Header Ads

Roshan Sitara novel 27th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels

 


Roshan Sitara novel  27th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels 

Roshan Sitara is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels

Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front 

of the world and improve their abilities in that field.

 Roshan Sitara  Novel by Umme Hania | Roshan Sitara  novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Roshan Sitara  novel by Umme Hania Complete PDF download

Online Reading

 ناول "روشن ستارا"۔

  مصنفہ "ام ہانیہ"۔

Official pg : Umme Hania official

ستائسویں قسط۔۔۔۔


تمہارا دماغ تو خراب نہیں ہو گیا ماہرہ۔۔۔۔ کیسی بہکی بہکی باتیں کر رہی ہو۔۔۔ تم اس کے ساتھ کیسے جا سکتی ہو۔۔۔ مام غصے سے ضبط کھوتیں چیٹخ اٹھیں۔۔۔

ویسے ہی مام جیسے ہر شادی شدہ لڑکی اپنے شوہر کے گھر جاتی ہے۔۔۔ ماہرہ کا انداز قطعی تھا۔۔۔۔

ہاں لیکن ابھی تمہاری رخصتی کہاں ہوئی ہے۔۔۔۔ اور کیا ہم اس معاشرے میں نہیں رہتے جو ہسپتال میں ہی نکاح اور یہیں سے تمہیں لاوارثوں کی طرح رخصت کر دیں۔۔۔۔ کیا ہم نے دنیا کو منہ نہیں دکھانا۔۔۔ مامی کا بس نہیں چل رہا تھا کے کیا کر بیٹھتیں۔۔۔۔ وہ تو شوہر کے اس فیصلے سے پہلے ہی ناخوش تھیں کجا کے بیٹی نے بھی اب حد کر دی تھی۔۔۔

وہ غصے سے کھول کر رہ گئیں۔۔۔

ماہرہ بیٹا تمہاری ماں ٹھیک کہہ رہی ہے۔۔۔ ابھی تم ہمارے ساتھ گھر چلو ۔۔۔ پھر کچھ دنوں تک ہم پورے طور طریقے سے تمہیں رخصت کر دیں گے۔۔۔ اظہر صاحب نے رسانیت سے اسے سمجھانا چاہا۔۔۔

نہیں بابا۔۔۔ نکاح ہو گیا نا۔۔۔ اور نکاح کی ہی زیادہ بات ہوتی ہے۔۔۔ اب آپ مجھے یہیں سے رخصت کر دیں۔۔۔ مجھے اپنے گھر جانا ہے۔۔۔ وہ نظریں جھکاتی لہیمی سے گویا ہوئی۔۔۔

پاگل ہو گئ ہے میری اولاد۔۔۔ دماغ پھر گیا ہے اسکا۔۔۔ پہلے باپ نے اپنی مرضی کی اب یہ محترمہ اپنی مرضی کر کے رہتی کسر پوری کریں گی۔۔۔ مامی ہوا میں ہاتھ یوں ہلاتیں جیسے سب سمجھ سے باہر ہو۔۔۔ رخ بدل گئیں۔۔۔

ماہرہ مامی اور ماموں ٹھیک کہہ رہے ہیں یار۔۔۔ ابھی تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں۔۔۔۔ 

تو تمہیں کیا صرف تندرست بیوی چاہیے۔۔۔ بیمار بیوی سے جان چھڑوا رہے ہو۔۔۔ کل کو اگر میں پھر سے بیمار ہوگئ تو واپس بھیج دینا ماں باپ کے گھر۔۔۔

فائز نے ماموں اور مامی کے بعد رسانیت سے اسے سمجھانا چاہا۔۔۔ جب وہ غصے سے اسی پر الٹ پڑی۔۔۔۔

ناجانے اسے کس چیز کا غصہ تھا یا اسکے دماغ میں کیا چل رہا تھا۔۔۔ فائز لب بھینچ گیا۔۔۔

ایسی بات نہیں ہے ماہرہ۔۔۔ میں تمہارے آرام کے خیال سے کہہ رہا تھا۔۔۔ 

اسنے گہرس سانس ہوا کے سپرد کرتے اسکی غلط فہمی دور کرنی چاہی۔۔۔

تم کہنا کیا چاہتے ہو کہ کیا مجھے میرے شوہر کے گھر آرام تک نہیں ملے گا۔۔۔ تمہاری باتیں مجھے بہت مایوس کر رہی ہیں فائز علوی۔۔۔ کیا تم اس شادی سے ناخوش ہو۔۔۔۔

اسکا انداز قطعی دو ٹوک اور جانچتا ہوا تھا۔۔۔ ماموں اسے یوں دیکھ سر تھام گے۔۔۔۔

فائز سنجیدگی سے اسے دیکھتا رہا۔۔۔

وہ اپنے ضدی انداز میں آ چکی تھی۔۔۔ اور جب اسکا یہ موڈ آن ہوتا وہ تب تک پیچھے نا ہٹتی جب تک وہ اپنی ضد منوا نا لیتی۔۔۔

ٹھیک ہے۔۔۔ وہ جیسے ہار مان گیا۔۔۔۔۔ 

میں گاڑی کا انتظام کرکے آتا ہوں۔۔۔

وہ گم صم سا پریشانی سے گویا ہوا۔۔۔ یہ بہت جلدی اور اچانک تھا۔۔۔ وہ اسکے لئے ابھی  ذہنی طور پر  تیار نا تھا۔۔۔

رکو فائز بیٹا۔۔۔ اسے دروازے کی جانب بڑھتا دیکھ ماموں نے اسے روکا۔۔۔

کیا کر رہی ہو ماہرہ بیٹا۔۔۔ کیوں بے وقتی ضد کر رہی ہو۔۔۔ ماموں اسے ٹس سے مس نا ہوتے دیکھ اسے سمجھانے کی خاطر نرمی سے گویا ہوئے۔۔

باپ پر گئ ہے۔۔۔ ہٹ ڈھرم۔۔۔ جب آپ نے کبھی میری نا سنی تو اب یہ ڈھیٹ کیسے کسی کی سنے گی۔۔۔ میری قسمت۔۔۔ کے مجھے پورا خاندان ہی ایسا مل گیا۔۔۔ منہ زور۔۔۔مامی سخت نالاں تھیں۔۔۔ غصے سے کہتیں جھٹکے سے کمرے کا دروازہ وا کرتیں واک آوٹ کر گئیں۔۔۔

ماموں خاموشی سے انہیں جاتا دیکھتے رہے۔۔۔

ٹھیک ہے ماہرہ اگر تم نے ضد پوری کروانی ہی ہے تو۔۔۔ جاو۔۔۔ 

میں تمہیں رخصت کرتا ہوں۔۔۔ خدا تمہارا دامن خوشیوں سے بھر دے۔۔۔ اظہر صاحب گلوگیر لہجے میں کہتے اسکے پاس آئے اور محبت سے اسکے سر پر ہاتھ پھیرا۔۔۔۔

ماہرہ کی آنکھیں بھر آئیں۔۔۔۔ ماموں نے خود پر ضبط کرتے اسے اپنے ساتھ لگایا اور اسکا کندھا سہلایا۔۔۔

ہمیشہ خوش رہو بیٹآ۔۔۔۔ اور فائز بیٹا ڈرائیور آپ لوگوں کو آپکے فلیٹ چھوڑ دے گا۔۔۔۔

ماموں گیلی سانس کھینچتے فائز کی جانب متوجہ ہوئے جو ہاتھ پشت پر باندھے سنجیدہ سا انہیں دیکھ رہا تھا۔۔۔

شکریہ ماموں جان۔۔۔ لیکن اسکی ضرورت نہیں ۔۔۔ اب اتنی بھی بات نہیں گئ کے میں اپنی بیوی کو رخصت کروا کر لے جاتے ہوئے ایک گاڑی تک کا انتظام نا کر سکوں۔۔۔۔ آپ دو منٹ اسکے پاس ہی رکیں میں ابھی آتا ہوں ۔۔ وہ سنجیدہ سا انہیں کہتا باہر نکل گیا جبکہ ماموں اداسی سے مسکرا دیئے۔۔۔

انکا داماد بہت خوددار تھا۔۔۔

بابا ایم سوری۔۔۔۔ میری کسی بھی بات سے کسی بھی حرکت سے۔۔۔ کسی بھی ضد سے آپکی دل آزری ہوئی ہو تو اپنی بیٹی کو معاف کردیں پلیز۔۔۔ جانتی ہوں میں نے آپکو بہت تنگ کیا۔۔۔

اسکی آواز بھرانے کیساتھ ساتھ آنکھیں بھی چھلک پڑیں۔۔۔

نہیں میرا بیٹا۔۔۔ ایسا نہیں کہتے۔۔۔ بیٹیاں باپ کو تنگ نہیں کرتیں۔۔۔ بلکہ ناز اٹھواتیں ہیں۔۔۔ اور میری بیٹی تو ہے ہی بہت فرمابردار۔۔۔  اظہر صاحب نے اسکا سر تھپتھپاتے انگلی کی پور سے  اپنی نم آنکھ کا کونا دابا۔ ۔۔۔

بابا آپکو پتہ ہے کہ میں آپکے داماد کو بہت اچھے سے جانتی ہوں۔۔۔ شاید وہ خود بھی خود کو اتنے اچھے سے نہیں جانتا جتنے اچھے سے میں اسے جانتی ہوں۔۔۔ وہ سوں سوں کرتی ان سے الگ ہوئی۔۔۔۔وہ اسکی بات کا مفہوم نا سمجھتے ہوئے بھی مسکرا دیئے۔۔۔

وہ بہت خودار ہے بابا اور اسکے ساتھ ساتھ ہر متنازعہ 

بات کو نظر انداز کرنے والا۔۔۔

مام کے ناروا سلوک کے بعد وہ انہیں نظرانداز کرتے گھر کبھی نا آتا۔۔۔ اور میں اس سے ملنے کو بھی ترس جاتی۔۔۔ میرے یا آپکے فورس کرنے پر اگر کبھی گھر آتا بھی تو پھر۔۔۔۔ پھر سے وہی سائیکل چلتا۔۔۔ مام اسکی ذات کو رگیڈتیں اور وہ پھر سے چلا جاتا۔۔۔ خود بھی کئ دن ڈسٹرب رہتا اور اسکے ساتھ ساتھ میں بھی۔۔۔

اسنے کرب سے اپنے آنسو صاف کئے۔۔۔ بابا مام کے رویے کی وجہ سے میرا بہت نقصان ہوا ہے۔۔۔ میرا بیسٹ فرینڈ مجھ سے دور ہو گیا۔۔۔ وہ مجھے نظر انداز کرنے لگا تھا۔۔۔ مجھ سے بات تک کرنا بند ہو گیا۔۔ میں نے بہت مشکلوں سے اسکی نظر اندازی برداشت کی ہے بابا۔۔۔

لیکن اب۔۔۔ اب ایک مضبوط رشتے میں بندھ کر میں یہ سب برداشت نہیں کر پاوں گی۔۔۔ میں اپنی ازواجی زندگی کو مام کی نفرت کی بھینٹ نہیں چڑھنے دے سکتی۔۔۔ مجھے اپنا گھر بنانا ہے بابا۔۔۔ میں اپنے رشتے کو بگاڑ نہیں سکتی۔۔۔ میں اس رشتے کو فائز کے سر پر بوجھ کی طرح مسلط نہیں کرنا چاہتی۔۔۔ اور جب تک میں اسکے سنگ چلے نہیں جاتی مام کے رویے کے باعث ہر بار یہ رشتہ فائز کو بوجھ ہی محسوس ہوتا جسکا وزن ہر مرتبہ بڑھتا ہی جاتا  ۔۔۔ اور رہ گئ بات رخصتی پورے رسم و رواج کے مطابق کرنے کی۔۔۔ تو مام کی موجودگی میں یہ بھی ایک مشکل امر ہے۔۔۔ وہ بھیگی آواز میں باپ سے اپنے خدشات بیان کرتی انہیں یکدم ہی بہت سمجھدار اور اپنی عمر سے بڑئ لگی۔۔۔

فکر مت کرو بیٹا سب ٹھیک ہو جائے گا ان شااللہ ۔۔۔ اللہ آسانیاں پیدا کرنے والا ہے۔۔۔۔۔۔۔ بابا اسکی بات سمجھتے سر ہلا گئے۔۔۔

لیکن مام ۔۔۔ وہ تو ناراض ہو گئ نا بابا۔۔۔۔ وہ آنسو ضبط کرتی باپ کی آنکھوں میں دیکھتی بے بسی سے گویا ہوئی۔۔۔

وہ بھی ٹھیک ہو جائے گی۔۔۔ اسے تمہارے مستقبل کے حوالے سے کچھ تحفظات ہیں۔۔۔ جب وہ تمہیں فائز کیساتھ ہستے مسکراتے زندگی بسر کرتے دیکھے گی نا تو خود بخود ٹھیک ہو جائے گی۔۔۔

ویسے بھی ماں باپ اولاد سے زیادہ دیر تک ناراض نہیں رہ سکتے۔۔۔ ماموں نے مسکرا کر کہتے اسے ہلکا پھلکا کرنا چاہا۔۔۔

دفعتاً فائز بعجلت دروازہ دھکیلتا اندر داخل ہوا۔۔۔ ہاتھ میں ایک چھوٹا سا شاپنگ بیگ تھام رکھا تھا۔۔۔۔

گاڑی آ گئ ہے ماموں جان۔۔۔ اب ہمیں اجازت دیں۔۔۔ وہ سنجیدہ سا قدم قدم انکی جانب بڑھا۔۔۔

ماموں نے اسکا کندھا تھپتھپایا۔۔۔۔۔فائز بیٹآ۔۔۔ اپنے جگر کا ٹکرا کاٹ کر تمہیں دے رہا ہوں۔۔۔۔ خیال رکھنا۔۔۔ بہت لاڈوں سے پالا ہے میں نے اپنی شہزادی کو۔۔۔ ماموں کی آواز میں نمی کی آمیزش شامل ہونے لگی تھی۔۔۔

فکر مت کریں ماموں جان۔۔۔ بھروسہ رکھیں۔۔۔ آپکو کبھی شکایت کا موقع نہیں دوں گا۔۔۔ اسنے ایک نظر ماموں کے پہلو میں کھڑی شارٹ شرٹ اور کیپری   میں ملبوس خاموشی سے اپنے آنسو ضبط کرتی ماہرہ پر ڈالی۔۔۔  یہ کپڑے غالباً اسے مامی چینج کروا کر گئ تھیں ورنہ اس سے پہلے وہ جتنی بار بھی یہاں آیا تھا وہ اسے پیسنٹ گاون میں ہی ملی تھی۔۔۔۔

چلو بیٹا۔۔۔ ماموں ماہرہ کو اپنی بازو کے حلقے میں لئے دروازے کی جانب بڑھے۔۔۔

ایک منٹ ماموں جان۔۔۔

فائز کے کہنے پر ماموں کے ساتھ ساتھ ماہرہ بھی چونک کر اسکی جانب متوجہ ہوئی۔۔۔۔

اسنے ہاتھ میں تھامے شاپنگ بیگ سے میرون کلر کی ایک خوبصورت سی شال نکالی اور ماہرہ کی جانب بڑھا۔۔۔

ماہرہ اسے حیرانی سے دیکھنے لگی جبکہ وہ چادر کھولتا اس پر اوڑھا چکا تھا۔۔۔ یوں کے اسکا مکمل سراپا گویا اس چادر میں چھپ گیا۔۔۔

اب آئیں۔۔۔ وہ خاموشی سے پیچھے ہٹتا ان کے لئے دروازہ کھول گیا۔۔۔۔

ماموں ماہرہ کو لئے باہر نکلے تو وہ بھی انکے پیچھے ہی باہر آنکلا۔۔۔۔

شام تک میں تمہارا سامان ڈرائیور کے ہاتھ بھیجوا دوں گا بیٹا۔۔۔  انکے پیچھے پیچھے آتے اسے ان باپ بیٹی کی گفتگو سنائی دے رہی تھی۔۔۔

ہسپتال کے باہر ہی وہاج خانزادہ اپنی پراڈو سے ٹیک لگائے کھڑا تھا۔۔۔

اتنے شارٹ نوٹس پر وہ اس وقت دوست سے ہی مدد لے پایا تھا۔۔۔ مرتسم کہیں مصروف تھا ورنہ اس موقع پر وہ کبھی پیچھے نا رہتا۔۔۔

ماموں ماہرہ کو لئے گاڑی کے قریب پہنچے تو فائز نے آگے بڑھ کر اسکے لئے دروازہ کھولا۔۔۔ ماموں نے اسے بیٹھا کر دروازہ بند کیا تو فائز ماموں سے مل کر دوسری طرف سے گاڑی میں بیٹھا۔۔۔

آہم۔۔۔ آہم۔۔۔ گاری نے کچھ ہی سفر طے کیا تھا جب وہاج کے گلے میں خراش ہوئی۔۔۔

نکاح مبارک بھابھی ۔۔۔۔ ویل۔۔۔ محبت فاتح عالم۔۔۔۔۔ وہ شریر سے انداز میں گویا ہوا۔۔۔ ماہرہ اسکے انداز پر مسکرا دی جبکہ فائز اسے گھور کر رہ گیا۔۔۔

*******

ہیے۔۔۔ فاہا۔۔۔ اٹھو یار۔۔۔ یہ کیا حرکت ہوئی بھلا۔۔۔۔ سارے پراسس سے بچ نکل کر تم نے میرے سر چڑھ کر ہی بے ہوش ہونا تھا۔۔۔۔ وہ بے طرح جھنجھلایا سا کبھی اسے ہلاتا تو کبھی اسکا چہرا تھپتھپا کر اسے ہوش میں لانے کی کوشیش کرتا۔  جو آنکھیں موندے بے سدھ سی پڑی تھی۔۔۔ سر ایک جانب کو ڈھلک رہا تھا۔۔۔

اچھی مصیبت ہے۔۔۔ کبھی کبھی مجھے لگتا ہے یہ لڑکی ڈرامے کرتی ہے۔۔۔ کوئی اتنا نازک دل بھی بھلا کیسے ہو سکتا ہے۔۔۔ مگر اس بندی کے معاملے میں تو مجھے لگتا ہے کہ دل ہاتھوں میں لے کر

 گھومتی ہے ۔۔۔ کہیں زرا ٹکرائی نہیں کے ہاڑت فیل اور وہیں لڑھک گی۔۔۔

پتہ نہیں ایسی لڑکیوں کو اگر حالات نے کبھی اپنی چکی میں پیسا تو انکا کیا بنے گا۔۔۔

وہ سخت نالاں تھا۔۔۔ منہ ہی منہ بڑبڑاتا وہ گاڑی سٹارٹ کر کے ہواوں میں ارانے لگا تھا۔۔۔

کچھ ہی دیر میں وہ ہسپتال میں موجود تھا۔۔۔ ابتدائی کچھ وقت کی بھاگ دور کے بعد وہ اس وقت بے زرا سی صورت بنائے ہسپتال کے ایک پڑائیویٹ کمرے میں موجود پیشینٹ بیڈ کے بالکل سامنے بیٹھا تھا۔۔۔ نگاہیں پیشنٹ بیڈ پر ہی مرکوز تھیں جہاں قطرہ قطرہ ڈرپ سے محلول فاہا کے جسم کا حصہ بن رہا تھا۔۔۔

ڈاکٹر کا کہنا تھا کے بہت زیادہ سٹریس اور ٹینشن کی وجہ سے وہ بے ہوش ہوگئ تھی۔۔۔

دفعتاً اسکے بے جان وجود میں حرکت ہوئی اوروہ کسمسا کر آنکھیں کھولنے لگی۔۔۔

مرتسم جھٹ سے اٹھ کر اسکے سر پر پہچا۔۔۔

یوں کے آنکھیں کھولتے ہی اسکی پہلی نظر کمر پر ہاتھ رکھے اسے تیکھے چتونوں سے گھورتے مرتسم پر پڑی۔۔۔۔

کچھ پل کے لئے اسے کچھ سمجھ ہی نا آیا کے وہ کہاں پے۔۔۔

اٹھ گی محترمہ۔۔۔ براہ کرم اب کہیں یاداشت چلے جانے کا ڈرامہ مت کرنے لگ جانا۔۔۔

مرتسم کی طنزیہ باتین اسے لمحے میں حواسوں میں واپس لے آئی تھیں۔۔۔

اسنے چونک کر ارد گرد دیکھا۔۔۔ پھر کینولہ لگے ہاتھ کو

دیکھو مس فاہا۔۔۔ مجھے آج تک اتنا خوار کسی نے نہیں کیا۔۔۔ جتنا تم کر چکی ہو۔۔۔ وہ اپنا غصہ اندر دابتا نہایت ضبط سے گویا ہوا۔۔۔

جب ہر جگہ سے صحیح سلامت آگی تو میرے سامنے آ کر بے ہوش ہونے کا ڈرامہ کرنے کی کیا ضرورت تھی ہاں۔۔۔ میں اتنا ہی ویلا ہوں کے تمہارے نخرے اٹھاتا پھروں۔۔۔  مرتسم کا انداز ایسا تھا کے فاہا سہم کر رہ گئ۔۔۔

میں نے جان بوجھ کر تو کچھ نہیں کیا مرتسم۔۔۔ وہ روہانسی ہو اٹھی۔۔۔

خدا کا نام ہے لڑکی۔۔۔۔ یہ بات بے بات بہانے والے سستے آنسووں کا کام یہاں مت جاری کر دینا۔۔۔

 مجھے سخت کوفت ہے اس سے۔۔۔ کسی کو اتنا دبو کم ہمت اور نازک مزاج نہیں ہونا چاہیے کے دنیا سالم نگل جائے۔۔۔

نہایت ہی کوئی لو کانفیدنٹ احساس کمتری کی ماری لڑکی ہو تم۔۔۔ مرتسم کے غصیلے انداز میں کہنے پر فاہا کی آنکھیں ایک مرتبہ پھر سے بھر آئیں۔۔۔

آپ مجھے ڈی گریڈ کر رہے ہیں۔۔۔

محترمہ اسے ڈی گریڈ کرنا نہیں حقیقت بیان کرنا کہتے ہیں۔۔۔ وہ جھٹ سے اسکی بات کاٹ گیا۔۔۔

اب خدا کے لئے یہاں سے اٹھنے کی کرو۔۔۔ تمہاری وجہ سے میرا بہت وقت ضائع ہو گیا۔۔۔ بے ہوش ہوئی سو ہوئی نازک مزاجی تو دیکھو اتنا لمبا بے ہوش ہوگئ۔۔۔  وہ ہنوز بڑبڑاتا اسکے ہاتھ پر لگی ڈرپ اتار رہا تھا جو تقریباً ختم ہو چکی تھی۔۔۔۔۔۔

افسوس کے میں اپنے سب سے اچھے دوست کی زندگی کے اتنے خاص موقع پر اسکے ساتھ نا تھا۔۔۔ ایک تمہاری عزت کا خیال نا ہوتا نا مجھے تو کب سے علایہ یا گھر سے کسی اور کو بلا کر تمہیں انکے حوالے کرتا خود کب کا یہاں سے جا چکا ہوتا۔۔۔

لیکن ایک محض تمہیں غیر ضروری سوالوں سے بچانے کے لئے میں ابھی تک یہاں خوار ہو رہا ہوں۔۔۔ کے جتنی تم پر اعتماد ہو اور جتنے بہترین انداز میں تم سب کے سامنے اس واقعہ کو ایکسپوز کرتی وہ تمہیں ہی سب کی نظروں میں معتوب ٹھہرا دیتا۔۔۔

اب خدارا مجھ پر ایک احسان کرنا کے آج کے واقعی کو بھول جانا۔۔۔  اور کسی دوسرے تیسرے کے سامنے اسکا ذکر بھول کر بھی  مت کرنا۔۔۔  یوں جیسے آج کا واقعہ کبھی ہوا ہی نہیں۔۔۔ تم بس آج میرے ساتھ یونی گئ اور واپس آگئ۔۔۔ بات ختم

وہ جھنجھلایا سا اسے یوں سمجھا ریا تھا گویا دیورا سے سر ٹکرا رہا ہو۔۔۔

اور فاہا وہ تو بس ساکت سی یک ٹک اسکے ہلتے ہونٹ دیکھ رہی تھی۔۔۔

اب اسے اسکی ڈانٹ پھٹکار غصہ تلخ لہجہ کچھ بھی تو برا نہیں لگ رہا تھا۔۔۔ کیا کہا تھا اسنے بھلا۔۔۔۔

وہ شخص اسکی عزت پر آنچ نا آئے۔۔۔ اسے لوگوں کے سامنے کسی بھی چیز کے لئے جواب دہ نا ہونا پڑے اس غرض سے وہ اپنا پعرا شیڈیول خراب کئے اسکے د

سرہانے بیٹھا تھا۔۔۔

 دل کیسے نا اسے اپنی سب سے اونچی مسند پر بیٹھاتا۔۔۔

بالوں میں ہاتھ پھیرتا کبھی جھنجھلاتا کبھی غصہ کرتا ناجانے وہ شخص دل کو کیوں اتنا عزیز لگ رہا تھا۔۔۔

وہ یک ٹک اسے دیکھے گئ۔۔۔ دل الگ ہی لے پر ڈھرکنے لگا تھا۔۔۔ نگاہیں خود بخود ہی اس اونچے لمبے خوبرو اور مضبوط ڈیل ڈول کے حامل شخص سے ہٹنے سے انکاری ہوگئیں۔۔۔

کیا۔۔۔ اب چلنے کا ارادہ ہے یا یہیں فوت ہونا ہے۔۔۔ یا آنکھوں سے سالم نگل لینا ہے مجھے۔۔۔ وہ اسے یونہی ساکت بیٹھے اسے یک ٹک تکنے پر چوٹ کرتا گویا ہوا۔۔۔

فاہا گڑبڑا کر نظروں کا رخ موڑ گی۔۔۔ چوری پکڑی جانے پر دل زور سے دھڑکا۔۔۔ اسے دل کی بےخودی سے ڈر لگ رہا تھا جو اسے رسوا کرنے پر تلی تھی۔۔۔۔

*******


No comments

Powered by Blogger.
4