Roshan Sitara novel 33rd Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Roshan Sitara novel 33rd Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Roshan Sitara is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels
Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front
of the world and improve their abilities in that field.
Roshan Sitara Novel by Umme Hania | Roshan Sitara novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Roshan Sitara novel by Umme Hania Complete PDF download
Online Reading
ناول "روشن ستارا"۔
مصنفہ "ام ہانیہ"۔
Official pg : Umme Hania official
تیتیسویں قسط۔۔۔
رات کا ناجانے کونسا پہر تھا جب ماہرہ کی آنکھ کھلی۔۔۔ آنکھ کھلتے اسکی نظر اپنے پہلو پر گئ جہاں جگہ ہنوز خالی تھی۔۔۔ وہ گہرا سانس خارج کر کے رہ گئ۔۔۔
کمرا اےسی کی کولنگ کے باعث خنک تھا اور اس میں زیرو پاور کے بلب کی نیلی روشنی چھائی تھی ۔۔
اسکا مطلب کے فائز آج پھر سے ابھی تک نہیں آیا تھا۔۔۔
یہ ایئر کندیشن اسنے واقعی ماہرہ کے لئے ہی لگوایا تھا وہ خود تو اس میں رہتا ہی نا تھا۔۔۔۔ اسکا تو سارا سارا دن اور آدھی رات بھی اسکی چھوٹی سی لیب میں ہی گزرتی۔۔۔
رات کو وہ اسکے سو جانے کے بعد ناجانے کونسے پہر آتا تھا۔۔۔
اب بھی اسنے نیم دراز ہو کر سائیڈ ٹیبل سے پانی کا گلاس اٹھا کر لبوں سے لگایا۔۔۔
اس سے پہلے کے وہ تکیہ درست کر کے پھر سے سوتی اسے رات کی خاموشی میں ہلکی ہلکی باتوں کی آواز سنائی دی۔۔۔۔ وہ چونک کر سیدھی ہوئی اور آواز کا منبع تلاشنے کی کوشیش کی۔۔
دفعتا اسکی نظر بالکنی کے آدھ کھلے دروازے پر گئ۔۔۔ غالباً فائز اسکی نیند خراب نا ہوجانے کے باعث وہاں کسی سے فون پر بات کر رہا تھا۔۔۔ لیکن اس وقت۔۔۔
وہ ناسمجھی سے بستر سے اتری اور ننگے پاوں ہی اس جانب چل دی۔۔۔
اس سے پہلے کے وہ بالکنی کا دروازہ وا کر کے باہر فائز کے پاس جاتی وہاں سے ابھرتی آواز اسکے قدم منجمند کر گئ۔۔۔
اوہ پلیز سونم بی ریلیکس کچھ نہیں ہوگا۔۔۔ میں ہوں نا۔۔۔ مجھ پر بھروسہ رکھو۔۔۔
ماہرہ کا دل بری طرح ڈھرکا۔۔۔ یہ لڑکی رات کے اس پہر اسکے شوہر کو فون کیوں کر رہی تھی بھلا۔۔۔ وہ تو ویسے ہی اسے کھٹکتی تھی کجا کے اب۔۔۔ وہ گم صم سی رہ گئ۔۔۔
صبح تک کا انتظار کر لو سونم میں اس وقت نہیں آ سکتا لیکن صبح فجر پڑھتے ہی تمہارے پاس ہوں گا ۔۔۔ ایسی ویسی کوئی بات نہیں اگر کوئی بھی مسلہ ہوا تو میں تمہیں اپنے پاس لے آوں گا میں بھگوڑا ہرگز نہیں۔۔۔۔
یک طرفہ بات سنتے اسکے کان سائیں سائیں کرنے لگے تھے۔۔۔ فائز کی ان نافہم باتوں کا کیا مقصد تھا بھلا۔۔۔ دل کو پتنگے لگ گئے تھے۔۔۔ ایک دل چاہا کے ابھی کے ابھی دروازہ وا کر کے اسکے پاس جائے اور اس سے استفسار کرے کے کہ وہ ہے کون اور کس حق سے رات کے اس پہر اسے فون کر رہی ہے۔۔۔
ہینڈل کی طرف بڑھتا اسکا ہاتھ وہیں رک گیا۔۔۔
جب وہ لب بھینچتی واپس بستر پر آ گئ۔۔۔ رات کے اس پہر وہ گھر میں کوئی ہنگامہ نہیں چاہتی تھی۔۔۔
بستر پر چت لیتے ہی وہ آنکھیں مونڈ گی۔۔۔ لیکن باوجود کوشیش کے بھی نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔۔۔
دفعتاً کچھ وقت کے بعد فائز اندر داخل ہوا۔۔۔ وہ سوتی بنی رہی۔۔۔ لیکن اسکی حسیات مکمل طور پر اسکی حرکات و سکنات کا جائزہ لے رہی تھیں۔۔۔
اسنے آتے ہی موبائل سائیڈ ٹیبل پر رکھا اور خود بھی وہیں بیڈ کی دوسری جانب لیٹ کر اسکے دوسری جانب کروٹ لے گیا۔۔۔
ماہرہ نے آنکھیں کھول کر ایک بھرائی نگاہ اس پر ڈالی ۔۔۔ اندر ایک محشر بھرپا تھا مگر وہ بمشکل ضبط کئے لیٹی تھی۔۔۔
*****"
اسنے غصے سے دروازہ کھولا اور ایک ہی جھٹکے میں علایہ کو کسی بے جان گڑیا کی مانند اندر کھینچا۔۔ علایہ کو اپنے بازو ٹوٹتے محسوس ہوئے۔۔۔ آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا رہا تھا مگر وہ ہمت نہیں ہار سکتی تھی۔۔۔
نگاہوں کے سامنے مرتسم کا مسکراتا ہوا چہرا آیا تو آنکھیں مزید شدت سے بہہ نکلی۔۔۔
بھائی۔۔۔ دل سسک اٹھا تھا۔۔۔ کاش وہ اس وقت وہاں ہوتا۔۔۔ اسکی موجودگی میں کس کی اتنی جرات تھی کے وہ مرتسم لودھی کی بہن کی جانب ٹیرھی نگاہ کر کے بھی دیکھ جائے۔۔۔ اب اسکی اختیاط سمجھ آ رہی تھی۔۔۔ اپنے گھر کا تحفظ۔۔۔ باپ بھائی کی جانب سے لگنے والی پابندیاں۔۔۔۔ ماں کی حکمت عملی۔۔۔ انکی روک ٹوک جس سے وہ بعض دفعہ چڑ جاتی تھی۔۔۔ اب سب کی قدرو قیمت سمجھ آ رہی تھی۔۔۔ اسکا بھائی دنیا گھوما تھا۔۔۔ وہ دنیا کے رنگ دھنگ جانتا تھا۔۔۔ انسانی کھال میں چھپے بھیروں کی درندگی سے آگاہ تھا تبھی اسنے اپنی قیمتی متاع حیات کو سات پردوں میں چھپا کر رکھا تھا۔۔۔ اب اس مصیبت میں پھس کر اسے چادر اور چار دیواری کے تحفظ کا مطلب سمجھ آ رہا تھا۔۔۔
اب اسے مرتسم کی کسی بھی حوالے کو لے کر کی جانے والی تفتیش بھی بری نا لگ رہی تھی۔۔ اور بند ہوتی آنکھوں سے عین اسی وقت اسے اپنی فاش غلطی کا احساس ہوا کے نا تو اسنے مرتسم کو ریسٹورینٹ کا نام بتایا تھا اور نا ہی نکلنے سے پہلے انفارم کیا تھا اور تو اور وہ تو اسے اپنی لائیو لوکیشن سینڈ کرنا تک بھول گئ تھی۔۔۔
اسے بھائی کی محبت پر صدقے جانے کا دل چاہا۔۔۔ وہ کتنا آگے کا سوچتا تھا۔۔۔ اس وقت اگر اسکے پاس علایہ کے لوکیشن ہوتی تو وہ سات سمندر پار سے بھی اسکا محافظ بن کر آ پہنچتا۔۔۔
مگر حماقتیں تو اپنی ہی تھیں۔۔۔ وہ ہر معاملے میں ہی لاپرواہ تھی۔۔۔
کوئی نہیں جانتا تھا کے وہ کس جگہ پر ہے ہے۔۔۔ حتکہ مرتسم اور ڈرائیور بھی نہیں۔۔۔
اعصاب مفلوج ہو رہے تھے۔۔۔
وہ تیزی سے کچھ سوچنے کی کوشیش کر رہی تھی اسکا دماغ نینو سیکنڈ کے حساب سے چل رہا تھا۔۔۔ جب اسنے زور سے علایہ کو فرش پر پٹخا اور واپس پلٹ کر دروازے کا بلٹ چڑھانے لگا۔۔۔
نیچے گرنے سے علایہ کی کہنیاں چھل گئیں۔۔۔ اسے اپنا جسم بے جان ہوتا محسوس ہوا۔۔۔ یکدم آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھایا۔۔۔ کچھ غلط ہوجانے کا خوف رگ و پے میں سرائیت کرتا اسکا خون نچوڑ لے گیا۔۔۔
دفعتاً اسکی نظر دروازے کے پاس ہی پڑے قد آدم چاک کے گلدان پر گئ۔۔۔
ناجانے اس میں اتنی ہمت کہاں سے آئی وہ سرعت سے اسکی جانب لپکی۔۔۔ جھٹ سے اسکے اٹھایا
اس سے پہلے کے وہ شخص بلٹ چڑھاتا علایہ نے بنا مزید سوچے پوری قوت سے گلدان پیچھے سے اسکے سر پر جڑا ۔۔۔
حملہ غیر متوقع تھا۔۔۔
چاک کا گلدان سر پر لگتے ہی جابجا کرچیوں میں بٹا۔۔۔
اس شخص کے سر کے پیچھے سے خون رسنے لگا وہ کراہ کر سر تھامتا لڑکھرایا جب علایہ نے اسے پوری قوت سے دھکا دیا ۔۔۔
یو بچ۔۔۔۔ وہ درد سے کراہا
ٹانگیں کپکپا رہی تھی اور آنکھیں بند ہو رہی تھیں۔۔۔
وہ تھوک نگلتی اسے پھیلانگ کر دروازے کے پاس پہنچی
وہ نیچے گرا درد سے کراہتا اسے گالیاں بک رہا تھا۔۔۔
علایہ منتشر ہوتے حواسوں سے بنا پیچھے دیکھے دروازہ کھول کر باہر بھاگی۔۔۔
طویل راہداری تھی اور چکنا فرش۔۔۔ پاوں میں پہنی ہیل اسے بھاگنے نا دے رہی تھی۔۔۔ چند قدم بھاگ کر وہ سلپ ہوتی بری طرح زمین بوس ہوئی۔۔۔
آج کا دن برا تھا۔۔۔ ہر لحاظ سے برا۔۔۔ گرنے سے گھٹنوں پر چوٹ لگی تھی۔۔۔
وہ پھوٹ پھوٹ کر روتی کپکپاتی ہتیھلیوں پر وزن ڈال کر پھر سے اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔
جب سامنے سے آتے ایک کپل کو دیکھ کر بعجلت پہلا دروازہ کھول کر اندر گھسی اور دروازے کی اوٹ سے انہیں دیکھنے لگی۔۔۔سے
دل بری طرح سے ڈھرک رہا تھا۔۔۔ کھلے بال الجھ کر بکھر چکے تھے۔۔ سانس پھول رہا تھا۔۔۔ بند ہوتی آنکھوں کو وہ بمشکل کھولے ہوئے تھی۔۔۔
سامنے سے ایک کپل بڑی بے باکی کا مظاہرہ کرتے چلا آ رہا تھا دفعتا انہوں نے ایک کمرے کا دروازہ کھولا اور اندر داخل ہو گیا۔۔۔
علایہ منہ پر ہاتھ رکھتی سسک اٹھی۔۔۔ یہ سب تو یہاں عام تھا۔۔۔
اور یہاں ایک نہیں کئ گدھ تھے جو اسے نوچنے کو تیار کھڑے تھے۔۔۔وہ کس کس سے بچتی۔۔۔ اسے جلد از جلد یہاں سے نکلنا تھا۔۔۔
وہ سینہ مسلتی گہرے گہرے سانس لینے لگی۔۔۔ پھر راہداری خالی دیکھ کر چوکنے انداز میں یہاں وہاں دیکھتی وہاں سے نکلی۔۔۔
وہ سمت کا تعین کرتی ایک طرف کو بھاگ رہی تھی۔۔۔ سمجھ نہیں آ رہا تھا باہر کا راستہ کہاں سے ہے۔۔۔ یہاں کے راستے اسکے لئے نئے تھے۔۔۔۔اسکی حاکت دیکھ کر کوئی بھی باآسانی اس پر گزری کار خیزیوں کا اندازہ لگا سکتا تھا۔۔۔
دفعتاً چکر کاٹ کر وہ وہیں آ گی جس کمرے میں وہ شخص اسے لے کر گھسا تھا۔۔۔
علایہ نے خوفزدہ نگاہوں سے اس کمرے کو دیکھا جسکا دروازہ ابھی بند تھا۔۔۔ ناجانے وہ شخص ابھی اندر تھا کے نہیں ۔۔۔ اور اگر باہر نکلا آیا تو۔۔۔
وہ تھوک نگلتی بھاگی۔۔ جب اسکی نگاہ کمرے کے سامنے گرے اپنے کلچ پر پڑی۔۔ اسنے چیل کی سی تیزی سے لپک کر کلچ اٹھایا۔۔۔
یہ جگہ ب کے حال سے زرا عقب میں تھی اس لئے ہال کی نسبت یہاں رش نا تھا۔۔
کاش ایسے ہی اسے اسکا آنچل بھی مل جاتا۔۔۔
وہ ابھی سیدھی ہوئی ہی تھی کے اسے پولیس موبائل کا کانوں کو پھارتا سائرن سنائی دینے لگی۔۔۔
وہ ایک نہیں کئ گاڑیوں کے سائرن تھے۔۔ اسکا دل مزید خوف زدہ ہوا۔۔۔
ساتھ ہی کلب میں ہلچل مچ گئ۔۔۔۔بھاگو۔۔۔ پولیس کی ریٹ ہوئی ہے۔۔۔
ہر جانب سے یہ ہی شور بلند ہوا تھا اور دیکھتے ہی دیکھتے راہداری میں رش بڑھ گیا۔۔۔
کئ کمروں کے دروازے کھول کر لوگ نیم برہنہ حالتوں میں باہر کو بھاگے تھے۔۔۔
علایہ شاک کی سی کیفیت میں سب دیکھ رہی تھی۔۔۔ عجلت۔۔۔ دھکم پیل۔۔۔ بھاگ ڈور۔۔۔ اسکے حواس ساتھ چھوڑنے لگے۔۔۔۔ جب پولیس کی بھاری نفری کے قدموں کی دھمک سن کر وہ بھی دیکھا دیکھی اندھا دھند لوگوں کی تقلید میں بھاگنے لگی۔۔۔
خوف ہر جذبے پر سوار تھا۔۔۔
اگر وہ پولیس کے ہاتھ لگ گئ تو۔۔۔
تو آگے کیا ہوتا۔۔۔ صبح کی ہیڈ لائنز میں بریکنگ نیوز کے طور پر وہ شہر کے سب سے بڑے صنعتکار مسٹر لودھی کی لاڈلی صاحبزادی کی بدنام زمانہ بد جگہ سے دریافت کا چرچہ زبان زد عام ہوتا۔۔۔
اسکا دل چاہا کے زمین پھٹے اور وہ اس میں سما جائے۔۔۔
دفعتاً راہداری مڑ کی سب کہاں کس جانب غائب ہوئے وہ سمجھ ہی نا پائی۔۔۔
اب وہ وہاں تنہا تھی۔۔۔
اسنے ہراسان نگاہوں سے ادھر ادھر دیکھا۔۔۔ سامنے سے پولیس کے اہلکار بھاگتے ہوئے ایک ایک کمرے کو کھول کر چیک کرتے اسی کی جانب آ رہے تھے۔۔۔ اور وہ جاگتی آنکھوں سے اپنے باپ بھائی کا مان اور عزت خاک ہوتی دیکھ سکتی تھی۔۔۔
*****
صبح ماہرہ کی آنکھ معمول سے زرا دیر سے کھلی تھی۔۔۔ آنکھ کھلتے ہی وہ چونک کر اٹھ بیٹھی۔۔۔ پہلی نگاہ ہی پہلو کی جانب اٹھی۔۔۔ وہان سے بیڈ خالی تھا۔۔۔ اسنے موبائل اٹھا کر ٹائم دیکھا۔۔۔ فجر قضا ہونے میں تھوڑا ہی وقت تھا۔۔۔ اسنے بعجلت اٹھ کر سلیپر پہنے اور وضو کرنے کی نیت سے واش روم کی جانب بھاگی۔۔۔ کچھ ہی دیر بعد وہ نماز ادا کر کے پورے اپارٹمنٹ کا چکر لگا چکی تھی لیکن فائز وہاں نہیں تھا۔۔۔
وہ شخص قول کا پکا تھا اور کہے کے مطابق وہ فجر پڑھتے ہی وہاں سے نکل چکا تھا۔۔۔ اسکی کنپٹیاں تک سلگنے لگی۔۔۔ دماغ میں بھانبھر سے جلنے لگے تھے۔۔۔ دل اسے جو سگنلز دے رہا تھا وہ قطعاً قطعاً درست نہیں تھے۔۔۔ اسکے اندر ایک آگ سی لگی تھی جس میں وہ بھڑ بھڑ جل رہی تھی۔۔۔
وہ دکھتا سر تھامے وہیں صوفے پر بیٹھ گئ۔۔۔
اسے وہاں بیٹھے ناجانے کتنا وقت گزر گیا۔۔۔ لیکن جب بھوک ستانے لگی تو وہ اٹھ کر کچن میں اپنے لئے ناشتہ بنانے آگئ۔۔۔
چائے بنا کر اسنے اپنے لئے ٹوسٹ بنائے اور جیم کی شیشی اٹھاتی باہر لاوئنج میں ہی آ گئ۔۔۔
ابھی وہ ناشتہ کر ہی رہی تھی جب اپارٹمنٹ کا دروازہ کھول کر فائز اندر داخل ہوا۔۔۔ وہ دروازہ کھلنے کی آواز سن کر بھی بنا کوئی ردعمل دیئے بیٹھی رہی۔۔۔
ارے واہ آج تو صبح ہی صبح ناشتہ کیا جا رہا ہے۔۔۔ وہ اسے ناشتہ کرتا دیکھ مسکراتا ہوا اسی طرف آیا۔۔۔۔
ماہرہ اسکی بات سنی ان سنی کرتی توجہ سے ناشتہ کرتی رہی۔۔۔ آنکھ اٹھا کر اسے دیکھا تک نا۔۔۔
فائز کے اندر کچھ کھٹکا۔۔۔ کسی گڑبڑ کا احساس شدت سے ہوا۔۔۔۔
یار اکیلے اکیلے۔۔۔ میرا ناشتہ کہاں ہے۔۔ وہ اسے جانچتی نگاہوں سے دیکھتا مزید گوہا ہوا۔۔۔
کیوں ۔۔۔ جہاں سے آئے ہو اسنے ناشتہ کروا کر نہیں بھیجا۔۔۔ وہ اسکی جانب دیکھتی پھاڑ کھانے والے انداز میں گویا ہوئی۔۔۔
فائز علوی اس وقت سفید کرتا شلوار میں ملبوس تھا جسکی آستینیں کہنیوں تک چڑھا رکھی تھیں۔۔۔ بال سلیقے سے بنے تھے۔۔۔
اسنے لب بھینچتے سنجیدگی سے ماہرہ کو دیکھا اور بنا کچھ کہے کچن کی جانب بڑھ گیا۔۔۔
اسکا یہ انداز ماہرہ کو آگ ہی لگا گیا۔۔۔ نا کوئی وضاحت نا صفائی۔۔۔ نظر اندازی اور خاموشی۔۔۔ اسکا دماغ چٹخنے لگی۔۔۔
اسنے ہاتھ میں تھاما ٹوسٹ پلیٹ میں پٹخا اور آستینیں چڑھا لیں۔۔۔
وہ ہوتی کون ہے آدھی رات کو تمہیں فون کرنے والی۔۔۔ اور تم۔۔۔ تم مجنوں کی اولاد فجر ہوتے ہی گھر سے نکل گئے۔۔ وجہ۔۔۔
وہ شاید اس وقت انگارے چبائے ہوئے تھی۔۔۔
کچن میں کام کرتا فائز گہری سانس خارج کر کے رہ گیا۔۔۔ مطلب وہ رات اسکی باتیں سن چکی تھی۔۔۔
شک کر رہی ہو مجھ پر۔۔۔ چائے کے لئے دودھ پین میں ڈالتا وہ سادہ سے انداز میں مستفسر ہوا۔۔۔
شک نہیں کر رہی فائز علوی۔۔۔ لیکن رقابت کا احساس میرے اندر جنم لے رہا ہے۔۔۔۔۔ میں نہیں برداشت کر سکتی یہ سب۔۔۔ وہ ہمیشہ سے ہی صاف گو اور منہ پھٹ تھی لیکن فائز کے معاملے میں اسکی یہ صلاحیت مزید ابھر آتی۔۔۔
میں ناشتہ کر لوں۔۔۔ وہ جیسے عاجز آ کر بولا۔۔۔
دوسروں کی بھوک پیاس نیند۔۔۔ سکھ چین سب اڑا کر تمہیں ناشتے کی پڑی ہے فائز علوی۔۔۔
وہ مزید بھرکی ۔۔۔۔
بھوک پیاس اڑی ہے یا مزید لگی ہے کیونکہ جن کی بھوک پیاس اڑ جائے وہ صبح ہی صبح ناشتہ نہیں کر رہے ہوتے وہ بھی تن تنہا بنا شوہر کا انتظار کئے۔۔۔
وہ جتنا بھرک رہی تھی وہ اتنا ہی اسے سادگی اور ہلکے پھلکے انداز میں ڈیل کررہا تھا۔۔۔
وہ لب بھینچ گئ۔۔۔ رخ موڑا اور غصے سے کسی غیر مری نقطے کو گھورنے لگی۔۔۔ وہ جان بوجھ کر اسے چڑا رہا تھا۔۔۔۔ کچھ ہی دیر میں وہ اپنی چائے کا کپ لئے اسکے پاس ہی آ کر بیٹھا۔۔۔
دیکھو ماہرہ میرے کچھ معاملات ہیں جن کے بارے میں میں تم سے یہ ہی کہوں گا کے ان سے دور رہو۔۔۔ اسنے نرمی سے بات کا آغاز کیا۔۔۔
کیوں دور رہوں۔۔۔ کون ہوں میں۔۔۔ راہ چلتی کوئی ایری غیری۔۔۔ واہ فائز صاحب واہ۔۔۔۔ شاباش ہے آپ پر۔۔۔ وہ کڑے تیوروں سے اسکی جانب رخ کرتی برسی۔۔
بیوی ہوں تمہاری۔۔۔ اور تمہارے ہر ہر معاملے میں دخل اندازی کروں لگی میں۔۔۔ حق رکھتی ہوں۔۔۔ چیز کر رکھ دوں گی ہر اس نیک پارسا کو جسنے میرے اور تمہارے درمیاں آنے کا سوچا بھی۔۔۔
غصے سے اسکے لب کپکپانے لگے تھے۔۔۔
فائز اسے دیکھ کر رہ گیا۔۔۔
اور تمہیں ایسا کیوں لگا ماہرہ۔۔۔
کیونکہ تمہاری حرکتیں مشکوک ہیں فائز علوی۔۔۔ اور یہ پہلی بار نہیں۔۔۔ اس لڑکی کا تمہاری زندگی میں بہت عمل دخل ہوتا جا رہا ہے۔۔۔ نا میں اندھی ہوں اور نا ہی بہری۔۔۔ صرف مصلحت کے تحت خاموش ہوں۔۔۔ دن میں کئ کئ بار تمہیں اسکے فون آتے ہیں۔۔۔۔ میں نظر انداز کر گئ۔۔۔ ہوگا اسے کوئی کام تم سے۔۔۔ لیکن آدھی رات کو فون کرنے کی کیا تک بنتی ہے اسکی۔۔ کس حق سے فون کرتی ہے وہ تمہیں۔۔ ۔ اور تم خدائی فوجدار بنے بھاگے بھاگے جاتے ہو اسکے پاس۔۔۔ وہ دوبدو ہوئی۔۔۔ اس وقت وہ اسقدر مشتعل تھی کی فائز نے خاموشی میں ہی عافیت جانی۔۔۔
یونیورسٹی چلو ماہرہ۔۔ اپنی پڑھائی دوبارہ سے شروع کرو۔۔۔
فائز کے بے تکے جواب پر اسکا دل چاہا فائز کا سر پھاڑ دے جو اب خاموش سا فرش کو گھورتا چائے کی چسکیاں لے رہا تھا۔۔۔
اور میرے یونیورسٹی جانے کا کیا انتظام ہے مسٹر فائز علوی۔۔۔ اسے تیکھے چتونوں سے دیکھتے اسنے سینے پر بازو باندھے۔۔۔
فائزہ نے سنجیدہ نگاہیں اٹھا کر اسے دیکھا۔۔۔
بیوی کے طور پر تم نے مجھے دنیا کے سامنے متعارف نہیں کروانا چاہتے۔۔۔ تو یونیورسٹی اپنے ساتھ مجھے کس حیثیت سے لے کر جاو گئے۔۔۔ وہ ایک ہی بار میں اسے خاموش کروا گئ۔۔۔
کہا نا فائز علوی تم ہو ہی مشکوک۔۔ مجھے کیا پتہ کیا کچھڑی پک رہی ہے تمہارے ذہین فطین سے دماغ میں۔۔۔ کس بنا پر تم ایک جائز رشتے کو دنیا سے چھپا رہے ہو۔۔۔۔لیکن ایک بات ہمیشہ یاد رکھنا فائز۔۔۔ محبت میں شراکت نہیں ہوتی۔۔۔ اور میری زندگی میں اسکا تصور بھی نہیں۔۔۔ ٹھیک ہے تمہیں مجھ سے محبت نہیں۔۔۔ لیکن میں تمہاری بیوی ہوں۔۔۔ صوفے سے اٹھتے وہ اپنی جانب اشارہ کر کے چبا چبا کر گویا ہوئی۔۔۔اگر
چار شادیوں والے تھڑڈ کلاس مقولے کے مطابق اپنے جائز شرعی حق کی آڑ میں تم نے مجھ سے بے وفائی کرنے کی کوشیش کی نا۔۔۔ سرخ نگاہوں سے اسے دیکھتے وہ رکی۔۔۔ وہ ساکت سا اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
تو خود کشی کر لوں لگی۔۔۔ اور اطمینان رکھنا اکیلی ہرگز نہیں کروں گی۔۔۔ اس سے پہلے تمہارا قتل واجب ہو گا مجھ پر۔۔۔ دنیا میں ساتھ نہین تو آگے تو ساتھ ہونگے۔۔۔ اب تم مجھے بے شرم کہو یا بے باک۔۔۔ میری محبت ایسی ہی ہے۔۔۔ ہمیشہ ذہن نشیں رکھنا یہ بات۔۔۔ ورنہ تم جانتے نہیں۔۔۔ ماہرہ فائز علوی کو۔۔۔ انگلی اٹھا کر چبا چبا کر کہتی وہ کمرے میں چلی گئ۔۔۔ جبکہ پیچھے فائز سر تھام کر رہ گیا۔۔ شادی کو چار دن نہیں ہوئے تھے اور بیوی مرنے مارنے پر تلی تھی۔۔۔۔
*******

No comments