Roshan Sitara novel 40th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Roshan Sitara novel 40th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Roshan Sitara is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels
Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front
of the world and improve their abilities in that field.
Roshan Sitara Novel by Umme Hania | Roshan Sitara novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Roshan Sitara novel by Umme Hania Complete PDF download
Online Reading
ناول "روشن ستارا"۔
مصنفہ "ام ہانیہ"۔
Official pg : Umme Hania official
چالیسویں قسط۔۔۔
فجر ہونے میں بھی ابھی ایک گھنٹہ باقی تھا لیکن فائز کے اس چھوٹے سے اپارٹمنٹ میں جھانکو تو وہاں زندگی رواں دواں تھی۔۔۔
کمرے کی سبھی بتیاں روشن تھیں ۔۔۔ بستر پر ہینڈ کیری کھلا پڑا تھا جس میں سلیقے سے ساماں پڑا تھا۔۔ کچھ ساماں ہینڈ کیری کے ساتھ بستر پر بھی پڑا تھا۔۔۔
الماری کے دونوں پٹ وا تھے جبکہ انکے سامنے کھڑی ماہرہ چیزیں نکال کر ہینڈ کیری میں رکھ رہی تھی
کمرے کے ادھ کھلے دروازے سے باہر جھانکو تو لاوئنج نیم تاریک تھا جہاں ایک کونے میں جائے نماز بچھائے فائز تہجد ادا کر رہا تھا۔۔۔
پتہ نہیں وہ باقاعدگی سے تہجد پڑھتا تھا یا نہیں مگر ماہرہ کی جب کبھی رات میں آنکھ کھلی اسنے فائز کو جائے نماز ہر لازما پایا تھا۔۔
فجر کی اذانوں کیساتھ ہی اسکا یونیورسٹی سے ٹور نکلنا تھا اس لئے وہ ابھی کچھ ہی دیر میں گھر سے نکلنے والے تھی۔۔۔
وہ اپنی پیکنگ مکمل کر کے اپنا ہینڈ بیگ چیک کر رہی تھی جب فائز ہاتھ میں ٹرے تھامے دروازہ دھکیل کر اندر داخل ہوا۔۔۔
ہوگئ ساری پیکنگ۔۔۔ اسنے کافی کی ٹرے ماہرہ کے پاس بستر پر رکھی۔۔۔
اوہ تھینک یو ویری مچ۔۔۔ ابھی اسکی بہت طلب ہو رہی تھی ۔ ماہرہ شارٹ فراک اور کھلے سے کیپری پر ہم رنگ آنچل اوڑھے ہوئے تھی۔۔۔ جبکہ نم بال پشت پر بکھرے تھے۔۔۔ وہ مگ اٹھاتی پاس ہی بیٹھ گئ۔۔۔
تیاری تقریباً مکمل ہی ہے۔۔۔
میرا موبائل نہیں مل رہا ماہرہ۔۔۔ کہیں دیکھا تم نے۔۔۔ وہ گرم کافی گھونٹ گھونٹ اندر انڈیلتا بے چین نگاہوں سے موبائل کا متلاشی تھا جو رات تو اسنے سائیڈ ٹیبل پر ہی رکھا تھا۔۔۔ مگر اب وہاں نہیں تھا
یہ رہا۔۔۔ ماہرہ نے نفی میں سر ہاتے کشن تلے سے موبائل نکال کر اسکی جانب بڑھایا۔۔۔
یہ یہاں کیسے آیا۔۔۔ اور یہ تو بند ہے۔۔۔ بند کس نے کیا۔۔۔ فائز نے موبائل تھاما اور الجھ کر بند موبائل کو دیکھا۔
میں نے۔۔۔ تمہاری اس ہوتی سوتی کو چین جو نہیں ۔۔۔ آدھی رات کو پھر سے فون کر رہی تھی تمہیں ۔۔۔ میں نے ڈسٹربنس سے بچنے کے لئے فون بند کر دیا۔۔۔
وہ شانے اچکاتی نڑؤتھے پن سے گویا ہوئی۔۔ جبکہ ایک پل کو فائز کی رنگت فق ہوئی۔۔۔
کس کی بات کر رہی ہو ماہرہ۔۔ کیا سونم کی۔۔۔ دماغ میں یکدم کلک ہوا تھا۔۔
کسی خدشے کے تحت پوچھتے اسنے شدت سے ماہرہ کے انکاری ہونے کی دعا کی۔۔
موبائل آن ہو چکا تھا اسنے بے چینی سے کال لاگ کھولا۔۔۔
اور نہیں تو کون۔۔۔ ایک وہی ہے جو میری زندگی کا روگ بن گئ ہے۔۔۔
کال لاگ اسکے سامنے تھا جہاں رات بارہ بجے کے قریب سونم کی کال کاٹی گئ تھی۔۔۔
فائز کے ہاتھ کپکپا کر رہ گئے۔۔۔
How dare you mahira..
تمہاری ہمت کیسے ہوئی میرے موبائل کو ہاتھ لگانے کی یا اسے بند کرنے کی۔۔۔۔
یکدم ہی وہ اتنی اونچی آواز میں ڈھارا کے ماہرہ کپکپا کر رہ گئ ۔۔۔ کافی کا مگ ماہرہ کے ہاتھ میں چھلک کر رہ گیا۔۔۔ کافی کے کچھ چھینتے اسکے ہاتھ پر چھلکے۔۔۔ وہ سی کی آواز سے ضبط کر گئ۔۔۔
فائز کا یہ ردعمل توقع سے کوسوں دور تھا۔۔۔ کب کی تھی اسنے پہلے کبھی اس لہجے میں بات ۔۔۔
اور ماہرہ بھلا کہاں عادی تھی اس لہجے کی۔۔۔
سٹاپ اٹ فائز۔۔۔ تم مجھ سے اس لہجے میں بات نہیں کر سکتے۔۔۔ لمحے میں اسکی آنکھوں کی سطح گیلی ہوئی تھی۔۔۔
شٹ آپ۔۔۔ جسٹ شٹ آپ ماہرہ۔۔۔ بے چینی سے فون پر نمبرملا کر کان سے لگاتا فائز پھر سے ڈھار۔۔۔
تم اتنی چھوٹی بچی ہو ۔۔۔ عقل و فہم کہیں ادھار دے آئی ہو کیا۔۔۔
کیا تم اتنا نہیں جاتی کے آدھی رات کو آنے والی کالز کبھی خیریت کی نہیں ہوتیں۔۔۔
اسنے جارحانہ ماہرہ کا بازو کھینچ کر اسے اپنے سامنے کھڑا کیا۔۔۔
وہ شاک کی سی کیفیت میں اسے دیکھتی رہ گئ۔۔۔۔
یقیناً وہ اگر آدھی رات کو مجھے کال کر رہی تھی تو وہ کسی مشکل میں تھی۔۔۔ اسے ضرورت تھی میری۔۔۔اینوی کوئی پاگل نہیں جو آدھی رات کو کسی کو تنگ کرے۔۔۔
کیوں استعمال کرتی ہو تم اپنی عقل جب وہ تم میں ہے ہی نہیں۔۔ اسنے جھٹکے سے ماہرہ کا بازو چھوڑتے پھر سے اسکا نمبر ملایا جو ناٹ رسپانڈنگ آ رہا تھا۔۔۔
فائز کا دل کسی انہونی کے خدشے سے بے طرح گھبرانے لگا۔۔۔
پہلی دفعہ ماہرہ کو اپنی حماقت کا احساس ہوا تو وہ خشک پڑتے لبوں پر زبان پھیر کر رہ گئ۔۔۔
رات کے اندھیرے میں محض گناہ نہیں کئے جاتے ماہرہ۔۔۔ احساس اور انسانیت بھی کسی چیز کا نام ہوتا ہے۔۔۔
اسنے بے طرح موبائل اپنے ماتھے پر مارا۔ ۔۔ ماہرہ چہرا ہاتِوں میں چھپاتی بے طرح رو دی۔۔۔
Plz stop crying mahira...
وہ زرا دھیما پڑا۔۔۔
سامان اٹھاو میں تمہیں یونیورسٹی چھوڑ دوں۔۔۔ پھر مجھے بہت سے کام ہیں۔۔ اسکے حواس گویا ساتھ چھوڑ رہے تھے۔۔۔ اندر ایک ہلچل سی مچی تھی لیکن وہ بامشکل ضبط کئے کھڑا تھا۔۔۔
تم جاو تمہیں جو کام کرنے ہیں کرو۔۔۔ میں خود چلی جاوں لگی۔۔۔ وہ سوں سوں کرتی آستین سے آنسو صاف کرتی سامان اٹھانے لگی۔۔۔
تم سے مشورہ نہیں مانگا میں نے۔۔۔ اور خدارا اپنی عقل کم کم ہی استعمال کیا کرو۔۔۔ میں ایک کام درست کرنے کے چکروں میں دس کام بگھاڑ نہیں سکتا۔۔۔
فلحال میں اس وقت تمہیں یونیورسٹی تنہا بھیجنے کا رسک نہیں لے سکتا اس لئے جلدی باہر نکلو۔۔۔
وہ ماتھا مسلتہ الجھا الجھا سا اپنی بات کہہ کر باہر نکل گیا۔۔۔ جبکہ ہاتھ بارہا سونم کا نمبر ملا رہے تھے جو مسلسل ناٹ رسپانڈنگ آ رہا تھا۔۔۔۔
*******
مرتسم کو سڑکوں پر خوار ہوتے آدھی رات گزرگئ تھی۔۔۔ زبیر لغاری کے فارم ہاوس ریسٹ ہاوس نیز اس سے وابسطہ وہ کونسی جگہ تھی جہاں انہوں نے اسے چیک نہیں کیا تھا۔۔۔
دفعتاً اسے وجی کی کال آئی تو اسنے کار ڈرائیو کرتے موبائل کان سے لگایا۔۔۔
سر میں مسلسل زبیر لغاری اور اسکی سرگرمیوں پر نظر رکھے ہوئے ہوں لیکن اسکی حرکتوں سے کچھ بھی مشکوک نہیں لگا۔۔۔ جیسے فاہا میم انکے آس پاس نہیں ۔۔۔ وہ بہت ریلیکس ہیں۔۔۔
فون سے ابھرتی آواز سن کر مرتسم نے ماتھ مسلہ۔۔۔
کہیں کچھ مسنگ ہے مرتسم ہمیں ٹھنڈے دماغ سے کام لینا چاہیے۔۔۔ کال کانفرنس تھی تبھی وہاج کی آواز ابھرنے پر مرتسم نے لب چباتے سوچ کے گھوڑے دوڑائے۔۔۔
میں اس کم عقل کو فون کر کر کے تھک گیا ہوں مگر وہ فون بھی نہیں اٹھا رہی۔۔۔ویٹ ویٹ ویٹ۔۔۔ کیا کہا تم نے۔۔۔ وہاج فوراً چلایا۔۔۔ گدھے کم عقل۔۔۔ صحیح کہا ہے کسی نے غصہ انسان کی عقل کو مفلوج کر دیتا ہے۔۔۔ اگر اسکا نمبر آن ہے تو اسکی لوکیشن ٹریس کرو نا کیوں پچھلے پندرہ گھنٹوں سے خوار ہو رہے ہو اور ساتھ میں مجھے بھی کر رکھا ہے۔۔۔ وہاج کے غصے سے چلانے پر وہ یکدم بریک لگاتا گاڑی روک گیا۔۔۔
یہ اتنی سی بات اسکے دماغ میں کیوں نا آئی بھلا۔۔۔۔
دل ایک سو بیس کی رفتار سے بھاگنے لگا تھا۔۔۔
وجی نمبر سینڈ کر رہا ہوں ٹریس کرواو۔۔۔
جی سر۔۔۔ اگلے چند سیکنڈز میں وہ وجی کو نمبر سینڈ کر چکا تھا اور پھر اسکے کچھ ہی دیر بعد لوکیشن اسکے سامنے تھی ۔۔۔
شٹ۔۔۔شٹ۔۔۔شٹ۔۔۔ اسنے سٹرینگ پر پے در پے مکے برسائے۔۔۔
ہماری عقل کو بہت بری طرح سے ٹریپ کر کے وقت ضائع کروایا گیا ہے۔۔۔ فون پر وہاج کی آواز ابھرتے ہی اسنے اگنیشن میں چابی گھمائی اور گاڑی ہواوں سے باتیں کرنے لگی۔۔۔ میں بھی پہنچ رہا ہوں یونیورسٹی وہاج نے کہتے ہی رابطہ منقطع کر دیا۔۔اگلے کچھ ہی لمحوں میں وہ دونوں یونیورسٹی کے مین گیٹ سے اندر داخل ہو رہے تھے۔۔۔ پس منظر میں کہیں فجر کی پہلی اذانوں کی صدا گھونجنے لگی تھی۔۔۔
یونیورسٹی کی پارکنگ میں ٹور کے لئے جانے والے کیمپس کے سٹودینٹس بسوں میں سوار ہو رہے تھے وہ دونوں ان سٹودینٹس کو نظر انداز کرتے آگے بڑھے۔۔۔۔
اکھٹے نہیں ہم دونوں اسے الگ الگ تلاشیں گے۔۔۔ جسے پہلے اسکا سراغ ملا وہ دوسرے کو بتا دے گا۔۔۔
مرتسم کے کہتے ہی انکی تلاش شروع ہو گئ تھی۔۔۔
یکدم ایک کاریڈور میں بھاگتا بھاگتا وہ رکا۔۔۔۔
کیا وہ واقعی یونیورسٹی میں موجود تھی یا یہ بھی ایک ٹریپ تھا۔۔۔ وہ پہلے بھی کئ مرتبہ اسے یونیورسٹی میں تلاش چکا تھا مگر وہ نہیں ملی۔۔۔ پھر۔۔۔
یکدم ہی مرتسم کو خود پر غصہ آنے لگا ۔۔۔وہ محض ایک فون کی لوکیشن پر یونیورسٹی کیوں بھاگا آیا۔۔۔ کیا یہ ممکن تھآ کے اسکا اغوا کار اسکا مابائل اسکے پاس رہنے دیتا۔۔۔
اسے خود پر ہی غصہ آیا۔۔۔ غصے سے وہ واپس پلٹا جب جاتے جاتے اندر سے کسی نے روکا۔۔۔۔
جب وہ اتنی دور تک آ چکا تھا تو ایک کوشیش تو کرتا۔۔۔ اور نہیں تو اسکا موبائل تو دھونڈتا ۔۔۔ کیا پتہ موبائل ڈھونڈتے ڈھونڈتے کوئی اور سراغ بھی مل جاتا۔۔۔
اسنے پھر سے فاہا کے موبائل پر فون کیا۔۔۔
دوسری طرف ہنوز بیل جا رہی تھی۔۔۔
ایک کاریڈور سے دوسرے کاریڈور تک جاتے جاتے وہ ٹھٹھکا۔۔۔
اسنے ساری یونیورسٹی چیک کی تھی سوائے ایک جگہ کے جہاں سٹودینٹس کا داخلہ ممنوع تھا۔۔۔ ایک دفعہ اپنی تسلی کو اسے وہ جگہ چیک کرنی چاہیے تھی۔۔۔
فون پر نمبر ڈائل کرتا وہ دیوانہ وار اس طرف کو بھاگا۔۔۔ جب دور سے ہی اسے فاہا کے موبائل کی بیل سنائی دینے لگی۔۔۔ اسکے قدموں میں مزید بجلی بھر گئ۔۔۔
Faha... Where are you Faha,
موبائل فون کی آواز سے اسکی ہمت بندھی تبھی وہ فون کان سے لگاتا سنائی دینے والی گھنٹی کی معیت میں بھاگتا مسلسل اسے آوازیں دے رہا تھا۔۔۔
****
فاہا وہیں کرسی پر بیٹھی بیٹھی میز پر سر رکھے دوبارہ سے غنودگی میں چلی گئ تھی۔۔۔ کافی دیر بعد پیاس کی شدت سے اسکی آنکھ کھلی۔۔۔ پچھلے کئ گھنٹوں کی بے آرامی خوف وحشت اور بھوک کے باعث اسکی طبیعت بگڑنے لگی تھی۔۔۔
آنکھ کھلتے ہی اسکا دل بے ہنگم انداز میں ڈھرکا۔۔۔ اسنے گھبرا کر ادھر ادھر دیکھا۔۔۔ سکارف دھلک کر کندھے تک آ چکا تھا جبکہ بالوں کا جوڑا تک ڈھیلا ہو گیا تھا۔۔۔ چاروں طرف سے بند کمرے میں وہ پنکھا چلا ہونے کے باوجود سر سے لے کر پاوں تک پسینے میں شرابور تھی۔۔۔
حبس سے دماغ پھٹ رہا تھا۔۔۔ اسنے بار بار بند ہوتی نگاہوں سے ارد گرد دیکھا دفعتاً اسکی نگاہ آفس میں موجود کھڑکی پر گئ۔۔ اسنے جھٹ سے اٹھتے کھڑکی کے پٹ کھولے۔۔۔ یکدم ہی چہرے سے ٹکڑاتے تازہ ہوا کے جھونکوں نے اسے کچھ سکون فراہم کیا۔۔۔
وہ یہاں سے کیسے نکلے ۔۔ اب تو بھوک کی شدت سے پیٹ بھی کمر کیساتھ ہی چپک گیا تھا۔۔۔ کیا وہ یہیں پڑی پڑی مر جائے گی اور کسی کو پتہ تک نہیں چلے گا۔۔۔ وہ کھڑکی سے سر ٹکائے بے بسی سے الٹی سیدھی سوچیں سوچ رہی تھی۔۔۔ خاموش آنسو اسکی آنکھوں سے بہہ رہے تھے۔۔۔ اللہ جی پلیز کسی کو میری مدد کے لئے بھیج دیں۔۔
دل سے صدا نکلی تھی ساتھ ہی اسکا موبائل چنگاڑنے لگا تھا۔۔۔ وہ چونک کر واپس دروازے تک آئی۔۔۔
جب اسے وہاں مرتسم کی آواز کا گمان ہوا۔۔۔
Faha... Where are you Faha...
,نہیں یہ گمان نہیں تھا۔۔۔ وہ واقعی مرتسم کی آواز تھی۔۔۔ نڈھال سے جسم میں جیسے یکدم ہی توانائیاں آگئ۔۔۔
مرتسممم۔۔۔۔ مرتسم میں یہاں ہوں۔۔۔ پلیز سیو میں۔۔۔ وہ بیٹھی ہوئی آواز میں زور زور سے دروازہ پیٹتی اسے پکارنے لگی۔۔۔
******
سر۔۔۔ سر وہ ادھر دیکھیں۔۔۔ پروفیسر شفیق کے آفس کی کھڑکی کھلی ہے اور لائٹ بھی جل رہی ہے۔۔ یقیناً اس وقت وہاں کوئی ہے۔۔۔ ٹور کے لئے جانے والی بسوں کے نکلتے ہی عملے کے ایک شخص نے پروفیسر کی توجہ اس جانب ڈلوائی۔۔۔ تم ٹھیک کہہ رہے ہو۔۔۔ فوری طور پر پروفیسر شفیق کو بلایا جائے اور ساتھ سیکیورٹی کو بھی۔۔۔ پروفیسر صاحب چلائے۔۔۔ وہاں اس وقت بہت سے پیپرز موجود تھے اور سٹودینٹس کا وہاں جانا سختی سے منع تھا۔۔۔
****
کام ہو گیا سر۔۔۔ مرتسم لودھی وہاں پہنچ چکا ہے اور عملے کو بھی خبر ہو گئ۔۔۔ ان سے کچھ فاصلے پر کھڑے ایک شخص نے زبیر لغاری کا نمبر ملاتے رابطہ استوار ہونے پر اسکے گوش یہ خبر گزاری تھی۔۔۔
وہ قہقہ لگا کر ہس دیا۔۔۔
بڑی دیر کر دی مہرباں آتے آتے۔۔۔ یہ مرتسم لودھی اتنا عقل سے پیڈل ہے تو نہیں جتنا ثابت کر رہا ہے۔۔۔ ایک سیدھی سی چیز کو اسنے اچھا خاصا الجھا کر رکھ دیا۔۔۔ یہاں پہنچتے پہنچتے اسنے اتنی دیر لگا دی۔۔ الو کی دم پورا شہر ہی چھانتا رہا ۔۔۔ حالانکہ سیدھی سی بات تھی فاہا کا فون آن ہونے کی وجہ سے اسے جلد سمجھ جانا چاہیے تھا کے وہ کہاں ہے۔۔۔
اور کس غرض سے ہم نے اس سے اسکا فون نہیں چھینا۔۔۔ ہمارا تو پلان ہی یہ تھا کے فاہا اسے خود فون کر کے وہاں بلواتی۔۔۔ مگر وہ ضرورت سے زیادہ احمق لڑکی بیگ ہی آفس سے باہر پھینک گئ۔۔۔
چلو خیر دیر آئے درست آئے۔۔۔ رات تو مرتسم لودھی نے بھی یقیناً کانٹوں پر گھسیٹ کر گزاری ہوگئ اور یہ وقت بھی بالکل ٹھیک ہے دو جسم ایک جان جیسے معشوقوں کو رنگے ہاتھوں غلط کاموں میں ملوث پکڑنے کا۔۔۔
اب بنا تاخیر کے پولیس اور میڈیا دونوں یہاں ہونے چاہیے۔۔۔ اور بڑی رینج میں ہونے چاہیے۔۔۔ پیسہ پانی کی طرح بہا دو۔۔۔ لیکن چند ہفتے پہلے لگنے والے تماشے سے یہ تماشا کئ گنا بڑا ہونا چاہیے۔۔۔ اتنا بڑا کے پچھلی تماشا اس چٹ پٹی خبر کے بوجھ تلے کہیں دب جائے۔۔۔ زبان زد عام محض یہ ہی چٹ پٹی خبر ہونی چاہیے۔۔۔
ہر جانب لودھی خاندن کی بندنامی اسقدر اور اس انداز میں ہونی چاہیے کہ اس لڑکی کے پاس سوائے خود کشی کے اور کچھ بچے نا۔۔۔
اس لڑکی کی کرادر کشی اسقدر ہونی چاہیے کے اسکی نسوانیت کی دھجیاں اڑ جائے۔۔۔ اور صرف یہیں تک نہیں بلکہ ڈرگز اور یونیورسٹی سے لڑکیاں سمگلنگ کروانے کے کیس میں بھی اسی کا نام ہونا چاہیے۔۔۔
انہیں اس کیس میں اتنی بری طرح پھنسنا چاہیے کے وہ سوچتے رہ جائیں کے دشمن نے حملہ کہاں سے کیا ہے۔۔۔
مرتسم لودھی کو میں بے بسی کی انتہاوں کو چھوتا دیکھنا چاہتا ہوں۔۔۔
وہ فرعون بنا قہقے لگا رہا تھا۔۔۔ آواز میں رعونت تھی۔۔۔
جی سر فکر مت کریں سب تیار ہے چند لڑکیاں بھی تیار کر لی گئیں ہیں جو فاہا کے خلاف گواہی دیں لگی۔۔۔ انکے بچنے کا کوئی چانس نہیں۔۔۔ اور جتنی یہ لڑکی بہادر ہے بہت جلد اسکی خود کشی کی خبر آپ تک پہنچ جائے گی۔۔
وہ شخص سفاکی سے کہتا فون بند کر گیا۔۔۔
****
ماہرہ کو یونیورسٹی کے گیٹ پر اتار کر وہ اسی کی گاڑی میں ہواوں سے باتیں کرتا پروفیسر عظیم کی رہائش گاہ پر پہنچا۔۔ اور وہاں پہنچ کر اسے پہلا ہی جھٹکا گیٹ کھلا دیکھ کر لگا۔۔۔۔ کسی انہونی کا احساس اندر سر ابھارنے لگا۔۔۔
وہ تھوک نگلتا آگے بڑھا۔۔۔ لاوئنج کی ایک ایک چیز تہس نہس تھی جیسے وہاں ہر ایک بڑا طوفان آ کر گزر گیا ہو۔۔۔ فائز کو اپنی ڈھرکنیں سست پڑتی محسوس ہوئیں۔۔۔ وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے سب دیکھا آگئے بڑھا۔۔۔ سب کچھ جیسے سلو موشن میں ہونے لگا تھا۔۔۔۔۔پروفیسر صاحب کے کمرے میں انکا فرش پر موجود بے جان آڑے تڑچھے انداز میں پڑا وجود دیکھ کر اسے رفتا رفتا اپنے قدموں تلے سے زمین کھسکتی محسوس ہوئی۔۔۔
سونم۔۔۔ سونم کہاں تھی بھلا۔۔۔ اسنے سرخ خالی خالی نگاہوں سے حواس باختگی میں ارد گرد دیکھا مگر وہاں پروفیسر صاحب کے سوا کوئی نا تھا۔۔۔ یقیناً وہ لوگ اپنے مقصد میں کامیاب ہوتے پروفیسر صاحب کی کمزوری ساتھ لے گئے تھے۔۔۔ اسے اپنے جسم سے جان نکلتی محسوس ہوئی۔۔
یقیناً وہ پروفیسر صاحب سے کیا وعدہ ایفا نہیں کر پایا تھا۔۔۔ وہ اپنی ذمہ داری نبھا پانے میں ناکام رہا تھا۔۔۔ ماہرہ فائز علوی اسکا ناقابل تلافی نقصان کروا چکی تھی۔۔۔ اسکا دل چاہا یہیں پر خود کو شوٹ کر لے۔۔۔
******

No comments