Roshan Sitara novel 24th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Roshan Sitara novel 24th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Roshan Sitara is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels
Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front
of the world and improve their abilities in that field.
Roshan Sitara Novel by Umme Hania | Roshan Sitara novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Roshan Sitara novel by Umme Hania Complete PDF download
Online Reading
ناول "روشن ستارا"۔
مصنفہ "ام ہانیہ"۔
Official pg : Umme Hania official
چوبیسویں قسط۔۔۔۔
اظہر صاحب ماہرہ کے پاس بیٹھے کتنی ہی دیر اسے حوصلہ دیتے رہتے تھے۔۔۔ کافی دیر بعد جب وہ دوائیوں کے زیر اثر غنودگی میں چلے گئ تو وہ گھر سے ملازمہ بلا کر اسے ماہرہ کے پاس چھوڑ کر خود گھر واپس آگئے۔۔۔
ماہرہ کو تو سمجھا دیا مگر اب وہ خود فائز کے سامنے بہت سبکی محسوس کر رہے تھے۔۔۔۔ وہ صائمہ بیگم سے نمٹنے کو آگے کا لائحہ عمل بناتے گھر آئے۔۔۔
وہ خود ہائی بلڈ پریشر کے مریض تھے اور اب سر آنکھوں کے ساتھ ساتھ کندھے کو لگتے کھنچاو اور غیر ہوتی حالت سے وہ باخوبی اندازہ لگا سکتے تھے کے انکا بی پی شوٹ کر گیا ہے۔۔۔
ڈرائیور کو سپیڈ بڑھانے کا کہہ کر وہ جلد از جلد گھر پہنچے۔۔۔ دماغ چٹخنے لگا تھا۔۔۔ آنکھوں کے آگے اندھیرا چھانے لگا تھا۔۔۔
گرتے پڑتے وہ سرعت سے اپنے کمرے کی جانب بڑھے اور سائیڈ ٹیبل سے میڈیسن باکس نکال کر وہیں پڑے سے جگ سے پانی لے کر گولی نگلی۔۔۔
میڈیسن باکس اور گلاس سائیڈ ٹیبل پر رکھ کر وہ بستر پر سیدھے لیٹ گئے۔۔۔ کچھ پل لگے تھے انکی طبیعت واپس بحال ہونے میں۔۔۔ ۔دفعتاً درواز کھول کر صائمہ بیگم اندر داخل ہوئیں۔۔۔
لگژری لان کے سوٹ میں ملبوس بالوں کا اونچا جوڑا بنائے۔۔۔ آنکھوں میں تنفر اور چہرے پر نخوت تھا۔۔۔ گردن میں گویا سریا فٹ تھا۔۔۔ انہیں غالباً ابھی ابھی اطلاع ملی تھی اظہر صاحب کے گھر آنے کی۔۔۔
اندر آتے ہی وہ انکے روبرو ہوئیں۔۔۔
مائرہ کو کس کے حوالے چھوڑ کر آئے ہیں اظہر صاحب۔۔۔
کہیں اس گھٹیا کم ظرف انسان کے۔۔۔۔
بسسسسسسس۔۔۔۔ بسسسس صاعمہ بیگم۔۔۔ زبان کو لگام دو اپنی ۔۔۔۔۔اب مزید ایک لفظ نہیں۔۔۔
اس سے پہلے کے وہ حقارت سے زہر اگلتیں۔۔۔ اظہر صاحب ایک جھٹکے میں اٹھتے اپنا آپا کھو کر پوری قوت سے چلائے۔۔۔۔
اگر میں ہسپتال میں تمہاری فائز کیساتھ کی جانے والی بدتمیزی سن کر خاموش رہا تو میری شرافت کو میری کمزوری یا بے بسی مت سمجھو۔۔۔
اونچی آواز میں ڈھارتے وہ ہانپنے لگے تھے لیکن غصہ کسی صورت کم نہیں ہو رہا تھا۔۔۔ آج انکی شریک حیات نے انکا سر شرم سے جھکا دیا تھا۔۔۔۔۔۔۔ جوان اولاد اور بھانجنے کے سامنے میں تمہارے ساتھ سختی سے پیش آ کر تمہاری اوقات دو کوڑی کی نہیں کرنا چاہتا تھا کم عقل عورت۔۔۔ میرے ضبط کو مت آزماو۔۔۔ ۔
بہت خوب۔۔۔ بہت خوب اظہر صاحب۔۔۔ اسی جوان اولاد کے سامنے تھپڑ جڑا ہے آپ نے مجھے۔۔۔ اور اسکے بعد کسر کونسی رہ جاتی ہے جو آپ مجھے فلسفا جھاڑ کر سنا رہے ہیں۔۔ وہ بھی طیش سے بھڑکیں۔۔۔۔
اس دو کوڑی کے لڑکے کے لئے آپ نے اپنی شریک حیات پر ہاتھ اٹھایا میں یہ بات کبھی نہیں بھولوں گی۔۔۔
اظہر صاحب مٹھیاں بھینچ گئے۔۔۔ اس کے لئے مجھے اکسایا بھی تم نے تھا۔۔۔ انکی آواز کچھ دھیمی پڑی۔۔۔ وہ کسی بھی حالات میں عورت پر ہاتھ اٹھانے کے قائل نا تھے لیکن اس وقت حالات کے پیش نظر وہ ضبط کھو گئے تھے۔۔۔۔
میں نے اکسایا۔۔۔ میں نے۔۔۔ وہ صدمے سے گنگ اپنی جانب انگلی کرتی شاک کی سی کیفیت میں گویا ہوئیں۔۔۔
زبردست اظہر صاحب۔۔۔ میری بیٹی ۔۔ میری نازو پلی بیٹی کی زندگی کا اتنا بڑا فیصلہ آپ مجھ سے مشورہ تو دور بنا بتائے تن تنہا لے گئے۔۔۔ مجھے اسکے نکاح میں شامل تک نا کیا۔۔۔ میری روح کو آپ نے اپنے قدموں تلے روند دیا اور مجھ سے توقع یہ کے میں بلبلاوں بھی نا۔۔۔وہ جیسے روہانسی ہوئیں۔۔۔
صاعمہ بیگم میری بیٹی کی خوشی اور بہتری جس چیز میں تھی میں نے وہی فیصلہ لیا۔۔۔ اگر تم بیٹی کی خوشی میں خوش ہوتی تو ضرور اسکی خوشیوں میں شریک ہوتی۔۔ جب تم اسکی خوشی میں خوش ہی نہیں تو اسکی خوشیوں کو آگ لگانے کی اجازت میں تمہیں نہیں دیتا۔۔۔ وہ اب رفتہ رفتہ اپنے غصے پر قابو پا رہے تھے۔۔۔
اسکی خوشی مائے فٹ۔۔۔۔ اولاد ہر چمکتی چیز کو سونا سمجھ کر اسے چھونے کی کوشیش کرے تو ماں باپ کا فرض بنتا ہے انہیں روکیں منع کریں۔۔۔ آپ کی طرح اولاد کی خوشی کو مقدم جانتے کوئی جانتے بوجھتے عقل اور آنکھین رکھنے کے باوجود بیٹی کو اندھیرے کنویں میں دھکا نہیں دے سکتا۔۔۔
کیسے باپ ہیں آپ۔۔۔ وہ غصے سے کہتیں دو قدم انکی جانب بڑھی۔۔۔۔ اظہر صاحب خاموش سنجیدہ نگاہوں سے اسے دیکھنے لگے۔۔۔
کیا سوچ کر آپ نے ماہرہ کی شادی اس ٹٹ پونجیے سے کی۔۔۔
کیا پلے کیا ہے اسکے۔۔۔۔ ہے کیا اسکے پاس۔۔۔۔۔ جاب لیس۔۔۔ ٹکے ٹکے کی پارٹ ٹائم نوکریوں کے لئے دھکے کھانے والا۔۔۔ جسکا اپنا گھر تک نہیں۔۔۔ کرائے کے فلیٹوں میں خانہ بدوشوں کی طرح یہاں سے وہاں زندگی کاٹتا پھر رہا ہے۔۔۔ یہاں سے جانے کے بعد وہ کتنی رہائش گاہیں بدل چکا ہے۔۔۔ کیا مستقبل ہو گا میری بیٹی کا اس لڑکے کے ساتھ۔۔۔
رہائش کے لئے جگہ جگہ دھکے۔۔۔ دو وقت کے کھانے کے لئے انتظار۔۔۔
مائے گاڈ اظہر صاحب۔۔۔۔میری بیٹی اتنی برانڈ کانشیئش ہے کے شاید ہی اسکی کوئی چیز برانڈڈ نا ہو۔۔۔۔۔ وہ کیسے اس شخص کے ساتھ سمجھوتے کی زندگی گزارے گی۔۔۔۔ یہ جو محبت محبت کا راگ وہ الاپتی پھر رہی ہے نا۔۔۔ یہ چار دن کی چاندنی اور پھر اندھیری رات والا معاملہ ہے۔۔۔ جب زندگی کی حقیقت کھل کر سامنے آئے گی نا تو ہوش ٹھکانے آ جائیں گے۔۔۔
محبت پیٹ نہیں بھرتی۔۔۔
میری شہزادی کے ساتھ کوئی شہزادہ ہی جچے گا۔۔۔ جسکے سنگ وہ محلوں میں راج کرے۔۔۔ صاعمہ بیگم دل کی بھراس نکالتے ہانپنے لگیں تھیں تبھی دکھتا سر دابتی کرسی کھینچ کر وہیں ڈھے گی اور انگلیوں کی پوروں سے سر دابنے لگیں۔۔۔
اظہر صاحب نڈھال سے بیڈ کراون سے ٹیک لگائے سنجیدگی و تاسف سے بیوی کو دیکھ رہے تھے۔۔۔ جنہیں انکے بھانجے کی ہر اچھی عادت میں بھی کیڑے دکھائی دے رہے تھے۔۔۔
پیسے ۔۔۔۔شان و شوکت اور اونچے محل بیٹی کے اچھے نصیب ۔۔۔۔آسودگی اور خوشیوں کی ضمانت نہیں ہوتے صائمہ بیگم۔۔۔۔ میں نے محلوں میں رہنے والیوں کو بھی رلتے دیکھا ہے۔۔۔ سمجھوتے کی زندگی بسر کرتے دیکھا ہے۔۔۔
ایک رئیس مرد بیٹی کے لئے بہترین انتخاب نہیں ہو سکتا۔۔۔ ایک اچھا نیک صفت قدر دان عزت کرنے والا اور محبت دینے والا ذمہ دار مرد بیٹی کے لئے بہترین انتخاب ہوتا ہے۔۔۔ اور فائز علوی ان سب صلاحیتوں سے مالا مال ہے۔۔۔
رہ گئ بات میری بیٹی کے برانڈ کانشیئس ہونے کی یا اسکے لائف سٹائل کی۔۔۔ تو میرا بھانجا اتنا قابل ضرور ہے کے زور بازو میری بیٹی کو ضروریات زندگی فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ایک بہترین زندگی فراہم کر سکے۔۔۔۔
وہ انگلیوں کی پوروں سے آنکھوں کے پیوٹے دابتے پرسکون انداز میں گویا ہوئے۔۔۔
اس سے پہلے کے صاعمہ بیگم تلملا کر کچھ کہنے کو منہ کھولتیں اظہر صاحب بول اٹھے۔۔۔
وہ اس گھر کا داماد ہے۔۔۔ اسکی عزت و احترام لازم ہے تم پر۔۔۔ آج جو ہسپتال میں ہوا وہ دوبارہ قطعاً نہیں ہونا چاہیے۔۔۔۔ اور اسے میری آخری وارنینگ سمجھنا۔۔۔۔وہ اب۔۔۔
واہ۔۔۔ اس سے پہلے کے اظہر صاحب اپنی بات مکمل کرتے صائمہ بیگم استہزائیہ مسکرائیں۔۔۔
میں۔۔ صائمہ اظہر ہمارے ہی ٹکروں پر پلنے والے اس دو ٹکے کے انسان کی عزت کروں گی۔۔۔ انکے انداز میں حقارت واضح تھی۔۔۔ انداز چیلنجنگ تھا۔۔۔
ٹھیک ہے مت کرنا۔۔۔ پھر میں بھی تمہارا خوف سچ ثابت کر دوں گا۔۔۔ اپنی پڑاپڑتی سے مظہر کا شرعی حق اسکے نام کروانے کے بعد اپنا اور ماہرہ کا حصہ فائز کے نام کروادوں گا۔۔ پھر وہ تمہارے ہم پلہ ہو جائے گا تو تمہارے خدشات بھی دور ہو جائیں گے۔۔۔ اظہر صاحب کا انداز سنجیدہ اور دو ٹوک تھا۔۔۔ اور صائمہ بیگم ۔۔ انکا تو وہ حال تھا کے کاٹو تو بدن میں لہو نہیں۔۔۔ گویا کسی نے جکرے انگاروں ہر پھینک دیا ہو۔۔۔ یکدم ہی چہرے کی رنگت زرد پڑ گئ۔۔۔۔۔
نہیں۔۔۔ آپ ایسا نہیں کر سکتے۔۔۔ ساری تیز طراری کہیں ہوا ہو گئ۔۔۔ وہ شدت سے نفی میں سر ہلاتی انکاری ہوئیں۔۔۔ اور کون روکے گا مجھے۔۔۔ مظہر صاحب کا انداز حتمی تھا۔۔۔ صائمہ بیگم نے زندگی میں پہلی مرتبہ انہیں اسقدر جلال میں دیکھا تھا۔۔۔ وہ توقع نہیں کر سکتی تھی کے اظہر صاحب کبھی ان سے اس طرح سے بھی پیش آ سکتے ہیں۔۔۔
وہ انہیں دیکھ کر رہ گئیں۔۔۔
اظہر صاحب آپ میرے بچوں کے ساتھ ایسی زیادتی نہیں کر سکتے۔۔۔ وہ بچپن سے میرے بچوں کا حق کھاتا آیا ہے۔۔ وہ جیسے مکمل طور پر بے بس ہوتیں پست سے لہجے میں گویا ہوئیں۔۔۔
کوئی کسی کا حق نہیں کھاتا صائمہ بیگم۔۔۔ کاش تم یہ بات سمجھ جاو۔۔۔ ہر انسان اپنی قسمت کا لکھا کھاتا ہے۔۔۔۔ انسان کی کوئی اوقات نہیں کے وہ کسی دوسرے کے کام آ سکے۔۔۔ یہ اللہ ہی ہوتا ہے جو وسیلے بنا دیا کرتا ہے۔۔۔
تم کیا جانو صائمہ بیگم۔۔۔ تم کہتی ہو کے وہ تمہارے بچوں کا حق کھا گیا۔۔۔ میں کہتا ہوں کے اس یتیم بچے کی کفالت کے توسط میرے رب نے مجھے اتنا نوازا کے میرے بچے عیش کی زندگی گزارتے رہے۔۔۔۔
فرق صرف سوچ کا ہے۔۔۔ سوچ مثبت کرنے سے ہے چیز نکھر کر سامنے آ جاتی ہے۔۔۔ آگر آپ کسی بھی طریقے سے کسی ضرورت مند کے لئے کوئی بھی وسیلہ بنتے ہیں تو یقین رکھنا اس ضرورت مند کا رزق اللہ نے آپ کے رزق میں شامل کر دیا ہوتا ہے جس سے آپ اسکے کام آ رہے ہوتے ہیں۔۔ ورنہ انسان کی کوئی اوقات نہیں۔۔۔
اور اگر تم واقعی چاہتی ہو میں کوئی انتہائی قدم نا اٹھاوں تو آئندہ زبان پر کنٹرول رکھنا۔۔۔ ورنہ اگلی بار میں مطلع نہیں کروں گا۔۔۔ سیدھا عمل کروں گا۔۔۔ اور اب پلیز جاتے ہوئے کمرے کی لائٹ بند کر جانا۔۔۔ سر درد کر رہا ہے میں کچھ دیر آرام کرنا چاہتا ہوں۔۔۔
اظہر صاحب انکی دکھتی رگ پر شدت سے ہاتھ رکھ کر اپنی کہہ کر چت لیٹتے آنکھوں پر بازو دھر گئے۔۔۔ اور صائمہ بیگم اسقدر بلبلا اٹھیں کے تکلیف نا قابل برداشت ہوگئ۔۔۔
*******
مرتسم لودھی اندھا دھند سیڑھیوں کی جانب بڑھا ۔۔۔۔۔ وہ ایک ایک جست میں کئ کئ سیڑھیاں پھیلانگتا جا رہا تھا۔۔۔
Waji Do something....
وہ کان میں لگی بلو توٹھ میں چلایا۔۔۔
وجی اسی فلور پر تھا۔۔۔ مرتسم کو وہاں تک پہنچتے دیر لگتی۔۔۔
کرتا ہوں کچھ سر۔۔۔ فون سے وجی کی بعجلت آواز گھونجی۔۔۔ جیسے وہ تیز تیز قدم اٹھا رہا ہو۔۔۔
وجی جسکی نگاہیں پہلے ہی زبیر لگاری پر ٹکی تھیں ۔۔۔ اسے کمرے کی جانب بڑھتا دیکھ اسنے تیزی سے دماغ گھمایا۔۔۔ وہاں پر وہ روم سروس کے کاسٹیوم میں ملبوس تھا۔۔۔ سرعت سے اسنے اپنی جانب آتے ویٹر کی روم سروس کی ٹرالی سے چھوٹی ٹرے اور جوس کا گلاس اٹھایا۔۔۔ ویٹر اسے دیکھ ارے ارے ہی کرتا رہ گیا۔۔۔ جبکہ وہ نظر انداز کرتا بجلی کی سی رفتار سے آگے بڑھا۔۔۔
کلک کی آواز سے دروازے کا لاک کھلا اور زبیر لغاری نے مسرور سے انداز میں دروازہ دھکیلا۔۔۔
کلک کی آواز پر بالکنی کی ناب گھماتے فاہا کے ہاتھ بے جان ہوئے۔۔۔ وہ سانس تک روک گئ۔۔۔
چڑڑررر کی آواز کیساتھ دروازہ کھل رہا تھا ۔۔۔ اس سے پہلے کے زبیر لغاری مکمل دروازہ کھول کر اندر جاتا۔۔۔ دوسری طرف سے آتا وجی بے طرح اس سے ٹکرایا۔۔۔۔ گلاس کا جوس چھلک کر زبیر لغاری کی سفید شرٹ کو داغ دار کرتا نیچے جا گرا۔۔۔
What the hell is this you baster....
دروازے کی ناب سے اسکی گرفت ڈھیلی پڑی وہ ہاتھوں کی مدد سے شرٹ سے جوس صاف کرتا وجی پر ڈھارا۔۔۔
سیرھیوں کے آخری زینے پر پہنچ چکے مرتسم نے سامنے یہ نظارا دیکھا تو بے ساختہ ایک تشکر آمیز سانس خارج کی۔۔۔اور پی کیپ کو مزید سر پر جھکا کر لابی کے قدرے خاموش اور سنسان کونے کی جانب بڑھ گیا۔۔۔
یقیناً اتنا وقت کافی تھا فاہا کو کمرے سے نکلنے کے لئے۔۔۔
*****
کمرے کا دروازے کھلنے کے بعد زبیر لغاری کے اندر آنے کی بجائے باہر سے چلانے کی آواز سن کر فاہا کے جسم میں گویا نئے سرے سے جان ڈل گئ۔۔۔وہ تھوک نگلتی پھر سے پوری قوت سے ناب گھمانے لگی۔۔۔ کلک کی آواز آئی اور دروازہ کھل گیا۔۔۔ فاہا نے بے ساختہ رب کا شکر ادا کیا اور بنا دیر کئے بالکنی میں آگئ۔۔۔
سر ایم سو سوری۔۔۔ سو سو سوری۔۔۔ میں ابھی صاف کر دیتا ہوں۔۔۔ وجی بوکھلایا سا ویٹر کے روپ میں اس رئیس زادے سے معاملہ کلیئر کرنے کو گھگھیایا۔۔۔۔۔
اس سے پہلے کے زبیر لغاری اس ہر پل پڑتا۔۔۔ دفعتا موقع محل کی نزاکت اور فاہا لودھی کی کمرے میں موجودگی اسے ضبط سے غصہ پینے پر مجبور کر گئ۔۔۔
وہ اسے نظر انداز کرتا شرٹ جھٹک کر اندر بڑھا۔۔۔
لابی کے کونے میں کھڑے مرتسم لودھی کے ہاتھ تیزی سے موبائل پر چل رہے تِھے۔۔۔
اٹیک۔۔۔ فون پر رابطہ استوار ہوتے ہی اسنے یک لفظی بات کہی۔۔۔
فاہا کو آج اپنی کم ہمتی اور بے بسی پر جی بھر کر دکھ ہو رہا تھا۔۔۔۔۔ کیوں تھی وہ اتنی کمزور اتنی کم ہمت۔۔۔۔۔ کپکپاتی ٹانگوں سے وہ تین انچ کی گرل بھی عبور نہیں کر پا رہی تھی۔۔۔ بے بسی کا احساس شدید تھا۔۔۔
Hey FAHA dear ... Where are you...
کمرے سے زبیر لغاری کی پرشوق آواز ابھری تو بالکنی میں کھڑی فاہا کے جسم سے ایک برقی رو گزر گئ۔۔۔۔
بمشکل خود کو گھسیٹتے اسنے ریلنگ پر ہاتھ رکھ کر ہتھیلیوں پر وزن ڈالا اور دقت سے بالکنی پھیلانگ گئ۔۔۔
دوسری طرف آتے ہی اسے دروازہ کھلا ملا تھا۔۔۔ وہ ایک حواس باختہ نگاہ پیچھے ڈالتی اندر بڑھی اور کپکپاتے ہاتھوں سے بالکنی کے دروازے کو لاک لگانے لگی۔۔۔
اس پر بدحواسی بے طرح طاری تھی۔۔۔ ہر آسان سے آسان کام بھی اسے اس وقت مشکل لگ رہا تھا۔۔۔ دل جیسے پسلیاں توڑ کر سینے کی حدود سے باہر نکلنے کے در پر تھا۔۔۔
اسنے بے طرح اپنا سینہ مسلا۔۔۔ آنکھوں سے مسلسل آنسو جاری تھے۔۔۔۔۔
*****
فاہا کیا تم دوسرے کمرے میں پہنچ چکی ہو۔۔۔ کان میں لگے بلو توٹھ سے مرتسم لودھی کی فکر مندانہ آواز ابھری تو بستر پر ڈھتی گہرے گہرے سانس بھرتی فاہا ضبط چھوڑ گی۔۔۔
جی پہنچ گئ ہوں۔۔۔ وہ گیلی سانس اندر کھینچتی بھاری آواز میں گویا ہوئی۔۔ صبح کی ناساز طبیعت نے اسقدر ڈپریشن اور پریشانی کے باعث حالت بگاڑ دی تھی۔۔۔ بخار سر چڑھ کر بولنے لگا تھا۔۔۔
مرتسم کو آواز سے ہی اسکی خرابی طبیعت کا انداز ہوا۔۔۔ لیکن فلحال وہ اس چیز پر مزید سوچ نہیں سکتا تھا۔۔۔
گڈ۔۔۔ جلدی سے کاسٹیوم تبدیل کرو۔۔۔۔ اور کاسٹیوم تبدیل کرتے ہی اپنا چہرا کور کر کے کمرے سے نکل آنا۔۔۔ باہر چاہیے جتنی بھی بھیڑ ہو۔۔۔۔ کہیں رکنا۔۔۔
کیا مطلب ۔۔ بھیڑ کیسی۔۔۔ اب کیا ہونے والا ہے۔۔۔ وہ بے ساختہ اسکی بات کاٹتی خوفزدہ سی گویا ہوئی۔۔۔ چہرے کی رنگت سپید پڑنے لگی تھی۔۔۔
کچھ نہیں ہونے والا۔۔۔ صرف اتنا کرو جتنا کہا ہے۔۔۔ تمہارے فضول سوال جواب کا میرے پاس فلحال وقت نہیں۔۔۔ زرا جلدی ہاتھ چلاو۔۔۔ وہ سختی سے گوا ہوا تو فاہا لودھی بے بسی سے لب کچل گئ۔۔۔
*****
وجی میڈیا پہنچ گئ کیا۔۔۔فاہا سے بات کرکے کنفرم کرتے ہی مرتسم نے وجی سے رابطہ استوار کیا۔۔۔
جی سر۔۔۔ تقریباً پہنچ ہی گئ۔۔
گڈ۔۔۔ دونوں جانب سے اٹیک اکٹھا ہی ہونا چاہیے تا کے زبیر لغاری کو سمبھلنے کا موقع نا ملے۔۔۔
عین اسی وقت پولیس کی ایک بھاری نفری دھمک پیدا کرتے قدموں کیساتھ مستند سے سیڑھیاں چڑھتے اوپر آ رہے تھے۔۔۔ مرتسم لودھی نے کہنیاں ریلنگ پر رکھتے مسکراتے ہوئے وہ منظر دیکھا اسکی آنکھوں میں ایک شیطانی چمک تھی۔۔۔
پولیس کے پیچھے ہی میڈیا کے نمائندے مائیک تھامے اپنے کیمرا مینز کے ساتھ بھاگے چلے آ رہے تھے۔۔۔ ہر کسی کو ایک سنسنی خیز خبر سب سے پہلے اپنے چینل پر بریک کرنے کی جلدی تھی۔۔۔ مینجر بوکھلایا سا سب کے آگے پیچھے آتا اس افراتفری کی وجہ جاننے کی ناکام کوشیش کر رہا تھا۔۔۔
دفعتاً مرتسم لودھئ سرعت سے سیدھ ہوا اور لفٹ کی جانب بڑھا۔۔۔۔۔
اس وقت اسے منظر سے ہٹنا تھا اور فلحال اسکی واحد فکر فاہا تھی جو ابھی تک کمرے سے نہیِں نکلی تھی اور یقیناً باہر اتنی نفری پولیس اور میڈیا کی دیکھ کر وہ مزید دل چھوڑ جانے والی تھئ۔۔۔ لیکن یہاں وہ اسکی مدد نہیں کر سکتا تھا۔۔۔ وہ سب کے بھیچ خود کو شو کروا کر اسے اپنے ساتھ نہیں لا سکتا تھا۔۔۔ یہ اسکے پلان میں ایک بہت بڑا جھول ہوتا۔۔۔
یہاں ہمت فاہا کو خود ہی پکڑنی تھی۔۔۔
وہ تیزی سے فوڈ کورٹ سے نکلتا فاہا
سے دوبارہ سے رابطہ بحال کرنے کی کوشیش کرنے لگا۔۔۔
*****

No comments