Header Ads

Roshan Sitara novel 13th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels


 

Roshan Sitara novel   13th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels 

Roshan Sitara is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels

Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front 

of the world and improve their abilities in that field.

 Roshan Sitara  Novel by Umme Hania | Roshan Sitara  novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Roshan Sitara  novel by Umme Hania Complete PDF download

Online Reading

 ناول "روشن ستارا"۔

  مصنفہ "ام ہانیہ"۔

Official pg : Umme Hania official

تیرہویں قسط۔۔۔۔
حسب معمول نک سک سے تیار مرتسم لودھی نے ایک تنقیدی نگاہ آئینے میں نظر آتے اپنے عکس پر ڈالی۔۔۔
وہ جینز پر ٹی شرٹ اور کوٹ زیب تن کئے ہوئے تھا ۔۔ بال حسب معمول ماتھے پر بکھرے تھے۔۔ اسنے خود پر بے دریغ پرفیوم کا چھڑکاو کیا اور گاڑی کی چابی اٹھاتا کمرے سے نکلا۔۔۔
تیزی سے سیڑھیاں عبور کرتا وہ نیچے آیا تو ڈائینینگ ٹیبل پر تقریباً سبھی بیٹھے ناشتہ کر رہے تھے۔۔۔۔
مارنینگ ایوری ون۔۔۔۔
وہ مسکرا کر کہتا کرسی گھسیٹ کر بیٹھا اور ناشتے کا جائزہ لینے لگا۔۔۔جب ماں نے جوس گلاس میں انڈیل کر اسکی جانب بڑھایا اور اسکی بڑیڈ ہر پنٹ بٹڑ لگانے لگیں۔۔۔ اولاد کے معاملے میں وہ ایسی ہی تھیں۔۔۔ بنا ناشتہ کروائے تو وہ کسی کو بھی گھر سے نکلنے نا دیتیں۔۔
سبھی مصروف سے انداز میں ناشتہ کررہے تھے صرف ایک علایہ ہی تھی جو کالج یونیفارم میں ملبوس  عین اسکے سامنے بیٹھی اسے اشارے کر رہی تھی۔۔۔
مرتسم نے اسے ناسمجھی سے دیکھا جب علایہ کے آنکھیں نکال کر گھورنے پر یکدم کچھ کلک کرنے پر اسنے ایک تادیبی نگاہ ڈائینینگ ٹیبل پر ڈالی۔۔ سب وہیں تھے سوائے فاہا لودھی کے۔۔۔ اسنے ایک گہری سانس خارج کی۔۔۔
تبھی اسکے موبائل کی بپ بجی تو اسنے موبائل تھام کر میسج کھولا۔۔۔
اگر فاہا یہاں سے چلے گئ نا بھائی تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا۔۔۔ خفگی بھرا میسج پڑھتے اسنے سنجیدگی سے علایہ کو دیکھا جو منہ پھلائے ایک نظر اسے دیکھ کر اپنا کالج بیگ کندھے پر ڈال رہی تھی۔۔۔۔
بے فکر ہو کر کالج جاو علایہ۔۔۔ تمہاری نک چڑھی کزن کو میں دیکھ لونگا ۔۔۔ 
لمحے کے ہزارویں حصے میں مرتسم نے میسج ٹائپ کر کے سینڈ کرتے بہن کو تسلی دی۔۔۔ یہ اختیاط بھی مام اور ڈیڈ کی موجدگی کے باعث تھی جو سرے سے ہی کسی بات سے بے خبر تھے۔۔
میسج پڑھتے ہی علایہ کے ماتھے پر بل واضح ہوئے۔۔۔۔
نک چڑھی میری کزن نہیں نک چڑھا میرا بھائی ہے۔۔۔ جسکے ہر وقت سکڑیو ڈھیلے ہی رہتے ہیں۔۔۔
اور خبردار جو آپ اس سے سختی سے پیش آئے تو۔۔۔ اسے منانا ہے مزید ڈرا کر خفا نہیں کرنا۔۔۔ ساتھ غصے والے کئ ایموجیز تھے۔۔
ہوا کے دوش پر سیکنڈوں میں علایہ کا میسج موصول ہوا۔۔۔  میسج پڑھ کر مرتسم نے بہن کو دیکھا جو مام اور ڈیڈ سے ملنے کے بعد اب لاوئنج سے نکل رہی تھی۔۔۔ ۔
اسنے موبائل واپس میز پر رکھا اور تسلی سے ناشتہ کیا ۔۔۔ ناشتے کے بعد اسکا رخ علایہ کی نک چڑھی کزن کے کمرے کی جانب تھا۔۔۔
**** 
فاہا لودھی کے کمرے کے ادھ کھلے دروازے پر دستک دے کر مرتسم لودھی دروازہ دھکیل کر مکمل وا کرتا اندر داخل ہوا۔۔۔
الماری میں سر گھسائے کھڑی فاہا نے دستک کی آواز پر پیچھے پلٹ کر دیکھا اور پیچھے کمرے کے دروازے کے وسط میں کھڑے مرتسم لودھی کو دیکھ وہ رخ واپس پھیرتی گلے میں جھولتا آنچل کھول کر سر پر جما گئ۔۔۔
یہ کیا کر رہی ہو ۔۔۔ وہ پنٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالتا دو قدم مزید اندر آیا۔۔۔ نگاہیں ارد گرد کا تنقیدی جائزہ لے رہی تھیں جہاں بیڈ کے وسط میں ایک سفری بیگ کھلا پڑا تھا جس میں فاہا الماری سے کپڑے نکال کر رکھ رہی تھی۔۔۔
کچھ نہیں۔۔۔ وہ بجھے بجھے لہجے میں کہتی الماری کا کھلا پٹ بند کر کے پلٹی اور ہینگر سے کپڑے نکال کر تہہ کرنے لگی۔۔۔
مرتسم نے بغور اسکا بجھا بجھا انداز نوٹ کیا۔۔۔ وہ مرتسم کی جانب دیکھنے سے گریزاں تھی۔۔۔
دوسری جانب فاہا لودھی مرتسم کی اس بے وقتی آمد سے خاصی جزبر تھی۔۔۔ اب ناجانے وہ یہاں کیوں آیا تھا۔۔۔ فاہا جاتے جاتے وہاں کوئی بدمزگی نہیں چاہتی تھی تبھی لب سیئے  رہی۔۔۔
علایہ بتا رہی تھی کے تم واپس جا رہی ہو۔۔۔ مرتسم نے اسے خاموش دیکھ سلسلہ کلام جوڑا۔۔۔
جی ۔۔۔ مختصر سے جواب پر مرتسم کے ماتھے پربل پڑے۔۔۔ 
کیوں۔۔۔ وہ سختی سے کہتا پاس پڑی کرسی کو کھینچ کر اس پر بیٹھا اور بھینچے جبڑوں سے خاموش گم صم سی کھڑی کپڑے فولڈ کرتی فاہا کو دیکھا۔۔۔
فاہا خاموش ہی رہی۔۔۔ گلے میں نمکین پانیوں کا گولہ سا اٹکنے لگا تھا۔۔  یقیناً کچھ بولنے کی سعی میں گلہ رھند جاتا۔۔۔ اسنے آنکھیں جھپک جھپک کر آنسوں کا گلہ گھونٹا۔۔۔۔۔مرتسم باریک بینی سے اسکے چہرے کا ایک ایک تاثر نوٹ کر رہا تھا۔۔۔
فاہا لودھی تم یہاں آئی کیوں تھی۔۔۔ مرتسم نے سوال بدلا۔۔۔ وہ لب بھینچ کر رہ گئ۔۔۔
مجھے جہاں تک یاد پڑتا ہے ۔۔۔ تم شاید چچا جان کا خواب پورا کرنے آئی تھی۔۔۔ کیونکہ انکا کوئی بیٹا نہیں تو وہ چاہتے تھے کے انکی بیٹی انکا خواب پورا کرے۔۔۔ سی ایس ایس کر کے کسی اعلی عہدے پر پہنچے۔۔۔ایسا کچھ نہیں تھا کیا۔۔۔  وہ نا صحانہ انداز میں بولا ۔۔۔
بیگ میں کپڑے رکھتے فاہا کے ہاتھ کپکپائے۔۔۔ ۔ اسنے آخری سوٹ بھی بیگ میں رکھ کر اسکی زپ بند کی۔۔۔
اب تم میری بات سنو فاہا لودھی۔۔۔ وہ کھڑے ہوتے فاہا کے بالمقابل آیا۔۔۔
تمہیں میری روک ٹوک بری لگتی ہے ۔۔۔ ہو سکتا ہے میں تم سے بات کرتے جذباتی ہو گیا ہوں اور تمہیں میرا لہجہ پسند نا آیا ہو۔۔۔ 
لیکن اپنے چھوٹے سے دماغ میں ایک بات بٹھا لو کے مرتسم لودھی ہر کسی کے لئے ٹمپر لوز نہیں کرتا۔۔۔  مرتسم لودھی ہر ایری گیری لڑکی پر نا روک ٹوک کرتا ہے اور نا ہی اسکے لئے بیچ سڑک پر گاڑی روکتا ہے۔۔۔
مرتسم کے انداز پر فاہا سانس تک روک گئ۔  وہ ہمیشہ سے ہی سٹریٹ فارورڈ تھا۔۔۔ اسے بات گھما پھرا کر کرنی آتی ہی نا تھا۔۔۔ نا اسے دل رکھنا آتا تھا ۔۔ نا ہی باتوں کو گھمانا پھرانا آتا تھا۔۔۔ جو بات ہوتی یا جو دل میں ہوتا وہ فوراًکہہ دیتا۔۔ 
تم مجھے عزیز ہو۔۔۔ اس گھر کی عزت ہو۔۔۔ میرے چچا کی بیٹی ہو۔۔۔ اگر تم غیر جانبداری سے ہر چیز کا جائزہ لو نا تو شاید تمہیں تمہاری کوتاہیاں دکھائی دے جائیں۔۔۔
میری تم سے کوئی دشمنی نہیں ہے جو بقول تمہارے میں ہاتھ دھو کر تمہارے پیچھے پڑ گیا ہوں۔۔۔
تمہارے لئے روک ٹوک کا میرے پاس وہی معیار ہے جو علایہ کے لئے ہے۔۔۔ 
پہلے ہی دن تم ہونیورسٹی کے سب سے بدنام گروپ میں گھر گئ۔۔۔ اتنی ہی کسی کی کیا دہشت کے تم ان پر دو حرف بھیج کر وہاں سے واک آوٹ نہیں کر سکئ۔۔۔ انکے سامنے تھر تھر کانپنے سے بہتر نہیں تھا کے تھوڑی سی ہمت دکھا دی جاتی۔۔۔۔ انہیں ٹکرا ٹوڑ جواب نہیں دے سکتی تھی تو وہاں ٹھہرتی بھی نا۔۔۔ کوئی تمہیں کھا نا جاتا۔۔۔ تمہاری جگہ یہاں علایہ ہوتی تو شاید میں اس سے بھی زیادہ ضبط کھو جاتا ۔۔۔ اور اہم بات پتہ ہے کیا۔۔۔ وہ ہنوز فاہا کو دیکھ رہا تھا جسکی زبان آج تالو سے چپک چکی تھی۔۔۔  اسے پتہ ہوتاکے میں نے اگر ضبط کھویا تو اسکے لئے۔۔۔ اگر اسے ڈانٹا یا اس پرسختی کی تو بھی اسکی بھلائی کے لئے۔۔۔ کیونکہ میں اسکا اپنا ہوں۔۔۔وہ میری باتوں سے سبق سیکھتی۔۔۔ انہیں پلو سے باندھتی۔۔۔ تمہاری طرح جسٹیفکیشن نا دیتی پھڑتی۔۔۔  تم یہاں اپنے رونے لے کر بیٹھی ہو۔۔۔ لیکن درحقیقت تم نے اس گھر کو اور اس گھر کے مکینوں کو اپنا سمجھا ہی نہیں۔۔۔ سمجھا ہوتا تو تم یوں اوور ری ایکٹ نا کرتی۔۔۔
دوسری اور قابل مذمت بات۔۔۔ جو مجھے تو کیا کسی بھی غیرت مند مرد کو گوارا نا ہوگئ۔۔۔ گھر میں کنوینس ہوتے ہوئے تم چلچلاتی دھوپ میں روڈ کنارے کھڑی لوکل کنوینس کا انتظار کر رہی تھی۔۔۔
مس فاہا لودھی اپنی اس خوداری کو ریپر میں لپیٹ کر اپنے پاس رکھو اور صحیح مواقع پر استعمال کرنا۔۔۔
پر اعتماد تو تم اتنی ہو کے یونیورسٹی میں سو لوگوں کے درمیاں تھر تھر کانپ رہی تھی۔۔۔
اس چلچلاتی دھوپ میں سسنان جگہ پر کھڑے تمہارے ساتھ کچھ الٹا سیدھا ہو جاتا تو تم کیا کرتی۔۔۔ یا ہم کیا کرتے۔۔۔ تمہاری اس نام نہاد خوداری کا اچار ڈالتے۔۔۔۔
مرتسم کی آواز کی سنجیدگی و سرد پن کے ساتھ ماتھے کے بل مزید گہرے ہوئے۔۔۔
فاہا اسکے سامنے کسی بت کی مانند کھڑی سانس تک روکے نظریں جھکائے ۔۔۔ سمجھ ہی نا  آ رہا تھا کے کیا بولے۔۔۔ سامنے بیٹھا شخص اسے پہلے سے کافی مختلف لگا۔۔۔ 
چچا جان نے تمہیں یہاں کس کے بھروسے بھیجا۔۔۔ کیا تمہاری نطر میں یہ ذمہ داری کوئی چھوٹی ذمہ داری ہے۔۔۔۔ 
ٹھیک ہے میں کل رات بھی ٹمپر لوز کر گیا۔۔۔ کیونکہ میں ہوں جذباتی۔۔۔ وہ بڑے آرام سے کندھے اچکاتا قبول کر رہا تھا۔۔۔
جن جن نایاب القابات سے تم مجھے نواز رہی تھی میرا ٹمپر لوز کرنا بنتا تھا۔۔۔ 
اسکا سیدھا سا حل یہ ہی ہے کے مجھے غصہ مت دلاو۔۔۔ میں پاگل نہیں ہوں جو بلا کسی وجہ کے کاٹنے کو ڈورتا ہوں۔۔۔ 
اس لئے اب تم بھی بچوں والی حرکتیں چھوڑ کر زرا دماغ سے کام لے لو۔۔۔ 
یہاں رہنا یا نہیں رہنا خالصتاً تمہارا ذاتی فیصلہ ہے۔۔۔ تم نے اپنا اور اپنے بابا کا خواب پورا کرنا ہے یا بزدلوں کی طرح حالات سے فرار حاصل کر کے جانا ہے یہ بھی تمہارا فیصلہ ہے۔۔۔
جو دل چاہے وہ کرو۔۔۔  لیکن کچھ بھی میرے سر چڑھ کر مت کرو۔۔۔ کے مرتسم نے ڈانٹ دیا تو میں جا رہی ہوں۔۔۔ وغیرہ وغیرہ۔۔۔
انسان میں کچھ اور ہو نا ہو اپنی غلطیاں اور کمزوریاں تسلیم کرنے کا حوصلہ ضرور ہونا چاہیے۔۔۔
اس لئے فاہا لودھی۔۔ وہ اسکی آنکھوں میں دیکھتا رکا۔۔۔ تسلیم کر لو کے تم اپنے لو کانفیڈینس کی وجہ سے یونیورسٹی میں ایڈجسٹ نہیں ہو  پا رہی۔۔۔ جسکی وجہ سے تم حالات سے فرار حاصل کرتے یہاں سے جانا چاہتی ہوں۔۔۔
فاہا کا دل دھک سے رہ گیا۔۔۔ اسنے بے ساختہ تھوک نگلا۔۔۔
اب تمہارے پاس دو راستے ہیں۔۔۔ یا تو تھوڑی سی ہمت دکھاتے حالات کا ڈٹ کر مقابلہ کرو۔۔۔ اپنا اور اپنے بابا کا خواب پورا کرنے کو ایڑی چوٹی کا زور لگا دو۔۔۔ 
یا پھر حالات سے فرار حاصل کرتے یہاں سے واپس چلی جاو۔۔۔
دونوں انتخاب تمہارے پاس ہے۔۔۔ لیکن۔۔۔ وہ انگلی اٹھا کر وارن کرتا گویا ہوا۔۔۔
تم کوئی بھی چوائس اپناو لیکن تم میرے کندھے پر بندوق رکھ کر نہیں چلا سکتی۔۔۔
یہاں رہنا ہے تو رہو۔۔۔ تمہارے تایا کا گھر ہے۔۔۔ جانا ہے جاو کہ یہ تمہارا اپنا انتخاب ہے۔۔۔ لیکن مرتسم لودھی کو اپنے ہر معاملے سے الگ کر دو کے میرا نام کسی بھی صورت کسی بے بنیاد جگہ پر آئے  یہ میں برداشت نہیں کروں گا۔۔۔ مرتسم کی آنکھوں کی سرخی کچھ مزید بڑھی اور وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتا کمرے سے نکل گیا۔۔ جبکہ پیچھے فاہا لودھی کا وہ حال تھا کے کاٹو تو بدن میں لہو نہیں۔۔۔
یہ وہ شخص کن باریک بینیوں پر بات کر کے گیا تھا جسکے بارے میں اسنے سوچا تک نا تھا۔۔۔
رات والا سارا غصہ کہیں جا سویا تھا۔۔۔ وہ تو سوچوں کے کئ نئے در وا کر گیا تھا۔۔۔
وہ جسم ڈھیلا چھوڑتی وہیں بیگ کے پاس ہی بیٹھ گئ۔۔۔
شاید مرتسم لودھی اتنا برا اور بے حس تھا نہیں جتنا وہ اسے سمجھی تھی۔۔۔ اسنے گہری سانس خارج کرتے بالوں پر ہاتھ پھیرا۔۔۔
*****
فائز علوی کو اپنی لیب میں بیٹھے کام کرتے صبح سے شام ہوگئ تھی ۔۔ وہ مسلسل کام کر رہا تھا۔۔۔ پروفیسر عظیم کی دیئے گے  سافت کاپی ڈیٹے کو وہ سارے کا سارا دیکھ چکا تھا۔۔۔ انکا ریسرچ ورک ہر طرح سے مکمل تھا۔۔۔ اسنے ہر چیز کے بارے میں مزید ریسرچ کیا۔۔۔ اور اب وہ اس مقام تک پہنچ چکا تھا کے وہ اس پراچیکٹ پر تھیوروٹیکل کام کرنے کی بجائے اب پڑیکٹیکلی اس پڑاجیکٹ پر کام کرتا۔۔۔۔
اور کل سے وہ اس پر  پڑیکٹیکلی کام کرنے والا تھا۔۔۔ بہت سا سامان اسے پروفیسر عظیم کی لیب سے مل گیا تھا جو رہتا تھا وہ اسنے تبھی اونلائن آرڈر کر دیا۔۔۔ پروفیسر صاحب سے وہ پل پل رابطے میں تھا۔۔۔ ہر چیز پر انسے رائے لیتا اور ہر بات پر انہیں اپنا آئیڈیا یا اپنا پوائنٹ آف ویو بتاتا۔۔۔
پروفیسر صاحب کو ویسے بھی اسکی صلاحیتیوں پر کوئی شک نا تھا۔۔۔ وہ کامیابی کے افق پر جگمگاتا ایک روشن ستارا تھا۔۔۔
پروفیسر صاحب ویسے تو سارا ریسرچ ورک مکمل ہے۔۔۔ اب میں کچھ گھنٹوں کے آرام کے بات رات میں سافٹ ویئر میں مختلف زبانیں فیڈ کروں گا۔۔۔ اے آئی بیس کو مختلف زبانوں کے اصول، نحو، قواعد، مضامین، لغات، اصطلاحات، اور ثقافتی تفصیلات کی تجزیہ وغیرہ فیڈ کرنی ہے۔۔ 
اس کے علاوہ سائنسی الگورتھمز مثلاً نیورل نیٹ ورکس (Neural Networks) کا استعمال کرنا ہے کیونکہ اس سے زبانوں کی فیڈ کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ یہ الگورتھمز زبانوں کے مفہوم، ترجمے، ساخت، اور ضوابط کو سمجھنے میں مدد کرتے ہیں۔
بہت ساری زبانیں ہیں پروفیسر صاحب ۔۔۔ اور میں کوشیش کروں گا کے ہم کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ زبانیں کور کر سکیں۔۔۔
یہ پراجیکٹ یقیناً بہت وقت لے گا پروفیسر صاحب۔۔۔ اور ایک اکیلا شخص تو شاید اس پر سالوں لگا دے۔۔۔ یہ پراجیکٹ ہم ٹیم ورک کے بنا مکمل نہیں کر سکتے۔۔۔
اس لیے میں نے زبانوں کا بھی سبھی کام اپنی ٹیم سے بانٹ لیا ہے۔۔۔
وہ بول رہا تھا جبکہ ویڈیو کال پر موجود پروفیسر صاحب چہرے پر ہلکی مسکراہٹ سجائے اسے سن رہے تھے۔۔۔ 
فائز بیٹا ۔۔۔ ٹیم قابل اعتبار ہونی چاہیے۔۔۔۔
ہروفیسر صاحب میری ٹیم بہت مختصر ہے۔۔۔ دونوں ہی میرے جگری دوست ہیں۔۔۔ جان دے دیں گے مگر دھوکہ نہیں دیں گے۔۔۔ باقی الیکڑونکس اور سینسر وغیرہ کے کام کے لئے ہم ایکسپرٹس ہائر کریں گے لیکن ان سے انکا مطلوبہ کام لیا جائے گا وہ ہمارے پراجیکٹ کا حصہ نہیں. ہونگے۔۔۔
شروع میں اپنی مادری زبان اردو سے کرنے والا ہوں۔۔۔ سب سے پہلے ہم اردو کے سبھی اصول و ضوابط اس آئی ایسں بیس سافٹ ویئر میں فیڈ کریں گے۔۔۔ اسی طرح انگلش زبان کا سارا کام مرتسم اور عربی کا سارا کام وہاج کے ذمہ ہے۔۔۔ اپنی ان تین بنیادی زبانوں کے بعد ہم باری باری باقی سبھی زبانیں جیسے پنجابی فرنچ ترکش اور تھائی وغیرہ کو پکڑیں گے۔۔۔ 
ایک دفعہ ساری زبانوں کا ڈیٹا فیڈ ہو جائے اسکے بعد ہم باقی ہر مضمون پر اکھٹا کیا جانے والا ڈیٹا اس میں فیڈ کر کے اسکا سافٹ ویئر مکمل کریں گے۔۔۔ باقی تب تک روبورٹ کی مشینری کا سارا سامان آ جائے گا تو باقاعدہ روبورٹ کی تیاری شروع کی جائے گی۔۔۔
فائز نے بات کرتے اپنے کندھے دبائے۔۔۔ اسکے چہرے پر تھکن کے واضح اثرات تھے۔۔۔
پروفیسر صاحب مسکرا دیئے۔۔۔ مجھے تم پر فخر ہے فائز علوی۔۔۔ تم ہماری قوم کا قیمتی سرمایا ہو۔۔۔
انکے مسکرا کر کہنے پر فائز نے سر خم کرتے داد وصول کی۔۔
اچھا سنو۔۔۔ میجر اریز  کا کچھ پتہ چلا۔۔۔ کال بند کرتے کرتے یاد آنے پر پروفیسر عظیم گویا ہوئے۔۔۔ انہوں نے پچھلے ہفتے ہی اسے ایک اہم کام سونپا تھا۔۔۔ میجر اریز سے ملاقات اب ناگزیر ہو چکی تھی۔۔۔
فائز نے مایوسی سے سر نفی میں ہلایا۔۔۔ پروفیسر صاحب میں نے اپنی طور کوشیشیں کی ہیں۔۔۔۔ لیکن مجھے جہاں تک لگتا ہے وہ کسی مشن پر گئے ہیں۔۔ جب تک لوٹ کر وہ ہم سے رابطہ نہیں کرتے ان کے بارے میں معلومات حاصل نہیں کر سکتے کیونکہ آرمی بیس سے کسی میجر کے بارے میں کوئی معلومات نکالنا ایک ناممکن سا کام ہے۔۔ 
پروفیسر صاحب نے سر ہاں میں ہلایا اور کال کٹ گئ۔۔۔
فائز نے اپنا دکھتا سر دباتے لیپ ٹاپ کی سکرین کو بند کیا۔۔۔ کام ختم ہونے پر اب بھوک کا احساس شدت سے جاگا تھا۔۔۔
جب تک کام میں غرق تھا دوسرا کوئی احساس جاگا ہی نا تھا۔۔۔ مگر اب شدت کی بھوک لگ رہی تھی۔۔ صبح سے وہ محض کافی پر کافی پی کر کام کر رہا تھا۔۔۔
فائز علوی ابھی اٹھ کر لیب سے باہر نکل کر اپنے کچن تک ہی آیا تھا جب اسکے موبائل کی بیل بجی۔۔۔
اسنے ابھی ابھی کاونٹر ٹاپ پر رکھا موبائل اٹھا کر دیکھا۔۔۔
فون ماموں جان کا تھا۔۔۔ اور فون پر نام دیکھتے ہی ایک جھماکے سے صبح کے سبھی واقعات اسکی آنکھوں کے سامنے سے گزرے۔۔۔
اسنے ماہرہ اظہر کی یادوں سے پیچھا چھڑوانے کو کام شروع کیا تھا اور وہ کام میں اتنا منہمک ہوا کے واقع اسے بھول گیا۔۔۔
اسنے لب بھینچتے  کال اٹھائی۔۔۔۔
فائز بیٹا ماہرہ تمہارے ساتھ ہے۔۔۔ صبح وہ تمہارے پاس آئی تھی نا ۔۔۔ فون سے ابھرتی ماموں کی پریشان آواز پر فائز بے طرح چونکا۔۔۔
کیا مطلب ماموں جان۔۔۔ وہ صبح یہاں آئی تھی۔۔۔ مگر کچھ ہی دیر بعد واپس چلے گئ۔۔۔ وہ پریشانی سے گویا ہوا۔۔۔ دل میں کئ طرح کے خدشات ابھرے تھے۔۔۔
ایسے کیسے فائز بیٹا۔۔۔ وہ صبح سے گھر سے نکلی ہے ابھی تک گھر نہیں لوٹی۔۔۔ مزید اسکی گاڑی کی لوکیشن تمہارے اپارٹمنٹ کی پارکنگ آ رہی ہے۔۔
ماموں کی پریشان حال آواز پر فائز علوی دھک سے رہ گیا۔۔۔ اسکی نگاہوں کے سامنے زمین آسمان کے کلاپے گھوم گئے۔۔۔ اس لڑکی کی گاڑئ یہاں تھی تو وہ خود کہاں تھی۔۔۔ اس پر متضاد وہ گھر بھی نہیں گئ۔۔۔
ما۔۔۔ ماموں جان ۔۔۔ میں دیکھتا ہوں۔۔۔ اسے اپنی ہی آواز کسی کھائی سے آتی سنائی دی۔۔۔ اسے اپنی بھوک پیاس تک بھول گئ۔۔۔ وہ انہی قدموں پر بھاگتا ہوا فلیٹ سے نکلا۔۔۔
اسکا دل بے ہنگم انداز میں ڈھرک رہا تھا۔۔۔ کسی انہونی کا خدشہ دل لرزا رہا تھا۔۔۔ ماہرا اظہر ایک حد درجہ جذباتی لڑکی تھی۔۔۔ کہاں گئ وہ۔۔۔ وہ کیسے ڈھونڈے اسے۔۔۔ بھاگم بھاگ پارکنگ میں پہنچتے اسنے ماہرہ کی کار وہاں کھڑی دیکھ سر پر ہاتھ پھیرتے ادھر ادھر دیکھا پھر کچھ سوچ کر اسکا نمنر ملایا۔۔۔ لیکن اسکے فون کی رنگ ٹیون گاڑی سے آ رہی تھی۔۔۔ شٹ۔۔۔ اسنے گاڑی کے بونٹ پر مکہ مارا۔۔۔
Where are you mahira...
 فائز علوی کی آنکھیں شدت ضبط سے سرخ ہونے لگی تھیں۔۔۔ اسے شدت سے ماہرہ کے الفاظ یاد آئے۔۔۔
جا رہی ہوں فائز علوی اور دعا گو ہوں کہ۔۔۔ کہ تمہیں ماہرہ اظہر کی صورت۔۔۔ دوبارہ کبھی زندگی میں نا دیکھنے کو ملے۔۔۔
اسکا دل بے طرح کسی نے مٹھی میں لے کر مسلا۔۔۔
********

No comments

Powered by Blogger.
4