Roshan Sitara novel 17th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Roshan Sitara novel 17th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Roshan Sitara is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels
Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front
of the world and improve their abilities in that field.
Roshan Sitara Novel by Umme Hania | Roshan Sitara novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Roshan Sitara novel by Umme Hania Complete PDF download
Online Reading
ناول "روشن ستارا"۔
مصنفہ "ام ہانیہ"۔
Official pg : Umme Hania official
سترہویں قسط۔۔۔
فائز علوی ہسپتال کے پرائیوٹ روم میں پیشنٹ بیڈ کے ایک طرف موجود صوفے پر بیٹھا کمر صوفے کی پشت سے ٹکائے ہاتھ کی مٹھی منہ پر رکھے گم صم سا ماہرہ کی جانب دیکھ رہا تھا جو اسے بھرپور نظر انداز کر رہی تھی۔۔۔ اور اسکی یہ ہی نظر اندازی ہی فائز علوی کو کچوکے لگا رہی تھی۔۔۔
ایک ہی کمرے میں ہونے کے باوجود بھی ماہرہ نے فائز کی جانب ایک مرتبہ بھی دیکھا تک نا تھا۔۔۔ اور ماہرہ کا یہ ناراضگی بھرا رویہ فائز کے اندر سناٹے اتار رہا تھا۔۔۔
ماموں جان اس پر جھکے محبت سے اس سے کچھ کھانے کا پوچھ رہے تھے جبکہ وہ مسلسل انہیں انکار کر رہی تھی۔۔۔ ہوش میں آنے کے بعد سے اسنے ابھی تک کچھ بھی کھایا پیا نا تھا۔۔۔ وہ مسلسل ڈرپس پر تھی۔۔۔
مامی ابھی تک گھر سے واپس نا آئی تھیں۔۔۔
کچھ دیر بعد ماموں کسی کام کی غرض سے کمرے سے نکلے تو فائز علوی دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر ایک مرتبہ پھر سے اسکے پاس آیا۔۔۔
جو بھی تھا ۔۔۔ ماہرہ اظہر اسے عزیز تھی۔۔۔ بچپن سے وہ اسے کسی تکلیف میں نہیں دیکھ سکتا تھا۔۔۔ آج بھی وہ اسے تکلیف میں نہیں دیکھ سکتا تھا۔۔۔ اور اس وقت وہ پھولوں سی نازک لڑکی تکلیف میں تھی۔۔۔ اسی لئے وہ ہر چیز پس پشت ڈالے اٹھ کر اسکے پاس آیا۔۔۔
کیسی طبیعت ہے اب ماہرہ۔۔۔ کیا تمہیں کچھ چاہیے۔۔۔ اس پر جھکا وہ اسکے ریشمی بالوں میں ہاتھ پھیرتا نرمی سے گویا ہوا۔۔۔
اس ایک لمحے میں وہ ہر مصلحت پس پشت ڈالے پھر سے ماہرہ کا وہی فائز بن گیا تھا جس کے لئے ماہرہ کی کہی بات حرف آخر ہوتی۔۔۔۔
وہی پرانا ہستا مسکراتا فائز۔۔ جیسے انکے بیچ کچھ ہوا ہی نا ہو۔۔۔ماہرہ نے نگاہوں کا مرکز موڑ کر اسے دیکھا۔۔۔ وہ اس پر جھکا نرمی سے مسکرا رہا تھا۔۔ چہرے پر تھکن تھی جیسے وہ میلوں کی مسافت تنہا طے کر آیا ہو۔۔۔
ف۔۔۔فائز۔۔۔ اسکے لب پھڑپھڑائے۔۔۔
ہاں بولو۔۔۔ وہ ہمہ تن گوش ہوا۔۔۔
میں گردن کو حرکت نہیں دے پارہی۔۔۔ اسے موڑ نہیں سکتی۔۔۔ اور اس سفید فین سیلنگ کو دیکھ دیکھ کر بور ہو گئ ہوں۔۔۔ تم مجھے دکھاو گے کہ اس کمرے میں میرے ارد گرد کیا ہے۔۔۔
فائز کی جانب دیکھ کر ٹھہر ٹھہر کر کہتی اسکی آواز میں حسرت تھی۔۔۔
فائز علوی جہاں کا تہاں رہ گیا۔۔۔
نہیں۔۔۔۔ ماہرہ اظہر اسے نظر انداز نہیں کر رہی تھی۔۔۔ وہ یہ کر ہی نہیں سکتی تھی۔۔۔ کیا وہ یہ کر سکتی تھی۔۔۔ پر وہ حالات کی ستم ظریفی تلے دب گئ تھی۔۔۔
فائز کے دل پر بوجھ بڑھا۔۔۔ ماہرہ کی گردن کا پچھلہ حصہ بری طرح متاثر ہوا تھا۔۔۔
اسنے نم آنکھوں سے سر ہاں میں ہلایا اور جیب سے موبائل نکال کر کمرے کے دروازے سے لے کر ارد گرد کی ساری ویڈیو بنائی اور اسکے پاس ہی کرسی کھینچ کر بیٹھتا اسے ویڈیو دیکھانے لگا۔۔۔
اور صبح سے تم کچھ کھا کیوں نہیں رہی۔۔۔ ماموں جان نے تم سے کتنی مرتبہ پوچھا۔۔۔ ویڈیو ختم ہوئی تو وہ موبائل بند کرتا مستفسر ہوا۔۔۔
کھایا نہیں جا رہا۔۔۔ گلہ درد کر رہا ہے۔۔۔ کچھ بھی چبانے کو منہ حرکت نہیں کرتا۔۔۔ وہ سادگی سے گویا ہوئی
اسکی ہر بات فائز علوی کے دل کا بوجھ بڑھا رہی تھی اسنے کرب سے آنکھیں بند کرتے ماتھا مسلہ۔۔۔
پچھلے واقعہ کی باتیں کلیئر کرنے کا وقت نہیں تھا۔۔۔ نا وہ واقعہ فائز نے چھیڑا نا ماہرہ نے اس پر کوئی بات کی۔۔۔
وقت کی نزاکت کے حوالے سے وہ دونوں خودبخود ہی ایک دوسرے کے قریب ہو گئے۔۔
اچھا کچھ کھاو مت پی ہی لو۔۔۔ ایسے کیسے چلے گا۔۔۔
کوئی جوس پی لو۔۔۔ یا پھر۔۔۔ یا پھر آئسکریم ۔۔۔ وہ پرسوچ انداز میں گویا ہوا۔۔۔
جوس۔۔۔ جوس ٹھیک رہے گا۔۔۔
پینے کی کوشیش کر کے دیکھوں گی۔۔۔ اگر پیا گیا تو۔۔۔ کیونکہ بھوک تو مجھے بھی لگ رہی ہے۔۔۔ وہ تو صدا سے تھی ہی وہی ماہرہ۔۔ جو اپنی چھوٹی سے چھوٹی بات بھی بلاجھجھک فائز سے شیئر کر لیتی تھی۔۔۔ یہ گریز کی دیوار تو فائز نے ہی قائم کی تھی۔۔۔
اسکی بات سن فائز نے سر ہاں میں ہلایا اور کمرے سے نکل گیا۔۔۔
کچھ ہی دیر میں اسکی واپسی جوس کے گلاس کے ساتھ ہوئی۔۔۔
اسنے سر کی جانب سے بیڈ اونچا کیا اور پائپ کی مدد سے اسے جوس پلایا۔۔۔
ایک گھونٹ پیتے ہی ماہرہ ہانپ گئ۔۔۔ یہ مشکل تھا۔۔۔ گلے سے چیز گزرتے ہی تکلیف کا احساس جاگتا۔۔۔
کوشیش کرو شاباش۔۔۔ تھوڑا سا اور پیو۔۔۔ انشااللہ تم بہت جلد شفایاب ہو جاو گئ۔۔۔
فائز کے ہمت دلانے پر وہ پھر سے ہمت پکڑتی پائپ کی مدد سے جوس کھینچنے لگی۔۔۔
فائز مسکرا کر اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔
عین اسی لمحے مامی دروازہ دھکیل کر اندر داخل ہوئیں۔۔۔ اور سامنے کا منظر دیکھتے ہی انکے تن بدن میں آگ سی لگ گئ۔۔
انکی طرف نظر پڑتے ہی فائز کی مسکراہٹ سمٹی۔۔۔
تم گھٹیا انسان آگے نا اپنی اوقات پر۔۔۔
موقعے پر چوکا مارنے کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے مت دینا تم۔۔۔۔۔ یہ ہی ہے تمہاری خصلت۔۔۔ حریص فطرت۔۔۔ بس کسی طرح سے اپنا مقصد پورا کر لو۔۔۔ وہ تحقیرانہ انداز میں پھنکارتی اس تک آئی اور جھپٹ کر اسکے ہاتھ سے جوس کا گلاس چھینا۔۔۔
کچھ جوس چھلک کر فائز کی شرٹ اور نیچے فرش کو بھی داغدار کر گیا۔۔۔
ماہرہ تڑپ کر رہ گئ جبکہ فائز علوی چٹختے دماغ کے ساتھ لب بھینچ گیا۔۔۔
ہسپتال کے اس کمرے میں اس موقع پر مامی کی کسی بھی بات کو طول دے کر جواب دینا مطلب سربازار تماشا بنوانا تھا۔۔۔
میں نے تمہیں پہلے ہی وارن کیا تھا کے میری بیٹی کا پیچھا چھوڑ دو ۔۔۔ دفع ہو جاو اسکی زندگی سے مگر تم ڈھیٹ۔۔۔
وہ ابھی حقارت سے ناجانے کیا کیا کچھ کہتیں جب وہ تنفر سے پلٹا اور بنا کچھ بھی کہے لمبے لمبے ڈگ بھرتا کمرے سے نکل گیا۔۔۔۔
باہر کاریڈور میں ہی اسے ماموں جان آتے دکھائی دے گئے اور وہ ضبط کے کڑے مراحل سے گزرتا انہیں سرسری سے انداز میں اپنے جانے کا بتاتا ہسپتال سے نکلتا چلا آیا۔۔۔ اس سے زیادہ وہ مروت بھی نبھا نہیں سکتا تھا۔۔۔
******
فاہا لودھی کو یونیورسٹی آتے دو مہینے ہو گئے تھے اور اب وہ کافی حد تک وہاں ایڈجسٹ بھی ہو گئ تھی۔۔۔ اب تو وہاں اسکی ایک دو دوستیں بھی بن گئ تھیں جس کے باعث وہاں دن گزرنے کا پتہ ہی نا چلتا۔۔۔۔
وہ دل لگا کر پڑھائی کر رہی تھی۔۔۔ اگر یونیورسٹیمیں اسے کوئی مسلہ تھا تو وہ تھا زبیر لغاری۔۔۔ جسکی بولتی نگاہیں آگے پیچھے اسکا احاطہ کرتی دکھائی دیتیں ۔۔۔۔ وہ جتنا ان نگاہوں سے بچنا چاہتی اتنا ہی وہ خود کو ہر دم ان نگاہوں کے حصار میں مقید پاتی۔۔۔
اب بھی یہ ہی ہوا کے کلاس ختم ہوتے ہی اسکی دوست نویں نے کینٹین چلنے کا کہا۔۔۔۔
تم جا کر آرڈر دو میں بس دو منٹوں میں یہ آخری پوائنٹ مکمل کر کے آئی۔۔۔ فاہا کے مصروف سے انداز میں کہنے پر نوین سر ہاں میں ہلاتی کینٹین کی جانب چلے گئ۔۔۔
کچھ ہی دیر بعد وہ اپنا کام مکمل کر کے وہاں سے نکلی تو کاریڈور میں آتے ہی دھک سے رہ گئ۔۔۔ سامنے ہی زبیر لغاری پلر سے ٹیک لگائے پاوں قینچی کی صورت بنائے بازو سینے پر باندھے اسے پرشوق نگاہوں سے دیکھ رہا تھا۔۔۔ جیسے وہ وہاں اسی کا منتظر کھڑا ہو۔۔۔
فاہا کا دل زور سے ڈھرکا۔۔۔ اسے اب زبیر لغاری کے انداز دیکھ گھبراہٹ ہونے لگی تھی۔۔۔
مرتسم اسے پہلے ہی پسند نہیں کرتا تھا۔۔۔ وہ اسے یونیورسٹی کا بدنام ترین گروپ کہتا تھا۔۔۔ ایسے میں اسکی یہ حرکتیں فاہا کے ہاتھ پاوں پھلا دیتیں۔۔۔ وہ جتنا ممکن ہوتا اسے نظر انداز کرنے کی کوشیش کرتی۔۔۔
کئ مرتبہ اسکا دل چاہا کے مرتسم کو سب بتا دے۔۔۔ لیکن یونیورسٹی کے پہلے ہی دن کی انکی لڑائی یاد آتی تو وہ سہم کر رہ جاتی۔۔۔
مرتسم لودھی اپنے خاندان کی لڑکیوں کے بارے میں پہلے ہی بہت پوزیسیو تھا۔۔۔
یہ ہی وجہ تھی کے اسنے ڈھرکتے دل کیساتھ زبیر لغاری کو نظر انداز کرتے آگے بڑھنا چاہا جب وہ اسکا ارادہ بھانپتا سرعت سے اسکے سامنے آیا۔۔۔
تم مجھے یوں نظر انداز کیوں کر رہی ہو فاہا۔۔۔ انداز یوں تھا جیسے دونوں میں بچپن کا یارانہ ہو۔۔۔
ایکسکیوز می۔۔۔ وہ حیرت زدہ سی گویا ہوئی۔۔۔
دیکھو فاہا۔۔۔ وہ دو قدم اسکی جانب بڑھا جب فاہا بدک کر پیچھے ہٹی۔۔۔ لبوں پر زبان پھیرتے گھبرائی نگاہوں سے ادھر ادھر دیکھا کے کہیں مرتسم تو نہیں۔۔۔۔
آپ دیکھیں مسٹر۔۔۔ آپ یہ سب کر کے کیوں میری کریڈیبیلٹی یونیورسٹی میں خراب کرنا چاہتے ہیں۔۔۔ وہ دل کڑا کر کے زرا سخت لہجے میں گویا ہوئی۔۔۔
زبیر لغاری نے سینے پر ہاتھ باندھتے دلچسپی سے اسے دیکھا۔۔۔
میں ایسا کچھ نہیں چاہتا۔۔۔ اسی لئے کہہ رہا ہوں کے دو گھڑی کہیں چل کر میری بات سکون سے سن لو۔۔۔۔
نہیں مجھے آپکے ساتھ کہیں نہیں جانا اور ناہی آپکی کوئی بات سننی ہے۔۔۔
اسکا لہحہ خدشات سے پر جبکہ انداز دو ٹوک تھا۔۔۔
ٹھیک ہے پھر تمہاری مرضی۔۔۔ نہیں چلنا تو مت چلو ۔۔۔ یہیں بات سن لو۔۔۔ وہ ڈھتائی سے مزید اسکی جانب بڑھا۔۔۔
فاہا نے ارد گرد دیکھا۔۔۔ جہاں وہ کھڑے تھے وہاں اکا دکا سٹودینٹس ہی تھے۔۔۔
تم سے بہت محبت کرنے لگا ہوں فاہا لودھی۔۔۔ تم آتی جاتی سانسوں کے لئے ناگزیر ہو چکی ہو۔۔۔ وہ دلنشین انداز میں کہتا مسکرایا۔۔۔
جبکہ چاہا کو اسکی باتوں سے وحشت ہونے لگی تھی۔۔۔ تمہیں اپنی زندگی میں شامل کر کے اپنا بنانا چاہتا ہوں۔۔۔ صبح شام تمہاری۔۔۔
Enough is enough...
مسٹر زبیر لغاری۔۔۔ وہ وحشتناک انداز میں گویا ہوئی۔۔۔ جسم پر کپکپی طاری ہونے لگی تھی۔۔۔
کیا یہاں کوئی مذاق چل رہا ہے۔۔۔
تمہیں میرے سچے جذبات مذاق لگ رہے ہیں۔۔۔ وہ سنجیدہ ہوا۔۔۔
فاہا نے بے طرح اپنا ماتھا مسلہ۔۔۔
یہ یونیورسٹی ہے یہاں ہم پڑھنے آتے ہیں۔۔۔ یہ کوئی لو پوائنٹ نہیں۔۔۔ غم و غصے سے اسکی آواز تک کپکپانے لگی۔۔۔
اسی لئے تو کہہ رہا ہوں کے مجھے اپنے گھر کا ایڈریس دے دو تاکے میں سیدھے طریقے سے تمہارے سرپرست 5سے تمہارا ہاتھ مانگ سکوں۔۔۔
اسکا لہجہ مسکاتا ہوا تھا۔۔۔
ایسے کیسے آپ میرے گھر تک پہنچ رہے ہیں۔۔۔ جب مجھے آپ میں سرے سے کوئی دلچسپی ہی نہیں۔۔۔ کیا یہ کوئی زبردستی ہے۔۔۔ اسے زبیر لغاری کا انداز طیش دلا رہا تھا۔۔۔
شاید وہ اسکے لہجے کی سچائی اور باتوں پر ایمان لے آتی۔۔۔ اگر پہلے ہی دن وہ واقعہ نا ہوا ہوتا یا وہ مرتسم لودھی کی اسکے بارے میں ناپسندیدگی اور انکی دشمنی کے بارے میں نا جانتی ہوتی۔۔۔ اور سب سے بڑھ کر تو ابھی تو دل نے ایک مغرور شخص کے نام پر ڈھرکنا شروع کیا تھا۔۔۔
ارےےےے۔۔۔ دلچسپی پیدا ہونے میں تھوڑی نا دیر لگتی ہے۔۔۔ تم موقع تو دو۔۔۔ وہ دلکشی سے مسکرایا ۔۔ جبکہ فاہا کی یہاں ہمت جواب دے گئ اور وہ اسکے پاس سے بھاگتی ہوئی گزرتی کینٹین کی جانب بڑھی۔۔۔
وہ بنا پلٹے اندھا دھند بھاگ رہی تھی جب سامنے سے آتے مرتسم لودھی سے بے طرح ٹکرائی۔۔۔۔
یا وحشت لڑکی۔۔۔ یہ یونیورسٹی ہے تمہارے گھر کا لان نہیں۔۔۔ آنکھیں گھر پر رکھ آنے کی چیز نہیں انہیں ساتھ لایا کرو۔۔۔ اور بروقت انکا استعمال بھی کیا کرو۔۔۔
وہ اسے گرنے سے بچانے کے لئے بازو سے جھکڑتا اسکے کان کے پاس غرایا۔۔۔
فاہا کا دل بھر آیا۔۔۔ پشیمانی حد سے سوا تھی۔۔۔ دل چاہا ابھی اس شخص کے پیچھے چھپ کر اسے سب کچھ بتا ڈالے۔۔۔
کیسا تحفظ کا احساس جاگتا تھا اس شخص کی موجودگی میں۔۔۔
اور اس زبیر لغاری کی موجودگی میں کیسے اس پر وحشت طاری ہو جاتی تھی۔۔۔ وہ انجانے میں ہی سہی ان دونوں کا موازنہ کرنے لگی تھی۔۔۔۔
کیا اب کھڑی کھڑی بت بن گئ ہو فاہا لودھی۔۔۔ تمہیں لے کر مجھے بہت سے تحفظات ہیں۔۔۔ ناجانے تم یونیورسٹی کے چار سال یہاں کیسے مکمل کرو گئ۔۔۔ اسکی آواز میں تاسف تھا جب وہ شرمندہ ہوتی چند قدم پیچھے ہٹی اور خاموشی سے سر جھکائے کینٹین کی طرف چل دی۔۔۔
******
علایہ جب سے گھر واپس آئی تھی جلتے انگاروں پر لوٹ رہی تھی۔۔۔ رہ رہ کر اسے اس گھمنڈی شخص کا طرز تخاطب یاد آتا تو خون میں شرارے ڈورنے لگتے۔۔۔
بابا ابھی گھر نہیں آئے تھے جبکہ مرتسم کے گھر آتے ہی ڈرائیور نے آج صبح کا سارا واقع اسکے گوش گزارا تھا جسے سنتے ہی وہ طیش میں آتا سیدھا علایہ کے ہی کمرے میں آیا۔۔۔
علایہ کیا ہوا تھا صبح ۔۔۔ بتاو مجھے۔۔۔ کچھ بھی چھپانے کی ضرورت نہیں۔۔۔۔
اسکے کمرے میں آتا ہی وہ اپنے اندر اٹھتے ابال پر قابو پاتا نرمی سے گویا ہوا۔۔۔ انداز میں بڑے بھائیوں سا مان تھا۔۔۔ اور علایہ جو صبح سے بھری بیٹھی تھی اسکے اس مان بھرے انداز میں اس سے لپٹتی پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔
بھائی وہ بہت بدتمیز گھٹیا اور احساس برتری میں مبتلا شخص تھا ۔۔۔ میری ساری رات کی محنت ضائع کر دی۔۔۔ میری اسائمنٹ پانی میں گرا دی۔۔۔ اوپر سے اس میں احساس ندامت نام کا نہیں تھا۔۔۔ اوپر سے مجھے کہہ رہا تھا یہ ٹکرانا اسائمنٹ گرانا یہ سب ڈھکوسلے ہیں توجہ حاصل کرنے کے۔۔۔
میرا دل چاہ رہا تھا اسکا منہ نوچ لیتی۔۔۔ کم ظرف گھٹیا انسان نا ہو تو۔۔۔
وہ ہچکیوں سے روتی اسے بتا رہی تھی۔۔۔ جبکہ مرتسم کا بس نا چل رہا تھا کے وہ شخص اسکے سامنے ہوتا تو وہ اسکا خون پی جاتا۔۔۔۔
بس بس۔۔۔۔ اسنے بہن کا سر تھپتھپایا۔۔۔ فکر مت کرو علایہ پتہ لگاتا ہوں کون تھا وہ شخص۔۔۔ مل گیا نا تو اسکا منہ تمہارے سامنے توڑوں گا۔۔۔۔
اور تمہیں گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں دوبارہ کبھی ایسی صورتحال پیش آئی نا تو وہیں کھڑی سب سے پہلا فون تم مجھے ہی کرو گئ۔۔۔
بھائی ابھی تمہارا زندہ ہے۔۔۔ ایسے گھٹیا لوگوں سے میں خود نمٹ لوں گا۔۔۔
مرتسم کے حوصلہ دیتے انداز و الفاظ نے اسکا سیروں خون بڑھایا تھا۔۔۔
صبح سے جو وہ جلتے انگاروں پر لوٹ رہی تھی یکدم ہی پرسکون ہو گئ تھی۔۔۔ اسکی طاقت اسکا بھائی اور باپ اسکے ساتھ تھے۔۔۔
ریلیکس ہو جاو اب علایہ۔۔۔ مجھے کچھ کام ہے میں رات میں تمہیں جوائن کرتا ہوں۔۔۔ وہ اپنے مسلسل بجتے موبائل کو دیکھ اسکا سر تھپتھپاتے باہر نکل گیا۔۔۔
فون وہاج کا تھا۔۔۔ وہ دونوں آج اپنے پڑاجیکٹ کے سلسلے میں فائز کے اپارٹمنٹ میں جانے والے تھے۔۔
*****

No comments