Header Ads

Roshan Sitara novel 19th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels


 

Roshan Sitara novel  19th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels 

Roshan Sitara is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels

Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front 

of the world and improve their abilities in that field.

 Roshan Sitara  Novel by Umme Hania | Roshan Sitara  novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Roshan Sitara  novel by Umme Hania Complete PDF download

Online Reading

 ناول "روشن ستارا"۔

  مصنفہ "ام ہانیہ"۔

Official pg : Umme Hania official

انیسویں قسط۔۔۔
فاہا تھوک نگلتی ننگے پاوں چلتی کمرے سے نکلی۔۔۔ دل یوِں تھا جیسے ابھی سینے کی دیواریں پھیلانگ کر باہر آ نکلے گا۔۔۔
کندھے پر پڑا آنچل فرش پر سجدہ ریز ہوا اسکے ساتھ گھسیٹتا جا رہا تھا۔۔۔ جبکہ بال رف سے جوڑے میں مقید تھے۔۔۔
ہوائیاں اڑے چہرے کیساتھ وہ باہر جانے کی بجائے کچن کے ساتھ موجود چھوٹی سی لابی کی دیوار گیر کھڑکی میں آکر کھڑی ہوگئ۔۔۔
باہر جا کر رات کے اس وقت بیک یارڈ میں جانے کی ہمت  تو اس میں ویسے ہی نا تھی۔۔۔ تھوک نگلتے اسنے ایک چور نگاہ اطراف میں ڈالی ۔۔۔ گھر میں ہو کا عالم تھا۔۔۔ گرمیوں کا موسم تھا اور سبھی اپنے اپنے کمروں میں ایئرکندیشنز کی ٹھنڈک میں بیٹھے تھے۔۔۔ یہاں صرف ڈنر کے وقت سبھی ڈائینینگ ٹیبل پر اکھتے ہوتے تھے۔۔ اور انہیں ڈنر کئے بھی گھنٹہ ہو چکا تھا۔۔۔ 
کھڑکی کی سلائیڈ کھولے وہ گرل سے اچک اچک کر بیک یارڈ کے ہر اطراف میں نظزیں گھما رہی تھی۔۔۔ لیکن اندھیرا اتنا تھا کے کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا سوائے چاند کی چاندنی کے جو وہاں پر گویا ایک طلسم بکھیر رہی تھی۔۔۔ فاہا کا حلق تک خشک ہو رہا تھا ۔۔۔
 دفعتاً اسے اپنے پیچھے کسی کی آہٹ  محسوس ہوئی۔۔۔ وہ سانس تک روک گئ۔۔۔ پھر اپنے کندھے پر ہاتھ کا لمس محسوس کرتے وہ ایک دلخراش چیخ مارتی کپکپاتی ہوئی ایک جھٹکے سے پلتی۔۔۔
کیا چیز کیا ہو تم فاہا لودھی۔۔۔ انسان ہی ہو نا۔۔۔ حرکتیں تو عجیب ماورائی کر رہی ہو۔۔۔
پیچھے مرتسم لوددھی رف سے ٹراوز شرٹ میں ملبوس پاوں میں دو پٹی کی مردانہ چپل پہنے کھڑا تھا۔۔۔ بال ماتھے پر بکھرے تھے جبکہ چہرے پر ناسمجھی کے تاثرات کیساتھ ساتھ برہمی بھی تھی۔۔۔
وہ ناجانے کب وہاں آیا تھا۔۔۔ غالباً وہ کمرے سے اٹھ کر کچن میں کسی غرض سے آیا تھا جب اسے وہاں دیکھ وہیں چلا آیا۔۔۔فاہا سینے پر ہاتھ رکھے گہرے گہرے سانس لیتی  الجھی بکھری سانسوں کو اعتدال پر لانے کی سعی کر رہی تھی۔۔۔
اسنے  بامشکل اپنی کپکپاہٹ پر قابو پانے کی خاطر دونوں ہاتھوں کو باہم پیوست کیا اور تھوک نگل کر آنکھیں گھماتے ایک حواس باختہ سی نظر ارد گرد ڈالتے لبوں پر زبان پھیری اور ایک چور نگاہ بیک یارڈ کی جانب کھلتی کھڑی سے باہر دیکھا۔۔۔
دل خوف سے بند ہونے کے در پر تھا۔۔۔ حواس مختل ہو رہے تھے کے کچھ سمجھ ہی نہیں آ رہا تھا۔۔۔
مرتسم پریشانی سے اسکی یہ عجیب حرکتیں دیکھ رہا تھا۔۔۔۔۔ وہ اسے بہت خوفزدہ اور ڈری ہوئی سی لگی۔۔۔
خوف سے تھر تھر کانپتی کبھی اپنی کپکپاہٹ پر قابو پاتی تو کبھی حواس باختگی سے بال کانوں کے پیچھے اڑستی۔۔۔۔
کیا بات ہے فاہا۔۔۔ کوئی پرابلم ہے کیا۔۔۔ وہ بہت زیرک نگاہ رکھتا تھا جسکی بنا پر وہ لمحوں میں بھانپ گیا کے کچھ تو گڑبڑ ہے۔۔ اسی لئے خلاف توقع وہ نرمی سے گویا ہوا۔۔۔
فاہا نے اضطراری انداز میں اپنا ہاتھ قمیض پر رگڑا۔۔۔  کچھ کہنے کی چاہ میں لب کپکپا کر رہ گئے۔۔۔آنکھوں میں ابھی بھی خوف اور ہراس تھا جو مرتسم کو الجھا رہا تھا۔۔۔
کوئی پرابلم ہے تو مجھ سے شیئر کرو فاہا۔۔۔ شاید میں تمہاری مدد کر سکوں۔۔۔ فاہا کے انداز اسے نرمی برتنے پر مجبور کر رہے تھے
فاہا کی خوف سے سپید پڑتی رنگت اور انداز مرتسم کو الجھا رہے تھے۔۔۔ اس گھر میں بھلا اسے کیا مسلہ ہو سکتا تھا سوائے پریہا خانزادہ کے۔۔۔ اور جہاں تک اسے یاد پڑتا تھا وہ آج سارا دن وہاں آئی ہی نہیں تھی۔۔۔ پھر مسلہ کیا تھا۔۔۔ کہیں نا کہیں تو کچھ مسنگ تھا۔۔۔
کک۔۔۔کچھ نہیں۔۔۔ وہ نظریں جھکائے بدقت گویا ہوئی۔۔۔
کچھ نہیں تو بدروحوں کی طرح رات کے اس وقت یہاں اس کھڑکی کے پاس کھڑی کیا کر رہی ہو۔۔۔ اور اتنی خوفزدہ کیوں ہو۔۔۔ 
بس مرتسم لودھی کی ہمدردی اور نرمی یہیں تک تھی۔۔۔ فاہا کے کچھ نا بولنے پر وہ اپنے ازلی انداز میں واپس آ چکا تھا۔۔۔ اس سے زیادہ ناز نخرے وہ کسی کے نہیں اٹھا سکتا تھا۔۔۔ جب سامنے والا تعاون کرنے کو تیار ہی نا تھا تو مرتسم لودھی نے تو صنف نازک کے پیچھے خوار ہونا سیکھا ہی نا تھا۔۔۔
کیا کوئی سپیشل دورے پڑتے ہیں تمہیں یا کوئی جن ون عاشق ہے تم پر۔۔۔ سیریسلی اس وقت اتنی ناقابل یقین حرکتیں کرتی تم کسی بدروح سے کم نہیں لگ رہی۔۔۔
وہ اکھڑ انداز میں گویا ہوا۔۔۔
اور ایک بات میری غور سے سن لو فاہا لودھی۔۔۔ کوئی مسلہ ہے تو انسانوں کی طرح منہ سے پھوٹو۔۔۔ میں ہر لحاظ سے تمہاری مدد کروں گا ۔۔۔ لیکن اگر کل کو کچھ بھی اونچ نیچ ہوئی  یا۔۔۔ سختی سے انگشت اٹھا کر اسے تنبیہ کرتا وہ کچھ توقف کو رکا ۔۔۔ پھر گویا ہوا۔۔۔ تمہاری وجہ سے بابا یا میری عزت پر ایک حرف بھی آیا تو یقین رکھنا ۔۔۔۔
اسی بیک یارڈ میں تمہارا مقبرہ بناوں گا۔۔۔ وہ غصے سے چبا چبا کر گویا ہوا۔۔۔ مرتسم لودھی اپنی عزت اور غیرت کے بارے میں اتنا ہی جنونی ہے یہ بات اچھے سے ذہن نشین کر لینا۔۔۔ 
میں کوئی گنوار اور ٹیپکل مرد نہیں جو ہر صورتحال میں عورت کا ہی قصور نکالتے اسے غلط قرار دے۔۔۔ لیکن اگر میرے تعاون کے باوجود سامنے والا اجڈ گنواروں جیسی حرکتیں کرے تو میرا دماغ پھرتے وقت نہیں لگتا۔۔۔ وہ فاہا لودھی کے بات گول کرنے اور چھپانے کی کوشیش کرنے پر بنا لحاظ رکھے پھٹ پڑا۔۔۔ 
ایڈیٹ۔۔۔ وہ انیسویں صدی کی لوئر مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والی لڑکیاں بھی تم سے زیادہ پر اعتماد ہونگی۔۔۔  اور ایک تم ہو جسکی زبان ہر درست موقع ہر زنگ آلود ہو کر تالو سے چپک جاتی ہے جیسے کبھی کھلنے کا ارادہ ہی نا ہو۔۔۔ اور ہر فضول موقع پر ٹر ٹر کرنے لگتی ہے شتر بے مہار کی طرح۔۔۔ اسکا خاموش رہنا اسے بڑی طرح جنجھکاہٹ میں مبتلا کر گیا تھا ۔۔۔۔ تبھی اسے اچھی جھاڑ پلا کر واپسی کو مڑا۔۔۔
جبکہ فاہا وہ تو اتنی حواس باختہ تھی کے مرتسم لودھی کی آدھی باتیں تو اسکے سر پر سے گزر گئیں اور اگر کوئی اندر گھسیں بھی تھیں تو دماغ انہیں سمجھنے سے قاصر تھا کیونکہ وہ تو مختل حواسوں کے ساتھ ابھی بھی کہیں بیک یارڈ میں ہی اٹکی تھی۔۔۔ کہ اگر مرتسم زبیر لغاری کو یہاں دیکھ لیتا تو کیا قیامت ڈھاتا ۔۔۔
اب کھڑی کھڑی فوت ہو گئ ہو کیا۔۔۔ یا برف کی مانند جم گئ ہو۔۔۔ واپس جاتے جاتے وہ پلٹا تو فاہا کے ابھی بھی اچک کر بیک یارڈ میں دیکھنے پر وہ پوری قوت سے ڈھارا کے فاہا اپنی جگہ پر کپکپا کر رہ گئ۔۔ 
کیا ہے بیک یارڈ میں جو یوں پاگلوں سی حرکتیں کر رہی ہو۔۔ا۔ وہ ماتھے ہر بل لئے اسکی جانب بڑھا جبکہ فاہا لودھی جی جان سے لرز اٹھی۔۔۔
کک۔۔۔کچھ نہیں۔۔۔
ایسے کیسے کچھ نہیں۔۔۔ آو دکھاو مجھے کس چیز نے اتنا خوفزدہ کر رکھا ہے تّمہیں۔۔۔ ۔
وہ آنکھیں چھوٹی کئے چہرے پر سخت تاثرات لئے اسکے پاس آ کر گرل سے باہر جھانکنے لگا ۔۔۔ فاہا کی جان پر بن آئی۔۔۔ جبکہ وہ اندھیرے میں ڈوبے بیک یارد میں گرل سے کچھ خاطر خواہ نظر نا آنے پر باہر کی جانب لپکا۔۔۔۔فاہا کو اپنے جسم سے روح پرواز کرتی محسوس ہوئی۔۔۔ وہ دوبٹے دل کیساتھ اسکے پیچھے ہی بھاگی۔۔۔ وہ دراز قامت مضبوط ڈیل ڈول کا مالک شخص مضبوط قدم اٹھاتا تیزی سے باہر جا رہا تھا جبکہ  فاہا کو اسکے ہمقدم ہونے کے لئے باقاعدہ بھاگنا پڑ رہا تھا۔۔۔۔ مم مرتسم۔۔  کچھ نہیں۔۔۔ ہے آپ پلیز۔۔۔ اندر۔۔۔ اندر چلیں۔۔۔ زبان ہقلا گئ جبکہ دل خوف سے بند ہو رہا تھا۔۔۔ ناجانے کیا قیامت آنے والی تھی۔۔۔
وہ مرتسم لودھی تھا۔۔۔ اڑتی چڑیا کے پر گن لینے والا۔۔۔ فاہا زرا سا کلیو دیتی تو وہ معاملے کی تہہ تک ہی پینچ جاتا لیکن وہ تو لب سیئے بیٹھی تھی۔۔۔
مرتسم لودھی کی اس بے وقت آمد پر وہ روہانسی ہو اٹھی تھی۔۔۔ بتاتی تو مرتی نا بتاتی تو مرتی۔۔۔ کرتی تو کیا کرتی۔۔۔۔
دل بے ہنگم انداز میں دھک دھک کر رہا تھا۔۔۔
مرتسم لودھی اب بیک یارڈ میں بیچوں بیچ کھڑا تنی رگوں کیساتھ سرخ نگاہوں  سے بیک یارڈ کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک دیکھ رہا تھا۔۔۔ 
انداز میں کھوج تھی جیسے معاملے کی تہہ تک جا کر ہی رہے گا۔۔۔
اسے کچھ بری طرح کھٹک رہا تھا۔۔۔ لیکن کیا ۔۔۔ سمجھ سے پڑے تھا۔۔۔۔  
آخر مایوس ہو کر وہ فاہا کی جانب پلٹا ۔۔ ادھر ایسا کونسا کالا سایا ہے جو تم پر عاشق ہونے کو تیار ہے جو تم اتنی حواس باختہ ہو۔۔۔
فاہا لودھی یہ ڈر یہ خوف یہ ہراس اور حواس باختگی بلا کسی جواز تو نہیں۔۔۔
نا تو تم انیسویں صدی کی پیداوار ہو اور نا ہی میں۔۔۔ کل کو اگر کسی بڑی مصیبت میں پھس گئ تو کم از کم مجھ سے کوئی توقع مت رکھنا۔۔۔
اسنے بھی گھاٹ گھاٹ کا پانی پیا تھا۔۔۔ زمانے کے سبھی رنگوں سے آشنا تھا تبھی خونخوار انداز میں کہتا واپس پلٹا۔۔۔ چند قدم چل کر رکا اور اسے اپنے پیچھے نا آتے دیکھ پلٹا۔۔۔
وہ ابھی بھی سانس تک روکے ارد گرد دیکھ رہی تھی۔۔۔
کیا زبیر لغاری نے مذاق کیا تھا یا وہ مرتسم کو دیکھ کر کہیں چھپ گیا تھا۔۔۔ 
اب یہیں پر فریز مت ہو جانا اندر چلو۔۔۔ مرتسم کی ڈھار میں سختی تھی۔۔۔ وہ اچھل کر اسکی جانب متوجہ ہوئی۔۔۔
تمہیں پتہ ہے فاہا لودھی تم میں وہ ساری صلاحتیں بدرجہ اتم موجود ہیں جو ایک اچھے خاصے ذہیں فطین اور عقلمند انسان کا دماغ ہلا سکتیں ہیں۔۔  وہ تاسف سے نفی میں سر ہلاتا اندر کی جانب بڑھا جبکہ اب کی بار فاہا نے آنچل کو مٹھیوں میں بھینچے اسکے پیچھے ہی ڈور لگا دی۔۔۔
اندر آتے ہی مرتسم نظروں سے اوجھل ہوا تو وہ سیدھا اپنے کمرے کی جانب بھاگی۔۔۔
کمرے میں آتے ہی اسکی توجہ بلنک کرتے موبائل نے اپنی جانب کھینچی۔۔۔
کئ آنسو ٹوٹ کر گالوں پر پھسلے۔۔۔ ضبط ٹوٹنے کے در پر تھا۔۔۔ 
دل سوکھے پتے کی مانند کپکپا رہا تھا۔۔۔کیا اسے مرتسم کو سب بتا دینا چاہیے۔۔۔ لیکن بتائے تو کیا بتائے۔۔۔ اور اسکے بعد آگے کیا ہوتا۔۔۔ زبیر لغاری سے ایک طویل جھگڑا ۔۔۔ مار ڈھار۔۔۔ پولیس کے چکر۔۔۔ دونوں ہی پاڑتیاں ٹکر کی تھیں۔۔۔ اور آخر پر کیا ہوتا۔۔۔ اس سب میں فاہا کا نام خوب خوب اچھالا جاتا۔۔۔۔ اتنی ذلت کے بعد وہ بے موت مر جاتی۔۔۔ اور بابا۔۔۔ وہ کیسے سہتے اتنی ذلت۔۔۔ 
دل درد سے پھٹ رہا تھا۔۔۔ ماوف ہوتے دماغ کیساتھ  اسنے لرزتے ہاتھوں سے بیڈ پر پڑا موبائل اٹھایا۔۔۔
ابھی اسنے موبائل پر میسج کھولا ہی تھا جب کسی نے اسکے ہاتھ سے موبائل جھپٹ کر کھینچا۔۔۔
آہہہہہ۔۔۔ وہ خوف سے اچھلتی چیخ مار کر پلٹی۔۔۔
دل خوف سے بند ہو گیا۔۔۔ آنکھیں پھٹ پڑیں۔۔۔ وہ مرتسم لودھی تھا جو بھینچے جبڑے اور پھولی رگوں سمیٹ اسکا موبائل تھامے کھڑا تھا۔۔۔
فاہا کو لگا وہ ابھی بے ہوش ہو کر گر پڑے گی۔۔۔
وہ واقعی مرتسم لودھی تھا جو معاملے کی تہہ تک پہنچنا باخوبی جانتا تھا۔  
******
فائز علوی اس وقت خوبصورتی سے سجے لاوئنج میں بیٹھا تھا۔۔۔ اسکے سامنے ہی پروفیسر عظیم بیٹھے غور سے اسے سن رہے تھے۔۔۔ وہ پہلے سے کافی بیمار اور بوڑھے لگنے لگے تھے۔۔۔ درمیانی میز پر فائبر گلاس سپیشل پلاسٹک جدید طرز کا ترشیدہ لوہے کے انسانی اعضا سے مشابہ اعضا اور سلیکن وغیرہ کے سیمپل پڑے تھے۔۔۔
پروفیسر صاحب یہ سارا مال ڈیلیورہو چکا ہے۔۔۔ سوفٹ ویئر کے بنیادی سبھی کام ہم مکمل کر چکے ہیں۔۔  جیسے اس میں مختلف زبانیں فید کر کے اسے زبانوں کی تربیت دینا اور  ٹریننگ ڈیٹا کو تیار کر کے فیڈ کرنا وغیرہ۔۔۔۔۔ جیسے روبوٹ کو ٹریننگ دینے کے لئے مواد کا انتخاب کرنا  جس سے وہ سوالات، جوابات، سیاق و سباق، اور دیگر معلومات کو مرتب کرنا تاکہ روبوٹ انہیں سیکھ سکے اور جب بھی کوئی انسان اپنی ضرورت کے مطابق اس سے کوئی سوال پوچھے تو وہ روبورٹ اپنے اندر فیڈ لامحدود ڈیٹا کے بیس پر اس سوال کو سمجھ لینے کے بعد جواب دے سکے۔۔
اب ہم فزیکلی اپیرینس والے روبورٹ پر کام شروع کرنے جا رہے ہیں۔۔ 
انشااللہ کچھ ہی وقت میں ہمارا روبورٹ تیار ہو گا پھر اسے مختلف ٹیسٹینگ کے مراحل سے گزار کر ہم لائنچ کریں گے۔۔۔
ابھی فلحال کے لئے میں آپکو روبورٹ کو بنانے میں استعمال ہونے والے میٹریل کو چیک کروانے آیا ہوں کے کیا یہ سب ٹھیک رہے گا۔۔۔ انسانی اعضا سے متشابہ روبوٹک اعضا کے لئے ہم نے یہ سپیشل لوہے کے آرگنز منگوائے ہیں۔۔۔ آپ ایک دفعہ اپروول دے دیں تو ہم آگے کام شروع کریں۔۔۔
فائز نے بات کرتے پاس پڑے پیکٹ کو اٹھا کر پروفیسر صاحب کے سامنے کیا جس میں لوہے کا ہاتھ تھا جس پر انسانی کھال اور سکن سے متشابہ سیلکن کا استعمال کیا گیا تھا۔۔۔ ناخن کا ڈیزائن تک انسانی طرز کا تھا۔۔۔ ایک نظر دیکھنے میں وہ ایک انسانی ہاتھ ہی لگتا جسکی انگلیوں تک میں جوائنٹ استعمال ہوئے تھے جو حرکت کرنے کے علاوہ مٹھی بند اور کھول سکتے تھے۔۔۔
لیکن اسکا وزن انسانی ہاتھ سے کہیں زیادہ تھا۔۔۔
پرفیکٹ فائز۔۔  اگر کہیں لڑائی جھگڑے کی نوبت آئی تو اس آئی ایس ببس روبورٹ کا ایک ہاتھ ہی دشمن کو ڈھیر کرنے کو کافی ہوگا۔۔۔
پرفیسر صاحب فائز کی کارکردگی سے خوش تھے۔۔۔۔
تمہیں بہت اچھے سے اس پراجیکٹ کو لے کر چل رہے ہو فائز ۔۔۔ مجھے امید نہیں تھی کی تم اتنی جلدی اتنی آسانی سے اس پراجیکٹ کو اتنا آگے بڑھا لے جاو گئے۔۔۔ اب تو یہ چند ہفتوں کی مار ہے۔۔۔
شکریہ پروفیسر صاحب۔۔۔ ابھی اس ہاتھ کے جوروں میں سینسر لگنے ہیں جس کی بنیاد پر یہ چیز کو محسوس کر کے اسے تھامنے یا چھونے کے لئے ضرورت کے مطابق ہاتھ کو حرکت دے سکیں۔۔۔
وہ مسکرا کر واپس اس ہاتھ کو پیک کرنے لگا۔۔۔
فائز ایک اور بات کرنی ہے تم سے۔۔۔ پروفیسر صاحب نے پریشانی سے ماتھا مسلہ۔۔۔
جی جی پروفیسر صاحب کہیے۔۔۔ اسنے سب پیک کر کے واپس میز پر رکھا اور سنجیدگی سے انکی جانب ہمہ تن گوش ہوا۔۔۔
کیا تمہارا میجر اریز سے رابطہ ہوا۔۔۔
پروفیسر صاحب کے آس سے پوچھنے پر فائز نے لب بھینچتے سر نفی میں ہلایا۔۔۔
پروفیسر گہری سانس خارج کرتے خود کو ڈھیلا چھوڑ گئے۔۔۔۔
ہماری پچھلی رہائش پر لوگ چیکنگ کرنے کے لئے آئے تھے۔۔۔
انکی بات پر فائز نے جھٹکے سے سر اٹھاتے انہیں دیکھا۔۔۔
وہ لوگ ہمارا سراغ لگاتے پھر رہے ہیں۔۔۔
اب کے بعد تم دوبارہ یہاں مت آنا فائز۔۔۔ ہم فون پر رابطے میں رہیں گے۔۔۔ میں نہیں چاہتا کے تم کسی کی نظروں میں آو۔۔۔
انکی باتیں سن کر فائز گم صم سا بیٹھا رہ گیا ۔۔۔ انداز پرسوچ تھا۔۔۔
اس سب کا حل کیا ہے پروفیسر صاحب۔۔۔ کافی دیر بعد وہ کچھ بولنے کے قابل ہوا۔۔۔
فلحال تو یہ ہی کے میرے بعد میری بیٹی کی حفاظت تمہاری ذمہ داری ہے ۔۔  کسی بھی ناگہانی صورتحال میں تم اسکے پاس آو گے اور اسے بحفاظت یہاں سے نکال لے جاو گئے۔۔۔ ان کے لہجے میں مستقبل کے اندیشے تھے جبکہ فائز علوی کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کے انہیں کیسے تسلی دے۔۔۔
پروفیسر صاحب پلیز آپ ایسے مت کہیں۔۔۔ سونم کی حفاظت آپ خود کریں گے۔۔ ان شااللہ ۔۔۔ امید پر دنیا قائم ہے۔۔۔ وہ بمشکل بدقت بول پایا۔۔۔
بلاشبہ نا امیدی کفر ہے فائز لیکن حقیقت شناسی بھی کوئی چیز ہے اور اسکے تحت تدبیر کرنے کو بھی اللہ نے ہی کہا ہے۔۔۔
فائز انکی بات پر لاجواب ہو گیا۔۔۔
آپ فکر مت کریں پروفیسر صاحب ۔۔ اللہ نا کرے کے کبھی ایسی صورتحال پیش آئے۔۔۔ اور اگر کبھی خدانخواستہ ایسا کچھ ہوا بھی تو سونم عظیم میری پہلی ترجیح ہوگئ۔۔۔۔۔
فائز علوی خود تو مٹ سکتا ہے لیکن سونم عظیم پر ایک آنچ تک نہیں آنے دے گا۔۔۔۔اسکا انداز سنجیدہ اور بے لچک تھا۔۔۔ جبکہ اپنے کمرے کی اوٹ میں کھڑی سونم نے حرف با حرف انکی ساری گفتگو سنی تھی۔۔۔ حالات کے یوں کروٹ بدلنے پر اسکا دل بھر آیا۔۔۔۔
دفعتاً فائز کا فون بجا تو وہ اسکی جانب متوجہ ہوا۔۔۔
فون ماموں جان کا تھا۔۔۔ وہ چونک کر اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔ خدا خیر کرے۔۔۔ اسے عجیب سے وسوسوں نے گھیرا۔۔۔ وہ پرسوں سے ہسپتال سے واپس آیا تھا اور پھر اسنے دوبارہ نا ماموں سے رابطہ کیا اور نا ہی ہسپتال گیا۔۔۔ اب ماموں کی کال آنے پر اسکی تشویش فطری تھی۔۔۔
وہ پروفیسر صاحب سے اجازت لیتا پارسل پیک اٹھا کر کال یس کر کے کان کو لگاتا گھر سے نکلا۔۔۔
******


No comments

Powered by Blogger.
4