Roshan Sitara novel 12th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Roshan Sitara novel 12th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Roshan Sitara is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels
Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front
of the world and improve their abilities in that field.
Roshan Sitara Novel by Umme Hania | Roshan Sitara novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Roshan Sitara novel by Umme Hania Complete PDF download
Online Reading
ناول "روشن ستارا"۔
مصنفہ "ام ہانیہ"۔
Official pg : Umme Hania official
بارہویں قسط۔۔
وہ ایک پر تعیش سی ڈیجیٹل لیب تھی۔۔۔ پروفیسر عظیم کی لیب سے چار گنا بڑی اور جدید لیب ۔۔۔ ہر طرح کی ٹیکنالوجی سے لیس۔۔۔ جسکے بیچ و بیچ سربراہی کرسی پر ایک ادھیر عمر شخص بیٹھا تھا۔۔۔۔ ہلکی بڑھی داری اور فربہہ مائل جسم۔۔۔۔
سامنے سکرینز پر مختلف سینز ابھر رہے تھے اور وہ شخس پرسوچ انداز میں ان ابھرتے اور مٹتے مناظر کو دیکھ رہا تھا۔۔۔
دفعتا ایک شخص لیب سے اندر آتا دکھائی دیا۔۔۔ وہ پینٹ کوٹ میں ملبوس ایک نوجوان تھا۔۔۔۔کیا خبر ہے میر۔۔۔ کچھ پتہ چلا پروفیسر عظیم کی نئ رہائش گاہ کا۔۔۔ کہ وہ لوگ راتوں رات کہاں غائب ہو گئے۔۔۔ یا اس لڑکے کا جو اس پروفیسر کی لڑکی کو ہمارے آدمیوں سے بچا لے گیا۔۔۔ دلاور خان پرسوچ انداز میں گویا ہوا۔۔۔
چچا جان ابھی سارے حالات ہمارے مخالف چل رہے ہیں۔۔۔ وہ پروفیسر ہمارے آدمیوں کی آنکھوں میں دھول جھونک کر رات و رات اپنی پرانی رہائش گاہ سے فرار ہو چکا ہے۔۔۔ جبکہ پرانی رہائش گاہ کی تلاشی کے بعد بھی اسکی لیب سے کوئی خاطر خواہ چیز نہیں ملی۔۔۔ جانے سے پہلے وہ ہر ثبوت مٹا کر گیا ہے یا ساتھ لے گیا ہے۔۔۔
وہ نوجوان میر اب ٹچ کاونٹر کے سامنے کھڑا ٹچ کیز دبا رہا تھا جس سے لیب میں لگی بڑی بڑی سکرینز پر پروفیسر عظیم کی رہائش گاہ کے اندرونی مناظر چل رہے تھے بالخصوص انکی لیب کے جو کے اب پوری طرح سے تباہ تھی۔۔
دلاور خان چہرے کے نیچے ہاتھ رکھے پرسوچ انداز میں اسے دیکھ رہا تھا جہاں اب اس گھر کی فوٹیج کے بعد مین روڈ پر تیز رفتار سے بھاگتی اس بائیک کی فوٹیج چل رہی تھی جسے فائز علوی چلا رہا تھا جبکہ اسکے پیچھے عبایہ دبوچ کر خوف سے دہری ہوتی سونم بیٹھی تھی۔۔۔
اتنی تیزی سے چلتی بائیک میں پیچھے سے شناخت ہونا ممکن نا تھی۔۔۔ ۔اس لڑکے کا ابھی تک ہنوز کچھ پتہ نہیں چل سکا۔۔۔ پچھلے دو ہفتوں میں اس طرح کی سات نئ بائیکس تین مختلف شو رومز سے اشو ہوئی ہیں۔۔۔ ان ساتوں کے نام پتہ چل چکے ہیں بس حدوداربعہ جاننا باقی ہے۔۔۔ میں جلد ہی اس بارے میں بھی آپکے پاس کوئی اچھی خبر ہی لاوں گا۔۔۔یقیناً اگر وہ لڑکا ہمارے ہاتھ لگ جائے تو ہمارے لئے کافی فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔۔۔
وہ سکرین بند کرتا واپس پلٹ کر اس تک آیا۔۔
جلدی کرو میر۔۔۔ ہم وقت برباد نہیں کر سکتے۔۔۔ ایک مرتبہ پروفیسر کا ریسرچ ورک ہمارے ہاتھ لگ جائے نا اور ہم اے آئی بیس اسکا وہ پڑاجیکٹ مکمل کر لیں۔۔۔ تو سوچ ہے تمہاری کے پھر ہم کیا کیا کر سکتے ہیں۔۔۔ دلاور خان کا انداز پرسوچ تھا لیکن آنکھوں کی شیطانی مسکراہٹ کئ گنا بڑھ چکی تھی۔۔۔
ہم جلد ہی ان تک پہنچ جائیں گے چچا جان ۔۔۔ اسنے دلاور خان کے پاس آتے انکے کندھے پر ہاتھ رکھا
******_
پاوں کی تکلیف سے زیادہ فائز علوی کا لہجہ اور زہریلے الفاظ اسکا دل چھلنی کر رہے تھے۔۔۔۔ وہ بے یقینی سے اسکی پشت کو تکتی جارہانہ اسکی جانب بڑھی۔۔۔
پاوں سے درد کی ٹیسیں اٹھی تھیں مگر وہ نظر انداز کرتی لڑکھڑاتی ہوئی اس تک پہنچی۔۔۔ وہ کاونٹر ٹاپ کے پاس کھڑا کچھ کر رہا تھا۔۔ ماہرا کی جانب اسکی پشت تھی۔۔ ماہرا نے اسکی شرٹ پیچھے سے دبوچتے اسے جارہانہ اپنی جانب کھینچا۔۔
وہ تعجب سے پلٹا۔۔۔
ہوش میں تو ہو تم فائز علوی۔۔۔ اتنی بے مروتی۔۔۔ تمہیں اندازہ بھی ہے کہ تمہارے یہ نشتروں کی مانند چبھتے الفاظ مجھے کس قدر اذیت سے دوچار کر رہے ہیں۔۔۔۔
اسکی آواز غم و غصے سے کپکپا اٹھی تھی۔۔۔
فائز نے بے تاثر نگاہوں سے اسے دیکھتے اسکے ہاتھ جھٹکے۔۔۔
کچھ تو عزت نفس دکھا دو ماہرہ۔۔۔۔ کہاں چلے گئ تمہاری عزت نفس۔۔۔ کتنا روندو گی اسے۔۔۔ لڑکیاں تو مر جاتی ہیں عزت نفس پر۔۔۔ تم کیسی لڑکی ہو۔۔۔ بے حسی سے بولے جانے والے اسکے الفاظ ماہرہ کا دل کسی تیز ڈھار آڑی سے چیر رہے تھے۔۔۔ وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھنے لگی۔۔۔ کیا سامنے والے کو اپنے لفظوں کی بے حسی کا زرا احساس تک نا تھا۔۔۔۔
کیسی لڑکی ہو تم ماہرہ۔۔۔ کیوں میرے پیچھے خود کو بے مول کر رہی ہو۔۔۔۔۔ نہیں ہے مجھے تم میں زرا برابر بھی دلچسپی یار۔۔۔ کیوں یہ بات تمہیں سمجھ نہیں آتی۔۔۔ کیوں بار بار آتی ہو میرے پیچھے۔۔۔
کوئی وقار اور نسوانیت جیسی بھی چیزیں ہوتی ہیں ماہرہ جس پر لڑکیاں جان تر قربان کر دیتی ہیں۔۔۔ تمہارے معاملے میں وہ سب کہاں گیا۔۔۔ کچھ تو وقار تم بھی دکھاو۔۔۔۔ وہ آنکھیں چندہی کر کے کہتا اسکے صدمے کے تحت بت بنے وجود سے دو قدم مزید قریب ہوا۔۔۔ ایک شخص تمہیں مسلسل انکار کر رہا ہے۔۔۔ ریجیکٹ کر رہا ہے۔۔۔ کیا تم اتنی گری پڑی ہو کے بار بار اپنی نسوانیت اپنا پندار رولتے ہوئے اسی کے گرد گھوم رہی ہو۔۔۔ تمہاری جگہ کوئی عزت دار لڑکی ہوتی نا۔۔۔
تیز دار برچھی آ کر بڑی زور سے ماہرہ کے دل پر لگی تھی کے وہ سسک اٹھی۔۔۔ آنکھوں سے سیل رواں ہو گیا۔۔۔ مگر وہ پتھر دل ہنوز کچوکے لگاتا رہا۔۔۔
تو کب کی مجھ پر دو حرف بھیج کر جا چکی ہوتی۔۔۔
پر یہ ہی تو مسلہ ہے ماہرہ کے کوئی عزت دار لڑکی ہوتی تو۔۔۔ آج فائز علوی کو ماہرہ لودھی کے دل سے ہر آس ہر امید نوچ کر پھینکنی تھی۔۔۔
تو تمہیں میں عزت دار لڑکی نہیں لگتی ۔۔۔ میں بے حیا لڑکی ہوں تمہاری نظر میں فائز۔۔۔ ماہرہ کو اپنی ہی آواز کسی کھائی سے آتی محسوس ہوئی۔۔۔ بے یقین آواز۔۔۔
پاوں کا درد کہیں ہوا ہو گیا تھا۔۔۔ روح پر لگے زخم ہی اتنے گہرے تھے کے جسم پر لگے زخموں کی تکلیف کہیں گم ہو گئ تھی۔۔۔
نامحرموں کی جھولیوں میں پکے ہوئے پھل کی طرح گرنے والی لڑکیاں کیسی ہوتی ہیں یہ تم خود ہی بتا دو۔۔۔ فائز علوی کا لہجہ سنجدہ تھا اور الفاظ سرد۔۔۔
ڈھر ڈھر ڈھر۔۔۔ گویا ساتوں آسمان اسکے سر پر گر پڑے ہوں۔۔۔ سانس سینے میں کہیں اٹکنے لگا تھا۔۔۔ کون تھی وہ ۔۔۔ اور فائز علوی اسے کن عورتوں سے متشبہ کر رہا تھا۔۔۔
ماہرہ اظہر کو لگا کے آج وہ پورے قد سے اپنی ہی نظروں میں زمین بوس ہو گئ ہو۔۔۔۔
ماہرہ اظہر نے جیسے سمجھ کر سر ہاں میں ہلایا۔۔۔۔ ٹھیک کہہ رہے ہو تم فائز علوی۔۔۔ میرے بارے میں تم زیادہ بہتر طریقے سے جانتے ہوگے۔۔۔
آخر کو تمہارے سامنے ہی تو بچپن گزرا میرا۔۔۔ آواز میں ٹوٹے مان کی کرچیاں تھیں۔۔۔۔ لڑکپن سے جوانی میں قدم تمہارا ہاتھ تھام کر رکھا۔۔۔ تمہارے گرد گھومتے رکھا۔۔۔
تو آخر کو کچھ برائیآں تو دیکھی ہی ہونگی نا تم نے مجھ میں جو میں بے غیرت اور بے حیا ٹھہری۔۔۔۔ وہ بے حس بنتی اب خود کو ہی کچوکے لگا رہی تھی۔۔۔
کوئی نا محرموں سے معاشقےےےےےے۔۔۔ آواز بھرائی تھی۔ انکے ساتھ گھومنا پھرنااااا۔۔۔ ہوٹلنگ۔۔۔۔ موج مستیاں۔۔۔۔۔وہ جیسے کرب زدہ سی خود پر ہی ہس رہی تھی۔۔۔
فائز نے لب بھینچتے نظروں کا رخ موڑا۔۔۔ یہ غلط تھا ۔۔۔ بہت غلط۔۔۔۔۔
دل نے شدت سے اسے لعن طعن کی مگر وہ بے حس بنا رہا۔۔۔۔
اسی لئے تو تمہاری نظروں میں ٹھہر نا سکی۔۔۔ وہ مزید گویا ہوئی۔۔۔
بے حجاب لڑکی کسی بھی مرد کی پسند نہیں ہو سکتی۔۔۔ وہ سختی سے اسکی بات کاٹتا بلا مقصد ہی کیبن کھول کر چیزیں الٹ پلٹ کرنے لگا۔۔۔ ماہرہ کے آنسووں میں مزید روانی آئی۔۔۔ دل کرچیاں میں بٹ گیا۔۔۔
کوئی کیسے کسی کی ذات کے بخیے اتنی بے دردی سے اڈھیر سکتا تھا۔۔۔ کے اسے اس چیز کا احساس بھی نا ہو۔۔۔
ماہرہ کو تو اپنی ذات کے ہر ادھڑتے بخیے کے ساتھ اپنے جسم سے روح پرواز کرتی محسوس ہورہی تھی۔۔۔
اس بار زخم اتنے گہرے تھے کے اسے سانس تک لینے میں دشواری ہو رہی تھی۔۔۔ کیونکہ زخم لگانے والا کون تھا۔۔۔ جو دل کے سب سے زیادہ قریب تھا۔۔۔
وہ دل کے قریب تھا تبھی تو بڑی آسانی سے دل کو پکڑے بے طرح مسل رہا تھا ۔۔۔ یوں کے بلبلانے کے سوا کوئی چارہ ہی نا تھا۔۔
ہممم۔۔۔ ٹھیک کہہ رہے ہو۔۔۔ تمہاری پسند تو حجابی لڑکی ہے نا جسے اس روز اپنے کمرے تک رسائی دے رہے تھے۔۔۔ وہ اذیت و کرب کی انتہا پر کھڑی دل گرفتی سے ہسی۔۔۔
سونم جیسی لڑکی کسی بھی مرد کی پسند ہو سکتی ہے۔۔۔ وہ اسکی بات کا طنز اور انداز نظر انداز کرتا فریج کھول کر پانی کی بوتل نکال کر اسکا دھکن کھولتا منہ سے لگا گیا۔۔۔۔
وہ ماہرہ اظہر کو شکستہ حال دیکھنے سے گریزاں تھا کے اگر اسکے چہرے پر رقم اذیت و کرب اور بے بسی کے تاثرات دیکھ لیتا تو شاید اپنا آپ ہار جاتا۔۔۔۔
ماہرا نے دقت سے سینے میں اٹکی سانس خارج کی اور رگڑ کر اپنے آنسو صاف کئے۔۔۔
وہ بھرائی نگاہوں سے فائز علوی کی پشت کو تکتی الٹے قدموں پیچھے ہٹی۔۔۔
فائز علوی تم جیتے میں ہاری۔۔۔ اسکی شکستہ آواز پر فائز کا دل ڈوب کر ابھرا۔۔۔۔
میری محبت کی شدت میں شاید اتنی طاقت نا تھی فائز علوی کے وہ تمہاری نفرت سے ٹکرا پاتی۔۔۔ میری محبت ہار گئ۔۔۔ وہ گویا خود بھی ہار گئ تھی۔۔۔ تم ہمیشہ سے فاتح عالم تھے فائز عالم۔۔۔ اس معاملے میں بھی فاتح ٹھہرے۔۔۔ وہ بے بسی بھری ہسی ہسی۔۔۔ کھوکھلی ہسی۔۔۔
بوتل کا ڈھکن بند کرتے فائز کے ہاتھ کپکپا گئے۔۔۔
مبارک ہو فائز علوی۔۔۔ جا رہی ہوں تمہاری زندگی سے۔۔۔ اسکی آواز کچھ آہستہ ہوئی۔۔۔
مگر ایک بات تو تمہاری ٹھیک ہے۔۔۔ ہوں تو میں بے غیرت اور بے حیا ہی۔۔۔ وہ خود پر ہسی۔۔۔ ظنزیہ ہسی۔۔۔
ماہرا اظہر جیسی بے غیرت اور بے حیا لڑکی فائز علوی جیسے باکردار اور باحیا شخص کے بنا جی ہی نہیں سکتی۔۔۔ اسنے اپنی سسکی روکی۔۔۔
عجیب دیوانوں سی حالت تھی۔۔۔ ہستے ہوئے رو دیتی اور روتے روتے ہس دیتی۔۔۔ اب دیکھو کیسے جی پاتی ہوں تمہارے بنا۔۔۔ وہ اپنے حواسوں میں نا لگتی تھی.
جا رہی ہوں فائز علوی اور دعا گو ہوں کہ۔۔۔ کہ تمہیں ماہرہ اظہر کی صورت۔۔۔ دوبارہ کبھی زندگی میں نا دیکھنے کو ملے۔۔۔۔
وہ اپنا سینا مسلتی دروازے کی جانب پلٹی۔۔۔
عین اسی وقت فائز علوی نے اسے خون رستے پاوں کے ساتھ پاوں گھسیٹتے باہر نکلتے دیکھا۔۔۔
دل پر یکدم ہی جیسے گھوسا پڑا تھا۔۔۔
دروازے تک پہنچتی ماہرا اظہر بے طرح لڑکھڑائی۔۔۔ بے ساختہ ہی فائز علوی دو قدم آگے بڑھا لیکن یکدم کچھ یاد آنے پر وہ لب بھینچے اسے شکستہ خیز سی جاتا دیکھتا رہا۔۔۔
جہاں تک وہ سمجھا تھا۔۔۔ آج ماہرہ اظہر نامی لڑکی اسکی زندگی سے پوری طرح نکل گئ تھی۔۔۔
وہ کسی شکست خوردہ شخص کی مانند آ کر صوفے پر ڈھ گیا۔۔۔ اسنے ہاتھ کی مٹھی بنا کر کئ مرتبہ ماتھے پر ماری۔۔۔ دل کا درد کئ گنا بڑھ گیا تھا۔۔۔ عجیب بے بسی تھی۔۔۔
آنکھوں کی پتلیوں پر کئ عکس ابھرنے اور مٹنے لگے تھے۔۔۔
ماہرہ اظہر اسکی بیسٹ فرینڈ۔۔۔ اسکی بیسٹ کزن۔۔۔ کیسے وہ اسے ڈی گریڈ کر سکتا تھا۔۔۔ کیسے وہ اسے اسی تکلیف سے گزار سکتا تھا جس تکلیف سے وہ مامی کی باتوں کی بدولت گزرا تھا۔۔۔ کیا وہ اس اذیت سے واقف نا تھا جسنے اسے کل پوری رت جلتے انگاروں پر گھسیٹے رکھا۔۔۔ کیسے وہ ماہرہ اظہر کو انہیں جلتے کوئلوں پر گھسیٹ سکتا تھا۔۔۔ دل درد سے پھٹ رہا تھا لیکن لب سسکی نکالنے سے عاری تھے۔۔۔ ضبط سے فائز علوی کی آنکھیں لہو چھلکانے لگی تھیں۔۔۔
وہ کیسے اس نازک سی لڑکی پر بہتان لگا سکتا تھا جسکے کردار کی گواہی وہ خود آنکھیں بند کر کے بھی دے سکتا تھا۔۔۔ سرعت سے اسکی آنکھوں کے کونے نم ہوئے تھے۔۔۔اسنے دکھتے دل کے ساتھ نم آنکھوں کے کونے دابے۔۔۔۔
وہ ماہرہ کی اپنے ساتھ دلی وابستگی سے باخوبی آگاہ تھا۔۔۔ اور اس میں زیادہ ہاتھ بھی تو اسی کا تھا۔۔۔ وہ خود ہی اسکے کہنے سے پہلے اسکا ہر کام کر دیتا تھا۔۔۔ کوئی سکول کا کام ہوتا یا کالج کا ۔۔۔ اسے کہیں بھی جانا ہوتا کچھ بھی شیئر کرنا ہوتا وہ بے ڈھرک فائز علوی کے سر پر آ پہنچتی اور فائز بھی تو نہایت خندہ پیشانی سے اسکا ہر کام کرنے کو ہمہ وقت تیار رہتا تھا۔۔۔
لیکن ان دونوں کے درمیان اسٹیٹس تھا۔۔۔ ماہرہ اظہر کی ماں تھی۔۔۔
وہ ماہرہ اظہر کو چنتا تو پوری زندگی کے لئے بے غیرت کہلاتا۔۔۔ اور وہ بے غیرت نہیں تھا۔۔۔ وہ اپنے مرے ہوئے ماں باپ کے خلاف باتیں نہیں سن سکتا تھا۔۔۔ ان پر انکی تربیت پر اٹھتی انگلیاں نہیں دیکھ سکتا تھا تبھی بے حس بن گیا تھا۔۔۔
جتنی تکلیف مامی کی نشتروں کی مانند چبھتی باتوں سے ہوئی تھی۔۔۔ اس سے کہیں زیادہ اس وقت ایک نازک پھول کی دل آزاری کرنے کی تکلیف ہو رہی تھی۔۔۔
ایم سوری ماہرہ ۔۔۔۔ ایم ریئلی ریئلی سوری۔۔۔ تم بہت پاکیزہ ہو۔۔۔ بس میں ہی تمہاری قدر نہیں کر سکا۔۔۔ کچھ اور تو دور ۔۔۔ دوستی تک کا حق نہیں ادا کر سکا۔۔۔
ہو سکے تو مجھے معاف کر دینا۔۔۔ لیکن شاید یہ ہی ہم دونوں کے لئے بہتر تھا۔۔۔ اسنے ضبط سے سرخ پڑتے چہرے پر دونوں ہاتھ پھیرے۔۔۔۔ دل بے کل و بے چین تھا۔۔ حد سے زیادہ پریشان۔۔۔
ماہرہ اظہر بہت بری حالت میں فلیٹ سے نکلی تھی۔۔۔ وہ اسکے پیچھے جانا چاہتا تھا۔۔ کم از کم تب تک جب تک وہ بخیرو عافیت گھر نا پہنچ جاتی۔۔ وہ اٹھتے اٹھتے پھر سے بیٹھ گیا۔۔۔
وہ ماہرہ کے پیچھے جا کر اسے پھر سے کوئی امید نہیں دلانا چاہتا تھا۔۔۔
عجیب بے کلی و بے چینی سی تھی جو رگ و ہے میں سیرائیت کرتی جا رہی تھی۔۔۔ بلآخر جھنجھلا کر وہ اٹھتا اپنی لیب میں آگیا کہ شاید کام سے ہی وہ اپنا ذہن ماہرہ اظہر پر سے ہٹا سکے۔۔۔ اور شاید یہ ہی اسکی فاش غلطی تھی۔۔۔
****
ماہرہ شکست خوردہ سی اسکے فلیٹ سے نکلی تھی۔۔۔
پاوں سے ہنوز خون رس رہا تھا مگر اسکا ذہن اسقدر منتشر تھا کے اسے ہوش ہی کسی چیز کا نا تھا۔۔۔ وہ قدم رکھ کہیں رہی تھی پڑ کہیں رہ تھا۔۔۔
کوئی وقار اور نسوانیت جیسی بھی چیزیں ہوتی ہیں ماہرہ جس پر لڑکیاں جان تر قربان کر دیتی ہیں۔۔۔ تمہارے معاملے میں وہ سب کہاں گیا۔۔۔ کچھ تو وقار تم بھی دکھاو۔۔۔۔
الفاظ نہیں پگھلا ہوا سیسہ تھا جو اسکے کنوں میں انڈیلا جا رہا تھا۔۔۔
نامحرموں کی جھولیوں میں پکے ہوئے پھل کی طرح گرنے والی لڑکیاں کیسی ہوتی ہیں یہ تم خود ہی بتا دو۔۔۔
آوازوں کی بازگشت کسی صورت پیچھا نا چھوڑ رہی تھی۔۔۔ فائز علوی نے آج اسے توڑ نا تھا بلکہ بے طرح توڑ کر ختم ہی کر ڈالا تھا۔۔۔
اسکے اندر تو جینے تک کی امنگ باقی نا رہی تھی۔۔۔ ذہنی ابتری کا عالم یہ تھا کے اسے فائز علوی کے اپارٹمنٹ کے احاطے سے اپنی گاڑی تک لینا یاد نا رہی۔۔۔
وہ بس بہتی آنکھوں کے ساتھ کھوئی کھوئی سی سڑک کنارے چلتی جا رہی تھئ۔۔۔ آنکھوں سے مسلسل سیل رواں تھا۔۔۔۔ پس منظر میں سب غائب ہو گیا تھا ٹریفک کا شور۔۔۔ گاڑیوں کا آنا جانا۔۔۔
اسے یاد آیا تھا۔۔۔ وہ اپنے کمرے سے نکل کر فائز کی تلاش میں باہر لان میں آئی جہاں وہ کسی نئے پودے کے بیج بو کر اسے پانی دینے کے بعد ہاتھ جھارتا اٹھ کھڑا ہوا تھا۔۔۔۔
ماہرہ کو شرارت سوجھی۔۔ اسنے وہی پاس پڑے پانی کے پائپ کو اٹھاتے اسکی بوچھار کا رخ فائز کی جانب کر دیا۔۔۔۔۔ لمحوں میں وہ بوچھار سے نکلتے پانی تلے بھیگ گیا تھا۔۔ اس اچانک افتاد پر فائز بوکھلا اٹھا۔۔۔
یوووووو۔۔۔ وہ خطرناک عزائم لئے اسکی جانب بڑھا جب ماہرہ پائپ وہیں چھوڑتی بھاگ پڑی۔۔۔ بھاگتے بھاگتے لاوئنج کے داخلی دروازے کو چڑھتی دو سیڑھیوں کے پاس اسکا پاوں بے طرح ڑپٹہ۔۔۔ آہہہہہ۔۔۔ وہ چیختی ہوئی پاوں تھام کر وہیں بیٹھ گئ۔۔۔ غزال سی آنکھوں میں موٹے موٹے آنسو امڈ آئے۔۔۔
او پاگل لڑکی۔۔ یہ کیا کیا تم نے۔۔۔ آرام سے نہیں چل سکتی۔۔۔وہ غصہ بھلائے فکر مندی سے اسکے پاس پنجوں کے بل بیٹھتا اسکے پاوں کا معائنہ کر رہا تھا۔۔۔ اسے اپنے لئے یوں فکرمند دیکھ وہ مسکرا دی۔۔۔
لوگ بدلتے ہیں فائز علوی۔۔۔ مگر تم تو سر تا پیر ہی بدل گئے۔۔۔ دکھتے دل سے ہوک سی نکلی تھی۔۔۔ منتشر سوچوں اور الجھے ذہن کیساتھ اسے خبر ہی نا ہو سکی کے وہ کب روڈ کنارے سے سڑک کے وسط میں آگی۔۔۔
پیچھے سے سپیڈ میں آتے گاڑیوں میں سے کئ نے کئی مرتبہ ہارن دیا۔۔۔مگر اسے سنائی دیتا تب نا۔۔۔ جبکہ ایک گاڑی بنا ہارن دیئے ہی اپنی اسی رفتار سے آئی اور ماہرہ اظہر کے سائیڈ سے گزرنے کی کوشیش کے باوجود اس سے ٹکرا گئ۔۔۔ ماہرہ اظہر اچھلتی ہوئی دور جا کر گری۔۔۔۔ لمحوں میں وہاں گاڑیوں کے ٹائر چڑچڑائے ۔۔۔ اسکے گرد لوگوں کا مجمع جمع ہو گیا تھا جبکہ اس مجمعے کے بیچ و بیچ خون میں لت پت ماہرہ اظہر کب کی ہوش و حواس سے بیگانہ ہو چکئ تھی۔۔
******

No comments