Header Ads

Roshan Sitara novel 37th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels


 

Roshan Sitara novel  37th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels 

Roshan Sitara is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels

Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front 

of the world and improve their abilities in that field.

 Roshan Sitara  Novel by Umme Hania | Roshan Sitara  novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Roshan Sitara  novel by Umme Hania Complete PDF download

Online Reading

 ناول "روشن ستارا"۔

  مصنفہ "ام ہانیہ"۔

Official pg : Umme Hania official

سینتیسویں قسط۔۔۔
علایہ کو ہسپتال سے ڈسچارج مل گیا تھا لیکن اسکا پراپر علاج چل رہا تھا۔۔۔ اس واقع نے اسکے دماغ پر گہری چھاپ چھوڑی تھی۔۔۔ کبھی وہ سب خواب میں دکھائی دیتا تو وہ چیخ مارتی اٹھ بیٹھتی۔۔۔ بیٹھی بیٹھی کہیں کھو سی جاتی۔۔۔ وہ مناظر یاد آتے تو دل خون کے آنسو رونے لگتا۔۔۔ کسی نامحرم کے غلاظت بڑے ہاتھ جسم پر رینگتے محسوس ہوتے تو وہ کئ کئ گھنٹے شاور کے نیچے کھڑی رہتی اپنی بازو ڑگڑ ڑگڑ کر سرخ کر لیتی۔۔۔
وہ واقعہ دماغ سے نکلنے کا نام ہی نا لیتا۔۔۔ وہ دل ہی دل کئ مرتبہ وہاج خانزادہ کی مشکور ہو چکی تھی جو وہ اس روز وہاں نا ہوتا تو ناجانے کیا بنتا۔۔۔
اسنے علایہ کے کہے کا مان رکھا تھا۔۔۔ اسنے اس بات کی بھنک بھی مرتسم تک پہنچنے نا دی تھی۔۔۔ دل کہیں اندر سے اسکا قدردان ہوا تھا۔۔۔ ورنہ وہ اور مرتسم اتنے بہترین دوست تھے کے شاید ہی انکی زندگیوں میں کسی چیز کا پردہ ہوتا۔۔۔
لیکن وہ دوبارہ کبھی زندگی میں وہاج خانزادہ سے ملنا نہیں چاہتی تھی۔۔۔ وہ دعا گو تھی کہ کبھی اسکا سامنا وہاج سے نا ہو۔۔۔ جس حالت میں وہ اسے دیکھ چکا تھا شاید ہی وہ کبھی اسکے سامنے سر اٹھا پانے کی ہمت کر پاتی۔۔۔ 
*****
مرتسم لودھی ابھی ابھی علایہ کے کمرے سے اٹھ کر اپنے کمرے میں آیا تھا۔۔۔ جب سے وہ بیمار ہوئی تھی سب رات میں اسکے کمرے میں جمع ہو جاتے۔۔  بابا ماں مرتسم حتکہ فاہا بھی اور کبھی کبھار تو پریہا بھی انہیں جوائن کر لیتی۔۔۔ کچھ دیر وہیں اکھٹے بیٹھ کر وہ علایہ کا دھیان بٹاتے۔۔۔ کبھی مرتسم کوئی چٹکلا چھوڑ دیتا تو کبھی ماں اور بابا اسکے بچپن کا کوئی قصہ شروع کر دیتا۔۔۔
اس بیماری نے اسے بہت کمزور کر دیا تھا یہ ہی وجہ تھی کے وہ بہت کم کمرے سے نکلتی اسی لئے وہ سب اسکے پاس ہی اکھٹے ہو جاتے۔۔۔
ان دنوں وہ اپنوں کی اپنائیت اور محبت بہت اچھے سے محسوس کر رہی تھی۔۔۔ اب بھی مرتسم ابھی ابھی اٹھ کر اپنے کمرے میں آیا تھا۔۔۔
ابھی وہ بستر پر نیم دراز ہوا ہی تھا کے موبائل کی بیل نے اسکی توجہ اپنی جانب مبذول کروائی اسنے موبائل نکال کر سکرین پر جگمگاتا نام دیکھا۔۔۔
فون وجی کا تھا۔۔۔
خیریت وجی۔۔۔ اس وقت فون کیا۔۔۔ وہ فون کان سے لگاتے اٹھ بیٹھا۔۔۔
سر آپکو ایک اہم خبر دینی تھی کے  زبیر لغاری کی ضمانت ہو گئ ہے۔۔۔
کیاااااا۔۔۔ ایئر پیس سے ابھرتی آواز سن  مرتسم کو شاک لگا۔۔۔
کیس اتنا ہلکا بھی نا تھا کے یوں ضمانت ہو جاتی۔۔۔ مخالف پارٹی خاصی سٹرانگ تھی۔۔۔
جی سر۔۔ بہت جلد ضمانت کینسل ہونے کے چانسز ہیں۔۔۔ اسی لئے انہوں نے ابھی یہ بات خفیہ رکھی ہے۔۔۔ دراصل اسکی ضمانت چند دن پہلے ہی ہوگئ تھی۔۔ مجھے ہی اپنے ذرائع سے آج پتہ چلا۔۔۔۔

ائیر پیس سے آواز ابھر رہی تھی۔۔۔ لیکن مرتسم لب چباتا کسی گہری سوچ میں گم تھا۔۔۔۔
زبیر لغاری اگر ضمانت پر تھا تو اسے محتاط رہنے کی ضرورت تھی۔۔۔ وہ پلٹ کر وار ضرور کرتا ۔۔۔ اور مرتسم کو توڑنے کے لئے اس جیسے گھٹیا شخص کا ٹارگٹ کون ہوتا وہ باخوبی جانتا تھا۔۔۔
وہ ڈائریکٹ مرتسم پر ہاتھ بہت سوچ سمجھ کر ڈالتا اور اپنے بارے میں وہ فکر مند تھا بھی نہیں۔۔۔ وہ تو اپنے سے وابسطہ رشتوں کو لے کر فکرمند تھا۔۔۔
ابھی ٹائم بہت ہو گیا تھا۔۔ اب جو کرنا تھا صبح ہی کرنا تھا۔۔۔
*****
صبح مرتسم کی آنکھ معمول سے بہت پہلے کھل گئ تھی۔۔۔ رات بھی اسے اچھے سے نیند نہیں آئی لیکن صبح ہوتے ہی وہ ایک فیصلے پر پہنچ چکا تھا۔۔۔
مسجد میں باجماعت نماز ادا کرنے کے بعد مارنینگ واک کر کے وہ گھر واپس آیا۔۔۔
آکر فریش ہوا اور نکھرا نکھرا سا کمرے سے باہر نکلا۔۔۔ اسکا رخ فاہا کے کمرے کی جانب تھا۔۔۔۔
اسکے ادھ کھلے دروازے پر رک کر اسنے دروازے پر دستک دی۔۔۔
فاہا لانگ فراک اور ٹائٹس میں ملبوس سٹڈی ٹیبل پر جھکی کچھ کر رہی تھی۔۔۔
آنچل ایک کندھے پر لہرا رہا تھا جبکہ بال ہاف کیچر میں ملبوس تھے۔۔۔
آہٹ پر پلٹی۔۔ اور مرتسم کو دیکھ کر آنچل سر پر جمانے لگی۔۔۔
وہ دروازہ دھکیل کر اندر آگیا۔۔۔
فاہا کافی وقت ہو گیا تم حویلی چچا جان سے ملنے نہیں گئ۔۔۔ اسنے بلا تمہید بات کا آغاز کیا۔۔۔۔
جی۔۔۔ فاہا نے اسکی تاکید کی کیونکہ ایسا ہی تھا۔۔۔ اب تو بابا کو وہ بھی مس کرنے لگی تھی۔۔ بلاشبہ فون پر روز ہی بات ہو جاتی لیکن فون پر بات کرنے میں وہ مزہ کہاں تھا جو آمنے سامنے ملاقات میں ہوتا۔۔۔
تو تم کچھ دنوں کے لئے انکے پاس حویلی ہو آو۔۔۔ ڈرائیور تمہیں وہاں چھوڑ آئے گا۔۔۔
فاہا نے سمجھ کر سر ہاں میں ہلایا۔۔۔
اور ہاں۔۔۔ بات مکمل کر کے جاتا جاتا وہ پلٹا۔۔۔
آج یونی مت جانا۔۔۔ بس سیدھا حویلی ہی جانا۔۔۔ وہ تاکید کرنا نا بھولا تھا۔۔۔ 
جی ٹھیک۔۔۔ اسنے تابعداری سے سر ہاں میں ہلایا۔۔
مرتسم کمرے سے نکل گیا۔۔۔
جبکہ اسکے جاتے ہی وہ بیڈ پر ڈھنے کے انداز میں بیٹھتی گہری سانس خارج کر گئ۔۔۔
یہ شخص جب بھی سامنے آتا تھا قوت گویائی ہی صلب کر لیتا تھا۔۔۔ اب بھی الفاظ منہ میں ہی دم توڑ گئے تھے کے آج اسائمنٹ جمع کروانے کی آخری تاریخ ہے اس لئے آج یونیورسٹی جانا لازمی ہے۔۔۔ وہ ایک حسرت زدہ نگاہ سٹڈی ٹیبل پر موجود اسائمنٹ کو دیکھ کر رہ گئ۔۔۔ اگر حویلی جاتے جاتے وہ اسائمنٹ جمع کروا جائے تو۔۔۔ وہ اپنے دماغ میں جوڑ توڑ کرنے لگی تھی۔۔۔
******
ماہرہ جب سے واپس گھر آئی تھی بستر پر اونڈھے منہ لیٹی سرہانے میں منہ گھسائے ہوئے تھی۔۔۔
فائز کی باتوں نے اسے ہرٹ کیا تھا۔۔ اتنا کے شاید ہی وہ لفظوں میں بیاں کر پاتی۔۔۔ وہ جتنا یہاں ایڈجسٹ ہو کر فائز کے سنگ اپنی زندگی آسان بنانا چاہتی تھی فائز اتنی ہی اسکی ہمت توڑ رہا تھا۔۔۔
اسکا یہ رویہ ماہرہ کی سمجھ سے پڑے تھا۔۔۔ شادی سے پہلے تو یہ سب سمجھ میں آتا تھا لیکن ایک مضبوط اور پاکیزہ رشتہ بن جانے کے بعد بھی۔۔۔
دل میں جیسے انی سی گڑھ گئ تھی۔۔۔ اسے رہ رہ کر فائز پر غصہ آ رہا تھا۔۔۔
وہ اسکی اس روز روز کی جہد پر ایک پل میں پانی پھیر چکلا تھا۔۔۔
یہ سب آسان نہیں تھا۔۔۔ لگزری زندگی سے نکل کر ایک عام سے زندگی گزارانا۔۔۔
چوبیس چوبیس گھنٹے ایئر کنڈیشن میں رہنے والی ہل کر پانی کا گلاس تک نا اٹھانے والی۔۔۔ کچن میں کھڑے کام کرتے کرتے پسینہ پسینہ ہو جاتی۔۔۔ گرمی کی شدت کے باعث دل بری طرح گھبرانے لگتا۔۔۔ وہ دن میں ناجانے کتنی مرتبہ شاور لیتی۔۔۔وہ کھلے ماحول کی عادی تھی کئ ہزار گز پر مشتمل بنگلوں میں رہنے والی اس مختصر سے فلیٹ میں مطمیں تھی۔۔۔ دل زیادہ گھبراتا تو ٹیرس پر نکل آتی۔۔۔
ایڈجسٹ ہونے میں دقت تو ہو رہی تھی مگر وہ خندہ پیشانی سے خود کو اس ماحول میں ڈھال رہی تھی۔۔۔ وہ اسکی ان سب کاوشوں کو اپریشیٹ نا بھی کرتا لیکن اسکی ہمت بھی نا توڑٹا۔۔۔ وہ کوئی راہ چلتی تو نہیں۔۔۔ بیوی ہے اسکی۔۔۔
آج اسے فائز کی حرکت پر بہت غصہ تھا۔۔۔ بہت بہت غصہ۔۔۔ کئ طرح کے وسوسے اسے ستا رہے تھے۔۔۔ کیا وہ اسکے ساتھ نہیں رہنا چاہتا۔۔۔ کیا وہ اس سے جان چھڑوانا چاہتا ہے۔۔۔۔
سو طرح کے وسوسے اسکی جان نچوڑ رہے تھے۔۔۔ 
دفعتاً فلیٹ کا دروازہ کھلنے کی آواز سنائی دی۔۔۔ وہ ہنوز ویسے ہی لیتی رہی۔۔۔ اس وقت اپنے محبوب شوہر کی شکل دیکھنے کا بھی دل نہیں چاہ رہا تھا۔۔۔
کچھ دیر بعد وہ کمرے کا دروازہ وا کر کے اندر داخل ہوا۔۔۔ کمرا نیم تاریک اور خنک تھا۔۔۔
وہ اسے بستر پر اوندھے منہ لیتی دکھائی دے گئ۔۔۔ صبح والے لباس میں ہی ملبوس۔۔۔ البتہ آنچل نیچے کارپٹ پر گرا پڑا تھا اور کھلے بال پشت پر پھیلے تھے۔۔۔
ماہرہ۔۔۔ اسنے ہولے سے پکارا۔۔۔
میں آج صبح ہی تمہاری سٹڈی ریک میں موجود ایک اسلامک کتاب پڑھ رہی تھی۔۔۔ وہ بنا سیدھے ہوئے گویا ہوئی۔۔۔ فائز نے لب چباتے آنکھی چندہی کئے اسے دیکھا جیسے اس بات کا مفہوم سمجھنا چاہا ہو۔۔۔
اس میں لکھا تھا کے ایک بیوی کے لئے شوہر کا مقام مجازی خدا کا ہے۔۔۔ یو نو ورچوئل گاڈ۔۔۔ وہ ہنوز گویا تھی۔۔۔
اس لئے میرے مجازی خدا تم سے مودبانہ گزارش ہے کے اس وقت اس کمرے سے تشریف لے جاو۔۔۔ ورنہ میں. اتنے غصے میں ہوں کہ تمہارا سر پھاڑ کر خوامخواہ اپنے نامہ اعمال میں گناہوں کی تعداد بڑھوا سکتی ہوں۔۔۔ آرام سے سے بات کرتی آخر پر وہ چٹخی۔۔۔ 
ایک ہلکی سی مسکراہٹ نے فائز کے لبوں کا احاطہ کیا۔۔۔
دیکھو ماہرہ میری بات سنو۔۔۔
آئی سید گو۔۔ اس سے پہلے کے وہ مزید کچھ بولتا اسنے غصے سے سیدھے ہو کر سائیڈ ٹیبل سے لیمپ اٹھا کر اسکے قدموں میں زور دار انداز میں پٹخا۔۔۔
فائز اچھل کر دو قدم پیچھے ہٹا اور اچھنبے سے اسے دیکھا۔۔۔
وہ  سرخ سوجھی متورم آنکھیں اور غصے سے لال بھبھوکا چہرا لئے بستر سے اتری۔۔۔
فائز ساکت سا اسے دیکھ کر رہ گیا۔۔۔ وہ غالباً تب سے رو رہی تھی جب سے گھر آئی تھی۔۔۔ دل پر یکدم ہی بوجھ بڑھا۔۔۔
کیا۔۔۔ کیا چاہتے ہو تم فائز علوی۔۔۔ آج کھل کر میرے سامنے آ ہی جاو۔۔۔ کس چیز کا بدلہ لینا چاہتے ہو مجھ سے۔۔۔ کیا۔۔۔۔ میرا گناہ کیا ہے آخر۔۔۔ اس کے سامنے داست سوال دراز کئے کوئی بھوکی شیرنی ہی کھڑی تھی۔۔۔ شرارے اگلتی ہوئی پھولی سانسوں سمیٹ۔۔۔
تماشہ دیکھنا چاہتے ہو میری بے بسی کا۔۔۔ ہمت توڑنا چاہتے ہو میری۔۔۔ کے دیکھتا ہوں یہ کیسے سروائیو کرتی ہے میرے ساتھ۔۔۔ غصے سے چٹختے اعصاب کے ساتھ اسنے کپکپاتے ہاتھ سے اپنی جانب اشارہ کیا۔۔۔
یہ کام غیروں کا تھا فائز۔۔۔ یہ دنیا دیکھنا چاہتی تھی کے ماہرہ فائز کیساتھ کیسے گزارا کرتی ہے۔۔۔ یہ کام میری ماں کا تھا فائز ۔۔۔ کے میں کب اپنے فیصلے پر پچھتاتی ہوں۔۔۔ وہ سب تو دور رہ گئے۔۔۔ گھر کا بھیدی ہی لنکا ڈھانے لگا۔۔۔۔۔
کوئی اور نہیں۔۔۔ اب میرا اپنا شوہر ہی میری ہمت ٹورے گا۔۔۔ وہ چلائی۔
فائز نے بے طرح ماتھا مسلہ۔۔۔ وہ اتنا شدید ردعمل دے گئ کب سوچا تھا۔۔۔ 
کون ہوں میں فائز علوی۔۔۔ غصے سے کمرے میں چکر کاٹتی وہ واپس اسکی جانب پلٹی۔۔۔ جسے تم بار بار اپنے لفظوں کے نشتروں سے لہولہان کر دیتے ہو۔۔۔
ایم سوری ماہرہ۔۔۔
بھاڑ میں گئ تمہاری سوری یار۔۔۔۔۔ وہ گرجی۔۔۔
یہ تمارا روز کا ہے۔۔۔ تمہارے لئے آسان ہے میرے دل کو چھلنی کر کے یہ ایک بے وقعت سا لفظ بول دینا۔۔۔ کے ماہرہ تو میری محبت میں پاگل ہے۔۔۔ تھوڑی نا اسکے پاس اس معاملے میں عزت نفس ہے ۔۔۔
جتنا مرضی ذلیل کر لو بعد میں ایک لفظ سوری بولو اور بات ختم۔۔۔
اس روز بھی تم نے یونہی کیا تھا۔۔۔ وہ بھرائی آواز میں کہتی اسکی جانب پلٹی۔۔۔ مجھے ۔۔۔ مجھے رسوا کر کے۔۔۔
بے غیرت بے حیا اور ناجانے کیا کیا کہہ کر فلیٹ سے نکالا۔۔۔ 
میں بھول گئ فائز۔۔۔ میں تمہاری دل چھلنی کرتی وہ باتیں بھی بھول گئ ۔۔ کے وہ سب تم نے مام کی وجہ سے کیا انکی غلط باتوں کی وجہ سے کیا۔۔۔
مگر اب۔۔۔ تمہارے آج کے ردعمل کا کیا مطلب لوں میں۔۔۔ جان چھڑوانا چاہتے ہو مجھ سے۔۔۔ نکالنا چاہتے ہو اپنی زندگی سے۔۔
بیوی ہوں تمہاری۔۔۔ تمہاری نظروں میں کیا اہمیت ہے میری۔۔۔ وہ اسے دھکا دیتی چلائی۔۔۔
فائز میں پافل ہو جاوں لگی۔۔۔ تم جان بوجھ کر مجھے مینٹلی ٹارچر کر رہے ہو۔۔۔
فائز نے لبوں پر زبان پھیرتے بے بسی سے اسکی بازو تھامنی چاہی جب وہ جھٹکے سے اس سے اپنا بازو چھڑواتی پیچھے ہٹی۔۔۔
تمہیں میری زمہ داری نہیں اٹھانی مت اٹھاو۔۔۔ تمہیں بابا سے جہیز لینا نہیں منظور۔۔۔ میں نہیں لوں گی ان سے کچھ۔۔۔
خود جاب کر لوں لگی۔۔۔ تم پر بوجھ نہیں بنوں لگی۔۔۔ خود اپنا خرچ اٹھا لوں گی لیکن تمہیں خدا کا واسطہ ہت۔۔۔ بے بس انداز میں کہتی وہ زوردارانہ انداز میں اسکے سامنے ہاتھ جوڑ گئ۔۔۔ خدا کا واسطہ ہے وہ سب دوبارہ میرے سامنے کبھی مت دہرانہ جو سب تم نے آج مجھ سے کہا۔۔۔
باوجود ضبط کے بھی آنسو آنکھوں سے چھلک پڑے تھے۔۔۔
فائز نے جھٹکے سے اسے اپنی جانب کھینچتے اسے خود میں بھینچا یوں کہ وہ پھرپھڑا کر رہ گئ۔۔۔ لیکن جلد ہی مزاحمت ترک کر کے اسکے حصار میں شدت سے رو دی۔۔۔
یہ محبت بہت بری چیز ہے فائز۔۔۔ بہت خوار کرواتی ہے۔۔۔ بالخصوص تب جب محبوب تمہارے جیسا ظالم ہو تو۔۔۔
مجھے میرا قصور تو بتا دو۔۔۔ کیا یہ ہی کے تم سے محبت کرنے کی قصور وار ٹھہری ہوں۔۔۔ وہ اسکے حصار میں قید اسی سے اسکی شکایتیں کر رہی تھی۔۔۔۔۔
فائز نے دقت سے ایک سانس خارج کی۔۔۔ وہ خاموشی سے اسکا سر سہلا رہا تھا۔۔۔
کافی دیر تک رو چکنے کے بعد وہ زرا سمبھل کر سیدھی ہوئی۔۔۔
جاو فریش ہو کر آو شاباش۔۔۔۔ وہ اسکے بال کان کے پیچھے اڑستا یوں گویا ہوا جیسے بات ہی کوئی نا ہو۔۔۔ 
ماہرہ اسے شکوہ کنان نگاہوں سے دیکھتی واش روم میں چلی گئ۔۔۔
کچھ دیر بعد واپس آئی تو فائز اسے صوفے پر بیٹھا ملا۔۔۔
اسنے خاموشی سے کمرے سے نکلنا چاہا جب وہ اسکا بازو تھام کر اسے اپنے پاس لایا۔۔
بیٹھو یہاں۔۔  وہ اسے شاکی انداز میں دیکھتی نڑوتھے پن سے بیٹھی۔۔۔
وہ پتہ نہیں اتنا نارمل کیسے رہتا تھا۔۔۔
میرے کہنے کا وہ مطلب باکل نہیں تھا ماہرہ جو تم سمجھی میں۔۔۔
ہاں میں پاگل جو ہوں۔۔۔ اس لئے۔۔۔ اس سے پہلے کے وہ پھر سے بھڑکتی فائز نے نرمی سے اسکا چہرا اپنے ہاتھوں کے پیالے میں بھرا۔۔۔
ریلیکس یار۔۔۔ اتنا غصہ مت کرو۔۔۔ 
وہ لب بھینچ گئ۔۔  نظروں کا رخ تک موڑ گئ۔۔۔
بس میں اپنی فیلنگز خود نہیں سمجھ پایا۔۔۔  تمہیں کبھی یوں چھوٹی چھوٹی باتوں پر کمپرومائز کرتے خوار ہوتے نہیں دیکھا تھا شاید اسی لئے۔۔۔۔ خیر۔۔۔۔ یہ میں نے تمہارے لئے شاپنگ کی ہے تم دیکھ لو اور قبول کرنا۔۔۔ کیونکہ میں نے پہلی دفعہ لیڈیز شاپنگ کی ہے۔۔۔ وہ ہلکا سا مسکرایا اور پاس پڑے شاپنگ بیگز کی جانب اشارہ کرتا کندھے اچکا گیا۔۔۔
ماہرہ نے کن اکھیوں سے شاپنگ بیگز کی جانب دیکھا جنہیں پہلے وہ غصے کے باعث دیکھ نہیں پائی تھی۔۔۔
پھر ہر جھگڑا بالائے طاق رکھے اٹھی اور شاپنگ بیگز اٹھا کر وارڈروب میں رکھنے لگی۔۔۔
ارے دیکھ تو لو۔۔۔ وہ معتجب ہوا۔۔۔
میرے کنجوش شوہر نے ناجانے کیسے حوصلہ نکال کر میرے لئے پہلی مرتبہ شاپنگ کی ہے اور اس وقت میرا دماغ اتنا خراب ہے کے میں اسے دیکھ کر بالکل اتنا خوش نہیں ہو پاوں گی جتنا کے مجھے ہونا چاہیے۔۔۔ اس لئے میں یہ سب ریلیکس مائنڈ کے ساتھ تنہائی میں دیکھوں گی۔۔۔
وہ  نڑوتھے پن سے کہتی شاپنگ بیگ رکھ کر وارڈروب کا پٹ بند کر گئ۔۔۔
سوری بول تو رہا ہوں۔۔۔ اسنے بھنور مسلی۔۔۔
اور مجھے تمہاری سوری سے کوئی مطلب نہیں۔۔۔
وہ اسکے پاس سے گزرتی باہر نکلنے کو تھی۔۔۔۔۔
اچھا چائے تو پلا دو۔۔۔ 
کس خوشی میں۔۔۔ وہ جاتے جاتے پلٹی اور لڑاکا انداز میں کمر پر ہاتھ رکھتی گویا ہوئی۔۔
ساری دوپہر رو کر بھوکے رہ کر میں نے گزاری۔۔۔ بھوک سے چکر آ رہے ہیں اور پیٹ میں چوہے ڈور رہے ہیں اور چائے میں تمہیں پلاوں۔۔۔
وہ تیکھے چتونوں سمیٹ گویا ہوئی۔۔۔ فائز کو پھر سے پشیمانی نے گھیرا۔۔۔۔۔
بھوک تو مجھے بھی لگی ہے۔۔ کھایا تو میں نے بھی کچھ نہیں۔۔۔
چلو آو ہماری صلح کی خوشی میں مل کر کھانا بناتے ہیں۔۔۔
وہ صلح جو انداز میں کہتا اٹھ کر اسکے ساتھ ہی باہر آیا۔۔۔
اور ہماری صلح ہوئی کب۔۔۔ اسکے انداز ابھی بھی بگڑے تھے۔۔۔ 
ہوئی نہیں تو کھانا بناتے بناتے ہو جائے لگی۔۔۔ آفٹرآل میری ماہرہ اپنے فائز سے زیادہ دیر تک ناراض نہیں رہ سکتی نا۔۔۔ اسنے دلکشی سے کہتے اسکے کندھے سے کندھا ٹکرایا۔۔۔
انداز اتنا دلکش تھا کے ماہرہ کے دل نے ایک بیٹ مس کی۔۔۔
فارگرانٹڈ لیتے ہو نا مجھے فائز۔۔۔ اگر کبھی نا رہی تو میری اہمیت پتہ لگے لگی۔۔۔ وہ  منہ بسور کر کہتی کیبنٹ کھولنے لگی۔۔۔
اللہ نا کرے ماہرہ کتنا فضول بولتی ہو۔۔۔ وہ دہل کر گویا ہوا۔۔۔
میں فضول بولتی ہوں اور جو تمہارے منہ سے پھول جڑتے ہیں وہ۔۔۔
بس اتنا غصہ نہیں کرتے۔۔۔ فائز نے اسکا ناک دبایا تو وہ بھی ہولے سے مسکرا دی۔۔۔
*****

No comments

Powered by Blogger.
4