Roshan Sitara novel 31st Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Roshan Sitara novel 31st Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Roshan Sitara is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels
Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front
of the world and improve their abilities in that field.
Roshan Sitara Novel by Umme Hania | Roshan Sitara novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Roshan Sitara novel by Umme Hania Complete PDF download
Online Reading
ناول "روشن ستارا"۔
مصنفہ "ام ہانیہ"۔
Official pg : Umme Hania official
اکتیسویں قسط۔۔۔
فاہا نیلے اور سرخ رنگ کے پرنٹڈ لان کے سوٹ میں ملبوس ہم رنگ آنچل سر پر اوڑھے بعجلت کمرے سے نکلی۔۔۔ جب سے زبیر لغاری گرفتار ہوا تھا زندگی سہل ہو گئ تھی۔۔۔ وہ آرام سے یونیورسٹی آ جا رہی تھی۔۔۔ پڑھائی بھی دل لگا کر رہی تھی۔۔۔
پہلے پہل جو اسے یونیورسٹی کی پڑھائی اپنے بس کا روگ نا لگتی تھی اب وہ بہت آسانی سے سب مینج کرنے لگی تھی۔۔۔
آج بھی وہ یونیورسٹی سے واپس آتے ہی سو گئ تھی۔۔۔ اب آنکھ کھلی تو بھوک کی شدت حد سے سوا تھی۔۔۔ اسی غرض سے وہ فریش ہوتے ہی باہر کو لپکی۔۔۔۔ دفعتا سامنے سے چلے آتے نیلی پینٹ اور سفید شرٹ میں ملبوس نک سک سے تیار مرتسم لودھی کو دیکھ ٹھٹھک کر رکی۔۔۔
وہ بال پیچھے کو سیٹ کئے شرٹ کی بازو کہنیوں تک فولڈ کئے نہایت فارمل انداز میں کہیں جانے کو تیار تھا۔۔۔ وہ ہر حلیے میں ہی توجہ کھینچ لیتا تھا۔۔۔ آج تو بات کچھ اور تھی۔۔وہ ہاتھ میں تھامے موبائل پر مصروف سا کچھ کرتا چلا آ رہا تھا۔۔۔
اسکی پراسرار شخصیت سے چھلکتی مقناطیسیت سے فاہا لودھی خود کو بھی اسکی جانب کھنچتا محسوس کر رہی تھی۔۔۔
دل معمول سے کہیں زیادہ رفتار پکڑ چکا تھا۔۔۔
دفعتاًً وہ مصروف سا اسکے قریب سے گزرتا ٹھٹھک کر رکا ایک سرسری نگاہ موبائل کی سکرین سے ہٹا کر اسے دیکھا۔۔ اور لبوں پر مسکراہٹ سی ابھری ۔۔۔ دوستانہ مسکراہٹ۔۔۔
فاہا کا دل ڈوب کر ابھرا۔۔۔ وہ وہیں کہیں اسکی مسکراہٹ میں کھو گئ۔۔۔
کیسی ہو فاہا۔۔۔ اور یونیورسٹی تو ٹھیک چل رہی ہے نا۔۔۔ پھر سے تو کوئی پرابلم نہیں بنی ۔۔۔۔
اسکا اور فاہا کا آمنا سامنا بہت کم کم ہی ہوتا تھا۔۔۔ شازو نادر ہی۔۔۔۔۔ یونیورسٹی میں ایک دوسرے پر نظر پر جاتی لیکن تب بھی دونوں اجنبیوں کی طرح ایک دوسرے کے پاس سے گزر جاتے۔۔۔
بعض اوقات وہ دوستوں کے ساتھ لائبریری میں یا لان میں آتا جاتا دکھائی دے جاتا۔۔۔
بعض اوقات فاہا اپنی دوستوں کے ساتھ کینٹین میں ہوتی۔۔۔ گھر میں بھی دونوں کا آمنا سامنا کم کم ہی ہوتا کے مرتسم لودھی آج کل فائز علوی کی بدولت بہت مصروف تھا۔۔۔ فائنل سر پر تھے اسکے علاوہ فائز کا پڑاجیکٹ انہیں سکھ کا سانس لینے نہیں دے رہا تھا۔۔۔ لیب کے اندر کا سارا کام فائز کے سر تھا۔۔۔ وہ سارا سارا دن لیب میں گزار دیتا۔۔۔ جبکہ باہر کی ساری بھاگ ڈور مرتسم اور وہاج کے سر تھی۔۔۔۔۔ اسی غرض سے وہ ہر وقت کسی نا کسی کام کے لئے بھاگ ڈور کر رہے ہوتے۔۔۔ وہ اکثر رات گھر لیٹ ہی آتا۔۔۔
اسی لئے اب ملاقات ہوئی تو وہ حال چال دریافت کر گیا۔۔۔ انداز انتہائی فارمل اور سادہ تھا۔۔۔
ہمم۔۔ ٹھیک ہوں۔۔۔ اور سب ٹھیک چل رہا ہے۔۔۔۔ وہ بامشکل مسکراہٹ لبوں پر سجاتی بدقت گویا ہوئی۔۔۔
گڈ۔۔۔ وہ ہلکا سا مسکرا کر سر خم کرتا پھر سے موبائل کی سکرین کو دیکھتا آگے بڑھ گیا۔۔۔ جبکہ فاہا اپنے سینے ہر ہاتھ رکھے منتشر ہوتی ڈھرکنوں کو ہی اعتدال پر لاتی رہ گئ۔۔۔ تھک ہار کر اسنے گہری سانس خارج کی۔۔۔۔۔
مرتسم لودھی کی نگاہوں میں اسکے لئے احترام تھا احساس ذمہ داری تھی جو کسی بھی فیملی میمبر کے لئے اسکی نگاہوں میں ہوتی۔۔۔ لیکن وہ اپنے دل کا کیا کرتی جو شتر بے مہار ہر مصلحت بالائے طاق رکھے ایک الگ ہی ڈگڑ پر چلنے لگا تھا۔۔۔۔
یہ یک طرفہ محبت بھی بہت خوار کرواتی ہے۔۔۔
پچھلے چند دنوں میں اسنے دل کڑا کرتے خود کو کی چیلنجز دیئے تھے۔۔۔ بالا ہی بالا وہ اپنی کم ہمتی اور لو کانفیڈینس پر قابو پانے کی کوشیش کر رہی تھی۔۔۔
اس بار اسنے مرتسم لودھی کے کہے گئے الفاظ پر شدید ردعمل دکھانے کے باعث اسے قبول کیا تھا۔۔۔
اور قبول کرنے بعد اسنے اگلا قدم بڑی ہمت سے اپنے لئے اٹھایا تھا۔۔۔ جس میں وہ اپنے اندر موجود خامیوں کی نشاندہی کر کے ان پر کام کرتے انہیں خود سے دور کرنے کی کوشیش کر رہی تھی۔۔۔اور یونیورسٹی میں چند اچھی دوستوں کی دوستی کے باعث یہ کام آسان ہو گیا تھا۔۔۔
کہاں وہ اپنی حویلی کی چار دیواری میں رہنے والی ہس مکھ اور سادہ سی لڑکی ۔۔ جسکی ساری زندگی حویلی کی چار دیواری میں اپنے باپ سے لاڈ اٹھواتے گزری تھی وہ کیا جانتی اس فریبی دنیا کی مکاریاں۔۔۔۔
سکول و کالج کے بعد حویلی کی چار دیواروں میں بھی اسنے کسی غیر محرم کو اپنے اسقدر قریب نہیں دیکھا تھا جتنا یونیورسٹی کے کو سسٹم میں آ کر وہ دیکھ رہی تھی۔۔ اس لئے پہلے پہل اسکا بوکھلا جانا فطری تھا۔۔
اب تو وہ اپنے اندر بہت سی تبدیلیاں لے آئی تھی۔۔۔ پہلی دفعہ کلاس میں سب کے سامنے پریزنٹیشن دیتے وہ تھر تھر کانپ رہی تھی۔۔۔ وہ اس دن کو کبھی زندگی میں نہیں بھول سکتی تھی۔۔۔ جسکے بعد وہ گھر آ کر بہت روئی تھی۔۔۔ اسکے بعد اگلی پریزنٹیشن کے وقت اسنے شیشے کے سامنے کھڑے ہو کر اتنی دفعہ پریکٹس کی تھی کے حیرت انگیر طور پر اگلی پریزنٹیشن بہت اچھی نا سہی لیکن پہلی پریزنٹیشن سے بہت بہتر تھی۔۔۔ اور یہیں سے رفتہ رفتہ اسکا اعتماد کچھ بحال ہونے لگا تھا۔۔۔ اتنا کے اب اگر کوئی کلاس میٹ بھی اسے روک کر کوئی بات کرتا تو وہ پراعتمادی سے اس سے بات کر لیتی۔۔۔
ایک مرتسم ہی تھا جسکے سامنے اسکی زبان تالو سے چپک جاتی۔۔۔۔ یہ اسکی شخصیت کا روب و دبدبا تھا یا دل کی بدلتی حالت۔۔۔ وہ اسکے سامنے گنگ ہو جاتی۔۔۔ حالانکہ پہلے ایسا نا تھا۔۔۔ پیلے تو وہ تڑ تڑ زبان سے اسکے ساتھ مقابلہ کرتی تھی۔۔۔ یہ سب تو دل کی کیفیت بدلنے کے بعد سے ہو رہا تھا۔۔۔
کاش۔۔۔ کاش اس شخص کو اس سے محبت ہو جائے۔۔۔ وہ دل میں حسرت کر کے رہ گئ۔۔۔ پھر خود ہی خود پر ہستی کچن کی جانب بڑھ گئ۔۔۔ کیا بھلا یہ ممکن تھا۔۔۔
****"
موسم ابر آلود تھا۔۔۔ گویا بارش تو شروع نا ہوئی تھی جبکہ ٹھنڈی ہوا کے جھونکے اس حبس زدہ ماحول میں ہر زی روح کو بھلے محسوس ہو رہے تھے۔۔
کچن کی کھلی سلائیڈ سے اندر آتے باد صبا کے جھونکوں نے اپارٹمنٹ کے اندر کا ماحول بھی خاصا خوشگوار بنا ڈالا تھا۔۔۔
ایسے میں ماہرہ ڈھیلی سی سفید ٹی شرٹ اور ٹراوز میں ملبوس سرخ سٹالر گلے میں گھما کر ڈالے کچن میں کھڑی رائتہ تیار کر رہی تھی۔۔۔
بال ڈھیلے سے جوڑے میں ملبوس تھے البتہ بالوں کی چند لٹے چہرے کے اطراف میں بکھری تھیں۔۔۔
چولہے پر بریانی دم پر پڑی تھی۔۔۔ وہ اب پہلے سے کافی بہتر اور فریش تھی۔۔ ہونٹوں پر مسکراہٹ جبکہ آنکھوں میں چمک تھی۔۔۔
فائز ابھی تک اسکے کھانے پینے کا خود سے خیال رکھتا تھا۔۔۔ گھر میں موجود ہوتا تو اسے کسی کام کو ہاتھ تک نا لگانے دیتا۔۔۔
پہلے ہی وہ اپنا ہر کام خود کرتا تھا اب بھی وہ منٹوں میں ہر کام کر کے فارغ ہو جاتا۔۔۔ خواہ گھر کو ویکیوم کرنا ہوتا یا اپنے کپڑے استری کرنا ہوتے۔۔۔ حتکہ وہ جھٹ پٹ برتن تک دھو ڈالتا۔۔۔ وہ بہت نفاست پسند تھا۔۔۔ اسکا اپارٹمنٹ ہمہ وقت سمٹا رہتا۔۔۔
ماہرہ تو اسکے ہاتھوں کی تیزیاں ہی ملاخظہ کرتی رہ جاتی۔۔۔
ماہرہ کے دم سے وہاں کوئی بکھیرا ہوتا سو ہوتا ورنہ اسنے فائز کی آج تک کوئی چیز بکھری ہوئی نا دیکھی تھی۔۔۔
وہ صدا کی لاپرواہ تھی اب بھی اسکی وہی روش تھی۔۔۔
فائز نے اپنی ہر چیز بہت سلیقے سے رکھی ہوتی وہ پرفیوم کی شیشیاں ہوتی یا مرچ مصالحوں کی ڈبیاں۔۔۔ سب سے پیچھے سب سے بڑی پھر روفتہ رفتہ اس سے چھوٹی۔۔۔ ماہرہ جب کو ایک چیز اٹھانے لگتی سب کی ترتیب بے ترتیب ہو جاتی۔۔۔
فائز کی نظر پڑتی تو وہ خاموشی سے بنا اسے کچھ کہے سب کچھ دوبارہ سے سیٹ کر دیتا۔۔۔
تولیہ صوفے پر یا بیڈ پر پڑا ملتا تو اٹھا کر بالکنی میں پھیلا دیتا۔۔۔
وہ کھانا کھا کر جہاں دل چاہتا گلاس اور برتن رکھ دیتی۔۔۔ فائز چپ چاپ سب اٹھا کر سنک میں رکھنے کے ساتھ کھڑا کھڑا سب دھو بھی ڈالتا۔۔۔
وہ شازو نادر اگر چائے بنا ہی لیتی تو کاونٹر ٹاپ پر چائے کے کئ گھونٹ قسمت کی ستم ظریفی پر ماتم کناں ہوتے۔۔۔ برتن وہیں چولہے اور کاونٹر ٹاپ پر بکھرے پڑے ہوتے۔۔ بعض اوقات تو وہ بچا ہوا دودھ ویسے ہی بنا ڈھانپے کاونٹر ٹاپ پر پڑا رہنے دیتی۔۔۔۔ فائز کا کچن میں چکر لگتا تو وہ اپنا کچن میں آنے کا مقصد بھول کر بکھیرا سمیٹنے لگتا۔۔۔
ماہرہ اسے کافی دنوں سے آبزرو کر رہی تھی۔۔۔ اور اپنے باعث اسکا بڑھتا کام دیکھ وہ دل ہی دل پشیمان بھی تھی۔۔۔ یہ ہی وجہ تھی کہ اب وہ خود ان چیزوں کا خاص خیال رکھتی۔۔۔ وہ پوری کوشیش کرتی کے اسکے باعث فائز کو آسانی نہیں مل سکتی تو اسکا کام بڑھے بھی نا۔۔۔
اسی لئے آج اسکے گھر سے جانے کے بعد وہ اسکے لئے لنچ تیار کر رہی تھی۔۔۔ کوکنگ میں وہ اتنی اناڑی بھی نا تھی۔۔۔ پہلے بھی کچھ نا کچھ بناتی رہتی تھی۔۔۔ اور فائز کی تو پسند کی وہ ہر چیز بنا لیتی تھی۔۔۔
بس فرق صرف یہ تھا کے پہلے وہ سب ملازموں کی ایک فوج کی نگرانی میں کرتی تھی ۔۔۔ جو ہر چیز تیار کر کے رکھتے اور اسکی کوکنگ مکمل ہونے کے بعد سب کچھ سمیٹ بھی دیتے۔۔۔ لیکن اب وہ سب کچھ خود ہی کر رہی تھی۔۔۔۔
وہ خوش تھی اور مطمیئں بھی۔۔۔ ہلکی سی مسکراتے ہونٹوں پر سجائے ہولے سے کچھ کنگناتے اسنے رائتہ تیار کر کے فریج میں رکھا۔۔۔ ابھی پلٹی ہی تھی کے دروازے ہر دستک کی آواز سنائی دی۔۔۔
وہ مسکراتی ہوئی دروازے کی جانب بڑھی۔۔ غالباً فائز آ گیا تھا۔۔۔ لیکن وہ کبھی دروازہ کھٹکھٹاتا نہیں تھا۔۔۔ اسکے پاس فلیٹ کی چابی تھی جسکے باعث وہ باآسانی اندر آ جاتا تھا۔۔۔
اسی اڈھیر پن میں آگے بڑھتے اسنے دروازہ وا کیا۔۔۔
اوہ مائے گاڈ۔۔۔ مام آپ۔۔۔
دروازہ وا کرتے ہی سرمئ ساڑھی میں بالوں کا میسی جوڑا بنائے نفاست سے کئے گئے میک آپ اور ڈائمنڈ ائیر رنگ پہنے کھڑی صائمہ بیگم کو دیکھ کر وہ خوشی سے اچھلتی ان سے لپٹ گئ۔۔۔
کیسی ہے میری گڑیا۔۔۔ وہ اسکا چہکتا چہرا ہاتھوں میں تھامے محبت سے گویا ہوئیں۔۔۔
بالکل پرفیکٹ۔۔۔ آپکے سامنے ہوں۔۔۔ آپ بتائیں کیسی لگ رہی ہوں۔۔ وہ ان سے پیچھے ہٹتی دونوں باہیں وا کر کے انہیں دائیں بائیں سے گھوم کر دکھاتی گویا ہوئی۔۔۔
ارے اندر آئیے نا آپ۔۔۔ یہیں کیوں کھڑی ہیں ابھی تک۔۔۔
وہ انکا ہاتھ تھام کر انہیں اندر لے آئی۔۔۔
صائمہ بیگم ناقدانہ انداز میں ہر طرف نگاہیں گھماتیں اندر داخل ہوئیں۔۔۔
مائے گاڈ ماہرہ۔۔۔ تم یہاں رہ رہی ہو۔۔۔ اتنی گرمی میں۔۔ وہ لاوئنج میں داخل ہوتے ہیں ساڑھی کا پلو جھلاتیں نخوت سے گویا ہوئی۔۔۔ گو کے موسم کے باعث لاوئنج کا ماحول کافی خوشگوار تھا لیکن پھر بھی چوبیس گھنٹے ائیر کنڈیشن میں رہنے والی کو وہ گرم لگ رہا تھا۔۔۔
ایک پل کو ماہرہ کے چہرے پر رقصاں مسکراہٹ سمٹی۔۔۔
کتنی گرمی ہے یہاں۔۔۔ ہمارے گھر کے نوکر بھی اتنی گرمی میں نہیں رہتے ۔۔۔ اور تم۔۔۔ تم ان حالاتوں میں سروائیو کر رہی ہو۔۔۔ وہ غم و غصے سے پاگل ہو رہی تھیں۔۔۔
مام۔۔۔ کمرے میں سپلٹ لگا ہے۔۔۔ آپ پلیز اندر چلیئے نا یہاں واقعی گرمی ہے۔۔۔ وہ بدقت مسکرائی۔۔۔۔ فائز نے اپنے کہے کے مطابق اگلے روز ہی اسکے لئے کمرے میں اے سی لگوا لیا تھا۔۔۔ اور اس کے لئے اسکا بجٹ کس حد تک متاثر ہوا ہو گا وہ باخوبی جانتی تھی یا شاید اسے کہیں سے لان ہی نا لینا پڑ گیا ہو۔۔۔
کمرے میں مائے فٹ۔۔۔ تم سارا دن کمرے میں تو قید نہیں رہ سکتی نا۔۔۔ یہ ہی وہ زندگی ہے جہاں میں تمہیں سسک سسک کر دن کاٹتے نہیں دیکھ سکتی تھی۔۔۔
یہ اوقات ہے اس دو کوڑی کے تھرڈ کلاس گھٹیا انسان کی۔۔۔ چاہیے اسے شہزادی اور۔۔۔
کیا مطلب ہے آپکا مام۔۔۔ مام کو تلخی سے اپنی کھولن نکالتے دیکھ وہ بھی تلخی سے گویا ہوئی ۔۔ نہیں۔۔۔ کس بنیاد پر آپ اسے گھٹیا بول رہی ہیں۔۔۔ کیا کیا ہے اسنے۔۔۔ اسکی سزا یہ ہے کے اسنے آپکی بگڑی ہوئی بیٹی کی چاہت قبول کرتے اسے اپنایا۔۔۔
اسکا لہجہ تلخ تھا۔۔ اور انداز سوالیہ۔۔۔ جیسے آج وہ ماں سے کلیئر بات کرنا چاہتی ہو۔۔۔
کل تک وہ فائز سے کئے وعدے کی پابند تھی۔۔۔ اور اسی غرض سے وہ اسکے اور مام کے بیچ چلتی سرد جنگ میں نہیں پڑتی تھی۔۔
لیکن آج بات اور تھی۔۔۔ رشتے بدل چکے تھے اور مقام بھی ۔۔۔ اور شوہر کی ناقدری و بے توقیری اسے کسی صورت منظور نا تھی۔۔۔
سونے پر سہاگہ کے وہ اس وقت وہاں تھا بھی نہیں تبھی تو وہ لمحوں میں ہائپر ہوگئ۔۔۔
اور کون۔۔ کون ہوں میں۔۔۔ کوئی آسمان سے اتری حور پری۔۔ آپکی بیٹی ہوں مام۔۔۔ اس لئے یوں تعریفوں کے پل باندھ رہی ہیں آپ میرے لئے۔۔ ماں کو اپنا بچہ پوری دنیا سے پیارا لگتا ہی ہے۔۔۔
آج فائز کی ماں زندہ ہوتی تو وہ بھی اسکے لئے تعریفوں کے پل باندھ لیتیں۔۔۔ لیکن حقیقت تو یہ ہی ہے کے وہ ایک شہزادہ ہے۔۔ ہر دلعزیز۔۔۔ جسکی تعریف راہ چلتے بھی کریں گے سوائے آپکے۔۔۔۔۔ جسنے آپکی نکمی۔۔۔ کام چور۔۔۔ سست اور کاہل بیٹی کو اپنا کر معتبر کیا ہے۔۔ اور پلیز۔۔۔۔ پلیز اگر آپکو یہ ہی فضول باتیں کرنی ہیں تو معذرت۔۔۔
بہت معذرت میں اپنے شوہر کے خلاف ایک لفظ نہیں سن سکتی۔۔۔ وہ غصے سے کہتی وہاں بنا رکے سیدھا کمرے میں آئی اور پوری قوت سے دروازہ بند کیا۔۔۔
جبکہ صائمہ بیگم حق دق سی بیٹی کی صورت دیکھتی رہ گئ تھیں۔۔۔
کچھ دیر بعد ماہرہ کو قدموں کے دور جانے اور پھر دروازہ بند ہونے کی آواز سنائی دی تو وہ کرب سے سر تھامتی بیڈ پر ڈھنے کے انداز میں بیٹھی۔۔۔
سر بری طرح درد کرنے لگا تھا۔۔۔ کتنی خوش تھی وہ صبح سے۔۔۔ اور مام نے ایک لمحے میں اسکی ساری خوشی کافور میں بدل دی تھی۔۔۔
خاموش آنسو لکیر کی مانند اسکی آنکھ سے پھسلے۔۔۔
ابھی صد شکر تھا کے مام فائز کے گھر آنے سے پہلے واپس چلی گئ تھی۔۔۔ ورنہ اگر وہ وہاں اسکے گھر آ کر اسی کے سامنے فائز سے کچھ کہتیں تو اس کے لئے ڈوب مرنے کا مقام تھا۔۔۔
ابھی اسے اپنی ہی شش و پنچ میں الجھے کچھ وقت گزرا تھا جب کچن سے کھٹر پٹر کی آوازیں سنائی دیں۔۔۔
وہ چونک کر سیدھی ہو بیٹھی اور رگڑ کی آنسو صاف کئے۔۔۔ یقیناً باہر فائز واپس آ گیا تھا۔۔۔ اور حسب معمول اسکی بھوک کا احساس کرتے وہ سیدھا کچن ہی میں گیا تھا۔۔۔
اسکا دل پھر سے بھر آیا۔۔۔
وہ شخص لمحہ لمحہ اسکا خیال رکھتا تھا۔۔۔ اسکی چھوٹی سے چھوٹی ضرورت کا خیال رکھتا۔۔۔ اور وہ۔۔۔ اسنے ہاتھ کی مٹھی ماتھے پر ماری۔۔۔
آج ہی اسکے لئے کچھ بنا رہی تھی اور آج ہی سب بیچ میں چھوڑے وہ موڈ بنا کر کمرہ نشین ہو گئ تھی۔۔۔
دفعتاً کمرے کا دروازہ وا ہوا اور نیوی بلو قمیض شلوار میں ملبوس فائز علوی ہاتھ میں تھامی ٹرے میں اسی کی بنائی بریانی اور رائتہ رکھے اندر داخل ہوا۔۔۔ بازو کہنیوں تک فولڈ کر رکھے تھے جبکہ بال ماتھے پر لاپرواہی سے بکھرے تھے۔۔۔
ماہرہ نے چہرا اٹھا کر اسے دیکھا۔۔۔ جبکہ وہ اسکی روئی روئی سی سرخ آنکھیں دیکھ بری طرح ٹھٹھکا۔۔۔
******
علایہ سرخ اور سکن کلر کے کمبینشن کا سٹائلش ڈریس ذیب تن کئے بالوں کا فرنٹ سے ٹوسٹ اینڈ ٹرن سٹائل بنائے ہوئے تھی۔۔۔ اطراف سے چند لٹیں چہرے کے گرد پھیلیں تھیں جبکہ باقی کی آبشار پشت پر لہرا رہی تھی۔۔۔
ہلکی سی فاونڈیشن کے بعد ہی اسکی دمکتی رنگت مزید دمک اٹھی تھی۔۔۔
مسکارے سے لڈی پلکوں کو مزید کاجل سے دو آتشہ بنایا گیا تھا۔۔۔ لبوں پر ہلکا سا لپ گلوس لگائے وہ کانچ کی گڑیا ہی لگ رہی تھی۔۔۔ سرخ شفون کا ڈوپتہ دونوں بازوں میں ڈالے اسنے خود کو ایک نظر آئینے میں دیکھا۔۔ اور خود کو یوں دیکھ وہ خود ہی خود پر سے نگاہیں ہٹانے سے انکاری ہو گئ۔۔۔۔۔ وہ لگ ہی اتنی پیاری رہی تھی کے کسی کو بھی مسمرائز کر سکتی تھی۔۔۔
دفعتاً اسکی دوست کا میسیج آیا تو وہ سرعت سے الماری کی جانب بڑھی۔۔۔ اندر سے میروں شال نکال کر خود پر اوڑھی اور اپنا کلچ اٹھاتی سہج سہج کر چلتی باہر کو لپکی۔۔۔
صد شکر کے اس بیچ اسکی مد بھیڑ ماں سے نہیں ہوئی۔۔۔ نہیں تو اجازت ملنے کے باوجود انہیں اتنی رات کو اسکے اتنا سج دھج کر باہر نکلنے پر یقیناً اعتراض ہوتا۔۔
ڈرائیوے عبور کر کے گھر کے گیٹ سے باہر کھڑی گاڑی میں بیٹھے ہی اسنے سانس لیا۔۔۔
اس بھیچ وہ مرتسم کو اپنے گھر نکلنے کا انفارم کرنا اور اسے اپنی لائیو لوکیشن بھیجنا یکسر بھول چکی تھی۔۔۔
بیک سیٹ پر جینز اور ٹاپ کے ساتھ چھوٹا سا سٹالر لئے بیٹھی اسکی دوست نے اسے عجیب سے نظروں سے دیکھا۔۔۔
اوہ کم آن علایہ کم سے کم آج تو یہ تمبو اتار آتی۔۔۔ اسکا اشارہ علایہ کی شال کی جانب تھا۔۔۔
علایہ نے الجھ کر اسے دیکھا ۔۔۔
یہ تم نے کیا پہن رکھا ہے یار۔۔۔ علایہ اسکے یکسر بدلے انداز دیکھ حیرت سے گویا ہوئی۔۔۔
چل یار۔۔۔ ایسی پارٹیز میں چلتا ہے سب۔۔۔ اسنے ناک سے مکھی اڑائی۔۔۔ انفیکٹ تمہیں بھی کچھ کیجول سا پہننا چاہیے تھا۔۔۔
جبکہ علایہ حق دق سی اسے دیکھ کر رہ گئ۔۔
******

No comments