Header Ads

Roshan Sitara novel 34th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels


 

Roshan Sitara novel  34th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels 

Roshan Sitara is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels

Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front 

of the world and improve their abilities in that field.

 Roshan Sitara  Novel by Umme Hania | Roshan Sitara  novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Roshan Sitara  novel by Umme Hania Complete PDF download

Online Reading

 ناول "روشن ستارا"۔

  مصنفہ "ام ہانیہ"۔

Official pg : Umme Hania official

چونتیسویں قسط۔۔۔
پولیس کےاہلکار چیونٹیوں کی مانند ایک ایک کمرا کھول کر اندر دیکھ رہے تھے۔۔۔لیڈی کانسٹیبلز نے کئ نیم برہنہ لڑکیوں کو بھیڑوں کی مانند آگے لگا رکھا تھا جو اس تلاش میں انکے ہاتھ لگی تھیں۔۔۔ یہ روح پرور منظر دیکھ علایہ کے جسم پر چینٹیاں سی رینگنے لگیں۔۔۔۔ اگر وہ انکے ہاتھ لگ گئ تو یقیناً وہ اسے بھی ایسی ہی لڑکی سمجھیں گے۔۔۔ اور پھر۔۔۔ پھر اس سے زیادہ وہ سوچ بھی نا پائی
وہ اپنے کپکپاتے جسم کو گھسیٹتی ایک طرف کو بھاگی۔۔۔  آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا رہا تھا جب اسے ایک جانب لیڈی واش روم دکھائی دیا۔۔۔ وہ اندھا دھند اس جانب لپکی اور دروازہ کھول کر اسکی اوٹ میں  چھپی۔۔۔ وہ جانتی تھی کے وہ جلد ہی یہاں سے بھی ڈھر لی جائے لگی۔۔۔ لیکن پھر وہ کہاں جاتی۔۔۔ دروازہ اسنے ارادتاً کھلا چھوڑا تھا۔۔۔ بند کر دیتی تو انکا شک یقین میں بدل جاتا کے یہاں واقعی کوئی ہے۔۔۔
اس سے پہلے کے وہ کچھ سمجھتی کسی نے اسکا بازو اپنی آہنی گرفت میں جھکڑ کر کھینچا۔۔۔ اس سے پہلے کے ایک دلخراش چیخ اسکے حلق سے برآمد ہوتی بھاری مردانہ ہاتھ نے اسکے لبوں پر سختی سے قفل جماتے اسکی چیخ کا گلہ گھونٹا۔
اسکا دل سوکھے پتے کی مانند پھڑپھڑانے لگا۔۔ وہ آہنی گرفت اسے کسی بے جان گڑیا کی مانند بے دردی سے گھسیٹتی لے جا رہی تھی۔۔۔ وہ اس گرفت میں پھڑپھڑا بھی نا سکی۔۔۔ جسم بے جان ہونے لگا۔۔۔
سکیوں کے ساتھ ساتھ گویا سانسیں بھی کہیں اندر ہی دبنے لگی۔۔۔ اسکی آنکھوں سے خاموش آنسووں نے بڑی شدت سے اپنا راستہ بنایا اور ہر رکاوٹ کو عبور کرتے بہتے چلے گئے۔۔۔ 
وہ یوں گھسیٹی جارہی تھی کے اسکی محض ایڑیاں ہی زمین پر تھیں جو ہر جگہ گھسیٹتی اپنا نشان چھوڑ رہی تھیں۔۔۔
وہ شخص اسے کہاں گھسیٹ کر لے جا رہا تھا کن کن راہداریوں سے کس جگہ وہ جا رہے تھے وہ کچھ نہیں جانتی تھی۔۔۔ حواس تو تب بحال ہوئے جب اس آہنی گرفت نے اسے بے دردی سے چھوڑا۔۔۔ یوں کے وہ سمبھل بھی نا پائی اور لڑکھڑا کر  زمین بوس ہوئی۔۔۔ پہلے سے چھلے گھٹنوں اور کہنیوں پر پھر سے قاری ضرب لگی تو وہ بلبلا کر رہ گئی ۔۔۔وہ تکلیف سے آنکھیں میچتی سیدھی ہوئی۔۔۔ دفعتاً آنکھیں کھلیں تو نظریں سیاہ چمکتے جوتوں پر پڑی۔۔۔ دل کی ڈھرکنیں منتشر ہونے لگیں۔۔ اسنے بے ساختہ تھوک نگلا جب وہ شخص پنجوں کے بل اسکے پاس بیٹھا۔۔۔
علایہ نے ہمت مجتمع کر کے بند ہوتی آنکھیں اٹھائی مگر سامنے موجود شخص کے چہرے کے پتھریلے تاثرات اور سرخ پڑتی نگاہیں دیکھ کر وہ گویا پورے قد سے زمین بوس ہوئی۔۔۔ اسکا دل چاہا کے زمین پھٹے اور وہ اس میں سما جائے۔۔۔
کاش کاش وہ دنیا کا آخری انسان بھی نا ہوتا جسکے سامنے علایہ اس حالت میں آتی۔۔۔ ہمیشہ تن کر کھڑا رہنے والا سر خودبخود جھک گیا۔۔۔ ہونٹ کپکپا کر رہ گئے۔۔۔
اس میں تو اتنی ہمت تک نا بچی کے اٹھ کر کھڑی ہو جائے۔۔۔ مزید بیٹھے ہونے نے کئ جگہ سے اسکا پردہ رکھ لیا ورنہ وہ تو اس کندیشن میں بھی نا تھی کہ اس شخص کے سامنے کھڑی ہو ہاتی۔۔۔
چچ۔۔ چچ۔۔چچ۔۔ مس علایہ لودھی۔۔۔۔ وہ شعلے اگلتی نگاہوں سے اسے دیکھتا تاسف زدہ سا گویا ہوا۔۔۔
خدا کی قسم یہاں میری جگہ مرتسم ہوتا نا۔۔۔ وہ کچھ توقف کو رکا اور چہرا مزید اسکے کان کے پاس کیا۔۔۔۔ تو کھڑے کھڑے ہی فنا ہو جاتا۔۔۔۔ اسکی آواز میں ایسی پھنکار تھی کے علایہ چہرا ہاتھوں میں چھپاتی پھوٹ پھوٹ کر رودی۔۔۔
رونا بند کرو ۔۔۔۔ یہ ڈرامے کسی اور کو دکھانا۔۔۔ وہ اتنے سخت لہجے میں غرایا کے علایہ کپکپا کر رہ گئ۔۔۔ ہچکیاں کہیں اندر ہی دم ٹور گئیں۔۔۔ 
اسنے چہرے سے ہاتھ ہٹاتے خوفزدہ نگاہوں سے وہاج خانزادہ کو دیکھا۔۔۔
کاش۔۔۔کاش تم مرتسم کی بہن نا ہوتی لڑکی۔۔۔ تو میں تمہیں دیکھ کر بھی ان دیکھا کر جاتا۔۔۔ لہجے کی کاٹ علایہ کی رگیں تک چیر رہی تھی۔۔
میں یہ نہیں پوچھوں گا کے تم یہاں کیا کر رہی ہو۔۔۔ کیونکہ تم کوئی نافہم چھوٹی دودھ پیتی بچی نہیں جو جانتی نا ہو کے یہاں کیا کرنے آیا جاتا ہے اسنے علایہ کو تنفر سے دیکھتے نظروں کا رخ پھیرا۔۔۔ علایہ کا دل چاہا خود پر پٹرول چھڑکے اور آگ لگا ڈالے۔۔۔ اتنی ذلالت۔۔۔
اور نا ہی میں ایسا کوئی حق رکھتا ہوں کے تمہاری بے راہ روی پر تمہارے پیچھے ہلکان ہوتا پھروں۔۔۔۔
علایہ نے تڑپ کر اسے دیکھا۔۔۔ آخر وہ اسے سمجھ کیا رہا تھا۔۔۔
لیکن باپ بھائی کی نظروں میں دھول جھونک کر تم جو یہاں انکی عزت کا جنازہ نکالتی پھر رہی ہو نا۔۔۔ مجھے مرتسم سے ہمدردی ہے۔۔۔ ترس آ رہا ہے اس پر۔۔۔ اسکے دل چھلنی کرتے الفاظ اور آواز ہر قسم کے جذبات سے عاری تھی۔۔۔۔
آپ غلط سمجھ رہے ہیں ۔۔۔ میں ایسی لڑکی نہیں۔۔۔ وہاج کے چھوڑے زہریلے تیروں سے اسکا پور پور نیلا ہونے لگا تھا تبھی بے بسی سے صفائی دیتی چٹخی۔۔۔
یہاں جس مقام سے اور جس انداز میں تم مجھے ملیں ہو وہ ہقیناً تمہاری نظروں میں شریف زادیوں کا شیوہ ہوگا۔۔
پھنکار کر کہتے اسنے علایہ کو اسکے پھٹے برہنہ بازو سے تھام کر ایک جھٹکے میں کھڑا کیا۔۔۔ یوں کے اسکی کراہ نکل گئ۔۔ 
وہاج کی باتوں کا مفہوم سمجھ کر وہ پانی پانی ہوگئ۔۔۔ وہ الفاظ ہی دم توڑ گئے جس میں وہ اپنی بے گناہی کی صفائی پیش کرتی۔۔
وہ ناچاہتے ہوئے بھی اسکی نظروں میں معتوب ٹھہری تھی۔۔۔ اور غلطی اسکی نا تھی۔۔۔ جس حلیے میں وہ اس وقت اسکے سامنے کھڑی تھی کوئی بھی اسے یوں دیکھتا تو سنگسار کرنے سے پیچھے نا ہٹتا۔۔۔
وہاج اسکی جانب دیکھنے سے گریزاں تھا ا ور اپنی حالت سمجھتی وہ خود میں سمٹ گئ۔۔۔
کہاں وہ خود پر چادر اوڑھے بغیر گھر سے نا نکلتی اور کہاں بنا آنچل کے جگہ جگہ سے پھٹے لباس کے ساتھ وہ ایک نا محرم کے سامنے کھڑی تھیں۔۔۔ جسم پر رینگتی چیونٹیاں اب اسے کاٹنے لگیں تھیں۔۔۔۔۔
وہ دیکھو سامنے۔۔۔ وہاج نے ہاتھ سے سامنے کی جانب اشارہ کیا۔۔۔
اور تب سے اب پہلی مرتبہ علایہ نے محسوس کیا کے وہ اس تعفن زدہ سی جگہ سے باہر نکل آئی ہے۔۔۔ سر پر کھلا آسمان اور پیروں کے نیچے سخت پتھریلی زمین ہے۔۔۔
وہ لوگ ایک تاریک خاموش گوشے میں کھڑے تھے۔۔۔ جہاں سے سامنے روڈ پر پولیس موبائل کھڑی تھیّ۔۔۔ جس مین وہ لوگ وہاں سے برآمد ہوئے لڑکے لڑکیوں کو جانوروں کی مانند دھکے دے کر اندر بیٹھا رہے تھے۔۔۔ ساتھ ہی میڈیا کے نمائندوں کی برمار تھی جو پل پل کی کوریج لے رہے تھَے۔۔
وہاں اس مقام پر تم بھی ہو سکتی تھی۔۔۔ اور پھر جانتی ہو کیا ہوتا۔۔۔
تمہاری تصویر ہر نیوز چینل اور ہر اخبار کے فرنٹ پیج پر اسی حالت میں چھپی ہوتی۔۔۔
تم اگلے کئ دنوں تک لوگوں کے لیے گوسپ کا موضوع ہوتی۔۔۔
تمہارا باپ اور بھائی تمہاری بدولت کسی کے سامنے سر اٹھا کر بات کرنے کے قابل نا رہتے۔۔۔
اور۔۔۔۔
چپ کر جائیں۔۔۔ پلیز چپ کر جائیں وہاج۔۔۔ میں نے کچھ نہیں کیا۔۔۔ مم۔۔ مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا۔۔۔ اسکی حالت عجیب دیوانوں کی سی تھی۔۔۔ متوحش اور خوفزدہ۔۔۔ وہ کپکپا رہی تھی اور اسکی حالت وہاج کو اسکی طرف سے نظریں پھیرنے پر مجبور کر رہی تھی۔۔۔
دفعتاً مرتسم کا فون بجا تو اسنے غصے سے موبائل جیب سے نکالا لیکن سامنے بلنک کرتا نمبر دیکھ اسنے لب بھینچ لئے۔۔
سمجھ نا آیا اسے ابھی یہاں کیا کرنا چاہیے۔۔۔
اسنے فون اٹھا کر کان سے لگایا۔۔۔
ہاں مرتسم۔۔۔
بھائی کا نام سنتے ہی علایہ نے خوف سے کپکپاتے نگاہیں اٹھا کر اسے دیکھا اور شدت سے اسکی بازو تھامی۔۔۔
وہاج نے ناگواری سے اسے دیکھا جب وہ بھرائی نگاہوں سے اسے دیکھ کر نفی میں سر ہلاتی اسکے سامنے ہاتھ جوڑ لگی۔۔۔
وہ جو نہایت مناسب الفاظ میں اسے حالات سے آگاہ کرنے جا رہا تھا لب بھینچ گیا۔۔۔
علایہ کی حالت ایسی نا تھی کے وہ کسی کو بتائے بنا اسے گھر تک چھوڑتا۔۔۔ یہ سراسر ہر کسی کا شک اپنی جانب مبذول کروانے کے مترادف تھا۔۔۔
اسے پراپر ٹریٹمنٹ کی ضرورت تھی اور اس حالت میں وہ اسے ہسپتال بھی نہیں لیجا سکتا تھا۔۔۔ مرتسم کو اعتماد میں لینا اسکی مجبوری تھا۔۔۔۔ لیکن علایہ کے التجائیہ انداز پر وہ ناچاہتے ہوئے بھی بات بدل گیا۔۔۔
نہیں مرتسم اس شخص سے ملاقات نہیں ہوئی۔۔۔ کلب پر ریڈ ہوئی ہے جسکی وجہ سے مجھے واپس آنا پڑا۔۔۔ ابھی کچھ مصروف ہوں پھر بات ہوگی۔۔۔ ایک ہی سانس میں کہتا وہ فون کاٹ گیا۔۔۔۔
وہ عجیب شش و پنج میں مبتلا تھا۔۔۔ یوں اسے اس حال میں اپنے ساتھ لیجانا بھی نہیں چاہتا تھا۔۔۔
تھک ہار کر اسنے بالوں میں ہاتھ پھیرنے کے ساتھ چہرے پر ہاتھ پھیرا۔۔۔
چلو۔۔۔
کچھ سوچ کر اسے ساتھ آنے کو کہا۔۔۔
جب نظر نیچے گرے اسکے کلچ پر گئ۔۔ مرتسم نے بنا اسے مخاطب کئے کلچ اٹھایا اور آگے بڑھا۔۔ا
گاڑی کے پاس جا کر اسکے لئے پیسنجر سیٹ کا دروازہ کھولا اور  اسکے بیٹھنے کے بعد آ کر ڈرائیونگ سیٹ سمبھالی۔۔۔ کلچ سامنے ڈیش بورڈ پر رکھا اور گاڑی سٹارٹ کر دی۔۔۔۔
دیکھو لڑکی اگر تم بے ہوش و ہوش ہو گئ تو میں کوئی مروت بھی نہیں نبھاوں گا۔۔۔ مجھے نیکی گلے پروانے کا شوق نہیں کے میں تمہارے بے ہوش وجود کو باہوں میں اٹھائے در در ہسپتالوں میں بھٹکوں اور سب کی نظروں میں مشکوک بنوں۔۔۔
یا تو سیدھا مرتسم کو فون کھڑکا کر اسے ساری حقیقت سے آشنا کروں گا یا پھر روڈ کنارے تمہیں کہیں پھینک جاوں گا۔۔۔ اس لئے اگر نہیں چاہتی کہ ان میں سے ایسا کچھ بھی ہو تو حواس قائم رکھو۔۔۔
وہ اسکی بند ہوتی آنکھیں دیکھ سختی سے چلایا۔۔
اس لڑکی کے باعث سمجھ پہلے ہی کچھ نہیں آ رہا تھا کے اسکا کیا کرے مزید وہ اب اگر بے ہوش ہو جاتی تو۔۔۔
اسنے ٹٹول کر پانی کی بوتل نکال کر اسکی جانب بڑھائی۔۔
اسکا لہجہ اور باتیں سن کر علایہ کے چودہ طبق روشن ہو چکے تھے۔۔۔ وہ کہیں پر بھی غلط نا تھا۔۔۔ علایہ کی حالت واقعی ایسی نا تھی کے کوئی شریف زادہ اس وقت اسکی ذمہ داری قبول کرتا وہ بھی تب جب اسکے تن پر چادر تک نا تھی۔۔۔
دفعتا انکی گاڑی ایک تاریک گوشے پر رکی۔۔۔
علایہ نے خوفزدہ نگاہوں سے وہاج کو دیکھا۔۔۔ وہ جس حال میں جہاں سے آئی تھی مرد ذات سے اسکا اعتبار ویسے ہی اٹھ گیا تھا۔۔۔
تم یہیں رکو میں آتا ہوں۔۔۔
اسے کہتے ہی وہ گاڑی سے اتر گیا۔۔۔ جبکہ علایہ ہاتھ مسلتی بیٹھی اسے دور کہیں روشنیوں میں گم ہوتے دیکھتی رہی۔۔۔ وہ ناجانے کہاں گیا تھا۔۔۔ اور کس مقصد سے۔۔۔
دفعتا ڈیش بورڈ پر پڑے اسکے کلچ میں موجود اسکا موبائل چنگار اٹھا۔۔۔
خاموشی میں موبائل کی آوز سن کر وہ اچھل پڑی۔۔۔ جھٹ سے کپکپاتے ہاتھوں سے کلچ سے موبائل نکالا۔۔۔ جبکہ سامنے جگمگاتے مرتسم بھائی کے الفاظ دیکھ اسکا خون تک خشک ہو گیا۔۔۔
موبائل بج بج کر بند ہو گیا لیکن اس میں فون اٹھانے تک کی ہمت نا تھی۔۔۔
بند ہوتے ہی موبائل پھر سے چنگار اٹھا۔۔۔
اسنے منہ پر ہاتھ رکھتے سسکیوں کا گلہ گھونٹا اور فون اٹھا کر کان سے لگایا۔۔۔
ہیلو۔۔
کہاں ہو علایہ۔۔۔ میں ابھی فارغ ہوا ہوں لیکن تم نے مجھے کال نہیں کی اور ناہی اپنی لوکیشن سینڈ کی۔۔۔ اسکے لہجے میں مان اور فکر مندی تھی علایہ کا دل چاہا وہ ہر مصلحت بالائے طاق رکھے پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔
بھائی واپس گھر جا رہی ہوں۔۔  وہ بامشکل خود کو کمپوز کرتی ہموار لہجے میں گویا ہوئی۔۔ آنکھ مسلسل بہہ رہی تھی۔۔۔
اوہ اچھا۔۔۔ چلو پھر لوکیشن سینڈ کرو تاکے مجھے پتہ چل سکے تم کتنی دیر میں گھر پہنچ جاو گی اور ابھی کہاں ہو۔۔۔
مرتسم کے فکر مندی سے کہنے ہر وہ سر ہاں میں ہلا گئ۔۔۔ موبائل بند ہوتے ہی اسنے سب سے پہلے واٹس ایپ پر اسے اپنی لائیو لوکیشن سینڈ کی ۔۔۔ وہ اب مزید کوئی رسک نہیں لے سکتی تھی۔۔۔ اب باہر کے حالات جان کر اسے بھائی کی اس فکرمندی پر اس پر ٹوٹ کر پیار آیا۔۔۔
دفعتاً سنجیدہ سا وہاج دروازہ کھول کر ڈرائیونگ سیٹ  پر بیٹھا اور ایک شاپنگ بیگ اسکی جانب بڑھایا۔۔۔
اس میں چادر ہے کھول کر اوڑھ لو یوں کے تمہارا سب کچھ کور ہو جائے۔۔۔ اور اگر ممکن ہو تو نقاب بھی کر لینا تاکے تمہارا چہرا تم پر گزری کسی بھی کارخیزی کا راز نا کھول سکے۔۔۔
علایہ نے شاپنگ بیگ تھامتے اسے تعجب سے دیکھا۔۔۔ وہ بھی تو مرد تھا مگر کتنے مضبوط اعصاب کا۔۔۔ سر پرعزت کی چادر اوڑھنے والا ہر مرد تو نہیں ہوتا۔۔۔
تو وہ اسے اندھیرے میں ہر آنکھ کی بصارت سے دور چھوڑ کر اسکے لئے چادر خریدنے گیا تھا۔۔۔
علایہ نے جھٹ سے چادر کھولی اور اسے خود پر اوڑھتے چہرے پر نقاب کیا۔۔۔
واقعی اس چادر نے اسکا بھرم رکھ لیا تھا۔۔۔۔
گاڑی کو ہواوں میں اڑاتے اسنے لودھی مینشن کے گیٹ کے سامنے گاڑی کو بریک لگائی اور اسکے اترنے کا انتظار کرنے لگا۔۔۔
وہ سر جھکائے خاموشی سے گاڑی سے اتر آئی۔۔وہ شرمندگی کے باعث اسے ایک لفظ شکریہ تک نا کہہ پائی۔۔۔
****
ڈرائیوے سے گزرتی وہ تیز تیز قدم اٹھا کر اندرونی عمارت کی طرف بڑھی۔۔۔
وہ جانتی تھی کے ماں تب تک نا سوتیں جب تک وہ واپس گھر نا آ جاتی۔۔۔۔ یقیناً وہ اسکی منتظر تھیں۔۔۔ اور وہ کسی کی بھی نظر میں آئے بنا کمرے میں جانا چاہتی تھی۔۔۔ ماں اسے اس حالت میں دیکھ لیتیں تو یقینا وہیں دل تھام کر گر جاتیں۔۔۔
بھاگم بھاگ کمرے میں پہنچتے اسنے کلچ بیڈ پر پھینکا اور وارڈروب کھول کر اندر سے پہلا سوٹ کھینچا اور بنا دیر کئے واش روم میں گھس گئ۔۔۔
شیشے کے سامنے کھڑے ہو کر اسنے خود پر سے چادر ہٹائی اور اپنے ہی عکس پر نظر پڑتے ہی وہ سسک اٹھی۔۔۔ وہ اس حالت میں کتنی ہی دیر اس شخص کے سامنے کھڑی رہی تھی جسکے آج سے پہلے وہ کچھ گردانتی ہی نا تھی۔۔۔۔
پھوٹ پھوٹ کر روتے وہ شاور چلا کر اسکے نیچے آ کھڑی ہوئی۔۔۔ خود پر گرتے ٹھنڈے پانی کی بوندیں اسے سکون فراہم کر رہی تھیں۔۔۔ گویا اس پر موجود غلاظت دھل رہی ہو۔۔۔
کچھ ہی دیر میں وہ نہا کر ایک سادہ سا سوٹ زیب تن کئے کمرے میں آئی۔۔۔ اب تقریبا وہ خود پر موجود اس کارخیزی کی تمام تباہ خیریاں چھپا پانے میں کامیاب ہو چکی تھی حتکہ کے ٹانگوں اور بازووں کی چوٹتیں تک چھپ گئیں۔۔۔ لیکن اس میں موجود ہمت اتنی ہی تھی۔۔۔ ناجانے وہ اب تک کیسے خود کو سمبھالے ہوئے تھی۔۔۔ ایک قدم مزید اٹھانے کے نتیجے میں وہ لڑکھڑا کر پورے قد سے زمین بوس ہوئی اور ہوش و حواس سے بیگانہ ہوگئ۔۔۔۔
*******

No comments

Powered by Blogger.
4