Roshan Sitara novel 23rd Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Roshan Sitara novel 23rd Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Roshan Sitara is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels
Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front
of the world and improve their abilities in that field.
Roshan Sitara Novel by Umme Hania | Roshan Sitara novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Roshan Sitara novel by Umme Hania Complete PDF download
Online Reading
ناول "روشن ستارا"۔
مصنفہ "ام ہانیہ"۔
Official pg : Umme Hania official
تیسویں قسط۔۔۔۔۔
صاعمہ بیگم کے جانے کے بعد اظہر صاحب وہیں سر تھام کر بیٹھ گئے۔۔۔ صاعمہ بیگم انکی سمجھ سے باہر ہوتی جا رہی تھیں ۔۔۔ پہلے کی بات اور تھی لیکن اب بیٹی کی خاطر وہ انہیں کوئی سخت قدم اٹھانے پر مجبور کر رہی تھیں۔۔۔کمرے میں محض ماہرہ کی سسکیوں کی آوازیں گھونج رہی تھیں۔۔۔۔
کچھ دیر تک خود کر کمپوز کرنے کے بعد اظہر صاحب اٹھ کر اسکے پاس آئے۔۔۔
خاموش ہو جاو ماہرہ۔۔۔ تمہاری طبیعت پہلے ہی ٹھیک نہیں۔۔۔
اظہر صاحب نے محبت سے اسکے بال سہلائے۔۔۔
بابا۔۔۔۔ وہ روتے ہوئے کسی معصوم بچے کی مانند انکا ہاتھ تھام گئ۔۔۔ پلیز مام کو روکیں۔۔۔ وہ فائز کو یوں بار بار ڈی گریڈ نہیں کر سکتیں۔۔۔
ٹھیک ہے مانا میں نے کے فائز کا بچپن ہمارے گھر میں گزرا۔۔۔ لیکن اسکا مطلب یہ نہیں کے اسے اس بات کے طعنے دیئے جائیں۔۔۔ ہر چیز کی ایک حد ہوتی ہے ۔۔ کوئی آخر کب تک برداشت کر سکتا ہے ۔۔۔ مام غلط ہیں۔۔۔ بالکل غلط۔۔۔ میں بیٹی ہو کر انکے روبرو آ کر بدتمیزی پر نہیں اتر سکتی بابا۔۔۔ لیکن وہ بہت غلط کر رہیں ہیں۔۔۔ مجھے سمجھ نہیں آتی میں کیا کروں۔۔۔ ماں کی فرمابرداری میں خاموش رہتی ہوں تو عشق میں منکر کہلاتی ہوں۔۔۔ سٹینڈ لیتی ہوں تو نافرمان اولاد کہلاتی ہوں۔۔۔۔۔ بابا مجھے اس دہری اذیت سے بچا لیں۔۔۔ وہ کرب سے کہتی سسک اٹھی
پہلے کی بات اور تھی نا بابا۔۔۔ مام کی ہر دفعہ دل چھلنی کرتی باتوں کے بعد وہ مجھ سے دور ہو جاتا ہے۔۔۔۔ وہ مجھے اگنور کرتا ہے۔۔۔ مجھ سے بات نہیں کرتا۔۔۔ فاصلہ بنا کر رکھتا ہے۔۔۔
آج جو جو کچھ مام نے اس سے کہا ہے ۔۔۔ اسکے بعد تو وہ پلٹ کر مجھے دیکھے گا بھی نہیں۔۔۔ اور اس بار میں اسکی بے رخی و نظر اندازی کیسے سہوں گی بابا۔۔۔ میں اب یہ سب برداشت نہیں کر سکتی۔۔۔ وہ روتے ہوئے باپ سے اپنے خدشات بیان کرنے لگی تھی۔۔۔ جو اسکا دل دہلا رہے تھے۔۔۔
اتنی مشکلوں سے تو سب ٹھیک ہوا تھا۔۔۔ وہ تو فائز علوی کو پانے کا خیال تک بھول چکی تھی۔۔۔ حالات جس نہج پر پہنچ چکے تھے وہ بے طرح حوصلہ چھوڑ گئ تھی۔۔۔
فائز علوی محض اسکی دعاوں تک محصور ہو کر رہ گیا تھا۔۔۔
لیکن پھر اللہ نے اس پر کرم کیا اور بالکل اچانک بیٹھے بیٹھے ہی وہ شخص اسے حاصل ہو گیا جو پہنچ سے بہت دور لگنے لگا تھا۔۔۔ ابھی وہ خدا کی اس عنایت پر پوری طرح سے خوش بھی نہیں ہو سکی تھی کے مام نے اپنی نشتروں کی مانند باتوں سے اسکے ہونٹوں سے مسکراہٹ تک نوچ لی۔۔۔
اب تو دل کو بس فائز کا ہی ڈھرکا لگا تھا۔۔۔ وہ بہت غصے سے اس کمرے سے نکل کر گیا تھا۔۔۔ اور یہ ہی چیز اسے اندر ہی اندر کھا رہی تھی۔۔۔
نہیں بیٹا۔۔۔ ایسا کچھ نہیں ہو گا۔۔۔۔ پہلے کی بات اور تھی۔۔۔ اب کی بات اور ہے۔۔۔ اب تمہارا اس سے ایک مضبوط رشتہ جڑ چکا ہے جسکے باعث وہ چاہ کر بھی تمہیں نظر انداز نہیں کر سکتا۔۔۔
ہاں تمہاری ماں نے بہت غلط کیا ہے۔۔۔ مجھے اسکی اس بے بنیاد نفرت کو ختم کرنے کا کوئی طریقہ نہیں سوجھ رہا۔۔۔ لیکن اگر وہ اپنی روش سے باز نہیں آتی اور اسکی عقل ٹھکانے نہیں لگتی۔۔۔ تو مجھے کوئی انتہائی قدم اٹھانا پڑے گا۔۔۔البتہ فائز سے میں خود ایکسکیوز کروں گا۔۔۔ وہ بہت پیارا بچہ یے۔۔۔ کسی تیسرے شخص کے باعث وہ اپنے رشتے خراب نہیں کرے گا۔۔۔ اور تمہاری ماں اسکی زندگی میں ایک تیسرا فرد ہی ہے۔۔۔ ایک ایسا فرد جیسے اپنی زندگی میں کوئی یاد رکھا نہیں چاہے گا۔۔۔
وہ ماہرہ کے آنسو صاف کرتے محبت و لہیمی سے گویا ہوئے۔۔۔۔لیکن اسکے باوجود بھی ماہرہ کا دل خدشات سے لرز رہا تھا۔۔۔
*****
مرتسم نے فوڈ کورٹ سے بہت پیچھے ہی اپنی لینڈکروزر کھڑی کی اور وہاں سے پیڈل ہی فوڈ کورٹ کی طرف چل دیا۔۔۔ سر پر پی کیپ لے رکھی تھی کان میں بلو توٹھ لگی تھی جبکہ ہاتھ میں ماہرہ کا فون تھام رکھا تھا۔۔۔ وہ تیز تیز قدم اٹھاتا ارد گرد چوکنی نگاہوں سے دیکھتا فوڈ کورٹ کے سامنے موجود ایک کافی شاپ کے اوپن ایریا میں سب سے آخری ٹیبل پر بیٹھ گیا ۔۔۔ یوں کے فوڈ کورٹ کے داخلی دروازے کی جانب اسکی پشت تھی لیکن وہ سامنے لگے شیشے سے پیچھے کا سارا منظر باخوبی دیکھ سکتا تھا۔۔۔
ابھی ابھی اسے فون پر اطلاع مل گئ تھی کے اندر سب سیٹ ہے جسکے باعث وہ کچھ پرسکون تھا۔۔۔۔لیکن وہاں پر زبیر لغری تنہا نہیں تھا بلکہ اپنی پوری گینگ کے ساتھ موجود تھا۔۔۔
مرتسم یہ سن کر لب بھینچ گیا۔۔۔
فاہا پہلے ہی بہت حواس باختہ تھی مزید اسکی پوری گینگ کو دیکھ کر یقیناً اسکے مزید اوسان خطا ہو جاتے۔۔۔
وہ شیشے سے زبیر لغاری اور اسکے دوستوں کو وہاں کھرے قہقے لگاتا دیکھ سکتا تھا۔۔۔۔
دفعتاً فاہا کے موبائل پر بپ بجی۔۔۔ اسنے شیشے سے ایک سخت نگاہ سے زبیر لغاری کو گھورتے میسج کھولا۔۔۔
کہاں ہو۔۔۔ کب تک پہنچو گی۔۔۔ اب مزید انتظاد نہیں. ہوتا۔۔۔۔
میسج پڑھتے ہی اسکی کنپتی کی رگ پھرکنے لگی۔۔۔ کل رات سے وہ یونہی وقفے وقفے سے اپنا ضبط آزما رہا تھا۔۔۔
راستے میں ہوں۔۔۔
ایک اور بات۔۔۔ میسج سینڈ کرتے ہی اسنے اگلا ٹائپ کرنا شروع کیا۔۔۔
مطلوبہ کمرے میں پہلے میں جاوں گی۔۔۔ تم میرے جانے سے کچھ دیر بعد وہاں آو گئے اور تم اس بیج مجھے وہاں مخاطب بھی نہیں کرو گئے۔۔۔
دیکھو میں کسی کی نظروں میں نہیں آنا چاہتی۔۔۔ نا ہی کسی کو یہ لگنا چاہیے کے میں یہاں تم سے ملنے آئی ہوں۔۔۔ تم سمجھ رہے ہو نا میرے تحفظات۔۔۔۔تیزی سے ٹائپ کرتے اسنے میسج سینڈ کیا اور گنے بالوں میں ہاتھ پھیر کر آنکھیں موند گیا۔۔۔
ٹھیک ہے پرنسس جیسے تمہاری خوشی۔۔۔ جلدی پہنچو۔۔۔ نینو سیکنڈ میں اسکا ریپلائے موصول ہوا۔۔۔ وہ بھی جیسے سب طے کئے بیٹھا۔۔۔
دفعتا اسکے دوسرے موبائل کی رنگ ٹیوں بجی۔۔۔ فون اسکے خاص آدمی کا تھا
اسنے بنا توقف کے فون اٹھایا۔۔۔۔
سر صبح تک روم نمبر تھری زیرو فائیو کلیئر تھا لیکن اب کچھ ہی دیر پہلے وہاں کمیرے سیٹ کئے گئے ہیں۔۔۔۔
کیاااااا؟؟؟؟ فون سے ابھرتی آواز سے اسکی آنکھوں میں خون اترنے لگا۔۔۔۔۔۔۔۔
اسکا یہاں اپنے پورے گینگ کے ساتھ موجود ہونا۔۔ کمرے میں خفیہ کیمرے سیٹ کرنا۔۔۔ اس گھٹیا انسان کی اس سب کے پیچھے نیت کیا تھی مرتسم لودھی کو سمجھنے میں دیر نا لگی۔۔۔
اسکا خون تک کھولنے لگا۔۔۔ رگوں میں بہتے خون کے ساتھ گویا لاوا بہنے لگا۔۔۔ اندر ایسی آگ لگی تھی کے دل چاہا سب جلا کر خاکستر کر ڈالے۔۔۔
اسنے زبیر لغاری کے لئے جو سزا سوچی تھی وہ بہت کم تھی۔۔۔ وہ اس سے کہیں زیادہ سزا کا حقدار تھا۔۔۔
ایک گھٹیا انسان کو سبق سیکھانے کے لئے اسکے لیول پر اترنا اب ناگزیر ہو گیا تھا۔۔۔
پلان میں کچھ ردو بدل کرنی ہے وجی۔۔۔۔ چٹختے دماغ اور شعلے اگلتی نگاہوں سے وہ سامنے شیشے میں نظر آتے زبیر لغاری کے اپنے دوستوں کے ساتھ ہستے قہقے لگاتے عکس کو دیکھ کر پھنکارا۔۔۔
یہ سارے ارینجمنٹس اگلے دس منٹ میں ہو جانے چاہیں۔۔۔۔ اسے مکمل بریفنگ دے کر وہ تحکمانہ گویا ہوا۔۔
سر لیکن اتنی جلدی۔۔۔ وہ بوکھلایا۔۔۔
وجی۔۔۔ دس منٹ مطلب دس منٹ۔۔۔ اس سے زیادہ وقت نہیں لگنا چاہیے۔۔۔ اور سب سے پہلے کمرے سے وہ سارے کیمرے ہٹواو۔۔۔۔
اسنے کھولتے ہوئے فون بند کیا اور فاہا کے ڈرائیور کو فون ملایا۔۔۔
کہاں پہنچے۔۔۔۔ فون رسیو ہوتے ہی وہ بے چینی سے گویا ہوا۔۔۔
بس سر دو منٹ کی دوری پر ہوں۔۔۔ ڈرائیور عاجزانہ بولا۔۔۔۔ ۔
گاڑی واپس موڑو۔۔۔ اور پورے شہر کا چکر کاٹ کر واپس آنا اور اس عمل میں تمہیں کم سے کم بھی پندرہ سے بیس منٹ لگنے چاہیے۔۔۔۔۔۔
جی سر اوکے۔۔۔ اسکے تحکم سے کہنے پر ڈرائیور بنا بحث کے مودب سا گویا ہوا اور وہیں سے گاڑی ریورس موڑ لی۔۔۔
******
وجی کو پورے دس منٹ ہی لگے تھے مرتسم کے کہے ارینجمنٹس مکمل کرنے کو۔۔۔۔ اور ٹھیک دس منٹ بعد وہ مرتسم کو اوکے کا سگنل دے چکا تھا۔۔۔ یہ سب اسنے دس منٹوں میں کیسے کیا تھا یہ وہی جانتا تھا۔۔۔
وجی کی جانب سے اوکے کا سگنل ملتے ہی مرتسم نے فاہا کے ڈرائیور کو وہاں پہنچنے کا کہا اور خود فاہا سے رابطہ بحال کیا۔۔۔
فاہا گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔ میں تمہارے ساتھ تمہارے سائے کی طرح ہوں۔۔۔ مرتسم کے تسلی دینے پر فاہا کا دل بھر آیا مگر وہ لب سیئے بیٹھی رہی۔۔۔ جانتی تھی کے ایک لفظ بھی بولے گی تو آواز میں نمی کی آمیزش گھل جائے گی۔۔۔ اور فون کے دوسری جانب موجود شخص کو اسکے رونے سے جس قدر چڑ تھی وہ اب اچھے سے جاننے لگی تھی۔۔۔
مگر یہ سب اسکے اختیار میں ہی کب تھا۔۔۔ وہ صدا کی نرم دل تھی۔۔۔ زرا سی ٹینشن والی بات ہوتی اسکے آنسو خودبخود بہہ نکلتے۔۔۔ اپنی صفائی میں بات کرتے اسکی آواز بھرا جاتی۔۔۔ وہ تو ڈرامے یا فلم میں کوئی دکھی سین دیکھ کر رو دیتی تھی۔۔۔ وہ تھی نرم دل اور حساس ۔۔۔ کہاں سے لاتی مرتسم لودھی سا حوصلہ اور جگر۔۔۔۔
زبیر لغاری اور اسکی گینگ فوڈ کارٹ کی انٹرس ہر ہی کھڑے ہیں تم۔۔۔۔
زبیر لغاری اور اسکی گینگ۔۔۔ اس سے پہلے کے مرتسم اپنی بات مزید جاری رکھتا اسکے صدمے سے چور آواز پر لب بھینچ گیا۔۔۔ یہ بات تو اسکی بھی غیرت پر تازیانہ تھی کے وہ مکمل پلانینگ کے تحت بھی اپنے گھر کی عزت کو ایک گینگ کے پاس بھیج رہا تھا۔۔۔
دفعتاً فاہا کی گاڑی فوڈ کورٹ کے باہر آ کر رکی تو اینٹرس پر ان سب کو کھڑا دیکھ اسکے حوصلے مزید پست پڑے۔۔۔ وہ کپکپا کر رہ گئ۔۔۔
تم فکر مت کرو فاہا۔۔۔ ان سب کو نظر انداز کر کے بس آگے بڑھ جاو اور۔۔۔ وہ ابھی بریفنگ دے رہا تھا جب فاہا اپنے اندرونی خوف پر قابو پاتی درشتی سے اسکی بات کاٹ گئ۔۔۔
بات زبیر لغاری کے ساتھ ملنے کی ہوئی تھی نا۔۔۔ یہ یہاں اپنے ٹولے کو لے کر کیسے کھڑا ہے۔۔۔ میں ہرگز ان سب کی موجودگی میں گاڑی سے باہر تک نہیں نکلوں گی۔۔۔
یہ بات آپ اس گھٹیا انسان کو بھی بتا دیں۔۔۔ ابھی اتنا اندھیر نہیں مچا اور نا ہی فاہا لودھی اتنی مجبور اور بے بس ہوئی ہے کے کسی بھی عیرے غیرے کی فضول سی باتیں مانتی پھرے۔۔۔ بھاڑ میں گیا سب۔۔۔
جو ہو گا دیکھا جائے گا۔۔۔ اتنی بے غیرتی مجھے قطعاً قطعاً منظور نہیں۔۔۔ میری طرف سے زبیر لغاری جائے جہنم میں۔۔۔
اسکی آواز میں گہری کاٹ تھی۔۔۔ غم و غصے سے اسکی آواز کپکپانے لگی تھی۔۔۔
مرتسم لودھی فاہا جیسی دبو سی لڑکی سے اسقدر شدید ردعمل کی توقع نہیں رکھتا تھا۔۔۔ لیکن چھوٹی چھوٹی بات پر تھر تھر کانپنے والی لڑکی کا اس معاملے میں اتنا کھڑا اور دو ٹوک انداز اسے امپریس کر گیا۔۔۔۔
جیو شیرنی۔۔۔ اسکے لب بے آواز ہلے۔۔۔ بھنور ستائشی انداز میں اوپر کو اٹھی۔۔۔
یہ لڑکی اسکا بہت بڑا مسلہ حل کر گئ تھی۔۔۔ اس نہج پر تو مرتسم نے سوچا ہی نہیں تھا۔۔۔ کے فاہا کا بھی اتنا شدید ردعمل آ سکتا ہے۔۔۔۔۔
اسکے ہاتھ تیزی سے موبائل کے ٹچ پیڈ پر حرکت کرنے لگے۔۔۔
وہی سب جو فاہا نے بھرپور غصے سے اسے کہا تھا اس میں معمولی ردعمل کر کے وہ زبیر لغاری کو سینڈ کر چکا ٹھا ۔۔۔
اگر ابھی کے ابھی تمہارا ٹولہ یہاں سے نا گیا تو میں گاڑی سے باہر نکلنے کی بجائے ڈرائیور کیساتھ واپس چلی جاوں گی۔۔۔ بہاڑ میں گئے تم اور تمہاری محبت۔۔۔ میں ایک عزت دار لڑکی ہوں۔۔۔تمہارے بے انتہا فورس کرنے ہر یہاں تک آئی ہوں۔۔۔۔ تمہاری جرات کیسے ہوئی ہماری پہلی ملاقات پر اپنی پوری گینگ ساتھ اٹھا کر لانے کی۔۔۔ وہ لبوں پر شیطانی مسکراہٹ سجائے آخری میسج بھی سینڈ کر چکا تھا اور اب شدت سے زبیر لغاری کے رپلائے کا منتظر تھا۔۔۔ وہ شیشے سے اسکا ایک ایک انداز نوٹ کر رہا تھا۔۔۔ میسج پڑھتے ہی اسکے چہرے کی رنگت تغیر ہونے لگی۔۔۔ اسنے ایک نظر آخری میسج کو دیکھا اور پھر فوڈ کورٹ کے سامنے کھڑی فاہا کی گاڑی کو جس سے ابھی تک کوئی نہیں نکلا تھا۔۔
ارے یار تم تو خوامخواہ ہی ناراض ہو رہی ہو۔۔۔ یہ سب تو بس ایسے ہی آ گئے تھے میرے ساتھ۔۔ فکر مت کرو یہ بس جانے ہی والے تھے۔۔۔
اسنے میسج سینڈ کرتے ہی ان سب کو آنکھ سے اشارہ کیا جسکے باعث وہ منظر سے ہٹ گئے۔۔۔
لیکن مرتسم باخوبی جانتا تھا کے وہ یہیں آس پاس ہی ہیں۔۔۔
مرتسم کی جانب سے فاہا کو اوکے کا سگنل ملتے ہی وہ جی کڑا کر کے حوصلے سے گاڑی سے نکلی۔۔۔
زبیر لغاری کی آڑ پاڑ ہوتی ساکت نگاہیں اسی پر جمی تھی۔۔۔
فاہا کی ٹانگیں کپکپانے لگیں۔۔۔ وہ کمال جرات کا مظاہرہ کرتی اسے بھرپور نظر انداز کر کے آگے بڑھی اور اسکے پاس سے گزرتی لفٹ کی جانب بڑھی۔۔۔
انکے نظروں سے اوجھل ہوتے ہی مرتسم نے کنٹرول روم سے رابطہ بحال کیا۔۔۔ وہاں کے مینجر سے وہ پہلے ہی ڈیل کر چکا تھا۔۔۔ وہاں لگے کیمروں کی فوٹیج اگلے پندرہ منٹوں کے لئے کنٹرول روم میں چلنے کی بجائے اسکے موبائل پر چلنے والی تھی ۔۔۔ اسنے کنٹرول روم سے کوڈ موصول ہوتے ہی اسے موبائل پر ٹائپ کیا۔۔۔ کوڈ لگتے ہی موبائل پر وہاں کی فوٹیج چلنے لگی۔۔۔ مرتسم نے فاہا کی مطلوبہ فوٹیج کھولی جہاں وہ لفٹ سے نکل رہی تھی۔۔۔
فاہا گو فاسٹ۔۔۔ زبیر لغاری تمہارے پیچھے ہی ہے۔۔۔ تم دونوں کے درمیاں چند لمحوں کا فاصلہ ضرور ہونا چاہیے تاکے تم کمرے سے باآسانی نکل سکو۔۔۔
نونو نونونو۔۔۔۔ پیچھے پلٹ کر مت دیکھنا۔۔۔ سیدھا چلتی جاو۔۔۔
مرتسم کی بریفنگ دیتی آواز اسے حواس باختہ کر رہی تھی۔۔۔اسے اپنے جسم سے روح نکلتی محسوس ہوئی۔۔۔
سیدھے جا کر لیف۔۔۔ گو فاسٹ۔۔۔ مرتسم کی آواز پر وہ تھوک نگلتی بھاگی۔۔۔
مطلوبہ کمرے کے سامنے جا کر اسکا دروازہ کھولا اور ہانپتی کانپتی اندر آ کر دروازہ بند کرتے ہی بالکنی کے دروازے کی جانب لپکی۔۔۔ اسکے پیچھے ہی زبیر لغاری فاتحانہ چال چلتا دائیں جانب مڑا۔۔۔
رخ مڑتے ہی اسنے موبائل پر نمبر ملاتے اپنے دوستوں کو اوکے کا سگنل دیا۔۔۔۔ اسکی اس کمینگی پر مرتسم بے ساختہ اپنی جگہ سے اٹھا اور اندر کی جانب لپکا۔۔۔
وہ یہ سب بنا سامنے آئے بنا انکی نظروں میں آئے یکدم انکے سر پر دھماکہ کر کے کرنا چاہتا تھا تاکے انہیں سمبھلنے کا موقع نا ملے۔۔۔ لیکن اگر فاہا پر ایک آنچ آنے کے بھی چانسز ہوئے تو وہ ہر مصلحت بالائے طاق رکھتا میدان میں کود جانے والا تھا۔۔۔
پی کیپ سر کو آگے کو جھکاتے فوڈ کورٹ کی جانب بڑھتا وہ مسلسل فوٹیج دیکھتا فاہا سے رابطے میں تھا۔۔۔
مرتسم بالکنی کا دروازہ نہیں کھل رہا۔۔۔ بلوتوٹھ سے فاہا کی روہانسی آواز ابھری جو بالکنی کے دروازے کے ہینڈل سے زور آزمائی کرتی ایک خوفزدہ نگاہ کمرے کے دروازے ہر بھی ڈال رہی تھی۔۔۔ جو وہ گھٹیا شخص اندر داخل ہو گیا تو۔۔۔ یہ ہی سوچ اسکے ہاتھ پاوں بے جان کر رہی تھی۔۔۔ دفعتاً زبیر لغاری نے مسکراتے ہوئے کمرے کے دروازے کے ہینڈل پر ہاتھ رکھتے اسے گھمایا۔۔۔
یہ دیکھتے ہی مرتسم لودھی کی آنکھوں میں خون اترا۔۔۔ وہ اندھا دھند بھاگتا ہوا لفٹ کی جانب بڑھا۔۔۔ مگر شومئ قسمت۔۔۔۔لفٹ بند تھی۔۔۔
شٹ۔۔۔ وہ بنا وقت ضائع کئے سیڑھیوں کی جانب لپکا۔۔۔۔
******

No comments