Roshan Sitara novel 15th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Roshan Sitara novel 15th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Roshan Sitara is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels
Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front
of the world and improve their abilities in that field.
Roshan Sitara Novel by Umme Hania | Roshan Sitara novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Roshan Sitara novel by Umme Hania Complete PDF download
Online Reading
ناول "روشن ستارا"۔
مصنفہ "ام ہانیہ"۔
Official pg : Umme Hania official
پندرہویں قسط۔۔۔۔
پریہا اعظم جو دوپہر سے لودھی ہاوس آئی تھی شام کے سائے بدل کر رات میں مبذول ہونے پر بھی ابھی تک وہیں تھی ۔۔۔۔ شاید یہاں آ کر وہ گھر جانا بھول ہی جاتی تھی۔۔۔ اور اس لڑکی کی موجودگی میں فاہا اس گھر میں بہت غیر آرام دہ محسوس کرتی ۔۔ پریہا ہمہ وقت اپنے ہی زعم میں رہنے والی دوسروں کو جوتے کی نوک پر رکھنے والی سٹیٹس کانشیئس لڑکی تھی۔۔ یہ ہی وجہ تھی کے تب سے جو فاہا اپنے کمرے میں آئی تو دوبارہ باہرنکلی ہی نہیں۔۔۔ کیونکہ وہ پہلے بھی ایک دو بار پریہا کی زبان کے جوہر سن چکی تھی۔۔۔۔اب بھی اسے شدید بھوک کا احساس جاگا تو وہ ناچاہتے ہوئے بھی کمرے سے نکلنے پر مجبور ہو گئ۔۔۔ ایک تو علایہ نے بھی اسکے کمرے میں جھانک کر دیکھا تک نا تھا۔۔ وہ ہی آ جاتی تو اس سے ہی کچھ نا کچھ کھانے کو منگوا لیتی۔۔۔
ایک تو ناجانے کیوں اسے خنجر کی مانند چلتی زبان سے اتنا خوف محسوس ہوتا تھا جو چلنے سے پہلے آگے پیچھے کچھ نا دیکھتی تھی۔۔۔ وہ اسی بات پر یقین رکھتی تھی کے کیچر میں پتھر مار کر دامن اپنا ہی داغدار ہوتا ہے اس لئے وہ ایسے سبھی لوگوں سے دامن بچا کر ہی گزرتی جو زبان کھولنے سے پہلے ایک مرتبہ نہیں سوچتے تھے۔۔۔۔
یوں چھپ کر بیٹھنا تھوڑی نا کسی مسلے کا حل ہے۔۔۔ اور آخر میں کب تک یوں چھپ کر بیٹھوں گی اور کس کس سے۔۔۔
نہیں فاہا لودھی۔۔۔ تمہیں ہمت تو دکھانی ہی پڑے گی۔۔۔ وہاں ہونیورسٹی میں زبیر لغاری اور یہاں یہ پریہا اعظم۔۔۔ آخر میں کہاں کہاں سے بھاگوں گی۔۔۔
دل کڑا کر کے وہ کمرے سے نکلی پریہا اعظم لاوئنج میں ٹانگ پر ٹانگ جمائے بیٹھی کسی میگزین کی ورق گردانی کر رہی تھی سامنے ہی دیوار گیر ایل سی ڈی پر کوئی فشن شو چل رہا تھا اور ماڈلز ریمپ پر آتیں ماڈلنگ کر رہی تھیں۔۔۔
وہ اس گھر میں آ کر یوں رہتی تھی جیسے یہ گھر ہو ہی اسکا۔۔۔
فاہا نے اسے نظر نداز کرتے کچن کی جانب بڑھنا چاہا۔۔۔
ہیے پینڈو پروڈکشن سنو۔۔۔ پریہا کی اچانک چابک کی مانند لگتی آواز پر وہ وہیں رکتی ضبط کے کڑے گھونٹ پیتی مٹھیاں بھینچ گئ۔۔۔۔
اچھا ہوا تم آگی۔۔۔ پہلے میرے لئے کافی بنا کر لاو۔۔۔ اسکی آواز کی رعونت اور تمکنت فاہا کے خون تک جلا گئ۔۔۔ بہت کچھ کہنے کی کوشیش میں الفاظ ہونٹوں تک آئے مگر وہ گہری سانس خارج کرتی لب بھینچ گئ۔۔۔
وہ اس وقت اپنی تائی کے گھر تھی اور سامنے بیٹھی لڑکی اسکی تائی کی چہیتی تھی۔۔۔
گو کے تائی ہمیشہ اس سے بھی بہت محبت سے پیش آتی تھیں مگر بھانجی میں بھی انکی جان بستی تھی۔۔۔ اور وہ یہاں اپنی وجہ سے کوئی بدمزگی نہیں چاہتی تھی۔۔۔
وہ اندر ہی اندر کڑھتی پیچ و تب کھاتی کچن میں آگئ۔۔۔ وہ بات بڑھانے والوں میں سے نا تھی لیکن سامنے والے کو اس بات کا احساس ہی نا ہوتا تھا۔۔۔ اور پریہا اعظم تو اسے نیچا دکھانا اپنا فرض سمجھتی تھی۔۔۔۔
کچن میں آنے تک غصے سے کڑھنے کے باعث اسکی بھوک ویسے ہی مر گئ تھی۔۔۔ غصے نے بھوک کا احساس تک مارڈالا تھا۔۔۔
اسنے غصے سے کھولتے فریج کھولا۔۔۔ فریج میں پڑے فروٹ سیلڈ کے باول کو دیکھ کر اسنے غصے کو فلحال پڑے دھکیلا اور وہیں کرسی کھینچ کر بیٹھتی پہلے فروٹ سیلڈ سے انصاف کرنے لگی۔۔۔
فروٹ سیلڈ کھا کر اسنے باقی کا باول فریج میں رکھا اور انرجی ڈرنک کا ٹین پیک نکال کر پینے لگی۔۔۔ ساتھ ساتھ وہ نا چاہتے ہوئے بھی پریہا کے لئے کافی پھینٹنے لگی۔۔۔
بیزاری سے کافی بناتے اسے کچھ وقت لگا۔۔۔
کپ کو پرچ میں رکھ کر وہ کچن سے نکل آئی۔۔۔
یہ لیں آپکی کافی۔۔۔ بھرپور کوشیش سے اسنے اپنی آواز میں غصے کو ظاہر نا ہونے دیا۔۔۔ ورنہ دل میں تو ابال اٹھ رہے تھے۔۔۔
پریہا میگزین بند کر کے بال جھٹکتی اسکی جانب متوجہ ہوئی۔۔۔ ٹانگ سے ٹانگ ہٹائی اور آنکھیں چندہی کئے فاہا کے ہاتھ میں تھامے کافی کے کپ کو دیکھا۔۔۔
مس پینڈو پروڈکشن تمہیں کافی سرو کرنے کی تمیز نہیں۔۔ مانا کے ہو ہینڈو پر اوقات سے ظاہر کرنا لازم ہے کیا۔۔۔ اسکے ماتھے پر بڑھتی شکنوں کے ساتھ ساتھ لہجے کی حقارت نے فاہا کو گنگ کر ڈالا۔۔۔۔اسنے اڑی اڑی رنگت سے ہاتھ میں تھامے کپ کو دیکھا جس میں کچن سے نکلتے وقت چند چھینٹے پرچ میں چھلک گئے تھے۔۔۔
فاہا کا دل چاہا یہ کافی کا مگ ابھی اسکے سر پرانڈیل دے۔۔۔ جسےبات کرنے تک کی تمیز نا تھی۔۔۔ اتنی بکواس کرنے کے بعد پریہا اعظم اس پر احسان عظیم کرتی تنک کر وہی کافی کا مگ اٹھانے لگی۔۔۔ فاہا خون کے گھونٹ پی کر رہ گئ۔۔۔ جب نخرے اتنے تھَے محترمہ کے تو کافی اٹھا کیوں رہی تھی بھلا۔۔۔
لیکن اس سے پہلے کے وہ کافی کا مگ اتھاتی کسی اور نے فاہا کے ہاتھ میں تھامی پرچ سے وہ مگ اٹھا لیا۔۔۔
پریہا نے چونک کر جبکہ فاہا نے حیرانگی سے اس شخص کو دیکھا۔۔۔
وہ مرتسم لودھی تھا۔۔۔ جینز پر ہاف بازو جسم سے چپکی کاٹن کی شرٹ پہنے جس میں اسکے مسلز واضح ہع رہے تھے اور اوپری دو بٹن کھلے تھے۔۔۔ وہ لاپرواہی سے ہاتھ میں تھامے کافی کے مگ کی چسکی بھرتا پریہا کی جانب متوجہ ہوا۔۔۔
تمہیں اپنے گھر میں کافی نہیں ملتی کیا۔۔۔ یا سکون نہیں ملتا ۔۔۔ جو تم ہر دوسرے دن اس گھر میں ہوتی ہو۔۔۔ وہ غالباً ابھی ابھی کہیں باہر سے آیا تھا۔۔۔ اور فاہا کو تو وہ اس وقت اپنے لئے کسی غیبی مدد سے کم نا لگا۔۔۔
آور آتی ہو سو آتی ہو اس گھر کا ماحول خراب کرنے کی اجازت تمہیں کس نے دی۔۔۔
گھر میں ایک سو ایک ملازم ہیں۔۔۔ تمہیں کافی بنوانے کو کوئی اور نا ملا۔۔۔ تمہاری جرات کیسے ہوئی ہماری گھر آئی مہمان کے ساتھ ناروا سلوک روا رکھنے کی۔۔۔
مرتسم لودھی کے پاس چابک نہیں تھا۔۔۔ اسکی زبان ہی چابک تھی جو مقابل پر کارے وار کرتی تھی۔۔۔ فاہا لودھی کو اگر پریہا اعظم کی زبان سے ڈر لگتا تھا تو وہی ڈر اس وقت پریہا کے چہرے پرمرتسم لودھی کی زبان کے جوہر سن کر امڈا آیا تھا۔۔
مرتسم لودھی نے ادھار رکھنا تو سیکھا ہی نا تھا۔۔۔ پھر چاہیے مقابل کوئی بھی کیوں نا ہو۔۔۔
میرا وہ مطلب نہیں تھا مرتسم۔۔۔ میں نے تو بس کافی۔۔۔
وہ بات سمبھالنے کو گھگھیائی۔۔۔ اسنے مرتسم کو اتنے غصے میں پہلی مرتبہ دیکھا تھا۔۔۔
👲👨
تمہارا مطلب جو بھی تھا پریہا ۔۔۔ مجھے اس سے غرض نہیں۔۔ اگر یہ بندی اسوقت یہاں اس گھر میں موجود ہے تو ہماری ذمہ داری پر۔۔۔ آئندہ ہمارے مہمانوں کے ساتھ ناروارویہ روا رکھنے پر مجھ سے کسی بھلائی کی امید مت رکھنا پریہا میڈم۔۔۔ اسکے لہجے کی کاٹ کو محسوس کرتے پریہا کا چہرہ سبکی کے احساس تلے سرخی چھلکانے لگا۔۔۔
اس دو ٹکے کی لڑکی کے سامنے اس عزت افزائی پر وہ رو دینے کو ہوئی۔۔۔ اسکا بس نا چلا کے فاہا لودھی کو یہاں سے کہیں غائب کر دیتی۔۔۔
وہ غصے سے تن قن کرتی اپنا شولڈر بیگ اٹھاتی وہاں سے نکل گئ۔۔۔
جبکہ خفت زدہ سی فاہا نے بھی وہاں سے کھسکنا چاہا۔۔۔۔
چلو آج ایک غلط فہمی تو دور ہو گئ کے مرتسم لودھی کو اس سے کوئی دشمنی نا تھی۔۔۔ بس اسکی زبان کے سامنے خندق تھی لحاظ رکھنا اسنے سیکھا ہی نا تھا۔۔۔
قینچی کی طرح کتر کتر کرتی تمہاری زبان محض میرے سامنے ہی چلتی ہے کیا۔۔ باقی سب کے سامنے اسے ادھار دے آتی ہو کیا۔۔۔ وہ کافی کی چسکیاں لیتا اب فرصت اسکے گرد ہوا۔۔۔
فاہا نے خاموشی میں عافیت جانی۔۔۔
بے مقصد اور فضول میں اس ٹرٹر کو چلانے کی بجائے اسے ضرورت کے وقت چلاو تو شاید یہ تمہیں بھی فائدہ دے جائے۔۔۔ وہ تاسف سے سر نفی میں ہلاتا آگے بڑھ گیا۔۔۔
جبکہ فاہا اسکی چوڑی پشت کو تکتی رہ گئ۔۔
زندگی میں پہلی مرتبہ وہ شخص اسے برا نہیں لگا تھا۔۔۔ بلکہ نڈر اور حق بات کرنے والا لگا۔۔۔
پہلے بھی اگر فاہا کو اسکی باتیں اور وہ شخص بذات خود برا لگا تھا تو اسکے اپنی ذات کے متعلق بولے جانے والے کڑوے سچ کی وجہ سے۔۔ اور آج۔۔۔ آج بھی وہ شخص اگر اسے اچھا لگا تھا تو اسکے بے ڈھرک ٹکڑا توڑ انداز میں بات کرنے کے انداز پر۔۔۔۔ یکدم ہی وہ اکھڑا اکھڑا سا شخص اسے دل کے بہت قریب لگا۔۔۔
کاش وہ بھی کبھی مرتسم لودھی جیسی کھڑی نڈر اور بنا بچکچائے حق بات کہنے والی بن پاتی۔۔۔ دل یکدم ہی اس مغرور شخص کی خوبیوں کا معترف ہوا تھا۔۔۔
*****
فائز علوی ابھی تک آئی سی یو کے باہر سپتال کی راہداری میں موجود بینچ پر بیٹھا ویران آنکھوں سمیٹ کسی غیر مری نقطے کو تکتا ماہرہ کے ہوش میں آجانے کا بے صبری سے منتظر تھا۔۔۔
ماموں کی بگڑتی طبیعت دیکھ وہ انہیں باامر مجبوری گھر بھیج چکا تھا جبکہ مامی ماہرہ کے پاس اندر تھی۔۔۔ یہ ہسپتال بہت سی سہولیات سے آراستہ تھا ۔۔۔۔
وہیں بینچ پر ایک ہی پوزیشن میں بیٹھے بیٹھے آدھی رات گزر گئ تھی جب اس پر نقاہت طاری ہونے لگی۔۔۔ وہ کل سارے دن کا بھوکا تھا۔۔۔ رات بھی ماموں کا فون آ جانے کے باعث وہ بنا کچھ کھائے ہی ماہرہ کی تلاش کو ڈور پڑا تھا جبکہ خون دینے کے بعد سے اب زیادہ نقاہت محسوس ہونے لگی تھی ۔۔۔
آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھاتا محسوس کر کے وہ اٹھ کر ہسپتال کی کینٹین کی جانب بڑھا کے خالی پیٹ وہ کچھ بھی نہیں کر سکتا تھا۔۔۔ وہاں سے سینڈویچ اور جوس لے کر کھانے کے بعد وہ واپس وہیں آ گیا۔۔۔
تقریباً اگلے روز کہیں جا کر ماہرہ کو ہوش آیا تھا۔۔۔
وہ ابھی تک ماہرہ کے سامنے جانے کی ہمت خود میں مفقود پا رہا تھا البتہ وہ نہایت بے بسی کے عالم میں پاوں جھلاتا لب بھینچے اندر سے آنے والے ماہرہ کی دردناک چیخیں سن رہا تھا۔۔۔
وہ جب تک بےہوش تھی سب ٹھیک تھا۔۔۔ ہوش میں آتے ہی وہ درد کی انتہا سے بلبلانے لگی تھی۔۔۔
سر اور گردن کے پچھلے حصے پر شدید چوٹیں آئیں تھیّ جنکی تکلیف اسکی برداشت سے باہر تھی۔۔۔ اندر لیٹی وہ درد سے ٹرپ رہی تھی جبکہ باہر تک آتی اسکی آہ و بکا فائز علوی کے دل پر برچھیاں چلا رہی تھی۔۔۔ کہیں نا کہیں وہ خود کو ماہرہ کا گناہگار تصور کر رہا تھا۔۔۔ نا وہ اتنی دلبرداشتہ اور اخلاق سوز باتیں اسے کہتا اور نا وہ منتشر حواسوں کے ساتھ روڈ پر پر جاتی ان حالوں کو پہنچتی۔۔۔
اندر فوری طور پر ڈاکٹر اور نرسیں اسکی بگڑتی طبیعت کے باعث اسے ٹریٹمنٹ دینے گئے تھے۔۔۔ کچھ دیر بعد اسکی دردناک چیخیں کم ہوتی ہوتی ختم ہو گئیں غالبااً وہ پین کلرز اور نیند کی ادویات کے باعث دوبارہ سے غنودگی میں جا چکی تھی۔۔۔
******
فاہا لاوئنج سے سیدھی علایہ کے کمرے میں ہی آئی۔۔ ڈھار سے دروازہ کھول کر وہ اندر دخل ہوئی تو سٹڈی ٹیبل پر بیٹھی بری طرح پڑھائی میں منہمک علایہ نے دہل کر سینے پر ہاتھ رکھا۔۔۔
اللہ۔۔۔۔ فاہا ۔۔۔۔بندہ آرام سے ہی آ جاتا ہے۔۔۔ کیا تمہارے پیچھے چور لگے ہیں۔۔۔ وہ تاسف سے کہتی پھر سے اسائمنٹ شیٹ پر جھک گئ۔۔۔
یہ کیا کر رہی ہو تم علایہ۔۔۔ جب سے کالج سے آئی ہو اپمے کمرے میں گھسی بیٹھی ہو۔۔۔ چلو باہر لان میں چلتے ہیں میں بہت بور ہو رہی ہوں۔۔۔۔ وہ جھنجھلائی سی گویا ہوئی۔۔۔ وہ چاہ کر بھی اسے بتا نا سکی کے پریہا باجی کی لائیو واٹر پروف بے عزتی کے بعد وہ تنہا اسکے سامنے نہیں جانا چاہتی کے جو بھی ہو پانی آتا ہمیشہ دھلوان کی جانب ہی ہے۔۔۔ یہ نا ہو کے وہ اسے اپنے سامنے تنہا پا کر اپنی ساری کھولن اسی پر اتار دے۔۔۔
ارے ۔۔۔۔ نہیں۔۔۔نہیں فاہا۔۔۔ یار صبح اسائمنٹ جمع کروانے کی آخری تاریخ ہے۔۔۔ اور بہتتتتت کام باقی ہے۔۔۔ کیونکہ میراشمار پاکستان کی اس عوام میں ہوتا ہے جو کام کو آخری وقت تک لٹکاتے ہیں اور پھر سر پکڑ کر بیٹھے ہوتے ہیں۔۔۔ ابھی تو سر اٹھانے کا وقت نہیں۔۔۔ کل کالج جانے سے پہلے مجھے یہ مکمل کرنی ہے۔۔۔ وہ بنا اسکی طرف دیکھے گویا ہوئی۔۔۔ البتہ ساتھ ساتھ اسکے ہاتِھ بھی تیزی سے چل رہے تھے۔۔۔
فاہا اسے بری طرح کام میں منہمک دیکھ منہ بناتی اسکے کمرے سے نکل آئی۔۔۔
*****
دوپہر میں ماموں واپس ہسپتال آ گئے تو انہوں نے بضد مامی کو گھر واپس بھیج دیا کے شام تک وہ گھر جا کر آرام کر لیں اور پھر دوبارہ سے واپس آ جائیں۔۔۔ پہلے تو وہ نہیں مانیں لیکن ماموں کے سمجھانے پر وہ کچھ دیر کے لئے گھر چلی گئیں کے ماہرہ کے لئے کچھ ہلکا پھلکا سا کھانا اپنی زیر نگرانی تیار کروا لیں گی۔۔۔
بیٹا تم بھی کچھ دیر کے لئے گھر جا کر آرام کر آو۔۔۔ مامی کو بھیجنے کے بعد ماموں اسکے پاس آتے اسکے شانے پر ہاتھ رکھتے مسکرا کر گویا ہوئے۔۔۔ کل سے فائز کی ذات سے انہیں بہت سہولت ہوئی تھی۔۔۔ وہ بنا کہے ہی انکی ساری ذمہ داری اپنے کندھوں پر لے گیا تھا۔۔۔ اب وہ اسکی تھکن زدہ سی صورت دیکھتے گویا ہوئے تو وہ اداسی سے مسکرا کر رہ گیا۔۔۔
میں بالکل ٹھیک ہوں ماموں۔۔۔ آپ میری فکر مت کریں۔۔۔ وہ سہولت سے انہیں ٹال گیا۔۔۔
اچھا تم پھر اندر ماہرہ کے پاس چلے جاو میں ہسپتال کے اب تک کے واجبات کلیئر کر آوں۔۔
ماموں کے کہنے پر وہ سر ہاں میں ہلا گیا۔۔۔ لیکن انکے جانے کے بعد ماہرہ کے کمرے کی جانب اٹھتے اسکے قدم من من بھاری ہو گئے۔۔۔
اسے کچھ دیر پہلے ہی آئی سی یو سے کمرے میں شفٹ کر دیا گیا تھا۔۔۔
آہستگی سے کمرے کا دروازہ وا کرتے وہ اندر داخل ہوا۔۔۔ ماہرہ اظہر پیشنٹ بیڈ پر چت لیٹی تھی نگاہوں کا مرکز فین سیلنگ تھی۔۔۔ دروازہ چڑچڑانے کی آواز یا فائز کے اندر آنے پر بھی وہ بنا کوئی ردعمل ظاہر کئے خاموشی سے ویسے ہی لیٹی رہی۔۔۔
فائز کے دل پر ایک گھونسہ پڑا۔۔۔
وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتا اسکے پاس گیا ۔۔۔ وہ تب بھی بنا حس و حرکت ویسے ہی لیٹی رہی۔۔۔
اب کیسا محسوس کر رہی ہو ماہرہ۔۔۔ اسنے محبت سے اس پر جھکتے اسکے بال سہلائے۔۔۔ ساکت آنکھوں کی پتلیوں میں جنبش ہوئی اسنے زرا سی آنکھ کو جنبش دیتے فائز کو دیکھا۔۔۔ دیکھتے ہی دیکھتے اسکی آنکھیں لبالب پانیوں سے بھریں اور چھلک کر کنپٹیوں کی جانب لکیر کی صورت بہتی چلی گئیں۔۔ فائز علوی کرب سے لب بھینچ کر رہ گیا۔۔۔
ان غزال سے نین کٹوروں کا یوں بھر کر چھلکنا اسکا دل خون کر گیا تھا۔۔۔ وہ واپس نگاہوں کا مرکز اسی فین سیلنگ کو بنا گئ تو فائز علوی تھکے تھکے قدم اٹھاتا پاس پڑی کرسی پر بیٹھ گیا۔۔۔
فائز کی نگاہوں کا مرکز پٹیوں میں جھکڑا وہ پھول سا چہرا ہی تھا جو اسکی بے توجیہی کے باعث کملا گیا تھا۔۔۔
ہمیشہ اسکے ارد گرش تتلی کی مانند اڑتی پھرنے والی ماہرہ اظہر کی یہ نظر اندازی جانے کیوں اس سخت دل کو ریزہ ریزہ کر گئ تھی۔۔۔ اسکی یہ نظر ناندازی برداشت سے باہر تھی۔۔۔
وہ بول لیتی۔۔۔ فائز علوی کی اس سے بھی بڑھ کر تزلیل کر لیتی ۔۔۔ دل کی بھراس نکال لیتی۔۔ مگر یوں اس حالت میں اسے خاموشی کی مار نا مارتی۔۔۔ اس مار کی ضرب سب سے کاری تھی۔۔۔
******

No comments