Roshan Sitara novel 18th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Roshan Sitara novel 18th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Roshan Sitara is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels
Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front
of the world and improve their abilities in that field.
Roshan Sitara Novel by Umme Hania | Roshan Sitara novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Roshan Sitara novel by Umme Hania Complete PDF download
Online Reading
ناول "روشن ستارا"۔
مصنفہ "ام ہانیہ"۔
Official pg : Umme Hania official
اٹھارویں قسط۔۔۔۔
موسم ابر آلود تھا ایسے میں فائز علوی کے اپارٹمنٹ کے لاوئنج کا بالکنی کو کھلتا دروازہ وا تھا ۔۔۔ جس سے تازہ اور ٹھنڈی ہوا کے جھونکے اندر آ رہے تھے ۔۔۔ ایسے میں مرتسم لودھی صوفے پر بیٹھا سامنے موجود کانچ کے میز پر پڑے لیپ ٹاپ پر جھکا کچھ ٹائپ کر رہا تھا۔۔۔ جبکہ وہاج خانزادہ سنگل صوفے پر ڈھیلا سا بیٹھا تھا موڈ ابھی تک آف تھا لحاظہ دھیان کے پردوں پر ابھی بھی میرون چادر کے ہالے میں مقید اسی دوشیزہ کا چہرا تھا۔۔۔۔۔
یہ ادھر سکتا کیوں طاری ہے۔۔۔ دفعتاً ٹراوزر شرٹ میں ملبوس نکھرا نکھرا سا فائز ہاتھ میں چند کاغذ تھامے اپنی چھوٹی سی لیب سے نکلا۔۔۔ اب وہ پہلے کی نسبت فریش تھا۔۔۔ ہسپتال میں امڈ آتے غم وغصے کا فلحال کہیں نام و نشان تک نا تھا۔۔۔
وہ ایسا ہی تھا۔۔۔ دل کے روگ دل میں داب کر خود کو ہمہ وقت کمپوز رکھنے والا۔۔۔
کسی دوشیزہ کا معاملہ ہے میرے بھائی۔۔۔ مرتسم اسکی بات سمجھتا مصروف سے انداز میں شریر سا گویا ہوا۔۔۔
واقعی۔۔۔ فائز معتجب سا وہاج کے پاس ہی دوسرے سنگل صوفے پر بیٹھا۔۔۔
وہاج نے مرتسم کو خونخوار نگاہوں سے گھورا۔۔۔
بہت بدتمیز لڑکی تھی سیدھا گریبان کو پہنچ گئ۔۔ وہاج نے اپنے گھنے بالوں میں ہاتھ پھیرتے سر دائیں بائیں ہلایا تو بال واپس ماتھے پر بکھر گئے۔۔ لب کا کونا چباتا ایک پاوں مسلسل ہلاتے وہ خاصا مضطرب تھا۔۔۔
حالانکہ کسر تم نے بھی کوئی نہیں چھوڑی تو پھر اتنی بے چینی کس بات کی ہے۔۔۔
مرتسم نے لیپ ٹاپ فائز کی جانب کھسکایا اور اسکے ہاتھ سے وہ کاغذات تھامے۔۔۔
پرفیکٹ۔۔۔ فائز نے لیپ ٹاپ کی سکرین میں ابھی تک مکمل ہو چکے سبھی کام کو دیکھ کر ستائشی انداز میں کہا۔۔۔
یہ ہی تو مسلہ ہے مرتسم۔۔۔ کے کم میں نے بھی نہیں کیا۔۔۔ اور اسی بات کا پچھتاوا ہے۔۔۔ وہ کہنیاں گھٹنوں پر رکھتا آگے کو جھکا۔۔۔
ٹھیک ہے وہ بندی بدتمیز تھی۔۔ وہ میرے گریبان کو بھی پہنچی ۔۔۔ لیکن تھی تو ضنف نازک۔۔۔ مجھے ٹمپر لوز نہیں کرنا چاہیے تھا۔۔۔ بس یوں سر عام اس لڑکی کا میرے گریبان پر ہاتھ ڈالنا دماغ گھما گیا تھا۔۔۔
نرم دل و حساس سے وہاج کو غصہ اترنے پر جو غلطی کا احساس ہوا تو احساس ندامت جاگ اٹھا تھا۔۔۔
سمجھ نہیں آ رہا یار۔۔۔ وہ سب اس لڑکی کے عمل کا ردعمل تھا۔۔۔ لیکن آخر میں وہ لڑکی رو دی تھی۔۔۔ اب پشیمانی ہو رہی ہے۔۔۔ مجھے ٹمپر لوز نہیں کرنا چاہیے تھا۔۔
بلآخر اسنے اپنی بے چینی کی وجہ کھول کر سامنے رکھ دی۔۔۔
اچھی بات ہے کے تمہیں اپنی غلطی کا احساس ہے۔۔۔ دوبارہ کہیں وہ دوشیزہ نظر آئی تو ایکسکیوز کر لینا اس سے۔۔۔
فائز نے اسکی پ0شیمانی دیکھ بات سمیٹی۔۔۔
آہ۔۔۔ کر ہی نا لوں میں ایکسکیوز اس نک چڑھی سے۔۔۔ مزید سر پر چڑھ جائے گی۔۔۔ بات کرنے کی تمیز اسے پہلے ہی نہیں۔۔ مزید ایکسکیوز کر کے اسے اپنے سر کروا لوں۔۔۔ وہاج نے نخوت سے کہتے ناک سے مکھی اڑائی۔۔۔
وہاج خانزادہ تم سمجھ سے باہر ہو۔۔۔ مرتسم نے اسے دیکھتے سر نفی میں ہلایا۔۔۔
ویسے مجھے امید نہیں تھی کے تم دونوں اتنے بہترین انداز میں سارا ڈیٹا فیڈ کر کے کام مکمل کر لو گئے۔۔۔ فائز مسکرایا۔۔۔
مجھے لگا تھا کام ابھی وہیّ لٹکا ہو گا۔۔ لیکن تم دونوں نے تو میرے حصے کا کام بھی نبٹا لیا۔۔۔ ویل ڈن
ہم تمہاری مینٹور شپ میں سب نبٹا لیں گے۔۔۔ بس گائیڈ کرتے جاو۔۔۔ لیکن اگر تم یہ کہو کے ہم خود سے سارا کام کریں یہ ناممکن ہے باس۔۔۔۔
اگلے کام کے لئے گائیڈ کر دو کام مکمل ہو جائے گا۔۔۔ ریکارڈ میں جو ٹائپ کرنا ہے وہ سب تم خود ہی کرو گے۔۔۔۔۔
وہاج خانزادہ سیدھا ہو کر بیٹھا جبکہ مرتسم بھی اسکی تائید کرتا کچن کی جانب بڑھا۔۔۔
زبانوں کا ڈیٹا فیڈ ہو گیا۔۔۔ یعنی کے اب ہمارے آئی ایس بیس روبورٹ سے اگر کوئی بھی شخص کسی بھی زبان میں بات کرنا چاہیے تو کر سکتا ہے۔۔۔ وہ اس اہل ہو گیا ہے کے ہر زبان کی لغت کو سمجھ کر اس میں بات کر سکے۔۔۔
اب اگلے مرحلے میں ہمیں اس سافَ ویئر میں سبھی اکھٹا کیا جانے والا ڈیٹا فیڈ کرنا ہے تاکے ہمارے سوفٹ سے جب بھی کسی چیز کے متعلق سوال کیا جائے تو وہ چند سیکنڈ کے اندر اندر اپنے اندر فیڈ ڈیٹا کی بیس پر اسکا جواب دے سکے۔۔۔
اسکا خود کار نظام ہم اس طریقے سے ڈیزائن کریں گے کے جو شخص اسے استعمال کرے گا یہ اس شخص کے استعمال کا طریقہ کار خود میں فیڈ کرتا جائے گا ۔۔ اور اسی طریقہ کار کی بیس پر یہ خودکارانہ طور پر خود کو اپڈیٹ کرتا جائے گا کے ایک وقت ایسا آئے گا کے یہ آئی ایس بیس پراجیکٹ اس انسان سے بڑھ کر اسے جان سکے گا۔۔۔
ماضی میں اسنے کون کونسے پڑاجیکٹ کئے۔۔۔ اس میں سے اسکے کتنے کامیاب رہے اور کتنے ناکام۔۔۔ اور اس جمع ہو چکے ڈیٹا کی بیس ہر یہ اسے سجیسٹ کر سکے گا کہ آگے مستقبل میں اس شخص کی فیلڈ کے حساب سے اس کے لئے کونسا پڑاجیکٹ یا بزنس آئیڈیا بہترین ہے اور اسے کس انداز میں اس پر کام کرنا شروع کرنا چاہیے جس سے اسکے کامیاب ہونے کے چانسز زیادہ ہونگے۔۔۔ یعنی کے وہ کام جو ایک انسان ہیلپز اور ان فیلڈ کے ایکسپرٹس سے گائیڈ لائنز لے لے کر مہینوں میں کر پاتا وہ اب اے آئی کی مدد سے وہ گھنٹوں میں کر سکتا ہے۔۔۔ اور اگر کوئی عقل کو استعمال کر کے اے آئی کی ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھانے والا ہو تو۔۔۔ سب اسکی انگلیوں کی پوروں کے نیچے ہو گا۔۔۔ وہ بہت کم وقت میں بڑے بڑے انقلاب برپا کر سکتا ہے۔۔۔
بس جلد از جلد ہمارا یہ پڑاجیکٹ مکمل ہو جائے۔۔۔ ان شااللہ یہ انسانی تاریخ میں ایک انقلاب بھرپا کر دے گا۔۔۔
فائز کی آنکھوں میں اپنے اس پراجیکٹ کو لے کر ایک چمک تھی۔۔۔ عزم تھا۔۔۔
روبورٹ کے سپیر پاڑٹس کا کیا بنا۔۔۔
آن لائن آرڈر کئے ہوئے ہیں۔۔۔ ایک دو دن میں موصول ہو جائیں گے۔۔۔ اس سے پہلے مجھے پروفیسر عظیم سے ایک ملاقات کر کے اس بارے میں سب ڈسکس کرنا ہے۔۔۔
ٹھیک۔۔۔ اور اب ہمارے لئے آگے کیا کام ہے۔۔۔
سیب دانتوں سے کترتا مرتسم کچن سے نکل کر واپس اپنی جگہ پر آ کر بیٹھا۔۔۔
ساارا ڈیٹا اکھٹا کیا پڑا ہے۔۔ مختلف موضوعات پر مقامات پر بیماریوں اور کھیلوں پر عرض تقریباً ہر ہر فیلڈ کا ڈیٹا مختلف ویب سائٹس اور مختلف طریقوں سے حاصل کیا پڑا ہے۔۔۔ بہت سارا ڈیٹا ہمیں پروفیسر صاحب سے مل گیا باقی کا جو رہتا تھا وہ میں نے اپنی ریسرچ سے مکمل کر لیا ہے۔۔۔۔۔ اب اس سارے ڈیٹے کو سافٹ ویئر میں فیڈ کرنا ہے۔۔۔ اور جو رہ گیا وہ ساتھ کے ساتھ کرتے جائیں گے۔۔۔
فائز نے لیپ ٹاپ پر سارا کام چیک کر کے لیپ ٹاپ بند کیا۔۔۔
ڈیٹے کی سافٹ کاپیزدے دو یار۔۔۔ ہو جائے گا کام۔۔۔
******
فائز علوی کے ہسپتال کے اس کمرے سے جاتے ہی ماہرہ کے اندر سناٹے اتر گئے۔۔۔ انجانے میں ہی سہی اسکی ماں یہ انکشاف کر چکی تھی کہ اس سب کے پیچھے اسی کا ہاتھ تھا۔۔۔ فائز علوی کے قدم پیچھے ہٹا لینے کے پیچھے بھی اسکی ماں تھی۔۔۔
ماہرہ کی آنکھوں میں مرچیں سی بھرنے لگیں۔۔۔ یکدم ہی جسم میں سرایت کرتا درد کئ گنا بڑھ گیا۔۔۔
صاعمہ بیگم ہنوز فائز کی شان میں کچھ نا کچھ بڑبڑا رہی تھیں۔۔۔
غصے سے سر جھٹکتی وہ ماہرہ کی جانب متوجہ ہوئیں اور ہاتھ میں تھاما جوس کا گلاس اسکی جانب بڑھاتی اسے جوس پلانے لگیں۔۔۔
ماہرہ کے تن بدن میں شرارے سے ڈورنے لگے جب اسنے جسم میں سرائیت کرتے درد سے قطعی نظر پوری قوت سے ماں کے ہاتھ میں تھاما جوس کا گلاس پرے دھکیلا۔۔۔
جوس کا گلاس صاعمہ بیگم کے ہاتھ سے لڑھکتا ہوا دور جا گرا اور اس میّں موجود جوس ہسپتال کے فرش پر نقش و نگار بناتا چلا گیا۔۔۔
یہ کیا حرکت ہے ماہرہ۔۔۔ صاعمہ بیگم حیرت زدہ سی ماہرہ کی جانب دیکھتیں مستفسر ہوئی۔۔۔
اور جو ابھی آپ نے کیا ماں۔۔۔ وہ کیا حرکت تھی۔۔۔۔ کیسی خود ساختہ نفرت ہے آپکی فائز سے ماں ۔۔۔ جسکا کوئی اختتام ہی نہیں۔۔۔ بولنے سے گلے میں درد جاگ رہا تھا لیکن وہ تو چیخ رہی تھی۔۔۔ غصہ فلحال ہر درد پر ہاوی تھا۔۔۔ چہرے کے سرخی چھلکانے کیساتھ ساتھ گردن کی رگیں تک پھولنے لگی تھیں۔۔۔
لیکن اسے اس وقت تکلیف کہاں محسوس ہو رہی تھی۔۔۔
ہر جسمانی تکلیف دل کے روگ کے آگے ہیچ تھی۔۔۔
آپ جانتی ہیں نے میرے دل کا حال۔۔۔۔ جانتی ہیں نا ماں کے میں فائز سے محبت کرتی ہوں۔۔۔ بے تحاشہ محبت۔۔۔ اتنی محبت ۔۔۔ چیختے چیختے وہ ہانپی۔۔۔ سانس اکھڑنے لگا۔۔۔
ماہرہ میری بچی۔۔۔ ماں تڑپ کر اسکی جانب بڑھی۔۔۔۔
اسنے سرعت سے ماں کا ہاتھ جھٹکا۔۔۔ اتنی محبت کے اسکے بنا ۔۔۔ نہیں جی سکتی۔۔۔ آواز میں بے بسی سمٹ آئی تھی۔۔۔
اسکے باوجود ۔۔۔اسکے باوجود آپ اسے ڈی گریڈ کرنے کا کوئی موقع جانے نہیں دیتیں۔۔۔
آپ جانتی ہیں کے وہ بہت خودار ہے۔۔۔۔ اسی لئے حقارت سے اس سے بات کرتی ہیں کے اس طرح وہ کبھی پلٹ کر ادھر نہیں دیکھے گا۔۔۔
آپ سب جانتی ہیں۔۔۔ وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔
خودار مائے فٹ۔۔۔ اسکی نظر ہماری پڑاپڑتی پر ہے ۔۔۔ ماں تنفر سے گویا ہوئی۔۔۔ لیکن جلد ہی سمبھل کر اسکی کانب متوجہ ہوئیں۔۔
مت رو میری جان ۔۔ تمہاری طبیعت بگڑ رہی ہے۔۔۔۔
نہیں ہوں میں آپکی جان۔۔ جھوٹ کہتی ہیں آپ۔۔۔ ہوتی تو آپکو میری تڑپ دکھائی دیتی۔۔۔ جانتی آپ کے میں کس قدر کرب میں ہوں۔۔۔ وہ بن جل مچھلی کی مانند ٹرپنے لگی۔۔۔
ماں ہوں میں تمہاری بیٹا۔۔۔ دشمن نہیں۔۔۔ ہر حال میں تمہارا بھلا چاہتی ہوں۔۔۔ بچے اگر یاقوت سمجھ کر کوئلے جھپنے کی کوشیش کریں تو ماں باپ کا فرض ہے انہیں روکنا۔۔۔ تمہیں شہزادیوں کی طرح پالا ہے ہم نے۔۔ اس دو کوڑی کے شخص کے ساتھ محدود وسائل میں تم نبھا نہیں کر سکتی۔۔۔ وہ شخص تمہارا دماغ کنٹرول. کر رہا ہے۔۔۔ پھسا لیا ہے اسنے تمہیں اپنی چکنی چپڑی باتوں میں۔۔ ماہرہ کو قائل کرتی انکی آواز بھر آئی۔۔۔
کاش ایسا ہوتا ماں۔۔۔ کاش۔۔۔ کاش ایسا ہی ہوتا۔۔۔ کاش وہ مجھے اپنی باتوں میں پھانس لیتا۔۔۔
لیکن وہ ایسا ہے ہی تو نہیں۔۔۔ اسنے تو آپکی شہزادی کو دھتکار دیا۔۔۔ وہ تو خود کو مجھ سے بہت دور لے گیا۔۔۔
صاف الفاظ میں وہ آپکی شہزادی کو ریجیکٹ کر گیا۔۔۔ اسنے خود کو میرے لئے شجر ممنوعہ بنا ڈالا۔۔۔۔ اسنے خود کو میرے لئے لاحاصل بنا ڈالا۔۔۔ اور اب پتہ لگ رہا ہے کے اس سب کے پیچھے میری ماں تھی۔۔۔۔
ماں اس ریجیکشن کے بعد جینے کی امنگ ہی نہیں۔۔۔ آپ کہتی ہیں کے میں فائز علوی کے ساتھ محدود وسائل میں گزارا نہیں کر سکتی۔۔۔ تو سن لیں ماں۔۔۔ آپکی بیٹی صرف اسی کے ساتھ نبھا کر سکتی ہے۔۔۔ وہ نہیں تو کوئی بھی نہیں۔۔۔
مجھے وسائل شان و شوکت اور دولت کے انبار نہیں چاہیےماں۔۔۔ مجھے ایک قدردان عزت کرنے والا رشتے نبھانے والا مخلص اور باوفا ساتھی چاہیے ۔۔۔۔ مجھے فائر علوی چاہیے۔۔۔
لیکن وہ بہت خودار ہے۔۔۔ وہ مجھے کبھی نہیں ملے گا۔۔۔ وہ دور لے گیا خود کو مجھ سے۔۔۔ آپکو تو خوش ہونا چاہیے ماں ۔۔ کے آپکی مراد بھر آئی۔۔۔ وہ ٹرپ رہی تھی۔۔۔ بلبلا رہی تھی۔۔۔
لیکن جاتے جاتے وہ آپکی بیٹی کے سانسوں کی مالا ساتھ لے گیا۔۔۔ لے گیا ساتھ ماں۔۔۔ اسکے بنا کیا کروں ماں۔۔۔ آپ نے میرے ساتھ بالکل اچھا نہیں کیا۔۔۔۔
ماں آپ۔۔۔ بولتے بولتے اسکا سانس اکھڑنے لگا۔۔ تکلیف حد سے سوا ہوگئ آنکھیں خودبخود بھاری ہوتیں بند ہونے لگیں۔۔۔ ماہرہ۔۔۔ ماہرہ آنکھیں کھولو بیٹا۔۔۔ ماہرہ۔۔۔۔
ڈاکٹرررررر۔۔۔ ڈاکٹرررر۔۔۔ ماہرہ کی بگرتی حالت دیکھ صاعمہ بیگم نے بوکھلاتے ہوئے اسکا چہرا تھپتھپایا جبکہ اسکا چہرا ایک جانب ڈھلک جانے پر وہ حواس باختہ ہوتیں چیخ چیخ کر ڈاکٹر کو بلانے لگیں۔۔۔
جبکہ کمرے کی جانب آتے اظہر صاحب نے بیٹی کے منہ سے نکلتے سبھی انکشافات اپنے کانوں سے سنےتھے اور گویا وہ وہیں پتھرا گئے تھے۔۔۔۔ صائمہ بیگم اور فائز کے بیچ چلتی سرد جنگ سے وہ آگاہ تھے لیکن وہ سب ابھی تک جاری و ساری تھا یہ انکے وہم و گمان تک میں نا تھا۔۔۔ فائز علوی نے کبھی شکوہ کرنا سیکھا ہی نا تھا۔۔۔
اب بھی تو انہیں مطلع کر کے ہسپتال سے جاتے ہوئے بھی اس نے لمحہ بھر کو یہ تاثر نا چھوڑا تھا کے وہ وہاں سے جا کیوں رہا ہے۔۔۔ اندر سے صاعمہ بیگم کی ڈاکٹر کو بلوانے کے لئے ابھرتی غیر معمولی آوازیں سن کر وہ سرعت سے اندر کی جانب بڑھے اور اندر ماہرہ کا لڑھکتا ہوا وجود دیکھ کر سہی معنوں میں انہیں اپنے قدموں تلے سے زمین سرکتی محسوس ہوئی۔۔۔
******
فاہا لودھی اپنے کمرے میں بیڈ کراوں سے ٹیک لگائے بیٹھی ناخن کتر رہی تھی۔۔۔ پاس ہی اسکا لیپ ٹاپ اور جرنل کھلے پڑے تھے لیکن ۔۔۔۔ لیکن اسکا دھیاں ہی وہاں کہاں تھا۔۔۔ آج زبیر لغاری کی باتوں نے اسے بہت ڈرا دیا تھا۔۔۔ کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کے کیا کرے۔۔ کسے بتائے۔۔۔ زبیر لغاری کے بڑھتے قدموں کو روکنا بہت ضروری تھا۔۔۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ وہ اس پر ہاوی ہوتا جا رہا تھا۔۔۔
رہتی کسر صبح سے وقفے وقفے سے آتے اسکے میسجز نے ہوری کر دی تھی۔۔۔ ناجانے اسنے فاہا کا نمبر کہاں سے حاصل کیا تھا۔۔۔ پر ہر نئے آنے والے میسج کے ساتھ فاہا کو اپنے جسم سے روح پرواز کرتی محسوس ہو رہی تھی۔۔۔۔
اب بھی اگر کچھ دیر کے لئے یہ سلسلہ رکا تھا تو فوراً ہی بار بار پے در پے بجتی میسج ٹیون سے وہ اچھل کر سیدھی ہوئی۔۔۔ عجیب کیفیت تھی دل کی۔۔ اسنے کپکپاتے ہاتھوں سے موبائل اٹھا کر کھولا۔۔۔ واٹس ایپ پر لاتعداد میسجز تھے۔۔۔
اب اگر تم نے مجھ سے بات نا کی یا میرے میسجز کو نظر انداز کیا فاہا لودھی تو میں تمہارے گھر آ جاوں گا۔۔۔
آخری میسج پر نظر پڑتے ہی وہ بے دم ہوئی۔۔۔ گلے میں گلٹی سی ابھر کر معدوم ہوئی۔۔۔ اوپر کسی اور میسج کو پڑھنے کی اسکی ہمت ہی نا ہوئی۔۔۔پ
یہ شخص اسے بدنام کرنے پر تلا تھا۔۔۔ ناجانے کس کس چیز کا بدلہ لے رہا تھا وہ۔۔۔
اسے اے سی کی کولنگ میں بھی ماتھے پر پسینہ پھوٹتا محسوس ہوا۔۔۔
اسنے کپکپاتے ہاتھ کی پشت سے ماتھے کا پسینہ صاف کیا۔۔ دفعتاً پھر سے میسج کی ٹیون بجی۔۔۔
اپنے گھر کے بیک یارڈ میں آو۔۔۔ میں تمہارا انتظار کر رہا ہوں۔۔۔
میسج پڑھتے ہی خوف کی ایک لہر اسکی ریڑھ کی ہڈی میں سرائیت کر گئ۔۔ کپکپاتے ہاتھوں سے موبائل چھوٹ گیا۔۔۔۔
اگر مرتسم نے اس شخص کو اپنے گھر میں دیکھ لیا تو۔۔ آگے وہ سوچنا بھی نہیں چاہتی تھی۔۔۔ جسم پر بے طرح کپکپی طاری ہونے لگی تھی۔۔۔دل یوں ڈھرک رہا تھا جیسے ابھی سینے کی دیواریں توڑتا باہر آ جائے گا۔۔۔ وہ ننگے پاوں ہی آنچل سمبھالتی باہر کو لپکی۔۔۔
*****

No comments