Header Ads

Roshan Sitara novel 35th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels


 

Roshan Sitara novel  35th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels 

Roshan Sitara is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels

Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front 

of the world and improve their abilities in that field.

 Roshan Sitara  Novel by Umme Hania | Roshan Sitara  novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Roshan Sitara  novel by Umme Hania Complete PDF download

Online Reading

 ناول "روشن ستارا"۔

  مصنفہ "ام ہانیہ"۔

Official pg : Umme Hania official

پینتیسویں قسط۔۔۔۔
فائز علوی یونیورسٹی سے واپس گھر آیا تو ماہرہ اسے بہت فریش موڈ میں ملی ۔۔ صبح والی تلخ کلامی کا کہیں کوئی شائبہ تک نا تھا۔۔۔ کھلے سے ٹراوزر اور ہاف سلیو شرٹ میں وہ بالوں کا گول مول سا جوڑا بنائے ہوئے تھی۔۔۔
جلدی سے فریش ہو کر آ جاو فائز میں نے تمہارے لئے وائٹ ساس پاستہ بنایا ہے اور خوشبو اور شکل سے وہ بہتتتتت مزے کا لگ رہا ہے۔۔۔ اس لئےجلدی سے آ جاو اور کھا کر بتاو کیسا بنا ہے۔۔۔ وہ چہکتی ہوئی گویا ہوئی تو فائز اسےدیکھ کر مسکرا دیا۔۔۔ اسکی یہ ہی بات تو اچھی تھی کے دل میں کچھ نہیں رکھتی تھی۔۔۔ دل کی بھراس یونہی نکال کر وہ ہلکی پھلکی ہو جاتی اور بات ہی بھول جاتی۔۔۔
کچھ ہی دیر میں وہ فریش ہو کر کیجول سے ٹروز شرٹ میں ملبوس باہر آیا۔۔۔ گیلے بال ماتھے پر بکھرے تھے۔۔۔ اسکے بیٹھتے ہی ماہرہ جھٹ سے پاستے کا باول اٹھا لائی۔۔۔ پہلے اسے سرو کیا پھر اپنے لئے نکالنے لگی۔۔۔
ہمم۔۔ دیکھنے میں تو اچھا لگ رہا ہے۔۔۔ پریزنٹیشن اچھی ہے۔۔۔ فائز نے چمچ کی مدد سے چیز اور پاستے کو اٹھاتے  ستائشی انداز میں دیکھا۔۔۔
ماہرہ مسکرا دی۔۔۔ کھانے میں بھی بہت مزے کا ہے۔۔۔ اسنے پہلا نولا لیتے ہی دل سے تعریف کی۔۔۔
بہت شکریہ جناب۔۔۔ آپکو پسند آیا مطلب محنت وصول۔۔۔ فائز اوپر صوفے پر بیٹھا تھا جبکہ وہ میز کے اس پار کارپٹ  پرآلتی پالتی مارے بیٹھی تھی۔۔۔ 
تمہارے لئے میں نے کنوینس کا انتظام کر دیا ہے ماہرہ۔۔۔ کل سے تم یونیورسٹی جا سکتی ہو۔۔۔ یونی بس تمہیں یہاں سے پک کر لیا کرے لگی۔۔۔
پاستہ کھاتے وہ یکدم ہی گویا ہوا۔۔۔
ویٹ۔۔۔ویٹ۔۔۔ویٹ۔۔۔ یونی بس کیوں۔۔۔ وہ کھانے سے ہاتھ روکتی اچھنبے سے گویا ہوئی۔۔۔
فائز نے لب بھینچتے سنجیدگی سے اسے دیکھا۔۔۔
ویسے ایک بات تو بتاو۔۔۔ بابا کی اور تمہاری کوئی بات ہوئی تو تم نے انہیں انکار کیوں کیا۔۔۔
وہ پلیٹ واپس میز پر رکھتی مکمل طور پر اسکی جانب متوجہ ہوئی۔۔۔
دیکھو ماہرہ مجھے ماموں جان سے کوئی پیسے نہیں چاہیے۔۔۔
اسکا لہجہ حد سے زیادہ سنجیدہ تھا۔۔۔
کیوں نہیں چاہیے۔۔۔ وہ میرے جہیز کے لئے تھے۔۔۔ میں نے جہیز نہیں لیا تو وہ کیش دے رہے تھے تاکے ہمارے کام آ سکیں۔۔۔
لیکن مجھے نہیں چاہیے۔۔۔ وہ بھی کھانے سے ہاتھ کھینچ چکا تھا۔۔۔
ہر باپ اپنی بیٹی کو جہیز دیتا ہے فائز۔۔۔ وہ کچھ الگ تو نہیں کر رہے۔۔۔ ماہرہ کا انداز قائل کرنے والا تھا۔۔۔
بلاشبہ ہر باپ دیتا ہے۔۔۔ لیکن وہ مجھے پیسے سٹیبل ہونے کے لئے بزنس سٹارٹ کرنے کو دے رہے تھے۔۔۔فائز نے بے چینی سے ماتھا مسلہ۔۔۔
تو اس میں قباحت ہی کیا ہے۔۔ ہمارے پیسے ہم جس بھی مقصد کے لئے اسے استعمال کریں۔۔۔
پلیز ماہرہ۔۔۔ چینج دا ٹاپک۔۔۔ میں اس ٹاپک پر بات نہیں کرنا چاہتا۔۔۔ نا ہی ماموں جان کی کوئی آفر قبول کروں گا۔۔۔ تم واقعی مامی کا کہا سچ ثابت کرنا چاہتی ہو کے میں لالچی ہوں۔۔۔ وہ جو ہمشہ ریلیکس رہتا تھا۔۔ کبھی ٹیمپر لوز نہیں ہونے دیتا تھا۔۔۔ اب اس بات پر تلخی سے گویا ہوا۔۔۔
فار گاڈ سیک فائز۔۔۔ مام کو بے تکا اور بے وقتا بیچ میں مت گھسیٹو۔۔۔ اور انکی وجہ سے ہماری زندگی کے اتنے خوبصورت دن خراب مت کرو۔۔۔ ہر انسان اپنی بات کہنے میں آزاد ہے۔۔۔ ہم کسی کی زبان نہیں پکڑ سکتے۔۔۔ لوگوں کا بس چلے تو لفظوں کے تیروں سے انسان کو چھلنی چھلنی کر دے۔۔۔  اس سے جینے کی امنگ تک چھین لے۔۔ لیکن اللہ نے انسان کو عقل سے بھی تو نوازا ہے نا کے وہ عقل کا استعمال کرتا ان باتوں کے دل چھلنی کرتے تیروں کا اثر قبول کرنے سے انکار کر دے۔۔۔
ہماری زندگیوں کی پراریٹیز کیوں لوگ ڈیفائن کریں۔۔۔ ہم اتنا حق دوسروں کو دے ہی کیوں۔۔۔ پھر چاہے وہ کوئی بھی کیوں نا ہو۔۔۔ 
رہ گئ بات بابا کی آفر قبول کرنے کی تو مجھے اس میں کوئی قباحت نہیں لگتی۔۔۔
میں بیٹی ہوں انکی۔۔۔ حق رکھتی ہوں ان پر۔۔۔ اور ہر باپ اولاد پر خرچ کرتا ہے۔۔۔
بیٹیاں اس معاملے میں زیادہ خوش نصیب ہوتی ہیں۔۔۔ شادی سے پہلے باپ کے پیسے پر حق رکھتی ہیں اور بعد میں شوہر کے کمائی پر۔۔۔ لیکن شادی کے بعد باپ بیٹیوں پر سے ہاتھ اٹھا نہیں لیتے۔۔۔ ہر باپ بساط بھر پوری زندگی ہی بیٹی کو نوازتا ہے۔۔۔
شادی کے بعد میرا میرے باپ پر یا انکی پراپرٹی میں اپنے شرعی حصے پر حق ختم تو نہیں ہوگیا۔۔۔ جب باپ کی وراثت میں شریعت نے میرا حق رکھا ہے تو میں کسی کی بھی باتوں کا اثر قبول کرتے اس سے دستبردارکیوں ہوں۔۔۔
وہ کسی ناصح کی مانند اس سے پوچھ رہی تھی۔۔۔ اور زندگی میں پہلی مرتبہ فائز اسکے سامنے لاجوب بیٹھا تھا۔۔۔ اسکی ہر بات میں وزن تھا۔۔۔ فائز قائل ہوا لیکن اس کے باوجود وہ ایسا کچھ نہیں چاہتا تھا۔۔۔
بالفرض کل کو ہماری بیٹی ہوتی ہے فائز۔۔۔ تو کیا تم اسے کچھ نہیں دو گئے۔   شادی کے بعد اس پر سے ہاتھ اٹھا لو گئے۔۔۔ یا ایسے ہی خالی ہاتھ اسکی شادی کر دو گئے۔۔۔
ماہرہ کی بات پر وہ یک لخت سیدھا ہو بیٹھا۔۔
یہ تم کہاں کی بات کہاں لیجا رہی ہو ماہرہ۔۔۔ دل کو کھینچ لگی تھی۔۔۔
بس یہ ہی بتانے کی کوشیش کر رہی ہوں فائز کے بیٹیاں باپ کی شہزادیاں ہوتی ہیں۔۔۔ وہ انکے دلوں میں بستی نہیں بلکہ وہ باپ کا دل  ہوتی ہیں۔۔۔ اور ہر باپ بیٹی پر خرچ کرتا ہے۔۔۔
فائز سر تھام کر رہ گیا۔۔۔
دیکھو ماہرہ تمہاری ہر بات بجا ہے۔۔۔
اگر ہر بات بجا ہے تو بحث کی نوبت کہاں بچتی ہے پھر فائز۔۔۔ وہ دوبدو گویا ہوئی۔۔۔
تم نے قسم کھائی ہے کیا آج مجھے لاجواب کرنے کی۔۔۔ وہ ماتھا مسلتا بے بسی سے گویا ہوا۔۔۔
تمہیں لاجواب کرنے کی میری کوئی خواہش نہین فائز۔۔۔ میں صرف حق بات کہہ رہی ہوں۔۔۔ وہ واپس اپنی پلیٹ اٹھاتے کھانے لگی۔۔۔
دیکھو ماہرہ بلاشبہ تم ماموں پر حق رکھتی ہو اور وہ جو چاہے وہ تمہیں دے سکتے ہیں۔۔۔ لیکن پلیز وہ سب اپنے تک محدود رکھو۔۔۔۔ 
مجھے انسے کچھ نہیں چاہیے نا ہی میں انکی کیش والی آفر قبول کروں گا۔۔۔ یہ میری سلیف رسپیکٹ ہے اور میں توقع رکھتا ہوں کے میری بیوی میرا مان برقرار رکھے گئ۔۔۔
ماہرہ اسکی بات پر خاموش رہ گئ۔۔۔ ٹھیک ہے تمہیں جہیز کے نام پر کچھ نہیں چاہیے۔۔۔ ٹھیک ہے۔۔۔ میں تمہاری خوداری کی عزت کرتی ہوں۔۔۔ میں بابا کو منع کردوں لگی۔۔۔ لیکن میں اپنا شرعی حق کبھی نہیں چھوڑوں لگی۔۔۔ جب کبھی مظہر نے بابا سے اپنا حصہ مانگا میں بھی اپنا شرعی حق لینے سے انکار نہیں کروں گی اور تب تم مجھے انکار نہیں کرو گئے۔۔ اسنے حتمی انداز میں کہتے بات ہی ختم کر ڈالی۔۔۔
اور رہ گئ بات یونیورسٹی جانے کی تو یا تو مجھے اپنے ساتھ لے کر جاو نہیں تو میں بابا کے ہاں سے اپنی گاڑی منگوا لوں لگی۔۔۔ کیونکہ اگر تم یہ شادی سب کے سامنے کلیئر نہیں کر رہے تو پھر کسی وجہ سے گاڑی کو چھوڑ کر لوکل کنوینس استعمال کرنا مجھے لوگوں کی نظروں میں مشکوک بنا دے گا۔۔۔
اور میں یہ سب افورڈ نہیں کر سکتی۔۔۔ اس لئے مصلحت کا تقاضا یہ ہی ہے کے میں یونیورسٹی کے لئے اپنی گاڑی کا ہی استعمال کروں۔۔۔ 
وہ ہر ہر پہلو پر غور کر رہی تھی ۔۔۔ اور فائز کو پہلی مرتبہ اسکی ذہانت کا قائل ہونا پڑا۔۔۔
وہ سر ہاں میں ہلا گیا۔۔۔
اور یاد رکھنا میری گاڑی کا استعمال صرف یونیورسٹی تک محدود ہے۔۔۔ باقی ہر جگہ مجھے تم ہی پک اینڈ ڈراپ دو گئے۔۔۔
جیسے ابھی تم مجھے بابا کے گھر ڈراپ کرنے والے ہو۔۔۔
اسکی بات سن کر فائز نے کچھ کہنے کو لب کھولنے چاہے جب وہ سرعت سے اسکی بات کاٹ لگی۔۔۔
مانتی ہوں مام کی وجہ سے تم اپ سیٹ ہو جاتے ہو اور تم وہاں نہیں جانا چاہتے۔۔۔ تو بھی کوئی مسلہ نہیں۔۔۔ تم مجھے وہاں ڈراپ کر دینا اور جب مجھے واپس آنا ہوا تمہیں کال کر دوں گی تو مجھے پک کر لینا ۔۔۔
اگر تم وہاں نہیں جانا چاہتے تو میں تمہیں کبھی بھی فورس نہیں کروں گی ابھی مجھے وہاں سے اپنی کچھ ضروری چیزیں لینی ہیں۔۔۔
وہ پلیٹ صاف کر کے میز پر رکھتی وضاحتی انداز میں گوہا ہوئی۔۔۔
ٹھیک ہے تم تیار ہو جاو۔۔۔
******
کچھ ہی دیر میں وہ سبز اور سکن کلر کی کیپری اور شارٹ شرٹ میں ملبوس گلے میں آنچل ڈالے۔۔۔ بالول کی ٹیل پونی بنائے کمرے سے باہر نکلی۔۔۔ چہرے پر ہلکا سا میک آپ کر رکھا تھا۔۔۔
چلیں۔۔۔ وہ ہینڈ بیگ اٹھا کر اسکے سامنے آ کر رکی تو فائز نے اسے تادیبی انداز میں دیکھا۔۔۔
پھر آگے بڑھا اور اسکے گلے سے انچل نکالا۔۔۔ وہ یک ٹک اسے دیکھتی رہی جب فائز نے آنچل کھول کر اسکے سر پر اوڑھایا۔۔۔
ماہرہ کو یکدم ہی پچھلہ منظر یاد آیا۔۔۔ ایک دفعہ پہلے بھی وہ اسکی سالگرہ کی رات یہ  کر چکا تھا۔۔۔
ایک عورت جب بے حجاب گھر سے نکلتی ہے تو وہ اپنے ساتھ چار مردوں کو جہنم لیجانے کا سامان تیار کرتی ہے ماہرہ۔۔۔
باپ۔۔۔ بھائی ۔۔۔۔ شوہر۔۔۔ اور بیٹا۔۔۔
کیونکہ ایک عورت ان سب کی عزت اور غیرت ہوتی ہے۔۔۔ روز محشر عورت کے یہ چاروں محرم رشتے اسکی بے پردگی کے لئے  اللہ کے حضور جواب دہ ہونگے کے کیا کوئی بھی اس عورت کو اللہ کا پیغام سمجھا نا سکا۔۔۔
ماہرہ پہلے کی بات اور تھی۔۔۔ میرا تم سے کوئی اتنا قریبی رشتہ نا تھا جس کی بنیاد پر میں تمہیں روک سکتا۔۔۔
لیکن اب میری تم سے ریکویسٹ ہے کے میری عزت کا پاس رکھنا۔۔۔ میرے ماں کو سدا برقرار رکھنا۔۔۔
اسکا لہجہ نرم اور ملتجی تھا۔۔۔ دل میں اترتا ہوا۔۔۔
میں خیال رکھوں گی فائز۔۔۔ اور پلیز جو بھی تمہارے دل میں ہو تم کہہ دینا۔۔۔ میرے بارے میں کوئی بھی بات دل میں مت رکھنا ۔۔۔۔
تمہاری معیت میں میں سب سیکھ لوں گی جس سے ابھی تک کسی نے نا روکا نا ہی خود میں نے جاننے کی کوشیش کی۔۔۔
وہ مسکرا کر گویا ہوئی۔۔۔ 
مجھے امید تھی کی تم میری بات کو سمجھؤ گی۔۔۔ چلو۔۔۔
وہ اسکا ہاتھ تھام کر کمرے سے نکل گیا۔۔۔
******
ماں کو علایہ کے گھر پہنچنے کا پتہ چلا تو وہ غصے سے تن فن کرتیں اسکے کمرے کی جانب بڑھیں۔۔۔
ڈھار سے دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئیں لیکن اسے فرش پر آڑے ترچھے انداز میں حوش و حواس سے بے گانہ دیکھ دل تھامتیں چیخ اٹھیں۔۔۔
غضب تو یہ تھا کے  اس وقت نا تو مرتسم گھر تھا اور نا ہی لودھی صاحب۔۔۔۔
علایہ کی حالت دیکھ انکے تو ہاتھ پاوں ہی پھول گئے۔۔۔ کچھ سمجھ نا آیا کے وہ اس وقت کیا کریں۔۔۔
سرعت سے ڈرائیور کو بلایا اور اسکے ہمراہ علایہ کو لے کر ہسپتال پہنچیں۔۔۔
راستے میں ہی انہوں نے پہلی فرصت میں شوہر اور بیٹے کے ساتھ رابطہ استوار کیا ۔۔۔
ہسپتال پہنچتے ہی علایہ کا علاج شروع ہو گیا۔۔۔
لودھی صاحب تو دور ہونے کے باعث بعجلت پہنچ نہیں پائے۔۔۔ جبکہ مرتسم کام نبٹا کر واپس ہی آ رہا تھا اس لئے ماں کے فوں پر سیدھا ہسپتال ہی پہنچا۔۔۔
کیا ہوا علایہ کو ماں۔۔۔ اور ڈاکٹر کیا کہتے ہیں۔۔۔
وہ بھاگم بھاگ پھولی سانسوں سمیٹ راہدی میں کھڑی زارو زار روتی ماں کے پاس آیا۔۔۔
وہ حواس باختہ دکھائی دیتا تھا۔۔۔ آخر معاملہ جان سے پیاری بہن کا تھا۔۔۔
پتہ نہیں مرتسم۔۔۔ ابھی تک ڈاکٹر نے کچھ کہا نہیں۔۔۔   
میں جب اسکے کمرے میں گئ تو وہ بے ہوش پڑی تھی۔۔۔
دفعتاً ڈاکٹر باہر نکلا تو مرتسم انکی جانب لپکا۔۔۔
ڈاکٹر صاحب میری بہن۔۔۔
پیشنٹ نے بہت سٹریس لیا ہے۔۔۔ بہت زیادہ ذہنی دباو کے باعث وہ حوش و حواس کھو گئ ہیں۔۔۔ 
انہیں ٹریٹمنٹ دیا ہے دعا گو ہیں کے انہیں جلد ہوش آ جائے تاکے انکی کندیشن کا اندازہ لگایا جا سکے۔۔۔  نروس بریک ڈاوں ہوا ہے انکا۔۔۔
ڈاکٹر پروفیشنل انداز میں کہتا مرتسم اور ماں کو ساکت چھوڑ کر آگے بڑھ گیا۔۔۔
******
بڑی سی لیب میں چار سو بتیاں روشن تِھیں جہاں دلاور خان لیب کے بیچ و بیچ اونچی کرسی پر بیٹھا چار سو سکرینز پر چلتی کوڈنگ دیکھ رہا تھا۔۔۔ انداز میں غصہ تھا۔۔۔
دفعتاً میر دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا۔۔۔
مبارک ہو چچا جان۔۔۔ آپکے لئے بہت بڑی خوش خبری لایا ہوں۔۔۔ وہ باہیں پھیلائے خوشی سے سرمست اندر داخل ہوا۔۔۔ دلاور خان نے چونک کر اسے دیکھا۔۔۔
کیا پروفیسر عظیم کی رہائش گاہ کا پتہ چل گیا۔۔۔
وہ طنزیہ گویا ہوئے۔۔۔ انداز استہزائیہ تھا۔۔۔ جیسے ابھی تک شکست سے دوچار ہوئے تھے تو آگے بھی امید نا رکھتے تھے۔۔۔
بالکل چچا جان۔۔۔ پتہ چل گیا کے وہ سائنٹیست کس بل میں چھپا ہے۔۔۔
کیا۔۔۔ میر کے کہنے پر وہ تو خوشی سے اچھل ہی پڑے۔۔۔
جیو میرے شیر۔۔۔ انہوں نے خوشی سے آگے بڑھتے اسے گلے سے لگایا۔۔
بس آج کل میں پلان بنا کر اسکی رہائش گاہ پر دھاوا بول دیں گے۔۔۔ اور یہ سب اتنی راز داری سے ہوگا کے اس پروفیسر کے فرشتوں کو بھی علم نہیں ہو گا۔۔۔ اور میرا وعدہ ہے آپ سے چچا جان۔۔ اس مرتبہ وہ شخص بچ نہیں پائے گا
۔۔ میر کی آواز میں پختگی تھی۔۔۔ جسے محسوس کر کے دلاور خان مسکرا دیا۔۔۔
*****

No comments

Powered by Blogger.
4