Roshan Sitara novel 20th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Roshan Sitara novel 20th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Roshan Sitara is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels
Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front
of the world and improve their abilities in that field.
Roshan Sitara Novel by Umme Hania | Roshan Sitara novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Roshan Sitara novel by Umme Hania Complete PDF download
Online Reading
ناول "روشن ستارا"۔
مصنفہ "ام ہانیہ"۔
Official pg : Umme Hania official
بیسویں قسط۔۔۔
مرتسم لودھی فاہا کا موبائل تھامے کھڑا تھا جبکہ وہ خوف سے سپید پڑتی کسی بھی پل گر جانے کے در پر تھی۔۔۔ وہ ناجانے کسی جن کی مانند کب وہاں آیا تھا یا اپنے خوف کے تحت فاہا اسکی موجودگی محسوس ہی نا کر پائی تھی۔۔۔ بحرحال مرتسم نے بھی معاملے کی تہہ تک پہنچنے کی خاطر فاہا کی دکھتی رگ ہی دبا ڈالی تھی۔۔۔ شاید وہ بھی جان چکا تھا کے فاہا اتنی آسانی سے اس سے کچھ بھی شیئر نہیں کرے گی۔۔۔
مرتسم کے ماتھے کی شکنیں کچھ گہری ہوئیں۔۔۔ موبائل پر ابھرتا نمبر اسے کچھ شناسا لگا۔۔۔
چیٹ کھولتے اسنے وہیں کھڑے کھڑے چیٹ پڑھنا شروع کی۔۔۔
جیسے جیسے وہ چیٹ پڑھتا جا رہا تھا اسکے چہرے کی رنگت تغیر ہونا شروع ہو گئ تھی۔۔۔ شاید یہ سب اسکے گمان سے ہی پڑے تھا۔۔۔۔۔۔ دیکھتے ہی دیکھتے اسکے جبڑے بھینچ گئے۔۔۔ نگاہوں سے شعلے لپکنے لگے جبکہ گردن اور ماتھے کی رگیں تک ابھر کر واضح ہونے لگیں جو اسکے واضح اشتعال میں ہونے کی نشانی تھیں۔۔۔ ۔مرتسم کی نگاہیں ہنوز سکرین پر تھیں جبکہ موبائل پر گرفت مزید مضبوط ہو چکی تھی وہ اندرونی خلفشار کے باعث مسلسل انگوٹھے کی مدد سے موبائل سکرول ڈاون کر رہا تھا۔۔۔
وہ زبیر لغاری سے اسقدر گھٹیا پن کی توقع نہیں رکھتا تھا۔۔۔ اندر کہیں بھانبھر سے جلنے لگے تھے۔۔۔
جبکہ اسکے چہرے کے ہر بدلتے رنگ اور کھنچتے اعضلات سے فاہا خود کو بے دم ہوتا محسوس کر رہی تھی۔۔۔ جتنا وہ جذباتی اور غصیلا تھا اور جس طرح کی اخلاق سوز بکواس زبیر لغاری نے فاہا سے کی تھی وہ سب پڑھ کر ناجانے وہ کیا قیامت بھرپا کرتا۔۔۔۔
فاہا کپکپاتے ہاتھوں سے سائیڈ ٹیبل کا سہارا لیتی وہیں بیڈ کے کنارے ٹک گئ۔۔۔۔ کیوں اب کپکپاتی ٹانگیں وجود کا بوجھ اٹھانے سے انکاری ہونے لگیں تھیں۔۔۔
کب سے چل ریا ہے یہ سب۔۔۔ سرخ انگارہ نگاہیں موبائل کی سکرین سے اٹھاتا وہ فاہا کی نم ہراساں آنکھوں میں گاڑتا سرد آواز میں گویا ہوا۔۔
فاہا نم آنکھوں سے اسے دیکھتی کپکپاتے لب بھینچ گئ۔۔۔
کیا پوچھ رہا ہوں میں۔۔۔ فاہا کو ہنوز خاموش پا کر وہ غصے سے بپھرا۔۔۔۔۔
سسکی بھرتی وہ رو دی۔۔۔۔ مرتسم خونخوار ہوتا اسکی جانب بڑھا اور ایک ہی جھٹکے میں اسکی نازک بازو اپنے آہنی شکنجے میں جھکڑتے اسے اپنے مقابل لا کھڑا کیا۔۔۔ یوں کے وہ لرکھڑاتی ہوتی اسی سے جا ٹکرائئ۔۔۔
بامشکل کپکپاتا ہاتھ مرتسم کے سینے پر رکھ کر وہ فاصلہ قائم کرتی زرا سمبھلی۔۔۔ شدت سے دل چاہا کے کاش اسے کوئی منتر آتا ہو جسے پڑھ کر وہ مرتسم لودھی کی شرر بار نگاہوں سے کہیں چھپ جائے۔۔۔
میری بات کان کھول کر سن لو فاہا لودھی۔۔۔۔ اب بھی اگر تم نے اپنی زبان بند رکھی نا ۔۔۔ تو خدا کی قسم یہیں سے گھسیٹتا ہوا لے کر جاوں گا اور سیدھا حویلی پہنچ کر ہی رکوں گا۔۔۔ پھر جو ہو گا جیسے ہوگا وہ چچا جان کی موجودگی میں انہیں کے سامنے ہوگا۔۔۔۔ انہیں بھی تو پتہ چلیں نہ لاڈلی کی کرتوتیں۔۔۔
شرر بار نگاہوں سے اسے گھورتے انگشت اٹھا کر وارن کرتے مرتسم نے اسکی بازو کو جھٹکا دیا۔۔۔۔
مرتسم کی آہنی گرفت میں وہ کسی نازک گڑی کی مانند جھٹکا کھا کر رہ گئ۔۔۔
نن۔۔۔۔ نہیں۔۔۔۔ نہیں۔۔۔ آپ ایسا نہیں کر سکتے۔۔۔
پے در پے کئ آنسو لڑیوں کی مانند ٹوٹ کر مومی گال پر پھسلتے چلے گئے۔۔۔۔ خوفزدہ نم آنکھیں۔۔۔
آنسووں سے تر چہرا اور کپکپاتے لب۔۔۔ مرتسم کو اسکی اسقدر ٹوٹی بکھری حالت دیکھ کر ترس کیساتھ ساتھ مزید اس پر غصہ آنے لگا۔۔ ۔۔
میں ایسا ہی کروں گا فاہا۔۔۔
Don't underestimate me...
مرتسم لودھی محض باتیں نہیں کرتا ۔۔۔ وہ ہر حد سے گزر جانے کا حوصلہ رکھتا ہے۔۔۔ اور تم مجھے باخوبی جانتی ہو۔۔
سختی سے کہتے اسکا انداز قطعی تھا۔۔۔
فاہا کو اسکے انداز ڈرا رہے تھے۔۔۔
وہ چہرا ہاتھوں میں چھپاتی پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔۔
وہ اور مرد ہونگے جو عورت کے آنسووں سے پگھلتے ہونگے۔۔۔ مجھے اس وقت تمہارے بے وقت کے آنسو سوائے تپ چڑھانے کے اور کچھ نہیں کر رہے۔۔۔ وہ ہاتھ پشت پر باندھتا بے تاثر نگاہوں سے اسے دیکھتا سنجیدہ ہوا۔۔۔۔
میں نے کچھ نہیں کیا مرتسم۔۔۔ میں بے قصور ہوں۔۔۔ اس سب میں میں شامل نہیں۔۔۔ میں نے سچ میں کچھ نہیں کیا۔۔۔ چہرے سے ہاتھ اٹھاتی وہ بولائے سے انداز میں صفائی دیتی مرتسم کا دل نرم کر گئ۔۔۔ اسنے بے ساختہ لبوں پر زبان پھیرتے نظریں چرائیں۔۔۔
سب سے پہلے رونا بند کرو۔۔۔ ماتھے پر انگلی پھیرتا وہ نرم لہجے میں گویا ہوا۔۔۔
اسکے نرمی سے کہنے پر فاہا نے جھٹ سے بچوں کی مانند ہاتھ کی پشت اور آستینوں سے آنسو رگڑے۔۔۔
چہرا اس ستم ظریفی پر سرخی چھلکانے لگا۔۔۔
جاو اب چہرا دھو کر آو۔۔۔ نظروں کا رخ موڑے ہی وہ گویا ہوا۔۔۔
فاہا کو اور کیا چاہیے تھا وہ تو خود اس وقت اس فرشتے کی آنکھوں سے اوجھل ہو جانا چاہتی تھی جو عزرائیل بن کر اس پر نازل ہوا تھا اور کسی بھی پل اسکی جان قبض کر لینے کے در پر تھا۔۔۔
واش روم میں آتے ہی وہ واش بیسن کا نل کھولتی اسے دونوں ہاتھوں سے تھام کر اس پر جھکتی سسک اٹھی۔۔۔ اسے اس وقت سب سے زیادہ ڈر مرتسم سے ہی لگ رہا تھا۔۔۔
آنسو رگڑ کر صاف کر کے اسنے شیشے میں اپنا چہرا دیکھا ۔۔۔ وہ خود کو خود ہی کافی قابل رحم لگی۔۔۔
نل سے بہتی پانی کی ڈھار کے آگے ہاتھ کر کے اسنے چہرے پر پانی کے چھپاکے مارے۔۔۔۔
کچھ ہی دیر میں وہ چہرا تولیے سے خشک کرتی آنچل سر پر ٹھیک سے اوڑھتی باہر آئی۔۔۔ اب وہ پہلے سے کافی بہتر تھی۔۔۔۔
مرتسم سامنے صوفے پر ٹانگ پر ٹانگ جمائے بیٹھا تھا۔۔۔ مل پر تیوریاں تھیں جبکہ غصیلی نگاہیں ہاتھ میں تھامے فاہا کے موبائل پر جمی تھی جہاں بار بار میسج ٹیوں بج رہی تھی۔۔۔
غالباً زبیر لغاری ابھی تک ہے در پے میسجز کر رہا تھا جنہیں مرتسم لودھی ساتھ کے ساتھ پڑھ رہا تھا۔۔۔
فاہا کا دل کپکپا کر رہ گیا۔۔۔ ناجانے اب وہ کیا فضولیات بک رہا تھا۔۔۔۔۔ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی وہ بیڈ کی پائنتی پر آ کر بیٹھتی۔۔۔
اب مرتسم لودھی کی انگلیاں بھی موبائل کے ٹچ پیڈ پر تیزی سے چل رہی تھیں۔۔۔ یقیناً وہ فاہا بن کر زبیر سے بات کر رہا تھا۔۔۔۔مگر کیا۔۔۔۔۔ فاہا کا دل مزید ڈوبنے لگا ۔۔۔
دفعتاً مرتسم کے ہاتھ میں تھامے موبائل پر زبیر لغاری کی کال آنے لگی۔۔۔ فاہا نے جھٹکے سے سر اٹھاتے پہلے مرتسم کے ہاتھ میں تھامے موبائل اور پھر مرتسم کو دیکھا۔۔۔۔ آنکھیں سرعت سے گیلی ہونے لگیں۔۔۔
خبردار۔۔۔ خبردار جو ایک مزید آنسو تم نے بہایا تو مجھ سے برا کوئی نہیں۔۔۔ زندگی میں محض اب آنسو بہانا ہی رہ گیا ۔۔۔۔ مرتسم چڑ کر ڈھارا کہ فاہا آنسو تو کیا سانس تک روک گئ۔۔۔۔۔
فون اٹھاو۔۔۔ اسنے تحکم سے مسلسل بجتا موبائل فاہا کی جانب بڑھایا۔۔۔ ۔وہ حیرت سے پھٹ پڑتی نگاہوں سے مرتسم کو دیکھنے لگی۔۔۔ یہ بھلا اسے کیا ہوا تھا۔۔۔
فون اٹھاو فاہا۔۔۔ اور بات کرو اس سے۔۔ اسے رتی برابر بھی شک نہیں ہونا چاہیے کے تمہارے پاس تمہارے علاوہ کوئی اور یا پھر میں ہوں۔۔ بات کرو۔۔۔
فاہا کو ٹس سے مس نا ہوتا دیکھ وہ سختی سے گویا ہوا اور گھٹنوں پر کہنیاں رکھے آگے کو جھکتا فون کال اٹھا کر فون کا سپیکر آن کر کے فون فاہا کی جانب بڑھایا۔۔۔
فون سے زبیر لغاری کی ابھرتی آواز سن کر فاہا کو اپنا آپ بے دم ہوتا محسوس ہوا۔۔۔ اسنے کپکپاتے ہاتھوں سے مرتسم کے ہاتھ سے فون اٹھایا.
ہہ۔۔ ہیلو۔۔۔۔ اسنے ہکلاتی آواز میں کہتے ایک چور نگاہ مرتسم پر ڈالی جو اب صوفے کی ہتھی پر بازو ٹکائے ہاتھ کی گول مٹھی ہونٹوں پر جمائے غور سے اسے سن رہا تھا جبکہ جلا کر بھسم کر دیتی نگاہیں فاہا کے ہاتھ میں تھامے موبائل پر جمی تھیں۔۔۔
زہے نصیب۔۔۔ زہے نصیب۔۔۔ میری گداز چوزی نے اپنی آواز تو سنائی۔۔۔ قسم سے میں تو اتنی میٹھی آواز سن کر ہی سرور میں چلا گیا۔۔۔
فاہا کے تھمے آنسو پھر سے بہہ نکلے وہ بے بسی سے چہرا مزید جھکا گئ۔۔۔ جبکہ مرتسم نے طیش سے مٹھی بھینچی۔۔۔۔
سوچ رہا ہوں کے جب تم میرے پاس۔۔۔
سٹاپ اٹ زبیر لغاری۔۔۔ کیا مسلہ ہے تمہارے ساتھ۔۔۔ کیوں جینے نہیں دے رہے مجھے۔۔۔ زندگی عذاب بنا کر رکھ دی ہے میری۔۔۔ فاہا مرتسم کے سامنے عجیب سبکی و بے بسی محسوس کرتی یکدم اسکی بات کاٹ کر پھٹ پڑی۔۔۔ ناجانے وہ کیا بولنے والا تھا۔۔۔۔۔
وہ قہقہ لگا کر ہس دیا۔۔۔۔
ارے یار ۔۔ یہ کیا۔۔ تم تو رونے لگی ہو۔۔۔ کیوں نہیں یقین کر لیتی تم میرا فاہا۔۔۔ ہستے ہستے یکدم ہی وہ سنجیدہ ہو اٹھا۔۔۔۔
محبت کرتا ہوں تم سے فاہا۔۔۔ جب سے تمہیں دیکھا ہے میری راتوں کی نیند تک اڑ گئ ہے ۔۔۔ ہر سو محض تمہاری ہی شبیہ لہراتی دکھائی دیتی ہے۔۔۔۔ فاہا مرتسم کے سامنے اس طرح کی لفاظی پر پانی پانی ہو رہی تھی۔۔۔
چاہتے کیا ہو تم۔۔۔
ضبط کے کڑے مراحل سے گزرتی وہ چٹخ اٹھی۔۔۔۔
ایک ملاقات۔۔۔ محض ایک ملاقات۔۔۔ زبیر کی بات پر فاہا نے گھبرا کر مرتسم کی جانب دیکھا جو مٹھیاں بھینچے اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا تھا۔۔۔
تم سے ایک مرتبہ مل کر ۔۔۔ تسلی سے بات کرنا چاہتا ہوں۔۔۔ کل صبح دس بچے فوڈ کورٹ میں روم نمبر تین سو پانچ میں میں تمہارا منتظر رہوں گا۔۔۔۔
اور اگر تم نا آئی۔۔۔۔ اپنی بات مکمل کر کے وہ اب دھمکی پر اتر رہا تھا جب فاہا نے غصے سے کچھ کہنے کو منہ کھولنا چاہا۔۔۔
مرتسم نے اسکے قریب ہوتے اسے کل ملنے آنے کا ڈن کرنے کو کہا۔۔۔
فاہا نے روہانسے انداز میں سر نفی میں ہلایا۔۔۔ جبکہ مرتسم نے اسے آنکھوں سے ہاں کہنے پر اکسایا۔۔۔
میں آجاوں گی۔۔۔
لرزتی آواز میں کہتے ہی اسنے فون بند کر کے نیچے کارپٹ پر پھینکا اور سر ہاتھوں میں تھام کر رہ گئ۔۔۔
سر چکرا رہا تھا۔۔۔ ناجانے اسکے ساتھ کیا ہو رہا تھا۔۔ اور مرتسم کے دماغ میں کیا چل رہا تھا۔۔۔
میں ایسی لڑکی نہیں ہوں مرتسم لودھی۔۔۔ نا ہی میں اس سب میں انوالو ہوں۔۔۔۔ وہ گھٹیا شخص مجھے تنگ کر رہا ہے اور آپ نے ۔۔۔ آپ نے مجھ سے اسے ملنے جانے کی ہامی بھروا دی۔۔۔
سر ہاتھوں میں تھامے بہتی آنکھوں سے وہ دبے دبے انداز میں چلائی۔۔۔
جانتا ہوں۔۔۔ باخوبی جانتا ہون کے تم کیسی لڑکی ہو۔۔۔ وہ پنجوں کے بل کارپٹ پر بیٹھا موبائل اٹھانے لگا۔۔
فاہا کو سمجھ نا آیا کے اسنے ایک سادہ سی بات کی تھی یا اس پر طنز کا تیر برسایا تھا۔۔۔
اپنے گھر کی خواتیں کے کردار کے بارے میں میں باخوبی آگاہ ہوں تمہیں صفائی دینے کی ضرورت نہیں۔۔۔ پڑھ چکا ہوں میں ساری یک طرفہ چیٹ۔۔۔ موبائل اٹھا کر وہ اب سیدھا ہو کر صوفے پر ریلیکس انداز میں بیٹھا ایک ٹانگ لمبی کئے اسکا پاوں جھلاتا وہ اب اپنا موبائل نکال کر فاہا کے موبائل سے دیکھ کر کچھ ٹائپ کر رہا تھا۔۔۔
اسکے اسقدر ہلقے پھلکے انداز میں فاہا کو سرخرو کرنے پر وہ حیرت زدہ نگاہوں سے اسے دیکھنے لگی۔۔۔ جو اب موبائل پر بری طرح مصروف تھا۔۔۔ ناجانے وہ کیا کچھڑی پکا رہا تھا۔۔۔
پھر آپ نے مجھے اسے ملاقات کے لئے ہاں بولنے کو کیوں کہا۔۔۔۔ فاہا کا انداز ناسمجھی لئے ہوئے تھا۔۔۔
پچھلے ایک ہفتے سے وہ گھٹیا شخص تمہیں ہراس کر رہا ہے فاہا لودھی۔۔۔ اور تم چپ چاپ سب سہہ رہی تھی۔۔۔
وہ اپنا موبائل جیب میں رکھتا اب فرصت سے اسکی جانب متوجہ ہوا۔۔۔ انداز پر تاسف تھا۔۔۔
اب بھی اسنے تم سے جھوٹ بولا کے وہ ہمارے بیک یارڈ میں ہے اور تم لرزتی کانپتی اس بات کی تصدیق کو نکل پڑی ۔۔۔ اور تو اور میرے پوچھنے اور اسرار کرنے پر بھی منہ سے کچھ نہیں پھوٹی۔۔۔ آخر یہ بات چھپا کر تم نے کونسا گولڈ میڈل جیتنا تھا زرا مجھے بھی بتا دو۔۔۔
اسکی آواز میں طنز کی آمیزش شامل ہوئی تو فاہا شرمندگی سے لب کچلتی سر جھکا گئ۔۔۔
مجھے آپکے غصے سے ڈر لگ رہا تھا۔۔۔ مجھے لگا آپ زبیر سے بھڑ جائیں گے۔۔۔ اور وجہ سب کے سامنے آنے پر میری بہت بدنامی ہوگی۔۔۔۔ اس لئے۔۔۔ اس لئے میں۔۔۔۔
واو۔۔۔ واو۔۔۔ فاہا لودھی۔۔۔ اتنی بہترین اپروچ۔۔۔ اس کے لئے تو تمہیں آسکرا ملنا چاہیے۔۔۔ وہ منمنا کر گویا ہوئی کے مرتسم لودھی داد دینے والے انداز میں تالی بجا کر کہتا سیدھا ہوا۔۔۔
اس وقت وہ اپنی زبان کے چابک خوب خوب آزما رہا تھا جو فاہا کو وہ واقعی چابک کی مانند لگتے پشیمانی کی اتھاہ گہرائیوں میں پھینک رہے تھے۔۔۔
You know that what...
تم جیسی کم ہمت اور بزدل لڑکیاں ہوتی ہیں جو زبیر لغاری جیسے درندوں کو شہہ دیتی ہیں۔۔۔ خاموش رہ کر۔۔۔ سہہ کر۔۔۔ ہراس ہو کر ۔۔ انکی ہمت بڑھاتی ہیں۔۔ سب سے بات چھپا کر آخر میں بے قصور ہوتے ہوئے بھی قصوروار ٹھہرائی جاتی ہیں۔۔۔
مس فاہا لودھی۔۔۔ عورت کی عزت اس شفاف سفید چادر کی مانند ہوتی ہے جس پر اگر غلطی سے بھی کسی گندگی کا چھینتا بھی پڑ جائے نا تو بہت بدنما لگتا ہے۔۔۔ اس چھینٹے کو اگر رگڑ رگڑ کر صاف کرنے کی کوشیش بھی کر لی جائے نا تو بھی وہ اپنی چھاپ چھوڑ ہی جاتا ہے۔۔۔ پھر لوگ یہ نہیں دیکھتے کے غلطی کس کی تھی۔۔۔ لڑکی بے قصور تھی یا اسے ٹریپ کیا گیا۔۔۔
لوگ صرف اس بدنما داغ کو دیکھ کر اپنی اپنی ذہنیت کے مطابق کہانیاں گھڑتے ہیں۔۔۔
اس لئے ایک لڑکی کو اس معاملے میں بہت محتاط رہنا چاہیے۔۔۔
ہراسمنٹ پر ڈر جانا یاخوف سے واک آوٹ کر جانا مقابل کی ہمت بڑھاتا ہے۔۔۔ آپکو اسکی نظر میں تر نوالہ ثابت کرتا ہے جسے وہ کیسے بھی کر کے نگل سکتا ہے۔۔۔
ہراسمنٹ کے خلاف مزاحمت اسی وقت کی جاتی ہے جہاں ہراس کیا جائے۔۔۔ پھر چاہیے وہ یونی ہو آپکا آفس ہو یا کوئی پبلک پلیس۔۔۔
ہراسمنٹ کے خلاف اسی وقت اٹھائی جانے والی آواز مقابل کی ہمت کو وہیں نکیل ڈال دیتی ہے۔۔۔ اور وہ آواز اتنی بلند ضرور ہونی چاہیے کے ارد گرد کے سبھی لوگوں کو متوجہ کر ڈالے۔۔۔
خاموشی آپکو بے بس ثابت کرتی ہے۔۔۔ اسکا دوسرا سٹیپ یہ ہی ہے کے گھر آتے ہی گھر کے سرپرست کو اعتماد میں لیتے ساری بات اسکے گوش گزاری جائے تاکے اسکے انڈر ہر بات ہو اور وہ اسکے بارے میں کوئی حکمت عملی تیار کر سکے۔۔۔
ورنہ تمہارے جیسی دبو قسم کی لڑکیاں بہت نقصان اٹھاتی ہیں۔۔۔
بات مکمل کر کے وہ اٹھا۔۔۔
اور ٹرسٹ می۔۔۔ تم اگر میرے چچا کی بیٹی نا ہوتی نا ۔۔۔ وہ دو قدم اسکی جانب بڑھا۔۔۔ فاہا گھبرا کر اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔۔
تو میں تم جیسی لو کانفیڈینس دبو اور بزدل لڑکی کی جانب پلٹ کر دیکھتا تک نا۔۔۔ وہ سرد لہجے میں کہتا پلٹا اور صوفے سے فاہا کا موبائل اٹھا کر دروازے کی جانب بڑھا۔۔۔فاہا کا دل دھک سے رہ گیا۔۔۔
میرا موبائل۔۔۔ پیچھے سے فاہا منمنائی۔۔۔
یہ کل تک میرے پاس ہی رہے گا۔۔۔ اور تم صبح دس بجے تک تیار رہنا۔۔۔ فوڈ کورٹ تم میرے ساتھ جاو گئ۔۔۔ وہ دروازے میں رکتا بنا پلٹے گویا ہوا۔۔۔
میں وہاں ہرگز ہرگز نہیں جاوں گی۔۔۔ وہ بے بسی سے چٹخی۔۔۔۔
ٹھیک ہے پھر یہ سب کچھ میں چچا جان کو سینڈ کرتا ہوں۔۔۔ اور ہر بات انکے گوش گزار کر انہیں انکی بیٹی کی بہادری و ہمت کی داستان سناتا ہوں۔۔۔ وہ واپس پلٹ کر اسکا موبائل لہراتا چیلنجنگ انداز میں گویا ہوا۔۔۔
نہیں۔۔۔۔ آپ ایسا ہرگز نہیں کریں گے۔۔۔ بے بسی کے احساس تلے اسکی آنکھیں پھر سے نم ہو اٹھیں۔۔۔
تو پھر خاموشی سے وہ کرو ۔۔۔ جو میں کہہ رہا ہوں۔۔۔۔
نہیں نا مرتسم۔۔۔ وہ تڑپ کر اسکی جانب بڑھی۔۔۔
پلیز۔۔۔ پلیز۔۔۔ میں ایسا نہیں کر سکتی۔۔۔ میں وہاں اس گھٹیا انسان سے ملنے نہیں جاوں گی۔۔۔ مجھے بدنامی سے ڈر لگتا ہے۔۔۔ میں بدنام ہو جاوں گی۔۔۔
وہ پریشانی سے اسے قریب آتی مرتسم کے ہاتھ شدت سے تھامتی بے بسی سے اسے دیکھ کر التجائیہ گویا ہوئی۔۔۔
مرتسم نے چونک کر اسکے ہاتھوں میں تھامے اپنے ہاتھوں کو دیکھا اور پھر اسکے آنسوں سے تر چہرے کو۔۔۔ یکدم ہی اسکا دل پسیجا۔۔۔ اس معصوم چہرے پر اسے جی بھر کر ترس آیا
یقین رکھو فاہا لودھی۔۔۔ اپنے گھر کی عزت کے معاملے میں میں تم سے زیادہ کانشیئس ہوں۔۔۔
تم پر یا تمہارے کردار پر حرف تک نہیں آئے گا۔۔۔
اسنے نرمی سے ہاتھ بڑھا کر فاہا کے آنسو صاف کئے۔۔۔ وہ حیرت سے اسے دیکھنے لگی۔۔۔
میرا جانا ضروری ہے کیا۔۔۔ آس سے اسے دیکھتے اسکے لب کپکپا گئے۔۔۔۔
ضروری ہے۔۔۔ وہ نرمی سے گویا ہوا۔۔۔
مرتسم کے ہاتھ تھامے اسکے ہاتھ کپکپا گئے۔۔۔ فاہا سر جھکا کر سسک اٹھی۔۔۔
میرا وعدہ ہے تم سے فاہا۔۔۔ کل کے بعد زبیر لغاری تمہیں تنگ نہیں کرے گا۔۔۔ اسنے نرمی سے فاہا کے بال سہلائے۔۔۔ یہ فاہا کے اندرونی خلفشار اور خوف کے باعث ہی تھا کہ مرتسم لودھی اس سے اسقدر نرمی سے پیش آ رہا تھا۔۔۔
جاو شاباش اور ہر سوچ جھٹک کر سو جاو۔۔۔
صبح میں پل ہل تمہارے ساتھ رہوں گاں۔۔۔ تمہیں فکر کرنے کی بالکل بھی ضرورت نہیں۔۔۔ وہ نرمی سے اسکا سر تھپتھپا کر کمرے سے نکل گیا۔۔۔ جبکہ فاہا بھرائی نگاہوں سے اسکی پشت کو تکتی رہی۔۔۔ ناجانے وہ مرتسم پر اعتبار کر کے ٹھیک کر بھی رہی تھی یا نہیں۔۔۔
اگر اسکا نرم رویہ دل کو ایک آس لگا گیا تھا تو وہیں صبح ایک گھٹیا شخص سے ملنے جانے کا خیال ہی دل دہلا رہا تھا۔۔۔
کہیں کل کچھ غلط نا ہو جائے۔۔۔ اسکا دل خوف کے زیر اثر بے طرح ڈھرک رہا تھا۔۔۔

No comments