Header Ads

Roshan Sitara novel 21st Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels


 

Roshan Sitara novel  21st Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels 

Roshan Sitara is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels

Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front 

of the world and improve their abilities in that field.

 Roshan Sitara  Novel by Umme Hania | Roshan Sitara  novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Roshan Sitara  novel by Umme Hania Complete PDF download

اکیسویں قسط۔۔۔۔

پروفیسر عظیم کی رہائش گاہ سے نکلتا ہی فائز سیدھا ماموں کے گھر کی جانب بڑھا۔۔۔ وہ اسے فون پر ہی بتا چکے تھے کے وہ گھر پر ہیں لحاظہ فائز ان سے ملنے گھر ہی آئے۔۔۔

ڈرائیوے پر بائیک کھڑی کرکے  وہ اندر کی جانب بڑھا۔۔۔ ملازمہ سے ماموں کا پوچھ کر وہ سیدھ انکی سٹڈی روم میں ہی آیا۔۔۔

ہلکا سا ناک کر کے اسنے دروازہ وا کیا تو اندر نیم تاریکی نے اسکا استقبال کیا۔۔۔

باہر کی نسبت اندر کا ماحول دیکھ  ایک دفعہ تو وہ حیران رہ گیا۔  ۔۔ باہر روشنی سے آتے آنکھیں اس نیم اندھیرے سے مانوس ہو پا رہی تھیں۔۔۔ تبھی اندر آتے ہی اسنے دیوار کے پیچھے موجود سوئچ بورڈ کی بٹن دبائے۔۔۔ ٹک ٹک کی آواز کیساتھ کمرا روشن ہو گیا۔۔۔۔۔

کمرے میں روشنی ہوتے ہی ماموں جو آرام دہ کرسی پر ڈھیلے سے انداز میں نیم دراز تھے سدھے ہو بیٹھے۔۔۔

آو فائز بیٹا آو۔۔۔ تمہارا ہی منتظر تھا میں۔۔۔

خیریت ماموں۔۔۔ سب ٹھیک تو ہے نا۔۔۔ آپکی طبیعت تو ٹھیک ہے۔۔۔ وہ فکر مند سا انکے پاس موجود سنگل صوفے پر آ کر بیٹھا۔۔۔۔ ماموں اسے بہت ندھال اور بیمار بیمار سے محسوس ہوئے۔۔۔

تمہاری نظر میں میری کیا حیثیت ہے فائز ۔۔۔ انہوں نے بے طرح ماتھا مسلہ۔۔۔

انکے اس نافہم انداز سے فائز چونک اٹھا۔۔۔۔ کیا مطلب ماموں۔۔۔ ماں کے بعد آپ ہی میرے سب کچھ ہیں۔۔۔ میرے بابا بھی۔۔۔ ماموں بھی اور دوست بھی۔۔۔

فائز انکی جانب جھکتا انکا ہاتھ تھام گیا۔۔۔

میرا خدا گواہ ہے فائز کے میں نے کبھی تم میں یا مظہر میں کوئی فرق نہیں کیا۔۔۔ مظہر میرا بیٹا ہے تو تمہیں بھی میں نے کبھی بیٹے سے کم نہیں سمجھا۔۔۔

ماموں۔۔۔۔۔

ماموں کی آواز میں نمی کی آمیزش محسوس کرتے وہ تڑپ کر اپنی جگہ سے اٹھتا انکے سامنے دوزانوں بیٹھا۔۔۔

کیسی باتیں کر رہے ہیں آپ۔۔۔ کیا مجھ سے بہتر بھی یہ بات کوئی شخص جان سکتا ہے۔۔۔ جسکا وجود ہی آپ کے دم سے ہے۔۔۔ کون تھا میں ۔۔۔۔ زمانے کی ٹھوکروں کی زد پر پڑا ایک یتیم بچہ۔۔۔

آج میں جو بھی ہوں وہ اللہ کے کرم اور اپنی ماں کی بے لوث دعاوں کے بعد آپ ہی کی بدولت ہوں۔۔۔ آپکی میری نظر میں کیا اہمیت ہے یہ کوئی مجھ سے پوچھے۔۔۔ انکے جذباتی ہونے پر فائز لجاہت سے گویا ہوا۔۔۔لہجے میں عاجزی تھی۔۔۔۔

ماموں جان کئ لمحوں تک چپ چاپ اسے دیکھتے رہے۔۔۔ تم بالکل اپنی ماں پر ہو فائز۔۔۔ مجھے تم میں اسکی جھلک نظر آتی ہے۔۔۔ ماموں نے نم آنکھ کا کونا صاف کیا۔۔۔

کیا ماموں یار۔۔۔ اب آپ مجھے بھی ایموشنل کرین گے۔۔۔ وہ ماحول کو ہلکا پھلکا کرنے کی غرض سے سر جھٹک کر اداس سا مسکرایا۔۔۔

فائز اگر تم سے کچھ مانگوں تو دو گئے کیا۔۔۔ خود غرض تو نہیں سمجھو گئے۔۔۔ نم آنکھوں سے مسکراتے وہ سنجیدہ ہوئے۔۔۔۔آپ کے لئے جان بھی حاضر ہے ماموں جان۔۔۔ مانگ کر تو دیکھیں۔۔۔ وہ ایک ادا سے کہتا اٹھ کر واپس اپنی نشست پر بیٹھا۔۔۔

دیکھو فائز بیٹا ایک پل کو بھی یہ نا سمجھنا کے میں تم سے اپنے احسانوں کے بدلے میں یہ مانگ رہا ہوں۔۔۔ کیونکہ وہ سب احسان نہیں تھا۔۔۔ حق تھا تمہارا۔۔۔ تم میری عزیز از جان بہن کے بیٹے ہو۔۔۔ اور تمہیں میں نے اپنا بیٹا سمجھ کر پالا ہے۔۔۔

فائز شش و پنج میں مبتلا ماموں کی باتوں کا مفہوم سمجھنے کی کوشیش کر رہا تھا۔۔۔ بھلا یہ اتنی لمبی تمہید کس لئے تھے۔۔۔ 

اسے ایک باپ کی التجا سمجھ لو بیٹا۔۔۔

ماموں بات کیا ہے۔۔۔ اب آپ مجھے ڈرا رہے ہیں۔۔۔۔ وہ سرعت سے نافہم انداز میں گویا ہوا۔۔۔

فائز۔۔۔ وہ اسے دیکھتے کچھ توقف کو رکے۔۔۔ فائز سانس تک روکے انہیں دیکھنے لگا۔۔ 

ماہرہ سے شادی کر لو۔۔۔

فائز دھک سے رہ گیا۔۔۔ زبان جیسے گنگ ہو گئ ہو۔۔۔ وہ یک ٹک بیٹھا انہیں دیکھتا رہا پھر خاموشی سے نگاہیں جھکا گیا۔۔۔

خاموشی کا ایک دورانیہ دونوں کے بیچ رینگ گیا۔۔۔ گویا کہنے کو کچھ بچا ہی نا ہو۔۔۔

ماموں جان۔۔۔ پھر ہمت مجتمع کر کے فائز نے گلہ کنگارا۔۔

آپکا ہر حکم سر آنکھوں پر۔۔۔ لیکن۔۔۔۔ رک رک کر کہتا وہ جیسے منتشر ہو چکے الفاظ جمع کر رہا تھا۔۔۔ لیکن میں خود کو ماہرہ کے قابل نہیں سمجھتا۔۔۔

اسنے چہرے پر ہاتھ پھیرتے وہی ہاتھ بالوں پر پھیرے۔۔۔ اندر سے وہ بے طرح خلفشار کا شکار ہوا تھا۔۔۔ وہ ماموں کو سیدھی طرح سے یہ نا کہہ سکا کہ اسے اپنی عزت نفس سب سے بڑھ کر عزیز ہے۔۔۔

لیکن مجھے میری نازو پلی بیٹی کے لئے ہمسفر کے روپ میں تم سے بڑھ کر قابل کوئی اور نہیں لگتا۔۔۔

ماموں نے ایک ہی بار میں اپنی دلیل میں جمع کئے اسکے سبھی الفاظ چھین لئے۔۔۔۔

وہ کہنیاں گھٹنوں پر رکھے انگلیاں باہم ہھنسائے خاموشی و سنجیدگی سے زمین پر موجود کسی نادیدہ چیز کو تلاش کر رہا تھا۔۔۔

دماغ سائیں سائیں کر رہا تھا۔۔۔ سوچیں منتشر ہو گئ تھیں۔۔۔ ماموں جان اسے یہاں اپنے گھر بلا کر یہ بات کہیں گے یہ تو اسکے گمان میں بھی نا تھا۔۔۔  یہ کسی شاک سے کم نا تھا۔۔۔

وہ فائز علوی جو بحث و مباحثہ میں ایسی ایسی دلیلیں پیش کرتا تھا کے سامنے والے کو لاجواب کر  دیتا ۔۔۔ اب خود لاجواب ہوا بیٹھا تھا۔۔۔

ماموں جان۔۔۔ مامی اس رشتے کے لئے کبھی نہیں رضی ہونگی۔۔۔ وہ شش و پنج میں مبتلا دھیمی آواز میں گویا ہوا۔۔۔

وہ میرا مسلہ ہے فائز۔۔۔ صاعمہ تمہارا درد سر نہیں۔۔۔۔ ماموں کا انداز حتمی تھا۔۔۔

ٹھیک ہے ماموں جان ۔۔۔ جیسے آپکو مناسب لگے۔۔۔ کہنے کو مزید کچھ بچا ہی نا تھا۔۔۔ اور جو کہا تھا وہ اسنے جس بھاری دل سے کہا تھا وہ بھی وہی جانتا تھا۔۔۔

مامی کا ردعمل یقیناً بہت شدید ہونے والا تھا۔۔۔ وہ گہرا سانس بھر کر رہ گیا۔۔۔۔

ماموں کے چہرے پر اسکی اس بات سے رونق چھا گئ۔۔۔ وہ صاعمہ بیگم کی نفرت کے پیچھے بیٹی کی زندگی کی رمق سے عاری ہوتیں نگاہیں نہیں دیکھ سکتے تھے۔۔ 

*****

مامی ابھی کچھ دیر پہلے ہی گھر واپس گئ تھیں ۔۔۔ کل دوپہر سے وہی ماہرہ کے پاس تھیں اسی لئے ابھی کچھ دیر پہلے اظہر صاحب کے کہنے پر وہ کچھ دیر آرام کرنے کی غرض سے گھر گئیں تھیں۔۔۔ دراصل اظہر صاحب سب کچھ انکی غیر موجودگی میں ہی کرنا چاہتے تھے۔۔۔ وہ قطعاً بھی اس خوشی کے موقع پر کوئی بدمزگی نہیں چاہتے تھے۔۔۔

انکے جاتے ہی وہ ہسپتال کے کمرے میں ماہرہ کے پاس آئے جو پیشنٹ بیڈ پر سہارے سے بیٹھی تھی۔۔۔ وہ اس وقت ہسپتال کے ہی گاوں میں ملبوس تھی۔۔۔ بال ڈھیلی سی پونی میں مقید تھے جبکہ شفاف چہرا اس وقت زردی مائل تھا۔۔۔گلے میں نیک کارلر لگا تھا۔۔۔۔ اب وہ پہلے سے کافی بہتر تھی۔۔۔ پہلے جو وہ گردن تک ہلا نہیں پا رہی تھی۔۔۔ اب سیدھا بیٹھ جاتی تھی۔۔۔ گردن حرکت نہیں کرتی تھی جبکہ اسے ادھر ادھر دیکھنے کے لئے پوری سائیڈ ہی گھمانی پڑتی۔۔۔۔

فائز جو اس روز کا گیا تھا اسنے مڑ کر دوبارہ دیکھا تک نا تھا۔۔۔ ماں کا ناروا سلوک اور فائز علوی کا پلٹ کر دیکھنا تک نا اسکے دل کا روگ بن چکا تھا کع اندر ہی اندر اسے دیمک کی طرح کھا رہا تھا۔۔۔

دفعتاً بابا کو اندر آتے دیکھ وہ پھیکا سا مسکرائی۔۔۔

ماہرہ بیٹا ابھی کچھ دیر میں تمہارا نکاح ہے تو ذہنی طور پر تیار رہنا۔۔۔ اظہر صاحب نے اسکے پاس بیٹھ کر اسکے سر پر ہاتھ پھیرتے محبت سے کہا۔۔۔

وہ چونک کر انکی جانب زرا سا گھومی۔۔۔ چہرے پر بے یقینی کے تاثرات تھے۔۔۔

بابا۔۔۔ یہ آپ۔۔۔ کیا کہہ رہے ہیں۔۔۔ نکاح یوں ہسپتال میں۔۔۔  اور ایسے کیسے۔۔ حواس باختگی و بے چینی اسکے انگ انگ سے پھوٹنے لگی تھی۔۔

وہ کیسے بھلا کسی سے شادی کر سکتی تھی۔۔۔۔۔ اسنے تو خود سے عہد کیا تھا کے فائز نہیں تو کوئی بھی نہیں۔۔۔ وہ اپنی زندگی میں فائز کی جگہ کسی کو نہیں دے گی۔۔۔ وہ کیسے شادی کر سکتی تھی بھلا۔۔۔ وہ بھی یوں اچانک۔۔۔

اسکا دل بھر آیا جبکہ وہ ضبط کے کڑے مراحل سے گزرتی خشک بے بس آنکھوں سے باپ کو تکنے لگی۔۔۔

بیٹا کیا تمہاری ماں تمہیں مجھ سے زیادہ محبت کرتی ہے جو تم نے اپنے دل کی بات ماں کو بتائی مجھے نہیں۔۔۔ کیا تمہیں باپ کی محبت پر شک تھا۔۔۔ وہ دکھ سے گویا ہوئے۔۔۔

جبکہ ماہرہ حق دق سے انہیں دیکھنے لگی۔۔۔ تو کیا وہ سب جانتے ہیں۔۔۔ دل ایک مرتبہ زور سے ڈھرکا۔۔۔

ضبط سے روکے آنسو بہہ نکلے۔۔۔

تمہارا کچھ ہی دیر میں فائز سے نکاح ہے۔۔۔۔ باپ کے کہنے پر وہ حیرت کی اتھاہ گہرائیوں میں ڈوبی انہیں دیکھنے کے بعد ضبط کھوتی رو دی۔۔۔

وہ مجھے پسند نہیں کرتا بابا۔۔۔ اور نا ہی مام اسے۔۔۔ بے بسی سے دل کی بات وہ زبان پر لے ہی آئی۔۔۔

اپنی ماں کو تم چھوڑ دو۔۔۔ اور رہ گئ بات فائز کی۔۔۔ جس قدر سلجھی طبیعت اور اچھے اخلاق کا وہ مالک ہے ۔۔۔ وہ کسی کو ناپسند کر ہی نہیں سکتا۔۔۔۔

بابا نے اسکے بال سہلائے۔۔۔ 

کیا وہ راضی ہے۔۔۔ دل میں پنپتے خدشات کے تحت وہ ہوچھ بیٹھی۔۔۔ بابا سر ہاں میں ہلا گئے۔۔۔ 

یہ بھلا کیسے ہوا تھا۔۔۔ وہ اس نکاح کے لئے بھلا مان کیسے گیا۔۔۔

اور مام۔۔۔۔ اگلا خدشہ لبوں پر آیا۔۔۔ وہ ابھی گھر گئ ہے۔۔۔ اور ہر چیز سے لاعلم ہے۔۔۔ اور فلحال اسکا لاعلم رہنا ہی بہتر ہے۔۔۔ نکاح کے بعد اسے بتا دیں گے۔۔۔ بابا کی بات پر وہ خاموش ہوگئ۔۔۔

دل اس وقت کوئی بھی خوشی محسوس کرنے سے عاری تھا۔۔۔ دل میں سو طرح کے خدشات پنپ رہے تھے۔۔۔

فائز کی  دل چھلنی کرتیں باتیں یاد آئیں تو انا نے بلبلا کر سر اٹھایا۔۔۔

کوئی وقار اور نسوانیت جیسی  بھی چیزیں ہوتی ہیں ماہرہ جس پر لڑکیاں جان تر قربان کر دیتی ہیں۔۔۔ تمہارے معاملے میں وہ سب کہاں گیا۔۔۔ کچھ تو وقار تم بھی دکھاو۔۔

انا نے شدت سے احتجاج بلند کیا۔۔۔ نہیں وہ یہ شادی نہیں کر سکتی۔۔۔ اتنی ہتک اور ذلت کے بعد تو قطعاً نہیں۔۔۔ وہ دل کی دہواروں سے سر پٹخنے لگی۔۔۔

لیکن جلد ہی دل فتحیاب ٹھہرتا انا کو کچل گیا۔۔ وہ اسی دل کی دیواروں سے سر ٹکراتی فنا ہوگئ۔۔۔۔

ان باتوں کا بدلا لینے کو پوری زندگی پڑی تھی۔۔۔ اگر پیاسے کو اللہ کی حکمت عملی سے پانی مل رہا تھا تو وہ کفران نعمت کیوں کرتی۔۔۔ وہ بھی تب جب وہ ظالم شخص اسکے روم روم میں بستا تھا۔۔۔

وہ باپ کے فیصلے کے آگے سر تسلیم خم کر گئ۔۔۔

بابا نے باہر سے ایک پیکٹ منگوا کر اسکے سر پر سرخ چنری اوڑھائی ۔۔۔ اور پھر کچھ ہی دیر میں وہ نکاح خواں اور گواہاں کی موجودگی میں ماہرہ اظہر سے ماہرہ فائز علوی بن گئ۔۔۔

نکاح کے گواہاں میں فائز کی جانب سے اسکے دوست شامل تھے جبکہ اظہر صاحب نے عین نکاح کے موقع پر مظہر کو ویڈیو کال پر لے کر اسے بھی بہن کے نکاح میں شامل کیا تھا۔۔۔ عین موقع پر حالات کا علم ہوتے وہ تلملا کر رہ گیا ۔۔ نکاح کے بعد اظہر صاحب پرسکون ہو گئے تھے۔۔۔

******

نکاح ہوئے کافی دیر ہوگئ تھی۔۔۔ نکاح خوان اور باقی سب نکاح ہوتے ہی کمرے سے جا چکے تھے۔۔۔ ماہرا ہنوز ویسے ہی بستر پر تکیوں کے سہارے بیٹھی تھی۔۔۔ سر پر اوڑھی سرخ چنری پھسل کر کندھوں پر آ گئ تھی جبکہ چہرے پر موجود کچھ دیر پہلے والی پزمردگی کا کہیں نام و نشان بھی نا تھا۔۔۔

اندر کا موسم خوشگوار تھا تو ہونٹوں پر بھی خوبصورت مسکراہٹ کھل اٹھی تھی۔۔۔ 

دل الگ ہی لے پر ڈھرکنے لگا تھا۔۔۔ محبت پا لینے کی خوشی ہی اور تھی۔۔۔ دل سے سبھی خدشات مٹ چکے تھے۔۔۔ وہ اس شخص کے نکاح میں آچکی تھی جسے اسنے ہوش سمبھالتے ہی پورے دل سے چاہا تھا۔۔۔

دفعتاً دروازہ چڑچڑانے کی آواز پر وہ دروازے کی جانب متوجہ ہوئی جہاں سے وہ ستم گر اندر داخل ہو رہا تھا۔۔۔

سفید کرتا شلوار میں ملبوس جسکی آستینیں کہنیوں تک چڑھا رکھی تھیں۔۔۔ بال اچھے سے سیٹ کر رکھے تھے ۔۔۔ ماہرہ اسے یک ٹک دیکھے گئ۔۔۔ دل الگ ہی لے ہر ڈھرکنے لگا تھا۔۔۔

قدم قدم چلتا وہ اسکے قریب آ کھڑا ہوا۔۔۔

کیسی ہو ماہرہ۔۔۔ کرسی گھسیٹ کر بیٹھتا وہ سادہ سے انداز میں مستفسر ہوا۔۔۔

کیسا ہو سکتا ہے وہ انسان جسے ہفت اقلیم کی دولت مل گئ ہو۔۔۔ ماہرا  مبہم انداز میں اسے دیکھتی سوالیہ گویا ہوئی۔۔۔حالانکہ اسے فائز کو دیکھنے کے لئے دقت ہو رہی تھی۔۔۔۔

پتہ نہیں ۔۔۔۔ مجھے کبھی  ہفت اقلیم کی دولت نہیں ملی۔۔۔ فائز نے اسکی فائل چیک کرتے دانستہ پہلو تہی کرتے شانے اچکائے۔۔۔۔

ماہرہ ہس دی۔۔۔  ماہرہ گردن کو گھماو مت تمہیں تکلیف ہو گئ۔۔۔ ماہرہ کی جانب جو اسکی نظر اٹھی تو اسے ترچھی نگاہوں اور گردن سے خود کو تکتا پا وہ بے ساختہ ٹوک گیا۔۔۔

مجھے لیٹنا ہے فائز۔  میں تھک گئ۔۔۔ وہ گہرا سانس خارج کرتی تکیوں پر آہستگی سے سر ٹکا گئ۔۔۔۔

فائز سرعت سے اپنی جگہ سے اٹھا اور  اس کی جانب جھکتے ایک ہاتھ سے اسکی کمر کو سہارا دیا اور پیچھے سے تکیے نکالنے لگا۔۔۔۔۔

وہ سنجیدگی سے اپنے کام میں مصروف تھا جبکہ ماہرہ بے خودی کے عالم میں اسکا اپنے اسقدر قریب چہرا دیکھتی اسکے ایک ایک نقش کو آنکھوں کے ذریعے سے دل میں اتارنے لگی۔۔۔ بلاشبہ وہ مردانہ وجاہت کا منہ بولتا ثبوت تھا۔۔۔۔

دید کی پیاس بجھ ہی نا رہی تھی۔۔۔ دفعتاً اسنے ایک تکیے پر اسے آرام سے لٹاتے بیڈ سائیڈ ہینڈل سے گھماتے آہستہ آہستہ نیچے کرنا شروع کیا۔۔۔

یوں کے اب بیڈ سر کی جانب سے کچھ اونچائی پر تھا کے وہ سکون سے نیم دراز تھی۔۔۔

فائز آئی لو یو۔۔۔۔ 

اس سے پہلے کے وہ سیدھا ہوتا ماہرہ کے بے خودی میں کہے گئے الفاظ اسے ساکت کر گے۔۔۔ دونوں کی نگاہیں ایک دوسرے سے ٹکرائیں اور گویا وقت وہیں تھم گیا۔۔۔

کچھ لمحے سرکے تو فائز نگاہیں چراتا سیدھا ہوا۔۔۔

آرام کرو ماہرہ۔۔۔ تمہیں آرام کی ضرورت ہے۔۔۔

وہ تو صدا کی بے باک تھی۔۔۔ بے باک تھی یا فائز کے کچھ زیادہ ہی قریب تھی جو ہر بات بے ڈھرک بول جاتی۔۔۔ اور ایسا پہلی مرتبہ تو نا ہوا تھا۔۔۔ اپنے جذبات کا اظہار تو وہ پہلے بھی کرتی آئی تھی اور برملا کرتی تھی۔۔۔

لیکن۔۔  اب۔۔۔۔ اب شاید رشتہ بدل گیا تھا۔۔۔ اسکے لہجے میں استحقاق تھا۔۔۔

کہاں جا رہے ہو۔۔۔ اس سے پہلے کے وہ پلٹ کر دروازے کی جانب بڑھتا ماہرا اسکا ہاتھ تھام گئ۔۔۔

میں نے تو سنا ہے کے فائز علوی بہت غیرت مند ہے۔۔۔۔ فائز کی اسکی جانب پشت تھی اس لئے وہ اسکے تاثرات نہیں دیکھ پائی۔۔ جبکہ فائز سانس تک روک گیا۔۔۔ ناجانے وہ اب کیا کہنے والی تھی۔۔۔ شاید اسی کی کہی باتوں کا جواب یا طنز۔۔۔ وہ لب بھینچے اسکے مزید بولنے کا منتظر تھا۔۔۔

تو کیا تمہیں نہیں پتہ کے نکاح کے بعد اپنی بیوی کو نکاح کا تحفہ بھی دیا جاتا ہے۔۔۔

تمہارے معاملے میں وہ غیرت کہاں گی فائز علوی۔۔۔ کچھ تو غیرت تم بھی دکھاو۔۔۔ دو میرے نکاح کا تحفہ۔۔۔

اسکا ہاتھ تھامے سنجیدگی سے کہتی وہ اسے اسی کی کہی بہت سی باتوں کا حوالہ دے گئ۔۔۔

ہلکی سی مسکراہٹ فائز علوی کے ہونٹوں کو چھو گئ۔۔۔ اسے ماہرہ فائز علوی کے بدلے کا یہ انداز بھی بہت بھایا تھا۔۔۔ اور شرمندہ تو وہ خود بھی اپنی کہی ان سخت باتوں پر بہت تھا۔۔۔ لیکن ان سب کو کلیئر کرنے کا نا تو ابھی صحیح وقت تھا نا موقع۔۔۔۔

سوری۔۔ میں بھول گیا۔۔۔۔

وہ ماتھے پر انگلی رگڑتا پلٹا۔۔۔۔

ارے واہ۔۔۔ فائز علوی جیسا ذہین فطین شخص جو آج تک کبھی موقع کی نزاکت کے مطابق چھوٹی سے چھوٹی چیز نہیں بھولا۔۔۔ وہ آج اپنی زندگی کے اتنے اہم موقع پر ۔۔۔ اتنا اہم کام بھول گیا۔۔۔ سٹرینج۔۔۔۔ 

فائز علوی۔۔۔۔ کہیں یہ مجبوری کا سودا تو نہیں۔۔۔ 

وہ ناچاہتے ہوئے بھی تلخ ہوگئ۔۔۔

ایسی کوئی بات نہیں ماہرہ۔۔۔۔ یہ تحفہ پینڈنگ رہا۔۔۔ میں اگلی دفعہ۔۔۔

کوئی ضرورت نہیں اب اسکی۔۔۔ جب تمہیں خود احساس نہیں تو میں منگتی نہیں۔۔۔ مانگ کر مجھے کچھ نہیں چاہیے۔۔۔ وہ نڑوتھے پن سے گویا ہوئی جبکہ ہنوز فائز کا ہاتھ تھام رکھا تھا۔۔۔

فائز نے ایک نظر اسکے ہاتھ میں تھامے اپنے ہاتھ کو دیکھا۔۔۔ جسے شاید وہ چھوڑنے کا ارادہ نہیں رکھتی تھی۔۔۔ اور خود سے وہ اپنا ہاتھ کھینچنا وہ چاہتا نہیں تھا۔۔۔

دفعتاً ایک دھار سے دروازہ کھلا کے دونوں ہی چونک کر دروازے کی جانب متوجہ ہوئے۔۔۔۔ ہاتھ خودبخود ماہرہ کے ہاتھ سے چھوٹ گیا۔۔۔

دروازے سے غصے سے لال بھبھوکا چہرا لئے مامی جارحانہ انداز میں فائز علوی کی جانب لپکی۔۔۔۔

غالبا مظہر ماں کو فون کر کے سب بتا چکا تھا۔۔۔ اور یہ ہی وہ پل تھا جو فائز کو خوش ہونے نہیں دیتا تھا۔۔۔ وہ اسی ایک پل سے بچنا چاہتا تھا۔۔۔

*******

No comments

Powered by Blogger.
4