Roshan Sitara novel 38th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Roshan Sitara novel 38th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Roshan Sitara is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels
Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front
of the world and improve their abilities in that field.
Roshan Sitara Novel by Umme Hania | Roshan Sitara novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Roshan Sitara novel by Umme Hania Complete PDF download
Online Reading
ناول "روشن ستارا"۔
مصنفہ "ام ہانیہ"۔
Official pg : Umme Hania official
اڑتیسویں قسط۔۔۔
حسب معمول فاہا سیاہ عبایہ اور سکن کلر کے سکارف میں ملبوس حویلی جانے کے لئے تیار کھڑی تھی۔۔۔ بابا کو اسنے انفارم نہیں کیا تھا وہ انہیں سرپرائز دینا چاہتی تھی۔۔۔
وہ خوش تھی بہت خوش۔۔۔ اتنے عرصے بعد گھر جانے کی الوہی سی خوشی اسکے چہرے سے چھلک رہی تھی۔۔ پاس ہی ایک چھوٹا سا ہینڈ کیری موجود تھا۔۔۔ وہ چند دن بابا کے پاس رہنے کے ارادے سے جا رہی تھی۔۔۔
دفعتاً اسنے ایک طائرانہ نگاہ شیشے میں نظر آتے اپنے عکس پر ڈالی اور مطمیں ہوتی سٹڈی ٹیبل کی جانب بڑھی وہاں سے ہینڈ بیگ اور فائل اٹھائی اور ہینڈ کیری گھسیٹتی کمرے سے نکلی۔۔۔
مرتسم اور تایا جان گھر سے نکل چکے تھے۔۔۔ تائی جان شاید علایہ کے پاس ہی کمرے میں موجود تھیں۔۔۔ وہ سب سے ناشتے پر ہی مل چکی تھی۔۔۔
وہ لاوئنج سے باہر نکلی تو مستند سا ڈرائیور اسکی جانب بڑھا۔۔۔
ڈرائیور نے اسکے ہاتھ سے ہینڈ کیری تھاما اور گاڑی کی جانب بڑھا۔۔۔
کچھ ہی دیر میں گاڑی روڈ پر فراٹے بھرتی جا رہی تھی۔۔۔
ڈرائیور انکل گاڑی یونیورسٹی کی جانب موڑ لیں مجھے یونیورسٹی میں اسائمنٹ جمع کروانی ہے بس دو منٹ لگیں گے پھر حویلی کے لئے نکلیں گے۔۔۔
لیکن بی بی جی مرتسم صاحب نے تو آپکو محض حویلی چھوڑنے کو ہی کہا تھا۔۔۔ ڈرائیور پریشانی سے گویا ہوا۔۔۔
ڈرائیور انکل زیادہ دیر نہیں لگے گی میں جلد ہی واپس آ جاوں لگی۔۔۔ وہ دراصل آج اسائمنٹ جمع کروانے کی آخری تاریخ ہے اس لئے میں رسک نہیں لے سکتی۔۔۔
اسکی وضاحت پر ڈرائیور نے سر ہاں میں ہلایا۔۔۔
کچھ ہی دیر بعد گاڑی یونیورسٹی کے گیٹ کے سامنے رکی تو فاہا بعجلت گاڑی سے نکلی۔۔۔ میں بس ابھی آئی۔۔۔۔ کہتے ہی وہ گیٹ سے اندر غائب ہو گئ۔۔۔ جبکہ اسکے جاتے ہی ڈرائیور نے جیب سے فون نکالتے مرتسم کا نمبر ملانا شروع کیا۔۔۔
*****
لاوئنج کے بلائنڈز ہٹے تھے جسکے باعث لاوئنج قدرتی روشنی سے منور تھا۔۔۔ صاف ستھرا سا لاوئنج ہر چیز اپنی اپنی جگہ پر موجود آنکھوں کو بھلی لگ رہی تھی ایسے میں فائز صوفے پر بیٹھا لیپ ٹاپ پر اپنا کام کر رہا تھا۔۔۔
اوپن کچن میں کاونٹر ٹاپ کے سامنے کھڑی کپ میں چائے انڈیلتی ماہرہ وہاں سے اسے براہ راست دیکھ سکتی تھی۔۔۔
اسنے چائے کے کپ ٹرے میں سلیقے سے رکھے اور لاوئنج میں ہی آ گئ۔۔۔
ٹرے میز پر رکھی تو فائز نے چونک کر نظریں لیپ ٹاپ کی سکریں سے اٹھائیں۔۔۔
خیریت۔۔۔ یہ کرم نوازی کیسے۔۔۔
اب ایسی بھی کوئی بات نہیں یا پہلی مرتبہ نہیں بنائی چائے تمہارے لئے۔۔۔ بس جب غصہ آتا ہے تب کی کوئی گارنٹی نہیں۔۔۔ وہ شانے اچکاتی کپ اٹھا کر پاس ہی موجود سنگل صوفے پر بیٹھی اور ٹانگ پر ٹانگ جمائی۔۔۔
فائز آہستہ سے مسکرا دیا۔۔۔
ہمارے کیمپس کا ریسرچ ورک کے لئے ٹور جا رہا ہے فائز تم چلو گئے۔۔۔ چائے کی چسکیاں لیتے وہ رخ اسکی جانب موڑ گئ۔۔۔ جو چائے کی چسکی لینے کے بعد کپ واپس رکھتا دوبارہ سے لیپ ٹاپ پرمصروف ہو گیا تھا۔۔۔
میں جا کر کیا کروں گا ماہرہ۔۔۔ پیچھے سو طرح کے کام ہے میرے کرنے والے۔۔۔ ہاں البتہ تم ضرور جاو۔۔۔ خوب انجوائے کرنا۔۔۔ اپنی پیکنگ کر لو۔۔۔ وہ مصروف سے انداز میں آنکھیں مسلتا صوفے کی پشت سے ٹیک لگا گیا۔۔۔۔۔۔
وہ کافی دیر سے لیپ ٹاپ پر مصروف تھا اب تو تھکاوٹ کے اثرات چہرے سے بھی چھلکنے لگے تھے۔۔۔
ہممم۔۔ وہ پرسوچ انداز میں ہنکارا بھر کر رہ گئ۔۔۔
کب جا رہا ہے ٹور۔۔۔
پرسوں صبح۔۔۔۔۔تین دن کے لئے۔۔۔۔ ماہرہ کی پرسوچ نگاہیں اسی پر ٹکی تھیں۔۔۔
ٹھیک ہے تم اپنی تیاری کر لو۔۔۔ اور جو کوئی ضرورت کا سامان چاہیے ہو بتا دینا میں لے آوں گا۔۔۔ وہ مسکرا کر اسکی جانب متوجہ ہوا۔۔۔
اسے مسکراتا دیکھ وہ بھی مسکرا دی۔۔ اسکا یہ دوستانہ انداز تب سے ہی تھا جب سے ماہرہ نے اتنا شدید ردعمل دیا تھا تب سے وہ خود بھی اب زیادہ تر مصلحت سے کام لیتا اور یہ بات ماہرہ کے اطمینان کو کافی تھی۔۔۔
ماہرہ چائے پینے کے بعد چائے کے برتن اٹھانے والی تھی جب میز پر پڑا فائز کا موبائل فون چنگاڑ اٹھا۔۔۔ ایک بے ساختہ نگاہ ماہرہ کی موبائل کی جانب اٹھی اور اس پر جگمگاتے سونم کالنگ کے الفاظ دیکھ کر اسکے اندر غم وغصے کی شدید لہریں پیدا ہوئیں مگر وہ نظر انداز کرتی کچن کی جانب بڑھ گئ۔۔۔
ہوگا اسے کوئی کام فائز سے۔۔۔ وہ مسلسل اپنے دماغ کو تسلیاں دے رہی تھی۔۔۔
*****
ایکسکیوز می۔۔۔ آپ فاہا لودھی ہیں۔۔۔
فاہا اپنی اسائمنٹ جمع کروا کر تیز تیز قدم اٹھاتی گیٹ کی جانب بڑھ رہی تھی جب اسے پیچھے سے ایک باریک نسوانی آواز سنائی دی۔۔۔وہ چونک کر پلٹی۔۔۔ اور بے ساختہ نگاہ کلائی پر بندھی گھڑی پر ڈالی۔۔۔ اسے اسائمنٹ جمع کروانے میں زیادہ سے زیادہ پانچ سے سات منٹ لگے تھے۔۔۔۔
جی میں ہی فاہا لودھی ہوں۔۔ خیریت۔۔۔ وہ مسکرا کر بعجلت گویا ہوئی۔۔۔ اسے باہر جانے کی جلدی تھی جہاں ڈرائیور انکل اسکا انتظار کر رہے تھے۔۔۔
فائنل ایئر کا مرتسم لودھی آپکو بلا رہا ہے۔۔۔
مرتسم وہ ششدر ہوئی۔۔۔ یقیناً وہ اگر یونیورسٹی میں تھا تو اب تک جان چکا ہو گا کے وہ یونیورسٹی آئی ہے۔۔۔ حالانکہ اسنے فاہا کو یونیورسٹی آنے سے منع بھی کیا تھا۔۔۔ شٹ۔۔۔۔اسنے جھنجھلا کر آنکھیں میچیں۔۔۔
کہاں ہے وہ۔۔۔ وہ گہرا سانس خارج کرتی خود کو ڈھیلا چھوڑ گئ۔۔۔
اس جانب ۔۔۔ اس لڑکی نے ایک جانب کلاس رومز کی طرف اشارہ کیا اور آگے بڑھ گئ جبکہ وہ برے برے منہ بناتی اس جانب بڑھ گئ۔۔۔ یقیناً حویلی جانے سے پہلے مرتسم کے ہاتھوں اسکی کلاس پکی تھی۔۔۔
الجھی الجھی سی وہ اسی جگہ پہنچ چکی تھی جہاں اس لڑکی نے اسے کہا تھا۔۔۔ مگر وہاں مرتسم تو کیا کوئی اور سٹودینٹ بھی نہیں تھا۔۔۔
مرتسم نے اسے یہاں بلایا تھا تو خود کہاں چلا گیا بھلا۔۔۔
وہ بے چین نگاہوں سے ارد گرد دیکھنے لگی۔۔۔ جب کسی کو وہاں موجود نا پا وہ تیزی سے واپس مڑی۔۔۔ وہ تیز تیز قدم اٹھاتی واپس جا رہی تھی یہاں ایک طرف چند کھڑوس سے قسم کے پروفیسرز کے آفس تھے اسکا دل بے طرح گھبرانے لگا۔۔۔ یقیناً کسی نے اسکے ساتھ مذاق کیا تھا اگر مرتسم وہاں ہوتا تو اسے یوں سب سے الگ تھلگ کیوں بلاتا۔۔۔ اور اگر بلاتا سو بلاتا پھر خود غائب کیوں ہو جاتا۔۔۔
اپنی ہی سوچوں میں الجھی وہ آگے بڑھ رہی تھی جب کسی نے غیر متوقع طور پر اسے زور دار دھکا دیا۔۔۔۔ب
حملہ غیر متوقع تھا وہ سمبھل نا پاتے لڑکھڑاتے ہوئے ایک کمرے کے ادھ کھلے دروازے سے ٹکرائی۔۔۔
آہ۔۔۔ ایک بے ساختہ چیخ اسکے حلق سے برآمد ہوئی۔۔۔
ادھ کھلا دروازہ اسکے ٹکرانے سے پوری طرح کھلا جب وہ لڑکھڑاتے ہوئے آگے سے سہارا نا ملنے پر زمین بوس ہوئی۔۔۔
کمرا تاریک تھا۔۔ دروازہ کھلنے سے باہر سے ہلکی سی روشنی اندر داخل ہوئی تھی۔۔۔ لیکن اس سے پہلے کے وہ سمبھل کر سیدھی ہوتی تھک کی آواز کیساتھ وہ روشنی بھی گل ہوگئ۔۔۔
دماغ نے تیزی سے کام کیا اور وہ کرنٹ کھا کر اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔
کسی نے باہر سے کمرے کا دروازہ بند کر دیا تھا اور دروازہ بند ہوتے ہی روشنی کا واحد منبع بھی ختم ہو گیا۔۔۔
اسنے گھپ اندھیرے میں ہی ہاتھ سے ٹٹولتے کمرے کا دروازہ ڈھرڈھرا۔۔۔۔
خوف کی شدت سے دل بند ہونے لگا تھا۔۔۔ جسم پر کپکپاہٹ طاری ہو گئ تھی۔۔۔ بھلا ایسی حرکت کون کر سکتا تھا۔۔۔۔
کھولو۔۔۔ دروازہ کھولو۔۔۔ کوئی ہے۔۔۔۔ کوئی ہے کیا۔۔۔ وہ مسلسل دروازہ دھڑ دھڑا رہی تھی۔۔۔ دل سوکھے پتے کی مانند کپکپا رہا تھا۔۔ کون کر سکتا تھا اسکے ساتھ ایسا۔۔۔ دماغ سوچ سوچ کر درد کرنے لگا تھا۔۔۔
*****
مرتسم لودھی ایک سافٹ ویئر کمپنی سے اپنے پراجیکٹ کے حوالے سے بات چیت فائنل کر کے فارغ ہوا تھا۔۔۔ انہیں اپنے پراجیکٹ کے لئے بنائے جانے والے سافٹ ویئر میں چند اپڈیٹس چاہیے تھیں۔۔۔ رات ہی اسے فائز کا میسج ملا تھا کے انکے سافت ویئر کی پروسیسنگ انکی مطلوبہ رفتار کی نسبت کچھ سلو تھی اسی غرض سے وہ اب پہلی فرصت میں یہ مسلہ فکس کروانے آیا تھا۔۔۔ ابھی فری ہو کر باہر نکلا ہی تھا جب اسنے پارکنگ تک جاتے جاتے موبائل جیب سے نکالا۔۔۔ میٹنگ کے دوران اسکا موبائل سائیلنٹ تھا اسی لئے اب اسنے موبائل نکالا تو ڈرائیور کی دس مسڈ کالز تھی۔۔۔ مرتسم کے ماتھے پر بل پڑے۔۔۔
خیریت اتنی کالز۔۔۔ یہ ڈرائیور تو آج فاہا کو حویلی چھوڑنے جانا والا تھا نا۔۔۔ پھر۔۔۔
کہیں کچھ۔۔۔ اس سے زیادہ اس سے کچھ سوچا بھی نا گیا۔۔۔
وہ تیزی سے کار پارکنگ کی جانب قدم بڑھاتا ڈرائیور کو کال بیک کر رہا تھا۔۔۔
ہیلو سر میں کافی دیر سے آپکو کال کر رہا تھا لیکن آپ کال نہیں اٹھا رہے تھے۔۔۔ فون اٹھاتے ہی ڈرائیور کی گھبرائی سی آواز سنائی دی۔۔۔
خیریت کیوں فون کر رہے تھے تم مجھے بار بار۔۔۔ گاڑی کا دروازہ کھول کر ڈرائیونگ سیٹ سمبھالتے اسکے انداز میں بے چینی تھی۔۔۔ جیسے چھٹی حس پہلے ہی کچھ غلط ہونے کا الارم بجانے لگی ہو۔۔۔
وہ سر جی بی بی جی دو منٹ کا کہہ کر یونیورسٹی میں اپنی اسائمنٹ جمع کروانے گئ تھیں لیکن ایک گھنٹے سے اوپر ہو گیا وہ ابھی تک باہر نہیں آئی۔۔۔ مجھے پریشانی ہو رہی ہے ۔۔۔
فون سے ابھرتی آواز سن کر اگنیشن میں ابی گھماتے اسکے ہاتھ ساکت ہوئے۔۔۔۔ جیسے قوت سماعت پر دھوکے کا گمان ہوا ہو۔۔۔
وہ وہاں لینے کیا گئ تھی۔۔۔ جب میں نے تمہیں کہا تھا کے اسے سیدھا حویلی پہنچانا بیچ میں کہیں بھی رکنا مت پھر۔۔۔
وہ چٹخے اعصاب کیساتھ چلایا۔۔۔۔
سر جی میں نے انہیں منع کرنا چاہا تھا مگر وہ کہہ رہی تھیں کے بس دو منٹ میں واپس آ جائیں گی کہ آج اسائمنٹ جمع کروانے کی آخری تاریخ ہے۔۔۔
اور انکے جاتے ہی میں نے آپ سے رابطہ استوار کرنا چاہا تھا مگر آپ نے فون ہی نہیں اٹھایا۔۔۔ مرتسم کے غصہ کرنے پر ڈرائیور گھگھیایا۔۔۔
مرتسم نے بامشکل خود پر ضبط کیا۔۔۔
دماغ چٹخنے لگا تھا جبکہ ہاتھوں کی نسیں تک ابھر آئی تھیں۔۔۔
وہیں انتظار کرو میں پہنچ رہا ہوں۔۔۔ کھولتے دماغ کیساتھ وہ ریش ڈرائیونگ کرتا وہاں سے نکلا۔۔۔ ساتھ ساتھ وہ مسلسل فاہا کا نمبر ملا رہا تھا جہاں مسلسل بیل تو جا رہی تھی لیکن وہ فون اٹھا نہیں رہی تھی۔۔۔
فاہا لودھی اگر تمہاری وجہ سے مجھے کوئی بھی ناقابل تلافی نقصان اٹھانا پڑا نا تو ۔۔۔ تمہیں معاف نہیں کروں گا۔۔۔ اسنے غصے و بے بسی سے ہاتھ سٹرینگ پر مارا۔۔۔
******
کوئی ہے۔۔۔ پلیز دروازہ کھولو۔۔۔۔ پلیز کھولو۔۔۔ چیخ چیخ کر فاہا کا گلہ بیٹھ گیا تھا۔ حلق خشک ہو گیا تھا۔۔۔ جسم سے توانائی جیسے نچڑ کر رہ گئ تھی۔۔۔ پتہ نہیں یہ یونیورسٹی کا کونسا کمرا تھا۔۔۔ وہ سمجھنے سے قاصر تھی ۔۔۔ وہ اسقدر خوفزدہ ہوئی تھی کے اسنے دیوار ٹٹول کر لائٹ یا پنکھا تک چلانے کی کوشیش تک نہیں کی تھی۔۔۔ گرمی اور حبس کی شدت سے اسکا سانس تک بند ہونے لگا تھا۔۔ دروازہ پیٹ پیٹ کر ہاتھ درد کرنے لگے تھے جب وہ تھک ہار کر وہیں دروازے کے ساتھ نیچے بیٹھتی چلی لگی۔۔۔
پلیز کوئی تو کھولو۔۔۔ مجھے باہر نکالو مجھے ڈر لگ رہا ہے۔۔۔
بے بسی سے اسکے آنسو بہہ نکلے۔۔۔ دفعتا اسے اپنے موبائل کی رنگ ٹیوں سنائی دی۔۔۔ اسکے جسم میں جیسے نئ توانائیاں بھر گئیں۔۔۔ فون کا تو اسے خیال ہی نہیں رہا تھا۔۔۔ ہاں اسکا فون۔۔۔ وہ مرتسم کو فون کر سکتی تھی۔۔۔ اسنے چوکس انداز میں سیدھا ہوتے ادھر ادھر اپنا فون تلاشنا چاہا۔۔۔ جس حساب سے اتنے قریب سے اسے بیل کی آواز سنائی دے رہی تھی اسکا بیگ یہیں کہیں ہونا چاہیے تھا۔۔۔ وہ اندھیرے میں ہی ادھر ادھر دیوانہ وار اپنا بیگ تلاش کرنے لگی۔۔۔
کچھ دیر کی جدوجہد کے بعد اس پر انکشاف ہوا کے دھکا لگنے کے نتیجے میں اسکا ہینڈ بیگ کمرے سے باہر ہی گر گیا تھا۔۔۔ یقیناً وہ دروازے کے پاس ہی گرا تھا جو آواز اتنے قریب سے آ رہی تھی۔۔۔
جسم سے ساری توائنائی جیسے پھر سے نچھڑ گئ اور وہ ڈھنے کے سے انداز میں دروازے سے ٹیک لگا گئ۔۔۔
فون وقفے وقفے سے بج بج کر بند ہو رہا تھا جبکہ وہ دروازے سے سر ٹکائے خاموش آنسو بہا رہی تھی۔۔۔ اسے مرتسم کی بات ماننی چاہیے تھی۔۔۔ اسے یونیورسٹی نہیں آنا چاہیے تھا۔۔۔ اندھے کنویں میں گر کر وہ اپنی فاش غلطی کا اعتراف کر رہی تھی۔۔۔ مگر اب اس اندھیرے کنویں سے نکلنے کا کوئی راستہ دکھائی نہیں دے رہا تھا۔۔۔ ناجانے کس خدشے کے تحت مرتسم نے اسے یونیورسٹی آنے سے منع کیا تھا۔۔۔۔ وہ اس بات پر غور کر ہی نا پائی اور نا ہی اس بات پر کہ مرتسم نے اسے بلانے کے لئے لڑکی کو ہی کیوں بھیجا وہ اسے فون بھی تو کر سکتا تھا نا۔۔۔ اب ایک ایک بات سمجھ آ رہی تھی۔۔۔ مگر اب فائدہ۔۔ اسکا دل کرلا کر رہ گیا۔۔۔
*****
ہاں یہ ہی ہے وہ بل جہاں پروفیسر عظیم چھپا بیٹھا ہے۔۔۔ پروفیسر عظیم کے گھر سے کچھ قدم کی دوری پر سیاہ لباس میں ملبوس ماسک لگائے چند ہیولے ہاتھوں میں ریفلیں تھامے کھڑے تھے۔۔۔
آج آڑ یا پاڑ۔۔۔ یکدم ایک کی قیادت میں وہ ہیولے رفتہ رفتہ پروفیسر عظیم کی رہائش گاہ کی جانب بڑھے۔۔۔۔
ان سے چند قدم کی دوری پر اندر پروفیسر عظیم رات کے کھانے کے بعد اپنی دوائی کھا کر بستر پر لیتے محو استراحت تھے جبکہ سونم سارا کچن سمیٹ کر ابھی ابھی کچن کی لائٹ آف کر کے کچن سے باہر نکلی۔۔۔ جب اسکے حساس کانوں نے کچھ غیر معمولی محسوس کیا جب وہ برق رفتاری سے اپنے کمرے کی طرف بڑھی اور اسنے بعجلت لیپ ٹاپ آن کر کے گھر سے باہر لگے سی سی ٹی وی کمیروں کی فوٹیج آن کی۔۔۔ اور باہر موجود ان گنت شیطانوں کو دیکھ اسکی چیخ نکلتے نکلتے بچی۔۔۔
اسنے ایک نظر اپنے بے بس باپ کے کمرے کی جانب ڈالی۔۔۔ اب وہ کیا کرے۔۔۔ صرف وہی تھی جسکے ذریعے سے وہ لوگ اسکے باپ کو بے بس کر سکتے تھے۔۔۔ اسکا دماغ تیزی سے کام کر رہا تھا۔۔
دفعتاً اسنے موبائل اٹھا کر فائز علوی کا نمبر ملایا اور بے چینی سے لب کترتے کان کو لگایا۔۔۔
دوسری طرف بیل جا رہی تھی جبکہ اس سے چند میل کی دوری پر فائز علوی کے فلیٹ میں جھانکو تو وہاں فائز کے کمرے کی سائیڈ ٹیبل پر پڑا اسکا فون چنگار اٹھا۔۔ماہرا بستر پر لیٹ چکی تھی اسنے اونچی ہو کر سکرین کی جانب دیکھا اور نام دیکھتے ہی اسکے ماتھے پر بل پڑے۔۔۔۔ اسنے دوسری نظر واش روم کے دروازے کی جانب دیکھا جو بند تھا اسنے ہاتھ بڑھاتے فون کاٹ دیا۔۔۔
زندگی میں پہلی مرتبہ یوں فون کٹنے پر سونم کا دل دھک سے رہ گیا۔۔۔ اسنے شاک کی سی کیفیت میں فون کان سے ہٹا کر دیکھا۔۔۔ ایسا پہلی بار ہوا تھا جبکہ فائز تو آدھی رات کو بھی اسکا فون بھاگ کر اٹھاتا کیونکہ وہ گھر میں نہتا اور تنہا تھی۔۔۔
سونم نے تھوک نگلتے پھر سے فون پر نمبر ملایا لیکن اس بار اسکا دل دھک سے رہ گیا کیونکہ اس مرتبہ فائز کا نمبر ہی بند ہو گیا تھا۔۔۔ دفعتاً اسے گھر میں کودتے کئ قدموں کی آواز سنائی دی جبکہ وہ فنا ہوتی روح کیساتھ وہیں بیٹھی رہ گئ۔۔
******

No comments