Roshan Sitara novel 14th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Roshan Sitara novel 14th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Roshan Sitara is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels
Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front
of the world and improve their abilities in that field.
Roshan Sitara Novel by Umme Hania | Roshan Sitara novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Roshan Sitara novel by Umme Hania Complete PDF download
Online Reading
ناول "روشن ستارا"۔
مصنفہ "ام ہانیہ"۔
Official pg : Umme Hania official
چودہویں قسط۔۔۔۔
فائز پاگلوں کی طرح اسے یہاں سے وہاں ڈھونڈ رہا تھا۔۔۔ صبح والی ساری سختی کہیں مفقود ہو گئ تھی۔۔۔ مامی کا تضحیک آمیز نارواں سلوک۔۔۔ انکی طنزیہ نشتروں کی مانند چبھتی باتیں سب جیسے کہیں پس منظر میں چلا گیا تھا۔۔۔ اس وقت اسے کچھ یاد تھا تو محض اتنا کے اسکی بچپن کی مخلص دوست۔۔۔ اسکی بہترین کزن اس سے دلبرداشتہ ہو کر۔۔۔ اسکے نارواں سلوک کے باعث کہیں چلے گئ تھی۔۔۔
اس وقت اسے محض خود پر غصہ آ رہا تھا۔۔
صبح اسنے اپنی عقل سمجھ کے مطابق جو اسے صحیح لگا وہ کیا۔۔۔ وہ بس ماہرہ کو خود سے بدزن کر کے دور کر دینا چاہتا تھا۔۔۔ لیکن ان سب کا انجام یہ ہو گا وہ نہیں جانتا تھا۔۔۔
ماہرہ کہاں ہو یار ۔۔۔ پلیز تنگ کرنا بند کر دو۔۔۔سامنے آ جاو یار۔۔۔۔۔ وہ پارکنگ سے نکل کر باہر مین روڈ تک آگیا۔۔۔ پھر یکدم کچھ یاد آنے پر انہی قدموں پر واپس بھاگا۔۔۔۔
اپارٹمنٹ کے احاطے میں پہنچتے ہی وہ سب سے پہلے سیکیورٹی ہیڈ سے ملنے گیا۔۔۔ اس اپارٹمنٹ میں وہ پچھلے دو سالوں سے رہ رہا تھا۔۔۔ سب سے اچھی دعا سلام تھی۔۔۔ اور اپنے اچھے اخلاق کے باعث وہ پہلے ہی سب کا پسندیدہ تھا۔۔۔ تو سکیورٹی ہیڈ سے مل کر اپارٹمنٹ کے احاطے میں لگے کیمرے کی سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کرنے میں اسے زیادہ تردد نا کرنا پڑا۔۔۔۔۔
کچھ ہی دیر میں وہ سکیورٹی ہیڈ کے ساتھ اس کمرے میں تھا جہاں سکرین پر اپارٹمنٹ کے احاطے کی فوٹیج چل رہی تھی۔۔۔ صبح ماہرہ کے اپنے گھر سے نکلنے کا وقت بتا کر اسنے مطلوبہ فوٹیج نکلوائی۔۔۔ اب سکرین پر صبح کے مناظر چل رہے تھے جہاں شکستہ خیز سی ماہرہ اپارٹمنٹ کے احاطے سے باہر جاتی دکھائی دے رہی تھی۔۔۔ اسے یوں دیکھ فائز کا دل دھک سے رہ گیا۔۔۔
صبح تو وہ کمزور پر جانے کے ڈر سے اسکے چہرے کی جانب دیکھنے سے بھی گریزاں تھا مگر اب۔۔۔ سامنے سکرین پر گزرتی لڑکی پر کسی دیوانی کا گمان ہو رہا تھا۔۔ پاوں سے مسلسل بہتا خون ۔۔۔ فرش پر سجدہ ریز آنچل۔۔۔ مرودنی چھائی چہرا۔۔۔ پتھرائی آنکھیں اور ان آنکھوں سے مسلسل بہتا سیل رواں۔۔۔ وہ کسی طور اپنے حواسوں میں نا لگ رہی تھی۔۔۔
اسکی حاکت دیکھ فائز علوی وہیں کھڑا کھڑا گویا فنا ہو گیا ۔۔۔۔سینے میں ڈھرکتا دل جیسے پل بھر کو ساکت ہو گیا۔۔۔۔ اسکا دل چاہا خود کو آگ لگا ڈالے۔۔۔ پشیمانی و پچھتاوا حد سے سوا تھا۔۔۔ اسنے بے بسی سے لب بھینچے کیونکہ اپارٹمنٹ کی حدود سے نکلتے ہی وہ آنکھوں سے اوجھل ہو گئ تھی۔۔۔
اسکے بعد وہ کہاں گئ۔۔ سامنے پھر سے ایک سوالیہ نشان تھا۔۔۔
وہ بے چین سا واپس پارکنگ میں آ کھڑا ہوا۔۔
دفعتاً موبائل کی رنگ ٹیون بجنے ہر اسنے موبائل جیب سے نکالا۔۔۔ فون اسکی ایک کلاس میٹ کا تھا۔۔۔ اسنے کوفت سے فون اٹھایا۔۔
ہیلو فائز علوی میں مہک بات کر رہی ہوں۔۔۔ سپیکر سے ایک نسوانی آواز گھونجی۔۔۔
ہاں مہک بولو۔۔۔ اسکی بے چین نگاہیں کسی ایک منظر پر ٹک ہی نا رہی تھیں۔۔ چلتے چلتے وہ روڈ پر نکل آیا سمت کا تعین وہی تھا جس طرف ماہرہ اظہر پلٹی تھی۔۔۔
میں سٹی ہسپتال میں اپنی ماں کے ساتھ آئی ہوں۔۔ انکی طبیعت بہت بگڑ گئ تھی۔۔۔ وہ یہاں آئی سی یو میں شفٹ ہیں۔۔۔
ہممم۔۔۔ فائز علوی اس ساری تفصیل سے قطعی نظر بے چینی سے چاروں جانب نگاہیں ڈورا رہا تھا جیسے یہیں کہیں سے ماہرہ نکل آئے گی۔۔
نیز وہ اسکی بات کا مفہوم سمجھنے سے قاصر تھا۔۔۔
تو یہ کہ یہاں اسی ہسپتال میں آئی سی یو میں تمہاری کزن ماہرہ اظہر بھی ایڈمٹ ہے۔۔۔
الفاظ تھے کے بم ۔۔ جو فائز علوی کے پرخچے اڑا لے گے ۔۔۔ روڈ کراس کرتے فائز علوی کے قدم وہیں ٹھٹک کر رکے۔۔۔ جیسے اٹھنے سے انکاری ہو گئے ہوں۔۔
کیا ۔۔۔۔کیا کہا۔۔۔ اسنے متوحش لہجے میں کنفرم کرنا چاہا۔۔۔ شاید اسے سمجھنے میں غلطی لگی ہو۔۔۔
ماہرہ اظہر کا بہت سیرہس ایکسیڈینٹ ہوا ہے۔۔۔ اسکی حالت بہت سیریس ہے۔۔۔ ڈاکٹر کا کہنا ہے کے جائے وقوعہ پر اسکا کوئی اپنا ساتھ نا تھا نیز اسکا موبائل یا پرس کچھ بھی اسکے پاس نا تھا جس کی وجہ سے وہ اسکے کسی والی وارث سے رابطہ استوار نہیں کر سکے۔۔۔۔۔وہاں سے کچھ لوگوں نے ریسکیو ٹیم کو بلوا کر اسے ہسپتال تک پہنچایا تھا۔۔۔ مجھے یہ سب پتہ چلا تو میں نے پہلی فرصت میں تم سے رابطہ استوارکیا۔۔۔
تم پلیز جلد از جلد یہاں پہنچ جاو۔۔۔ ماہرہ کی حالت بہت تشویشناک ہے۔۔۔
فائز کو اپنے ارد گرد دھماکے سے ہوتے محسوس ہو رہے تھے۔۔۔ گاڑیوں کا شور لوگوں کا آس پاس سے گزرنا سب کہیں محو ہو گیا۔۔۔اسے اپنا آپ ہوا میں معلق ہوتا محسوس ہوا۔۔۔
وہ پتھرائی نگاہوں سے محض ہاتھ میں تھامے موبائل کو گھورے جا رہا تھا جہاں سے کال کب کی ختم ہو چکی تھی۔۔۔
دماغ میں محض ایک ہی سوچ گردش کر رہی تھی کے اس زندگی سے بھرپور لڑکی کو ہسپتال کے بستر تک پہنچانے والی اسکی اہنی ذات ہے۔۔۔
اسنے کپکپاتے ہاتھوں سے ماموں کا نمبر ملایا۔۔۔ ابھی یہ روح فرسا خبر انہیں سانا باقی تھی۔۔۔
وہ مختل ہوتے حواسوں کے ساتھ ٹیکسی روکتا اس میں سوار ہوا۔۔۔
اب اسکا رخ ہسپتال کی جانب تھا۔۔
*****
علایہ گاڑی سے نکلتے ہی کالج بیگ کندھے پر ڈالے اندر کو بھاگی۔۔انداز میں عجلت تھی۔۔۔۔۔ اسے بس یہ جاننے کی جلدی تھی کے فاہا گھر میں ہی ہے یا واپس اپنے گاوں میں چلے گئ۔۔۔
لیکن لاوئنج میں قدم رکھتے ہی سامنے فاہا کو بیٹھے دیکھ اسکی سانس میں سانس آئی۔۔۔
وہ صوفے پر بیٹھی گلاس ٹیبل پر جھکی اپنی اسائمنٹ بنا رہی تھی۔۔۔
اوہ خدایا شکر۔۔۔ وہ باآواز کہتی دھپ سے اسکے ساتھ صوفے پر آ کر بیٹھی۔۔۔
فاہا نے اسائمنٹ سے نظر ہٹا کر مسکرا کر اسے دیکھا۔۔۔
کیا ہوا۔۔۔
کیا ہوا کا کیا مطلب۔۔۔ تمہیں اندازہ بھی ہے کے تمہیں یوں اس وقت یہاں بیٹھے دیکھ مجھے کتنی خوشی ہو رہی ہے۔۔۔ ورنہ تم نے کل رات سے مجھے کتنی ٹینشن دی تمہیں اندازہ بھی ہے۔۔۔ میں یہی سوچ سوچ کر ہلکان ہو رہی تھی کے اگر تم یوں بھائی کی وجہ سے اہنی پڑھائی چھوڑ کر چلی گئ تو۔۔۔
نہیں انکی وجہ سے کچھ نہیں کر رہی تھی میں۔۔۔ وہ بے ساختہ علایہ کی بات کاٹتی واپس میز پر جھکی۔۔۔
علایہ ٹھٹھکی۔۔۔
کیا مطلب۔۔۔ کیا صبح بھائی نے تمہیں کچھ کہا۔۔۔ اگر کہا ہے تو بتاو۔۔۔ میں پوچھ لونگی انہیں۔۔۔ علایہ غصے سے سیدھی ہو بیٹھی۔۔۔
ارے نہیں ۔۔۔ ایسی تو کوئی بات نہیں۔۔۔ انہوں نے کچھ نہیں کہا۔۔۔ بلکہ انہوں نے میری سوچ کا نظریہ بدلا ہے۔۔۔ اور میں سوچنے پر مجبور ہوگئ کے میں چھوٹی چھوٹی باتوں پر کیسے اتنی کم ہمتی دکھا سکتی ہوں۔۔۔ جب خواب اونچا دیکھا ہے تو ہمت بھی تو دکھانی ہو گئ نا۔۔۔ اور پھر یہ محض بابا کا ہی تو نہیں میرا اپنا بھی تو خواب ہے۔۔۔
میں کیسے چھوٹی چھوٹی باتوں پر اپنا اتنا نقصان کرسکتی ہوں۔۔۔ پھر میں نے بیٹھ کر سوچا کے اگر میں ضد میں غصے سے یا خفا ہو کر غرض کسی بھی وجہ سے یہاں سے چلی جاوں تو آگے کیا۔۔۔
پھر تو آگے سب ختم۔۔۔ میں تو پھر زندگی میں کبھی کچھ بھی نہیں کر پاوں گی۔۔۔ اس لئے میں نے حالات سے مقابلہ کرنے کا سوچا۔۔۔
ان شااللہ اب میں یہاں سے بابا کا خواب مکمل کر کے ہی واپس لوٹوں گی۔۔۔ پھر چاہے درمیان میں جتنی بھی مشکلیں کیوں نا آئیں۔۔۔
علایہ کو وہ رات والی فاہا سے یکسر مختلف لگی۔۔۔ کافی سمجھدار اور ٹھہری ہوئی۔۔۔
تمہاری باتیں سن کر اچھا لگا یار۔۔۔ تم نے توامپریس کر ڈالا ۔۔۔۔۔
شاید میں ہی مرتسم کے بارے میں غلط سمجھی تھی۔۔۔ وہ اتنے برے بھی نہیں جتنا میں سمجھی تھی۔۔۔ فاہا نے کندھے اچکائے۔۔
غلط۔۔۔ اتنے برے نہیں بلکہ میرا بھائی برا ہے ہی نہیں۔۔۔ وہ بہت اچھے ہیں۔۔۔ پر تمہاری سوچ بدلتی دیکھ اچھا لگا۔۔۔
وہ مسکرا کر کہتی بیگ اٹھا کر اٹھ کھڑی کوئی۔۔
ارے جیو مام۔۔۔ میں ابھی شیک کے لئے ہی آواز دینے والی تھی۔۔۔ گرمی بہت ہے۔۔۔۔وہ کچن سے ماں کو شیک کا جگ اور گلاس رکھے ٹرے تھامے باہر آتا دیکھ چہکی۔۔۔
ہاں مجھے تمہارے آنے کی آواز آ گئ تھی اور پھر فاہا بھی کافی دیر سے پڑھائی میں لگی تھی۔۔۔
ماں نے مسکرا کر ٹرے میز پر رکھی تو علایہ خود ہی شیک گلاسوں میں انڈیلنے لگی دفعتاً سیاہ اور سفید امتزاج کے کھلے سے ٹراوزر اور اسی رنگ کی کھلی سی سلیو لیس شرٹ میں ملبوس پریہا اعظم چہکتی ہوئی لاوئنج میں داخل ہوئی۔۔۔ کرلی بال پشت پر بکھرے تھے جبکہ نفاست سے کیا گیا میک آپ اسکے نین نقوش کو مزید خوبصورت بنا رہا تھا۔۔۔۔
خالہ جانی۔۔۔ وہ مسکرا کر کہتی خالہ کے گلے کا ہار بنی جبکہ اسے وہاں دیکھ فاہا خاموشی سے اپنی کتابیں سمیٹتی کھسک گئ۔۔۔ عجیب حساس برتری میں مبتلا لڑکی تھی وہ ۔۔ جسے اپنے سوا کچھ دکھائی دیتا ہی نا تھا اور فاہا لودھی کو تو وہ ویسے بھی کچھ نا گردانتی تھی۔۔۔ یہ ہی وجہ تھی کے فاہا اسے زیادہ سے زیادہ نظر انداز کرنے کی کوشیش کرتی۔۔۔
جو بھی تھا اب وہ کسی کی بھی وجہ سے اپنا خواب ادھورا چھوڑنے کی روادار نا تھی۔۔
****
فائز علوی بھاگتا ہوا رکشے سے اتر کر ہسپتال کی عمارت کی جانب بڑھا۔۔۔۔ راستے میں وہ ماموں جان کو آگاہ کر چکا تھا۔۔۔
پھولتے ہوئے سانس کے ساتھ اسنے ریسیپشن سے ماہرہ کے بارے میں رینمائی چاہی اور وہاں سے پتہ چلتے ہی وہ اندھا دھند آئی سی یو کی جانب بڑھا۔۔۔
آئی سی یو میں کسی کو بھی جانے کی اجازت نا تھی لیکن ماہرہ کی فیملی سے کسی وارث کے رابطہ کرنے پر ڈاکٹر سے مل کر اسے اندر جانے کی اجازت مل گئ۔۔۔
آئی سی یو میں داخل ہوتے ہی وہ بری طرح لڑکھڑایا۔۔۔ سامنے بستر پر ماہرہ اظہر آنکھیں موندے دنیا و مافیا سے بے خبر تھی۔۔۔ سر اور ماتھا پٹیوں میں جھکڑا تھا جبکہ بازو اور پاوں پر بھی جابجا پٹیاں تھیں۔۔۔ یقیناً ایکسیڈینٹ کافی بری نوعیت کا تھا۔۔۔ ایکسیڈینٹ سریس تھا تبھی تو وہ اس وقت آی سی یو میں موجود تھی۔۔۔
فائز علوی اپنے وجود کو گھسیٹتا اس تک آیا اور ہارے ہوئے انداز میں ہی اسکے پاس کرسی کھینچ کر بیٹھا۔۔۔
احساس ندامت حد سے سوا تھی۔۔۔ اپنے ہی کہے الفاظ اسکا منہ چڑاتے اسے کچوکے لگا رہے تھے۔۔۔
اسنے اپنا کپکپاتا ہاتھ بڑھا کر ماہرہ کا مومی بے جان پٹیوں میں جھکڑا ہاتھ تھاما۔۔۔
باوجود ضبط کے ایک آنسو اسکی آنکھ سے ٹوٹا۔۔۔
ایم سوری ماہرہ۔۔۔ سو سوری۔۔ لیکن میرا اللہ گواہ ہے تمہاری ایسی حالت کبھی تصور بھی نہیں کی تھی۔۔۔ پلیز جلدی سے ٹھیک ہو جاو۔۔۔ ورنہ ضمیر کا بوجھ ماڑ ڈالے گا مجھے۔۔۔ یاررر بہت بڑی غلطی ہو گئ۔۔۔ پلیز معاف کر دو۔۔۔ وہ اسکا ہاتھ چہرے سے لگائے کرب زدہ سا بول رہا تھا۔۔۔۔ ماہرہ اس وقت ہوش میں ہوتی تو شاید فائز علوی کو اس حالت میں یوں دیکھ شاید یقین کرنے سے قاصر رہتی۔۔۔
دفعتاً آیی سی یو کا دروازہ کھول کر مامی روتی ہوئی اندر داخل ہوئیں۔۔۔
ماہرہ میری جان۔۔۔ میری بچی۔۔۔ یہ کیا ہو گیا تمہیں۔۔۔
مامی کے اسکی جانب بڑھنے پر وہ آہستگی سے ماہرہ کا ہاتھ چھوڑتا وہاں سے اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔
مامی نے ماہرہ کی طرف بڑھتے ہوئے بھی نم آنکھیں اٹھا کر فائز علوی کو غصے سے گھورا۔۔۔
فائز لب بھینچے آئی سی یو سے باہر نکل آیا۔۔۔ اسکا کام یہیں تک تھا شاید۔۔۔
دل کے لاکھ احتجاج کے باوجود بھی اسکا وہاں سے چلے جانا ہی وقت کا تقاضا تھا۔۔۔ جو بھی تھا بحرحال فائز علوی کو اپنی عزت نفس سب سے عزیز تھی۔۔۔
وہ خاموشی سے واپس پلٹا جب شکستہ خیز سے ماموں کو لڑکھڑاتے دیکھ وہ بھاگ کر انکی جانب لپکا اور انہیں کندھوں سے تھاما۔۔۔
ماموں جان آپ ٹھیک تو ہیں نا۔۔۔ وہ پریشانی سے گویا ہوا۔۔۔
ماموں اسکے گلے لگتے ہی رو دیئے۔۔۔
فائز لب بھینج کر رہ گیا۔۔۔وہ ایک باپ کی بے بسی سمجھ سکتا تھا۔۔۔
یہ سب کیسے ہوگیا فائز۔۔۔ میری ہستی مسکراتی بیٹی یہ کن حالوں کو پہنچ گئ۔۔۔۔ وہ دلگرفتہ ہوئے۔۔۔
ڈاکٹر کیا کہتا ہے فائز۔۔۔ فائز نے انہیں سہارا دے کر قریبی بینچ پر بیٹھایا تو وہ ماتھے مسلتے گویا ہوئے۔۔۔
ماموں جان۔۔۔ ایکسیڈینٹ کافی سیریس نوعیت کا ہے سر اور گردن پر بھی کافی چوٹیں آئی ہیں۔۔۔ خون کافی بہہ چکا ہے ۔۔ یہاں کے سٹاف نے صبح سے اسے اپنے طور ٹریٹمنٹ دینے کی کوشیش کی ہے۔۔۔ لیکن ڈاکٹر کا کہنا ہے کے ہمیں ماہرہ کے بہتریں علاج کے لئے اسے کسی اچھے ہسپتال میں شفٹ کروا دینا چاہیے۔۔۔
پھر انتظام کرواو فائز۔۔۔ میری بچی کو شہر کے سب سے بہترین ہسپتال میں شفٹ کرواو۔۔ اسکے علاج میں کوئی کمی نہیں رہنی چاہیے۔۔۔
اتنا سا بولتے ہی انکا سانس بے طرح پھولنے لگا تھا۔۔۔
آ۔۔۔ آپ فکر مت کریں ماموں جان۔۔۔ میں دیکھتا ہوں سب۔۔۔ آپ یہیں بیٹھیں میں آتا ہوں۔۔۔
وہ ماموں کو تسلی دیتا باہر کی جانب بڑھا۔۔۔
یہ وہ شخص تھا جسنے باپ کے مرنے کے بعد اسکے سر پر دست شفقت دراز کیا تھا۔۔۔
مامی کی بے جا مخالفت کے باوجود کبھی اس میں اور اپنے بچوں میں فرق نا کیا۔۔۔ اسے اسی سکول میں ہڑھایا جہاں انکے اپنے بچے پڑھنے جاتے تھے۔۔۔ اسے وہی پہنایا جو اپنے بچوں کو پہناتے وہی کھلایا جو اپنے بچوں کے لئے پسند کرتے۔۔۔
آج وہ زندگی کے جس مقام پر بھی تھا وہاں اللہ اور ماں کی دعاوں کے بعد وہ اسی شخص کی بدولت کھڑا تھا۔۔۔
وہ شخص اسکا باپ بھی تھا اور محسن بھی۔۔۔ فائز علوی تو موقع ملنے پر اپنے اس محسن پر اپنی جان تک وار دیتا۔۔۔ جسنے اسے دنیا کی بھیڑ میں بے نام و نشان نہیں ہونے دیا تھا۔۔۔
اس وقت وہ شخص جوان بیٹی کی اس حالت پر بے طرح ڈول گیا تھا۔۔۔ اپنا بیٹا اس وقت باہر تھا لحاظہ فائز علوی بنا کچھ سوچے سمجھےاس وقت انکا سہارا بن گیا۔۔۔
اسنے ایک بیٹے کے سبھی فرائض سر انجام دیئے۔۔۔ بھاگ ڈور کر کے لمحوں میں اسنے ڈاکٹر سے رابطہ کر کے اسکا ریفرینس لیٹر تیار کروایا اور ایمبولینس بلوا کر اگلے کچھ ہی منٹوں میں وہ ماہرہ اظہر کو شہر کے سب سے بہترین ہسپتال میں منتقل کروا چکا تھا۔۔۔
وہاں جاتے ہی اسکا ٹریٹمنٹ نئے سرے سے شروع ہوا۔۔۔۔
آگے پیچھے ہر جانب فائز کی ہی ڈوریں لگی ہوئی تھیں۔۔۔
ماہرہ کو بلڈ کی اشد ضرورت تھی۔۔۔ صبح سے دو بوتلیں اسے لگ چکی تھی جسکے باعث ابھی اسکی سانسیں چل رہی تھیں لیکن خون بہت بہہ چکا تھا جسکے باعث ڈاکٹر نے فوری طور پر مزید خون کا بندونست کرنے کو بولا تھا
اور یہاں اس مقام پر فائز علوی بنا مزید دیر کئے ماہرہ کے ساتھ دوسرے بستر پر جا لیٹا۔۔۔ اسکا اور ماہرہ کا بلد گروپ ایک ہی تھا وہ بہت پہلے سے جانتا تھا پھر بھی چند ایک ٹیسٹ کے بعد وہ کھلی آنکھوں سے اپنے جسم سے نکلا خون قطرہ قطرہ اسکے جسم میں منتقل ہوتا دیکھ رہا تھا۔۔۔
بیٹی کی حالت پر مامی گم صم تھی جبکہ ماموں جان تشکر سے اسے دیکھ رہے تھے۔۔۔
ماہرہ کو ابھی تک ہوش نہیں آیا تھا جبکہ وہ خون دینے کے بعد باہر بینچ پر بیٹھا گھٹنوں پر کہنیاں رکھے ہاتھ باہم ایک دوسرے میں پیوست کئے ہاتھوں پر تِھوڑی رکھے کسی غیر مری نقطے کو دیکھتا شدت سے اسکے ہوش میں آنے کا منتظر تھا۔۔۔
*******

No comments