال آ گیا تھا۔۔ تمام ملازمیں اپنی چھوٹی بی بی جی کو اچانک وہاں موجود دیکھ جیسے کھل اٹھے تھے۔۔۔  یہ بات زمینوں پر موجود بابا کے علم میں بھی آ گئ تھی اسی لئے تو سارے کام چھوڑ چھاڑ ہنگامی طور پر وہ اپنی لاڈلی سے ملنے واپس آ رہے تھے جہاں وہ غم و غصے اور نارضگی سے منہ پھلائے انکی منتظر تھی۔۔۔
*****
پروفیسر صاحب کو سپرد خاک کر کے وہ تھکے تھکے قدموں سے گھر واپس لوٹا۔۔۔ باہر اب شام اترنے لگی تھی
اپارٹمنٹ میں آیا تو ہنوز اندھیرے نے اسکا استقبال کیا۔۔۔ اسکا مطلب کے سونم ابھی بھی ہوش میں نہیں آئی تھی۔۔۔ وہ پریشانی سے کمرے میں آیا۔۔۔ دروازہ کھول کر سوئچ بورڈ پر ہاتھ مارا تو وہ اسے بیڈ پر گھٹنوں میں سر دیئے سسکتی ہوئی ملی۔۔۔  آہٹ پر اور پھر لائٹ جلنے پر سونم نے چونک کر سر اٹھایا۔۔۔ الجھے بکھرے بال اور متورم سوجھی آنکھیں۔۔۔
سامنے فائز کو کھڑا دیکھ اسکی آنکھوں میں شدید غصہ اترا۔۔۔
کیوں لے کر آئے ہیں آپ مجھے یہاں۔۔۔ وہ غصے سے تن فن کرتی بستر سے اتری۔۔۔ کیوں لائے۔۔۔۔ 
ظالم صرف وہ لوگ نہیں۔۔۔ بلکہ ان سے بڑے ظالم تو آپ ہیں۔۔۔۔ وہ طیش سے اسکی جانب بڑھی اور اسے پوری قوت سے دھکا دیا۔۔  فائز لڑکھڑا کر دو قدم پیچھے ہٹا
انہوں نے مجھے میرے باپ کی شفقت انکے سائے سے محروم کیا تو آپ نے انکے  آخری دیدار سے ہی محروم کر دیا۔۔۔
بہت ظلم کیا آپ نے مجھ پر بہت ظلم۔۔۔  وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔
پلیز سونم۔۔۔ سمجھنے کی کوشیش کرو۔۔۔۔ میں تمہاری حالت سمجھ سکتا ہوں۔۔۔
نہیں آپ نہیں سمجھ سکتے مجھے۔۔۔ نا ہی مجھے آپکو سمجھنے کی ضرورت ہے۔۔۔
وہ اسکی بات کاٹتی چٹخی۔۔۔
میں مجبور تھا سونم۔۔۔ پلیز میرے ساتھ تعاون کرو۔۔۔ یہ ایک آزمائش محض تم پر ہی نہیں مجھ پر بھی ٹوٹی ہے۔۔۔ پروفیسر صاحب میرے لئے بھی میرے والد جیسے تھے۔۔ میں خود اس وقت ٹوٹ گیا ہوں۔۔۔ 
مجھے تمہارے تعاون کی ضرورت ہے۔۔۔
ماتھا مسلتا وہ ٹوٹے لہجے میں گویا ہوا۔۔ 
میں جانتا ہوں میری طرف سے تمہارے ساتھ زیادتی ہوئی ہے۔۔۔ پروفیسر صاحب کی آخری رسومات میں تمہاری شمولیت حق تھا تمہارا مگر میں مجبور تھا ۔۔۔ جس بیٹی کو بچانے کے لئے اسکی عزت و ناموس کی حفاظت کرتے کرتے وہ دنیا سے چلے گئے۔۔۔ اس پر میں کیسے رسک لے لیتا ۔۔۔ دشمن تاک میں تھا۔۔  وہ منتظر تھا کے باپ کے آخری دیدار کو بیٹی ضرور آئے گی ایسے میں اگر میں تمہیں وہاں لے جاتا تو مجھ سے بے وقوف کوئی نا ہوتا۔۔۔
یہ جو کچھ بھی ہوا اس میں  ہم میں سے کسی کا کوئی قصور نہیں سونم۔۔۔ نا تمہارا نا میرا نا کسی اور کا۔۔۔
بحثیت مسلمان ہمارا عقیدہ ہے کے موت کو کوئی نہیں ٹال سکتا۔۔۔ موت کا وقت مقرر ہے جگہ مقرر ہے اور طریقہ بھی۔۔۔ پروفیسر صاحب اتنی زندگی ہی لکھوا کر آئے تھے۔۔۔ انہوں نے اس وطن کی خاطر جام شہادت نوش پائی۔۔۔
وہ سر جھکائے پاوں سے فرش کھرچ رہا تھا
ہم یوں ایک دوسرے پر الزام تراشی کر کے محض اپنی فریسٹریشن نکالیں گے۔۔۔ کے یوں ہوتا تو یوں نا ہوتا۔۔۔ حالانکہ کچھ معاملوں میں انسان بے بس ہے۔۔۔ بالکل بے بس۔۔۔ یہاں حکم فریسٹریٹ ہونے کا نہیں صبر کا ہے سونم۔۔۔ یہ ہی زندگی ہے۔۔۔ یہ آزمائشیں ہی ایمان کا امتحان ہے۔۔۔ ہم یوں اس فیز میں بکھر نہیں سکتے۔۔۔ وقت مشکل ہے۔۔۔ اور آزمائش کڑی ہے۔۔۔ لیکن ہمیں اللہ پر توکل رکھ کر خود کو سمیٹنا ہے۔۔  ہم پروفیسر صاحب کی قربانی کو ضائع نہیں جانے دے سکتے۔۔۔ ہمیں انکے پراجیکٹ کو مکمل کرنا ہے۔۔ 
 فائز کے نرم مدہم لہجے پر سونم کے آنسو ٹھٹھرنے لگے۔۔۔۔ اسکا غصہ بیٹھتا دیکھ فائز کو کچھ حوصلہ ہوا۔۔۔
جاو شاباش فریش ہو کر آو۔۔۔ تب تک میں تمہارے لئے کچھ کھانے کا نتظام کرتا ہوں۔۔۔  فائز کے واش روم کی جانب اشارہ کرنے پر وہ بھاری دل کیساتھ سر ہاں میں ہلاتی واش روم کی جانب بڑھ گئ۔۔ 
کچھ ہی دیر میں وہ فریش ہو کر گیلے ہاتھوں سے کپڑوں کی شکنیں درست کرتی باہر آئی ۔۔۔ اب وہ پہلے سے قدرے بہتر تھی۔۔۔  چہرے کی سرخی بتدریج کم ہوئی تھی اور آنچل سلیقے سے سر پر اوڑھ رکھا تھا۔۔۔
یہیں آجاو سونم۔۔۔ کچن میں کھڑا کپ میں چائے چھانتا فائز اسے کمرے کے دروازے کے پاس گم صم سا کھڑا دیکھ دوستانہ انداز میں گویا ہوا۔۔۔
جب تک وہ فریش ہو کر آئی تھی فائز اسکے لئے چائے اندہ اور ٹوسٹ تیار کر چکا تھا۔۔۔
وہ جھجھکتی ہوئی چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی لاوئنج میں موجود صوفے پر آ کر بیٹھی۔۔۔ دفعتاً فائز نے کھانے کی ٹرے لا کر اسکے سامنے میز پر رکھی اور خود اس سے کچھ فاصلے پر بیٹھ گیا۔۔۔
چلو شروع کرو۔۔۔ 
مم۔۔ مجھے بھوک نہیں ہے۔۔۔ وہ بے بسی سے گویا ہوئی۔۔
ایسے نہیں کرتے سونم۔۔ بھوکا رہ کر خود کو اذیت پہنچانے سے کیا حاصل۔۔۔ چلو شاباش جتنی بھوک ہے اتنا ہی تھوڑا سا کھالو۔۔۔ پھر مجھے تمہیں دوائی بھی دینی ہے۔۔  یوں تمہاری طبیعت مزید بگڑ جائے لگی۔۔۔ شدید سر درد اب بخار کی صورت اختیار کرنے لگا تھا۔۔۔ فائز جانتا تھا کے سانحہ چھوٹآ نہیں۔۔۔ جو کچھ وہ اپنی آنکھوں سے عزیز از جان باپ کے ساتھ ہوتا دیکھ چکی تھی اسے اس واقعہ کو بھولتے کئ دن لگ جانے تھے۔۔۔
وہ نم آنکھوں سے سر ہاں میں ہلاتی زبردستی چند لقمے زہر مار کرنے لگی۔۔۔
چند ایک نوالے لے کر ہی اسنے کھانے سے ہاتھ کھینچ لیا۔۔۔ فائز نے بھی مزید اصرار نا کیا اور فرسٹ ایڈ باکس سے بخار کی گولی نکال کر اسکی جانب بڑھائی۔۔۔
اب یہ کس چیز کی گولی ہے۔   صبح کی طرح سر درد کی۔۔۔ وہ نم آنکھوں سے گولی دیکھتی مسکرا دی۔۔۔ اسکا اشارہ صبح نیند کی گولی کی جانب تھا۔۔۔
فائز بھی مسکرا دیا۔۔۔ نہیں صبح مجبوری تھی۔۔۔ تم وہاں سے آنے کو تیار نا تھی اس لئے مجبوراً مجھے تمہیں نیند کی گولی کھلا کر لانا پڑا۔۔۔
یہ بخار کی گولی ہے۔۔۔ تمہاری طبیعت بگڑ رہی ہے اس سے افاقہ ہو گا۔۔۔
وہ اسکی جانب جھک کر گولی پکڑا رہا تھا۔۔۔ سونم نے ہاتھ بڑھا کر اسکی ہتھیلی سے گولی اٹھائی اور عین اسی وقت کلک کی آواز کیساتھ دروازہ وا ہوا۔۔ فائز نے چونک کر دروازے کی جانب دیکھا جہاں ماہرا اپنا ہینڈ کیری تھامے کھڑی تھی۔۔۔ وہ اپنی غیر موجودگی میں فائز کو سونم کیساتھ لاوئنج کے صوفے پر بیٹھا دیکھا گویا اپنی جگہ فریز ہوگئ تھی۔۔ جبکہ فائز اسے دیکھ کر نامحسوس انداز میں وہاں سے اٹھا۔۔۔ وہ تو تین دن بعد آنے والی تھی نا پھر بھلا ابھی کیسے آگئ۔۔۔
*****
*****

No comments

Powered by Blogger.
4