Roshan Sitara novel 28th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Roshan Sitara novel 28th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Roshan Sitara is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels
Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front
of the world and improve their abilities in that field.
Roshan Sitara Novel by Umme Hania | Roshan Sitara novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Roshan Sitara novel by Umme Hania Complete PDF download
Online Reading
ناول "روشن ستارا"۔
مصنفہ "ام ہانیہ"۔
Official pg : Umme Hania official
ستائسویں قسط۔۔۔۔
اٹھائیسویں قسط۔۔۔
فاہا لودھی اس وقت ڈھیلے سے لباس میں ملبوس اپنے کمرے میں بیڈ کراون سے ٹیک لگائے بیٹھی تھی۔۔۔ کھلی آنکھوں کی ساکت پتلیاں بیڈ کے سامنے موجود کھڑی کے کھلے پٹ سے باہر سیاہ آسمان کے سینے پر مقیش کی مانند جگمگاتے ستاروں پر جمی تھیں۔۔۔۔
وہ جب سے آئی تھی کمرے میں ہی بند تھی۔۔۔ مرتسم اسے گھر چھوڑ کر گھر سے نکل چکا تھا۔۔۔
علایہ وہیں کمرے میں ہی اس سے مل گئ تھی۔۔۔ وہیں اسنے علایہ کیساتھ مل کر کھانے کے چند نوالے زہر مار کئے تھے۔۔۔
طبیعت پر ابھی بھی عجیب کسلمندی اور بوجھل پن سوار تھا۔۔۔
سوچ کی کینوس پر بار بار ترتیب در ترتیب وہی مناظر چل رہے تھے۔۔۔
یونیورسٹی کے گراونڈ میں کسی غیبی مدد کے طور پر مرتسم لودھی کا آنا ۔۔۔ اسے کسی محافظ کی مانند کھینچ کر اپنے پیچھے چھپانا۔۔۔ اس کے لئے بھری یونیورسٹی میں جھگڑا مول لینا۔۔۔۔
روڈ کنارے کھڑے اسکے لئے گاڑی روکنا۔۔۔ کچن میں کھڑے اس کے سے بحث کرنا۔۔۔ اسے یہ گھر چھوڑ کر جانے سے روکنا۔۔۔۔ اس رات اسکا بوکھلایا سا روپ دیکھ بنا سوچے سمجھے بیک یارڈ میں نکل جانا۔۔۔۔ کسی خدشے کے تحت اسکے کمرے میں آکر اسکے ہاتھ سے موبائل چھیننا۔۔۔ پھر اسے اس سب میس سے نکالنے کو فل پرووف پلانینگ کرنا۔۔۔۔
وہ مکمل طور پر اس کی ذات میں گم تھی۔۔۔۔
اسکا بولنا ۔۔۔اسکا چلنا۔۔۔ اسکی بات کرنے کا انداز۔۔۔۔۔
اب اسے اسکی ڈانٹ ڈپٹ غصہ کچھ بھی تو سنائی نہیں دے رہا تھا محض اسکے کبھی جھنجھلاتے تو کبھی غصے سے گھنی مونچھوں تلے دبے عبانی لب ہلتے دکھائی دے رہے تھے۔۔۔۔
افف۔۔۔۔ وہ سر تھام کر رہ گئ ۔۔۔ وہ خود کو مرتسم لودھی کے سحر میں جھکڑتا محسوس کر رہی تھی۔۔۔ دل کی حاکت عجیب ہو رہی تھا۔۔۔ ناجانے وہ شخص کیوں دل کو اسقدر بھلا لگنے لگا تھا کے اسے پیروں بیٹھ کر سوچنا بھی خوشی دے رہا تھا۔۔۔
دفعتا اسکے موبائل پر ٹیون بجی تو وہ چونک کر متوجہ ہوئی۔۔۔
فون اسکی دوست کا تھا۔۔۔
اسنے گہرا سانس خارج کرتے کشن گود میں رکھا اور کسلمندی سے فون اٹھا کر کان کو لگا گئ۔۔۔
تم آج یونیورسٹی کیوں نہیں آئی فاہا۔۔۔ رابطہ استوار ہوتے ہی اسے عینی کی بے ساختہ آواز سنائی دی۔۔۔۔
طبیعت کچھ سازگار نہیں تھی عینی۔۔۔ اس لئے اچانک چھٹی کرنی پڑ گئ۔۔۔ اسنے ماتھا رگڑتے بات بنائی۔۔۔
اوہ۔۔۔ اب کیسی ہے طبیعت۔۔۔۔
ویسے مجھے تمہیں ایک بات بتانی تھی۔۔۔ جسے سن کر یقیناً تمہاری طبیعت ٹھیک ہو جانے والی ہے۔۔۔ وہ پرجوش سی گویا ہوئی۔۔۔
کیسی بات۔۔۔ فاہا سمبھلی۔۔۔
وہ زبیر لغاری ہے نا ۔۔۔۔ یار آج صبح فوڈ کورٹ سے گرفتار ہو گیا۔۔۔
بات سن کر فاہا کا دل دھک سے رہ گیا۔۔۔ اسنے بے ساختہ خشک پڑتے لبوں پر زبان پھیری۔۔۔۔
کک۔۔۔ کیسے۔۔۔ حلق سے پھنسی پھنسی سی آواز نکلی۔۔۔۔
یار ہوٹل کے کمرے میں کسی دوشیزہ کیساتھ زبردستی کر رہا تھا۔۔۔۔ اور لڑکی بھی وہ جو انکے خاندانی دشمنوں کی بیٹی تھی اور کسی دور میں زبیر لغاری کے عشق میں پاگل تھی۔۔۔ لیکن زبیر لغاری نے اسے پوری یونیورسٹی کے سامنے دھتکار دیا تھا۔۔۔ اس لڑکی کی اتنی بے عزتی ہوئی تھی کے وہ یونیورسٹی ہی چھوڑ گئ۔۔۔
نیز ساتھ میں اسکے پاس سے بھاری مقدار میں منشیات برآمد ہوئی ہے۔۔۔ وہ منشیات کی سمگلنگ بھی کر رہا تھا۔۔۔
یار بہت برا پھنسا ہے وہ۔۔۔ لگتا ہے تم نے آج کی نیوز نہیں دیکھی۔۔۔ میڈیا نے اس واقع کو بہت کوریج دی ہے۔۔۔ہے۔۔۔
وہ اسے بتا رہی تھی جبکہ فاہا کے کان سائیں سائیں کر رہے تھی۔۔۔۔
وہ عینی ۔۔۔ میں تم سے کچھ دیر بعد بات کرتی ہوں مجھے تائی جان آواز دے رہی ہیں۔۔۔۔
وہ سرعت سے فون بند کر کے بیڈ پر پھینکتی سر تھام گئ۔۔۔۔
کیا تھا مرتسم لودھی۔۔۔ اتنی فل پرووف پلانینگ۔۔۔ کس کس انداز میں اسکا دماغ چلتا تھا۔۔۔
کاش کاش۔۔۔ وہ بھی کبھی مرتسم لودھی کی طرح بہادر نڈر حق بات کہنے والی اور صحیح بات پر ڈٹ جانے والی بن پاتی۔۔۔۔
آج کل تو ویسے ہی وہ دل و دماغ پر سوار تھا۔۔۔۔ مزید اسکی ایک ایک بات ایک ایک انداز اسے مرتسم کا اسیر بنا رہا تھا۔۔۔ نگاہوں کے سامنے ہر دم اسکی شبیہ رہنے لگی تھی۔۔۔
اسکی ساحرانہ شخصیت۔۔۔ اسکا ہسنا۔۔۔ اسکی پرسنیلٹی۔۔۔ ماتھوں پر شکنوں کے جال کا بچھنا۔۔۔ بھنور اٹھانا۔۔ کندھے اچکانا۔۔۔ ہاتھ پشت پر باندھنا۔۔۔ آنکھیں چندہی کرنا۔۔۔ ہر ہر انداز دل میں کھب رہا تھا۔۔۔ وہ اپنی ہی کیفیت سے گھبراتی سر بیڈ کڑاوں سے ٹکا کر آنکھیں موند گئ۔۔۔۔
کاش وہ ہر لحاظ سے مکمل شخص اسکا ہو جائے۔۔۔۔ دل نے شرگوشی کی اور فاہا نے پٹ سے آنکھیں وا کیں۔۔۔ تنفیس تیزی سے چلنے لگا تھا۔۔۔۔
یہ کیسی سوچ آئی تھی اسے۔۔۔ کیا بھلا ایسا ممکن تھا۔۔۔ کہاں وہ ایک مغرور شہزادہ۔۔۔ اور کہاں فاہا لودھی بقول مرتسم کے ایک ڈری سہمی اور دبو سی لڑکی۔۔۔۔
کیا بھلا انکا کوئی جوڑ تھا۔۔۔۔
مرتسم لودھی وہ تو اسے محض اپنے گھر کی عزت سمجھتا تھا۔۔۔ اپنی چچا ذاد اور ذمہ داری۔۔۔
اسنے تو کبھی بلا ضرورت اسے بلایا تک نا تھا۔۔۔ کبھی اسے نظر بھر کر دیکھا تک نا تھا۔۔۔ کجا کے اس سے کچھ آگے۔۔۔
اسے خود ہی اپنی سوچ پر ہسی آئی۔۔۔۔
مرتسم لودھی کے ساتھ کوئی اسی کی طرح کی ہی جچنی تھی۔۔۔
دل میں ایک پھانس سی اٹکی۔۔۔ وہ دل کا روگ دل میں ہی دابے کشن میں منہ گھسیر گئ۔۔۔ یہ یک طرفہ محبت بھی بہت خوار کرواتی تھی۔۔۔
******
کیس میں کیا پیش رفت ہے وجی۔۔۔۔ مرتسم لودھی اس وقت وجی کے اپارٹمنٹ میں اسکے مقابل صوفے پر ٹانگ پر ٹانگ جمائے بیٹھا تھا۔۔۔ ایک ہاتھ صوفے کی پشت پر پھیلا رکھا تھا جبکہ دوسرے ہاتھ میں تھامے موبائل کی سکرین کو وہ سکڑول ڈاون کر رہا تھا۔۔۔۔
جہاں ہر طرف زبیر لغاری کے ہی چرچے تھے۔۔۔
سر میڈیا نے اس بات کو بہت اچھالا ہے۔۔۔ اتنا کے اسکا پاور فل باپ بھی اسکے لئے کچھ نہیں کر پا رہا۔۔۔
آپ نے پلان ہی اتنا پاور فل بنایا ہے کے اسکے بچ نکلنے کے چانسز بہت کم ہیں۔۔۔ وہ ایک لمبے عرصے کے لیے اندر گیا ہے۔۔۔۔
وجی نے چائے کی ٹرے لا کر درمیانی میز پر رکھی۔۔۔
اور اس لڑکی کا کیا چکر ہے۔۔۔ کہاں سے ملی وہ تمہیں۔۔۔ یکدم یاد آنے پر مرتسم نے موبائل کی سکرین سے نگاہیں اٹھاتے اسے گھورا۔۔۔
وہ قہقہ لگاتا سر پیچھے کو گرا گیا۔۔۔
بس نا پوچھیں سر۔۔۔ انکا اسکینڈل یونیورسٹی میں اتنا پھیلا تھا کے وہ لڑکی میری نظروں میں تھی۔۔۔۔ پہلے تو ہمارا پلان محض ڈرگز تک ہی تھا نا۔۔۔۔ مگر زبیر لغاری کے کمرے میں کیمرے سیٹ کرنے والی حرکت پر جب آپ نے پلان میں ردوبدل کا کہا تو آپ کے کہنے پر سب سے پہلے میرے ذہن میں وہی لڑکی آئی۔۔۔ اتنے شارٹ نوٹس پر اتنا ذاتی رسک لینے والی مجھے کوئی اور لڑکی نہیں ملنی تھی۔۔۔ اسی لئے میں نے سب سے پہلے اسی سے رابطہ کیا۔۔۔ وہ تو جیسے زبیر کو شکست سے دوچار کروانے کے لئے کب سے کسی موقع کی تلاش میں تھی۔۔۔ جھٹ سے مان گئ۔۔۔۔
اسکا باپ زبیر لغاری کے باپ کا سب سے بڑا حریف ہے۔۔۔ اور اس کیس میں ایک اہم پیش رفت ثابت ہوا ہے۔۔۔ مقابلہ ٹاکرے کا ہے۔۔۔ امید نہیں کے وہ جلدی زبیر لغاری کی زمانت ہونے دے گا۔۔۔ آخر کو اسکی اکلوتی بیٹی کا معاملہ ہے۔۔۔
اور سننے میں یہ ہی آیا ہے کے پہلے بھی وہ اسی دشمنی کے باعث بیٹی کو استعمال کرتا اسے زبیر لغاری کی زندگی میں بھیج رہا تھا۔۔۔ لیکن زبیر انکے پلان سے آگاہ ہو گیا تھا اسی لئے اسنے اسے پوری یونیورسٹی میں رسوا کر دیا۔۔۔
خیر انکی عداوت ہمارے کام آگئ۔۔۔ وجی لاپرواہی سے کہتا شانے اچکا گیا۔۔۔
مرتسم نے پرسوچ نگاہوں سے اسے تکتے چائے اٹھا کر لبوں سے لگائی۔۔۔
ہمممم۔۔ چلو مجھے ہر پل کی خبر دیتے رہنا۔۔۔ اگر زبیر لغاری کے چھوٹنے کے کوئی چانسز بنے تو سب سے پہلے مجھے ہی خبر دینا تاکے آگے کا لائحہ عمل بنایا جا سکے۔۔۔ کیونکہ زبیر لغاری بخوبی آگاہ ہے کے اسکے ساتھ یہ گیم کس نے کھیلا ہے۔۔۔ ایسا نا ہو کے وہ چھوٹنے کے بعد فاہا کے لئے کوئی پرابلم کھڑی کرنے کی کوشیش کرے۔۔۔
مرتسم کے سوچ کے گھوڑے ہر جانب ڈور رہے تھے۔۔۔
ویل چائے کے لئے شکریہ۔۔۔ اسنے چائے کا خالی کپ ٹرے میں رکھا اور اٹھ کھڑا ہوا۔۔
ارے سر اب آپ شرمندہ کر رہے ہیں۔۔۔
وجی بھی اسکے ساتھ ہی اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔
******
علایہ لودھی موبائل پر نگاہیں جمائے آہستہ آہستہ زینے اترتی آ رہی تھی۔۔
مسٹرد کلر کی کھلی سی شارٹ فراک اور سیاہ پلازو میں ملبوس سیاہ ہی گولڈن سٹون جڑا آنچل لاپرواہی سے شانے پر ڈال رکھا تھا۔۔۔
گھنی آبشار کمر پر بکھری پڑی تھی۔۔۔ جبکہ بینگز میں کٹے بال ماتھے پر گرانے کی بجائے دائیں جانب کر رکھے تھے۔۔۔ ببل چباتی وہ اپنی ہی دھن میں نیچے آئی تھی جب لاوئنج کے صوفے پر ماں کو پریہا کے ساتھ بیٹھا پایا۔۔۔
Hey Alaya How are you...
پریہا اعظم سیاہ اور سفید امتزاج کے حامل ماربل ڈیزائن کے کھلے سے ٹراوزر پر کھلی سی پیٹ سے زرا نیچے آتی سلیولیس شرٹ زیب تن کئے ٹانگ پر ٹانگ جمائے بیٹھی ماں کیساتھ محو گفتگو تھی بال کرل کر کے کھلے چھوڑے تھے جبکہ کانوں میں ڈائمنڈ ائیرنگز کیساتھ بازو میں وائٹ بریسلیٹ ڈال رکھا تھا۔۔ جب اسے نیچے اترتا دیکھ وہ گویا ہوئی۔۔۔
آواز پر علایہ نے چونک کر موبائل سے سر اٹھایا اور خیرمقدمی مسکراہٹ کا تبادلہ کیا ۔۔۔
ماں بھائی آگئے کیا۔۔۔ اچانک یاد آنے پر وہ ماں سے مخاطب ہوئی۔۔۔
ہاں آگیا ہے۔۔۔ ڈرائینگ روم میں ہے۔۔۔ ماں مصروف سے انداز میں کہتی واپس پریہا کے ساتھ گفتگو میں مصروف ہو گئ جبکہ وہ موبائل بند کر کے ببل کے عبارے پھلاتی ڈرائینگ روم کی جانب بڑھی۔۔۔
******
اپنے آپ میں مگن علایہ نے ببل کا عبارہ بناتے ڈرائینگ روم کا دروازہ کھولا۔۔۔ جبکہ دروازہ کھلتے ہی لگنے والا شاک اسقدر گہرا تھا کے عبارا پھولائے منہ کیساتھ ساتھ اسکی آنکھیں بھی پوری کی پوری کھل گئیں۔۔۔۔
یکدم عبارا پھوٹا اور ببل منہ سے چپکی جسے وہ سرعت سے منہ میں لے گئ۔۔۔
سیون سیٹر ایل شیپ صوفے پر وہ شخص بڑے مزے سے ٹیک لگائے بیٹھا تھا۔۔۔ گود میں لیپ ٹاپ تھا جبکہ ٹانگیں قینچی کی صورت بنائے سامنے گلاس ٹیبل پر رکھی تھیں۔۔۔ وہ اسقدر ریلیکس انداز میں لیپ ٹاپ پر کام کر رہا تھا جیسے یہ اسکے باپ کا گھر ہو۔۔۔
آواز پر وہاج خانزدہ بھی اس جانب متوجہ ہوا اور سامنے شعلہ جوالہ بنی اس لڑکی کو کھڑا دیکھ اسکے تاثرات بھی علایہ سےکچھ الگ نا رہے۔۔۔ وہ ایک جھٹکے سے سیدھا ہو بیٹھا۔۔۔
ابتدائی فیز سے نکلتے ہی غصے کی ایک شدید لہر علایہ کے اندر ڈور گئ۔۔۔
تم۔۔۔۔
تم۔۔۔۔۔
دونوں بیک وقت ایک دوسرے کے مد مقابل آئے۔۔۔ علایہ کا بس نا چل رہا تھا کے اس شخص کو کچا چبا جائے۔۔۔ جبکہ وہاج کی حیرت اسے یہاں غیر متوقع طور پر دیکھ کر ہنوز قائم تھی۔۔۔
اس سے پہلے کے علایہ اس شخص سے اپنے سبھی حساب بے باک کرتی۔۔ ڈرائینگ روم کے باہر کی جانب کھلنے والے دروازے سے مرتسم موبائل جیب میں اڑستا بعجلت اندر داخل ہوا۔۔۔ وہ غالباً فون کال اٹینڈ کرنے باہر گیا تھا۔۔۔
وہاج وہ۔۔۔ اسکے الفاظ منہ میں ہی دم توڑ گئے جب اسنے قطعی غیر متوقع طور پر وہاج اور علایہ کو آمنے سامنے دیکھا۔۔۔
مرتسم کو وہاں دیکھ دونوں اسکی جانب متوجہ ہوئے۔۔۔
بھائی وہ۔۔۔ علایہ روہانسی ہوتی مرتسم کی جانب بڑھی جبکہ وہاج کو لفظ بھائی سے ایک اور جھٹکا لگا۔۔۔
آنچل اوڑھو سر پر علایہ۔۔۔ علایہ کے الفاظ منہ میں ہی دم توڑ گئے جب مرتسم نے اسکی جانب جھکتے غرا کر کہا۔۔۔۔
آواز اتنی بلند ضرور تھی کے وہاج خانزادہ اسکا مفہوم سمجھتا علایہ پر سے اپنی حیرت زدہ نگاہیں ہٹاتا رخ پلٹ گیا۔۔۔
علایہ کو اپنی پوزیشن اور صورتحال کا اندازہ ہوا تو شرمندگی سے آنچل کھول کر سر پر اوڑھا۔۔۔ یوں کے سیاہ دوپٹے کے ہالے میں اسکی دودھیا رنگت مزید دمک اٹھی۔۔۔
بھائی بھائی۔۔۔ یہ وہی بدتمیز بدتہذیب اور جاہل شخص ہے جو اس روز مجھ سے ٹکرایا اور میری اسائمنٹ پانی میں گرادی اور پھر میرے ساتھ بدتمیزی کرتے مجھے دھکا دیا۔۔۔ علایہ کے انکشاف پر مرتسم نے حیرت زدہ نگاہوں سے وہاج کی جانب دیکھا۔۔۔ ایک لمحے میں اس روز کے سبھی واقعات مرتسم کی نگاہوں کے سامنے سے گزر گئے۔۔۔
یہ تمیز دار ۔۔۔۔ باتہذیب اور ڈیسینٹ سی لڑکی تمہاری بہن ہے مرتسم لودھی جو راہ چلتے ہر ایرے غیرے اجنبی کے ڈائریکٹ گریبان کو پہنچتی ہے۔۔۔ اور بھرے بازار میں بنا سوچے سمجھے سینکڑوں لوگوں کے سامنے اپنا تماشہ خود بنواتی ہے ۔۔
بچپن میں موٹی تھی اب وزن کم کر لیا لیکن دماغ پر چڑھی چربی کم نا ہو سکی۔۔۔ وہاج خانزادہ بھی بنا لگی لپٹی رکھے گویا ہوا۔۔۔
یو باسٹرڈ۔۔۔ اسکی چرب زبانی پر علایہ ضبط کھوتی اسکی جانب بڑھی اور اسے گریبان سے جھکڑا۔۔۔
اسکی اس حرکت پر لمحے کے ہزارویں حصے میں وہاج کا چہرا غصے سے دہکنے لگا۔۔۔
اس سے پہلے کے وہ بنا لحاظ رکھے ایک جھٹکے میں اسکے ہاتھ جھٹکتا۔۔۔ مرتسم اسکے تاثرات بھانپتا بجلی کی سی تیزی سے اسکی جانب بڑھا اور علایا کے ہاتھ سختی سے تھامتے اسکے گریبان سے ہٹائے۔۔۔
علایہ اندر جاو۔۔۔ خود پر ضبط پاتا وہ سختی سے دانت چبا کر گویا ہو۔ا۔۔
نہیں جاوں گی۔۔ پہلی بتائیں یہ گھٹیا شخص ہے کون۔۔۔ اس کم ظرف۔۔۔۔
مرتسم لودھی اس سے زیادہ چرب زبانی ناقابل برداشت ہے میرے لئے۔۔۔ وہاج مٹھیں بھینچتے مرتسم کی جانب دیکھتا غرایا۔۔۔
اوہ واو۔۔۔۔ چرب زبانی۔۔۔ اور جو ابھی نادر فرمودات میرے بارے میں آپ نے فرمائے وہ کیا تھے۔۔۔ اپنی دفعہ کیوں مرچی لگی ہاں۔۔۔۔ علایہ دو دو ہاتھ کرنے کو تیار بیٹھی تھی۔۔۔ کون ہے یہ شخص بھائی اور۔۔۔
یہ وہاج خانزادہ ہے علایہ۔۔۔ میرا بچپن کا دوست۔۔۔ مرتسم کے کہنے پر وہ ٹھٹھکی۔۔۔
اوہ وہ بیٹری۔۔۔ جسکی چارجنگ کبھی ختم ہی نہیں ہوتی تھی۔۔۔ اور ہر کسی کہ ناک میں کئے رکھتا تھا۔۔۔ جیسے بچپن میں اپنے گھر سے کچھ نہیں ملتا تھا اور ہمیشہ میرے ہاتھ سے چاکلیٹ چھین کر کھاتا تھا۔۔۔
علایہ یاد آنے پر ناگواری سے بولی۔۔۔ مرتسم کا یہ دوست اسے بچپن سے ہی پسند نا تھا۔۔۔ اور پھر انکے باہر شفٹ ہو جانے پر وہ بہت خوش ہوئی تھی لیکن یہ شخص واپس کب آیا یہ اسکے علم سے باہر تھا وہ کبھی جان ہی نہیں پائی۔۔ نیز اتنے سالوں بعد وہ بچپن سے یکسر مختلف تھا۔۔۔
تمہارا بھونپو تب بھی بنا بریک کے شروع ہوتا تھا نا اور فارغ لوگوں کے لئے وہ کافی انٹرٹینمنٹ کا باعث تھا لیکن مجھے نہیں پتہ تھا کے بچپن کی عادتیں خصلتیں بھی بن جاتی ہیں۔۔۔
مجھے اگر تمہارے بارے میں پہلے پتہ ہوتا نا تو کب سے انکل آنٹی کے پاس جا کر تمہاری کرتوتیں بتا چکی ہوتی۔۔۔ وہ غصیلے لہجے میں چٹخی۔
Faha show some respect...
وہ تم سے بڑا ہے تمہارے بھائی کی طرح ہے۔۔۔
مرتسم ان دونوں کو مسلسل مقابلے پر اترا دیکھ رسانیت سے گویا ہوا۔۔۔
For God sake
بھائی یہ شخص میرا بھائی نہیں۔۔۔
اور خدا کے لئے اسکی میرے ساتھ رشتہ داریاں مت جوڑیں۔۔۔ اسنے بھرے بازار میں میرے ساتھ بدتمیزی کی ہے۔۔ آپ اسے کیسے کچھ کہہ کیوں نہیں رہے۔۔۔
آجاو مرتسم۔۔۔ آجاو۔۔۔ چلاو میرے ماتھے پر بندوق۔۔۔ لیکن اس سے پہلے جاو ابھی جاو اور جا کر اس فوٹوکاپی شاپ کی سی سی ٹی وی فوٹیج نکلوا لو ۔۔۔ سب دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔۔۔
میں صرف ایک بات جانتا ہوں مرتسم لودھی کے اچھی لڑکیاں یوں سرعام نہتا کسی بھی بنا پر کسی اجنبی راہ چلتے کے گریبان پر ہاتھ نہیں ڈالتیں۔۔۔ اور اگر ڈالیں تو پھر انہیں ہر طرح کے ردعمل کو برداشت کرنے کا حوصلہ رکھنا چاہیے۔۔۔ میں نے تو بس اپنا گریبان چھڑوایا تھا۔۔۔
تم جو۔۔۔۔
فاہا اندر جاو۔۔۔ مرتسم بات مزید بڑھتی دیکھ غصے سے گویا ہوا۔۔ میں یہاں سے سیدھی انکل اور آنٹی کے پاس جاوں گی اور انہیں بتاوں گی کہ۔۔۔
محترمہ تمہیں اپنے انکل آنٹی کے پاس شکایت لے کر جاتے ہوئے چند منٹ لگیں گے ۔۔۔ لیکن مجھے اندر جاتے چند سیکنڈ بھی نہیں لگیں گے۔۔۔ اگر میں نے اندر جا کر انکل تو دور آنٹی کو ہی تمہاری حرکتیں بتا دی نا تو ٹرسٹ می وہ تمہارا باہر جانا تک منع کر دیں گی۔۔۔ وہ طیش سے دھمکی دینے کے در پر تھی جب وہاج درشتی سے اسکی بات کاٹ گیا۔۔۔
علایہ مٹھیاں بھینچتے پیر پٹخ کر رہ گئ۔۔۔ اس بات میں کوئی شک بھی نا تھا۔۔۔ اگر وہ ماں کے پاس چلا جاتا تو وہ ان ماوں میں سے بالکل نا تھی جو اس واقعہ کو اتنی آسانی سے جانے دیتی۔۔۔
وہاج خانزادہ مرو تم۔۔۔ وہ غصے سے کہتی تن فن کرتی ڈرائینگ روم سے نکل گئ جبکہ پیچھے مرتسم سر تھام کر رہ گیا۔۔۔
جو ابھی ہوا۔۔ وہ توقع سے پڑے تھا۔۔۔
اوہ میرے بھائی یہ سر بعد میں تھامنا ۔۔۔ پہلے یہ کام مکمل کرواو تاکے میں جا سکوں۔۔۔ میرا ٹرینینگ ڈیٹا کا کام تقریبا مکمل ہونے والا ہے۔۔۔ جس میں میں سافٹ ویئر میں کافی حد تک چیزوں کو ٹرینینگ دینے کا کام مکمل کر چکا ہوں اور پراگریس کافی بہتر ہے۔۔ سافٹ ویئر سے اب مختلف چیزوں جگہوں اور موضوعات پر سوال جواب کئے جا سکتے ہیں وہ اب تقریباً ٹرین ہے لیکن ٹیسٹینگ ابھی باقی ہے۔۔۔۔۔۔ اب تم کسی الیکٹرانکس اور میکانکس کے ایکسپرٹس سے ڈیل فائنل کر کے اپنا مطلوبہ کام مکمل کروا ۔۔۔ ان سے ہم انکی ڈیمانڈ کے مطابق اپنا کام لیں گے وہ ہمارے پراجیکٹ کا حصہ نہیں ہونگے۔۔۔ پھر الیکٹرانکس کے فنگشنز جیسے بورڈز ۔۔ برقی طاقت۔۔۔ڈیٹا پروسیسنگز ۔۔۔ ٹرانزسٹرز اور کپیسٹرز وغیرہ ان سے حاصل کر کے روبورڈٹ کے بازو کے آرگنز میں ہم خود فٹ کریں گے اس سے وہ حرکت دینے اور الیکٹرانکسی عمل کو کنٹرول کرنے کا کام کریں گے۔۔۔
وہ لیپ ٹاپ سے فائز کے سینڈ کردہ نوٹس سے پڑھ کر اسے بتا رہا تھا۔۔۔
مرتسم بھی کچھ پلوں کے لئے سب بھول بھال کر اسکی جانب متوجہ ہوا۔۔۔
پہلے الیٹرنکس پر کام کر لیں پھر میکانکس اور سینسرز کی طرف آئیں گے۔۔۔ اب ماہرہ بھابھی کے باعث ہم فائز کی طرف نہیں جا سکتے لحاظ سارا کام مکمل کر کے اسے اپڈیٹ دینی ہے ورنہ رخصتی کے پہلے روز بھی اس بے چین روح کو سکون میسر نہیں آنا۔۔۔ وہاج نے ہلکے پھلکے انداز میں بات سمیٹئ۔۔۔
کرتا ہوں یہ کام بھی۔۔۔ وہ الجھے سے لہجے میں کہتا ڈرائینگ روم سے باہر نکل گیا۔۔۔ ارادہ پہلے علایہ سے ملنے کا تھا۔۔۔
*****

No comments