Header Ads

Roshan Sitara novel 30th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels


 

Roshan Sitara novel  30th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels 

Roshan Sitara is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels

Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front 

of the world and improve their abilities in that field.

 Roshan Sitara  Novel by Umme Hania | Roshan Sitara  novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Roshan Sitara  novel by Umme Hania Complete PDF download

Online Reading

 ناول "روشن ستارا"۔

  مصنفہ "ام ہانیہ"۔

Official pg : Umme Hania official

تیسویں قسط۔۔۔
آج کا سارا دن بہت مصروف گزرا تھا۔۔۔ مرتسم اور وہاج نے مل کر اپنے پراجیکٹ کا بہت سا کام نبٹا لیا تھا۔۔۔ اس بیچ وہ الیکڑانکس کا سارا کام ایکسپرٹس کو سمجھا کر ان سے اسکی چپس  حاصل کر چکے تھے ۔۔۔۔ اور وہ سب اپنے سوفٹ ویئر میں سافٹ فارم میں انسٹال کرنے کے بعد اب محض فائز کے  تیار کردہ روبوٹ کے پارٹس میں اسے فکس کرنا باقی رہ گیا تھا۔۔۔
اس وقت رات کے بارہ بج رہے تھے جب وہ دونوں تھکے ہارے مرتسم کے ڈرائینگ روم میں ڈھیلے سے انداز میں بیٹھے تھے۔۔۔ چہرے پر سارے دن کی تھکاوٹ کے اثرات نمایاں تھے۔۔۔۔۔ سامنے میز پر لیپ ٹاپ کھلا پڑا تھا۔۔۔

وہ ابھی ابھی فائز کو سارے کام کی رپورٹنگ دے کر اس سے اگلی بریفنگ حاصل کرکے فری ہوئے تھے۔۔۔
اب انہیں میکانکس اور سینسر پر کام مکمل کر کے فائز کو دینا تھا۔۔۔ تب تک وہ انکے مکمل کر چکے کام کو فائنل ٹچ دے دیتا۔۔۔
انکا پراجیکٹ بہت اچھے سے اپنے اختتام کی جانب بڑھ رہا تھا۔۔۔
مرتسم ڈھیلے سے انداز میں سوفے پر نیم دراز انگلیوں اور انگوٹھے کی مدد سے آنکھیں مسل رہا تھا جب اپنے موبائل کی بپ کی آواز پر موبائل کی طرف متوجہ ہوا۔۔۔
میسج پڑھ کر اسکی آنھوں میں اچھنبا سا ابھرا۔۔لب بے یقینی کی سی صورت میں مسکرائے۔۔۔۔
وہاج لیپ ٹاپ بند کرتا سیدھا ہوا۔۔۔
صبح یونیورسٹی میں  ملاقات ہوگئ مرتسم۔۔۔ ویسے بھی فائنل میں تھوڑا ہی وقت باقی ہے۔۔۔ اسکے بعد اس پراجیکٹ پر دن رات ایک کریں گے۔۔۔
لیپ ٹاپ بیگ میں ڈال کر وہ اٹھ کھڑ ہوا۔۔۔
بیٹھو وہاج میں ریفریشمنٹ لاتا ہوں پھر جانا۔۔۔
مرتسم نے ناسمجھی سے موبائل کی سکرین کو دیکھا اور مسکرا کر سر جھٹکتے اٹھ کھڑا ہو۔ا۔۔
وہاج شانے اچکا کر وہیں بیٹھ گیا۔۔۔۔
******
لاوئنج کا دروازہ وا کر کے وہ اندر کی جانب بڑھا۔۔۔ ہر جانب خاموشی تھی۔۔۔ سناٹا تھا۔۔۔ سبھی مکین اس وقت اپنے اپنے کمروں میں محو استراحت تھے۔۔۔ 
گھر کی سبھی آرائشی لائٹیں بند تھیں۔۔۔ ایسے میں محض ایک کچن ہی تھا جسکی سبھی لائٹیں روشن تھی اور وہاں سے کھٹر پٹر کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔۔۔
مرتسم امپریس ہونے کے انداز میں بھنور اچکاتا کچن کی جانب بڑھا۔۔۔
سامنے کا منظر اسے ہسنے پر مجبور کر گیا۔۔۔ جہاں اسکی لاڈلی ڈوپتہ شانے سے لا کر پہلو پر باندھے کاونٹر ٹاپ کے سامنے کھڑی تھی۔۔۔ بال رف سے جوڑے میں مقید تھے جبکہ بینگز میں کٹے بالوں کو بھی پیچھے کر کے پنز لگا رکھی تھیں جن سے کچھ بال ابھی بھی ماتھے پر لڑھک رہے تھے۔۔۔
کچن کی حدت کے باعث چہرا سرخی چھلکا رہا تھا۔۔۔۔  ماتھے پر پسینے کی بوندیں تھیں جسے وہ آستین سے رگڑ کر صاف کر رہی تھے۔۔۔
سامنے چولہے پر پین میں کباب فرائی ہو رہے تھے جبکہ دوسری طرف پین میں چائے کو جوش آ رہا تھا۔۔۔
مرتسم کچن کی دیوار سے ٹیک لگائے بازو سینے پر باندھے مسکراتے ہوئے اسے دیکھنے لگا۔۔۔ آنکھوں میں ستائش بھری چمک تھی۔۔۔
آہم۔۔۔ آہم۔۔۔۔ دفعتاً وہ اسے متوجہ کرنے کو کنگارا۔۔۔
وہ چونک کر اسکی جانب متوجہ ہوئی۔۔۔
ارے بھائی آگے آپ۔۔۔ جی سب بالکل تیار ہی ہے تقریباً۔۔۔ کباب بھی فرائی ہوگئے۔۔۔ سینڈویچ بھی تیار ہیں بس چائے بھی تقریباً تیار ہی ہے۔۔۔ ابھی سرو کرتی ہوں۔۔۔ اسنے فرائی ہوئے کباب پلیٹوں میں نکالتے چولہا بند کیا۔۔۔
خیریت تو ہے نا علایہ ڈیئر۔۔۔  کہاں دن میں دو کپ  کافی  بنانا سوہاں روح تھا تمہارے لئے اور کہاں اب اتنا تردد۔۔۔
سیدھا ہوتا وہ قدم قدم اسکے قریب آیا۔۔۔
یقیناً فرمائشی پروگرام لمبا ہے۔۔۔۔ مرتسم نے اسکے قریب آتے پلیٹ سے کباب ٹور کر کھایا۔۔۔
ہممم۔۔۔ یمی۔۔۔۔ 
ورنہ علایہ لودھی اور کچن۔۔۔ دونوں متضاد چیزیں نہیں۔۔۔ وہ وہیں شیلف سے ٹیک لگائے کھڑا ہو گیا۔۔۔
چائے کپوں میں انڈیلتے علایہ نے اسے گھورا۔۔۔
کوئی چھوٹی سی معصوم کی بہن کو یوں کہتا ہے بھلا۔۔۔ 
مرتسم نے بھنور اچکائی۔۔۔ گویا فرمائشی پروگرام کی تیاری شروع ہونے جا رہی تھی۔۔۔
کیا چاہیے ۔۔۔ مرتسم کا انداز جانچتا ہوا تھا۔۔۔
اجازت۔۔۔ علایہ منہ بناتے پلیٹیں ٹرے میں رکھنے لگی۔۔۔
کس چیز کی اجازت۔۔۔ وہ ٹھٹک کر سیدھا ہوا۔۔۔ منہ میں. رکھا کباب کہیں حلق میں اٹکنے لگا تھا۔۔۔
بھائی۔۔۔ کل میری دوست کی برٹھ دے پارٹی ہے اور مجھے وہاں جانا ہے ۔۔۔ ٹرے سیٹ کر کے وہ معصوم سی صورت بناتی اسکی جانب متوجہ ہوئی۔۔۔
وہاں جانے کی اجازت چاہیے۔۔۔۔
مرتسم نے گہرا سانس خارج کرتے خود کو ڈھیلا چھوڑا۔۔۔ میرا نہیں خیال کے ہم نے کبھی تم پر اتنی بے جا روک ٹوک کی ہو جسکی بنا پر تمہیں اپنی دوست کی برتھ ڈے پر جانے کے لئے اتنا تردد کرنا پڑے۔۔۔ 
بھائی۔۔۔ نائٹ فنگش ہے۔۔۔ اسکی منمناتی آواز پر وہ ٹرے اٹھاتا اٹھاتا رکا۔۔۔
کچھ توقف کو سنجیدگی سے اسے دیکھا۔۔۔ ٹھیک ہے ڈرائیور تمہیں ڈراپ کر دے گا۔۔۔ مگر زیادہ دیر مت لگانا۔۔۔ وہ وہیں ہو گا۔۔۔ وہاں سے فری ہوتے ہی تمہیں پک کر لے گا۔۔۔ میں کل مصروف ہوں ورنہ تمہیں پک اینڈ ڈراپ کی سروس خود  دیتا۔۔۔
نہیں بھائی میری دوست مجھے پک کر لے گی۔۔۔ اور ڈراپ بھی کر دے گی۔۔۔ لیکن ایک پرابلم ہے۔۔۔ وہ ہونٹ چباتی رکی۔۔۔
مرتسم کو محسوس ہوا کے بات اتنی سیدھی بھی نہیں جتنے سیدھے انداز میں وہ بیان کرنے کی کوشیش کر رہی تھی۔۔۔
کیسی پرابلم۔۔۔۔ اسکے ماتھے پر شکنوں کا جال ابھرا۔۔۔
وینو ریسٹورینٹ کا ہے بھائی۔۔۔ اسنے آہستگی سے کہتے شلف کا کنارا کھرچا۔۔۔
تم باخوبی آگاہ ہو علایہ کے مام کبھی نہیں مانیں گی۔۔۔ وہ لیٹ نائٹ پارٹیز کے قطعاً حق میں نہیں وہ بھی ایسی صورت میں جب میں بھی آوٹ آف سٹیشن ہوں اور بابا بھی یہاں موجود نا ہو۔۔۔
وہ لگی لپٹی رکھے بغیر گویا ہوا۔۔۔ اسکی یہ ہی خاصیت تھی کے وہ بات کو گھماتا نہیں تھا۔۔۔
تو آپ سے سفارش کیوں ڈلوا رہی ہوں۔۔۔ میری سبھی دوستیں جا رہی ہیں۔۔۔ مجھے بھی جانا ہے۔۔۔ وہ بھرائی نگاہیں اٹھا کر اسے کہتی شکوہ کناں ہوئی۔۔
مرتسم نے بے ساختہ ماتھا رگڑا۔۔۔
باہر کی دنیا کے حالات سے وہ جس قدر آگاہ تھا اسکا بس چلتا تو وہ اپنی گھر کی عورتوں کو کہیں چھپا دیتا۔۔۔ 
یہ چائے مجھے خاصی مہنگی پڑ رہی ہے۔۔۔
آپ ایسا نہیں کر سکتے بھائی۔۔۔ مجھے ہر حال میں جانا ہے۔۔۔ میں اپنی دوست سے وعدہ کر چکی ہوں۔۔۔ نا گئ تو کتنی سبکی ہوگئ۔۔۔۔
وہ روہانسی ہو اٹھی۔۔۔
کس ریسٹورینٹ میں ہے پارٹی۔۔۔۔ تھک ہار کر وہ گویا ہوا۔۔۔
پتہ نہیں۔۔۔ میں پوچھ کر بتا دوں گی۔۔۔ آپ پلیز مام سے اجازت لے دیں۔۔۔ میں پکا جلدی آ جاوں گی۔۔۔ بالکل بھی دیر نہیں کروں گی۔۔۔ پلیز بھائی۔۔۔ پلیز پلیز۔۔۔پلیز۔۔۔  صرف آخری بار۔۔۔ پلیز۔۔۔ 
وہ مرتسم کا بازو پکڑے ضدی انداز میں گویا ہوئی۔۔۔
ٹھیک ہے میں مام سے بات کر لوں گا۔۔۔ لیکن صرف ایک گھںٹہ۔۔۔ ایک گھںٹے سے ایک منٹ زیادہ نہیں۔۔۔ 
اور گھر سے نکلتے وقت تم مجھے بتا کر جاو گی اور واپس آ کر بھی مجھے انفارم کرو گی۔۔۔ نیز تم ایک گھںٹے کی اپنی واٹَس آپ لائیو لوکیشن مجھے سینڈ کرو گی۔۔۔
وہ حفظ ماتقدم کے طور پر گویا ہوا۔۔۔
جی۔۔۔ جی۔۔۔ جی۔۔۔بھائی کیوں نہیں ایسے ہی کروں گی۔۔۔ وہ چہکتے ہوئے گویا ہوئی ۔۔۔جبکہ مرتسم چائے اور لوازمات سے سجی ٹرے اٹھا کر کچن سے نکل گیا۔۔۔
اسکے جاتے ہی علایہ نے کمر پر ہاتھ رکھے ایک گہرا سانس خارج کیا۔۔۔
اور پہلو میں بندھا دوپٹہ کھولا۔۔۔
شکر ہے یہ معارکہ تو سر ہوا۔۔۔ اب جلدی سے جا کر شاور لیتی ہوں۔۔  اللہ اتنی گرمی۔۔۔ اسنے پین پر ڈھکن دیا اور آنچل سے چہرا تھپتھپاتی کچن کی لائٹ بند کر کے کچن سے نکلی۔۔۔
*****
اب کیسا محسوس کر رہی ہو ماہرہ۔۔۔ فائز علوی اپنے پارٹمنٹ کے صوفے پر بیٹھا سامنے موجود میز پر جھکا لیپ ٹاپ پر کام کر رہا تھا۔۔۔ جب ماہرہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی وہاں پر آئی۔۔۔
ہممم ٹھیک ہوں۔۔۔ وہ گم صم سی دکھائی دیتی تھی۔۔۔ اندر کچن میں کچھ پک رہا تھا شاید ماہرہ کا پرہیزی کھانا۔۔۔
فائز نے ایک نگاہ لیپ ٹاپ سے اٹھا کر اسے دیکھا۔۔۔ ڈھیلے سے لباس میں ملبوس بالوں کی ڈھیلی سی چٹیا بنائے آنچل شانے پر ٹکا تھا۔۔۔
وہ خاصی بے چین دکھائی دے رہی تھی۔۔۔ ادھر ادھر دیکھتے حالات کا جائزہ لیتے خشک لبوں پر زبان پھیرتی وہ کچھ سوچ کر اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔
فائز اسکی بے چینی باخوبی سمجھ رہا تھا۔۔
قدم قدم چلتی وہ لاوئنج کی بالکنی میں کھلتی دیوار گیر کھڑکی تک آئی اور کھڑکی کھول دی۔۔۔ 
کھڑکی کھلتے ہی ایک ٹھنڈی ہوا کا جھونکا اس سے ٹکرایا تو وہ مسکرا دی۔۔۔
بات کی ہے میں نے کسی سے کل تک سپلٹ لگ جائے گا۔۔۔ آج کی رات کسی طرح سے گزار لو۔۔۔۔ رخصتی اتنی ہنگامی بنیاد پر ہوئی کے کچھ کرنے کا موقع نہیں ملا۔۔۔ ورنہ میں پہلے لگوا لیتا۔۔۔۔
اپنے پیچھے سے ابھرتی فائز کی آواز سن کر وہ چونک کر پلٹی۔۔۔ وہ ناجانے کب اسکے پیچھے آ کھڑا ہوا تھا۔۔۔  ماہرہ پھیکا سا مسکرا دی۔۔۔
ایسی بات نہیں ہے فائز۔۔۔ تمہیں میرے لئے اپنا بجٹ ڈسٹرب کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔ ابھی سب نیا نیا ہے تو مجھے ایڈجسٹ ہونے میں کچھ دقت ہو رہی ہے۔۔۔ کچھ دن گزرے گئیں تو میں اس ماحول کی عادی ہو جاوں گی۔۔۔ 
فائز اسے سہارا دیئے واپس صوفے تک لا رہا تھا جب وہ نظریں جھکائے پشیمانی سے یوں بولی جیسے اس سب میں اسی کا قصور ہو۔۔۔۔
بچپن کی عادتیں اتنی آسانی سے نہیں بدلتیں ماہرہ۔۔۔ تمہیں میرے ساتھ اس ماحول میں ایڈجسٹ کرنے میں دقت ہوگئ۔۔۔یہ بات مامی باخوبی جانتی تھیں۔۔۔ اس لئے کہتے ہیں کے بڑوں کی بات مان لینی چاہیے۔۔۔ وہ اسے صوفے پر بیٹھا کر کچن میں آگیا ۔۔۔ ماہرہ کو وہ کچن میں کام کرتا صاف دکھائی دے رہا تھا۔۔۔
فائز پلیز۔۔۔ خدا کے لئے یار۔۔۔ میں ایک فیز سے گزر رہی ہوں۔۔۔ ٹھیک ہے کے میں نے اپنی زندگی کا اب تک کا سارا حصہ لگزری میں گزارا ہے۔۔۔ لیکن میں کوشیش کر رہی ہوں نا۔۔۔۔ اور انسان کی سب سے بڑئ خوبی یہ ہی ہوتی ہے کے وہ ہر ماحول میں ڈھل جاتا ہے۔۔ بڑئ جلدی خود کو بدل لیتا ہے۔۔۔ ایسے میں مجھے صرف تمہارا ساتھ چاہیے۔۔۔ نصیحتیں یا ۔۔۔۔ لیکچرز نہیں۔۔۔۔وہ سب دینے کے لئے مام کافی ہیں۔۔۔
وہ نڑوتھے پن سے کہتی سینے پر بازو باندھے چہرا موڑ گئ۔۔۔
فائز ہاتھ میں سوپ کا باول تھامے اسکے پاس آیا۔۔۔ اچھا چلو پہلے کچھ کھا لو ۔۔۔ وہ اسکے قریب ہی بیٹھا۔۔۔
مجھے نہیں کھانا ۔۔۔ خود ہی کھا لو۔۔۔ پیٹ بھر گیا میرا تمہارے ٹھرد کلاس لیکچر سے۔۔وہ چہرے کا رخ دوسری جانب کر گئ۔۔۔۔ اسکا انداز نڑوتھا تھا۔۔۔
ماہرہ۔۔۔ اس میں ناراض ہونے والی کونسی بات ہے یار۔۔۔  مجھے تم اس حال میں سروائیو کرتی نہیں دیکھی جا رہی۔۔۔ 
زندگی لگزری ملنے کا نام نہیں ہے۔۔۔ نا ہی یہ لگزریوں سے پرسکون بنتی ہے فائز۔۔۔
وہ اسکی بات کاٹتی اسکی جانب رخ کر گئ۔۔۔ زندگی چھوٹی چھوٹی باتوں چھوٹی چھوٹی چیزوں سے خوشیاں کشیدنے کا نام ہے۔۔۔
منزل اہم نہیں ہوتی ۔۔۔ راستے کو انجوائے کرنے کا نام زندگی ہے۔۔۔
میں اپنے من پسند ساتھی کے ساتھ اس چھوٹے سے گھر میں خوش ہوں۔۔۔ مطمیئں ہوں فائز۔۔۔
اور مجھے اپنی زندگی میں یہ ہی اطمینان چاہیے۔۔۔
وہ یک ٹک پاس بیٹھے اس شخص کو دیکھ رہی تھی جو اسکے روم روم میں بستا تھا۔۔۔ وہ مسکرا دیا۔۔۔
اچھا سوری۔۔۔ اب پلیز یہ سوپ پی لو۔۔۔ اور دیکھو تمہارا شوہر شادی کے بعد پہلی دفعہ تمہارے لئے کچھ بنا کر لایا ہے تو یہ ٹیسٹ کرنا تو بنتا ہے نا۔۔۔
اسنے اس انداز میں کہا کے ماہرہ بے ساختہ ہس دی۔۔ اسنے فائز کے ہاتھ سے باول پکڑا اور پہلا چمچ منہ میں ڈالا۔۔۔
ہممم۔۔۔ اچھا بنا ہے۔۔۔ وہ ستائشی انداز میں گویا ہوئی۔۔
چلو شکر ۔۔  تمہیں پسند تو آیا۔۔۔ فائز وہاں سے اٹھ کر واپس اپنے لیپ ٹاپ کے پاس آیا اور اس پر مشغول ہو گیا۔۔۔ لیکن اس بیچ وہ بار بار ایک اچٹتی نگاہ سوپ پیتی ماہرہ پر بھی ڈال رہا تھا۔۔۔ جو اپنے دھیاں رغبت سے کھا رہی تھی۔۔ یقیناً اسے بھوک لگی تھی لیکن وہ اسے کہنے سے جھجھک رہی تھی۔۔۔ ۔۔۔
باول خالی ہوا تو وہ باول سینٹرل میز پر رکھتی صوفے پر نیم دراز ہو گئ۔۔۔
ماہرہ۔۔۔فائز لیپ ٹاپ کی سکرین سے نگاہیں اٹھاتا پرسوچ انداز میں گویا یوا۔۔۔
ہممم۔۔ وہ لیٹے لیٹے ہی سر اسکی جانب گھما گئ۔۔۔۔۔ دونوں آمنے سامنے صوفوں پر موجود تھے۔۔۔ درمیاں میں سینٹرل میز تھی۔۔۔
 Please don't take me wrong...
 وہ جیسے بات کرنے سے پہلے تمہید باندھ رہا تھا۔۔۔
Don't be so formal Faiz...
 جو کہنا ہے سیدھے سے کہو نا۔۔۔ وہ الجھی۔۔۔ 
ماہرہ ابھی ہمارا نکاح صیغہ راز  ہی رہنا چاہیے۔۔۔ وہ لب چباتا دھیرے سے بولا
کیاااااا۔۔۔۔۔
وہ ہاتھوں کی لیکروں پر انگلی پھیرتا کسی گہری کش مکش میں مبتلا تھا جب ماہرہ حیرت و شاک سے چلا اٹھی۔۔۔
اس بات کی وضاحت دینا پسند کرو گے تم۔۔۔ کون ہوں میں۔۔۔ کس حیثیت سے تمہارے ساتھ تمہارے گھر میں موجود ہوں۔۔۔ اور تم کہہ کیا رہے ہوں۔۔۔ وہ غصے سے اسے گھور رہی تھی۔۔۔ فائز کی جانب سے یہ بات غیر متوقع تھی۔۔۔ وہ اس سے یہ رشتہ نہیں جوڑنا چاہتا تھا۔۔ یہ بات کہیں نا کہیں سمجھ آتی تھی۔۔ مگر رشتہ جڑ جانے کے بعد اسے صیغہ راز رکھنا۔۔۔ یہ بات عقل سمجھ سے پڑے تھی۔۔۔
نہیں۔۔۔ بس یہ چاہتا ہوں کے تم ابھی یونیورسٹی یا اس بلڈنگ میں کسی سے بھی اس نکاح کے بارے میں کچھ نہیں کہو گی۔۔۔۔۔۔ وہ صوفے سے ٹیک لگائے سینے پر ہاتھ باندھے ہوئے تھا جبکہ پرسوچ نگاہیں ماہرہ پر ٹکی تھیں جو غصے سے اسے تک رہی تھی۔۔۔
ٹھیک ہے فائز علوی۔۔۔ ایسے تو ایسے ہی سہی۔۔۔ جب تمہیں ہی کوئی فکر نہیں تو بناو بیوی کو دوسروں کی نظروں میں سوالیہ نشان۔۔۔
جب کل کو بلڈنگ والے پوچھیں۔۔۔ کے کون ہے یہ لڑکی اور کس حیثیت سے تمہارے ساتھ رہ رہی تھی تو دینا انہیں خود ہی انہیں جواب۔۔۔ کیونکہ اب تم بیوی کو بہن بتلانے سے تو رہے۔۔۔ وہ غصے سے سر جھٹکتی نگاہوں کا رخ بدل گئ۔۔۔
دماغ میں بھانبھر سے جل رہے تھے۔۔ فائز نے بات ہی اتنی غلط کہی تھی۔۔۔ وہ انکے جائز رشتے کو دوسروں کے سامنے سوالیہ نشان بنا رہا تھا۔۔۔
پکا تم غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہوتے جا رہے ہو فائز علوی جو حرکتیں بھی تمہاری مشکوک ہی ہوتی جا رہی ہیں۔۔۔ وہ منہ ہی منہ بڑبڑاتی آنکھوں پر بازو ڈھر گی۔۔۔ فائز کی اس بات نے دماغ اچھا خاصا گھما ڈالا تھا۔۔ اسکا بہترین حل یہ ہی تھا کے اس وقت گہری نیند میں سو جایا جاتا۔۔۔ تاکے دماغ ریلیکس ہو سکے۔۔۔
اور پھر کچھ ہی دیر میں وہ گہری نیند کی وادیوں میں اتر چکی تھی۔۔۔ 
فائز علوی صوفے پر بیٹھا کسی غیر مری نقطے کو گھور رہا تھا۔۔  پھر اسکی نگاہیں اس غیر مری نقطے سے سفر کرتیں ماہرہ تک جا رکیں۔۔۔ جسکا ایک ہاتھ سینے ہر جبکہ دوسرا آنکھوں پر ڈھرا تھا۔۔۔

میرے ساتھ سے تم نے اپنی زندگی مزید مشکل بنا ڈالی ماہرہ۔۔۔ وہ قدم قدم چلتا اسکے قریب آ کر رکآ۔۔۔میں اتنا آسان انسان ہرگز نہیں ہوں جسکے ساتھ ایک پرسکون زندگی گزاری جا سکے۔۔۔ہر ممکن کوشیش کی تمہیں خود سے دور رکھ کر اس اذیت سے بچانے کی لیکن۔۔۔ وہ سرد سی سانس خارج کرتا خاموش ہو گیا۔۔۔ پھر جھکا اور ہاتھ کی مدد سے اسکی کومل بازو چہرے سے ہٹائی۔۔۔ سامنے ہی اسکا بے داغ مصوم چہرا تھا۔۔۔
وہ کتنی ہی دیر بے خودی کے عالم میں اسے تکتا رہا۔۔۔ پھر جھک کر اسکی پیشانی پے اپنے لبوں کا عقیدت بھرا لمس چھوڑا۔۔۔
کاش ماہرا۔۔۔ کاش میں کبھی تمہاری محبت کا حق ادا کر پاوں۔۔۔ وہ بھرائی نگاہوں اس اسے دیکھتا وہاں سے پلٹ گیا۔۔۔
******



No comments

Powered by Blogger.
4