Header Ads

Roshan Sitara novel 29th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels


 

Roshan Sitara novel  29th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels 

Roshan Sitara is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels

Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front 

of the world and improve their abilities in that field.

 Roshan Sitara  Novel by Umme Hania | Roshan Sitara  novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Roshan Sitara  novel by Umme Hania Complete PDF download

Online Reading

 ناول "روشن ستارا"۔

  مصنفہ "ام ہانیہ"۔

Official pg : Umme Hania official

انتیسویں قسط۔۔۔۔
علایہ تن فن کرتی غصے سے کھولتی اپنے کمرے میں داخل ہوئی۔۔۔ سر پر اوڑھا آنچل پھسل کر شانے پر آ چکا تھا۔۔ چہرا اہانت اور سبکی کے باعث سرخی چھلکا رہا تھا۔۔۔ دماغ میں بھانبھر سے جل رہے تھے۔۔۔ اندر داخل ہوتے ہی اسنے موبائل فون بیڈ پر پھینکا۔۔۔۔۔
کھلی آبشار کو طیش سے گول مول کر کے رف سے جورے میں مقید کیا۔۔۔ ماتھے پر گرے بال کان کے پیچھے اڑسے جو پھر سے پھسل کر ماتھے پر آ گئے۔۔۔
وہ غصے سے لال بھبھوکا چہرا لئے کمرے کے بیچ و بیچ کھڑی ایک ہاتھ کمر پر رکھے دوسرے سے ماتھا مسلتی مسلسل کچھ سوچ رہی تھی۔۔۔
دفعتاً دروازہ کھول کر مرتسم اندر داخل ہوا۔۔۔ مرتسم کو دیکھتے ہی وہ غصے سے اسکی جانب بڑھی۔۔
اب کیوں آئے ہیں آپ یہاں۔۔۔ جائیں۔۔۔۔ واپس جائیں اپنے بچپن کے دوست کے پاس۔۔۔جائیں۔۔۔ جائیں نا۔۔۔۔ وہ اسکے سینے ہر ہاتھ رکھ کر اسے پیچھے دھکیلتی غصے سے گویا ہوئی۔۔ وہ مرتسم لودھی کی لاڈلی تھی۔۔۔ اسکی اتنی سی نظر اندازی اور اسکے سامنے دوست کی وقالت کرنا اسے طیش دلا گیا تھا۔۔
آپکو اپنا دوست بہن سے زیادہ عزیز ہے نا۔۔۔۔۔ کتنی انسلٹ کی اسنے میری وہ بھی آپکے سامنے۔۔۔ لیکن آپ۔۔۔ آپ ایک لفظ تک نہیں بولے اسے۔۔۔۔۔ لب سیئے کھرے رہے۔۔۔ آنسو ٹپ ٹپ اسکی آنکھوں سے بہنے لگے تھے۔۔۔  وہ اسکے مقابل کھڑی شکوہ کناں تھی۔۔۔
Alaya stop crying please...
 اسنے محبت سے علایہ کے آنسو صاف کئے۔۔۔ وہ اسی کے شانے سے سر ٹکاتی رو دی۔۔۔
بھائی وہ بچپن سے ایسا ہی کرتا آیا ہے۔۔۔ ہمیشہ مجھے رلایا ہے اسنے۔۔۔ کتنی خوش تھی میں اسکے پاکستان سے چلے جانے پر۔۔۔ ناجانے منحوس واپس کب آگیا۔۔۔۔
علایہ نے دکھ سے کہتے گیلی سانس اندر کھینچی۔۔۔
بری بات علایہ۔۔۔۔ بہت بری بات۔۔۔ وہ سب بچپن کی باتیں تھیں۔۔۔ بچپن گزرا تو وہ سب بھی گزر گیا۔۔۔ اور وہاج کو واپس آئے چار سال ہوگئے ہیں۔۔۔۔
میں بہت اچھے سے اسے جانتا ہوں۔۔۔ وہ عورتوں کی عزت کرنے والا ایک جولی انسان ہے۔۔۔ ہس مکھ سا۔۔۔ روتوں کو ہنسا دینے والا۔۔۔
اس روز بھی جب یہ واقعہ پیش آیا تب آ کر اسنے پوری بات میرے گوش گزاری۔۔۔ بس مجھے یہ ہی نہیں معلوم تھا کے وہ لڑکی تم ہو۔۔۔
دیکھو علایہ تم میری بہن ہو اور مجھے سب سے زیادہ عزیز ہو۔۔۔ اور اسی لئے بڑا بھائی ہونے کی حیثیت سے تمہیں سمجھا رہا ہوں کے لڑکیوں کو کچھ حدودو قیود کے اندر رہنا چاہیے۔۔۔
میں یہ نہیں کہتا کے فاہا کی طرح دبو سی بن جاو۔۔۔ اور حق بات کہنے سے بھی ڈرنے لگو۔۔۔ 
میں صرف یہ کہہ رہا ہوں کے بات کرنے سے پہلے سوچو۔۔۔ مجھے میری بہن نڈر اور بہادر ہی پسند ہے ۔۔ حق بات بنا جھجھکے کہنے والی۔۔۔ لیکن اسکے ساتھ ساتھ تم تھوڑی سی بے وقوف بھی ہو۔۔۔ اس بے وقوفی کو تھوڑا کم کر دو۔۔۔
مرتسم اسے رسانیت سے سمجھا رہا تھا جب وہ اسکے شانے سے سر اٹھاتی اسے گھور کر رہ گئ۔۔۔
اگر غلط تمہارے ساتھ وہاج نے کیا ہے تو کم تو تم نے بھی نہیں کیا نا علایہ۔۔۔
کیا مطلب میں نے کیا کیا۔۔۔ بس دوست کو فیور کرنے کا خبط ہے نا آپ میں۔۔۔ وہ بازو چڑھاتی اسکے مقابل آئی۔۔
مرتسم مسکرا کر نفی میں سر ہلا گیا۔۔۔
ایسی کوئی بات نہیں علایہ۔۔۔ سادہ سی بات ہے کہ اگر کوئی لڑکی میرے گریبان کو ہاتھ ڈالے گی تو قسم خدا کی میرا ردعمل وہاج کے جتنا ٹھنڈا تو ہرگز نہین ہوگا۔۔۔ میں اس لڑکی کے ہاتھ تک توڑ دوں گا جو میرے گریبان  پر ہاتھ ڈالے گی۔۔۔
اسے بہادری نہیں کہتے علایہ۔۔۔ اسے بے وقوفی کہتے ہیں۔۔۔ میں صرف یہ چاہتا ہوں کے تم بہادری اور بے وقوفی میں فرق پہچانو۔۔۔
تم میرا مان ہو علایہ۔۔۔ بابا کا غرور ہو۔۔۔ میں کبھی نہیں چاہوں گا کے تم سے غلطی سے بھی کوئی ایسا فعل سر زرد ہو جس سے میرا اور بابا کا سر جھک جائے۔۔
اسی لئے کہہ رہا ہوں کے تھوڑی سی عقل سے کام لیا کرو۔۔۔ یوں راستے میں کسی بھی اجنبی سے بھر نہیں جاتے۔۔۔ وہ بھی تب جب آپ اکیلے ہوں۔۔۔ ۔۔۔۔
ہم نے تمہیں ہر طرح کی آزادی دے رکھی یے علایہ اور میں ہر قدم پر اپنی بہن کیساتھ ہوں۔۔۔ لیکن میں تمہیں یہ ہی کہوں گا کہ بات کرنے سے پہلے بس زرا سا سوچا کرو اور۔۔۔
جی جی بالکل۔۔۔ دوست آ گیا نا۔۔۔ اب بہن میں کیڑے ہی دکھائی دیں گے۔۔ وہ مرتسم کی بات سمجھنے کے باوجود بھی شکوہ کر گئ۔۔۔ا
پاگل۔۔۔ مرتسم نے اسکے سر پر چیت رسید کی۔۔۔
میری بہن سے سے بڑھ کر مجھے کوئی عزیز نہیں۔۔۔ وہاج خانزادہ بھی نہیں۔۔۔ 
بچپن ختم ہو گیا لیکن پتہ نہیں تمہاری اس سے یہ خود ساختہ چڑ کب ختم ہو گئ۔۔۔۔ 
خیر کافی تو بنا دو۔۔۔ وہ بات سمیٹتا اسکا گال تھپتھپا کر ہلکے پھلکے انداز میں گویا ہوا۔۔۔
ٹھیک ہے بناتی ہوں۔۔۔ وہ گیلی سانس اندر کھینچتی نڑوتھے پن سے کہتی دروازے کی جانب بڑھی۔۔۔ 
اچھا سنو۔۔۔ دو کپ بنانا ۔۔۔ اور بنا کر مجھے ٹیکسٹ کر دینا میں آ کر لے جاوں گا۔۔۔ وہ نرمی سے مسکرایا۔۔۔
بھائییییی۔۔۔ فاہا چلا کر رہ گی۔۔۔ اب آپ اس شخص کے لئے بھی مجھ سے کافی بنوائیں گے۔۔ وہ جیسے معاملے کی تہہ تک پہنچی۔۔۔
مرتسم کندھے اچکاتا باہر نکل گیا۔۔۔ جبکہ وہ پاوں پٹخ کر رہ گئ۔۔۔
*****
 اپارٹمنٹ کی مرمریں راہداری سے گزرتے فائز علوی ماہرہ کے سنگ اپنے اپارٹمنٹ کے دروازے کے سامنے آ کر رکا۔۔۔ 
ایک بازو ماہرہ کے شانے پر پھیلا رکھا تھا تھا جبکہ دوسرے سے وہ ہاتھ میں تھامی چابی سے دروازہ کھول رہا تھا۔۔۔۔
دروازہ کھولتے اسے چند سیکنڈ لگے۔۔۔
جب ماہرہ سینے سے اسکی قمیض پر گرفت مضبوط کرتی اسکے شانے پر سر ٹکا گئ۔۔۔
لاک کھولتے فائز کے ہاتھ ٹھٹھکے۔۔۔ اسنے اچھنبے سے ماہرہ کی جانب دیکھا جسکی آنکھین بند تھی اور تنفس تیز۔۔۔ وہ گہرے گہرے سانس لے رہی تھی۔۔۔ غالباً وہ اتنے میں ہی ہانپ گئ تھی۔۔۔
کیا ہوا۔۔۔ تھک گئ۔۔۔
دروازہ وا کرتا وہ اسے لے کر اندر بڑھا۔۔۔
ہممم۔۔۔ تھوڑا سا۔۔۔ وہ اسکے شانے سے لگی ہنوز آنکھیں بند کئے گویا ہوئی۔۔۔۔
وہ اسے لئے سیدھا بیڈ روم میں ہی آیا۔۔۔ کیس قیمتی متاع حیات کی مانند اسے بیڈ پر بیٹھایا ۔۔۔۔
بیٹھو تم میں آتا ہوں۔۔۔ اسے بیڈ پر بیٹھا کر وہ سیدھا ہوا۔۔۔ اس سے پہلے کے باہر نکلتا ماہرہ اسکا ہاتھ تھام گئ۔۔۔
کہاں جا رہے ہو۔۔۔ بیٹھو میرے پاس۔۔۔
سر پر اوڑھی چادر شانوں پر پھسل گئ۔۔۔ وہ اسکا ہاتھ تھامے گردن اٹھائے اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔
تمہارے کھانے کے لئے کچھ پکنے کو رکھ آوں۔۔۔ ابھی تو تم پرہیزی کھانا ہی کھاو گئ نا۔۔۔
مجھے بھوک نہیں ہے فائز تم بیٹھو میرے پاس۔۔۔ ویسے فکر مت کرو میں فاسٹ فوڈ بھی کھا لوں گی اب میں ٹھیک ہوں۔۔۔ اسنے مسکرا کر کہتے آنکھ ماری۔۔۔
اور ہاں جیسے میرے پاس رہتے ہوئے تم یہ بے اختیاطی کرپاو گی نا۔۔۔  وہ ہلقہ سا قہقہ لگاتا ہسا۔۔۔
ماہرہ گویا اسکی مسکراہٹ مین کہیں کھو سی گئ۔۔۔
بھول گئ تھی ۔۔۔ مشین سے شادی ہوئی ہے میری۔۔۔ لیکن اسکے باوجود ابھی بیٹھو میرے پاس۔۔۔ مجھ تم سے ڈھیر ساری باتیں کرنی ہیں۔۔۔ کندھے اچکا کر کہتے اسنے فائز کا ہاتھ پکڑ کر کھینچا۔۔۔
یہ کھنچاو غیر متوقع تھا اسی لئے وہ سمبھل نا پاتے اسکی جانب جھکا لیکن باعجلت بیڈ پر ہاتھ دھرتے اسنے خود کو ماہرہ پر گرنے سے بچایا۔۔۔
کیا کرتی ہو ماہرہ۔۔۔ ابھی میں تم پر گر جاتا۔۔۔ طبیعت پہلے ہی ٹھیک نہیں تمہاری۔۔۔ زخم مکمل طور پر بھرے نہیں۔۔۔ اور پھر مامی کہتیں کے میری بیٹئ کا خیال نہیں رکھ پایا یہ شخص۔۔۔۔۔
وہ اسے مضنوعی گھور کر ماہرہ کی چھوڑی جگہ پر بیٹھا۔۔۔
ششش۔۔۔۔ ماہرہ نے ماتھے پر شکنیں ڈالے منہ ہر انگلی رکھتے اسے چپ ہونے کو کہا۔۔۔
اس وقت مام کی کوئی بات نہیں۔۔۔ صرف میری ور تمہاری باتیں۔۔۔ بات مکمل کر کے وہ بڑے حق سے اسکی گود میں سر رکھ گئ۔۔۔ فائز جہاں کا تہاں رہ گیا۔۔۔
لبوں پر زبان پھیرتے اسنے ماہرہ کو دیکھا جسکی آنکھیں بند تھیں مگر لب مسکرا رہے تھے۔۔۔
تمہیں پتہ ہے فائز کے میں ابھی تک بے یقین ہوں کے میرے اللہ نے تمہیں مجھے عطا کر دیا۔۔۔ میں نواز دی گی۔۔۔ اسنے فائز کا ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں میں تھام رکھا تھا۔۔۔
تم شاید تصور بھی نا کر سکو فائز کے ماہرہ اظہر نے تم سے کتنی محبت کی ہے۔۔۔ اسکی آواز بھرا گئ۔۔۔ جبکہ فائز گم صم سا اسکی نم بند آنکھوں کو دیکھتا اسے سنتا رہا۔۔۔۔
ٹوٹ کے چاہا ہے میں نے تمہیں۔۔۔ 
میں جانتی ہوں تم مجھ سے محبت نہیں کرتے۔۔۔
فائز کا دل ڈوب کر ابھرا۔۔۔
محبت تو دور مجھے پسند بھی نہیں کرتے۔۔۔ب
فائز سختی سے لب بھینچ گیا۔۔۔ فلحال وہ اسے ٹوکنا نہیں چاہتا تھا۔۔۔ وہ صرف اسے سننا چاہتا تھا۔۔۔
میں جانتی ہوں تمہاری نظر میں میں اچھی لڑکی نہیں۔۔۔ آنکھوں کی نمی بند آنکھوں سے پھسل کر باہر پھیلنے لگی۔۔۔
فائز تڑپ کر رہ گیا۔۔۔
ماہرہ۔۔۔بامشکل ضبط کرتے وہ ہولے سے پکارا۔۔
ماہرہ نے اپنی نم آنکھیں وا کیں دونوں کی نگاہیں ٹکرائیں۔۔۔ ایک کی نگاہوں میں خالی پن تھا تو دوسرے کی نگاہوں میں پشیمانی۔۔۔
اس روز تمہاری باتیں سن کر میں بہت بھاری دل سے یہاں سے نکلی تھی۔۔۔ آواز کا کرب فائز کا دل چیر گیا۔۔۔
تمہاری دھتکار کے بعد مجھے لگا سب ختم ہوگیا۔۔۔ میں نے اپنی محبت کو بے حیا اور بے شرم تک کہلوا دیا۔۔۔ لیکن رہی میں تب بھی نامراد ہی۔۔۔ مجھے لگا میں نے تمہیں ہمیشہ کے لئے کھو دیا۔۔۔ آنسو ایک باریک سی لکیر کی مانند کنپٹی کی جانب بہتا چلا گیا۔۔۔
فائز کو لگا اپنے سامنے موجود اس لڑکی کو دی گئ خود کی ہی اذیت پر اسکا دل پھٹ جائے گا۔۔۔
اسے کہتے شاید اتنا برا محسوس نہیں ہوا تھا جتنا اب اسی کہ زبان سے اپنے کہے الفاظ سن کر ہو رہا تھا۔۔۔
آئم سوری ماہرہ۔۔ وہ دقت سے سانس خارج کرتا ماتھا مسلتا گویا ہوا۔۔۔
مت کہو۔۔۔ پلیز مت کہو۔۔وہ سرعت سے ٹوک گئ۔۔۔
بلکہ میں تم سے معذرت خواہ ہوں فائز۔۔۔ 
ایک ناپسندیدہ لڑکی کو اپنی زندگی میں شامل کرنے کے لئے ایم سوری۔۔۔۔
وہ بہتی آنکھوں سے کہتی سیدھی ہو بیٹھی۔۔
ماہرہ پلیز یہ ۔۔۔۔ ماہرہ کی باتیں اسے تکلیف سے دوچار کر رہی تھیں۔۔۔ تبھی اسے ٹوکنا چاہا۔۔
پلیز فائز مجھے کہہ لینے دو۔۔۔ ایک دفعہ تو بول لینے دو۔۔۔ اسکا التجائیہ انداز فائز کو چپ کرا گیا۔۔
اسکی نم قاتلانہ نگاہیں فائز کے دل پر چھڑیاں چلا رہی تھیں۔۔۔
میں جانتی ہوں کے تم نے یہ شادی بابا کے کہنے پر کی ہے۔۔۔ کیونکہ تم کبھی انکی بات نہیں ٹال سکتے۔۔۔ اس لئے تم نے ایک ناپسندیدہ بندی کو اپنی زندگی کے ہمسفر کے طور پر قبول کر لیا۔۔۔
اور۔۔۔ اور میری یہ خودغرضی ہے۔۔۔ کہ میں نے جانتے بوجھتے یہ سب ہونے دیا۔۔۔ وہ سسک پڑی۔۔۔
ماہرہ۔۔۔ 
پلیز مجھے بولنے دو فائز۔۔۔ آج میں دل کی ساری کسک ختم کر ڈالنا چاہتی ہوں۔۔۔ آج مجھے ہر اعتراف کرنے دو۔۔۔ اس سے پہلے کے اسکے فائز اسے شانوں سے تھامے کچھ کہتا وہ سرعت سے ٹوک گئ۔۔
فائز لب بھینچ گیا۔۔۔ 
جانتے ہو کیوں۔۔۔ اسنے نم آنکھیں صاف کیں۔۔۔
کیونکہ جب بابا نے مجھے یہ عندیا سنایا ۔۔۔ تو گویا میرے جسم میں ایک نئ روح بھر گئ ۔۔۔ مجھے لگتا تھا کے اگر تم مجھے نا ملے تو میں شاید جی نا پاوں۔۔۔ اور جب مجھے بابا کی زبانی یہ سب پتل چلا تو میرا دل سجدہ شکر بجا لایا۔۔۔ میں نے پھر سے اپنی عزت نفس قدموں میں رول ڈالی۔۔۔
مجھے معجزانہ طور پر میری محبت مل رہی تھی۔۔۔ میں کیسے ناشکری کرتی۔۔۔ وہ ایک جذب کے عالم میں اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔
میں خود غرض بن گئ۔۔۔ پالیا میں نے تمہیں۔۔۔ 
ائم سوری۔۔۔ وہ اسکا ہاتھ دونوں ہاتھوں میں تھام کر نظریں جھکائے پشیمانی سے گویا ہوئی۔۔۔
میں نے عقیدت کی حد تک تم سے محبت کی ہے فائز۔۔۔ جانتی ہوں میں اظہارے محبت کرتے تمہیں بے باک لگ رہی ہوں گی۔۔۔ اسنے نم آنکھیں جھپکیں۔۔۔ لیکن میں ایسی ہی ہوں۔۔۔ 
تم میری زندگی میں ہو تو میری زندگی حسیں ہے۔۔۔ تم نہیں تو کچھ بھی نہیں۔۔۔ وہ عقیدت سے اسکا ہاتھ تھام کر اپنی نم آنکھوں سے لگا گئ۔۔ اور فائز گویا پتھر کا ہو گیا۔۔۔ اتنی دیوانگی۔۔۔۔
میں جانتی ہوں یہ دلوں کے سودے ہیں جس پر کوئی زبردستی نہیں۔۔۔
میں اللہ سے دعا کروں گی فائز ۔۔۔ کے وہ تمہارے دل میں میری محبت ڈال دے۔۔۔ 
لیکن کیا تم مجھے میرا پہلے والا دوست لوٹا سکتے ہو۔۔۔ جسے اپنی دوست پسند تھی۔۔۔ جو میرا مخلص دوست تھا۔۔۔ کیا ہم پھر سے وہی دوست بن کر رہ سکتے ہیں۔۔۔
وہ بھیگی نم آس و نراس سے پر آنکھیں لئے اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔ آس و نراس میں جھولتی نگاہیں گویا اسکے جواب کی منتظر تھیں۔۔۔
دل بے یقینی کے سمندر میں ڈولتا غوطے کھا رہا تھا۔۔۔
اس فائز علوی کو دل رکھنا نہیں آتا تھا ۔۔۔ اسکا جواب کیا ہوتا بھلا۔۔۔
خاموشی طویل ہونے لگی اور ماہرہ کا دل ڈوبنے لگا۔۔۔ فائز یک ٹک خاموشی سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔
دفعتاً دل نے آخری آس کا سرا بھی چھوڑا ۔۔۔ چہرے پر کرب کے تاثرات واضح ہوئے اور وہ مایوسی سے نظریں جھکا گی۔۔۔
جب بالکل غیر متوقع طور پر اسے سنجیدگی سے دیکھتے فائز نے کھینچ کر اسے شدت سے خود میں بھینچا۔۔
یہ فائز علوی کی جانب سے پہلی پیش قدمی تھی۔۔۔ ماہرہ بے یقینی کی اتھاہ گہرائیوں میں ڈوبی سانس تک روک گئ۔۔۔
یہ اتنی بڑی بڑی باتیں کہاں سے سیکھ لیں ماہرہ۔۔۔ اسنے شدت سے ماہرہ کے بالوں پر لب رکھے۔۔۔ دو آنسو ٹوٹ کر اسکے بالوں میں جذب ہوئے۔۔۔
اسنے وہیں ہاتھ سے آنکھوں کو مسل کر صاف کیا۔۔۔
ضبط کی طنابیں ٹوٹی اور وہ وہیں اسکے سینے منہ چھپائے سسک اٹھی۔۔۔
میری دوست تو بہت بے وقوف تھی۔۔ اوٹ پٹانگ حرکتیں کر کے سب کی ناک میں دم کرنے والی۔۔۔ یہ تو میری دوست نہیں۔۔۔
اگر تمہیں وہی والا فائز علوی چاہیے تو مجھے بھی وہی ماہرہ چاہیے۔۔۔ 
اور اپنے دماغ سے ہر خناس نکال دو۔۔۔ فائز علوی کبھی بھی ماہرہ کو ناپسند نہیں کر سکتا۔۔۔
میں تم سے معذرت خواہ ہوں ماہرہ۔۔۔ اگر میری کسی بھی بات کسی بھی عمل سے تمہاری دل آزاری ہوئی ہے تو۔۔۔ جو کے ہوئی ہے۔۔۔ میں نے تمہیں ہرٹ کیا ہے۔  
وہ اسکا چہرا ہاتھوں میں تھامے اسکے آنسو صاف کر رہا تھا۔۔۔
جبکہ ماہرہ ساکت سی اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔
ماہرہ فائز علوی مجھے بہت عزیز ہے۔۔۔ وہ سمبھل کر پیچھے ہٹا۔۔۔
بس کچھ باتیں ہیں جو میں تم سے کرنا چاہتا ہوں۔۔۔ اور مجھے امید ہے کے تم مجھے سمجھو گی اور میرے ساتھ تعاون کرو گئ۔۔۔ وہ پیچھے ہٹتا بیڈ کراون سے ٹیک لگا گیا۔۔۔
کیسی باتیں۔۔۔
ماہرہ ٹِھٹھکی۔۔۔
دفعتاً فائز علوی کے موبائل کی گھنٹی بجی۔۔۔ اسنے مصروف سے انداز میں موبائل جیب سے نکالا اور نمبر دیکھ کر سائیڈ کا بٹن پریس کرتے بیل کی آواز بن کر دی۔۔
اب اسکے ہاتھ میں تھامے موبائل کی محض سکرین بلنک کر رہی تھی جس پر جھگمگاتت سونم کالنگ کے الفاظ ماہرہ کی نگاہوں سے پوشیدہ نا رہ سکے تھے۔۔۔۔۔
ماہرہ کے دل میں ایک پھانس سی چبھی۔۔۔ یہ لڑکی بھلا فائز کو فون کیوں کر رہی تھی۔۔۔
اسنے موبائل کی سکرین سے نگاہیں اٹھاتے فائز کو دیکھا جسکے چہرے پر کوئی خاص تاثر نا تھا۔۔۔ وہ اسی سادگی سے ماہرہ سے بات کر رہا تھا۔۔۔۔
ابھی نہیں بعد میں۔۔۔ ابھی تم آرام کرو۔۔۔ میں تمہارے کھانے کو کچھ بناتا ہوں۔۔۔ وہ نرم مسکراہٹ اسکی جانب اچھالتا اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔۔
ماہرہ اسے کمرے سے باہر نکلتا دیکھ رہی تھی جسنے باہر جاتے ہی کال پک کر کے کان سے لگا لی تھی۔۔۔ اور اب وہ اس سے بات کرتا کچن میں کام کر رہا تھا۔۔۔
لیکن ناجانے کیوں ماہرہ کی آنکھوں میں کچھ چبھا تھا۔۔۔ رقابت کے شدید احساس نے اندر جنم لیا تھا لیکن وہ لب سی گی۔۔۔۔
******
 

No comments

Powered by Blogger.
4