Roshan Sitara novel 11th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Roshan Sitara novel 11th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Roshan Sitara is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels
Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front
of the world and improve their abilities in that field.
Roshan Sitara Novel by Umme Hania | Roshan Sitara novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Roshan Sitara novel by Umme Hania Complete PDF download
Online Reading
ناول "روشن ستارا"۔
مصنفہ "ام ہانیہ"۔
Official pg : Umme Hania official
گیارہویں قسط۔۔۔
فاہا شکل سے تو بہت مزے کا لگ رہا ہے۔۔۔ علایہ ہاتھ ملتی ایکسائٹڈ سی کاونٹر ٹاپ پر جھکی فاہا کو کرش کی ہوئی چیز وائٹ ساس پاستہ کے اوپر ڈالتی دیکھ رہی تھی۔۔۔
تمہیں پتہ ہے فاہا یہ نا مرتسم بھائی کا بھی فیورٹ ہے۔۔۔
نام مت لو اپنے اس سڑے ہوئے کریلے جیسے کڑوے بھائی کا۔۔۔ اکڑو اور سڑیل نا ہو تو کہیں کا۔۔۔ سوائے اپنی ذات کے کچھ دکھتا ہی نہیں ہے۔۔۔ آیا بڑا افلاطون۔۔۔۔
اور خبردار میرا دماغ خراب کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔ اتنی مشکلوں سے اس سڑے کریلے کو دماغ سے نکالا ہے۔۔۔ ہنہہ۔۔۔
وہ علایہ کے بولنے پر پھٹ پڑی۔۔۔ دل کی بھراس نکالتے اسنے پاستے کا باول اوون میں رکھ کر اوون چلایا۔۔۔جب علایہ کی صدمے سے چور آواز ابھری۔۔۔
لڑکی ہوش میں تو ہو۔۔۔ بھائی کے بارے میں کیا اول فول بول رہی ہو۔۔۔ جو بِھی تھا وہ علایہ کا اکلوتا بڑا بھائی تھا۔۔۔ لڑائی جھگڑے اپنی جگہ لیکن بھائی کے بارے میں ایسی باتیں ۔۔۔ کہاں منظور تھیں بھلا اسے۔۔۔۔
ارے۔۔۔ بس بس۔۔ بھائی کی چمچی۔۔۔ خبردار جو اسکی طرفداری کی تو۔۔۔ نہایت ہی کوئی احساس برتری کا شکار انسان ہے وہ۔۔۔
دفعتاً علایہ کی نگاہ غصے سے لال بھبھوکا چہرا لئے کچن کے دروازے میں کھڑے مرتسم پر پڑی تو اسنے چونک کر حواس باختہ ہوتے فاہا کو مزید گوہر افشانیاں کرنے سے روکنا چاہا جب مرتسم نے سرعت سے ہونٹوں پر انگلی رکھتے اسے خاموش رہنے کا اشارہ کیا۔۔۔ وہ ہونٹوں پر زبان پھیرتی لب کچل کر رہ گئ۔۔۔
سوائے اپنی ذات کے اسے کچھ دکھائی نہیں دیتا۔۔۔ باقی سب لوگوں کو وہ کیڑے مکوڑے سمجھتا ہے۔۔۔
گھمنڈی ۔۔ خود سر۔۔۔ منہ پھٹ اور بدتمیز انسان۔۔۔۔
آہمممم۔۔۔۔آہممممم۔۔۔۔۔۔۔
اب یہ کچھ نہیں بہت زیادہ ہو رہا تھا۔۔۔ اور اس سے زیادہ وہ اس چھٹانک بھر کی لڑکی کے منہ سے اپنے لئے نادر فرمودات سن نہیں سکتا تھا۔۔۔ اس لئے باامر مجبوری گلہ کنگارتے اسے اپنی مجودگی کا احساس دلا گیا۔۔۔
آواز پر فاہا نے پیچھے پلٹ کر دیکھا۔۔۔ اور جس تیزی سے اسنے پلٹ کر دیکھا تھا مرتسم کے لال بھبھوکا چہرے پر نظر پڑتے ہی اسی سپیڈ سے چہرے کا رخ واپس پلٹا۔۔۔ اسکا اوپر کا سانس اوپر جبکہ نیچے کا سانس نیچے رہ گیا تھا۔۔۔
وہ اس وقت بھلا وہاں کہاں سے آ گیا تھا۔۔۔
علایہ موقع پاتے ہی وہاں سے کھسک گئ۔۔۔
جبکہ وہ قدم قدم چلتا اسکے بالکل سامنے آ کھڑا ہوا۔۔۔
ٹراوز پر کھلی سی ہاف بازو ٹی شرٹ پہنے گیلے بال ماتھے پر بکھرے ہوئے تھے۔۔۔
فاہا نے دماغ کو چند لمحے پہلے ریورس کر کے سوچنا چاہا کے وہ کیا کیا اول فول بول چکی ہے۔۔۔ اور یاد آتے ہی گردن میں ایک گلٹی سی ابھری۔۔۔
زرا دوبارہ سے بولنا جو جو کچھ گنوا رہی تھی تم میرے بارے میں۔۔۔
مرتسم کی سرد غصیلی آواز ابھری۔۔۔
وہی جو کچھ آپ نے سنا۔۔۔ وہ دھک دھک کرتے دل کے ساتھ فوراً رخ پلٹ گئ۔۔۔۔ خود کو بہادر ثابت کرنے کی بھی6ز5ے6تکلیف کوشیشیں بیکار جا رہی تھیں۔۔۔ اب جب وہ سب سن ہی چکا تھا تو پھر بھلا مکرنے کا فائدہ۔۔۔۔
ادھر دیکھو زرا۔۔۔
مرتسم نے اسے بازو سے تھامتے اسکا رخ اپنی جانب موڑا۔۔۔
Don't you dare touch me...
اس نے جھٹپٹا کر اپنی بازو اسکی گرفت سے آزاد کروائی۔۔۔
مرتسم لودھی طیش سے اسے دیکھ کر رہ گیا۔۔۔ اسکی یہ حرکت ناگوار گزری تھی۔۔۔
اب بولو۔۔۔۔ وہ آگے بڑھ کر اسے دونوں شانوں سے تھام کر جھنجھوڑتا ہوا بولا۔۔
وہ تو خود لڑکیوں سے کوسوں دور رہتا تھا۔۔۔ لیکن فاہا کا یہ انداز اسے طیش دلا گیا تھا۔۔ تبھی جارحانہ اسے جھکڑے وہ پوری قوت سے جھنجھوڑ گیا۔۔
فاہا کو اپنے کندھے ٹوٹتے ہوئے محسوس ہوئے۔۔۔
جانور مت بنیں مرتسم لودھی۔۔۔ میرے ساتھ زبان سے بات کریں۔۔۔ سرعت سے اسکی آنکھیں گیلی ہونے کے بعد ٹپ ٹپ برسنا بھی شروع ہو گئ تھیں۔۔۔ وہ ضبط کرتی دبی دبی آواز میں چیخی۔۔۔
اسے روتا دیکھ مرتسم یکدم ہی اسکے شانوں سے ہاتھ ہٹاتا دو قدم پیچھے ہٹا۔۔۔
سوری۔۔۔ پشیمانی سے ماتھا مسلتے وہ خاصا بے چین ہوا۔۔۔ یہ ایک غیر ارادی عمل تھا۔۔ جو غصے میں سر زد ہو گیا تھا۔۔۔۔
آپ ایک گھمنڈی ۔۔ خود سر۔۔۔ منہ پھٹ اور بدتمیز انسان ہونے کیساتھ ساتھ ایک وحشی انسان بھی ہیں۔۔۔ جو کمزوروں پر اپنی طاقت آزماتا ہے۔۔۔
وہ کپکپاتے ہونٹوں اور شکوہ کناں نگاہوں سے اسے دیکھتی آنسو رگڑ کر صاف کرتی باہر بھاگ گئ۔۔۔
اوون بند ہونے کی ٹک کی آواز کیساتھ مرتسم کی پشیمانی کچھ مزید بڑھی۔۔۔ وہ یونہی غصے پر سے قابو کھوتا ہائپر ہو جاتا تھا۔۔۔
مرتسم یہاں کیا کر رہے ہو تم۔۔۔ وہاں فائز ااکیلا بیٹھا تمہارا انتظار کر رہا ہے۔۔۔ تم جاو اسکے پاس میں ابھی کھانا لگواتی ہوں۔۔۔ ناہیڈ بیگم اندر داخل ہوتیں مصروف سی گویا ہوئیں تو الجھا الجھا سا مرتسم سر ہاں میں ہلاتا باہر نکل گیا۔۔۔۔
*****
کیا ہوا فاہا۔۔۔ تم رو کیوں رہی ہو۔۔۔ فاہا لودھی کو روتا ہوا بھاگ کر اندر آتا دیکھ علایہ پریشان حال سی بھاگ کر اسکے پاس آئی ۔۔۔
تمہارے بے حس اور سڑیل بھائی کے ہوتے ہوئے بھلا کچھ اچھا ہو بھی سکتا ہے کیا۔۔۔۔۔ انہیں میں اس گھر میں موجود ایک آنکھ نہیں بھاتی۔۔۔کھٹکتی ہوں میں انکی آنکھ میں۔۔۔ میری مجبوری ہے یہاں رہنا علایہ۔۔۔ اب کیا وہ مجھے بات بات پر اس چیز کا احساس دلا کر ڈی گریڈ کریں گے۔۔۔۔ وہ ہچکیوں سے روتی اسے دیکھ شکوہ کناں ہوئی۔۔۔
علایہ کا اپنا دل بھر آیا۔۔۔ ایسی بات نہیں ہے فاہا۔۔۔۔
ایسی ہی بات ہے علایہ۔۔۔ میں نے بابا کو منانے کی بہت کوشیش کی علایہ کے میں ہاسٹل میں رہنا چاہتی ہوں۔۔۔ لیکن انہوں نے مجھے یونیورسٹی بھیجنے کی شرط ہی یہ رکھی کے اگر میں یونیورسٹی جانا چاہتی ہوں تو مجھے تایا کے گھر ہی رہنا ہوگا۔۔۔ اپنے گھر کے ہوتے ہوئے وہ مجھے ہاسٹل رہنے کی اجازت قطعاً نہیں دیں گے۔۔۔۔ لیکن اب ۔۔۔ اب مجھے لگ رہا یے کہ میرا یہاں رہنا بہت مشکل ہو رہا ہے۔۔۔ میں اپنی عزت نفس پر اتنے وار نہیں سہہ سکتی علایہ۔۔۔
وہ جتنے آنسو صاف کرتی مزید اتنے ہی بہہ نکلتے۔۔۔ وہ بیڈ ہر ڈھنے کے سے انداز میں بیٹھی۔۔۔ علایہ اسے دکھ اور تاسف سے دیکھتی رہی۔۔۔
میری خود اعتمادی زائل ہو رہی ہے۔۔۔ وہ بار بار مجھے ڈی گریڈ کرتے ہیں علایہ۔۔۔ خود جتنے بھی وار کریں میری ایک بات کے جواب میں بھڑک جاتے ہیں۔۔۔
اتنی محنت لگا کر میں نے وائٹ ساس پاستہ بنایا۔۔۔ لیکن ان سے میری خوشی دیکھی نہیں گئ۔۔۔ خاک کر دی میری خوشی۔۔۔
علایہ نے اسکے پاس بیٹھتے اسے خود میں بھینچا۔۔۔
پلیز فاہا چپ کر جاو میں ابھی پاستہ کے کر آتی ہوں۔۔۔ پھر ہم دونوں مل کر کھائیں گے۔۔۔ اسنے فاہا کو پچکار کر چپ کروانے کی ایک اپنی سی کوشیش کی۔۔۔
میں نے سوچ لیا ہے علایہ۔۔۔ اسنے گویا علایہ کی بات سنی ہی نا تھی۔۔۔
میں مزید خود کو ڈی گریڈ نہیں ہونے دوں گی۔۔۔ مجھے اپنی سیلف ریسپیکٹ عزیز ہے۔۔۔ اپنی سیلف رسپیکٹ پر میں اپنے خواب کی قربانی دے سکتی ہوں۔۔۔ میں کل صبح ہوتے ہی بابا سے بات کر کے واپس چلے جاوں گی۔۔۔ مجھے نہیں رہنا یہاں۔۔۔ وہ اسکے کندھے سے سر ٹکائے سسک اٹھی۔۔۔۔
جبکہ علایہ جہاں کی تہاں رہ گئ۔۔۔ یہ وہ بھلا کیا کہہ رہی تھی۔۔۔
جیسے تیسے کر کے وہ فاہا کو سلا پانے میں کامیاب ہو پائی تھی۔۔۔ پہلے ہی رات کا اسنے کھانا نہیں کھایا تھا مزید اسکی یہ حالت ۔۔۔ نیز پاستہ تو وہیں کا وہیں رہ گیا تھا۔۔۔
علایہ کو اس کی حالت دیکھ کر حقیقتاً دکھ ہوا تھا۔۔۔ اس لئے وہ بالا ہی بالا مرتسم سے دو دو ہاتھ کرنے کی تھان چکی تھی۔۔۔
******
مرتسم فائز کے ساتھ ڈنر کرنے کے بعد کچھ دیر اسکے پاس ہی رہا تھا پھر فائز کے جم میں چلے جانے کے بعد وہ اندر آگیا کیونکہ فلحال اسکا فائز کیساتھ رات کے اس وقت جم میں کھپنے کا کوئی ارادہ نا تھا۔۔۔
ابھی وہ لاوئنج کا دروازہ وا کر کے اندر آیا ہی تھا جب اسنے لاوئنج میں ہی علایہ کو اپنا منتظر پایا۔۔۔
وہ بھویں چکاتا اسکی طرف ہی آگیا۔۔۔
خیریت۔۔۔ یہ مجھے اتنی محبت سے کیوں دیکھا جا رہا ہے۔۔۔ وہ علایہ کو دونوں ہاتھ کمر پر رکھے چندھی آنکھوں سے خود کو تکتا پا شریر ہوا۔۔۔ وہ کھلی سی ہٹیالہ شلوار اور شارٹ شرٹ میں ملبوس تھی آنچل دائیں شانے پر تھا جبکہ کھلی آبشر کمر پر پھیلی تھی۔۔۔
کیا بولا آپ نے فاہا سے۔۔۔ وہ اسی انداز میں دو قدم اسکی جانب بڑھی۔۔
اوہ۔۔۔ تو مس روندو نے شکایت لگا کر بھیجا ہے وہ میری سوچ سے بھی زیادہ چھوٹی بچی ثابت ہوئی جو بات بات پر شکایتیں لے کر چل پڑتی ہے۔۔۔ اور کیا کہا اسنے۔۔ مرتسم نے تاسف سے چہرا دائیں بائیں گھمایا۔۔۔۔
دیکھیں مرتسم بھائی۔۔۔ وہ مجھ جیسی نہیں ہے۔۔۔ میری اور اسکی نیچر میں زمین آسمان کا فرق ہے۔۔۔ میں جانتی ہوں آپ اسے بالکل ویسے ہی ٹریٹ کر رہے ہیں جیسے مجھے۔۔۔ لیکن آپکی نیچر میں سمجھتی ہوں وہ نہیں۔۔۔۔
علایہ کمر سے ہاتھ ہٹاتی سنجیدہ ہوئی۔۔۔
میں جانتی ہوں یہ سب کیونکہ آپ میرے بھائی ہیں ہمیشہ سے میرے ساتھ رہے ہیں۔۔ کہ یہ بھی آپکی کیئر کا ایک انداز ہے۔۔۔ آپ اسے دبو اور لو کانفیدینس اس لئے کہتے ہیں تاکے وہ چڑ کر ان خامیوں کو خود سے ختم کر ڈالے جیسے میں چڑ کر آپکے کہے کو غلط ثابت کر جاتی ہوں۔۔۔
لیکن بھائی ایک ہی فارمولہ سب پر اپلائی نہیں ہوتا نا۔۔۔ میں چڑ کر آپ پر چڑھ بھی ڈورتی ہوں۔۔۔ بابا سے آپکی شکایت لگا کر آپکی بینڈ بھی بھجوا دیتی ہوں۔۔۔ چلا چلا کر گھر سر پر بھی اٹھا لیتی ہوں۔۔۔ کیونکہ یہ میرا اپنا گھر ہے۔۔۔ وہ مرتسم کے سامنے کھڑی اسے ناصحانہ اند
از میں سمجھا رہی تھی جبکہ مرتسم خاموشی سے اسے سنتا اس ساری تمہید کا مقصد سمجھنے کی کوشیش کر رہا تھا۔۔۔
لیکن وہ یہ سب نہیں کر سکتی۔۔ کیونکہ وہ اس گھر کو اپنا گھر نہیں سمجھتی۔۔۔ آپ اسے احساس کمتری کا شکار کہتے ہیں تو وہ مزید ہونے لگتی ہے۔۔۔ کہ اسے لگتا ہے کہ یہ آپکا گھر ہے اور وہ آپکے گھر میں ایک ان چاہی مہمان ہے۔۔۔ اسکا کانفیدینس لیول زیادہ ہونے کی بجائے مزید کم ہونے لگا ہے۔۔۔
For God sake Bhai...
وہ پاگل لڑکی آپکی باتوں سے تنگ آ کر یونیورسٹی چھوڑ کد واپس جانے کا سوچ رہی ہے۔۔ پلیز بھائی کچھ خیال کریں۔۔۔۔
مجھے وہ بہت عزیز ہے اور اسے میں اس حال میں نہیں دیکھ سکتی وہ بہت رو رہی تھی۔۔۔۔
تو اینوی تو میں اسے روندو نہیں بولتا۔۔۔ اسکے پاس ہر مسلے کا حل رونا ہی یے۔۔۔ فاہا کے عاجزانہ انداز میں کہنے ہر وہ اسکی بات کاٹ گیا۔۔۔
بھائیییییی۔۔۔ وہ چلا کر رہ گئ۔۔۔
اوکے سیز فائز۔۔۔ وہ دونوں ہاتھ اٹھاتا سیرنڈر کر گیا۔۔۔
پلیز بھائی آپ اس سے بات کر کے ہر بات کلیئر کر لیں۔۔۔
فکر مت کرو یار۔۔ صبح بات کر کے دماغ درست کر لوں گا اسکا۔۔۔ مرتسم نے ناک سے مکھی اڑائی۔۔۔
یوں۔۔۔ اس ٹون میں بات کریں گے آپ اس سے۔۔۔ علایہ روہانسی ہو اٹھی۔۔۔
تو اور کیا کروں ۔۔۔ اس روندو کو دیکھتے ہی ٹون ایسی ہو جاتی ہے۔۔۔ سوائے میرے اسے دنیا میں کوئی شخص اچھا لگتا نہیں ۔۔۔ جو سچ بول کر آئینہ دکھا دے وہ برا۔۔۔ مرتسم نے نڑوتھے پن سے سر جھٹکا۔۔۔
آپ سے برا کوئی ہے بھی نہیں۔۔۔ وہ مرتسم کو گھور کر آگے بڑھی۔۔۔ جب جاتے جاتے رک کر پلٹی۔۔۔ صبح اس سے ہر بات کلیئر کر لیں بھائی ورنہ میں آپکی شکایت کس انداز میں بابا سے لگاوں گی سوچ ہے آپکی۔۔۔
تم مجھے بابا کی دھمکی دے رہی ہو۔۔۔ مرتسم نے گردن موڑ کر اس چھوٹے پیکٹ بڑے دھماکے کو دیکھا۔۔۔
مرتسم لودھی کی بہن علایہ لودھی نے دھمکی دینا سیکھا ہی نہیں۔۔۔
So don't take me eassy...
,وہ گردن اکڑا کر کہتی اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئ۔۔۔ جبکہ مرتسم اسے دیکھ کر تاسف سے سر ہلا کر رہ گیا۔۔۔
****
فائز علوی ساری رات مرتسم لودھی کے جم میں پنچنگ بیگ پر اپنی سبھی فرسٹریشن نکال کر ساری رات آنکھوں میں کاٹ کر آج صبح ہی اپنے فلیٹ میں آیا تھا۔۔۔ دماغی طور پر وہ اب بھی بہت الجھا ہوا تھا۔۔۔ ساری رات شب خوابی میں گزار کر ابھی بھی اندر ایک آگ سی جل رہی تھی۔۔۔ وہ ہر طرح سے خود کو سمجھا کر دیکھ چکا تھا لیکن دل شاید اس بار خود ہی کوئی تاویل ماننے کو تیار نا تھا۔۔۔
وہ کارپٹ پر بیٹھا صوفے کی پشت سے ٹیک لگائے ہوئے تھا ایک کہنی صوفے کی سیٹ پر تھی۔۔۔ بکھرے بال جبکہ آنکھیں شب بیداری کی چغلی کھا رہی تھیں۔۔۔ مامی کی باتیں ہنوز اسکے کانوں میں ہتھورے کی مانند بجتی اسکا فشار خون بڑھا رہی تھیں۔۔۔
دفعتاً اپارٹمنٹ کا دروازہ کھٹکنے کی آواز پر وہ کسلمندی سے اٹھ کر دروازہ کھولنے گیا۔۔۔
آج اسے اپنی تنہائی میں یہ خلل بھی گراں گزرا تھا۔۔۔ اتنی صبح ناجانے کون منہ اٹھا کر آگیا تھا۔۔۔
دروازہ وا کرتے ہی سامنے نیلے رنگ کی گھٹنوں کو چھوٹی فراک میں ملبوس ماہرہ کو دیکھ اسکا خون کھول اٹھا۔۔
وہ دھلے دھلائے چہرے کیساتھ ٹیل پونی بنائے سٹالر کو گلے میں گھما کر ڈالے کھڑی تھی۔۔۔
کیا کر رہی ہو تم یہاں۔۔۔ اسے دیکھتے ہی فشار خون کچھ مزید بڑھا ۔۔۔ مامی کی باتیں پوری جزئیات سے یاد آئیں کے وہ ان زہریلے نشتروں سے نیل و نیل ہوتا ڈھار اٹھا۔۔۔۔
ماہرہ یک ٹک اسے دیکھتی رہ گئ۔۔۔ فائز علوی اور یہ لہجہ۔۔۔
ہاں وہ اس سے گریز برتنے لگا تھا۔ ۔ اپنے اور اسکے درمیان کئ مرتبہ حد بندی متعیں کر چکا تھا لیکن اسکا ایسا لہجہ۔۔۔ ماہرا ساکت رہ گئ۔۔۔
کیا کر رہی ہو یہاں ماہرہ اظہر۔۔۔ جاو واپس۔۔۔ ابھی کے ابھی۔۔۔ فائز علوی نے پوری قوت سے دروازہ اسکے منہ پر بند کرنا چاہا جب وہ فائز کا اسقدر شدید ردعمل دیکھ کر لاشعوری طور پر اتنی ہی تیزی سے اپنا پاوں آگے کر گئ۔۔۔ یہ ایک لاشعوری کوشیش تھی اسے دروازہ بند کرنے سے روکنے کی لیکن اتنی ہی شدت سے دروازہ اسکے پاوں پر لگا۔۔۔
اسکا پاوں گویا دیوار اور دروازے کی درمیان پس کر رہ گیا۔۔۔۔
آہہہ ۔۔۔۔منہ سے ایک تکلیف دہ سسکی ابھری ۔۔۔ وہ ٹرپ کر رہ گئ۔۔ جبکہ اس غیر متوقع صورتحال پر فائز نے بھی گھبرا کر دروازہ چھوڑا۔۔۔ وہ نم آنکھوں سی پاوں پر جھکی لمحے کی تاخیر کئے بنا اندر بڑھ آئی۔۔۔ فائز نے دکھ سے اسکے پاوں کی جانب دیکھا جہاں دودھیا پاوں پر واضح نیلاہٹ کے ساتھ خون کی بھی کئ بوندیں ابھر آئی تھیں۔۔۔۔
درد سے اسکی جان نکل رہی تھی۔۔۔
تم اتنے ظالم کب سے ہو گئے فائز علوی۔۔۔ وہ شکوہ کناں نگاہوں سے فائز کو دیکھتی تاسف سے گویا ہوئی۔۔۔
میں ہمیشہ سے ہی ایسا تھا۔۔۔ تمہیں اب پتہ چلا۔۔۔ اور براہ مہربانی اب پتہ چل گیا ہے تو جتنی جلدی ہو سکے یہاں سے نکل جاو۔۔۔ اور خدارا دوبارہ کبھی اس طرف کا رخ مت کرنا۔۔۔ وہ بنا اسکے پاوں کی چوٹ کا نوٹس لئے تلخ لہجے میں کہتا کچن کی جانب بڑھا۔۔۔
لہجے میں تلخی کے ساتھ وہ حد درجہ بے زار تھا۔۔ ماہرہ کا وہاں موجود ہونا اسے اندر ہی اندر داغ رہا تھا۔۔۔ یہ لڑکی اسکے لئے سراپا امتحان بن رہی تھی۔۔۔ اس لڑکی کے باعث وہ مزید اپنی عزت نفس پر تازیانے برداشت نہیں کر سکتا تھا۔۔۔
جبکہ آج وہ ماہرہ کو شاک پر شاک دے رہا تھا۔۔۔ اسکی بے حسی ماہرہ کو ساکت کر گئ تھی۔۔ کہاں وہ اسکی چھوٹی سی چھوٹی چوٹ پر تڑپ اٹھنے والا اور کہاں وہ اسکی اتنی تکلیف پر بھی نظریں پھیر گیا تھا۔۔۔ تکیلف کی شدت حد سے سوا تھی۔۔ وہ لادوں پلی لڑکی کہاں برداشت کر سکتی تھی ایک کانٹے کا بھی چبھنا اور یہاں وہ اسکے پاوں سے رستا خون دیکھ بھی انجان تھا۔۔۔ پاوں کی تکلیف سے زیادہ فائز علوی کا لہجہ اور زہریلے الفاظ اسکا دل چھلنی کر رہے تھے۔۔۔۔ وہ بے یقینی سے اسکی پشت کو تکتی جارہانہ اسکی جانب بڑھی۔۔۔

No comments