Header Ads

Roshan Sitara novel 39th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels


 

Roshan Sitara novel  39th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels 

Roshan Sitara is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels

Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front 

of the world and improve their abilities in that field.

 Roshan Sitara  Novel by Umme Hania | Roshan Sitara  novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Roshan Sitara  novel by Umme Hania Complete PDF download

Online Reading

 ناول "روشن ستارا"۔

  مصنفہ "ام ہانیہ"۔

Official pg : Umme Hania official

انتالیسویں قسط۔۔۔
مرتسم ریش ڈرائیونگ کر کے یونیورسٹی پہنچا تھا۔۔۔ یونیورسٹی کے گیٹ کے پاس ہی بریک لگا کر وہ گاڑی سے باہر نکلا ۔۔۔ سامنے ہی اسکا ڈرائیور پریشان حال کھڑا اسی کا منتظر تھا۔۔۔ اسے گاڑی سے نکلتا دیکھ حواس باختہ سا ڈرائیور اسکی  جانب لپکا۔۔۔۔ 
رابطہ ہوا فاہا سے۔۔۔ اسکے مرتسم کے پاس پہنچتے ہی مرتسم بے چینی سے گویا ہوا۔۔
نہیں سر جی بی بی جی باہر نہیں آئیں ابھی تک۔ ۔۔۔ نا ہی انہوں نے فون کیا۔۔۔
رکو تم میں اندر دیکھتا ہوں۔۔۔ مرتسم نے سمجھ کر سر ہلایا۔۔۔ اور ہاں اگر وہ باہر آئی تو مجھے انفارم کرنا۔۔۔
اندر آتے ہی وہ دیوانہ وار اسے دھونڈنے لگا ۔۔۔۔ اسکے کیمپس کا چکر لگانے کے بعد وہ اپنے کیمپس کا بھی چکر لگا چکا تھا۔۔۔ حتکہ اسکی ایک ایک دوست ایک ایک کلاس میٹ کو بھی روک کر اس کے بارے میں پوچھ چکا تھا لیکن کوئی اسکے بارے میں کچھ نہیں جانتا تھا۔۔۔ ان سب کے مطابق وہ تو آج یونی آئی ہی نہیں تھی۔۔۔ حتکہ اسکی سب سے قریبی دوست کا بھی یہ ہی کہنا تھا کے وہ آج یونی نہیں آئی۔۔۔
یقیناً وہ یونی آ کر سیدھی اسائمنٹ جمع کروانے گی تھی کسی سے بھی ملے بنا۔۔۔ لیکن پھر وہ گئ کہاں۔۔۔ وہ کاریڈور میں کھڑا پریشانی سے سر پر ہاتھ پھیر کر رہ گیا۔۔۔ جبکہ بے چین نگاہیں چاروں طرف سفر کر رہی تھیں۔۔۔
فاہا کہاں ہو تم۔۔۔ اب تو دل بھی گھبرانے لگا تھا۔۔۔ زبیر لغاری کے بدلے کا یہ طریقہ غلط تھا۔۔۔ گھر کی عزت پر بات اسے بے بس کر رہی تھی۔۔۔ وہ اس سے آمنے سامنے بدلہ لیتا۔۔۔ اسکی ذات پر حملہ کرتا لیکن یہ اسنے بہت غلط طریقہ اختیار کیا تھا۔۔۔ اسنے مرتسم لودھی کی اس دکھتی رگ پر ہاتھ رکھا تھا کے وہ بلبلا کر رہ گیا تھا۔۔۔۔ فاہا کی گمشدگی اسکے حواس صلب کر رہی تھی۔۔۔ بس نا چل رہا تھا کے کہیں سے بھی اس پاگل لڑکی کو نکال لائے جسے اسکی باتیں کم کم ہی سمجھ آتی تھیں۔۔۔
اس بے وقوف کو وہ واضح الفاظ میں سمجھا چکا تھا کے یونیورسٹی نہیں جانا اسکے بعد اسنے ڈرائیور کو بھی خاص تاکید کی تھی کے حویلی کے سوا راستے میں کہیں نہیں رکنا۔۔۔ اپنی طرف سے تو وہ ہر طرح  سے بے فکر ہو گیا تھا لیکن برا وقت واقعی کچھ بتا کر نہیں آتا اور وہ بنا بتائے آ گیا تھا۔۔۔
اسنے ایک مرتبہ پھر سے فاہا کا نمبر ملایا جہاں دھات کے وہی تین پاٹ تھے۔۔۔ وہ فون اٹھا ہی نہیں رہی تھی۔۔۔
وہ کئ بار پوری یونیورسٹی کے چکر لگا چکا تھا مگر فاہا کا کہیں کوئی نام و نشان نا تھا۔۔۔
سوائے ایک جگہ کے جہاںِ آج کل سٹودینٹس کا آنا جانا منع تھا وہاں چند ایک کلاس رومز کیساتھ پروفیسرز کے آفس تھے۔۔۔
دوپہر سے شام کے سائے گہرے ہونے لگے تھے۔۔۔ یونیورسٹی خالی ہونے لگی تھی مگر فاہا کا کہیں کوئی اتہ پتہ نا تھا۔۔ اسنے بے بسی سے ہاتھ کی مٹھی بنا کر ماتھے پر ماری۔۔۔ اسے کسی بھی طرح رات سے پہلے پہلے فاہا کو دھونڈنا تھا۔۔۔
*****
کئ قدم ایک ساتھ اندر کودے تھا۔۔۔ سونم کو اپنا دل بند ہوتا محسوس ہوا۔۔۔۔ دماغ نے سرعت سے کام کیا تو وہ لیپ ٹاپ اٹھاتی اندھا دھند باپ کے کمرے کی جانب بھاگی ۔۔۔
بابا۔۔۔ بابا۔۔۔۔ اٹھیں بابا۔۔۔ اسنے کپکپاتے ہاتھوں سے بے خبر سوئے باپ کو جھنجھوڑا۔۔۔
کیا ہوا بیٹا سب خیریت۔۔۔ پروفیسر صاحب گہری نیند سے اچھنبے سے اٹھ بیٹھے مگر سونم کی حالت دیکھ کر انکی تشویش فطری تھی۔۔۔
بابا۔۔۔ بابا کچھ خیریت نہیں یہ دیکھیں۔۔۔ بہت سے آدمی ہمارے گھر کا احاطہ کئے ہوئے ہیں وہ چھت پر کود چکے ہیں اور اندر گھسنے کی تیاریوں میں ہیں بابا۔۔۔ انکے پاس بہت سارا اسلحہ بھی ہے۔۔۔
وہ زاروزار روتی باپ کو لیپ ٹاپ پر سی سی ٹی وی فوٹیج دکھانے لگی۔۔۔
مصیبت کو سر پر منڈلاتے دیکھ اسکا دل سوکھے پتے کی مانند کپکپا رہا تھا۔۔۔
موبائل دو مجھے سونم ہم پولیس سے ہیلپ لیں گے۔۔۔ ٹھیک ہے قانون اندھا ہے مگر ابھی اتنا بھی اندھیر نہیں مچا۔۔۔
سونم کی نسبت پروفیسر صاحب حوصلے میں تھے۔۔۔
سونم نے جھٹ سے سائیڈ ٹیبل پر پڑا باپ کا موبائل انہیں تھمایا۔۔۔ باپ کے حوصلے اسے کچھ حوصلہ ہوا تھا البتہ ہاتھ پاوں ہنوز کپکپا رہے تھے۔۔ ۔
پروفیسر صاحب  نے پولیس کی ہیلپ لائن پر کال کرنی چاہی مگر نیٹ ورک ڈسکنیکٹ تھا۔۔۔
مجھے لگتا ہے انہوں نے ہمارے گھر کے سگنلز ہیک کر کے ڈسکنیکٹ کروا دیئے ہیں۔۔۔ پروفیسر صاحب کے چہرے پر پریشانی کے تاثرات نمودار ہوئے۔۔۔ لیکن وہ تیزی سے کچھ سوچ رہے تھے۔۔۔
بابا میرے موبائل سے ٹرائے کریں ۔۔۔ وہ اپنا موبائل لینے کمرے کی طرف بھاگی ابھی تو وہ فائز کو فون کر رہی تھی تب تو کال جا رہی تھی۔۔۔ بھاگم بھاگ اپنا موبائل لئے باپ کے پاس پینچی  ۔۔۔ لیکن نہیں شاید ابھی ابھی انہوں نے موبائل سگنلز کے ساتھ ساتھ وائی فائی کنکشن بھی ہیک کر لیا تھا۔۔
اوپر سے چھت کے دروازے کا لاک توڑنے کی آواز آ رہی تھی ۔۔
بابا اب۔۔۔ سونم کے چہرے کی رنگت فق ہونے لگی۔۔۔
تم چھپ جاو سونم۔۔۔ تب سے پہلی مرتبہ پروفیسر صاحب بھی خوفزدہ ہوئے۔۔۔ انکی ساتھ انکی جوان بیٹی تھی۔۔۔ وہ اس معاملے میں بے فکر نہیں ہو سکتے تھے۔۔۔
ایسے کیسے بابا۔۔۔ آپ بھی چھپیں میرے ساتھ۔۔۔ سونم شدت سے رو دی۔۔۔
پاگل مت بنو سونم۔۔۔ تم میری کمزوری ہو۔۔۔ اور میری کمزوری کو میرے دشمن کے سامنے مت آنے دو۔۔۔ تمہیں استعمال کر کے دشمن مجھے ٹوڑ دے گا۔۔۔ جھکا دے گا۔۔۔ مجھے میرے وطن سے غداری کرنے پر مجبور کر دے گا۔۔۔
لیکن ویسے وہ مجھ سے کبھی کچھ حاصل نہیں کر پائے گا سوائے شکست کے۔۔۔
اس ملک پر مر مٹنے والے کئ جانباز جان کی بازی لگا گئے۔۔۔ مگر یہ ملک کئ غداروں کی غداری اور کئ ناسوروں کے باوجود آج بھی اپنے جاہ و جلال سمیٹ دنیا کے نقشے پر  موجود ہے اور ان شااللہ تا قیامت رہے گا۔۔۔
اس لئے جاو۔۔۔ جو کہہ رہا ہوں وہ کرو۔۔۔ انکی آواز میں اب غصے کیساتھ ساتھ جلال بھی اتر رہا تھا۔۔۔ سونم انکے ساتھ نا ہوتی تو وہ کچھ بھی کر لیتے لیکن ابھی وہ اس پر رسک نہیں لے سکتے تھے۔۔۔
میں اکیلی کیوں ۔۔۔ آپ میرے ساتھ کیوں نہیں چھپ رہیں۔۔۔ آپ بھی تو چھپے نا بابا۔۔۔ بہتے آنسووں سمیٹ وہ کپکپاتے ہاتھوں سے باپ کے جھریوں زدہ ہاتھ تھام گئ جن ہاتھوں نے پوری زندگی اس ملک کے لئے کام کیا تھا مگر آج ضرورت کے وقت کوئی انکے کام نا آ رہا تھا۔۔۔
نہیں بیٹا۔۔۔ دونوں نہیں۔۔ یوں انکا شک پختہ ہوگا۔۔۔ وہ لمحے میں گھر کا کونا کونا چھان مارتے ہمیں تلاش لیں گے۔۔۔ تم تنہا چھپو۔۔۔ میں انہیں ہینڈل کر لوں گا۔۔۔ میری موجودگی میں انکا دھیان تمہاری طرف نہیں جائے گا۔۔۔ یوں وہ لوگ تم تک نہیں پینچ پائیں گے۔۔۔ بابا نے اسے رسانیت سے سمجھانا چاہا جبکہ عین اسی وقت چھت کے دروازے کا لاک ٹوٹا اور دروازہ کھول کر کئ بھاری بوتوں کی سیڑھیاں اترنے کی چاپ سنائی دینے لگی۔۔۔ گویا وہ دھمک زمین پر نہیں دلوں پر پڑ رہی ہو۔۔۔
******
فاہا وہیں دروازہ پیٹتے پیٹتے ناجانے کب اسی دروازے سے سر ٹکائے سو گئ۔۔۔ نا جانے سوئی تھی کے مخصوص قسم کی غنودگی کے باعث حوش و حواس سے بیگانہ ہوگئ تھی۔۔۔
کافی وقت کے بعد اسکی آنکھ کھلی تو جسم ایک ہی پوزیشن میں بیٹھا بیٹھا اکڑ گیا تھا۔۔۔ آنکھ کھلتے ہی اسے دم گھٹنے کا احساس ہوا۔۔۔۔
بے ساختہ اسکا ہاتھ گلے تک گیا۔۔۔ اسنے گلے پر ہاتھ مارتے اپنا حجاب کھولا۔۔۔۔ گرمی اور حبس میں  دم گھٹنے کے باعث اسے سانس لینے میں دشواری ہو رہی تھی وہ اپنا سینا مسلتی گہرے گہرے سانس لینے لگی۔۔۔۔
گھپ اندھیرے میں ہاتھ کو ہاتھ سجائی نا دیتا تھا۔۔۔ اسے گمان گزرا کے وہ یہیں اسی حالت میں مر جائے گی۔۔۔ اسے یہاں اس حال میں پڑے ناجانے کتنا وقت ہو گیا تھا وہ نہیں جانتی تھی۔۔۔
اسے اس اندھیری کوٹھری پر قبر کا گمان ہونے لگا تھا۔۔۔
بامشکل ہمت کرتی وہ اپنے بے جان ہوتے وجود پر وزن ڈالتی اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔ وہ بالکل دروازے کے ساتھ تھی اسنے اٹھ کر دروازے کی نشاندہی سے دیوار کو ٹٹول کر سوئچ بورڈ ڈھونڈنا چاہا۔۔۔
وہ اس حبس اور گھٹن میں مر رہی تھی۔۔۔ اور مرنے سے پہلے بچاو کے لئے ہاتھ پیر مار رہی تھی۔۔۔ دیوار کو ٹٹولنے سے اسکا ہاتھ سوئچ بورڈ سے ٹکرایا۔۔۔  اسے یوں محسوس ہوا جیسے اسے ہفت اکلیم کی دولت مل گئ ہو۔۔۔
اسنے ایک دفعہ میں ہاتھ مار کر سارے بٹں دبا ڈالے۔۔۔
یکدم ہی کمرا روشنیوں سے نہا گیا۔۔۔ پنکھا چلتے ہی اسے کچھ سکون کا سانس آتا محسوس ہوا۔۔۔

اسنے مندھی آنکھیں کھول کر کمرے کا جائزہ لیا وہ غالباً کسی پروفیسر کا کیبن تھا۔۔۔ وہ پاس پڑے مخملی صوفے پر ڈھ گئ۔۔۔
کچھ وقت لگا اسکے اعصاب بحال ہونے میں۔۔۔
پیاس کی شدت نے انتہا کی تو وہ آنکھیں کھول کر سیدھی ہو بیٹھی۔۔  ادھر ادھر دیکھتے پانی تلاشا ا ور اٹھ کر ڈسپنسر تک گئ۔۔۔ دو گلاس پانی کے پی کر حواس کچھ مزید بحال ہوئے۔۔۔ اب خوف کے بعد بھوک سے ہمت جواب دے رہی تھی۔۔۔ وہ وہیں پروفیسر کی کرسی پر بیٹھ گئ۔۔
سر کرسی کی پشت سے ٹکائے آنکھیں سامنے میز پر مرکوز تھی جبکہ دماغ سن۔۔۔۔
کچھ دیر بعد وہ کچھ سوچنے سمجھنے کے قابل ہوئی تو توجہ سامنے میز پر موجود کاغذات کے بنڈل نے اپنی جانب کھینچی۔۔۔ تجسس کے ہاتھوں مجبور ہو کر وہ سیدھی ہوئی اور ان کاغذات کے بنڈل پر جھکی۔۔۔
اسنے ایک بنڈل ہٹا کر سیدھا کیا۔۔۔
وہ فائنل ایئر کے فائنل سمیسٹر کے پرچہ جات تھے۔۔۔ ایک بعد وہ دوسرا بنڈل دیکھ رہی تھی۔۔۔
محض فائنل ایئر ہی نہیں بلکہ اسکے پہلے سمیسٹر کے اور بھی بہت سے پرچہ جات  وہاں موجود تھے۔۔ دیکھتے ہی دیکھتے وہ ان پرچہ جات کی ساری ترتیب بگھاڑ چکی تھی سبھی پرچہ جات کے بنڈل وہ میز پر بکھیر چکی تھی ۔۔۔ لیکن جلد ہی اسے اپنی اس حماقت کا احساس ہوا تو اسنے  بعجلت سب سمیٹ کر پہلے جیسا کرنا چاہا۔۔۔ لیکن یقیناً   اس مرتبہ ترتیب وہ نا تھئ۔۔۔۔
*****
رات کے سائے بلند ہونے لگے تھے لیکن مرتسم ابھی تک ویسے ہی نامراد تھا پہلے اسنے پولیس سے مدد حاصل کرنی چاہی۔۔۔ انتہائی غصے میں وہ پولیس کی نفری کیساتھ زبیر لغاری کی رہائش گاہ پر دھاوا بولنا چاہتا تھا۔۔۔ لیکن وجی نے سختی سے اسکا یہ پلان رد کر دیا۔۔۔ بقول اسکے اس میں بھی مرتسم کے خاندان  اور فاہا کی رسوائی تھی۔۔۔ انہیں یہ بات میڈیا تک نہیں پہنچنے دینا چاہیے تھی۔۔۔
اور چاہتا تو مرتسم بھی یہ ہی تھا۔۔۔ مگر غصہ اور بے بسی حواس صلب کر لیتے ہیں یہ ہی حال اس وقت مرتسم کا تھا۔۔۔ وہ کسی سے مدد نہیں لے سکتا تھا سوائے وجی اور اپنے دوستوں کے۔۔۔ فائز کا فون بند جا رہا تھا جبکہ وہاج اور وہ اپنے اپنے طور ہر ممکن طریقے سے فاہا کا سراغ حاصل کرنا چاہتے تھے۔۔۔
جب ہر طرف سے ناکام ہو کر احساس بے بسی اسکے دماغ پر ہاوی ہونے لگا۔۔۔ اسنے انتہائی غصے سے زبیر لغاری کا نمبر ملایا ۔۔۔
دوسری ہی بیل پر فون اٹھا لیا گیا جیسے وہ اسی کے فون کا منتظر ہو۔۔۔
بے غیرت گھٹیا انسان۔۔۔ بتا فاہا کہاں ہے۔۔۔ میں تیرا وہ حال کروں گا زبیر لغاری کے تیری سات پشتیں یار کریں لگی۔۔۔ اگر فاہا کو کچھ بھی ہوا نا۔۔۔۔۔
چچچ۔۔۔چچ۔۔ چچچ۔۔۔چچچ۔۔۔ ہولڈ آن یار ہولڈ آن۔۔۔ مرتسم کے غم و غصے سے گرجنے پر وہ خط لینے والے انداز میں گویا ہوا۔۔۔
جن کے گھروں کی عزتیں بیچ چوراہے پر نیلام ہو رہی ہوں نا مرتسم ڈئیر انکی آوازیں تو کیا نظریں اور سر بھی جھکے ہوئے ہوتے ہیں۔۔۔
بکواس بند کر اپنی۔۔۔۔ وہ اتنی زور سے چیخا کے گلے کی رگیں تک ابھر آئیں۔۔۔
زبیر لغاری کے قہقے گھونجنے لگے تھے۔۔۔
تڑپ مرتسم لودھی تڑپ۔۔۔ تیری یہ ہی بے بسی و تڑپ چاہیے۔۔۔
اور تو فکر نا کر صبح تک تو اور تیری معشوکہ دونوں ہی نیوز پیپر کے پہلے صفحے کی زینت ہونگے زبان زد عام ہونگے۔۔۔ وہ نفرت سے پھنکارا۔۔ 
تو ہر بار چکنی مچھلی کی مانند میرے ہاتھ سے پھسل نہیں سکتا۔۔۔ اس بار تمہیں پتہ لگے گا کہ زبیر لغاری آخر کس چیز کا نام ہے۔۔۔
زبیر لغاری تو بہت پچھتائے گا۔۔۔ تو۔۔۔ وہ ابھی غصے سے ناجانے کیا کہنے والا تھا جب کسی نے پیچھے سے اسکا فون جھپٹ کر کھینچا۔۔
مرتسم آگ بگولہ ہوتا پلٹا۔۔۔
پاگل ہو گئے ہو مرتسم۔۔۔ کیوں فون کیا تم نے اسے۔۔۔ وہ اس وقت ہماری بے بسی کا تماشا دیکھنا چاہتا ہے اور تم نے اسے وہی دکھایا۔۔۔۔ وہاج نے اسے بری طرح جھڑکا۔۔۔ مر
رہے ہو نا تو کبھی دشمن کو اپنا کمزور پہلو مت دکھاو۔۔۔ کے تم کہاں سے کمزور پڑ رہے ہو۔۔۔ تاکہ وہ وہیں سے تمہیں نوچنے کی غلطی نا کرے۔۔۔ 
وہ دونوں اس وقت یونیورسٹی سے نکلتی سنسنان سڑک پر کھڑے تھے۔۔۔
مرتسم نے بے بسی سے اپنا سر دونوں ہاتِوں سے جھکڑا۔۔۔
ریلیکس ہو جاو مرتسم۔۔۔ یوں اس طرح سے کچھ ہاتھ نہیں آئے گا۔۔ ہمیں حوصلے اور تحمل سے کام لینا ہوگا۔۔۔ غصے سے ہم سب تباہ کر دیں گے۔۔۔
میرے خیال سے ہمیں پولیس کو انوالو کر لینا چاہیے۔۔۔ یہ معاملہ اتنا سیدھا بھی نہیں رہا۔۔۔ آخر کو گھر کی عزت کا معاملہ ہے۔۔
پولیس میں بھی رپورٹ گمشدگی کے چوبیس گھنٹے بعد درج کی جائے گی وہاج اور مجھے کیسے بھی کر کے صبح کا سورج طلوع ہونے سے  پہلے اسے دھونڈنا ہے۔۔۔ اس رات کا ایک ایک لمحہ مجھ پر بھاری ہے وہاج۔۔۔ یہ رات قطرہ قطرہ میری رگوں میں تیزاب انڈیل کر مجھے جلا کر خاکستر کر رہی ہے وہاج۔۔۔ ایک مرد کو کوئی بے بس نہیں کر سکتا اگر اسکے گھر کی عورتیں اسکی بتائی حکمت عملی پر عمل کرنے لگیں تو۔۔۔ اسنے بے طرح اپنا ماتھا مسلہ۔۔۔
وہاج نے اسے آج تک اتنا بے بس نا دیکھا تھا۔۔۔ یکدم ہی چھن سے اسکی نگاہوں کے سامنے اس رات کا منظر گھوم گیا جب وہ علایہ کو اس بدنام زمانہ جگہ سے نکال کر لایا تھا۔۔۔ اس روز اگر وہ شخص بہن کی وہ حالت دیکھ لیتا تو ناجانے اس وقت کیا کر بیٹھتا۔۔
*****

No comments

Powered by Blogger.
4