Roshan Sitara novel 25th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Roshan Sitara novel 25th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Roshan Sitara is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels
Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front
of the world and improve their abilities in that field.
Roshan Sitara Novel by Umme Hania | Roshan Sitara novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Roshan Sitara novel by Umme Hania Complete PDF download
Online Reading
ناول "روشن ستارا"۔
مصنفہ "ام ہانیہ"۔
Official pg : Umme Hania official
پچیسویں قسط
فاہا کہاں ہو یار۔۔۔ زبیر لغاری کمرے کے وسط میں کھڑا مسرور سے انداز میں اسے پکار رہا تھا۔۔ چال سے واضح جیت ک نشہ چھلک رہا تھا۔۔۔ دفعتاً واش روم سے پانی گرنے کی آواز پر وہ مسکرایا۔۔۔۔تو یہاں چھپی تھی بھیگی بلی۔۔۔
ابھی وہ واش روم کے دروازے کی جانب بڑھا ہی تھا کے دروازہ زور زور سے ڈھرڈھرایا جانے لگا۔۔۔
زبیر لغاری چونک کر پلٹا۔۔۔ ماتھے پر شکنیں نمودار ہونے لگیں۔۔۔ کون تھا وہ جسنے اسکے آرام میں خلل ڈالا تھا۔۔۔ وہ خونخوار تیور لئے دروازے کی جانب بڑھا ارادہ نوارد کو جان سے ہی مار ڈالنے کا تھا۔۔۔
ادھر اسنے طیش سے کمرے کا دروازہ وا کیا ادھر اسکے ساتھ ہی واش روم کا دروازہ کھلا۔۔۔
دروازہ وا کرتے ہی سامنے موجود پولیس کی بھاری نفری اور میڈیا کے نمائندے دیکھ کر زبیر لغاری کا دماغ بھک سے اڑا۔۔۔
اس پولیس کو وہ جیب میں لئے پھرتا تھا۔۔۔۔ زبیر لغاری ۔۔۔۔ایک بزنس ٹائیکون کا بیٹا ۔۔۔ اس پر ہاتھ ڈالنا کوئی آسان کام نا تھا۔۔۔
لیکن یہاں یوں۔۔ میڈیا کے نمائندوں کے ساتھ اسکا ایکسپوز ہونا۔۔۔ اسے کافی بری طرح پھنسا سکتا تھا۔۔۔۔
یہ ضرور کسی کی سوچی سمجھی سازش تھی۔۔۔ اگر تو مرتسم لودھی کی تھی تو پھر تو اسکے گھر کی عزت بھی خوب خوب اچھالی جانے والی تھی۔۔۔ رسوا صرف زبیر لغاری ہی نہیں۔۔۔ مرتسم لودھی بھی ہونے والا تھا۔۔۔ یہ سوچ ہی اسے مسرور کر رہی تھی۔۔۔
پیچھے ہٹیے مسٹر۔۔۔ ہمیں پتہ چلا ہے کے یہاں ہوٹل کے اس کمرے میں آپ کسی معصوم دوشیزہ کو ہراس کر کے لائے ہیں نیز۔۔۔
اس سے پہلے کے انسپیکٹر اپنی بات مکمل کرتا وہ قہقہ لگا کر اسکی بات کاٹ گیا۔۔۔
ہراس کر کے۔۔۔۔ انسپیکٹر صاحب وہ لڑکی میرے پیار میں پاگل ہو کر یہاں تک آئی ہے۔۔۔ وہ پرسکون انداز میں کندھے اچکاتا گویا ہوا۔۔۔
میڈیا کے نمائندے ڈھرا ڈھر اسکی تصویریں کھینچ رہے تھے۔۔۔ ایک ایک پل کی لائیو کوریج چل رہی تھی۔۔ زبیر لغاری کا کہا ایک ایک لفظ ریکارڈ ہو رہا تھا۔۔
دفعتا سسکیوں اور چیخوں پکار کی آواز سن کر باقی سب تو دور زبیر لغاری خود بھی ٹھٹھکا۔۔۔
پولیس کے اہلکار اسے دھکا دے کر آگے بڑھے۔۔۔
زبیر نے شاک کی سی کیفیت میں پیچھے پلٹ کر دیکھا جہاں وہ لڑکی جگہ جگہ سے پھٹے کپڑے اور بکھرے بالوں سمیٹ گھٹنوں میں چہرا دیئے بیٹھی سسک رہی تھی۔۔۔
وہ ٹھٹھکا۔۔۔ کہیں کچھ گڑبڑ تھی۔۔۔ یکدم ہی دماغ میں کچھ سپارک ہونے لگا۔۔۔
تب سے اب پہلی مرتبہ اسکے چہرے پر گھبراہٹ کے تاثرات نمودار ہونے لگے تھے۔۔۔
میڈیا کے نمائندے ڈھرا ڈھر اس لڑکی کی اور زبیر لغاری کی تصوہریں لے کر چٹخارے دار خبریں نشر کر رہے تھے۔۔۔۔ ابھی کچھ دیر پہلے کہے زبیر لغاری کے الفاظ اسے بری طرح پھنسا رہے تھے ۔ پولیس اہلکار اس لڑکی کے پاس جاکر اسے متوجہ کرنے لگے۔۔۔
زبیر لغاری الجھا سا ہجوم کو چیرتا قدم قدم اس لڑکی کی جانب بڑھا۔۔۔
دفعتاً پولیس اہلکار کے متوجہ کرنے پر اس لڑکی نے گھٹنوں سے سر اٹھایا ۔۔۔ اور گویا زبیر لغاری کے قدموں تلے سے زمین کھسک گئ۔۔۔ زبیر لغاری کسی کی بھی یہاں توقع کر سکتا تھا لیکن اس لڑکی کی نہیں۔۔۔ اسے اپنا سانس تک رکتا ہوا محسوس ہوا۔۔۔
یقیناً یہ سب بہت بڑی سوچی سمجھی سازش کا نیجہ تھا اور وہ بہت برا پھنسنے والا تھا۔۔۔ اسکی چھٹی حس اسے بری طرح سگنل دینے لگی تھی۔۔۔
سر بیڈ کے نیچے سے یہ بریف کیس ملا ہے کانسٹیبل نے نیچے سے سیاہ رنگ کا چھوٹا سا بریف کیس کھینچ کر نکالا ۔۔۔ اسکے بریف کیس کھولتے ہی سفید پاوڈر کی چھوٹی چھوٹی کئ تھیلیاں نیچے گرتی چلی گئ۔۔۔۔
*****
فاہا پک آپ دا فون ڈیم۔۔۔۔ مرتسم لودھی فوڈ کورٹ سے کچھ فاصلے پر موجود اپنی گاڑی میں بیٹھا بار بار اسکا فون ملا رہا تھا۔۔۔ یہ کوئی اتنی چھوٹی گیم نا تھی جو وہ کھیل چکا تھا۔۔۔
اسنے ایک بزنس ٹائیکون کے بیٹے پر ہاتھ ڈال کر اسے ایکسپوز کیا تھا۔۔۔ اس وقت وہ کسی کی بھی نگاہوں میں آ کر ایک نئ کنٹرورسٹی پیدا نہیں کر سکتا تھا۔۔۔۔جس قدر وہاں ہنگامہ ہو رہا تھا۔۔ اور جتنی تھرتھری وہاں مچ چکی تھی اسے فاہا کو لے کر جلد از جلد وہاں سے نکلنا تھا۔۔۔
وہ فاہا کا نام کسی صورت اس میس میں آنے نہیں دے سکتا تھا۔۔۔
وہ بے چینی سے باہر نظریں گھماتا خشک پرتے لبوں پر زبان پھیرتا بار بار فاہا کا نمبر ملا رہا تھا۔۔۔
****
******
پورا کمرا روشن تھا۔۔۔۔ فائز علوی ایک لکڑی کی میز کے سامنے بیٹھا تھا جس پر انسانی اعضا کے متشبہ روبوٹک اعضا تھے اور وہ بڑھے انہماک سے جوائنٹ سے جوائنٹ کو ملاتا ایک دھانچہ بنا رہا تھا۔۔۔ اسکا مکمل فوکس اس وقت کہنی کے جوڑ پر تھا جہاں وہ جوائنٹ سے جوائنٹ ملا رہا تھا۔۔۔
جوائنٹ ملتے ہی اسنے بازو کو حرکت دے کر دیکھی۔۔۔ بازو کو ٹھیک حرکت کرتا دیکھ ایک مسکراہٹ اسکے چہرے پر ابھری۔۔۔۔۔ اسنے وہی بازو اور ہاتھ تھام کی میز پر پڑے روبورٹ کے اوپری ڈھر کے کندھے میں فکس کرنا چاہا۔۔۔
ابھی اسنے بازو کو کندھے سے ملانے کی غرض سے کندھے کے ساتھ جوڑا ہی تھا کے بیرونی دروازے پر دستک کی آواز ابھری۔۔۔۔
وہ چونک کر متوجہ ہوا۔۔۔ یہ بھلا اس وقت کون آیا تھا۔۔۔ دوبارہ دستک کی آواز پر اسنے بازو وہیں میز پر رکھا اور لیب کی سبھی بتیاں گھل کر کے اپنی چھوٹی سی لیب کے دروازے بند کئے اور لاوئنج میں آکر دروازے کی جانب بڑھا۔۔۔
ارے ماموں جان آپ یہاں۔۔۔ دروازہ کھولتے ہی سامنے ماموں کو کھڑا دیکھ وہ حیرت سے مستفسر ہوا۔۔۔
وہ شازو نادر ہی ایک دو دفعہ اسکے اپارٹمنٹ آئے تھے ورنہ زیادہ تر کام کی غرض سے وہ اسے ہی اپنے پاس بلا لیتے تھے۔۔۔
کیوں بیٹا کیا میں یہاں نہیں آ سکتا۔۔۔ وہ نرمی سے مسکراتے آگے بڑھے تو فائز انہیں لئے اندر لاوئنج میں چلا آیا۔۔۔
نہیں ماموں جان آپکا اپنا گھر ہے آپ جب چاہیے یہاں آئیں۔۔۔ میں تو ویسے ہی کہہ رہا تھا کے کوئی کام تھا تو آپ مجھے بلا لیتے۔۔۔
فائز کے کہنے پر وہ اداسی سے مسکرا دیئے۔۔۔
بیٹی کا باپ ہوں اس لئے۔۔۔
اوہ پلیز ماموں جان۔۔۔ دوبارہ یہ بات مت کہیے گا۔۔۔ ماموں صوفے پر بیٹھے تو وہ انکے پاس ہی دوزانو بیٹھتا سرعت سے انکی بات کاٹ گیا۔۔
آپ میرے بابا ہیں۔۔۔ اسنے لفظ میرے پر زور دیا۔۔۔ اور باپ بیٹے کو حکم دیا کرتے ہیں۔۔۔ آپ بھی حکم کریں ماموں جان ۔۔۔ وہ انکے ہاتھ تھام کر نرمی سے کہتا انہیں مان بخش گیا۔۔۔
اظہر صاحب چند پل اسے سنجیدگی سے دیکھنے کے بعد سر جھکا گئے۔۔۔
بیٹا میں تم سے شرمندہ ہوں۔۔۔ اس دن ہسپتال میں صائمہ نے تمہارے ساتھ جو کیا۔۔۔ وہ پشیمانی سے بول رہے تھے جب وہ انکی بات کاٹ گیا۔۔۔
ماموں جان میں مامی جان کی عادت سے باخوبی آگاہ ہوں۔۔۔سارا بچپن انکے ساتھ ہی گزرا ہے۔۔۔ اور میں دل سے انکی عزت کرتا ہوں۔۔۔۔ پلیز اس سب کے لئے آپ یوں نا کریں۔۔۔ پلیز۔۔۔۔
کچھ بھی مجھ سے ڈھکا چھپا تو نہیں۔۔۔ آپکا یہ انداز مجھے قطعاً منظور نہیں۔۔۔
اظہر صاحب کے اندر جسقدر احساس شرمندگی تھی وہ فائز اپنی باتوں سے رفتا رفتا زائل کرتا جا رہا تھا۔۔۔ بلاشبہ مامی کی باتیں اسے جتنے بھی نشتروں کی مانند چبھتی ہوں اس کا جتنا بھی دل چھلنی چھلنی کرتی ہوں لیکن اس میں ماموں کا تو کوئی قصور نہیں۔۔۔ وہ تو اسکے محسن ہیں۔۔ وہ چاہ کر بھی کبھی مامی کی بھی وجہ سے ماموں کا سر شرمندگی سے جھکا نہیں دیکھ سکتا تھا۔۔۔ نو نیور۔۔۔ کبھی نہیں۔۔۔ اسے یہ قطعاً قطعاً نا منظور تھا۔۔۔ ماموں اسے دیکھتے رہ گئے۔۔
۔وہ اپنے ایک ایک انداز سے باور کروا رہا تھا کے وہ فائز علوی تھا۔۔۔ رشتوں کا پاس رکھنے والا بڑوں کا احترام کرنے والا صلح جو امن پسند ہر دلعزیز۔۔۔۔
اظہر صاحب اسے دیکھ کر مسکرا دیئے۔۔۔
پھر اس روز کے بعد سے ہسپتال کیوں نہیں آئے۔۔۔
مصروف تھا ماموں اس لئے نہیں آ سکا۔۔۔۔ وہ مسکرا کر کہتا اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔
کیا لیں گے آپ چائے یا کافی۔۔۔ وہ سیدھا اپنے اوپن کچن میں آیا کاونَٹر ٹاپ کے پیچھے کھڑا برتن نکالنے لگا۔۔۔ ماموں اسے اوپن کچن سے کام کرتے صاف دیکھ سکتے تھے۔۔۔
کچھ بھی لے آو برخودار ۔۔۔ اسے یوں ماہرانہ انداز میں کام کرتا دیکھ وہ ریلیکس ہو کر بیٹھے اور اسے مسکرا کر دیکھنے لگے۔۔۔
انکا بھانجا ہیرا تھا ہیرا۔۔۔ اور بلاشبہ ہیرے کی پہچان جواہری ہی کر سکتا ہے۔۔
لیکن تمہاری بیوی تو تمہاری غیر موجودگی کو کچھ اور ہی تصور کر رہی ہے۔۔۔ ماموں نے سینے پر ہاتھ باندھتے وہیں سے سلسلہ کلام جوڑا جہاں سے توٹا تھا۔۔
اسکی کیا بات ہے ماموں۔۔۔ اسے غلط فہمی ہوتی ہی رہتی ہے۔۔۔ مل کر کلیئر کر دوں گا۔۔۔ وہ مصروف سا کافی پھینٹ رہا تھا۔۔۔
چلو پھر کل ہسپتال آ جانا ۔۔۔ اسے ڈسچارج مل جانا ہے کل۔۔۔ اور بہتر یہ ہی ہے کے تم اس وقت اسکے ساتھ ہو۔۔۔
جی ماموں ضرور۔۔۔۔ میں وقت پر پہنچ جاوں گا۔۔۔ اسنے کافی بنا کر ٹرے میں کپ سلیقے سے رکھے اور مصروف سے انداز میں بات کرتا کچن سے نکلا۔۔۔ ماموں اسے دیکھ کر رہ گئے۔۔۔ وہ واقعی رشتے نبھانا جانتا تھا۔۔۔
******
فاہا لودھی نے کمرے میں آکر سرعت سے عبایہ اتارا نیچے سے وہ نارنجی رنگ کی شارٹ سی فراک اور کیپری میں ملبوس تھی۔۔۔ اسنے عبایہ کا گولہ بنا کر وہیں پڑے بیگ میں ٹھونسا اور اس سے جوتا نکال کر جوتا بدلہ۔۔۔ وہیں پر موجود سیاہ چارد کو کھول کر اسنے اچھے سے خود کو چھیاپا اور چادر کے ہی پلو سے چہرے پر نقاب کیا۔۔۔ ہاتھ میں تھاما موبائل چھوٹے سے کلچ میں ڈالا اور مضبوط قدم اٹھاتی کمرے کے دروازے کی جانب بڑھی۔۔۔
دروازے کا ہینڈل گھما کر اسنے دروازہ کھولا ابھی باہر ایک ہی قدم رکھا تھا کے وہاں موجود بھاری پولیس کی نفری اور میڈیا کے نمائندے دیکھ اسکی روح فنا ہوئی۔۔۔
وہ سب کے سب زبیر کے کمرے کے باہر کھڑے تھے۔۔۔ انکی کرخت آوازیں اور کیمروں کی فلیش لائٹ سے گھبرا کر وہ آگے بڑھنے کی بجائے واپس کمرے میں آکر دروازہ بند کر گئ۔۔
دروازے کے ساتھ ہی ٹیک لگائے وہ گہری گہری سانسیس لے رہی تھی جب اسے اپنے کلچ میں موجود موبائل کی ہلکی سی ابھرتی آواز سنائی دی۔۔۔
اسنے کپکپاتے ہاتھ سے کلچ کھول کر فون اٹھایا اور اسکے کان میں لگی بلو ٹوتھ پر سے مرتسم کی غصیلی آواز ابھری۔۔
ابھی تک تم باہر کیوں نہیں نکلی فاہا۔۔۔ ہو کہاں تم۔۔۔۔
مرتسم وہ باہر پولیس۔۔۔۔
اس سے تمہارا کوئی لینا دینا نہیں فاہا۔۔۔ چپ چاپ کمرے سے نکلو اور بنا کسی کی جانب دیکھے باہر آجاو۔۔۔ فوڈ کورٹ سے نکلتے ہی دائیں جانب سیدھا چلتی آو وہاں سے بائیں جانب میں کھڑا تمہارا انتظار کر رہا یوں۔۔۔
کم آن۔۔۔ ہری آپ۔۔۔ مرتسم کے غصیلے لہجے میں کہنے پر وہ کلچ ر اپنی گرفت مضبوط کرتی کمرے سے نکلی۔۔۔ کیونکہ مرتسم لودھی کا انداز بے لچک اور دوٹوک تھا۔۔۔۔باہر سے وہ سب لوگ اب غالباً کمرے کے اندر چلے گئے تھے جہاں سے کسی لڑکی کی سسکیوں کی آوازیں گھونج رہی تھیں۔۔۔
فاہا پر وحشت سوار ہونے لگی۔۔۔
وہ حواس باختہ سی لفٹ کی جانب بڑھی۔۔۔
ایک چور نگاہ اپنے پیچھے ڈال کر وہ لفٹ میں داخل ہوئی اور لفٹ میں آتے ہی کپکپاتے ہاتھوں سے لفٹ کے بٹن پریس کرنے لگی۔۔۔ کچھ دیر بعد ہی لفٹ گراونڈ فلور پر آ کر رکی تو وہ تیزی سے لفٹ سے باہر آئی۔۔۔ لیکن وہ جس تیزی سے لفٹ سے نکلی تھی چند قدم اٹھانے کے بعد ٹھٹھک کر رکی اور پھر سے اسی سرعت سے لفٹ کی جانب بھاگی۔۔۔ لفٹ میں چھپتے ہی اسنے سینے پر ہاتھ رکھ کر چند گہرے گہرے سانس لئے اور ہلکا سا سر باہر نکالتے ایک مرتبہ پھر سے باہر کا منظر دیکھا۔۔۔ لیکن باہر دیکھتے ہی وہ سرعت سے سر اندر کر گئ۔۔۔
باہر کا منظر اسکا حوصلہ توڑ رہا تھا۔۔۔ وہ بس کسی بھی پل رو دینے کو تھی۔۔۔ اسے ابھی سے اپنا جسم بے جان ہوتا محسوس ہو رہا تھا۔۔۔
*****
فاہا ابھی تک نہیں آئی تھی اسکا انتظار کر کر کے آخر تھک ہار کر اسنے پھر سے فاہا سے رابطہ استوار کیا۔۔۔
وہ مر۔۔۔مرتسم اینٹرس پر زبیر لغاری کا پورا گینگ کھڑا ہے۔۔۔ اور مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے۔۔۔ میں کیسے آوں۔۔۔
فون سے فاہا کی خوف سے کپکپاتی آواز ابھری تو مرتسم لب بھینچ گیا۔۔۔
وہ شاید مجھے ہی ڈھونڈ رہے ہیں وہاں چاروں جانب۔۔۔ بہت غصے میں ہیں۔۔۔ زرا سا سر باہر نکال کر دیکھتی فاہا گویا ہوئی۔۔۔۔
میری بات غور سے سنو فاہا۔۔۔ تمہارا حلیہ مکمل طور پر بدل چکا ہے۔۔۔ تم انکے پاس سے بھی گزر آو گئ تو انہیں کچھ پتہ نہیں چلے گا۔۔۔
مرتسم آپ آ کر لے جائیں ۔۔۔ پلیززززز۔۔۔ وہ مرتسم کی بات کاٹتی لجاہت سے گویا ہوئی۔۔۔
فاہا ٹرائے ٹو انڈرسٹینڈ ۔۔۔ میں نہیں آ سکتا۔۔۔ تمہیں تھوڑی ہمت دکھانی ہوگئ۔۔۔ اپنے خوف پر قابو پاو اور کانفیڈینس سے یوں انکے پاس سے گزر کر آ جاو جیسے یہ جگہ تمہارے باپ کی ہی ہے۔۔۔
تمہارا اعتماد سے آنا انہیں تمہاری طرف شک کرنے کا موقع بھی نہیں دے گا۔۔۔
سو بی بریو۔۔۔۔ دو منٹوں میں باہر نکلو۔۔۔۔ مرتسم اس سارے واقعہ میں یہ تو جان ہی گیا تھا کے فاہا لودھی ایک بہت حساس اور کم ہمت لڑکی ہے۔۔۔۔ اسی لئے اسے آرام سے قائل کرنے لگا۔۔۔ کیونکہ غصے سے وہ مزید اسکی ہمت توڑنا نہیں چاہتا تھا۔۔۔
کوشیش کرتی ہوں۔۔۔ اسکی منمناتی آواز ابھری۔۔۔ ٹھیک ہے فون بند مت کرنا ۔۔۔
مرتسم کے کہنے پر فاہا نے دو تین گہرے گہرے سانس کھینچے اور ہمت پکڑتی انٹرس کی جانب بڑھی۔۔۔
مرتسم لودھی اپنے فون پر وہاں کی انٹرس کی فوٹیج کھول چکا تھا۔۔۔ زبیر لغاری کا گروپ واقع اسقدر شکست پر پاغل ہوا عبایہ میں ملبوس ایک ایک لڑکی کو روک رہا تھا۔۔۔
ڈرنا نہیں فاہا۔۔۔ کانفیدینس سے گزرو۔۔۔ گردن اٹھاو۔۔۔ آنکھوں میں انکے لئے ناشناسائی ہو۔۔۔ متوازن چال چلتی پاس سے گزر آو۔۔۔ وہ فون کی سکرین سے اسے دیکھتا مسلسل گائیڈ کر رہا تھا۔۔۔
اے یو۔۔۔ سٹاپ ہیر۔۔۔۔۔
فاہا انکے پاس سے گزری ہی تھی کے ایک لڑکے کی کرخت گرجدار آواز پر اسکا حلق خشک ہوا۔۔۔ گویا جان سولی پر لٹکی ہو۔۔۔
رکنا نہیں فاہا۔۔۔ تمہارے چہرے پر کوئی تاثر نا ابھرے۔۔۔ نظر انداز کرو اور آگے بڑھو۔۔۔
اسکی بات سن کر فاہا اس آواز کو نظر انداز کرتی آگے بڑھی۔۔۔ جبکہ وہی شخص اسی نظر اندازی پر تلملا کر آگے بڑھا۔۔۔ اس سے پہلے کے وہ فاہا کا بازو دبوچ کر اسے روکتا کوئی ان دونوں کے بیچ حائل ہوا تھا۔۔۔
ایم سوری سر۔۔۔ آپ ہمارے کسٹمرز سے یوں بدتمیزی نہیں کر سکتے۔۔۔ پہلے ہی آپکی بہت سے شکایات آ چکی ہیں۔۔۔ آپ بہت سے کسٹمرز کو روک کر بدتمیزی کر چکے ہیں۔۔۔پولیس اور میڈیا نے یہاں چھاپا مار کر ہماری ساخت ویسے ہی خراب کر دی ہے۔۔۔ آپ یہاں مزید کوئی میس نہیں کریٹ کر سکتے۔۔۔
تیز تیز قدم اٹھا کر خارجی دروازہ عبور کرتے مینجر کی آوازیں فاہا کے کان میں پڑیں۔۔۔
گڈ۔۔۔گڈ۔۔۔گڈ۔۔ فاہا سیدھی چلتی آو۔۔۔
وہ اسے باہر روڈ پر آتا دیکھ گویا ہوا۔۔۔ ساتھ ہی فاہا کو گاڑی سٹارٹ ہونے کی آواز سنائی دی۔۔۔
فاہا ناجانے کیسے اپنے بے جان ہوتے وجود کو گھسیٹتی آگے بڑھ رہی تھی۔۔۔
دفعتاً مرتسم گاڑی ریورس کر کے اسکے پاس پہنچا۔۔۔ عین فاہا کے قریب آ کر گاڑی کے ٹائر چڑچڑائے تو ایک مرتبہ تو اس اچانک افراد پر فاہا کا دل دہلا۔۔۔
لیکن مرتسم پر نظر پڑتے ہی اور اسکے دروازہ کھولنے پر وہ گہرا سانس خارج کرتی بعجلت گاڑی میں بیٹھی۔۔۔
اس سے پہلے کے مرتسم اس سے کچھ کہتا یا پوچھتا وہ بے تحاشہ سٹریس کے باعث بے ہوش ہوتی وہیں جھول گئ۔۔۔
شٹ۔۔۔شٹ۔۔۔شٹ۔۔۔ لڑکی کوئی حال ہی نہیں ہے تمہارا۔۔۔ پتہ نہیں تم جیسی دبو اور کم ہمت لڑکیاں دنیا میں سروائیو کیسے کرتی ہیں۔۔۔
وہ جھنجھلا کر ہاتھ سٹیرنگ پر مار کر رہ گیا۔۔۔
******

No comments