Header Ads

Roshan Sitara novel 41st Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels


 

Roshan Sitara novel  41st Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels 

Roshan Sitara is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels

Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front 

of the world and improve their abilities in that field.

 Roshan Sitara  Novel by Umme Hania | Roshan Sitara  novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Roshan Sitara  novel by Umme Hania Complete PDF download

Online Reading

 ناول "روشن ستارا"۔

  مصنفہ "ام ہانیہ"۔

Official pg : Umme Hania official

اکتالیسویں قسط۔۔۔
مرتسم۔۔۔ مرتسم میں یہاں ہوں ۔۔ پلیز مجھے یہاں سے نکالیں۔۔۔ فاہا دونوں ہاتھوں سے دروازہ پیٹتی اونچی آواز میں چلا رہی تھی۔۔۔
اسکے چلانے کی آواز مرتسم کی سماعت سے ٹکرائی تو وہ ٹھٹھک کر رکا۔۔۔
آواز کی سمت کا تعین کیا اور اندھا دھند اس جانب بھاگا۔۔۔
کاریڈور کے کنارے پر کھڑا ہو کر سانس لیا اور پھر سے اس دروازے کی جانب بڑھا ۔۔۔
اسکی نظر نیچے گرے فاہا کے ہینڈ بیگ پر گئ تو اسنے جھک کر وہ بیگ اٹھایا اور دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا۔۔۔
مم۔۔۔ مرتسم۔۔۔۔ مرتسم۔۔۔ تھینک گاڈ آپ آگے۔۔۔ مجھے بہتتتت ڈر لگ رہا تھا۔۔۔
وہ مرتسم کو دیکھ لپک کر اسکا ہاتھ اپنے کپکپاتے ہاتھوں میں تھامتی ضبط کھو گئ۔۔۔
مرتسم نء ایک ہی نظر میں اسکا جائزہ لیا۔۔۔ خوفزدہ بوکھلائی سی وہ میلے میں گم ہوئے کسی بچے کی مانند تھی۔۔ اسنے ایک نظر فاہا کو دیکھ نظریں چرائی اور ایک نگاہ آفس پر ڈالی۔۔۔ 
ریوالونگ چیئر کے قریب اسکا سکارف گرا پڑا تھا۔۔۔
وہ اس سے ہاتھ چھڑواتا آگے بڑھا اور سکارف اٹھا کر اسکے سر پر اوڑھا۔۔۔
دفعتاً باہر سے فلیش لائٹ تھامے کئ قدموں کی ابھرتی چاپ سنائی دی۔۔۔
مرتسم کا دماغ تیزی سے چلنے لگا تھا۔۔۔ کسی بڑے خطرے کی بو آنے لگی تھی۔۔۔
یقیناً یہاں کوئی بڑی سازش ہو رہی تھی۔۔۔ وہ زبیر لغاری کو ہلکے میں ہرگز نہیں لے سکتا تھا۔۔۔۔
وہیں رک جاو۔۔۔ دفعتاً کئ ایک افراد اور گارڈ اندر داخل ہوئے۔۔۔ گارڈ کی گن کا رخ اسکی جانب تھا جب ایک گارڈ  ڈھارا۔۔۔
مرتسم نے حواس یکجا کرتے یکدم ہاتھ فاہا کے بازووں سے ہٹائے۔۔
تم دونوں رات کے اس پہر یہاں کیا کر رہے ہو کیا تم لوگ نہیں جانتے کے اس طرف سٹودینٹس کا آنا منع ہے۔۔۔ اور یہ کونساا وقت ہے کہیں بھی آنے جانے کا۔۔۔۔ سیکیورٹی ہیڈ انہیں مشکوک نگاہوں سے دیکھتا گرجا۔۔۔۔ جبکہ پروفیسر شفیق اپنی عینک دراست کرتے پرجہ جات کی جانب بڑھے۔۔۔
مرتسم تیزی سے ساری کاروائی سمجھنے کی کوشیش کر رہا تھا۔۔۔
نو۔۔۔ پروفیسر شفیق پرجہ جات کی ترتیب دیکھتے تاسف سے سر نفی میں ہلا رہے تھے۔۔۔۔
سارے پرجہ جات کی ترتیب الٹی ہے۔۔۔ یہ لوگ پیپرز چرا چکے ہیں۔۔۔ انکی آواز میں ملال تھا۔۔۔۔پروفیسر شفیق کے کہنے پر مرتسم کے سر پر آسمان گرا۔۔۔ جبکہ فاہا تو غیر متوقع طور پر یہ سب دیکھتی خوف سے مرتسم کا بازو جھکڑتی اس میں گھستی چلی جا رہی تھی۔۔۔
مسٹر مرتسم لودھی آپ سے اس چیز کی توقع نہیں تھی۔۔۔ آپ تو بہت ذہین سٹودینٹ تھے نا۔۔۔ لیکن ہمیں اندازہ نہیں تھا کے آپ یوں امتحان دیتے تھے۔۔۔ آج تو رنگے ہاتھوں پکڑے گئے۔۔۔
سر ایسی کوئی بات نہیں۔۔۔ ڈین کے کہنے پر اسنے سرعت سے سر نفی میں ہلاتے انکی تردید کرنی چاہی۔۔۔
آج کی اس گھٹیا حرکت کے بعد آپکو یونیورسٹی سے سسپنڈ کیا جاتا ہے۔۔۔ آپکی ڈگری کینسل ہو گئ مسٹر مرتسم اور بھاری جرمانے کیساتھ یہ کیس پولیس کسٹڈی میں جائے گا۔۔۔ تا کے سٹودینٹس کو اس جرات کا کرارا جواب مل سکے۔۔۔ ورنہ آج آپ نے یہ حرکت کی ہے کل کوئی اور بھی کر سکتا ہے۔۔۔
ڈین غصے سے پھٹ پڑا تھا۔۔۔ جبکہ یکدم حالات کو یہ رخ اختیار کرتے دیکھ ایک پل کو تو مرتسم بھی چکرا گیا تھا۔۔۔۔۔
دفعتاً باہر سے پولیس مابائلز کے ہوٹرز اور میڈیا کے نمائندوں کی چرب زبانی کی آواز سنائی دی تو مرتسم کے سامنے زمین آسمان کے قلاپے گھوم گئے۔۔۔
زبیر لغاری نے اسکے ساتھ بہت بڑی گیم کھیلی تھی۔۔۔ اسکے اکیلے کے ساتھ وہ یہ سب کرتا تو ٹھیک تھا مگر اسکے گھر کی عزت اسکے سامنے نیلام ہوتی یہ اسکے لئے موت کے مترادف تھا۔۔۔۔
یہ بے حیائی یہاں نہیں چلے گئ لڑکی۔۔۔ تم ہمارے سامنے باز نہیں آ رہی ناجانے آدھی رات کو بند کمرے میں کیا گل کھلا رہے ہو گئے تم لوگ۔۔۔
پروفیسر شفیق ادھیر عمر شفیق مگر پرجلال سی شخصیت کے مالک تھے۔۔
فاہا کے خوف کے باعث مرتسم میں گھسنے کی کوشیش کو ناکام بناتے انہوں نے اسے جھٹکے سے مرتسم سے الگ گیا۔۔۔
وہ خوف سے کپکپا کر رہ گئ۔۔۔
بھاری بوٹوں کی دھمک اور کیمرے کی فلیش لائٹس تیزی سے اسی طرف آ رہی تھیں۔۔۔ مرتسم کا دماغ تیزی سے چل رہا تھا۔۔۔ وہ بنا تاخیر کئے ایک جست میں دروازے کی جانب بڑھا اور ان اہلکاروں کے اندر آنے سے پہلے ہی دروازہ اندر سے بند کرتا لاک لگا گیا۔۔۔
یہ کیا حرکت ہے مرتسم لودھی۔۔۔ سیکورٹی ہیڈ گرج کر بندوق کا رخ اسکی جانب کر گیا۔۔۔ جبکہ باقی گارڈز نے بنا تاخیر لپک کر مرتسم کو اسکی بازوں سے جھکڑا۔۔۔
جبکہ فاہا خوف سے کپکپاتی چیخ روکنے کو ہاتھ سختی سے منہ پر جما گئ۔۔۔ یہ سب کیا ہو رہا تھا اسکے ساتھ سب گمان سے پڑے تھا۔۔۔۔
مرتسم دروازے کے سامنے پھیل کر کھڑا تھا۔۔۔ اور اتنے گارڈز کی دست درازی کے باوجود پیچھے یٹنے کو تیار نا تھا۔۔۔
سر دیکھیں میری بات سمجھنے کی کوشیش کریں۔۔۔ ہمیں ٹریپ کیا گیا ہے۔۔۔ ہم بیٹھ کر بات کر سکتے ہیں۔۔۔ مگر پولیس اور میڈیا نہیں سر پلیز۔۔وہ خشک پڑتے لبوں پر زبان پھیرتا ملتجی ہوا۔۔۔ صورتحال ہی ایسی تھی۔۔۔ اسے کسی بھی طرح اس معاملے کو کور کرنا تھا۔۔۔ باپ کا سٹیٹس استعمال کر کے وہ اس بات کو دبا سکتا تھا لیکن وہ بھی اس صورت اگر بات چار دیواری کے بیچ رہتی۔۔۔ اس میں میڈیا شمولیت نا ہوتی تو۔۔۔
بیٹھ کر کیا بات کریں گے ہم مرتسم ۔۔۔ سب کچھ تو روز روشن کی طرح کھلا پڑا ہے۔۔۔
پروفیسر صاحب چلائے۔۔۔
نہیں سر پلیز۔۔۔ میڈیا نہیں۔۔۔ بہت بدنامی ہوگئ۔۔
اس چیز کا لحاظ آپکو پہلے کیوں نا تھا مرتسم۔۔۔ ڈین غصے سے اسکی جانب بڑھا۔۔۔
دیکھیں سر۔۔  میں اپکے سامنے ہاتھ جوڑتا ہوں۔۔۔ بہن بیٹیاں سب کے گھروں میں ہوتی ہیں۔۔۔اور عزت سب کی سانجھی ہوتی ہے۔۔۔ ایک لڑکی کی عزت اگر یوں سر عام اچھالی جائے تو بھگتان پورے خاندان جو بھگتنا پڑتا ہے۔۔۔ آپکو مجھے جو سزا دینی ہے دیں۔۔ مگر پلیز خدارا فاہا کو اس معاملے سے الگ کر دیں۔۔۔
وہ بے بسی کی انتہا پر حقیقتاً انکے سامنے ہاتھ جوڑ گیا۔۔۔۔
مرتسم لودھی۔۔۔ عزت دار گھروں کی لڑکیاں یوں آدھی آدھی رات کو باپ بھائی کی عزتیں یوں نیلام بھی نہیں کرتیں پھرتیں۔۔۔ اتنا انہیں انکی عزتوں کا پاس ہو تو وہ کرتوتیں بھی اچھی  رکھتیں ہیں۔۔۔۔۔
پروفیسر صاحب گرجے جبکہ مرتسم سختی سے لب بھینچ گیا۔۔۔ 
یہ لڑکی قصور وار ہے۔۔۔ لحاظہ ہم اسے کیس سے بری الزمہ نہیں کر سکتے۔۔۔ پولیس اپنی انکوائری مکمل کرے گی۔۔۔
البتہ میڈیا کو باہر روک دیا جائے ۔۔۔۔
پروفیسر کے کہنے پر مرتسم بے بسی سے لب کچل کر رہ گیا۔۔۔ البتہ فاہا اس سارے ہنگامے کے بعد پولیس کا نام سن کر کسی بھی پل ڈھے جانے کے در ہر تھی۔۔۔ 
****
پروفیسر صاحب۔۔۔ پروفیسر صاحب اٹھیں۔۔۔ فائز نے پروفیسر صاحب کے نزدیک پنجوں کے بل بیٹھتے  انہیں سیدھا کیا اور انکی نبض چیک کی۔۔۔ جلد ہی اس پر انکشاف ہوا کے وہ اب نہیں رہے۔۔۔ حواس باختہ ہوتا وہ اٹھ کر پیچھے ہٹا۔۔۔ بالوں پر ہاتھ پھیرتے خود کو کمپوز کرنا چاہا۔۔۔
آنکھیں شدت ضبط سے سرخی چھلکانے لگی تھی۔۔۔ وہ محب وطن شخص اسکی زندگی میں کیا اہمیت رکھتے تھے یہ کوئی اس سے پوچھتا۔۔۔
سو۔۔  سونم وہ بے چینی و بے قراری سے کمرے سے لاوئنج اور لاوئنج سے کمرے تک آتا سونم کو تلاش کر رہا تھا۔۔۔ عجیب دیوانوں سی حالت تھی۔۔۔ سمجھ ہی نا آ رہا تھا کے کیا کرے۔۔۔۔
دفعتاً لاوئنج سے کچن کی جانب بڑھتے دماغ میں کچھ بری طرح کلک ہوا۔۔۔ وہ اندھا دھند بھاگتا پروفیسر صاحب کے کمرے تک آیا۔۔۔
کمرے کے بیچ و بیچ رک کر اسنے ادھر ادھر دیکھ کر کچھ تلاشا۔۔۔ پھر یکدم کسی خدشے کے تحت دیوار گیر الماری کی طرف بڑھا۔۔۔
ایک جھٹکے سے اسکا آخری پٹ وا کیا۔۔۔ اس پر بکھرے کپڑے ہاتھ سے ہٹائے اور نیچے موجود لکڑی کے تختے کو سلائینڈنگ کی طرح دوسری طرف ہٹایا۔۔۔۔
نیچے کا منظر واضح ہو گیا۔۔۔ وہاں مدہم روشنی میں تنگ سے زینے نیچے کو اتر رہے تھے۔۔۔۔
وہ ایک ہی جست میں زینوں پر کودتا  نیچے اترنے لگا۔۔۔۔ ایک ایک جسٹ میں کئ کئ زینے پھیلانگ کر وہ نیچے اترا۔۔۔
آخری زینے پر پہنچ کر اسکی سانس میں سانس آئی۔۔۔ سونم فرش پر آڑھے ترچھے انداز میں گری پڑی تھی جبکہ پاس ہی اسکا لیپ ٹاپ کھلا پڑا تھا۔۔۔ وہ اندھا دھند اسکی جانب لپکا۔۔۔
******
آپ رات کے اس پہر یہاں کیا کر رہی تھیں محترمہ۔۔۔
فاہا پروفیسر کی کرسی کے میز پار دوسری جانب موجود کرسی پر بیٹھی تھی جبکہ ایک پولیس اہلکار میز پار سے میز پر جھکا اس سے سختی سے مستفسر تھا۔۔۔
دوسری کرسی پر کچھ فاصلے پر پروفیسر شفیق بیٹھے تھے جبکہ ان سے کچھ فاصلے پر ڈین صوفے پر براجمان تھا۔۔۔
مرتسم چند پولیس اہلکار اور سکیورٹی گاڑدز کے ساتھ ایک طرف لب بھینچے کھڑا تھا۔۔۔
سر میں بتا رہا ہوں نا۔۔۔ وہ وہاں سے چلتا فاہا کے قریب آ رکا۔۔۔ 
کیا آپ سے پوچھا۔۔۔ کیا آپ سے کچھ پوچھا مسٹر مرتسم۔۔۔ انسپیکٹر سختی سے گویا ہوا۔۔۔ آپکی باری بھی آئے لگی۔۔۔ اپنی باری میں اپنی بات کہیے گا۔۔۔
اس انسپیکٹر کے اپنے ہی اصول تھے کے لڑکیوں پر دباو بڑھایا جائے تو وہ لمحوں میں سچ اگل دیتی ہیں۔۔۔ اس لئے پہلے تفتیش کی باری فاہا کی تھی۔۔۔ جو خاموشی سے سر جھکائے خاموش آنسو بہا رہی تھی۔۔۔ دل سوکھے پتے کی مانند کپکپا رہا تھا البتہ ہاتھوں کی کپکپاہٹ پر قابو پانے کو اسنے ہاتھ سختی سے ایک دوسرے میں پیوست کر رکھے تھے۔۔۔
سر میں کل  یہاں سے گزر رہی تھی تو کسی نے مجھے اندر دھکا دے دیا۔۔۔ وہ بامشکل بول پائی۔۔۔
اور آپ یہاں سے کیوں گزر رہی تھی مس فاہا۔۔۔ کیا آپکو نہیں پتہ کے اس طرف سٹودینٹس کا آنا منع ہے۔۔  انسپیکٹر نے طیش سے میز پر ہاتھ مارا تو وہ اچھل پڑی۔۔۔۔مرتسم پیچ و تاب کھا کر آگے بڑھا۔۔۔
وہ جو کہہ رہی ہے وہ سنو انسپیکٹر تم اسکے ساتھ یہ رویہ اختیار نہیں کر سکتے۔۔۔ وہ بھی اسی کے انداز میں میز ہر ہاتھ مارتا اسکی آنکھوں میں انکھیں ڈال کر غرایا۔۔۔
اچھااااا۔۔۔۔ انسپیکٹر نے اسے سر سے پاوں تک عجیب سی نظروں سے  گھور کر دیکھا۔۔۔ لگتی کیا ہے تمہاری جو اتنی تکلیف ہو رہی ہے۔۔۔  انسپکٹر نے فاہا کی جانب آنکھ سے شارہ کیا۔۔۔ مرتسم مٹھیاں بھینچ کر رہ گیا۔۔۔
اریسٹ کرو اسے۔۔۔ انسپیکٹر نے کانسٹیبل کی جانب اشارہ کرتے فاہا کو اریسٹ کرنے کا حکم دیا۔۔۔
خبردار۔۔۔ خبردر جو کسی نے ایک قدم بھی اسکی جانب بڑھایا تو۔۔۔ چیر کر رکھ دوں گا اسے۔۔۔ آپ لوگوں کی ساتھ لیڈی کانسٹیبل کہاں ہے۔۔۔ اور آپ میں سے جس نے اسے ہاتھ لگایا اسکے ہاتھ سلامت رہنے کی میں گارنٹی نہیں دیتا۔۔۔
وہ فاہا اور کانسٹیبل کے درمیاں دیوار بنتا غرایا۔۔۔ آنکھئں ضبط سے سرخی چھلکانے لگی تھیں جبکہ وہ سب کچھ تہس نہس کر دینے کے در پر تھا۔۔۔
مرتسم تم پولیس کو دھمکی نہیں دے سکتے۔۔۔ ڈین نے معاملہ بگڑتا دیکھ مرتسم سے سختی سے کہا۔۔۔
تو یہ سب روکیں پھر سر۔۔  گھر کی عزتیں یوں نیلام نہیں کی جاتی۔۔۔ ورنہ یا تو میں خود کو شوٹ کر لوں گا ۔۔۔ یا ان میں سے کسی کا قتل مجھ پر واجب ہو جائے گا۔۔ وہ بے بسی سے چلایا۔۔۔ یہ پولیس کے اہلکار اور میڈیا کے نمائندے وہ جیب میں لے کر گھومتا تھا ۔۔۔ کھڑے کھڑے انہیں فارغ کروانے کی ہمت رکھتا تھا ۔۔  لیکن وہ اس سارے میس میں کہیں فاہا کا نام تک نہیں آنے دینا چاہتا تھا۔ وہ اسے مکھن سے بال کی مانند نکال لینا چاہتا تھا۔۔۔
سر اس بیگ میں سے ڈرگز ملی ہیں اورساتھ میں فائنل ایئر کے پرجہ جات بھی۔۔۔ کانسٹیبل نے فاہا کا بیگ سب کے سامنے میز پر الٹا۔۔۔ 
فاہا پھٹی پھٹی آنکھوں سے میز پر موجود اس سفوف کے ڈھیر اور کاغذات کو دیکھتی رہ گئ۔۔۔ جبکہ مرتسم سر پر مکہ مار کر رہ گیا۔۔۔ انہیں بہت بری طرح ٹریپ کیا گیا تھا۔۔۔۔
*****
سونم۔۔۔۔ سونم آنکھیں کھولو۔۔۔ وہ دیوانہ وار اسکی جانب لپکا اور اسکے قریب دوزانو بیٹھ کر اسکا چہرا تھپتھپایا۔۔۔
پھر کچھ سوچ کر ادھر ادھر دیکھا اور سونم کو وہیں چھوڑ واپس اوپر کو بھاگا کچھ ہی لمحوں بعد اسکی واپسی پانی کی بوتل کیساتھ ہوئی۔۔۔ واپس اسکے پاس دوزانو بیٹھ کر اسنے سونم کی چہرے پر پانی کے چھینٹے مارے۔۔۔ سونم نے بے چین ہوتے کسمسا کر آنکھیں کھولیں۔۔۔
پہلی نظر ہی خود پر جھکے فائز پر پڑی۔۔۔۔
کچھ لمحے لگے اسے حواسوں میں لوٹنے لیکن سب کچھ یاد آتے ہی وہ جھٹکے سے اٹھ بیٹھی اور متوحش نگاہوں سے ارد گرد دیکھتی ڈھاریں مار مار کر رو دی۔۔۔۔
بابا۔۔۔۔ میرے بابا۔۔۔  انہوں نے مار دیا میرے بابا کو۔۔۔۔
وہ گرتی پڑتی حواس باختہ سی اوپر کو چڑھتی سیڑھیوں کی جانب لپکی۔۔۔
جبکہ فائز بھی اسکی حالت دیکھتا گیلی سانس اند کھیچنتا اٹھ کر اسکی جانب لپکا۔۔۔ ساتھ ساتھ اسکے ہاتھ تیزی سے وہاج کا نمبر ملا رہے تھے۔۔۔
وہ اپنے دوستوں کی مدد کے بنا اس گھر کا سارا میس نہیں سمیٹ سکتا تھا۔۔۔
پروفیسر صاحب کے قتل کو پولیس کیس نا بننے دے کر انکی آخری رسومات ادا کرنے میں اسے اپنے دوستوں کی مدد درکار تھی۔۔۔
اس وقت وہ سونم کو بھی تنہا نہیں چھوڑ سکتا تھا۔۔۔
اوپر جاتے جاتے اسنے پلٹ کر وہاں سے لیپ ٹاپ اٹھایا اور گھر کے اندر کی فوٹیج آن کی ۔۔
*****
سونم تمہیں میری بات کیوں سمجھ نہیں آ رہی جاو چھپ جاو۔۔۔ پروفیسر صاحب بے بسی سے چلائے۔۔۔۔
دفعتاً چھت کا دروازہ ٹوٹنے کی آواز کیساتھ ہی اوپر سے کئ قدموں کے نیچے آنے کی آواز سنائی دی۔۔۔
پروفیسر صاحب کے جسم میں گویا برقی رو ڈور گئ۔۔۔ اپنی جان جانے سے زیادہ انہیں بیٹی کی عزت محفوظ رکھنے کا خدشہ تھا۔۔۔
انہوں نے دور کر اپنے کمرے کا دروازہ لگایا اور سونم کو بازو سے کھینچ کر دیوار گیر الماری تک لائے۔۔۔
بابا آپ بھی میرے ساتھ نیچے آئیں۔۔۔ میں اپکو یہاں چھوڑ کر نہیں جاوں لگی۔۔۔
وہ شدت سے رو دی۔۔۔ پاگل مت بنو سونم جلدی نیچے اترو۔۔۔
انکے ہاتھ سرعت سے کپڑے ہٹانے کے بعد لکڑے کا تخت سلائڈ کر رہے تھے۔۔۔۔
بابا۔۔۔ اترو نیچے سونم۔۔۔ قدموں کی چاب لاوئنج میں ابھرنے لگی تھی جب وہ سختی سے گویا ہوئے۔۔۔
مجھے لیپ ٹاپ بھی دیں ساتھ۔۔۔ وہ سیڑھیوں پر اترتے بے بسی سے دھیمی آواز میں چلائی۔۔۔
پروفیسر لپک کر اپنے بستر تک گئے اور لیپ ٹاپ کیساتھ ساتھ اپنا اور سونم کا موبائل بھی اسے تھمایا۔۔۔ وہ بھرائی نگاہوں سے باپ کا چہرا نگاہوں میں قید کرتی نیچے اتری۔۔۔
انکا دروازہ زور سے ڈھرڈھرایا جانے لگا تھا۔۔۔۔
ابے بڈھے سنکی پروفیسر کھول دروازہ۔۔۔۔
سیڑھیوں پر تختہ واپس سلائڈ کرتے پروفیسر صاحب کے ہاتھ کپکپا گئے۔  
دروازہ کسی بھی پل جڑ سے اکھڑنے کے در پر تھا۔۔۔
انکے ہارھوں میں گویا بجلی بھر گئ۔۔۔
انہوں نے بعجلت اس پر کپڑے بکھیڑتے الماری کا پٹ بند کیا۔۔۔۔ ساتھ ہی دروازہ ٹوٹ کر گرا اور کئ ایک سیاہ نقاب پوش بندوقیں تانے انکے سر پر سوار ہوئے۔۔۔
پروفیسر صاحب ماتھے پر آیا پسینہ صاف کرتے بستر کی جانب بڑھے جبکہ میر نے غصے سے انکی جانب بڑھتے بدتمیزی سے انکا گلہ دبوچہ ۔۔۔
بڈھے ایسے کونسے شوق ہیں تیرے جو تو دروازہ نہیں کھول رہا تھا یا موت سے بچنے کو ہاتھ پاوں مار رہا تھا۔۔۔ اسنے انکے گلے پر دباو بڑھایا تو پروفیسر صاحب بے طرح کھانس دیئے۔۔۔
ابے تیری تو ابھی سے بس ہو گئ اس نے مکروہ قہقے لگاتے انکا گلہ چھوڑا تو وہ لڑکھڑا کر زمین بوس ہوئے۔۔۔ وہ وہیں پڑی کرسی کھینچ کر انکے پاس رکھتا اس پر بیٹھا۔۔۔ جبکہ نیچے بیسمنٹ میں موجود سونم لیپ ٹاپ پر اوپر  کی فوٹیج آن کئے باپ کے ساتھ اسقدر ناروا سلوک اور اپنی بے بسی پر تھرا کر رہ گئ۔۔۔
******


No comments

Powered by Blogger.
4