Roshan Sitara novel 16th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Roshan Sitara novel 16th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Roshan Sitara is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels
Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front
of the world and improve their abilities in that field.
Roshan Sitara Novel by Umme Hania | Roshan Sitara novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Roshan Sitara novel by Umme Hania Complete PDF download
Online Reading
ناول "روشن ستارا"۔
مصنفہ "ام ہانیہ"۔
Official pg : Umme Hania official
سولہویں قسط۔۔
فاہا لودھی یونیورسٹی جانے کے لئے تیار سیاہ عبایہ میں ملبوس حجاب کئے دائینینگ ٹیبل پر بیٹھی بعجلت ناشتہ کر رہی تھی۔۔۔ انداز ایسا تھا کے ابھی یونی بس کا ہارن سنائی دے اور وہ جھٹ سے وہاں سے بھاگ کھڑی ہو۔۔۔
دفعتاً کالج یونیفارم میں ملبوس عنایہ بھاگم بھاگ اپنے کمرے سے نکلی۔۔۔ سر پر چادر اوڑھ رکھی تھی جو وہ مرتسم کی خاص تنبیہ پر باہر آتے جاتے وقت لیتی تھی۔۔۔ بال ٹیل پونی میں مقید تھے جبکہ ماتھے پر گرے بینگز کی صورت کٹے بال ایک سائیڈ کو کر رکھے تھے۔۔۔
کندھے پر بیگ ڈالے ہاتھوں میں فائل تھامے وہ خاصی بوکھلائی سی تھی۔۔۔
سیڑھیاں اترتے مرتسم نے بازو کے کف لنکس بند کرتے بہن کی یہ جلد بازیاں ملاخظہ کیں۔۔۔
علایہ ناشتہ کر کے جاو۔۔۔۔ اسے خاموشی سے لاوئنج پار کرتا دیکھ ماں نے پیچھے سے پکارا۔۔۔
اوہ ہو۔۔۔ مام۔۔۔ وہ جھنجھلاتی ہوئی پیر پٹخ کر واپس پلٹی۔۔۔ فائل میز پر رکھی اور فاہا کی پلیٹ میں پڑا ٹوسٹ اٹھا کر بعجلت کھانے لگی۔۔۔ ساتھ ہی اسکا ہی جوس کا گلاس اٹھا لیا۔۔۔
فاہا نے مسکرا کر جبکہ مام نے خونخوار نگاہوں سے اسے دیکھا۔۔۔
عقل سے کام لو علایہ۔۔ سکون سے بیٹھ کر ناشتہ کرو۔۔ کوئی پیچھے نہیں لگا تمہارے۔۔۔ اور یہ کیا حرکت ہوئی کے تم بہن کی پلیٹ سے ہی ناشتہ اچکنے لگی۔۔۔ تمہیں وہ ناشتہ کرتی دکھائی نہیں دے رہی کیا۔۔۔ مام کے غصے سے بولنے پر وہ منہ بسورتی جوس کا گلاس منہ کو لگا گئ لیکن بیٹھی ابھی بھی نہیں۔۔۔
کوئی بات نہیں تائی امی۔۔۔ میں اور لے لیتی ہوں۔۔ فاہا نے مسکراتے ہوئے بریڈ اٹھا کر اس پر بٹر لگانا شروع کیا۔۔۔
بندہ اگر زرا وقت پر اٹھ جائے تو بعد میں اتنی ہربونگ تو نا مچانی پڑے۔۔۔۔۔ مرتسم نے جوس گلاس میں انڈیلتے مسکراہٹ لبوں میں دابے خالصتاً ماں کے انداز میں کہا تو علایہ نے ٹوسٹ بمشکل نگلتے جوس کا گلاس منہ سے لگاتے اسے گھورا۔۔۔
زیادہ نا میری اماں بننے کی ضرورت نہیں۔۔۔ منہ خالی کر کے وہ پھاڑ کھانے کے انداز میں گویا ہوئی۔۔۔
مرتسم قہقہ لگا کر ہس دیا۔۔۔ فاہا نے چونک کر اس مغرور انسان کو دیکھا جو قہقہ لگاتے ہوئے بہت خوبرو لگ رہا تھا۔۔۔
رات سے ہی دل کی دنیا کچھ بدلی بدلی سی تھی۔۔۔ وہ اپنی ہی دلی کیفیت پر گھبرائی ہوئی تھی ۔۔۔۔
ناجانے کیوں وہ شخص دل کو اچھا لگنے لگا تھا۔۔۔ حالانکہ اسکا انداز وہی تھا۔۔۔ سنجیدہ اور لیا دیا سا۔۔۔ نا بلا جواز بات کرنا اور نا ہی زیادہ دھیان دینا۔۔۔۔
اچھا سنو علایہ۔۔۔ جوس پیتا وہ علایہ کو جلد بازی میں بیگ کندھے پر ڈالتا دیکھ گویا ہوا۔۔۔
وہ گہری سانس خارج کرتی اسکی جانب متوجہ ہوئی۔۔۔۔۔جتنی اسے جلدی تھی جانے کی اتنی ہی دیر ہو رہی تھی۔۔۔ آج اسے اسائمنٹ جمع کروانی تھی اور جانے سے پہلے کچھ ڈاکومنٹس بھی کاپی کروانے تھے۔۔۔
فاہا آج سے یونیورسٹی تمہارے ساتھ آئے جائے گی۔۔۔ مجھے قطعاً پسند نہیں کے میرے گھر کی خواتین گھر میں گاڑیاں ہونے کے باوجود لوکل کنوینس استعمال کریں۔۔۔ اسکا انداز دو ٹوک تھا۔۔۔ فاہا کا دل دھک سے رہ گیا۔۔۔ وہ قول کا پکا تھا۔۔۔۔
مام اور ڈیڈ بھی ناشتے سے ہاتھ روک انہیں دیکھنے لگے۔۔۔
میں کیسے بھائی۔۔۔ ہمارا روٹ ہی الگ ہے۔۔۔۔ وہ پریشان ہوئی۔۔۔
روٹ الگ ہے تو وقت سے کچھ دیر پہلے نکل جاو۔۔۔ اسنے یہ مسلہ بھی چٹکیوں میں اڑایا۔۔۔
تم کیوں نہیں اسے پک اینڈ ڈراپ دے دیتے مرتسم۔۔۔ تم دونوں کی تو یونیورسٹی بھی ایک ہی ہے۔۔۔ ڈیڈ نے نیپکن سے ہاتھ صاف کرتے بات میں حصہ لیا۔۔۔
فاہا خاموش تماشائی بنی انہیں دیکھ رہی تھی۔۔۔
میں اسے پک اینڈ ڈراپ نہیں دے سکتا ڈیڈ کیونکہ میرا یونیورسٹی آنے جانے کا وقت فکس نہیں۔۔۔
کبھی میں عین اپنی کلاس کے حساب سے جاتا ہوں۔۔ کبھی مجھے یونی کے بعد کہیں اور جانا ہوتا ہے۔۔۔ میں یوں پابند نہیں ہو سکتا۔۔۔ اسنے سہولت سے انکار کیا۔۔۔
چلو پھر ٹھیک ہے صبح آفس جاتے ہوئے فاہا کو یونیورسٹی میں چھوڑ دیا کروں گا۔۔۔ ہمارا روٹ ایک ہی ہے۔۔۔ واپسی پر ڈرائیور علایہ اور فاہا دونوں کو پک کر لیا کرے گا۔۔۔ تایا جان نے مسلہ ہی ختم کر دیا ۔۔۔
چلو آجاو فاہا بیٹے۔۔۔ وہ سیٹ سے اٹھتے گویا ہوئے تو فاہا کے ساتھ ساتھ علایہ بھی باہر اپنی گاڑی کی جانب بڑھی۔۔۔
*****
ناشتے کے بعد مرتسم لودھی ماں سے ملتا کار پورچ میں آیا۔۔۔
مستند سا ڈرائیور اسکی جانب بھاگا آیا جب اسنے ڈرائیور کو منع کرتے اس سے پڑادو کی چابی لی اور گاڑی میں بیٹھتے ہی کانفرنس کال ملا ڈالی۔۔۔
کان میں بلو ٹوٹھ سیٹ کر کے موبائل پاس ہی رکھ لیا۔۔۔
ہاں مرتسم میرا کام تقریباً مکمل ہو گیا ہے۔۔۔ کال میں فائز نہیں۔۔۔ اسکی کزن کا کل ایکسیڈنٹ ہو گیا ہے اس لئے وہ ابھی تک ہسپتال میں ہے۔۔۔ اسکے کان میں وہاج خانزادہ کی آواز ابھری۔۔ وہ بھی غالباً گاڑی ڈرائیو کر رہا تھا۔۔
اوہ ہو۔۔۔۔ اس سے پوچھ لینا تھا کہ کسی مدد کی ضرورت تو نہیں۔۔ یا میں خود ہی اس کال کے بعد رابطہ کرتا ہوں اس سے۔۔۔مرتسم پریشان ہوا۔۔۔
اسکے حصے کی لینگویج کا سارا ڈیٹا بھی میں سوفٹ ویئر میں فیڈ کر چکا ہوں۔۔۔ میرا کام مکمل ہو چکا ہے۔۔۔ بس کچھ پرینٹس نکلوانے ہیں۔۔۔۔ وہاج نے بات کرتے گاڑی کی بریک لگائی وہ اپنی مطلوبہ جگہ پہنچ چکا تھا۔۔۔
کام میرا بھی مکمل ہے وہاج تمہیں میل کر دیا ہے میں نے انکے پرنٹس بھی نکلوا لینا۔۔۔
یاررر۔۔۔ پرنٹر میں نے آرڈر کر دیا ہے ایک دو دن تک آ جائے گا۔۔ ابھی ایک شاپ پر آیا ہوں ۔۔۔ پر بارش نے سارا کام تباہ کیا پڑا ہے۔۔۔ وہاج جھنجھلایا سا گاڑی سے نکلا جہاں سڑک پر جگہ جگہ بارش کا پانی جمع تھا۔۔۔ رات ٹھیک ٹھاک بارش ہوئی تھی۔۔۔ یہ ہی وجہ تھی کے موسم ابھی بھی خوشگوار تھا۔۔۔ ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں چل رہی تھیں۔۔۔
چلو ٹھیک ہے میں پرنٹس نکلوا لوں پھر بات ہوگی۔۔۔ وہاج فون بند کرتے بچتے بچاتے جگہ جگہ جمع پانی سے پھیلانگ کر گزرنے لگا۔۔۔
***""
بس بس بس۔۔۔۔ یہیں یہیں ڈرائیور انکل۔۔۔ آپ دو منٹ گاڑی روکیں میں بس دو منٹ میں ڈاکومنٹس کاپی کروا کر آئی۔۔۔
گاڑی کی بیک سیٹ پر بے چین سی بیٹھی علایہ نے فوٹو کاپی شاپ دیکھ کر بعجلت گاڑی رکوائی۔۔۔
پہلے صبح مام نے ناشتے کے چکر میں لیٹ کروا دیا اوپر سے آج اسائمنٹ جمع کروانے کی آخری تاریخ تھی۔۔۔ کل تقریباً رات دو بجے تک جاگ کر اسنے اپنی اسائمنَٹ مکمل کی تھی۔۔۔
میروں چادر میں اسکی رنگت مزید دمک رہی تھی۔۔۔ ماتھے پر بینگز کی صورت کٹے بال اس وقت ہربونگ میں ماتھے پر پھیلے ہوئے تھے۔۔۔ ایک ہاتھ سے سر پر اوڑھی شال سمبھالتی دوسرے سے اسائمنٹ فائل تھامے وہ گاڑی سے نکلی۔۔۔
شٹٹٹٹٹٹٹٹ۔۔۔۔ سامنے سڑک کے حالات دیکھتے وہ اچھا خاصا جھنجھلائی۔۔۔
یہ بارش نے بھی آج ہی کام خراب کرنا تھا۔۔۔ سامنے فوٹو کاپی شاپ تھی۔۔۔ وہ جھنجھلاتی ہوئی پانی سے بچ کر آگے بڑھی۔۔۔ ایک چھینٹا بھی اگر سفید یونیفارم پر گر جاتا تو بہت بد نما لگتا۔۔۔
اللہ اللہ کر کے وہ ڈاکومنٹ فوٹو کاپی کروا کر باہر نکلی ۔۔۔ اسائمنٹ فائل پر ہی کاپی شدہ ڈاکومنٹس بھی تھام رکھے تھے۔۔۔
جبکہ دوسرے ہاتھ کی مدد سے وہ بقیہ موصول ہوئے پیسے پاوچ میں ڈال رہی تھی۔۔۔
موسم خوشگوار تھا تبھی تیزی سے چلتی ہوا کے باعث سر پر اوڑھی چادر بار بار پھرپھڑا رہی تھی۔۔۔
ابھی وہ شاپس کے دروازے سے پوری طرح باہر نہیں نکلی تھی کے کسی سے زوردار قسم کا تصادم ہوا۔۔۔
پل بھر کو علایہ کی نگاہوں کے سامنے تارے گھوم گئے۔۔۔ گویا کسی سخت چٹان سے سر جا ٹکرایا ہو۔۔۔
ہواس زرا بحال ہوئے تو اسنے ماتھا سہلاتے آنکھیں وا کیں تو دل دھک سے رہ گیا۔۔۔ تصادم کے نتیجے میں ہاتھ میں موجود اسائمنٹ فائل اور ڈاکومنٹس اچھل کر دور جا گرے تھے
اپنی کل رات دو بجے تک جاگ کر بنائی جانے والی اسائمنٹ کو یوں سڑک کے پانی کی نظر ہوتے دیکھ اسکا اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا سانس نیچے رہ گیا۔۔۔
مائے گاڈ۔۔۔ اسے اپنا جسم بے جان ہوتا محسوس ہوا۔۔۔
ساکت آنکھوں کی پتلیوں میں نمی سمٹنے لگی۔۔۔۔
Its not my fault..Your attention was elsewhere..
مقابل صورتحال بھانپتے سیز فائر کے سے انداز میں ہاتھ کھڑے کرتا گویا ہوا۔۔
میری توجہ کہیں اور تھی تو آنکھیں تو آپکی بھی سلامت ہی ہیں نا۔۔۔ آپ تو دیکھ سکتے تھے نا۔۔۔ میری اسائمنٹ کی آج آخری تاریخ تھی۔۔ آدھی رات تک جاگ کر میں نے یہ بنائی اور۔۔۔
غم و غصے سے وہ پھٹ پڑی۔۔۔ حتی کے آواز تک رھند گئ۔۔۔ لیکن قلق تھا کے دل کا روگ بن رہا تھا۔۔۔ ساکت نگاہیں ہنوز پانی کے گڑھے پر تیرتے ان کاغذات پر تھیں جن پر موجود سیاہی اب اسی پانی میں مدغم ہو رہی تھی۔۔ اور علایہ لودھی بسی سے اپنی آدھی رات تک کی جانے والی محنت کو یوں گندے پانی کی نظر ہوتے دیکھ رہی تھی۔۔۔
I have already said that Its not my fault...
Excuse me...
مجھے دیر ہو رہی ہے۔۔۔
علایہ کی باتوں کا مقابل پراثر یہ ہوا کے وہ سارے معاملے میں خود کو بری الزمہ کہتا سارا ملبہ علایہ ہر گرا کر کندھے اچکاتا آگے بڑھ گیا۔۔۔۔
اسقدر بے حسی و لاتعلقی پر علایہ کا غم و غصے سے برا حال ہوا۔۔۔
احساس ندامت نام کی نہیں تھی اس مغرور انسان میں۔۔۔ کیا جاتا جو وہ ایک لفظ سوری بول دیتا۔۔۔ اسکا غصہ کچھ کم پڑ جاتا ۔۔۔ مگر اس شخص کی ڈھٹائی علایہ کا خون کھولا گئ۔۔۔
وہ بنا سوچے سمجھے جھٹکے سے واپس پلٹتی اس پر جھپٹی۔۔۔
یوووو۔۔ بلڈی۔۔۔۔۔
اسنے پیچھے سے اس شخص کی شڑٹ دبوچ کر کھینچا۔۔۔
میری پوری رات کی محنت ضائع کر دی اور تم میں شرمندگی نام کی نہیں۔۔۔
اس اچانک اور غیر متوقع افتاد پر وہ بوکھلایا مگر اس لڑکی کی حرکت اور الفاظ سن کر طیش سے اسکے خون میں ابال اٹھنے لگی۔۔۔ کنپتی کی رگیں تک چٹخنے لگیں۔۔۔
اس لڑکی کی اتنی جرات کے وہ سر بازار وہاج خانزادہ کے گریبان پر ہاتھ ڈالے۔۔۔
How dare you...
وہاج نے گرجتے ہوئے ایک ہی جھٹکے سے علایہ کے ہاتھ جھٹکے۔۔۔ جھٹکا اتنا شدید تھا کے وہ نا سمبھلتے ہوئے شاپ کے دروازے سے جا ٹکرائی۔۔۔
اس سبکی پر علایہ نے ضبط سے مٹھیاں بھینچتے ارد گرد دیکھا۔۔۔
صد شکر کے صبح صبح کا وقت ہونے کے باعث اتنا رش نا تھا۔۔۔
سڑک چل رہی تھی لوگ آ جا رہے تھے۔۔۔ کوئی انکی جانب متوجہ نا تھا۔۔۔
اپنی اوقات میں رہو محترمہ۔۔۔ تم جیسی دو ٹکے کی لڑکیوں کی فطرت سے میں باخوبی آ گاہ ہوں۔۔۔ انگلی اٹھا کر خونخوار انداز میں کہتا وہ گرجا کے ایک پل کو تو علایہ کی سٹی بھی گم ہو گئ۔۔
کہیں ہندسم لڑکا دیکھا نہیں اور شہد کی مکھیوں کی مانند اس سے چپکنے کھڑی ہو جاتی ہو۔۔۔۔۔
یہ محنت ضائع جانے کا ڈھونگ۔۔۔ ٹکرانے کا ڈرامہ۔۔۔توجہ حاصل کرنے کی کوشیشیں۔۔۔ یہ سب صرف نظروں میں آنے اور جان پہچان بڑھانے کے گھٹیا طریے ہیں۔۔۔
اسکی آواز میں اتنی کاٹ حقارت اور زہریلہ پن تھا کے علایہ کو اپنی پور پور ان زہریلے نشتروں کے باعث نیل و نیل ہوتی محسوس ہوئی۔۔
سبکی و تزلیل کے احساس سے سپید رنگت سرخی چھلکانے لگی۔۔۔
تم جیسی دو ٹکے کی لڑکیاں۔۔۔
شٹ آپ۔۔۔ جسٹ شٹ اپ ۔۔۔ علایہ سیدھی ہوتی حلق کے بل چلائی۔۔۔
مجھے دو ٹکے کی لڑکی کہنے والے گھٹیا لوفر ٹھرکی انسان۔۔۔ ہے کیا تم میں جو میں۔۔۔ غصے سے کپکپاتی آواز میں اپنی جانب انگلی کی۔۔۔ میں ۔۔۔ علایہ لودھی۔۔۔ تم جیسے سڑک چھاپ کی توجہ حاصل کرنے کی کوشیش کروں گی۔۔۔
اکڑ کس چیز کی ہے تم میں۔۔۔ ہو کیا چیز تم۔۔۔ تم جو کوئی بھی ہو علایہ لودھی کی جوتے کی نوک پر۔۔۔
وہ غصے میں آپا کھوتی چٹخ کر گویا ہوئی۔۔۔
وہ ہوتا کون تھا اسکی ذات پر کیچر اڑانے والا۔۔۔
یوووو۔۔۔ وہاج خانزادہ ۔۔۔ جو ہر بات میں اتنا کول مائنڈد اور ہس مکھ مزاج کا تھا کے روتوں کو ہسا دیتا۔۔۔ اس لڑکی کی بدکلامی سن کر اسکا دماغ گھوم چکا تھا۔۔۔ تِبھی اسکے صنف نازک ہونے کے احساس کو بھی فراموش کرتا اس پر جھپٹا۔۔۔
اس سے پہلے کے وہ اس نازک سی لڑکی کو اپنے آہنی شکنجے میں لے کر ٹور مڑور دیتا۔۔۔ جھگڑا بڑھتا دیکھ شاپ سے نکلتے مردوں نے وہاج کو خود میں جھکڑتے علایہ سے دور کیا۔۔۔
جبکہ علایہ اس ساری صورتحال پر اب سوکھے پتے کی مانند کپکپاتی بہتی آنکھوں سے اس سنکی پاگل اور احساس برتری میں مبتلا شخص کو دیکھ رہی تھی۔۔۔
علایی بی بی آپ چلیں۔۔۔ جھگڑے کی خبر اسکے ڈرائیور تک بھی پہنچی تو وہ ہانپتا کانپتا اس تک پہنچا اور علایہ کا ہاتھ تھامے اسے گاڑی کی جانب لے کر بڑھا۔۔۔
غصے سے علایہ کا برا حال تھا۔۔ آج جو ہوا وہ ناقابل برداشت تھا۔۔۔
وہ شخس اسے زہر سے بھی برا لگا تھا۔۔۔
قسمت مجھے ایک دفعہ موقع دے دے۔۔۔ تم سے ایک ملاقات اب ناگزیر ہے مسٹر ایکس وائے زید۔۔۔ کہیں منہ دکھانے کے لائق نہیں چھوڑوں گی۔۔۔ تم دیکھتے رہنا۔۔۔
گاڑی میں بیٹھتے ہی وہ چہرا ہاتھوں میں چھپاتی پھوٹ پھوٹ کر روتی اس شخص کو تہس نہس کرنے کے منصوبے بنا رہی تھی۔۔۔
ڈرائیو کو وہ گاڑی واپس گھر کی جانب موڑنے کا پہلے ہی کہہ چکی تھی۔۔۔
*****
وہاج خانزادہ نے ایک جھٹکے سے خود کو ان مردوں کی گرفت سے چھڑوایا اور غصے سے تن فن کرتا اپنی گاڑی میں اکر بیٹھا۔۔۔
گاڑی کو ہواوں میں آراتا وہ چٹختے اعصاب کیساتھ یونیورسٹی پہنچا۔۔۔
گاڑی پارکنگ میں کھڑے کرتے ہی اسنے ڈھار سے دروازہ بند کیا۔۔۔
مرتسم جو پپارکنگ میں ہی اسکا منتظر تھآ اسکے یوں بگًڑے مزاج دیکھ تعجب سے اسکے پاس آیا۔۔۔
کسی کے مزاج بڑے برہم لگ رہے ہیں۔۔۔جناب خیریت0
اسنے وہاج کے کندھے ہر ہاتھ رکھتے شوخ سے لہجے میں چھیڑا۔۔۔ کہ وہاج اور غصہ۔۔۔ دونوں متضاد چیزیں تھیں۔۔۔
میرا بس نہیں چل رہا مرتسم میں اس بدتمیز لڑکی پر پٹرول چھڑک کر اسے آگ لگا ڈالوں۔۔۔
حد ہوتی ہے بدتمیزی کی۔۔۔ وہ بدلحاظ بد زبان لڑکی میرے گریبان تک جا پہنچی۔۔۔ وہاج خانزادہ کے۔۔۔ وہ کبھی بالوں میں ہاتھ پھیرتا کبھی سینے ہر مکہ مارتا غصے میں ضنط کھو رہا تھا۔۔۔
ٹھںڈا ہو جا یار۔۔۔ ٹھنڈا ہوجا۔۔۔ اتنا غصہ صحت کے لئے اچھا نہیں۔۔۔ اور وہ بھی کسی صنف نازک کے لئے۔۔۔ معاملہ کیا ہے۔۔۔
اور تم جیسے ٹھنڈے دماغ کے حامل شخص کو بھی غصہ آسکتا ہے بھلا۔۔۔
نا قابل یقین۔۔۔ مرتسم نے اسکے شانے پر ہاتھ پھیلا کر اسے ساتھ لگاتے اسکا لال بھبھوکا چہرا دیکھا۔۔۔
جتنی بدتمیز اور بدلحاظ وہ لڑکی تھی ۔۔۔ وہ اچھے اچھوں کا دماغ خراب کر سکتی تھی۔۔۔۔ خود مجھ سے ٹکرائی اور خود ہی تماشہ لگاتے میرے گریبان پر ہاتھ ڈالنے لگی۔۔
اسنے پھر سے بالوں پر ہاتھ پھر کر لبوں پر زبان پھیرتے خود کو کمپوز کرنا چاہا۔۔۔
ایک دفعہ مل جائے وہ لڑکی۔۔۔ صرف ایک بار۔۔۔ اسکے ہاتھ نا کاٹ دیئے میں نے تو کہنا۔۔۔
او بس کر دے بھائی۔۔۔ بس کر دے۔۔۔ لڑکیوں کے معاملے میں اتنا گرم نہیں ہوتے۔۔۔ مرتسم نے اسے سمجھانا چاہا تا کے اس واقعہ کے نقش اسکے دماغ سے مٹا سکے۔۔۔۔ اسنے وہاج کو کبھی اتنے غصے میں نا دیکھا تھا اسے اپنا وہی جولی دوست ہی پسند تھا۔۔۔
مگر وہاج تو شاید کچھ اور ہی ٹھانے تھا۔۔۔ ذہن کے ہردوں سے وہ میروں چدر کے ہالے میں دمکتا عکس مٹ ہی نا رہا تھا۔۔۔
**"""""****

No comments