Roshan Sitara novel 36th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Roshan Sitara novel 36th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Roshan Sitara is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels
Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front
of the world and improve their abilities in that field.
Roshan Sitara Novel by Umme Hania | Roshan Sitara novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Roshan Sitara novel by Umme Hania Complete PDF download
Online Reading
ناول "روشن ستارا"۔
مصنفہ "ام ہانیہ"۔
Official pg : Umme Hania official
چھتیسویں قسط۔۔۔
علایہ کی طبیعت میں کوئی خاطر خواہ افاقہ نہیں ہوا تھا۔۔۔ مرتسم اور ماں ساری رات ہی ہسپتال میں رہے ۔۔۔ صبح ہوتے ہی لودھی صاحب بھی اپنے سبھی کام پس پشت ڈال وہاں آ پہنچے۔۔۔۔بھلا اکلوتی بیٹی سے بھی بڑھ کر کچھ تھا۔۔۔
فاہا کو جب صبح اٹھ کر رات ہوئے واقعے کا پتہ چلا تو وہ بھی ہر کام بلائے طاق رکھے پہلی فرصت میں ڈرائیور کے ہمراہ ہسپتال جا پہنچی۔۔۔
رات وہ جلدی سو گئ تھی اور ناہید بیگم کو بھی اس وقت سوجھ کچھ نہیں رہا تھا اس لئے انہوں نے علایہ کو ڈرائیور کے ہمراہ ہسپتال لانے کی کی۔۔۔ یہ ہی وجہ تھی کہ فاہا ہر بات سے بے خبر تھی۔۔۔
تائی جان علایہ کیسی ہے اب۔۔۔ وہ وہاں پہنچ کر ریسیپشن سے پوچھتی اسی کمرے میں آئی۔۔ جہاں علایہ ابھی بھی بے سدھ پڑی تھی جبکہ ماں اور مرتسم وہیں صوفے پر بیٹھے تھے۔۔۔
اندر داخل ہوتے ہی فاہا پریشانی سے مستفسر ہوئی۔۔۔۔
کس کے ساتھ آئی ہو۔۔۔۔ مرتسم اسکی بات نظر انداز کئے گویا ہوا۔۔۔ اتنے سنجیدہ حالات میں بھی وہ خود سے وابسطہ رشتوں کی فکر میں ہلکان تھا۔۔۔
ڈرائیور کے ساتھ۔۔۔
وہ آہستگی سے کہتی تائی جان کے پاس آ کر بیٹھی تو وہ اسکے گلے لگتیں سسک اٹھیں۔۔۔
رات سے وہ یونہی وقفے وقفے سے آنسو بہا رہی تھیں۔۔۔ لاڈلی بیٹی کی ایسی حالت گمان سے پرے تھی۔۔۔ ہاتھ سیدھا دل پر پڑاتھا۔۔۔
حوصلہ رکھیں تائی جان۔۔۔ سب ٹھیک ہو جائے گا۔۔
مجھے تو آپکی طبیعت بھی ٹھیک نہیں لگ رہی۔۔۔ آپ پلیز گھر چلی جائیں ۔۔۔ میں ہوں یہاں علایہ کے پاس۔۔۔ اسے جیسے ہی ہوش آیا آپ واپس آ جانا۔۔۔ ابھی آپ رات سے یہاں ہیں ایسے تو آپکی اپنی طبیعت بھی بگڑ جائے لگی۔۔۔ وہ انکی سرخ متورم چڑھی ہوئی آنکھیں دیکھ کر ہمدردانہ گویا ہوئی۔۔۔
تائئ جان خود ہائی بلڈ پریشر کی مریضہ تھیں۔۔۔
میرے خیال سے فاہا ٹھیک کہہ رہی ہے ماں۔۔۔ آپکو گھر چلے جانا چاہیے۔۔۔ کچھ دیر آرام کر کے آپ واپس آ جانا۔۔۔ تب تک میں بھی یہیں ہوں۔۔۔۔
مرتسم بامشکل انہیں قائل کر کے گھر بھیج پانے میں کامیاب ہوا تھا۔۔۔
جیسے جیسے قریبی رشتہ داروں کو علایہ کی طبیعت کا پتہ چل رہا تھا لوگ عیادت کو آ رہے تھے۔۔۔ حتکہ وہاج خانزادہ کے والدیں مسٹر اینڈ مسز خانزادہ بھی اسکی عیادت کو آ چکے تھے۔۔۔ سارا دن ہی مرتسم اور فاہا عیادت کو آنے والوں سے ملتے رہے تھے۔۔۔۔
مسٹر لودھی بھی درمیان میں ہسپتال کا چکر لگاتے رہے ۔۔۔ شام ہوتے ہی ماں واپس ہسپتال لگی۔۔۔انہیں گھر میں چین کہاں تھا بھلا۔۔۔ ہسپتال آتے ہی انہوں نے فاہا کا خیال کرتے اسے گھر بھیج دیا۔۔۔
اللہ اللہ کر کے اگلی رات کو کہیں چوبیس گھنٹے بعد علایہ کو ہوش آیا۔۔۔ لیکن اسکی حالت ابھی بھی نازک تھی۔۔۔۔
*****
ماہرہ وارڈروب کے دونوں پٹ وا کئے اسکے سامنے کمر پر ہاتھ ٹکائےجانچتی نگاہوں سے اپنی وارڈروب کو دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
فائز کے اسے اتنی نرمی سے سمجھانے پر اسکی ہر بات دل پر ٹھاہ کر کے لگی تھی۔۔۔۔
اس روزکے بعد سے فائز نے دوبارہ اس موضوع پر کوئی بات نا کی تھی کیونکہ وہ خود باہر جاتے وقت دوپٹے کا خاص خیال رکھنے لگی تھی۔۔۔
لیکن اب جیسے جیسے اسکی بات کی گہرائی میں جاتی جا رہی تھی اسکی جستجو بڑھتی جا رہی تھی۔۔۔
نماز قرآن وہ پہلے بھی پڑھتی تھی لیکن فائز کی جیسے باقاعدگی سے نہیں۔۔ کبھی پڑھ لی۔۔۔ کبھی چھوڑ لی۔۔۔دل کیا پڑھی دل نا کیا تو نا پڑھی۔۔۔ تھوڑی نا کوئی روک ٹوک تھی اور نا کسی نے اس معاملے میں سختی کی ۔۔۔ حتکہ اگر کبھی خود سے بھی فائز کی دیکھا دیکھی باقاعدگی اپنانی چاہی تو شادی سے پہلے ایکٹیویٹز ہی اتنی تھی کے باقاعدگی بن ہی نا پاتی۔۔۔
کبھی دوستوں کے ساتھ گیٹ ٹو گیڈر۔۔۔ کبھی شاپنگ کبھی آوٹنگ۔۔۔۔
لیکن شادی کے بعد تو پراریٹیز گویا جیسے سرے سے بدل ہی گئ تھیں۔۔۔
اسکا شوہر اسکا گھر۔۔۔ اور اس گھر کو سنوارنا سجانا۔۔۔۔
گھر سے یونیورسٹی اور یونیورسٹی سے گھر۔۔۔ اور اس زندگی میں وہ بہت خوش اور مطمئیں تھی۔۔۔ گھر کا کونا کونا سجاتی سنوارتی اورفائز کے لئے مختلف ڈشز بناتی۔۔۔
اس لئےاب فراغت ہی فراغت تھی۔۔ نمازوں میں باقاعدگی آنے لگی تھی۔۔۔ راستے بننیں شروع ہوئے تو اسلام سے زیادہ خوبصورت مذہب کوئی لگا ہی نا۔۔۔۔ وہ خود بخود اپنے رب کی جانب کھنچنے لگی۔۔۔ اوریہ سب بہت نامحسوس انداز میں ہوا تھا۔۔۔ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتے۔۔۔
نمازیں پڑھتے پڑھتے وہ قرآن کی باقاعدگی سے تلاوت کرنے لگی پھر فائز کے سٹڈی ریک سے چھوٹی چھوٹی اچادیث کی کتابیں پڑھنے لگی۔۔۔ ذہن بدلنے لگا تو گویا پوری دنیا ہی بدلنے لگی۔۔۔ سوچ کو ایک نیا انداز ملا تھا۔۔۔
اور اب اسے جو سب سے پہلا کام کرنا تھا وہ اپنی وارڈروب تبدیل کرنی تھی۔۔۔۔ اسی غرض سے وہ اب وارڈروب کھولے کھلی تھی۔۔۔
ٹراوزر شرٹ۔۔ کیپری اور شارٹ شرٹس۔۔۔ نیٹ کے دوپٹے۔۔ نیٹ کی آستینیں۔۔۔ وہ ایک کے بعد ایک ڈریسز ریجیکٹ کر رہی تھی۔۔۔ تھک ہار کر وہیں سر تھام کر بیٹھ گئ۔۔۔
کوئی ایک بھی سوٹ ایسا نا ملا جو دل کی دنیا بدلنے کے بعد اب دل کو لگتا۔۔۔
غصے سے فون اٹھاتے اسنے ڈرائیور کا نمبر ملانا شروع کیا۔۔۔ ارادہ شاپنگ پر جانے کا تھا۔۔۔
پھر کچھ یادآنے پر یکدم رکی۔۔۔موبائل سر پر مارتے خود کو کوسا۔۔۔ اور ڈرائیور کا نمبر کاٹ کر فائز کا ملانے لگی۔۔۔
وہ بھول گئ تھی کے اب وہ شادی شدہ ہے۔۔۔ اسے ڈرائیور کو نہیں اپنے شوہر کو کال کرنی تھی۔۔۔ اور اب وہ پہلے کی طرح بے دریغ شاپنگ نہیں کر سکتی تھی۔۔۔ اسے بہت سوچ سمجھ کر اپنے شوہر کے بجٹ کا خیال رکھتے شاپنگ کرنی تھی۔۔۔
اسنے نمبر ملا کر فون کان سے لگایا۔۔۔ دوسری جانب بیل جا رہی تھی۔۔۔
کہاں ہو فائز۔۔ رابطہ استوار ہوتے ہی وہ گویا ہوئی۔۔۔
ہاں وہ دراصل مجھے شاپنگ کرنے جانا تھا۔۔۔ تو اگر تم فری ہو تو آ جاو۔۔۔ کچھ چیزیں لینی ہیں۔۔۔ وہ ایک ہاتھ سے فون کان کو لگائے دوسرے سے گردن سہلاتی لب چبا رہی تھی۔۔
ٹھیک ہے میں انتظار کر رہی ہوں۔۔۔
بات مکمل کر کے وہ فون کاٹ گئ۔۔۔۔
****
کچھ ہی دیر میں فائز وہاں موجود تھا۔۔۔۔ ماہرہ تیار ہی کھڑی تھی اسے دیکھ جھٹ سے باہر نکلی۔۔۔ فائز نے ایک نظر اسکا تفصیلی جائزہ لیا وہ نیلے اور اورینج کلر کے پرنٹڈ سوٹ پر گولڈن آنچل اوڑھے ہوئے تھی جو اس سوٹ کے ساتھ کا تو بالکل نہیں تھا۔۔۔ نا ہی وہ کسی صورت اس سے میچ ہو رہا تھا۔۔۔فائز حیران ہوا۔۔۔ کب وہ بھلا پہلے یوں باہر نکلی تھئ۔۔۔
چلیں۔۔۔ ماہرہ نے اسے وہیں کھڑے دیکھ مصروف سے انداز میں ہینڈ بیگ کی زپ بند کرتے پوچھا۔۔۔
یوں۔۔۔ اسنے آنکھ سے ماہرہ کی جانب اشارہ کیا۔۔۔ انداز میں الجھن تھی۔۔۔
ہاں نا اس سوٹ کے ساتھ کا آنچل نیٹ کا ہے۔۔۔ اور جب ہے ہی نیٹ کا تو سر پر اوڑھنے کا فائدہ تبھی تو یہ ہی لے لیا۔۔۔ وہ شانے اچکا کر کہتی فلیٹ سے نکلی۔۔۔ فائز نے بھی اسکی تقلید کی۔۔۔ اندر کہیں ٹھنڈی پھوار کی برسات ہوئی تھی وہ پرسکون ہو گیا۔۔۔
اسکی بیوی اسکی بات سمجھتی تھی۔۔۔ اسکے کہے کا مان رکھتی تھی۔۔۔ یہ احساس ہی بہت تسلی بخش تھا۔۔۔۔
خریدنا کیا ہے۔۔۔ بائیک روڈ پر فراٹے بھر رہی تھی ماہرہ اسکے پیچھے بیٹھی فائز کے شانے ہر ہاتھ رکھے ہوئے تھی۔۔۔
کپڑے ہی خریدنے ہیں۔۔۔ باقی سب کچھ تو ہے میرے پاس۔۔۔
روڈ پر ہونے اور بائیک کے شور کے باعث انہیں اونچی آواز میں بات کرنی پر رہی تھی۔۔۔
کچھ ہی دیر میں فائز نے بائیک مال کے سامنے روکی۔۔۔ ماہرہ ہمیشہ شاپنگ وہیں سے کرتی تھی۔۔۔
مجھے اپنا بجٹ بتا دو فائز تاکے میں اسکے مطابق شاپنگ کر سکوں ۔۔ وہ فائز کے ساتھ مال میں داخل ہوئی۔۔۔ وہاں کی رونق اور چکا چوند ہمیشہ کی طرح عروج پر تھی۔۔۔ بے فکری سے ہستے چہرے اور قہقے۔۔۔۔
پہلے تم دیکھ تو لو تمہیں لینا کیا ہے پھر دیکھتے ہیں۔۔۔ فائز کے چہرے پر سوچ اور فکر کی لکیریں واضح ہونے لگیں تھیں۔۔۔
ماہرہ سر ہاں میں ہلاتی کپڑوں کی شاپ میں داخل ہوئی۔۔۔ فائز ایک سائیڈ پر پڑے صوفوں پر بیٹھ کر موبائل پر اپنا کام کرنے لگا جبکہ ماہرہ ڈیمیز اور ریکز پر ڈسپلے ہوئے کپڑے دیکھنے لگی۔۔۔ ایک ڈریس ۔۔۔ دو ڈریس۔۔۔ تین ڈریس۔۔۔۔ اور پھر تقریباً پندرہ منٹ کی خواری کے بعد وہ پھر سے فائز کے سر پر آ پہنچی۔۔۔
فائز نے اچھنبے سے موبائل سے سر اٹھا کر اسے دیکھا۔۔۔
ماہرہ اور شاپنگ اتنی جلدی کر لے۔۔۔
پھر نظر رینگتی ہوئی اسکے ہاتھوں تک گئ وہ خالی تھے۔۔۔
خیریت۔۔۔ اسنے بھنور چکائی۔۔
ہاں خیریت ہی ہے سب۔۔۔ تم چلو۔۔۔ اسنے فائز کا ہاتھ کھینچتے اسے اٹھانا چاہا۔۔۔
ارے بتاو تو صحیح ہوا کیا ہے۔۔۔ وہ اسکے ساتھ شاپ سے نکلتا حیرانی سے مستفسر تھا۔۔۔
کچھ نہیں۔۔۔ مجھے کچھ پسند نہیں آیا۔۔۔ ماہرہ مال میں چاروں جانب نظریں گھماتی ناجانے کیا تلاش کر رہی تھی یا شاید فائز کی بات کو نظر انداز کرنا چاہ رہی تھی۔۔۔
پسند نہیں آیا کچھ یا ٹیگز دیکھ کر نہیں لیا کچھ۔۔۔ وہ لمحے میں بات کی تہہ تک پہنچا تھا۔۔ایک پل کو ماہرہ کے قدم تھمے جب پھر سے چلتی وہ بے نیازی سے شانے اچکا گئ۔۔
صحیح فرمایا آپ نےحترم۔۔۔ کسی لوکل مارکیٹ میں چلو۔۔۔ اب یہ برانڈڈ کپڑے اتنے بھی خاص نہیں کے ان پر میں اپنے شوہر کی حق حلال کی کمائی لٹاتی رہوں۔۔۔ اسکا انداز سادہ تھا۔۔۔
وہ کپڑے خاص ہوں یا نا ہوں لیکن یہ لڑکی اپنے ہر ہر عمل سے اسکے دل میں اپنا خاص مقام ضرور بناتی جا رہی تھی۔۔۔ جتنا وہ اسے نظر انداز کر کے دامن بچانا چاہ رہا تھا اتنا ہی وہ اسکے ہر ارادے پر پانی پھیرتی بلا اجازت ڈھرلے سے دل میں سماتی جا رہی تھی۔۔۔۔ فائز نے پریشانی سے ماتھا مسلہ۔۔۔ کیوں وہ ماموں کو انکار نا کر سکا۔۔۔ کیوں کر لی اسنے یہ شادی۔۔۔ یکدم ہی گویا فضا میں آکسیجن کی کمی ہونے لگی تھی۔۔۔ اسے سانس لینے میں دشواری ہو رہی تھی۔۔۔
اب شاید اس نازک سی لڑکی کو اسکے حوالے سے کوئی دکھ ملتا تو وہ خود بھی سہہ نا پاتا۔۔۔
یہ سب غلط تھا۔۔۔ اس طریقے سے نہیں ہونا چاہتا تھا۔۔۔
اتنا شفاف دل اسکی وجہ سے ٹوٹتا تو وہ کیسے برداشت کرتا۔۔۔۔ وہ بات کرتے مال سے باہر نکل آئے تھے۔۔
کیوں اپنے سٹینڈرڈز پر کمپرومائز کر رہی ہو ماہرہ۔۔۔ یہ گرمی میں پیسنے سے شرابور ہونا۔۔۔ لوکل مارکیٹ کے دھکے کھانا۔۔۔ بائیک کا سفر کرنا۔۔۔ چھوٹی چھوٹی چیزوں کے لئے ترسنا۔۔ یہ سب تمہارے لئے نہیں ہے۔۔۔ فائز کے لہجے میں تھکان تھی۔۔۔ ماہرہ الجھ کر پلٹی۔۔۔ ان باتوں کا مقصد بلا ۔۔۔ وہ اسکا مفہوم سمجھنے سے عاری تھی۔۔۔
میری بات مانو۔۔۔ پلیز ماموں کے پاس واپس چلی جاو۔۔۔ ابھی یہ شادی صیغہ راز ہے۔۔۔ ہم چند سالوں بعد رخصتی کروائیں گئے۔۔۔ تب تک میں بھی اسٹیبلش ہو جاوں گا پھر۔۔۔۔۔لہجے کی تھکان اسکی آنکھوں اور جسم میں بھی سرائیت کرتی جا رہی تھی۔۔۔ وہ یوں اسے بہلا رہا تھا جیسے بڑا چھوٹے بچے کو بہلاتا ہے۔۔۔
ماہرہ نے شاکی نگاہوں سے اسے دیکھ۔۔۔ اسکی نگاہوں کی کاٹ کے باعث فائز کے الفاظ اسکے منہ میں ہی دم توڑ گئے۔۔۔۔
صرف شاپنگ کروانے کے لئے۔۔ صرف اسی کے لئے تم نے مجھے اتنی غلط باتیں سنائیں فائز۔۔۔ وہ بامشکل آواز کی لڑکھراہٹ پر قابو پا رہی تھی۔۔۔
یہ بات نہیں ہے ماہرہ۔۔۔ اسنے بات سمبھالنی چاہی۔۔۔ یہ لڑکی ہمیشہ ہی اسکی توقع سے پرے ردعمل دیتی تھی۔۔۔
تمہیں لگتا ہے کے میں تمہارے برے دنوں کی ساتھی نہیں بن سکتی۔۔۔ آواز میں نمی کی آمیزش گھلنے لگی تھی۔۔۔
تمہیں لگ سکتا ہے فائز علوی۔۔۔ اس میں تمہارا قصور نہیں۔۔۔ کیونکہ تم نے ماہرہ جیسی محبت نہیں کی نا۔۔۔ اسنے گیلی سانس اندر کھینچتے سر نفی میں ہلایا۔۔۔
مجھے نہیں کرنی شاپنگ۔۔۔ مجھے تم سے کچھ بھی نہیں چاہیے۔۔۔ مگر خدا کے لئے یہ فضول بکواس دوبارہ میرے سامنے مت کرتا۔۔۔ ورنہ۔۔۔ باوجود کوشیش کے اسکی آنکھیں بھر آئیں۔۔۔
ورنہ میں خود بھی نہیں جانتی کے میں کیا کر بیٹھوں گی۔۔۔ خاموش آنسو سکی آنکھ سے پھسلا جسے وہ بے دردی سے مسلتی واپس پلٹی۔۔۔ تیز تیز قدم اٹھاتی روڈ کی جانب بڑھی۔۔
ماہرہ رکو۔۔۔ کہاں جا رہی ہو۔۔۔ وہ پریشانی سے اسکی جانب لپکا۔۔۔
جبکہ وہ اسکے خود تک پہنچنے سے پہلے ہی رکشے کو ہاتھ سے رکنے کا اشارہ کرتی خود اس میں بیٹھی۔۔۔ اور اسکے بیٹھتے ہی رکشہ روڈ پر فراٹے بھرنے لگا۔۔۔
فائز کے اتنی غلط باتیں کرنے کے بعد یہ تو طے تھا کے وہ اسکے ساتھ نہیں جانے والی تھی۔۔۔
خود سے بدزن کرنا چاہتے ہو نا فائز علوی۔۔ کرو اپنی کوشیش۔۔۔ دیکھتی ہوں میں بھی تم کہاں تک کامیاب ہوتے ہو۔۔۔
آنسو موتیوں کی لڑیوں کی مانند ٹوٹ ٹوٹ کر پھسل رہے تھے جنہیں وہ بار بار ہاتھ کی پشت سے صاف کر رہی تھی۔۔۔
جبکہ روڈ کنارے کھڑا فائز سر پر ہاتھ پھیرتا آنکھیں ضبط سے بند کر گیا۔۔۔
اسکی چھٹی حس کہہ رہی تھی کے کچھ بہت برا ہونے والا ہے۔۔۔ حالات اسکے ہاتھوں سے نکلتے جا رہے تھے جنہیں قابو کرنے کا اسے کوئی طریقہ سوجھ نا رہا تھا سوائے اسکے کے اپنا پراجیکٹ جلد از جلد مکمل کر کے آفیشلی لانچ کر دیا جاتا۔۔۔
****
شکر اللہ کا میری بچی کو ہوش تو آیا۔۔۔ ڈاکٹر کی اجازت ملتے ہی سب سے پہلے ماں ہی اس سے ملنے کمرے میں داخل ہوئیں۔۔۔
علایہ نقاہت زدہ سی بستر پر آنکھیں موندے لیتی تھی۔۔۔ ہاتھ پر ڈرپ لگی تھی۔۔۔
ماں کی آواز سن کر اسنے آہستگی سے موندھی آنکھیں کھولیں۔۔۔ نظر سیدھی ماں کے پرنور چہرے سے ٹکرائی جو اسکے بال سہلاتیں دیوانہ وار اسکا چہرا چوم رہی تھی۔۔۔
اسکا دماغ ابھی بھی سن تھا۔۔۔ کئ آنسو لیکروں کی مانند کنپتی کی جانب بہتے چلے گئے۔۔۔
اے پگلی روتی کیوں ہے۔۔۔ ماں صدقے۔۔۔ میری بچی کو کچھ نہیں ہو گا۔۔۔
ماں کے پرشفت انداز پر دل مزید بھر بھر آیا۔۔۔
دفعتاً بابا اور مرتسم بھی دروازہ دھکیل کر اندر داخل ہوئے۔۔۔
اے جنگلی بلی۔۔۔ رات سے سولی پر لٹکے ہوئے ہیں ہم اور آنکھ کھولتے ہی میلو ڈرامہ شروع۔۔۔۔ احساس کرو کچھ ہمارا۔۔۔ مرتسم نے اسکی کملائی صورت دیکھ مسکرا کر اسے چھیرا۔۔۔
وہ بھی بہتی آنکھوں سی مسکرا دی۔۔۔
اب کیسی طبیعت ہے میری شہزادی کی۔۔۔ بابا اسکے پاس آئے تو ماں نے اٹھ کر اپنی جگہ ان کے لئے چھوڑی اور خود کچھ فاصلے پر موجود صوفے پر بیٹھ گئیں۔۔۔
بابا نے اسکا سر سہلایا تو وہ انکے ساتھ لگتی پھر سے سسک اٹھی۔۔۔ اتنے پیارے محبت کرنے والے مخلص رشتے تھے اسکے پاس۔۔۔ کیا دنیا میں اس چیز کا کوئی نعمل البدل تھا بھلا۔۔۔ اور انکی موجودگی میں کیا کوئی اسکا کچھ بگاڑ سکتا تھا۔۔۔ دل کو بہت ڈھارس ملی تھی۔۔۔
بابا میں بہت ڈر گئ تھئ۔۔۔۔
مرتسم اسے دیکھ کر ٹھٹھکا۔۔۔۔
ڈر کیوں گیا تھا میرا بیٹا۔۔۔
بابا ہیں نا۔۔۔ اور بھائی بھی۔۔۔ تو ہمارے ہوتے ہوئے میری بیٹی کیوں ڈرے بھلا۔۔۔
مرتسم اسے غور سے دیکھ رہا تھا۔۔۔ کچھ تھا جو اسے بری طرح کھٹک رہا تھا۔۔۔
وہ کس چیز سے خوفزدہ تھی۔۔۔ وہ تو دوست کی برتھ ڈے پر گئ تھی نا۔۔۔ اور جب مرتسم نے اسے فون کیا تب وہ واپس گھر آ رہی تھی۔۔۔ اور گھر آ کر کچھ دیر بعد اسے ماں کا گھبراہٹ بھلا فون آیا تھا۔۔۔ مطکب گھر آنے جے کچھ ہی دیر بعد وہ بے ہوش ہوگئ تھی۔۔۔
کہاں کچھ مسنگ تھا۔۔۔
جو بھی ہوا وہ اسی کچھ دیر میں ہوا جب علایہ گھر سے باہر تھی۔۔۔ پر کیا ہوا۔۔۔ وہ سمجھنے سے قاصر تھا۔۔۔ اور علایہ کی حالت ایسی نا تھی کے اس سے اس وقت ایسی کوئی تفصیلی بات پوچھی جاتی۔۔۔
اس پر پھر سے غنودگی طاری ہونے لگی تھی۔۔۔
بابا نے اسے سوتے دیکھ اسے خاموش رہنے کا اشارہ۔۔۔
موقع کی مناسبت سے اس نے بھی خاموشی میں ہی عافیت جانی۔۔۔ لیکن اندر مسلسل کچھ کھٹک رہا تھا۔۔۔
بھلا ایسا کیا ہوا تھا جس سے اسکی شیرنی اسقدر خوفزدہ ہوگئ۔۔۔
******

No comments