Roshan Sitara novel 22nd Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Roshan Sitara novel 22nd Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Roshan Sitara is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels
Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front
of the world and improve their abilities in that field.
Roshan Sitara Novel by Umme Hania | Roshan Sitara novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Roshan Sitara novel by Umme Hania Complete PDF download
Online Reading
ناول "روشن ستارا"۔
مصنفہ "ام ہانیہ"۔
Official pg : Umme Hania official
بائیسویں قسط۔۔۔
ساری رات فاہا کی آنکھوں میں کٹی تھی۔۔۔ وہ بس گم صم سی بیڈ کراون سے ٹیک لگائے بیٹھی کسی غیر مری نقطے کو دیکھ رہی تھی۔۔۔ حواص مختل تھے اور سوچیں منتشر۔۔۔۔
حتکہ فجر کی اذانیں تک سنائی دینے لگیں۔۔۔ اسنے کسلمندی سے اٹھ کر وضو کیا اور فجر کی نماز ادا کی۔۔۔ یہ ساری رات کے رتجگے کا غماز تھا کے صبح بخار کی حدت سے اسکا جسم ٹوٹنے لگا تھا۔۔۔
آج اس پر عجیب سا خوف طاری تھا۔۔۔ ہوٹلوں میں بند کمروں کی پیچھے ہونے والی ملاقاتیں کس نوعیت کی ہوتی ہیں وہ لاعلم تو نا تھی۔۔۔
دس بجنے سے کچھ دیر پہلے ہی وہ تیار تھی۔۔۔ دل چاہا کے مرتسم کے آنے سے پہلے کہیں چھپ جائے۔۔۔۔
اس سے پہلے کے وہ اپنے اس بودے خیال پر عمل پیرا ہوتی دروازہ ناک کر کے مرتسم اندر داخل ہوا۔۔۔ حسب معمول وہ جینز پر ڈریس شرٹ زیب تن کئے تھا جسکے بازو پیچھے کو فولڈ کر رکھے تھے۔۔۔
فاہا آئینے کے سامنے کھڑی سیاہ عبایا میں ملبوس تھی۔۔۔ بالوں کا اونچا جوڑا بنا رکھا تھا جبکہ سٹالر گلے میں پڑا تھا جیسے وہ ابھی حجاب کرنے ہی والی تھی اور مرتسم کو دیکھ کر رک گئ ہو۔۔۔
تیار ہو تم۔۔۔ کیا ہوا ہے۔۔۔ تمہاری طبیعت ٹھیک ہے۔۔ وہ اسکے بخار کی حدت سے سرخ پڑتے چہرے کو دیکھتا پریشانی سے دو قدم آگے بڑھا۔۔۔ فاہا اپنی جلتی آنکھیں جھکا گئ۔۔۔
میرا دل وہاں جانے کو قطعاً راضی نہیں۔۔۔ اسنے بامشکل آواز کی لغزش پر قابو پایا اور گیلی سانس اندر کھینچتے سٹالر سر پر اوڑھا۔۔۔
تم نے ناشتہ کیا۔۔۔ وہ ماتھے پر تیوریاں سجائے فکری مندی سے اسے دیکھ رہا تھا اسکی ناجانے والی بات کو وہ سرے سے ہی نظر انداز کر گیا۔۔۔ محترمہ اسکی سوچ سے زیادہ نازک مزاج تھی۔۔۔۔
بھوک نہیں ہے مجھے۔۔۔ مر گئ بھوک۔۔۔ اسکا انداز نڑوٹھا تھا۔۔۔ وہ رخ آئینے کی طرف موڑٹی سٹالر چہرے کے گرد لپیٹتی حجاب سیٹ کرنے لگی۔۔۔
رکو ایک منٹ۔۔۔ ابھی حجاب سیٹ مت کرنا۔۔۔ میں آتا ہوں ابھی۔۔۔۔ اپنی بات کہہ کر مرتسم تیزی سے باہر نکلا۔۔۔ جبکہ سٹالر کو سر کی طرف لیجاتے اسکے ہاتھ بے جان ہو کر نیچے گرے اور وہ خود بھی ڈھنے کے انداز میں صوفے پر بیٹھی۔۔۔ سٹالر سر سے کھسک کر شانوں پر آگرا۔۔ وہ سر ہاتھوں میں گرا گئ۔۔۔۔
دفعتاً مرتسم واپس کمرے میں آیا۔۔۔ اسنے ہاتھ میں ٹرے تھام رکھی تھی۔۔۔ صوفے پر اس سے کچھ فاصلے پر بیٹھتے اسنے ٹرے میز پر رکھی۔۔۔ سب سے پہلے ناشتہ کرو فاہا اور پھر یہ گولی کھاو۔۔۔ وہ صوفے کو ٹیک لگاتا ریلیکس انداز میں بیٹھا اور موبائل نکال کر اسے سکرول ڈاون کرنے لگا۔۔۔
فاہا نے ایک نظر ٹرے کو دیکھا جہاں چائے کے کپ کیساتھ بریڈ اور فرائی انڈا پڑا تھا ساتھ غالباً پیناڈول کی گولیوں کا پتا تھآ۔۔۔
مجھے بھوک نہیں ہے۔۔۔ وہ بیزاری سے گویا ہوئی۔۔۔
محترمہ۔۔۔۔ وہ ایک جھٹکے میں ٹیک چھوڑتا سیدھا ہو بیٹھا۔۔۔ اتنے نخرے میں نے اپنی سگی بہن کے نہیں اٹھائے کبھی۔۔۔ کیا تمہیں عزت راس نہیں آتی۔۔۔ مرتسم لودھی جو کبھی پانی کا گلاس تک اٹھا کر خود سے نا پیئے وہ مرتسم لودھی کچن سے جا کر یہ سب ۔۔۔ آنکھ سے ٹرے کی جانب اشارہ کیا۔۔ کسی کے لیے لے آئے۔۔۔ بالخصوص کسی کم عقل ۔۔ کم ہمت اور بے وقوف لڑکی کے لئے ۔۔۔۔۔ تو کیا یہ کوئی چھوٹی بات ہے۔۔۔
وہ واقعی مرتسم لودھی تھا جو زیادہ دیر تک کسی سے نرمی سے پیش آ ہی نہیں سکتا تھا۔۔۔ اپنی زبان کے جوہروں سے وہ یہ بات بہت اچھے سے فاہا لودھی کو باور کروا چکا تھا۔۔۔
وہ بنا مزید بحث کئے خاموشی سے ٹرے پر جھک گئ۔۔۔ مرتسم سر جھٹکتا واپس موبائل پر مصروف ہو گیا۔۔۔ وہ ناشتہ کر کے گولی کھا چکی تو اٹھ کر پھر سے آئینے کے سامنے جاتی حجاب سیٹ کرنے لگی۔۔۔
مرتسم اسے آئینے کے سامنے کھڑا دیکھ اٹھ کر اسکے پیچھے آیا۔۔۔ حجاب کرنے سے پہلے یہ بلو توٹھ اپنے کان میں سیٹ کر لو۔۔۔ اسنے ایک سفید رنگ کی بلو توٹھ اسکی جانب بڑھائی۔۔۔ فاہا نے اچھنبے سے اسے دیکھتے تھام لیا۔۔۔
یہ کس لئے۔۔۔ وہ حیرانی سے اسے دیکھتی کان میں لگانے لگی۔۔۔
مجھ سے رابطے میں رہنے کے لئے۔۔۔ یہ موبائل تمہارے ہینڈ بیگ میں رکھ رہا ہوں اور تمہارا موبائل میرے پاس ہی ہے۔۔۔ میں پل پل تم سے رابطے میں رہوں گا تمہیں گائیڈ کرتا رہوں گا۔۔۔
اسنے آگے بڑھ کر ڈریسنگ ٹیبل پر پڑے اسکے ہینڈ بیگ میں موبائل رکھا۔۔۔ تب تک وہ حجاب کر کے تیار تھی۔۔۔
یہاں سے ہم دونوں الگ الگ گاڑیوں میں نکلیں گے۔۔۔
تمہارے فوڈ کوٹ پہنچنے سے پہلے میں وہاں موجود ہونگا۔۔۔
گاڑی سے اترتے ہی تم بنا کسی کی جانب دیکھے بنا کسی سے بات کئے سیدھا روم نمبر تھری زیرو فائیو میں جاو گی۔۔۔
بھلے ہی تمہیں راستے میں زبیر لغاری ہی کیوں نا مل جائے تب بھی تم اس سے بات نہیں کرو گی۔۔۔
یہ بھلا کیسے ممکن ہے۔۔۔ وہ بریفینگ دے رہا تھا جب فاہا اسکی بات کاٹ گئ۔۔۔ اسکی تم فکر مت کرو۔۔۔
میں فاہا بن کر اس سے رابطے میں ہوں۔۔۔ وہ خود ہی تمہیں مخاطب نہیں کرے گا۔۔۔ مرتسم کی بات پر اسکا دل دھک سے رہ گیا۔۔۔ فاہا بن کر۔۔۔ اسکے لب پھڑپھڑا کر رہ گئے۔۔۔۔۔۔
تمہارے کمرے میں پہنچتے ہی چند پلوں کے وقفے سے زبیر لغاری وہاں آ جائے گا۔۔۔ مگر اسکے وہاں آنے سے پہلے ہی تم بالکنی کا دروازہ کھول کر بالکنی میں نکل جاو گی۔۔۔ فاہا اسے ناسمجھی سے اسے بریفینگ دیتے دیکھا۔۔۔۔۔ وہ بھلا کیا کیا سوچے بیٹھا تھا۔۔۔
فاہا کا دل گھبرانے لگا۔۔۔
اب وہ اپنا موبائل نکال کر اسے وہ کمرا اور بالکنی کا دروازہ دکھا رہا تھا۔۔۔۔۔
فاہا سب حیرت سے دیکھ رہی تھی۔۔۔ مطلب وہ اپنا ہوم ورک مکمل کر کے بیٹھا تھا۔۔۔
یہاں سے بالکنی میں آتے ہی دونوں کمروں کی بالکنی میں محض ایک ریلنگ ہے۔۔۔ تمہیں اس ریلنگ کو پھیلانگ کر روم نمبر تھری زیرو فور میں آنا ہے۔۔۔ اس کمرے کا بالکنی کو کھلتا دروازہ کھلا ہی ہو گا۔۔۔ مگر اندر آتے ہی تمہیں وہ دروازہ لاک کرنا ہے۔۔۔ وہ ہر چیز اسے موبائل کی سکرین پر دیکھاتا سمجھا رہا تھا
وہاں پہنچ کر تم نے سب سے پہلے اپنا عبایہ اتار کر چادر لینی ہے۔۔ اور وہیں پر تم نے اپنا ہینڈ بیگ اور جوتے بھی بدلنے ہے۔۔۔ سارا سامان وہاں موجود ہے۔۔۔ اسکے بعد تمہارے ارد گرد کچھ بھی ہو۔۔ کوئی بھی ہنگامہ بھرپا ہو چاہے قیامت ہی کیوں نا آ جائے۔۔۔۔۔۔تم نے بنا کسی کی جانب توجہ دیئے خاموشی سے وہاں سے نکل آنا ہے۔۔۔ ہم تمہارا حلیہ حفظ ما تقدم کے طور پر تبدیل کروائیں گے۔۔۔کیوں میں تمہیں کسی کی نظروں میں نہیں لانا چاہتا۔۔۔۔۔ ویسے تو کچھ دیر کے لئے وہاں کی فوٹیج بند ہو گئ لیکن ہم پھر بھی کوئی رسک نہیں لے سکتے۔۔۔۔
اتنی گہری پلانینگ سن کر فاہا کا دماغ چکرا گیا۔۔۔ ٹانگیں کپکپانے لگیں۔۔۔ ناجانے وہاں جا کر کیا ہونے والا تھا۔۔۔ جو سوچا جائے ضروری تو نہیں کہ وہی ہو۔۔۔ اگر بازی الٹی پڑ گئ تو۔۔۔
اگر وہ وقت رہتے دوسرے کمرے میں نا جاسکی یا اگر زبیر لغاری اس سے پہلے ہی کمرے میں موجود ہوا تو۔۔۔ وہ رو دینے کو ہوئی۔۔۔
فائز مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے۔۔۔ اگر وہاں کوئی گڑبڑ ہوگئ تو۔۔۔
وہ بھرائی آواز میں منمنائی۔۔۔
انتہائی زہر لگتا ہے مجھے تمہارا یہ دبو پن اور بات بے بات رونے بیٹھ جانا۔۔۔ بات ہوتی بعد میں ہے تمہارے مگرمچھ کے آنسو بہنے کو تیار پہلے ہوتے ہیں۔۔۔۔۔ وہ اسکی آواز میں نمی کی آمیزش محسوس کر کے ڈھارا۔۔۔ خبردار۔۔۔ خبردار جو یہ بنا وقت کا لحاظ کئے تم نے ٹسوے بہانے شروع کئے تو۔۔۔ وہ ہر لحاظ بالائے طاق رکھے ڈھارا۔۔۔ کے ایک پل کو تو فاہا بھی سہم گی۔۔۔ کل وہ اسے جتنی آنسووں کی ندیاں بہاتا دیکھ چکا تھا آج اتنی ندیاں دیکھنے کی اس میں ہمت نا تھی۔۔۔ فاہا لودھی کا شمار ان لوگوں میں ہوتا تھا جنکے پاس ہر مسلے کا حل بس رونا ہی تھا۔۔۔
پاگل ہوں میں جو کل سے تمہارے لئے مر کھپ رہا ہوں۔۔ پلانینگ کر رہا ہوں۔۔۔ وہاں کی ایک ایک چیز کو ہینڈل کر رہا ہوں۔۔۔ اور یہاں محترمہ کے مزاج ہی نہیں مل رہے۔۔۔ مرتسم کی آواز غصے سے اونچی ہونے لگی تھی۔۔۔ فاہا بے بسی سے آنکھیں میچتی سر جھکا گئ۔۔۔
یہ دیکھو فاہا۔۔۔ میرے جڑے ہوئے ہاتھوں کی لاج رکھ لو۔۔۔۔ وہ حقیقتاً اسکے سامنے ہاتھ جوڑ گیا۔۔۔۔تھوری سی دلیری دکھا دو۔۔۔ وہاں جا کر اپنی بے وقوفیوں کے باعث کچھ خراب مت کر دینا۔۔۔
جو کہا ہے جیسے جیسے کہا ہے ویسے ہی کرنا۔۔۔ اور رہ گئ بات کسی گڑبڑ کی۔۔۔ تو کام شروع کرنے سے پہلے ہی مایوسی کفر ہے۔۔۔ اللہ پر بھروسہ رکھو ان شااللہ کچھ غلط نہیں ہو گا۔۔۔ جلد ہی اپنے تیز لہجے کا احساس کرتے وہ کچھ دھیما پڑا۔۔۔ اس وقت فاہا کا مینٹلی ایکٹو ہونا بہت ضروری تھا اور وہ اپنے غصے کے باعث اسے مزید ٹینس نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔۔
ادھر دیکھو میری طرف۔۔۔ اسنے فاہا کی تھوڑی تلے انگلی رکھتے اسکا چہرا اونچا کیا۔۔۔ فاہا نے نم آنکھیں اٹھا کر اسے دیکھا۔۔۔
کچھ نہیں ہو گا۔۔۔ میں ہوں نا تمہارے ساتھ۔۔۔ ریلیکس ہو جاو۔۔۔ اسکے نرمی سے کہنے ہر فاہا نے بجھے دل سے سر ہاں میں ہلایا اور پزمردگی سے خود کو گھسیٹتی مرتسم کے پیچھے پیچھے ہی لاوئنج کی جانب بڑھی۔۔۔ پورچ میں آ کر دونوں الگ الگ گاڑیوں میں بیٹھے۔۔۔ مرتسم گاڑی خود ڈرائیو کر رہا تھا جبکہ فاہا کیساتھ ڈرائیور تھا۔۔۔
پہلے وہاں سے مرتسم کی گاڑی نکلی جبکہ اسکے نکلنے کے کچھ ہی لمحوں بعد فاہا کی گاڑی بھی گھر کا گیٹ عبور کر گئ۔۔۔ فاہا سیٹ کی پشت سے سر ٹکا کر آنکھیں مونڈ گئ۔۔۔
******
فائز علوی۔۔ تم گھٹیا انسان۔۔۔ آخر دکھادی نا تم نے اپنی اوقات۔۔۔
ہسپتال کے کمرے کا دروازہ وا کر کے مامی جارحانہ انداز میں اسکی جانب بڑھی اور اسے گریبان سے جھکرتے جھٹکے دیتی گویا ہوئیں۔۔۔
یہ ہی ہے تمہاری فطرت۔۔۔ دھوکا دہی سے پیٹھ پیچھے ڈسنا۔۔۔ قائر انسان۔۔۔ میری پیٹھ پیچھے تم نے چھپ چھپا کر میری بیٹی سے نکاح کیا۔۔۔ ارے اوقات تمہاری اسکا شوفر بننے کی نہیں اور تم چلے نکاح کرنے۔۔۔ غم و غصے سے انکا سانس ہھولنے لگا تھا۔۔۔ یہ شکست ہر شکست پر بھاری تھی۔۔۔ انکا دماغ غصے سے پھٹ رہا تھا۔۔۔ بس نا چل رہا تھا کے فائز علوی کو آگ لگا دے۔۔۔
مام دس از ٹو مچ۔۔۔ انف از انف۔۔۔
ماہرہ اپنی جگہ پر نیم ذراز بلبلا کر رہ گئ۔۔۔ اسکی آواز مامی کی غصیلی گرجدار آواز میں کہیں دبنے لگی۔۔۔۔
اسنے سرعت سے ادھر ادھر ہاتھ سے ٹٹولتے اپنا موبائل تلاش کیا اور باپ کا نمبر ملانے لگی۔۔۔ وہ بے بس تھی۔۔۔ وہ تو خود ہلنے کے سے قاصر تھی۔۔۔ اس وقت اسکی بپھری ہوئی ماں کو محض اسکا باپ ہی سمبھال سکتا تھا۔۔۔
ارے ہمت تھی تو میرے سامنے یہ گل کھلاتے۔۔۔ تمہارے ٹکرے کر کے کتوں کو نا ڈال دیتی۔۔۔
دو ٹکے کے گرے ہوئے گھٹیا انسان۔۔۔ ہمارے ہی ٹکروں پر پل کر ہمارے ہی۔۔۔ وہ مزید ناجانے کیا کیا زہر اگلنے والی تھیں جب فائز نے غصے سے ضبط کھوتے انکے ہاتھ اپنے گریبان سے ہٹاتے بے طرح جھٹکے۔۔۔
میں آپکی بہت عزت کرتا ہوں مامی۔۔۔ اس لئے غصے میں بھی آپ سے بدتمیزی نہیں کرنا چاہتا۔۔۔ لیکن اب آپ حد پھیلانگ رہی ہیں۔۔۔ دوبارہ میرے گریبان پر ہاتھ ڈالنے کی کوشیش مت کیجیئے گا۔۔۔
وہ مامی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے انگشت اٹھا کر دھیمی مگر سرد اور سخت آواز میں گویا ہوا۔۔۔
بکواس بند کرو اپنی گھٹیا انسان۔۔۔ چٹاخ ۔۔۔ پھنکارتے ہوئے مامی نے اسکے چہرے پر تھپڑ رسید کیا۔۔۔ اس سے پہلے کے انکا تھپڑ فائز کے چہرے پر چھاپ چھوڑ جاتا فائز نے بے دردی سے انکا ہاتھ پکڑ کر جھٹکا۔۔۔ کے مامی حیرت سے گنگ اپنی کلائی تھام کر رہ گئ۔۔۔ ماہرہ یہ سب دیکھتی بے بسی سے اپنے منہ پر ہاتھ رکھتی سسک اٹھی۔۔
کبھی انکے سامنے سر نا اٹھانے والا فائز علوی آج انکی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے کھڑا تھا۔۔۔
گھٹیا کم ظرف انسان نکاح ہوتے ہی دکھا دی نا اپنی اوقات۔۔۔ تم تو ابھی سے حلق کو آنے لگے۔۔۔ کچھ دیر کے بعد تو ساری پڑاپڑتی ہضم کرتے ہمیں ہی سڑک پر لے آو گے۔۔۔ تمہارا اول روز سے مقصد ہی یہ تھا۔۔۔ ماہرہ کو اپنے جھوٹے پیار کے جال میں پھنسا کر اس سے شادی کر کے اپنے اہداف پورے کرنا۔۔۔ مگر یہ خام خیالی ہے تمہاری کے میں تمہاری یہ سوچ پوری ہونے دوں گی۔۔۔
طلاق دو میری بیٹی کو۔۔۔ ابھی کے ابھی۔۔۔
مامممممممممم۔۔۔ وہ غصے سے پاگل ہو رہی تھیں۔۔۔ جبکہ انکی اس دل دہلاتی بات پر ماہرہ غم و غصے سے چیخ اٹھی۔۔۔
فائز تاسف سے انہیں دیکھتا واپسی کو پلٹا جب وہ جارحانہ اسکا بازو کھینچ کر روک گئ۔۔۔
سنا نہیں تم نے ۔۔۔ طلاق دو اسے ابھی کے ابھی۔۔۔
وہ جارحانہ چلائیں۔۔
صاعمہ بیگمممممم۔۔ دفعتاً اظہر صاحب ہانپتے کانپتے دروازہ دھکیل کر اندر داخل ہوئے۔۔۔ اور سامنے بیوی کا پاگل پن دیکھ غصے سے چلا اٹھے۔۔۔
انہیں اندر آتا دیکھ فائز غصے سے مامی کے ہاتھ سے اپنی بازو چھڑواتا باہر نکلتا چلا گیا۔۔۔
اظہر صاحب اس گھٹیا انسان سے کہے کے میری بیٹی کو طلاق دے۔۔۔ وہ فائز کو جاتا دیکھ چیخیں۔۔۔
چٹاخ۔۔۔۔ اظہر صاحب نے ہوری قوت سے تماچا انکے چہرے پر جڑا کے وہ ساکت سی چہرے پر ہاتھ رکھے ساکت نگاہوں سے انہیں دیکھنے لگی۔۔۔
یہ سب تماشا اپنی آنکھوں سے دیکھتی ماہرہ مزید سسک اٹھی۔۔۔
بند کرو اپنا یہ پاگل پن صاعمہ بیگم۔۔۔ کیسی ماں ہو تم جو بیٹی کا گھر پوری طرح بسنے سے پہلے ہی اجاڑنا چاہتی ہو۔۔۔ وہ غصے سے بپھرے۔۔۔
آپ ہوتے کون ہیں میری بیٹی کی زندگی کا اتنا بڑا فیصلہ بنا میری رضا مندی کے لینے والے۔۔۔ جرات کیسے ہوئی آپکی۔۔۔ میری بیٹی کی شادی ایک ٹٹ پونجھیے سے کرنے کی۔۔۔
شاک سے نکلتے ہی مامی بپھری۔۔۔۔
میں ماہرہ کا باپ ہوں۔۔۔ اور باپ ہونے کی حیثیت سے جو مجھے اپنی بیٹی کے لئے درست لگا وہ میں نے کیا۔۔۔۔
وہ میری بھی بیٹی ہے۔۔۔ صاعمہ بیگم انکی بات کاٹتی چٹخی۔۔۔
اسی لئے میں نے اسکی خوشیوں کو تمہاری نفرت کی نظر نہیں ہونے دیا۔۔۔
اظہر صاحب ہاتھ پشت پر باندھتے رخ موڑ گئے۔۔۔
اور فائز سے بدتمیزی کرنا بند کر دو صاعمہ بیگم۔۔۔ اب یہ میری برداشت سے باہر ہو رہا ہے۔۔۔ میرے ضبط کو مت آزماو۔۔۔ ورنہ پچھتاو گی۔۔۔ وہ محض اب میرا بھانجا ہی نہیں میرا داماد بھی ہے۔۔۔ اس لئے اگلی مرتبہ اس سے عزت سے پیش آنا۔۔۔
وہ سنجیدگی سے انہیں وارن کرتے گویا ہوئے۔۔۔
عزت مائے فٹ۔۔۔ پٹرول چھڑک کر آگ لگا دوں کی اس کم ظرف انسان کو مگر بیٹی اس ٹٹ پونجھیے کو نہیں دوں گی یاد رکھیے گا۔۔۔ وہ غصیلے مگر حتمی انداز میں کہتیں تن فن کرتیں کمرے سے ہی نکل گئ۔۔۔ جبکہ ماہرہ کرب سے آنکھیں میچ کر رہ گئ۔۔۔
****

No comments