Header Ads

Roshan Sitara novel 42nd Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels


 

Roshan Sitara novel  42nd Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels 

Roshan Sitara is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels

Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front 

of the world and improve their abilities in that field.

 Roshan Sitara  Novel by Umme Hania | Roshan Sitara  novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Roshan Sitara  novel by Umme Hania Complete PDF download

Online Reading

 ناول "روشن ستارا"۔

  مصنفہ "ام ہانیہ"۔

Official pg : Umme Hania official

بیالسویں قسط۔۔۔
سن بدھے۔۔۔ ویسے بھی تیرے پاس زندگی کی چند ساعتیں ہی بچیں ہیں پھر تو کیوں انہیں بھی مشکل بنانا چاہتا ہے۔۔  میرے چچا نے تجھے کتنا سمجھایا کے ہم سے ہاتھ ملا لے ملالے۔۔۔ کیا جاتا تیرا اگر تو انکی بات مان جاتا تو۔۔۔
سکون کی زندگی گزارتا تو۔۔ نا تجھے اپنی جوان خوبصورت بیٹی یوں چھپا چھپا کر رکھنی پڑتی۔۔۔
ویسے ہے کہاں وہ۔۔۔ خاصا بے رنگ گھر لگ رہا ہے بھئ دھونڈ کر لاو اسے۔۔۔ وہ بات کرتا کرتا رک کر گھٹنے پر ہاتھ رکھتا پیچھے کو چہرا موڑے پیچھے کھڑے نقاب پوشوں سے مخاطب ہوا۔۔۔
سر دوسرے کمرے میں اسکے کپڑے جوتے اور دوسری اشیا تو موجود ہیں لیکن لڑکی خود نہیں۔۔۔ دو نقاب پوش اتنی دیر میں گھر چھان چکے تھے۔۔۔
چچ۔۔چچ۔۔۔چچ۔۔۔ چھپنے کی کوشیش کر رہی ہو گئ باپ کی طرح کسی بل میں۔۔۔۔جاو شاباش نکال کر لاو اسے۔۔  سنا ہے کافی خوبصورت اور نازک اندام ہے۔۔۔ یہ نا ہو کے کہیں دم وم گھٹ جائے بچی بچاری گا۔۔۔ جاو ۔۔۔ شاباش جاو۔۔۔ وہ پروفیسر عظیم کو پچکارتا گویا ہوا۔۔۔
وہ نفرت سے چہرا موڑ گئے۔۔۔
ارے فکر مت کر بڈھے۔۔۔ کوئی غلط نیت نہیں میری۔۔۔ بس تجھے سسر بنانے کا ارادہ ہے۔۔۔ ابھی تیرے سامنے تیری بیٹی کو اپنی عزت بناوں گا۔۔۔ پھر تو  ہم رشتہ دار بن جائیں گے نا۔۔۔ پھر تم اپنے داماد کو اپنا ہمراز نہیں بناو گئے تو کسے بناو گئے۔۔۔ جاو شاباش لے کر آو اسے۔۔۔
نیچے بیسمنٹ میں یہ سب سنتی سونم منہ ہر ہاتھ رکھتی پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔ اسکے باپ کی حکمت عملی کام آ گئ تھی۔۔۔ ورنہ واقعی اسکے ذریعے سے وہ لوگ اسکے باپ کو بہت بری طرح سے بے بس کرنے والے تھے۔۔۔
بکواس بند کر وقت کے فرعون ۔۔۔ میری بیٹی شادی شدہ ہے۔۔۔ اور اسکا محافظ اتنا زور بازو تو ضرور ہے کہ تم جیسوں کی غلیظ نگاہوں سے اپنی بیوی کو بچا کر انہیں نوچ ڈالے۔۔۔ پروفیسر صاحب سیدھے ہوتے غصے سے غرائے۔۔۔۔ارے واہ۔۔۔ رسی جل گئ مگر بل نا گئے۔۔۔
بدھے کا دبدبہ ابھی بھی قائم ہے۔۔۔ کوئی نہیں ابھی ختم کر دیں گے۔۔۔
بہت برا کیا تم نے بیٹی کو کسی کے ساتھ گانتھ کر پروفیسر۔۔ خوامخواہ بے موت مارا جائے گا وہ بچارا بھی۔۔۔ وہ تلخی سے مسکرایا۔۔۔
خیر بیٹی کو تو تو نے تھکانے لگا دیا چل اب بتا اس پراجیکٹ کا سافٹ کاپی ڈیٹا کہاں ہے۔۔۔ میر نے غصے سے غراتے پروفیسر کو بالوں سے دبوچ کر اسکا چہرا اونچا کیا۔۔۔
میرے پاس کچھ نہیں ہے۔۔۔ نا میں کسی پراجیکٹ کو جانتا ہوں۔۔۔ پروفیسر صاحب کا انداز اٹل تھا۔۔۔
میر نے انہیں جھٹکے سے چھوڑا اور اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔
دیکھو پروفیسر۔۔۔ ابھی بھی تمہارے پاس وقت ہے۔۔  ہمیں سافٹ ویئر ڈیٹا کی یو ایس بی یا سی ڈی جو بھی ہے دے دو۔۔۔ اور بیٹی کے لئے ایک پرسکون زندگی چھوڑ جاو۔۔۔ ورنہ تم اگر دنیا سے چلے بھی گئ نا تو پیچھے سے تمہاری بیٹی کو ہم پاتال سے بھی ڈھونڈ نکالیں گے۔۔۔
پوری زندگی تمہاری بیٹی اور اسکا وہ نام نہاد شوہر شہر بدر ہو ہو کر ہم سے چھپیں گے مگر سکون انکو پھر بھی فراہم نہیں ہو گا۔۔  ہم انہیں ہر حال میں ڈھونڈ نکالیں گے۔۔۔
یہ پراجیکٹ تو ہم ہی مکمل کریں گے۔۔۔ اس لئے عقلمندی کا مظاہرہ کرو اور ہمارے ساتھ تعاون کرو۔۔۔ ورنہ تمہاری بیٹی کا وہ حال کریں گے کہ تمہاری سات نسلیں یاد کریں گی۔۔۔۔۔
تمہیں سنائی نہیں دے رہا کے میرے پاس کچھ نہیں پروفیسر صاحب با مشکل بیڈ کا سہارا لئے کھڑے ہوئے جب میر نے طیش سے کھڑے ہوتے دونوں ہاتھوں سے انکے ،سینے پر دباو ڈالتے انہیں دھکا دیا وہ لڑکھڑا کر پیچھے جا گرے۔۔۔
ٹکرانے سے سائیڈ ٹیبل پر پڑی چیزیں زمین بوس ہوئیں۔۔۔ وہ کراہ کر رہ گئے۔۔۔
تجھے پیار کی زبان سمجھ نہیں آئے گی بدھے۔۔۔ میر نے پورے زور سے اپنا پاوں انکے سینے پر مارا پروفیسر صاحب تو بلبلائے سو بلبلائے۔۔۔ نیچے بیسمنٹ میں موجود سونم باپ کی حالت پر تڑپ تڑپ گئ۔۔
غصے و بے بسی سے سب چھوڑ چھاڑ باپ کے پاس جانے کو اوپر کو لپکی۔۔۔ جب آدھی سیڑھیوں میں پہنچ کر پھر بے چینی وہ بے بسی سے نیچے کو بھاگی۔۔۔
کیا کرے وہ ۔۔۔ جسم کپکپا رہا تھا اور باپ کی حالت برداشت سے باہر تھی۔۔۔
سامان لاو۔۔۔۔ میر کی غراہٹ پر وہ ساکت ہوتی لیپ ٹاپ کی سکرین کو دیکھنے لگی۔۔۔ اب ناجانے وہ فرعون کیا کرنے والا تھا۔۔۔
اسے اپنا جسم بے جان ہوتا محسوس ہوا جیسے کوئی رفتہ رفتہ اس میں سے جان نکال رہا ہو۔۔۔ وہ بے دم ہوتی میز پر پڑے لیپ ٹاپ کے پاس ہی زمین پر ڈھنے کے انداز میں بیٹھی۔۔۔۔
سکرین پر ابھرتے میر کے ہاتھوں کو دیکھ اسکے لگا کسی نے اسکی سانس کی نالی میں کپڑا ٹھونس دیا ہوا۔۔۔ اسکی رنگت سپیڈ پڑنے لگی۔۔۔ 
وہ تاروں کو بجلی سے کنیکٹ کئے پروفیسر صاحب کو ہائی وولٹیج کا شاک دینے والا تھا۔۔۔
دیکھتے ہی دیکھتے چار نقاب پوشوں نے پروفیسر صاحب کو زمین پر ہی لٹاتے بری طرح بازووں اور ٹانگوں سے تھامتے  جھکڑ کر بے بس کیا جبکہ میر سرعت سے انکے دماغ کندھوں بازووں اور ٹانگوں پر وائز چپکانے کے بعد پیچھے ہٹا۔۔۔
سکرین سے سب دیکھتی سونم بے جان ہوتے جسم سے زارو زار روتی شدت سے سر نفی میں ہلا رہی تھی۔۔۔
مت کرو ایسا ظالموں۔۔۔ میرا باپ مر جائے گا۔۔۔ وہ ہارٹ پیشنٹ ہے وہ مر جائے گا۔۔۔ مت کرو ایسا۔۔۔ وہ اندر ہی اندر گھٹ رہی تھی۔۔۔
میر کے سوئچ آن کرنے پر پروفیسر صاحب کا جسم جھٹکے کھانے لگا۔۔۔ ساتھ ہی انکی چیخیں درو  دیوار لرزا گئیں۔۔۔
آہہہ۔۔۔ سونم خوف سے اچھلتی دو فٹ دور جا گری۔۔۔ ہاتھ لگنے سے لیپ ٹاپ میز پر ہی گر گیا۔۔۔
پروفیسر صاحب کی چیخوں میں کہیں اسکی چیخیں دب کر رہ گئیں۔۔۔
وہ گھٹنوں کے بل دیوار کے ساتھ لگی  منہ پر ہاتھ سختی سے جمائے اپنی چیخوں کا گلہ گھونٹ رہی تھی۔۔۔ دل اندر سے جیسے کوئی آرے سے کاٹ رہا تھا۔۔۔۔۔
پروفیسر صاحب کی دلدوز چیخیں ہنوز سنائی دے رہی تھیں۔۔۔ وہ آنکھیں سختی سے میچے شدت سے سر نفی میں ہلا رہی تھیں۔۔۔
شدت ضبط سے گلے کی رگیں۔۔ پھول کر باہر کو ابھرنے لگیں تھیں۔۔۔ چہرا اور گردن سرخ ہو گئ تھیں۔۔۔ ٹانگیں اور ہاتھ کپکپا رہے تھے۔۔۔ رفتہ رفتہ اسکا جسم ٹھنڈ پر کر ڈھیلا پڑنے لگی۔۔۔ باپ کی چیخیں ہنوز کانوں میں سنائی دے رہی تھیں مگر اسکا دماغ اندھیروں میں کہیں کھونے لگا تھا۔۔۔ 
کچھ دیر بعد ہر جانب خاموشی چھا گئ۔۔۔ پروفیسر صاحب کا جھٹکے کھاتا جسم ساکت ہو گیا ساتھ ہی چیخوں کا تسلسل بھی توٹ گیا۔۔۔
شٹتتت۔۔۔ بند کرو یہ سب۔۔۔ یہ بدھا تو مر گیا۔۔۔
شٹ شٹ شٹ۔۔۔ میر نے بے طرح پاوں پٹخا۔۔۔۔ یہ شاک دے کر محض انہیں اذیت سے دوچار کروانا مقصود تھا۔۔۔
اب سافٹ کاپی ڈیٹا کہاں سے لیں گے۔۔۔۔۔وہ بری طرح جھنجھلایا۔۔۔
سارا گھر چھان مارا مگر کچھ نہیں ملا۔۔۔ چند نقاب پوش اتنی دیر میں پورا گھر الٹ کر رکھ چکے تھے۔۔۔ صد شکر کے دونوں کے موبائل سونم کے پاس ہی تھے۔۔۔
چلو نکلو یہاں سے اس سے پہلے کے پولیس یہاں پہنچے۔۔۔ میر ساری وائرز سمبھال کر پروفیسر صاحب کے بے جان وجود کو پھیلانگتا باہر نکل گیا۔۔۔
*****
بابا۔۔۔ بابا اٹھیں بابا۔۔۔ 
بابا مجھ سے بات کریں۔۔۔ دیکھیں بابا آپکی بات مان کر میں نیچے گئ تھی۔۔۔ آپ کی بات مان کر میں چھپی تھی۔۔  آپ ایسا کیسے کر سکتے ہیں میرے ساتھ۔۔۔ بابا دیکھیں نا میری طرف۔۔۔
سونم اوپر  آتے ہی پروفیسر صاحب کے بے جان جسم کی جانب لپکی اور انکے پاس ہی دوزانو بیٹھتی دیوانہ وار اسکا چہرا اپنے آنچل سے صاف کرتی ان سے باتیں کرتی کوئی دیوانی ہی لگ رہی تھی۔۔۔۔
کپکپاتے ہاتھوں سے لیپ ٹاپ پیچھے دھکیل کر فائز نے سرخ نم آنکھوں سے سونم کو دیکھا۔۔۔
بہت۔۔۔ بہت ظالم تھے وہ بابا۔۔۔ ہر جگہ پر شاک لگائے۔۔۔ وہ بہتی آنکھوں کیساتھ انکے چہرے پر ہاتھ پھیر رہی تھی۔۔۔
آنک۔۔۔آنکھیں کھولیں بابا۔۔۔ باباااا۔۔۔۔۔
سونم۔۔۔ سمبھالو خود کو۔۔۔ فائز تھکے تھکے قدم اٹھاتا اسکے پاس آیا۔۔۔
بہت ظلم کیا انہوں نے بابا پر۔۔۔ کوئی نہیں تھا تب انکے پاس۔۔۔ کوئی بھی نہیں۔۔۔ آپ بھی نہیں۔۔۔
میں نے فون کیا آپکو۔۔۔ آ
آپ نے۔۔  آپ نے فون بند کر دیا۔۔۔ روتے روتے وہ ضبط کھونے لگی۔۔۔
وہ لب بھینچ گیا۔۔۔۔۔
اب کیا کرنے آئے ہیں آپ یہاں۔۔۔ ہماری بے بسی کا تماشا دیکھنے۔۔۔ وہ نیچے سے اٹھتی اسے دھکا دیتی چٹخی۔۔۔
ابھی انہوں نے سروس ہیک نہیں کی تھی۔۔۔ میں نے بلایا آپکو مدد کے لئے آپ نہیں آئےےےےےےے۔۔۔ اسنے پھر سے اسے دھکا دیا۔۔۔۔وہ بے بس سا خاموش کھڑا تھا۔۔۔ وہ حق بجانب تھی۔۔۔ اسکا دکھ سب سے بڑا تھا۔۔۔ اسنے آنکھون کے سامنے جان سے پیاری ہستی کو کھویا تھا ۔۔۔ 
دفعتا اسکا فون بجا تو وہ دقت سے سانس  خارج کرتا فون نکال کر سننے لگا جب سونم وہیں پھر سے ڈھ گئ۔۔۔بیڈ کی پائنتی سے سر ٹکاتی وہ اپنے زیاں پر پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔۔
ہاں وہاج۔۔۔ وہ انگلی اور انگوٹھے کی مدد سے نم آنکھ کے کونے صاف کرتا کمرے سے نکل آیا۔۔۔
سونم کی سسکیاں اسکا دل چیر رہی تھیں۔۔۔
میں یہاں آنے کو نکل پڑا ہوں فائز لیکن یہاں یونیورسٹی میں بہت مسلہ ہو گیا ہے۔۔۔
زبیر لغاری نے مرتسم کو بہت بری طرح ٹریپ کیا ہے۔۔  اور پریشانی تو یہ یے کے اس وقت اسکی کزن فاہا اسکے ساتھ ہے اور وہ لوگ اسے بھی ساتھ میں انولو کر رہے ہیں۔۔۔
اندر انکوائری چل رہی ہے۔۔۔ اور تم جانتے ہو کے وہ کیسے لمحوں میں ٹمپر لوز کر جاتا ہے۔۔۔
کچھ سمجھ نہیں آ رہا کہ کیا کروں۔۔۔
فون سے ابھرتی اسکی پریشان حال آواز سن کر فائز ماتھے پر ہاتھ مار کر رہ گیا۔۔۔
ہر پریشانی ایک ہی وقت میں ٹوٹنی تھی کیا۔۔۔
اچھا تم یہاں پہنچ کر سب سمبھالو میں سونم کو گھر پہنچا کر وہاں پہنچتا ہوں۔۔۔ ہم ابھی بھی رسک نہیں لے سکتے۔۔
پروفیسر صاحب کی آخری رسومات پر ہم سونم کی یہاں موجودگی یقینی بنا کر کوئی رسک نہیں لے سکتے۔۔۔
اور ہمیں بھی اس وقت بہت محتاط رہنا ہو گا۔۔  یہ نا ہو دشمن ابھی بھی طاق میں ہو۔۔۔ ہم اس شاطر دشمن کو ہلکا ہرگز نہیں لے سکتے۔۔۔
پروفیسر صاحب کے جانے کے بعد ہماری کمر ویسے ہی بری طرح ٹوٹ چکی ہے۔۔۔ انکی پشت پناہی میں ہم بہت خوش اسلوبی سے اپنا پراجیکٹ مکمل کر رہے تھے۔۔۔ چند دن مزید لگتے اور ہمارا پراجیکٹ مکمل ہو کر لانچ ہو جاتا۔۔۔
اب ہمیں جلد سے جلد یہ کار خیر بھی سر انجام دینا ہو گا۔۔  دشمن ابھی بھی خاموش نہیں بیٹھا ان کی تلاش کا رخ اب ہماری جانب ہے۔۔  وہ پریشانی سے ماتھا مسلتا بول رہا تھا ساتھ ایک نگاہ اندر دکھائی دیتے سونم کے ہچکولے کھاتے وجود کو بھی دیکھ لیتا جو بیڈ کی پائنتی میں چہرا گھسائے سسک رہی تھی۔۔۔ فون بند کر کے وہ کمرے کی جانب بڑھا۔۔۔۔ 
ابھی سونم کو یہاں سے لے کر جانا بھی ایک معرکہ سر کرنے کے مترادف تھآ۔۔۔
اسے باہر اجالا پھیلنے سے پہلے یہاں سے نکلنا تھآ۔۔۔
سونم اٹھو آو میرے ساتھ۔۔۔ اسنے سونم کو اسکی بازو سے تھامتے اٹھانا چاہا۔۔۔
کہاں۔۔۔ وہ چونک کر سر اٹھاتی اسکی جانب متوجہ ہوئی۔۔۔ سوجھی متورم آنکھیں۔۔ شدت گریہ سے سرخ چہرا اور بکھرے بال۔۔۔ فائز کے دل پر گھونسا پڑا۔۔۔
ہمیں یہاں سے جانا ہے۔۔۔ 
میں کہیں نہیں جاوں لگی۔۔۔ سنا آپ نے میں اپنے بابا کو چھوڑ کر کہیں  نہیں جاوں لگی۔۔۔ وہ غصے سے اسکا ہاتھ جھٹکتی باپ کی طرف لپکی۔۔۔
پاگل مت بنو سونم۔۔ ہمیں یہاں سے نکلنا ہے۔۔۔
فائز نے اسے شانوں سے تھامتے اسکا رخ اپنی جانب کیا۔۔۔
پاگل میں نہیں آپ ہوگئے ہیں۔۔۔ ہم بابا کو یوں لاوارث چھوڑ کر کیسے جا سکتے ہیں۔۔۔
اسنے بے طرح فائز کے ہاتھ جھٹکے۔۔۔
ہم انہیں لاوارث چھوڑ کر نہیں جا رہے۔۔۔ بس ابھی وہاج یہاں پہنچ جائے گا۔۔۔ پھر۔۔۔
مجھے کچھ مت بتائیں میں بابا کو چھوڑ کر کہیں نہیں جاوں لگی۔۔۔
اسنے قطعی انداز میں فائز کی بات کاٹی۔۔۔
وہ گہری سانس خارج کر کے رہ گیا۔۔۔
ٹھیک ہے تم یہ سر درد کی گولی کھا لو بہتر محسوس کرو گی۔۔ وہ کچھ دیر بعد ہتھلی پر ایک گولی رکھے اور پانی کا گلاس لے کر اس کے پاس آیا۔۔۔۔
مجھے نہیں کھانا کچھ بھی۔۔۔ اس سے بہتر ہے کے میرا سر درد سے پھٹ ہی جائے۔۔  میرے بابا میری آنکھوں کے سامنے دم توڑ گئے اور میں کچھ کر ہی نا سکی۔۔۔وہ ہتھیلی سر پر مارنے لگی۔۔۔
ایسے نہیں کرتے سونم پلیز یہ سر درد کی ٹیبلٹ کھا لو۔۔۔ ورنہ میں تمہیں یہاں سے لے جاوں گا۔۔
فائز کے دھمکی دینے پر وہ جھٹ سے انکے ہاتھ سے گولی تھامتی پانی کے ساتھ نگل گئ۔۔۔
کچھ ہی دیر میں وہ وہیں نیند سے ہچکولے کھانے لگی تو فائز نے گہری سانس بھرتے اسکا سر بستر سے لگاتے تھپک کر اسے گہری نیند میں اترنے دیا۔۔۔
تبھی وہاج وہاں چند لوگوں کے ساتھ داخل ہوا اور اسے باہر سب کلیر ہونے کا سگنل دیا تو وہ سونم کو اٹھاتا باہر کی جانب لپکا۔۔۔۔
******
میں نے کچھ نہیں کیا۔۔۔ میں نہیں جانتی یہ سب میرے بیگ میں کہاں سے آیا۔۔۔ فاہا چلاتے ہوئے کرسی سے اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔۔محترمہ تھانے کی سیر کر کے بڑے بڑوں کو پتہ چل جاتا ہے کے یہ سب کہاں سے آیا تو تم کیا چیز ہو۔۔۔ اور تمہارا یہ یار جو تمہارے ساتھ مل کر ان کاموں میں ملوث ہے اور اوپر سے۔۔
اے۔۔۔ بکواس بند کر اپنی۔۔۔ مرتسم اسکی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی اس پر جھپٹا۔۔۔
باقی پولیس اہلکاروں نے مرتسم پر جھپٹتے اسے کھینچ کر انسپیکٹر سے جدا کیا۔۔۔
یہ تم نے بہت غلط کیا مسٹر۔۔۔ تم شاید جانتے نہیں کے ایک آن ڈیوٹی انسپیکٹر پر ہاتھ اٹھانے کا مطلب کیا ہوتا ہے۔۔۔۔
وہ انسپیکٹر سبکی کے احساس تلے سرخ چہرا لئے غرایا۔۔
مجھے سبق پڑھانے کی ضرورت نہیں ہے انسپیکٹر ۔۔۔ تم شاید جانتے نہیں کے مرتسم لودھی سے دست درازی کرنے کا انجام کیا ہوتا ہے۔۔۔ وہ پولیس اہلکاروں کے نرغے میں جھٹپٹاتا ہوا چٹخا۔۔۔
دھمکی دے رہے ہو۔۔۔ انسپیکٹر کی آنکھوں میں خون اترنے لگا تھا۔۔۔
لیڈی کانسٹیبل کو ہنگامی بنیاد پر بلواو اور فوری طور پر اس لڑکی کو اریسٹ کر کے اس پر یونیورسٹی سے پیپر لیک کرنے اور ڈرگ سپلائی کرنے کا کیس ٹھوکو اور باہر موجود میڈیا کو بلاو تاکے وہ اس سب سامان کی کوریج لے سکے۔۔۔ وہ انسپیکٹر غصے سے کھولتا کانسٹیبل سے گویا ہوا۔۔۔
اسنے بہت غلط انداز میں مرتسم لودھی کی دکھتی رگ کو چھیرا تھا کے وہ غصے میں آپے سے باہر ہوتا بھوکے شیر کی مانند غرا کر اہلکاروں کے جمگھٹے سے خود کو چھڑاتا اس انسپیکٹر پر جھپٹا یوں کے غیر متوقع طور پر وہ انسپیکٹر کرسی کے پار گرا اور مرتسم بنا تاخیر کئے اس پر چڑھتا اسکا ناک منہ مکوں سے سجا چکا تھا۔۔۔جبکہ فاہا خوف سے تھر تھر کانپتی دیورار سے جا لگی۔۔۔
******

No comments

Powered by Blogger.
4