Roshan Sitara novel 43rd Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Roshan Sitara novel 43rd Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Roshan Sitara is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels
Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front
of the world and improve their abilities in that field.
Roshan Sitara Novel by Umme Hania | Roshan Sitara novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Roshan Sitara novel by Umme Hania Complete PDF download
Online Reading
ناول "روشن ستارا"۔
مصنفہ "ام ہانیہ"۔
Official pg : Umme Hania official
ترتالیسویں قسط
تم اسے اریسٹ کرو گئے۔۔۔ اتنا ہی بے غیرت سمجھ رکھا یے تم نے مرتسم لودھی کو۔۔۔ پولیس اہلکار اس پر جھپٹے لاٹھی چارج سے اسے پیچھے ہٹانے کی کوشیشوں میں ہکلان تھے۔۔۔ وہ پوری قوت سے مرتسم کی پشت پر ڈنے برسا رہے تھے مگر وہ بپھرا شیر بنا پے در پے انسپیکٹر پر گھونسے برسا رہا تھا۔۔۔
پروفیسر اور ڈین حق دق سے یہ کاروائی دیکھ رہے تھے وہ مرتسم سے اتنی حماقت کی توقع نا رکھتے تھے کے وہ یوں انسپیکٹر پر جھپٹ پڑے گا۔۔۔ جبکہ فاہا کا بس نا چل رہا تھا کے وہ کسی طرح سے سارے منظر سے غائب ہو جائے۔۔۔۔
دفعتاً فائز علوی بھاگتا ہوا اندر داخل ہوا۔۔۔
اسکا سانس پھول رہا تھا جبکہ ماتھے پر پسینے کی بوندیں تھی۔۔ اسنے زرا دیر کو رک کر اپنا سانس بحال کیا اور ایک لمحہ لگا اسے وہاں ہوتی ساری کاروائی سمجھنے
میں۔۔۔
ایک منٹ ایک منٹ۔۔۔ پلیز آپ زرا رکیں مجھے دیکھنے دیں۔۔۔ اسنے بامشکل پولیس اہلکار کو مرتسم پر لاٹھی چارج کرنے سے منع کرتے پیچھے ہٹایا اور ایک ہی جھٹکے میں مرتسم کے ہاتھ کھینچتے اسے انسپیکٹر سے جدا کیا۔۔۔
مرتسم پیچھے ہٹتا پوری قوت سے ہاتھ کا مکا بناتا اسکی جانب لپکا لیکن سامنے فائز کو دیکھ کر دھیما پڑتا پیچھے ہٹا۔۔۔
کھڑا ہو کر اسنے اپنی شرٹ درست کی اور آستین سے ماتھے کا پسینہ پونچھتے انسپیکٹر کو خونخوار نگاہوں سے تکا۔۔۔
تب تک فائز انسپیکٹر کو اٹھا کر کھڑا کر چکا تھا جو غصے سے پیچ و تاب کھاتا کسی بھی پل مرتسم لودھی پر جھپٹ پڑنا چاہتا تھا۔۔۔
ہم بیٹھ کر بات کر سکتے ہیں۔۔۔ اسنے مفاہمتی انداز میں سب حل کرنا چاہا۔۔۔
ح
محترم بیٹھ کر بات اب تھانے میں ہو گی۔۔۔ اس شخص نے حد کراس کر دی ہے۔۔۔ آن دیوٹی انسپیکٹر پر ہاتھ اٹھانے کے اس پر ایسے ایسے چارجز لگیں گے کے یہ یاد رکھے گا کہ اس نے پنگا کس سے لیا ہے۔۔۔
انسپیکٹر نے ہاتھ کے انگوتھے سے منہ سے نکلتا خون صاف کیا۔۔۔
سر میں اس بدتمیز کی طرف سے معذرت خواہ ہوں۔۔۔ اور یہ بھی ابھی سب کے سامنے آپ سے معافی مانگے گا۔۔۔ آپ بھی بڑے پن کا ثبوت دیں اور بات آئی گئ کریں۔۔۔ مشرقی مرد غیرت پر بات آنے پر شاید یونہی بے قابو ہو جاتا ہے۔۔۔۔۔
فائز انسپیکٹر کے کندھے پر بازو پھیلائے اسے ایک کونے میں لیجا کر ملتجانہ گویا ہوا۔۔۔ وہ بات کو یہیں کور کر لینا چاہتا تھا۔۔۔
میں اسکا باپ نہیں ہوں جو بڑے پن کا ثبوت دوں۔۔۔ اس لڑکے کی ٹیون بہت بگڑی ہے۔۔۔ تھانے کی ہوا ہی اسے درست کرے گی۔۔۔ انسپیکٹر کی آنکھیں غصے سے سرخ پڑنے لگیں تھیں۔۔۔ وہ کسی طرح بات نمبٹانے کے حق میں نا تھا۔۔۔
سر جی وہ ایک رئیس باپ کی بگڑی اولاد ہے۔۔۔ اسکا باپ اسے ویسے بھی تھانے کی ہوا کھانے نہیں دے گا۔۔۔ ہم مل بیٹھ کر مسلہ حل کر لیتے ہیں۔۔۔ یوں اگر بات بڑھی تو چڑ میں وہ اور بھی بدتمیزی کر جائے گا۔۔۔ آخر آپکی بھی سرکاری نوکری کا مسلہ ہے۔۔۔ فائز نے اسے دھکے چھپے انداز میں ہر چیز سے آگاہ کرنا چاہا کے مرتسم لودھی بگڑا بہت برا تھا۔۔۔
سمجھدار لگتے ہو لڑکے۔۔۔ لیکن مجھے تمہاری سمجھداری کی کوئی ضرورت نہیں۔۔۔ اب اس لڑکے سے دشمنی زرا ذاتی نوعیت کی ہوگئ ہے جب تک اسکا حساب بے باک نہیں ہوگا۔۔۔ مجھے سکون نہیں ملے گا۔۔۔ اور اس سے حساب بے باک تھانے چل کر ہی ہوگا۔۔۔ باقی ساری ڈیلنگز بعد کی۔۔۔
انسپیکٹر نےفائز کی پشت پر تھپکی دیتے سنگیں لہجے میں آگاہ کیا کہ ایک پل کو تو فائز بھی گم صم رہ گیا۔۔۔
انسپیکٹر واپس ان سب کی جانب پلٹا تو فائز نے تیزی سے دماغ چلاتے جیب سے موبائل نکالا اور بعجلت کچھ ٹائپ کر کے سینڈ کیا۔۔۔
لمحے کے ہزارویں حصے میں وہ میسج ہوا کے دوش پر محو پرواز مرتسم کے موبائل پر بپ کی صورت موصول ہوا۔۔۔
مرتسم نے خونخوار نگاہوں سے انسپیکٹر کو دیکھتے جیب سے موبائل نکال کر میسج کھولا۔۔۔
انسپیکٹر بھی خطرنک عزائم لئے اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔
دفعتاً لیڈی کانسٹیبلز اندر داخل ہوئیں۔۔۔
اسے اریسٹ کرو اور پیچھے رابطہ کر کے انہیں صورتحال سے آگاہ کرو۔۔۔ انکے تھانے پہنچنے سے پہلے ان پر پرچہ کٹا ہونا چاہیے۔۔۔ انسپیکٹر پھنکارا۔۔۔ جبکہ فائز پریشانی سے ماتھا مسلتا موبائل پر کوئی نمبر ڈائل کرتا کمرے سے نکل گیا۔۔۔ یہ مسلہ اب یہاں حل ہونے سے رہا تھا اسے ہی عقلمندی کا مظاہرہ کرتے کوئی دوسرا سدباب کرنا تھا۔۔۔
ایک منٹ ایک امنٹ ایک منٹ انسپیکٹر۔۔۔ ٹھنڈے ہو جاو۔۔۔ اتنی جلدی کس بات کی ہے۔۔۔۔۔ اگر ہمارے وہاں جانے سے پہلے ہم پر پرچہ کاٹنا ہے تو مجھ سے پہلے میرا اقرار جرم کا بیان تو لے لو۔۔۔ مرتسم پر اسرار انداز میں کہتا کرسی گھسیٹ کر اس پر بیٹھتا اور ٹانگ پر ٹانگ جمائی۔۔۔۔۔
انسپیکٹر نے اسے یوں دیکھا جیسے اسکا دماغ چل گیا ہو۔۔۔ انسپیکٹر کے اشارہ کرنے پر کانسٹیبل اسکی جانب بڑھا۔۔
میں اقرار کرتا ہوں کے یونیورسٹی سے پرجہ جات میں نے چرائے۔۔۔ وہ ہنوز سنجیدہ نگاہیں انسپیکٹر پر جمائے بول رہا تھا۔۔۔ اور ڈرگز بھی میری ہیں۔۔۔ وہ مزید گویا ہوا۔۔۔ انسپیکٹر نے اسے یوں دیکھا جیسے اسکا دماغ چل گیا ہو۔۔۔
میرے پاس ان چیزوں کو رکھنے کے لئے کوئی جگہ نہیں تھی اس لئے میں نے فاہا کو یہاں بلایا اور اسے بنا بتائے اسکے بیگ میں یہ سب رکھا۔۔۔ وہ سچ بول رہی ہے وہ ان سب چیزوں سے قطعی نابلد ہے۔۔۔ وہ یہاں یونیورسٹی کے ٹور پر جانے کے لئے اپنی دوست کو ڈراپ کرنے آئی تھی لیکن میں نے فون کر کے اسے یہاں بلا لیا اور اسے اپنے مقصد کے لئے استعمال کیا۔۔۔ وہ قطعی بے قصور ہے اور اسکا اس سارے معاملے سے کوئی لینا دینانہیں۔۔۔
وہ ایک پاوں جھلاتا مطمین انداز میں گویا رٹے رٹائے جملے ادا کر رہا تھا کے وہاں موجود ہر نفوس اسے دیکھ کر رہ گیا۔۔۔ گویا فائز کا میسج اسی کسی چیز کے متعلق تھا۔۔۔
جسنے اسے لمحے میں ساری کہانی تیار کرنے میں مدد دی تھی۔۔۔
اب ۔۔ وہ ٹانگ سے ٹانگ اتار کر سیدھا ہوا اور زرا آگے کو جھکا۔۔۔اگر تم ایک باپ کی اولاد ہو۔۔۔ اور انسپیکٹر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر چبا چبا کر گویا ہوا۔۔۔ تو میرے یہیں بیٹھے بیٹھے مجھے میرے خلاف پرچہ کٹوا کر دکھاو۔۔۔
اسکا انداز چیلنجنگ تھا کے نسپیکٹر سلگ کر رہ گیا۔۔۔ اسنے بنا تاخیر کئے اپنا موبائل نکالا اور پیچھے رابطہ استوار کیا۔۔۔
وہ ٹانگ پر ٹانگ جمائے کرسی کی پشت سے ٹیک لگائے پراسرار انداز میں اسکے بلبلائے انداز دیکھ رہا تھا۔۔۔
دراصل یہ ایک طریقہ تھا انسپیکٹر کو طیش دلوا کر اپنے خلاف پرچہ کٹوانے کا اسکے دو فائدے تھے فائز کے کہے کے مطابق ایک تو وقت رہتے فاہا اس سارے میس سے نکل جاتی ۔۔۔ دوسرا ایف آئی آر کو دیکھ کر کیس کی نوعیت کا اندازہ ہو جاتا اور اگلا سدباب کرنے میں آسانی رہتی۔۔۔
دفعتاً انسپیکٹر مسکراتا ہوا فون بند کر کے اسکی جانب پلٹا۔۔۔
لو شہزادے ہوگئ تمہاری خواہش پوری۔۔۔ کٹ گیا تمہارے خلاف مضبوط ترین پرچہ۔۔۔ اب چلیں ۔۔۔ سسرال کی ہوا کھانے۔۔۔ وہ استہزایہ انداز میں گویا ہوا۔۔۔
مرتسم بھی مسکرا دیا۔۔۔
ایسے کیسے انسپیکٹر صاحب پہلے مجھے ایف آئی آر کی کاپی تو واٹس ایپ کرو۔۔۔ مجھے بھی تو پتہ چلے تم کتنے سچے ہو۔۔۔ یہ طریقے تو پریپ کلاس کے سٹودینٹس کو چارنے والے ہیں جس سے تم مرتسم لودھی کو چارنے کی کوشیش کر رہے ہو۔۔۔ اسکا انداز طیش دلاتا تھا۔۔۔ آخر کو مرتسم لودھی تھا جو اڑتی چڑیا کے پر گن لیتا تھا۔۔۔ وہ بندے کو دیکھتے ہی سمجھ جاتا تھا کے اسے کس طرح سے ڈیل کرنا ہے۔۔ یہ شخص بھی حد سے زیادہ جذباتی اور غصے میں فوری ردعمل۔دینے والا تھا اسی لئے تو وہ اسے طیش دلا کر مطلوبہ نتائج حاصل کر رہا تھا۔۔۔
انسپیکٹر نے اسے خونخوار نگاہوں سے دیکھتے اس سے نمبر لیا اور اسے ایف آئی آر کی تصویر منگوا کر واٹس ایپ کی۔۔
مرتسم نے تصویر موصول ہوتے ہی بنا اسے پڑھے وہ آگے فائز کو واٹس ایپ کر دی۔۔۔
باقی کی کاروائی مکمل کرتے انہیں چند منٹ لگی۔۔۔
چلو شہزادے سسرال کی سیر کرنے چلیں۔۔۔ اسنے بہت بدتمیزی سے مرتسم کو کندھے سے جھکڑتے کھڑا کیا۔۔۔
فاہا جیسی خوبصورت لڑکی کو وہاں چھوڑ کر جانے کا قلق الگ تھا
مگر حساب تو اس لڑکے سے بھی بہت سے نکلتے تھے اسکے۔۔۔
بدتمیزی نہیں انسپیکٹر۔۔۔ میں خود چل رہا ہوں نا۔۔۔ مرتسم نے بے طرح اسکا ہاتھ جھٹکتے اپنے کارلر سے نادیدہ دھول جھاری۔۔۔
خفت سے انسپیکٹر کا چہرا پھر سے سرخ ہوا۔۔۔
تم خود سے ساتھ چلو یا نا چلو۔۔۔ لیکن ہم تو تمہیں ہتکھڑی لگا کر گھسیٹتے ہوئے ہی لے کر جائیں گے تا کے میڈیا بھی اس رئیس باپ کی بگڑی اولاد کی حالت سے محظوظ ہو اور تمہارا باپ بھی تمہاری درگت بنتے دیکھ سکے۔۔۔۔۔۔ ہتھکڑی لگاو اسے۔۔ انسپیکٹر اسے غرا کر کہنے کے بعد اکھڑ انداز میں کانسٹیبل سے گویا ہوا۔۔۔
مرتسم نے سمجھ کر سر خم کیا۔ لو یہ ارمان بھی پورا کر لو کوئی حسرت رہ نا جائے تمہاری۔۔ اور اپنے دونوں ہاتھ نکال کر سامنے کئے۔۔۔ ایک کانسٹیبل نے سرعت سے اسکے ہاتھوں میں ہتھکڑی پہنائی۔۔۔اس سے پہلے کے وہ ہتھکڑی پکڑ کر اسے گھسیٹتا ہوا لے کر جاتا فائز اندھی طوفان بنا اندر داخل ہوا۔۔۔
یہ لیں انسپیکٹر صاحب۔۔۔ مسٹر مرتسم لودھی کی آفیشلی دو دن کی عبوری زمانت ہو گئ ہے۔۔۔ اسنے موبائل پر موجود تصویر اسکی جانب بڑھائی۔۔۔ ہمارا وکیل ابھی بھی تھامے میں ہی بیٹھا ہے آپ وہاں جا کر اس سے بات بھی کر سکتے ہیں۔۔۔ اب دو دن بعد آپ سے ملاقات ہوگئ۔۔
انسپیکٹر کے چہرے پر ایک رنگ آ رہا تھا ایک جا رہا تھا۔۔۔ واقعی یہ پیسے کی ہی گیم تھی۔۔۔ اسے مرتسم کو وہاں لیجا کر پرچہ کاٹنا چاہیے تھا تا کے انسپیکٹر کی تھانے میں موجودگی کے باعث زمانت میں تاخیر ہو سکتی۔۔۔ مگر اب ہر کام آفیشلی اور لیگل طریقے سے ہوا تھا۔۔۔
براہ کرم آپ ملزم کے ہاتھوں سے ہتھکڑیاں اتاریں ۔۔۔ وہ موبائل واپس جیب میں ڈالتا سنجیدگی سے گویا ہوا۔۔۔
لڑکے تم قانوں کو ہاتھ میں لے رہے ہو۔۔۔ کانسٹیبل مرتسم کی ہتھکریاں کھول رہا تھا جب انسپیکٹر لب چباتا گویا ہوا۔۔۔
غلط انسپیکٹر۔۔۔ میں قانوں کو جیب میں لے کر گھومتا ہوں۔۔۔ وہ بھنور اچکاتا گویا ہوا۔۔۔۔
مرتسم۔۔۔ فائز نے اسے تنبیہ کرتے گھورا جبکہ انسپیکٹر غصے سے تن فن کرتا کمرے سے نکل گیا۔۔۔
****"
سر یونیورسٹی کی بات ہم آپس میں بھی تو حل کر سکتے تھے۔۔۔ پولیس کو انوالو کرنے کی کیا ضرورت تھی۔۔۔ پولیس کے جانے کے بعد فائز پروفیسر اور ڈین کے پاس آتا شائستگی سے گویا ہواجو اس سارے معاملے میں گم صم سے کھڑے تھے۔۔۔
مرتسم لودھی آپکے پاس یہاں چار سال سے پڑھ رہا ہے کیا ان چار سالوں میں آپ نے اسکے اندر ایسا کچھ دیکھا جس کی بنا پر اس پر یہ الزام ثابت ہو سکے۔۔۔
دیکھو فائز ہم یہاں مفروضوں پر باتیں نہیں کر سکتے یہ دونوں یہاں سے رنگے ہاتِوں پکڑے گئے ہیں اور۔۔۔
مرتسم اس سے زیادہ نہیں سن سکتا تھا۔۔۔ تبھی بعجلت آگے بڑھا میز سے فاہا کا بیگ اٹھایا اور اسکی بازو تھامتا اسے گھسیٹتا ہوا کمرے سے باہر لے گیا۔۔۔ ایک پل کے لئے آفس میں سناٹا چھا گیا۔۔۔
فائز بھی ان سے ایکسکیوز کرتا باہر کو لپکا۔۔۔
وہ اسے بازو سے گھسیٹتے کار پارکنگ تک آیا۔۔۔ باہر اب صبح کا اجالا ہر طرف پھیلنے لگا تھا۔۔۔ اسنے گاڑی کا فرنٹ ڈور کھولتے فاہا کو اندر پٹخا اور گھوم کر ڈرائیونگ سیٹ پر آیا اور گاڑی زن سے وہاں سے بھاگا لے گیا۔۔۔ جب تک فائز علوی وہاں تک پہنچا وہ گاڑی وہاں سے بھگا لے گیا تھا۔۔
فائز نے ایک مکہ گاڑی کی چھت پر رسید کیا اور مرتسم کا نمبر ملانے لگا۔۔۔
****
بدتمیز جاہل انسان۔۔۔ کیوں اتنی جلدی ٹمپر لوز کر جاتے ہو۔۔ پولیس انسپیکٹر کے ساتھ پنگا کون لیتا ہے۔۔۔ رابطہ استوار ہوتے ہی وہ چلا اٹھا۔۔۔ گاڑی روڈ پر فڑاتے بھر رہی تھی جبکہ مرتسم بھنچے جبڑوں سمیٹ گاڑی چلا رہا تھا وہ ہنہہ کر کے رہ گیا۔۔۔
اس جیسے اکڑ بددماغ اور اوقات سے باہر نکلے انسپیکٹر کیساتھ پنگا مرتسم لودھی لیتا ہے۔۔۔ وہ اسی قابل تھا۔۔ بلکہ اس سے کہیں زیادہ ڈیزرو کرتا تھا۔۔۔ اب چوبیس گھنٹے۔۔۔ چوبیس گھںتوں کے اندر اندر ٹرانسفر لیٹر اس انسپیکٹر کے ہاتھ میں ہونا چاہیے۔۔۔اور اس کا تبادلہ کالے پانیوں میں ہونا چاہیے۔۔۔ بہت انڈر اسٹیمیٹ کیا ہے اسنے مرتسم لودھی کو۔۔۔ میں تو اسکی سات پشتوں تک کو رول ڈالوں۔۔۔ اور وہ۔۔۔
کالم ڈاون مرتسم کالم ڈاون۔۔۔ ٹھنڈے ہو جاو اور دماغ کو ریلیکس کرو۔۔۔۔
ہمم انشااللہ اسکا تبادلہ کروا لیں گے۔۔۔۔۔۔اور اسکے تبادلے کے بعد کیس بند کروانا آ سان رہے گا۔۔۔ابھی کے لئے اتنا شکر ہے کے میڈیا اس سب میں انوالو نہیں ہوا۔۔۔ اور تمہاری کزن اس میس سے نکل گئ۔۔۔ اب آگے کے لئے تمہیں انکل سے بات کر کے انہیں اعتماد میں لینا ہوگا۔۔۔ ایئر پیس سے فائز کی پرہشان حال آواز گھونجی۔۔۔ اسے واپسی کی بھی جلدی تھی۔۔۔ اسے سونم کے ہوش میں آنے سے پہلے گھر پہنچنا تھا۔۔۔۔
ہاں ۔۔۔ فاہا کو ایک دفعہ حویلی چھوڑ دوں پھر ان سے تفصیلی بات کرتا ہوں۔۔۔
فائز سے بات مکمل کر کے اسنے فون ڈیش بورڈ پر اچھالا جب توجہ ساتھ بیٹھے وجود کی ہلکی سیسکیوں نے اپنی جانب مبذول کروائی۔۔
فاہا لودھی میرا دماغ اس وقت اتنا گھوما ہوا ہے کے میں مزید تمہارا کوئی ڈرامہ دیکھنے کا متحمل نہیں۔۔۔ اب بھی اگر تم خاموش نہیں ہوئی تو تمہیں چلتی گاڑی سے دھکا دے کر تمہاری آواز بند کروانا میرے لئے بہترین آپشن رہے گا۔۔۔۔ ویسے بھی تمہاری وجہ سے آج ان لوگوں سے باتیں سن چکا ہوں جو پہلے سر اٹھا کر بات کرنے کی ہمت تک نہیں رکھتے تھے۔۔۔ وہ سختی سے گویا ہوا کے فاہا اسے بھرائی نگاہوں سے دیکھ کر رہ گئ۔۔۔
تمہاری طرف بہت سے حساب نکلتے ہیں اگر میں لینے ہر آ گیا تو سیریسلی تمہارے اس دنیا سے جانے کی گارنٹی پکی ہے۔۔۔
اسکے خطرناک عزائم دیکھ فاہا نے جھٹ سے آنکھیں پونچھی۔۔۔ ابھی تازہ تازہ ہی تو اسکا سرپھرا انداز دیکھا تھا۔۔۔جب اسنے ایک عہدیدار کو نا بخشا تھا تو پھر وہ کس کھیت کی مولی تھی جو اسکے خلاف جاتی۔۔۔۔ یا اسے مزید طیش دلاتی۔۔ ابھی کے لئے اسکے لئے یہ ہی غنیمت تھی کے اسکی آواز میں وہ کاٹ اور سرد پن نا تھا جو انسپیکٹر سے بات کرتے وقت تھا۔۔۔
مم۔۔۔ مرتسم مجھے بہت بھوک لگی ہے۔۔۔ میں نے کل سے کچھ نہیں کھایا ا ور مجھے فریش بھی ہونا ہے۔۔۔
وہ جھٹ سے بھرائی آواز میں گویا ہوئی کے پتہ نہیں اب نا کہتی تو بعد میں کہہ پاتی یا نہیں۔۔۔ ابھی وہ مروت بھی نہیں نبھا سکتی تھی۔۔۔ بھوک اور خوف کے باعث اسکی حالت بگڑ رہی تھی.
مرتسم نے چونک کر اسے دیکھا اور اسکا خوفزدہ کملایا چہرا دیکھ کر اسے بے ساختہ اس بےوقوف احمق لڑکی پر ترس آیا۔۔۔
جس نے حماقت تو کی تھی لیکن اسکی کافی بڑی سزا بھی پائی تھی۔۔۔ اگر خود اس کے لئے آج کا واقعہ اعصاب شکن تھا تو فاہا لودھی کی حالت اس سے بری ہونا بنتی تھِی۔۔۔
اسنے نرمی سے سر ہاں میں ہلایا اور آگے نظر آتے پہلے ہی چھوٹے سے ریسٹورنٹ پر گاڑی روکی. ۔
اترو۔۔۔ وہ اسے لئے نیچے اترا ۔۔۔ اسے لیڈی واش روم کے سامنے چھوڑ کر خود اسکا انتظار کرنے لگا۔۔۔
******

No comments