Roshan Sitara novel 26th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Roshan Sitara novel 26th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Roshan Sitara is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels
Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front
of the world and improve their abilities in that field.
Roshan Sitara Novel by Umme Hania | Roshan Sitara novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Roshan Sitara novel by Umme Hania Complete PDF download
Online Reading
ناول "روشن ستارا"۔
مصنفہ "ام ہانیہ"۔
Official pg : Umme Hania official
چھبیسویں قسط۔۔۔۔
سیاہ کرتا شلوار میں ملبوس فائز علوی بال سلیقے سے بنائے پاوں میں پشاوری چپل پہنے نکھرا نکھرا سا ہر چیز سے بے نیاز ہسپتال کی راہداری میں چلتا جا رہا تھا۔۔۔ دراز قد و قامت تیکھے نقوش اور صاف رنگت کے باعث وہ سینکڑوں میں ممتاز لگتا تھا کہ جہاں سے گزرتا ایک مرتبہ تو لوگ اسے رک کر دیکھنے پر مجبور ہو جاتے۔۔۔۔
اب بھی ہسپتال کے کاریڈور سے گزرتے کئ لوگوں نے رک کر اس بے نیاز سے شخص کو دیکھا تھا ۔۔۔۔
مطلوبہ کمرے کے سامنے جا کر اسنے کمرے کا دروازہ دھکیلا اور باآواز بلند سلام کرتا اندر داخل ہوا۔۔۔۔
پیشنٹ بیڈ پر بیٹھی ہسپتال کے گاون میں ملبوس ماہرہ اور اسکے پاس کھڑے اظہر صاحب دونوں نے بیک وقت اسے دیکھا۔۔۔
اسے دیکھ کر اظہر صاحب کے ہونٹوں پر مسکراہٹ ابھری اور وہ مسکراتے ہوئے باہیں وا کر کے اسکی جانب بڑھے۔۔۔۔جبکہ ماہرہ ایک سنجیدہ نگاہ اس پر ڈال کر واپس اپنے ہاتھ میں تھامے سوپ کے باول پر جھک گئ۔۔۔ وہ اسکے آنے سے پہلے غالباً سوپ پی رہی تھی۔۔۔۔
اب وہ پہلے سے کافی بہتر تھی۔۔۔ گردن سے نیک کارلر اتر چکا تھا جبکہ اب گردن کا پچھلہ حصہ بھی کافی بہتر تھا۔۔۔ وہ بنا سہارے کے اٹھ بیٹھ سکتی تھی۔۔۔
ماموں اور فائز آپس میں باتیں کر رہے تھے جبکہ ماہرہ انہیں کمال مہارت سے نظر انداز کرتی بلا مقصد ہی سوب کے باول میں چمچ ہلا رہی تھی۔۔۔۔
اوکے فائز بیٹا تم ماہرہ کے پاس رکو میں ڈسچارج پیپرز تیار کرواتا ہوں۔۔۔
ماموں اسکا کندھا تھپتھپا کر باہر نکل گئے تو وہ مسکراتا ہوا اسکی جانب بڑھا جسنے اسے آج کمال مہارت سے نظر انداز کرنے کی ٹھانی تھی۔۔۔
یہ اسکی واضح ناراضگی کی نشاندہی تھی۔۔۔
کسی ہیں مسز۔۔۔۔ وہ مسکراہٹ دابتا اسکے قریب ہی کرسی کھینط کر بیٹھا اور کہنی گھٹنے پر رکھ کر ہاتھ کی مٹھی ہونٹوں پر جمائی گویا یہ مسکراہٹ روکنے کی ایک شعوری کوشیش تھی۔۔۔
تمہیں زیادہ جلدی یاد نہیں آگیا۔۔۔ کے تمہاری ایک عدد بیمار بیوی بھی ہاسپیٹلائزد ہے اور تمہیں لے دے کر اسکی عیادت کو بھی جانا چاہیے۔۔۔
وہ ترخ کر کہتی اسے غصیلی نگاہوں سے دیکھنے لگی۔۔۔
فائز نے بمشکل اپنی ہسی کنٹرول کی۔۔۔
اوہہہہہ۔۔۔ تو میری ایک عدد بیمار ہاسپیٹلائزڈ بیوی ناراض ہے مجھ سے۔۔۔ حالانکہ ناراض مجھے ہونا چاہیے تھا۔۔۔ وہ سادگی سے گویا ہوا۔۔۔
مقصد اسے شرمندہ کرنا نا تھا۔۔۔ مگر اس کی یہ بات کسی تیر کی مانند ماہرہ کے دل پر لگی اور وہ شرمندگی سے آنکھین جھکا گئ۔۔۔ساری ناراضگی کہیں ہوا میں تحلیل ہو گئ۔۔۔
آنکھوں میں نمی سمٹ آئی تھی جسے وہ بامشکل چھلکنے سے روکے ہوئے تھی۔۔۔
ایم سوری فائز۔۔۔ میں جانتی ہوں مام نے اس روز بہت غلط کیا۔۔۔ لیکن ۔۔۔
اسکی آواز بھرا گئ۔۔۔۔
ہاتھ میں تھامے باول پر اسکی گرفت مضبوط ہوئی۔۔۔ لیکن اس میں میرا کیا قصور۔۔۔ تم اس روز سے مجھے بھی ملنے نہیں آئے۔۔۔
اففف۔۔۔۔ میری وہ اٹینشن نہیں تھی مائرہ۔۔۔اسنے ہاتھ سر ہر مارا۔۔۔ نا میری بات کا مقصد وہ تھا اور نا ہی میں تمہیں شرمندہ کرنا چاہتا تھا۔۔۔
وہ گہری سانس خارج کر کے رہ گیا۔۔۔
میں مام کو خاموش کروا دیتی فائز تمہارے لئے سٹینً لے جاتی ۔۔۔ لیکن اگر تمہیں یاد ہو تو یہ تمہاری ہی انسٹرکشنز تھی کے مام تمہیں چاہیے کچھ بھی کہیں میں تمہارے اور انکے معاملے میں نا پڑوں اور نا ہی اس عرض سے ان سے بدتمیزی کروں یا بحث۔۔۔ وہ گیلی سانس اندر کھینچتی اسے اسکی ہی بات کا حوالہ دیتی گویا شکوہ کناں ہوئی۔۔۔
یہ اس وقت کی بات تھی جب لڑکپن کے دور میں قدم رکھتے ہی اسنے ماں کا فائز کیساتھ ناروا رویہ دیکھا۔۔۔
شروع شروع میں اسنے بہت واویلا مچایا۔۔۔ مام کے نارواں رویے ہر انکے سامنے تن کر کھڑی ہوگئ۔۔۔ اسے کہاں منظور تھا اپنے بیسٹ فرینڈ کے ساتھ ماں کا ایسا رویہ۔۔۔
پھر لاحاصل بحثیں بڑھنے لگیں۔۔۔ ماہرہ کی بھوک ہڑتال شروع ہوگئ۔۔ ماں سے ناراضگی کئ کئ دن تک چلنے لگی۔۔۔ مامی کے فائز کو ایک بات سنانے پر وہ غصے سے کھولتی انہیں چار سنا جاتی۔۔۔
روز روز کے بڑھتے جھگڑے اور ماحول میں در آتی کشیدگی کو دیکھ کر اس نے ایک دن ماہرہ کو بیٹھا کر یہ سب باتیں بہت پیار سے سمجھائی تھیں اور اس سے بڑے مان سے درخواست کی تھی کے وہ اسکے اور مامی کے معاملات میں نہیں پڑے گئ اور نا ہی مامی سے دوبارہ بدتمیزی کرے گئ۔۔۔ تب تو ماہرہ اسکی بات مان گئ۔۔۔ لیکن اسکے بعد بھی جب مامی کے ناروا رویے کے بعد اسنے مامی سے یہ ہی رویہ رکھا تو فائز اس سے بے طرح ناراض ہو گیا۔۔۔
یہ ناراضگی چلتی چلتی کئ دنوں پر محیط ہوگئ جبکہ لمحہ لمحہ کسی پروانے کی مانند فائز علوی کے گرد منڈلانے والی ماہرہ کے لئے اسکی یہ بےرخی و نظر اندازی سوہاں روح تھی تبھی اسنے روتے ہوئے فائز سے اپنے رویے کا ایکسکیوز کیا اور اسے یقین دلایا تھا کے دوبارہ کچھ بھی ہو جائے وہ اسکے اور مام کے معاملے میں نہیں پڑے گی اور نا ہی دوبارہ اپنا ٹیمپر لوز کرے گی۔۔۔ وہ دن گیا اور آج کا دن تھا وہ مام اور فائز کے معاملے سے نکل گئ۔۔۔گو کہ یہ ایک مشکل امر تھا۔۔۔ وہ فائز کے ساتھ ماں کے ناروا رویے پر بہت جلدی طیش میں آجاتی۔۔۔ لیکن اسنے باقاعدہ کوشیش سے یہ مظر اندازی سیکھی تھی۔۔۔ پہلی بات کے وہ کوشیش کرتی کے مام اور فائز کا آمنہ سامنا کم کم ہی ہو اور اگر ہو بھی جاتا یا ایسا معاملہ پیش آتا بھی تو وہ غصے سے ضبط کرتی واک آوٹ کر جاتی۔۔۔
میں آج بھی اسی بات پر قائم ہوں ماہرہ۔۔۔ اور نا ہی میں اس وجہ سے تم سے ناراض ہوں۔۔۔ اور نا ہی میں چاہوں گا کے تم میری خاطر کبھی اپنی ماں کے مقابل آو۔۔۔۔ یہ تو روٹھی بیوی کو منانے کا ایک طریقہ تھا۔۔۔۔
اسنے نرمی سے اسکا ہاتھ تھامتے ہاتھ تھپتھپایا۔۔۔ گویا اس کے خدشات دور کرتے اسے دلاسہ دینا چاہا تھا۔۔۔
یہ طریقہ تھا۔۔۔ یوں۔۔۔ اسنے نم آنکھیں اٹھا کر فائز کو دیکھا۔۔۔
مجھے شرمندہ کر کے۔۔شکوہ کناں نگاہوں کے ساتھ ساتھ شکوہ لبوں سے بھی پھسلا۔۔۔۔
مائے گاڈ۔۔۔اتنا حساس ہونے کی ضرورت نہیں ہے میری کھسکی ہوئی بیوی کو۔۔۔ وہ مسکراہٹ لبوں میں دابتا اسکے سر پر چیت رسید کر گیا۔۔۔۔
کیسے نا حساس ہوں۔۔۔ روٹھی بیوی منانے کے ایک سو ایک طریقے ہوتے ہیں۔۔۔ اور میرے مشینی شوہر کو اتنا بودا طریقہ ملا۔۔۔ بیوی کو پشیمان کر کے منانے کا۔۔۔۔
وہ روہانسی ہوئی۔۔ انداز روٹھا روٹھا سا تھا۔۔۔
وہ مسکرا دیا۔۔۔۔ ویسے تم نا روٹھی ہی رہو۔۔۔ ایسے زیادہ پیاری لگتی ہو۔۔۔۔ فائز نے اس کی گال کھینچی تو وہ گال پر ہاتھ رکھتی اسے گھور کر رہ گئ۔۔۔
میں نے تمہیں بہت مس کیا فائز۔۔۔ تمہارا بہت انتظار کیا۔۔۔ لیکن تم نہیں آئے۔۔۔ وہ بھرائی نگاہوں سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔ جیسے یکدم ہی اندر سے ساری تلخی کہیں محو ہو گئ ہو۔۔۔ اسے اسکا پرانا فائز مل گیا ہو۔۔۔ جو پہروں اسکے پاس بیٹھ کر باتیں کیا کرتا تھا۔۔۔ جس سے وہ اسی کی شکایتیں بڑے ڈھرلے سے لگا لیا کرتی تھی۔۔۔ اور وہ بڑی بڑی آسانی سے اسے اپنے عمل کی وضاحت دے کر ایکسکیوز کرتے معاملہ رفعہ دفعہ کر دیتا۔۔۔
سوری۔۔۔ مصروف تھا کچھ۔۔۔۔ اسکا انداز پشیمان تھا۔۔۔
تمہاری مصروفیت میری جان لے لیں گی کسی دن۔۔۔ وہ دلبرداشتہ سی کہتی تکیوں کے ساتھ ٹیک لگا گئ۔۔۔
اللہ نا کرے ماہرہ۔۔۔ کتنا فضول بولتی ہو۔۔۔۔ وہ تڑپ ہی تو اٹھا تھا اسکی فضول گوئی پر۔۔۔
اچھااااا۔۔۔۔ میں فضول بولتی ہوں۔۔۔ وہ بازو چڑھاتی سیدھی ہو بیٹھی۔۔۔ انداز میں طیش تھا۔۔۔ فائز کو بہت عرصے بعد اس میں پرانی غصیلی ماہرہ کی جھلک نظر آئی۔۔۔
اور جن خوبصورت فرمودات سے تم نے مجھے نوازا تھا محترم فائز علوی صاحب۔۔۔ وہ کس کھاتے میں گئے۔۔۔
وہ۔۔۔ وہ وقار۔۔۔ نسوانیت۔۔۔ انا۔۔۔۔ وہ روہانسی ہوتی ہاتھ سے اشارہ کرتی گویا ہوئی۔۔۔
آواز گویا حلق میں ہی کہیں اٹکنے لگی۔۔۔
وہ سب جو ۔۔۔ جو عزت دار لڑکیوں میں ہوتا ہے ۔۔۔ مگر ماہرہ تو ٹھہری بے غیرت۔۔۔ مجھ میں وہ سب کہاں سے آگیا۔۔۔
ہاں۔۔۔۔ اور تم سب سے غیرت مند۔۔۔ اسی بے غیرت سے شادی کر بیٹھے۔۔۔
بڑآ عرصہ لگا تھا اسے دل کا غبار نکالنے میں۔۔۔ آج تو گویا وہ سبھی حساب بے باک کرنے کو اسکا نامہ اعمال کھولے بیٹھی تھی۔۔۔
فائز علوی لب بھیچ گیا۔۔۔ بالوں میں ہاتھ پھیرتا وہ گویا اپنے ہی کہے الفاظ پر پشیمان تھا۔۔۔
ایم سوری ماہرہ۔۔۔
کیا۔۔۔ سوری ہاں۔۔۔ کیا ہوتا ہے یہ سوری۔۔۔ وہ ہمت مجتمع کر کے ہلکی آواز میں منمنایا جب وہ درشتی سے اسکی بات کاٹ گئ۔۔۔
پہلے کسی کا دل اپنے لفظوں سے چھلنی چھلنی کر دو۔۔۔ پھر بعد میں ایک لفظ بول دو سوری۔۔۔
واو۔۔۔ کیا بات ہے فائز علوی۔۔۔ ہو گیا مداوا اور ختم بات۔۔۔
لیکن یاد رکھنا بات یوں اتنی آسانی سے ختم نہیں ہوگئ۔۔۔ کبھی معاف نہیں کروں گی تّمہیں۔۔۔
فائز نے جھکا سر اٹھا کر اسے خاموش نگاہوں سے دیکھا۔۔۔
اس بات کو میں ہمیشہ یاد رکھوں گی۔۔۔ جب ہمارے بچے بڑے ہو جائیں گے نا تب بھی۔۔۔ اور جب ہم دادا دادی بن جائئن گے تب بھی۔۔۔ انفیکٹ میں تو اپنے پوتے پوتیوں کو انکے دادا کی کارستانیاں سناوں گی بھی۔۔۔
وہ سوں سوں کرتی مستقبل کی پلانینگ سے اسے آگاہ کر رہی تھی جبکہ وہ اتنی سنجیدہ صورتحال میں بھی چہرا جھکاتے مسکرا دیا۔۔۔
ہسو مت۔۔۔ اسکے چلانے ہر وہ ہمحوں میں اپنی مسکراہٹ ضبط کر گیا۔۔۔
میں اس سب کے لئے دل سے پشیمان ہوں ماہرہ۔۔۔ اور زندگی رہی تو انشااللہ ان سب باتوں کا مداوا بھی کروں گا۔د۔۔ لیکن فلحال نا ان سب باتوں کا موقع ہے نا جگہ۔۔۔۔
لحاظہ اس بات کو ہم بعد کے لئے رکھ چھوڑتے ہیں۔۔۔ ابھی کے لئے تو مجھے اپنی پہلے سے روٹھی بیوی کو پہلے منا لینے دو نا۔۔۔ وہ بہت ہلکے پھلکے انداز میں اسے ہینڈل کر رہا تھا۔۔۔ جیسے اسکی رگ رگ سے واقف ہو کے ماہرہ اظہر کو کیسے ڈیل کیا جا سکتا ہے۔۔۔
ٹھیک ہے ابھی کے لئے چھوڑتے ہیں اس بات کو۔۔۔ چلو مناو مجھے۔۔۔۔ وہ اسکی جانب رخ کرتی چوکری لگا گئ۔۔۔
اظہار محبت کرو ۔۔۔ میں مان جاوں گی۔۔۔ مجھے اور کچھ نہیں چاہیے۔۔۔۔ ماہرا نے اسے آفر کروائی۔۔۔۔
ارے ایسے کیسے کروں اظہار محبت ۔۔۔ زبردستی ہے کیا۔۔۔
ہاں ہے زبردستی۔۔۔۔ جلدی کرو۔۔۔ وہ اٹھلائی۔۔۔
جاو نہیں کرتا میں۔۔۔ اب گن پوائنٹ پر اظہار محبت کرواو گی کیا۔۔۔
وہ اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔
کیا تم مجھ سے محبت نہیں کرتے فائز۔۔۔ پلیز دل رکھنے کو ہی بول دو۔۔۔ وہ اسکا ہاتھ تھام گئ۔۔۔ آواز میں اداسی گھلنے لگی تھی۔۔۔
تم مجھے باخوبی جانتی ہو میں خوامخواہ کسی کا دل نہیں رکھتا۔۔۔ اسنے شانے اچکا کر کہتے ایک نفیس سا کیس جیب سے نکال کر اسکی جانب بڑھایا۔۔۔ وہ جو اسکے جواب پر حیرت زدہ تھی کیس دیکھ کر اسکی آنکھوں کی چمک کئ گنا بڑھ گئ۔۔۔۔
اسنے جھٹ سے کیس فائز کے ہاتھ لیا اور بے صبرے پن سے اسے کھولا۔۔۔
مائے گاڈ۔۔۔ وہ کیس کھولے چمکتی آنکھوں سے اسے دیکھتی منہ پر ہاتھ رکھے حیرت زدہ سی تھی۔۔۔۔
ہمارے نکاح کا تحفہ۔۔۔
ماہرہ کے ردعمل پر اسے بتا کر وہ اسکی فائل اور میڈیسنز چیک کرنے لگا۔۔۔
شکر خدا کا مجھے تم سے پینٹینگ کے سامان کے علاوہ بھی کوئی گفٹ ملا۔۔۔
اسکے چہکنے پر فائز مسکرا دیا۔۔۔
لیکن یہ اظہار محبت تو نہیں ۔۔۔۔ تم نے بات ہی پلٹا دی۔۔۔ ماہرہ نے اسے مضنوعی گھورا۔۔۔
تمہاری نظر میں محبت کیا ہے۔۔۔ فائل کے صفحے پلٹاتا وہ مصروف سا گویا ہوا۔۔۔۔۔
شاید ہی میں محبت کو کبھی لفظوں میں بیاں کر پاوں۔۔۔ یہ ایک جذیہ ہے اور بہت ہی خوبصورت جذبہ ہے۔۔۔جسکے تحت دنیا کی ہر چیز خوبصورت لگتی ہے
وہ کیس میں موجود پینڈینٹ کے ڈیزائن پر ہاتھ پھیرتی کھوئی کھوئی سی گویا ہوئی۔۔۔۔
یہ پینڈینٹ اسکے لئے انمول تھا۔۔۔ ڈبل ہارٹ شیپ کا پینڈینٹ جسکے دل کے آخری کناروں پر ماہرہ اور فائز لکھا تھا۔۔۔ کتنے خوبصورت لگ رہے تھے یہ دونوں نام ایک ساتھ۔۔۔ دل کی کلی کھل چکی تھی۔۔۔
میری نظر میں محبت جیسا جذبہ لفظوں کا محتاج نہیں۔۔۔ آپکے عمل سے سب واضح ہو جاتا ہے۔۔۔
اسنے فائل بن کر کے واپس رکھی اور اسکی جانب گھوما۔۔۔
بعض اوقات یہ لفظوں کی محتاج بھی ہو جاتی ہے۔۔۔ اسے اظہار کی ضرورت بھی ہوتی ہے۔۔۔
خیر مجھے یہ پہناو۔۔۔ وہ اسکی بات سے اختلاف کرتی کیس اسکی جانب بڑھا گئ۔۔۔
فائز نے جھک کر اسکے ہاتھ میں تھامے کیس سے گولڈ کا نفیس سا پینڈینٹ نکالا اور یونہی اس پر جھکا اسکے ٹیل پونی میں مقید بال گردن سے ہٹاتے پینڈینٹ گلے میں پہنانے لگا۔۔۔۔۔ فائز علوی کی اسقدر قربت اور اسکی انگلیوں کا لمس گردن پر محسوس کر کے ماہرہ سانس تک روک گی۔۔۔ یہ انمول شخص اسے حاصل ہو چکا تھا لیکن ابھی بھی یہ سب خواب کے مترادف لگتا۔۔۔۔ وہ لاحاصل کو حاصل کر چکی تھی۔۔۔
عین اسی وقت دروازہ کھلا اور مامی اندر داخل ہوئیں۔۔۔
فائز کو ماہرہ پر جھکے دیکھ لمحے کے ہزارویں حصے میں انکا فشار خون بلند ہوا۔۔۔۔
دروازہ کھلنے کی آواز پر فائز چونک کر اس جانب متوجہ ہوا ۔۔۔ ماہرہ اس غیر متوقع صورتحال پر حق دق سی رہ گی۔۔۔۔
ناجانے اسکی زندگی میں خوشیوں کے پل اتنے تھوڑے کیوں آتے تھے۔۔۔ جب دل کی کلی کھلنے لگتی کسی نا کسی طرح کھلنے سے پہلے ہی نوچی جاتی۔۔۔
فائز کی گرفت پینڈینٹ سے زرا کی زرا دھیلی ہوئی ۔۔۔ وہ زرا کی زرا مامی کی جانب دیکھ کر انہیں نظر انداز کرتا پھر سے ماہرہ پر جھکا اور پینڈنٹ کا لاک بند کرنے لگا۔۔۔
ایک آسودہ مسکراہٹ ماہرہ کے ہونٹوں پر ابھری۔۔۔
مامی ناجانے اظہر صاحب کی باتوں پر کیسے صبر کئے بیٹھی تھیں۔۔
ہنہہ۔۔۔ تو یہ ہلکی سی چین دی ہے تمہارے شوہر نے تمہیں۔۔۔ اب تمہارا سٹینڈرڈ اتنا لو ہو گیا کے تم دو دو ٹکے کی چیزیں پہننے لگیں۔۔۔ ایسی چیزیں میری بیٹی اپنا سر صدقہ اتار کر دیتی ہے۔۔۔ ہیروں میں کھیلنے والی میری بچی کے گلے میں ایسی لوکل چین۔۔۔۔
یہ اظہر صاحب کی باتوں کا نتیجہ تھا کے اب وہ ڈائریکٹ فائز علوی کی ذات کو نہیں رگیڈ رہی تھیں۔۔۔۔۔
انکی باتیں سن کر فائز پشت پر ہاتھ باندھتا لب بھینچ گیا جبکہ ماہرہ درشتی سے انکی بات کاٹ گئ۔۔۔
میرے لئے اس پینڈینٹ کی کیا اہمیت اور کیا قدر و قیمت ہے یہ شاید ہی کوئی جان سکے مام۔۔۔ یہ میرے شوہر کی جانب سے مجھے ملنے والا پہلا تحفہ ہے اور یہ ان سبھی جیولری پر بھاری ہے جو میں آج تک استعمال کرتی رہی۔۔۔
میرے شوہر کی حق حلال کی کمائی سے ملنے والا مجھے پہلا تحفہ۔۔۔۔ اسکی قدروقیمت کا اندازہ ہر کوئی نہیں لگا سکتا نا مام۔۔۔۔ یہ میرے لئے انمول ہے کیونکہ اسے دنیا کے سب سے انمول شخص نے مجھے دیا ہے۔۔۔۔۔ اسنے محبت سے پینڈیٹ پر ہاتھ پھیرا۔۔۔
فائز اسے دیکھ کر رہ گیا۔۔۔ پتہ نہیں وہ اس معصوم اور نازک سی لڑکی کی محبت کا حق کبھی ادا کر بھی پاتا یا نا۔۔۔ جو ناجانے کتنے خواب سجا کر اسکے ساتھ اس رشتے میں بندھی تھی۔۔۔۔وہ کرب سے آنکھیں مونڈ کر رہ گیا۔۔
آو ماہرہ بیٹا۔۔۔۔ تمہارے ڈسچارج پیپرز تیار ہو گئے ہیں۔۔۔ گاڑئ بھی باہر آ گئ ہے۔۔۔ اور گھر میں بھی سب ملازمیں تمہارا انتظار کر رہے ہیں۔۔۔
دفعتاً بابا بعجلت اندر داخل ہوتے گویا ہوئے۔۔۔
بابا میں آہکے ساتھ نہیں جاوں گی۔۔۔ اسکے سنجیدگی سے کہنے پر اظہر صاحب کے ساتھ ساتھ صائمہ بیگم بھی الجھیں۔۔۔
مطلب۔۔۔ اظہر صاحب گویا ہوئے۔۔۔
مطلب یہ کے میں یہاں سے اپنے شوہر کے ساتھ اپنے گھر جاوں گی۔۔۔۔ وہ گویا اس کمرے میں موجود تینوں نفوس کے سر پر بم گرا چکی تھی۔۔۔
فائز نے جھٹکے سے سر اٹھا کر اسکے چہرے کی جانب دیکھا لیکن اسے کہیں دھونڈنے سے بھی وہاں مزاق کا شائبہ تک نا دکھائی دیا۔۔۔ وہ تو ابھی تک اپنی زندگی میں رونما ہونے والی اتنی بڑی تبدیلی۔۔۔ اپنے اس اچانک کے نکاح کو ہی قبول نہیں کر پا رہا تھا کجا کے اتنی جلدی رخصتی۔۔۔۔۔
*******

No comments