Roshan Sitara novel 32nd Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Roshan Sitara novel 32nd Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Roshan Sitara is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels
Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front
of the world and improve their abilities in that field.
Roshan Sitara Novel by Umme Hania | Roshan Sitara novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Roshan Sitara novel by Umme Hania Complete PDF download
Online Reading
ناول "روشن ستارا"۔
مصنفہ "ام ہانیہ"۔
Official pg : Umme Hania official
بتیسویں قسط۔۔۔۔
کمرے میں عجیب سی جان لیوا خاموشی در آئی۔۔۔ فائز نے ہاتھ میں تھامی ٹرے بیڈ پر رکھی اور آنکھیں چندھی کئے ماہرہ کی جانب بڑھا۔۔۔
تم روئی ہو۔۔۔۔ انداز سوالیہ تھا۔۔
ماہرہ کا دل دھک سے رہ گیا۔۔۔۔ وہ نگاہیں چراتی اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔ اس سے پہلے کے اسکے پاس سے گزر کر آگے بڑھتی اسکی نازک کلائی فائز علوی کی مضبوط گرفت میں مقید ہوئی۔۔۔۔
تم روئی ہو۔۔۔ اب کے انداز پر یقین تھا۔۔۔
تمہیں میں کہاں سے روئی لگتی ہوں ۔۔ خوامخواہ اپنے اندازے مت لگاو۔۔۔ ماہرہ نے چڑ کر کہتے اپنا بازو اسکی گرفت سے چھڑوانا چاہا۔۔۔ مجال تھا جو ماہرہ کی کوئی بات اس شخص کی نگاہوں سے پوشیدہ رہ جاتی۔۔۔
فائزہ نے اسکی مزاحمت ترک کرتے انگلی اسکی ٹھوڑی کے نیچے رکھ کر اسکا چہرا اونچا کیا۔۔۔یوں کے وہ اب براہ راست اسکی سرخی چھلکاتی آنکھوں میں دیکھ سکتا تھا۔۔۔
آنکھوں سے آنکھیں ٹکرائیں اور ماہرہ کو خوف لاحق ہوا کے وہ پراسرار سا شخص آنکھوں کے راستے اندر اتر کر اسے سطر سطر پڑھ لے گا۔۔۔ وہ سرعت سے نگاہیں جھکا گئ۔۔۔
پلیز فائز۔۔۔ وہ بے بسی سے منمنا کر رہ گئ۔۔ ۔
کچن میں کیوں گئ تھی۔۔۔ میں نے منع کیا تھا نا ۔۔۔ میں آ کر سب کر لیتا ۔۔۔۔۔ کہیں کھانا بناتے ہاتھ بازو تو نہیں جلا بیٹھی۔۔۔ وہ تیزی سے سوچ کے گھورے ڈوراتا اسکی روئی روئی سی آنکھیں دیکھ اسی نتیجے پر پہنچا۔۔۔ انداز میں تشویش بھی تھی اور فکر بھی۔۔۔۔
ماہرہ نے غصے سے اسے دیکھا۔۔ پہلی مرتبہ نہیں کچھ بنا رہی تھی تمہارے لئے۔۔۔ ویسے تم پر فرض نہیں ہے کے روز تم ہی بیوی کی خدمتیں کرو گئے۔۔۔۔ کچھ میرے بھی فرائض ہیں فائز علوی۔۔۔ اور براہ کرم مجھے وہ نبھانے دو۔۔۔ کھانا پکانا شوہر کی نہیں بیوی کی ذمہ داری ہوتی ہے۔۔
مجھے یوں ٹریٹ مت کرو جیسے میں دوسری دنیا سے آئی ہوں۔۔۔ اپنے گھر کے کام ہر لڑکی کرتی ہے۔۔۔ شوہر کے لئے کھانا ہر بیوی بناتی ہے۔۔۔ پھر میں کوئی انوکھی تو نہیں۔۔۔ کہیں کی بھراس کہیں نکل رہی تھی۔۔۔ مام کے لئے وہ پتہ نہیں کونسی حور پری تھی۔۔۔ اور فائز علوی وہ بھی اسے پتہ نہیں کونسی ماورائی چیز سمجھ رہا تھا۔۔۔ اور وہ خود ایک عام سی لڑکی تھی جسکی عام سی چھوٹی چھوٹی خواہشیں تھیں۔۔۔ جسے وہ اپنے شوہر کے سنگ مکمل کرنا چاہتی تھی۔۔۔ ہر کوئی اپنی اپنی عقل کے مطابق اسے ٹریٹ کر رہا تھا۔۔۔
وہ اس سے دور ہوتی واش روم کی جانب بڑھی۔۔۔ یہ میری بیوی دن با دن اتنی سمجھدار کیسے ہوتی جا رہی ہے۔ وہ اسے واش سے اندر بڑھتا دیکھ شریر سی مسکرا ہٹ ہونٹوں پر سجائے بیڈ پر رکھے کھانے کے پاس آ کر بیٹھا۔۔۔
تمہاری بیوی صدا کی سمجھدار تھی مگر تمہیں اپنی عقل و فہم کے آگے وہ کبھی دکھائی ہی نہیں دیتی۔۔۔ وہ ناک چڑھا کر کہتی واش روم کا دروازہ بند کر گئ۔۔۔
واش بیسن کا نل کھولے پانی کے چھپاکے چہرے پر مارتے وہ اللہ کا اشکر ادا کر رہی تھی کے فائز کو مام کے یہاں آنے کا پتہ نہیں چلا ورنہ یقیناً اس کی طرح وہ بھی دلبرداشتہ ہو جاتا۔۔۔
کچھ ہی دیر بعد وہ چہرا تولیے سے تھپتھپاتی باہر آئی اور بیڈ پر فائز کے مقابل بیٹھ گئ۔۔۔ درمیان میں کھانے کی ٹرے تھی۔۔۔
اسنے گرم گرم بھاپ اڑاتی بریانی پلیٹ میں نکال کر فائز کے سامنے رکھی اور خاموشی سے اپنے لئے بھی نکالنے لگی۔۔۔
اچھی بنی ہے۔۔۔ تھینکس۔۔۔ میرے لئے اتنا تردد کرنے کے لئے۔۔۔ وہ پہلا نوالہ منہ میں ڈالتا گویا ہوا۔۔۔
ماہرہ نے ایک شکوہ کناں نگاہ سے اسے نوازا اور پھر سے کھانا کھانے لگی۔۔
یوں تو پھر مجھے ایک لمبی فہرست تیار کر کے تمہیں تھینکس بولنا چاہیے۔۔۔ کیونکہ تم نے تو میرے تین وقت کے کھانے کے ساتھ ساتھ چائے کافی اور سوپ کا بھی تردد کیا ہے۔۔۔ ماہرہ کا انداز جتلاتا ہوا تھا۔۔۔ یقینا اسے فائز کا انداز پسند نہیں آیا تھا۔۔۔
ہاں تو کر لو تم بھی۔۔۔ بلکہ تم تو بہت بے مروت لڑکی ہو۔۔۔ جھوٹے منہ شکریہ نہیں کہا۔۔۔ سامنے بھی فائز علوی تھا۔۔۔ جھت سے سر تاسف سے نفی میں ہلاتا گویا ہوا۔۔۔
بہت شکریہ جناب۔۔۔ لیکن میں تمہارا شکریہ ادا کرنے میں انٹرسٹڈ نہیں۔۔۔ اور یہ ہی توقع تم سے بھی رکھتی ہوں۔۔۔
رائتہ چاولوں پر ڈالتے اسنے سر جھٹکا۔۔۔
کیوں خود کو خوار کر رہی ہو ماہرہماہرہ۔۔۔ اس سب کی ضرورت نہیں۔۔۔ وہ سنجیدہ ہوا۔۔۔
اس لئے کیونکہ مجھے پتہ لگا تھا کے شوہر کے دل کا اراستہ اسکے معدے سے ہو کر گزرتا ہے۔۔۔ شاید اسی بہانے میں بھی بریانی کیساتھ ساتھ اپنے شوہر کے دل میں اتر جاوں۔۔۔ ورنہ تو چانسز کوئی نہیں۔۔۔ وہ چڑ کر گویا ہوئی۔۔۔ مطلب کے حد تھی۔۔۔
پر میرا شوہر اتنا ظالم ہے کے مجھے یہ کوشیش بھی نہیں کرنے دینا چاہتا۔۔۔ ابجے اسکا انداز پر تاسف تھا
اسکے اس انداز پر فائز نے اتنے سنجیدہ موڈ میں بھی بامشکل مسکراہت لبوں میں روکی۔۔۔
محبت کوکنگ اور کھانے پینے کی محتاج نہیں ہوتی۔۔۔ نا ہی آج تک کسی کو ان کاموں کی بدولت کسی سے محبت ہوئی ہے۔۔۔ وہ سادہ سے انداز میں شانے اچکا گیا۔۔۔
اچھا۔۔۔ پھر کیسے ہوتی ہے محبت۔۔۔۔
وہ پلیٹ چھوڑ کر سیدھی ہوئی اور براہ راست اسے دیکھنے لگی۔۔۔
یہ دلوں کے معاملات ہے سویٹ ہارٹ۔۔۔ اس پر کسی کا بس نہیں چلتا۔۔۔ پلیٹ صاف کر کے اسنے پلیٹ ٹرے میں رکھی۔۔۔
ماہرہ کھانے سے ہاتھ روکے یک ٹک اسے دیکھنے لگی۔۔۔
لیکن میں نے تو سنا ہے کے نکاح کے دو بولوں کے بعد محبت الہام کی صورت دو دلوں پر نازل ہوتی ہے۔۔۔ تمہارے معاملے میں ایسا کیوں نا ہوا فائز۔۔۔ یکدم ہی وہ سنجیدہ ہوگئ۔۔۔ فائز نظریں چرا کر رہ گیا۔۔۔
ماہرہ ایسی کوئی بات نہیں۔۔
وہ گہری سانس خارج کر کے رہ گی۔۔۔
کل سے یونیورسٹی جوائن کرو۔۔۔ وہاں جاو گی تو دھیاں دوسری طرف لگے گا۔۔۔ ورنہ یہاں اکیلی رہ رہ کر تم ناجانے سارا دن کیا کیا سوچتی رہو گی۔۔۔۔
اسکی بجائے اگر تم اظہار محبت ہی کر دو تو۔۔۔۔ وہ اسے دیکھتی ٹھہرے ہوئے انداز میں گویا ہوئی۔۔۔
اس بات کا واضح ثبوت یہ ہی ہے ماہرہ کے تم اس وقت میرے گھر میں میرے کمرے میری بیوی کی حیثیت سے موجود ہو۔۔۔ اور تمہیں کس طرح کی سیٹیسفیکشن چاہیے۔۔۔
اور میں یہاں پر کس طرح اور کس اندز میں موجود ہوں تم اس سے بھی باخوبی آگاہ ہو۔۔۔ ایک طنزیہ مسکراہٹ ماہرہ کے ہونٹوں پر ابھری۔۔۔
وہ میٹر نہیں کرتا ماہرہ۔۔۔ میری زندگی میں تمہارا مقام مسلم ہے۔۔۔ اور وہ مقام ہی میٹر کرتا ہے۔۔۔ کیوں اور کس انداز میں پھر یہ سب ثانوی رہ جاتا ہے۔۔۔
وہ بیڈ سے اٹھ کر برتن سمیٹ کر ٹرے اٹھاتا باہر نکل گیا۔۔۔
ماہرہ اسے دیکھتی رہ گی۔۔۔
کیا پیو گئ۔۔۔ چائے یا کافی۔۔۔ کچن سے اسکی اونچی آواز سنائی دی۔۔۔
جو آپ پلانا پسند فرمائیں زلے الہی۔۔۔ وہ بھی اسی کے انداز میں کہتی بیڈ پر آڑی تڑچھی لیٹ گئ۔۔۔
*****
پتہ نہیں ہمیں اس پراجیکٹ کے لئے مزید کتنا خوار ہونا پڑے گا۔۔۔ ایئر پیس سے وہاج خانزادہ کی جھنجھلائی سی آواز ابھری۔۔۔۔وہ جینز اور ٹی شرٹ میں ملبوس تھا۔۔۔ بال ماتھے پر گرے تھے جن میں وہ عادتاً ہاتھ چلا رہا تھا۔۔۔ ایک ہاتھ سے موبائل کان کو لگائے وہ سیڑھیاں اترتا آ رہا تھا۔۔۔
نیچے یال میں ایک طوفان بدتمیزی برپا تھا۔۔۔ فلور پر تھرکتے نیم برہنہ بدن اور کان پھارتا میوزک۔۔ وہ نیچے اترتے اترتے رک گیا۔۔۔ وہاں کان پڑتی سنائی نا دے رہی تھی۔۔۔
میکنیکل لیبارٹری کا وزٹ کرتا مرتسم لودھی اسکی بات سن کر مسکرا دیا۔۔۔
جبکہ ایسی ہی ایک مسکراہٹ صوفے پر براجمان فائز علوی کے لبوں کو بھی چھو گئ۔۔۔ جسکے بالکل سامنے شلوار قمیض اور دوپٹے میں ملبوس سونم جھک کر چائے کی ٹرے رکھ رہی تھی۔۔۔ فائز نے ایک نظر اسے دیکھا جو اب میز کے پاس نیچے بیٹھی چائے کپ میں نکالتی سنگل صوفے پر براجمان عظیم صاحب کو پیش کر رہی تھی۔۔۔
یہ کال کانفرینس تھی۔۔۔
تم ہو کہاں اور اتنا بے ہنگم شور۔۔۔ مرتسم لودھی مسکراتا ہوا مستفسر ہوا۔۔۔
وہ جس شخص سے ملنا ہے ہمیں۔۔۔ جسے اس شہر کا ٹیکنکل گرو مانا جاتا ہے۔۔ وہ محترم آج کل کسی لڑکی کا جوگ لئے اس کلب میں رل رہا ہے۔۔۔ اور اسکے پیچھے میں یہاں خوار ہو رہا ہوں۔۔۔
وہاج نیچے جانے کے بجائے واپس اوپر کو پلٹا۔۔
قوی امکان ہے کہ یہ شخص ہمیں ہماری ڈیمانڈ کے مطابق بہتریں کام کر کے دے گا۔۔۔
لیکن اس شخص نے ذلیل کر دیا ہے۔۔۔
چلو پھر بات ہوگئ۔۔ ابھی نیچے جا کر دیکھتا ہوں اسے۔۔۔ نیچے بات کرنا ناممکن تھا۔۔۔ تبھی وہ اور ہی کال منقطع کرتا نیچے کو بڑھا۔۔۔
******
یار پلیز اب اسے اتار دو۔۔۔ یہ تمبو لپیٹ کر اندر مت جانا ۔۔۔ ورنہ بہت سبکی ہوگئ میری۔۔۔ کہ میری دوست اتنی بیک ورڈ۔۔۔
گاڑی ایک عمارت کے سامنے رکی تو علایہ کی دوست مایا نے اسکے اوپراوڑھی میروں شال اس پر سے کھینچی۔۔۔
علایہ نے حیرت سے اچھلتے ایک نظر اسے دیکھا اور دوسری نظر ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے ڈرائیور کو۔۔۔ جسکے سامنے وہ بڑے ڈھرلے سے اسے بے حجاب کر چکی تھی۔۔۔
اس سے پہلے کہ علایہ اسے کچھ کہتی وہ اپنے اوپر لیا ہوا سٹالر بھی اتار کر خود گاڑی سے نکلتی گھوم کر اسکی طرف آئی۔۔۔۔
آجاو باہر۔۔۔
علایہ نے ایک گم صم سی نگاہ باہر روڈ پر آتے جاتے مردوں کو دیکھا اور اسکی خاموش نگاہیں مایا کے بے حجاب سراپے پر ٹک گئیں۔۔۔ جو گہرے گلے اور چھوٹی چھوٹی سلیوز میں دعوت نظارا پیش کر رہی تھی۔۔۔
مایا سے اسکی دوستی دو مہینے پہلے ہی ہوئی تھی وہ ایک بہت اچھی لڑکی کے طور پر آج تک اس سے پیش آئی تھی۔۔۔ مگر ابھی جو روپ اسنے مایا کا دیکھا تھا۔۔۔ یہ توقع سے پڑے تھا۔۔۔
آو نا باہر۔۔۔ اسنے ایک ادا سے بال جھٹکے۔۔۔۔
یوں۔۔۔ اس حالت میں۔۔۔ علایہ نے ایک نگاہ اپنے بجلیاں گراتے سراپے کو دیکھا۔۔۔
ابھی اگر یہاں مرتسم یا ماں ہوتی تو ڈرائیور کے سامنے اسکی اس بے حجابی پر اسکا کیا حال کرتیں۔۔۔
اوہ کم آن یار۔۔۔ چلو نا اندر چلتے ہیں۔۔۔ دیر ہو رہی ہے۔۔۔ سب ہمارا انتظار کر رہے ہیں۔۔۔
مایا نے اسے بازو سے کھینچ کر باہر نکالا ۔۔۔ علایہ نے ہراساں نگاہوں سے ارد گرد دیکھا۔۔۔
اچھا۔۔۔اچھا۔۔ ایک منٹ رکو تو سہی۔۔۔ وہ اسے ایک ہاتھ سے تھامے کھینچتے ہوئے اندر لیجا رہی تھی جبکہ یوں بے حجابی میں سڑک پر اتنے لوگوں کی موجودگی میں آگے بڑھنا اسکے لئے موت کے مترادف تھا۔۔۔ اسنے گھبرا کر تھوک نگلتے اسے روکا۔۔۔
اور سرعت سے دونوں بازوں میں ڈالا شفون کا ڈوپتہ کھول کر سر پر اوڑھا۔۔۔
گو کے وہ اسکے چاندنیاں بکھیرتے سراپے کی رعنائیاں مکمل طور پر چھپانے سے عاری تھا مگر نا لینے سے بہتر تھا۔۔۔
مایا اسے لئے دروازہ وا کر کے اندر داخل ہوئی۔۔
اندر سے آتی کانوں کو پھارٹی آواز میں کانوں پڑتی سنائی نا دے رہی تھی۔۔۔
چھوٹی سی راہ داری سے گزر کر سامنے کا منظر دیکھ علایہ کا دل بری طرح ڈھرکا۔۔۔ چہرے کی رنگت فق پڑنے لگی۔۔۔
وہ کوئی ریسٹورینٹ نہیں بلکہ کلب تھا جہاں مدہوشی میں موسیقی کی تھاپ پر مخالف صنف کی باہوں میں جھولتے صنف نازک کو دیکھ علایہ پر کپکپی طاری ہونی لگی۔۔۔
ہے مایا۔۔۔ دو لڑکیاں اور دو لڑکے مایا کو دیکھ گرمجوشی سے اسکی جانب بڑھے۔۔۔
ہیے گائز۔۔۔ وہ چہکتی ہوئی انکے گلے لگی۔۔۔ یہ علایہ ہے۔۔۔ میری دوست۔۔۔
ایک لڑکے کے گال کو بوسہ لیتی وہ اسے متعارف کروانے لگی۔۔۔
بیوٹیفل۔۔۔ وہی لڑکا مسمرائز سا اسے تکتا اسکی جانب ہاتھ بڑھا گیا۔۔۔
علایہ کا دل یکدم ہی ہر چیز سے اچاٹ ہوا تھا۔۔۔
مایا مجھے واپس جانا ہے۔۔۔ بنا دیر لئے وہ مایا کی جانب پلٹی اور تیکھے چتونوں سے گویا ہوئی۔۔۔
واٹ۔۔۔ ابھی۔۔۔ کچھ دیر رکو پھر چلتے ہیں۔۔۔ مایا نے بامشکل اپنی ناگواری چھپائی۔۔۔
نہیں مجھے ابھی کے ابھی واپس جانا ہے۔۔۔ اسے اب غصہ آنے لگا تھا۔۔۔ دل اپنی اس بے حجابی پر اور اس بے شرم ماحول میں سینکڑوں نامحروں کے درمیان الگ ڈھرک ڈھرک کر پاگل ہو رہا تھا۔۔۔ وہ اپنے باپ اور بھائی کا ماں یوں توڑ نہیں سکتی تھی۔۔۔
علایہ پلیز۔۔۔ یہ لوئر مڈل کلاس والی سوچ چھوڑ دو۔۔۔مایا تنک کر گویا ہوئی۔۔۔
لوئر مڈل کلاس ہے تو وہی سہی نا۔۔۔ علایہ ایک دم بھڑک اٹھی۔۔۔ تم نے مجھ سے جھوٹ بولا۔۔۔ یہاں کوئی برتھ ڈے نہیں۔۔۔
ہمارے ہاں برتھ ڈے ایسی ہی ہوتی ہے۔۔۔ مایا اس سے بھی تیز آواز میں گویا ہوئی۔۔۔۔تمہاری کلاس اور تمہاری برتھ ڈے تمہیں ہی مبارک۔۔۔ مجھے ابھی واپس جانا ہے۔۔۔ علایہ بنا لحاظ کے چلائی۔۔۔
میرے دوستوں کے سامنے جاہل مت بنو علایہ۔۔۔ کچھ دیر تک چلتے ہیں۔۔۔ مایا عاجز آ کر گویا ہوئی۔۔
میں جاہل ہی ہوں اور تم مجھے جاہل ہی رہنے دو۔۔۔ مجھے ابھی کے ابھی گھر جانا ہے۔۔۔
علایہ کے دل کو پتنگے لگے تھے۔۔۔ وہ بس جلد از جلد اس نا فہم ماحول سے نکلنا چاہتی تھی۔۔۔
ٹھیک ہے۔۔۔ تمہیں جانا ہے تو جاو۔۔۔ کس نے روکا ہے۔۔۔ مگر میں ابھی نہیں جا رہی۔۔۔ وہ غصے سے کہتی آگے بڑھ گئ۔۔ جبکہ علایہ اسکی اس طوطا چشمی پر حیرت سے گنگ آنکھیں پھاڑے اسے دیکھتی رہ گئ۔۔۔
پھر ایک جھٹکے سے واپس پلٹی اور ایک کونے میں جا کر کلچ سے موبائل نکالنے لگی۔۔۔ ارادہ ڈرائیور کو کال کرکے اسے بلانے کا تھا۔۔۔ بھائی کو پتہ چلتا کے وہ اس وقت کس مشہور زمانہ بد جگہ پر موجود ہے تو شاید وہ اسے ویسے ہی مار دیتا۔۔۔
اپنی بے وقوفی پر اسکی آنکھیں بھر آئیں۔۔۔
ہیے بیوٹفل۔۔۔ تمہیں اتنا غصہ کیوں آتا ہے۔۔۔ ویسے تمہاری اس خوبصورت سی ناک پر غصہ جچتا بھی بہت ہے۔۔۔ ویسے ہمیں بھی تو موقع دو نا اس حسن کو خراج پیش کرنے کا۔۔۔
اپنے پیچھے انتہائی قریب سے ابھرتی آواز سن کر کر وہ خوف سے اچھلی۔۔۔ ہاتھ سے کلچ چھوٹ گیا۔۔۔ جسے اسنے سرعت سے نیچے سے اٹھاتے ہاتھ میں دبوچہ۔۔۔
سامنے وہی لڑکا تھا جس سے مایا اسے متعارف کروا رہی تھی۔۔۔
ہاتھ میں وائن کا گلاس تھامے وہ اسے عجیب سی نگاہوں سے تک رہا تھا۔۔۔
علایہ کے بدن پر چیونٹیاں سی رینگنے لگی۔۔۔۔
آنچل سر سے بار بار پھسل رہا تھا۔۔۔ اسنے سختی سے سر پر اوڑھا آنچل گلے کے قریب سے دبوچہ۔۔۔
تم کیوں ہو اتنی حسین سوہٹ ہارٹ۔۔۔
اسنے بے خودی میں ہاتھ بڑھاتے اسکی گال کو چھوا۔۔۔
علایہ نے بے طرح اسکا ہاتھ جھٹکا اور تیزی سے پلٹی۔۔۔
اس سے پہلے کے وہ وہاں سے جاتی ڈینی نے اسکی بازو پکڑتے اسے اپنی جانب کھینچا یوں کے وہ سیدھا آ کر اسکے سینے سے ٹکرائی۔۔۔ وہ اسے بنا سمبھلنے کا موقع دیئے اسکے گرد بازووں کا حصار تنگ کر گیا۔۔۔
علایہ کو یوں محسوس ہوا جیسے اسے جلتے انگاروں نے چھو لیا ہو۔۔۔
وہ ترپ کر اسے سے زرا پیچھے ہٹی اور پوری قوت سے اسکے چہرے پر تھپڑا جڑا۔۔۔
یو۔۔۔۔ ڈینی کو اس دھان پان سی لڑکی سے اس دیدہ دلیری کی توقع نا تھی۔۔۔ تبھی غم وغصے سے پاگل ہوتا اس پر پل پڑا۔۔۔
علایہ جو اس سے دور ہو کر سر پٹ بھاگنے والی تھی اسنے علایہ کو اسکے بالوں سے دبوچتے اپنے قریب کیا۔۔۔
وہ تکلیف سے بلبلا کر رہ گئ۔۔۔
آنچل ہاتھا پائی میں وہیں کہیں گر گیا۔۔۔
تم مجھ پر ہاتھ اٹھاو گئ۔۔۔ تمہیں تو تمہاری اوقات میں بتاتا ہوں بلڈی بچ۔۔۔ کے ایک مرد پر ہاتھ اٹھانے کا انجام کیا ہوتا ہے۔۔۔
وہ اسے بالوں سے کھینچے اپنے ساتھ گھسیٹتا جا رہا تھا۔۔۔
اسکے انداز دیکھ خوف کی ایک لہر علایہ کی ریڈھ کی ہڈی تک سرائیت کر گئ۔۔۔ اسکی فلک شگاف چیخیں سینوں میں ڈراریں ڈال رہی تھیں۔۔۔ مگر کان پھاڑتے میوزک میں وہ اپنی موت آپ مرتی جا رہی تھی۔۔۔
وہ اسکی وحشانہ گرفت سے خود کو چھڑوانے میں ہلکان ہوتی اسکے ساتھ گھسیٹتی جا رہی تھی۔۔۔۔ سامنے ہی قطار میں کمرے بنے دکھائی دے رہی تھے۔۔۔ کمروں کو دیکھ اس وحشی کی نیت سمجھتے اسکا دل بند ہونے کے در پر ہوا۔۔۔
اسنے کمرے تک پہنچنے سے پہلے ہی پوری قوت سے اسکے ہاتھ پر کاٹا۔۔۔
آہہہ۔۔۔ وہ بلبلا کر پلٹا اور بھاری ہاتھ کا تھپر اسکے نازک گال پر رسید کیا وہ لڑکھرا کر رہ گئ۔۔۔ اس سے پہلے کے وہ سمبھلتی کے اس وحشی نے اسے بازووں سے جھنجھوڑ۰تے دیوار میں دے مارا۔۔۔
اس ستم ظریفی پر وہ اندر تک ہل کر رہ گئ۔۔۔ بھاری مردانہ ہاتھ کے تھپر سے ہی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا تھا۔۔۔ مزید سر کا پچھلہ حصہ دیوار میں لگنے سے اسے اپنے حواس ساتھ چھوڑتے محسوس ہوئے۔۔۔
وہ وحشانہ پن سے اسکی جانب بڑھا اور پھر سے اسے بازووں سے کھینچے اپنے ساتھ گھسیٹنے لگا۔۔۔۔
اس ہاتھا پائی میں اسکے بازو تک پھٹ گئے۔۔۔ اس بار اس میں اتنی ہمت بھی نا بچی تھی کے وہ مزاحمت ہی کر پاتی۔۔۔ اور وہ شخص کسی بے جان گڑیا کی مانند اسے کھنچتا کمرے کا دروازہ کھول رہا تھا۔۔۔
جبکہ علایہ کو لگا اسکی روح پرواز کر جائے گئ۔۔۔ اسکی اتنی سی غلطی اسکے گلے کا طوق بن گئ تھی۔۔۔
******

No comments