Roshan Sitara novel 10th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Roshan Sitara novel 10th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Roshan Sitara is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels
Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front
of the world and improve their abilities in that field.
Roshan Sitara Novel by Umme Hania | Roshan Sitara novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Roshan Sitara novel by Umme Hania Complete PDF download
Online Reading
ناول "روشن ستارا"۔
مصنفہ "ام ہانیہ"۔
Official pg : Umme Hania official
دسویں قسط۔۔۔
فون سننے کے بعد اسکا دماغ جھنجھنا رہا تھا لیکن اسے اپنے اعصاب پر پورا کنٹرول حاصل تھا تبھی واپس اپنے دوستوں تک پہنچتے پہنچتے وہ چہرے کے کھینچے تاثرات نارمل کر چکا تھا۔۔۔۔
کچھ دیر تک رکنے کے بعد مرتسم اور وہاج دونوں ہی جانے کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے تو فائز بھی اپنے اندر غصے سے پھٹتے لاوے پر بندھ باندھے کی خاطر انکے ساتھ ہی اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔
کدھر۔۔۔ اسے اپنے ساتھ ہی اپارٹمنٹ سے نکلتے دیکھ مرتسم مستفسر ہوا۔۔۔
تمہارے ساتھ ہی جا رہا ہوں۔۔۔ کافی دیر ہوگی آنٹی سے ملے ہوئے اور ویسے بھی میں انکے ہاتھوں کے کھانے کو مس کر رہا ہوں تو ڈنر وہیں کروں گا۔۔۔
اپنے اندر بولتے سناٹے اور تنہائی میں کچھ غلط کر جانے کے خوف سے بچنے کی خاطر وہ سنجیدہ سا گویا ہوا۔۔۔ اور اپارٹمنٹ لاک کر کے لفٹ کی جانب بڑھا۔۔۔
کیا بات ہے مسٹر فائز۔۔۔
آج اتنے عرصے بعد ہمیں یہ شرف کیسے ملا۔۔۔ ورنہ مام تو تمہیں یاد کر کر کے تھک گئیں۔۔۔
مرتسم مسکرایا اور لفٹ سے نکل کر پارکنگ کی جانب بڑھا۔۔۔ وہاج اپنی گاڑی میں جبکہ فائز مرتسم کے ساتھ اسکی گاڑی میں وہاں سے نکلا۔۔۔
کچھ ہی دیر میں وہ مرتسم کے ہمراہ اسکے مینشن میں موجود تھا۔۔۔
حسب سابق وہ گاڑی سے نکلتا سیدھا ڈرائینگ روم کی طرف بڑھا اور اسکا بیرونی دروازہ وا کر کے اندر داخل ہوا۔۔۔ اس مینشن کی طرح ڈرائینگ روم بھی اپنی امارت کا منہ بولتا ثبوت تھا۔۔۔ جس میں وائٹ ٹائلز کے ساتھ صوفوں سے لے کر پردوں تک ہر چیز سبز اور سکن کلر کے امتزاج کی تھی۔۔۔ دیواروں پر لگی بیش قیمت کیلی گرافی چھت سے لے کر زمین کو چھوتے دبیز خوبصورت پردے۔۔۔ دیواروں پر آویزاں گولڈن فریم میں مقید گول خوبصورت شیشے۔۔۔۔ ہر چیز دماغ پر اچھا تاثر ڈالتی تھی۔۔۔ لیکن فائز علوی ماحول سے لاتعلق سا صوفے پر نیم دراز ہو گیا۔۔۔
اتنے سالوں سے وہ اس گھر میں آ جا رہا تھا۔۔۔ آنٹی انکل سے اسکی بہت اچھی سلام دعا تھی۔۔۔ وہ بھی اسے مرتسم کی طرح ہی سمجھتے ۔۔۔لیکن اس سب کے باوجود بھی اسکا ایک اصول تھا وہ کبھی بھی گھر کے اندرونی حصے میں نہیں گیا تھا۔۔۔ شازو نادر ہی کسی بہت خاص موقع پر وہ اندر جاتا ورنہ یہیں پر یا گھر سے الگ تھلک بنی مرتسم کی جم میں زیادہ وقت گزارتا۔۔۔
اس جم کا آئیڈیا بھی فائز نے ہی ان دونوں کو دیا تھا ۔۔۔ یہ ہی وجہ تھی وہاج اور مرتسم دونوں کے گھروں میں وسیع رقبے پر مشتمل جم بنا تھا۔۔۔ں۔۔۔ لیکن وہ ہمیشہ اکھٹے ہی جم میں پائے جاتے۔۔۔ کبھی مرتسم کے گھر تو کبھی وہاج کے گھر۔۔۔ اسکے دو ہی دوست تھے اور دونوں کی فیملیز سے بھی فائز علوی کے بہت اچھے تعلقات تھے۔۔۔
فائز علوی وہ شخص تھا جسے ہر دلعزیز ہونے کا شرف حاصل تھا۔۔۔ کوئی اسے ناپسند کر ہی نہیں سکتا تھا۔۔۔ پوری دنیا میں ایک صائمہ مامی ہی تھیں جسے وہ کانٹے کی مانند چھبتا تھا ۔۔۔ اور آج تک وہ انکی ناپسندیدگی کی وجہ جان نہیں پایا تھا۔۔۔ سوائے اسکے کے قسمت کی ستم ظریفی کے باعث وہ یتیم ہو کر اپنی ماں کے ہمراہ انکے بھائی کے در پر آگیا تھا۔۔۔
صائمہ مامی کی کچوکے لگاتی باتیں اور طنز کے نشتر اسے اندر تک لہو لہان کر جاتے تھے۔۔۔ ایسا ہمیشہ سے ہوتا آیا تھا۔۔ وہ اسے ہمیشہ یونہی ڈی گریڈ کرتیں تھیں۔۔۔ کبھی کھانے میں اسکی پسندیدہ ڈش پکتی تو فریج کو تالا لگا دیتیں۔۔۔ کبھی اس چیز کو چھپا دیتیں۔۔۔ ماں خاموشی کی بکل اوڑھتی خون کے آنسو پی کر رہ جاتیں۔۔۔ ایسا نہیں تھا کے اس گھر میں کسی چیز کی کمی تھی۔۔۔ بس یہ مامی کی ضد تھی جسکا کوئی اختتام نا تھا۔۔۔ وجہ شاید یہ ہی تھی کے وہ ہر چیز میں بہترین تھا۔۔ نہایت ذہین دماغ۔۔۔
جس کام کو شروع کرتا اسے بہت نفاست اور خوبصورتی سے پایہ تکمیل تک پہنچاتا۔۔۔۔۔۔
پڑھائی میں ہمیشہ اول۔۔۔ اسکی وجہ سے مظہر کی شخصیت کہیں دب جاتی۔۔۔ اور بیٹے کی یہ ناقدری مامی کو منظور نا تھی۔۔۔
مظہر جتنا سہل پسند اور سست تھا۔۔ فائز اتنا ہی چست اور محنت کش تھا۔۔۔
لڑکپن سے ہی وہ ہر ہر کام میں دلچسپی لیتا۔۔۔ فارغ رہنا اسے پسند ہی نا تھا۔۔۔ مالی بابا کو لان میں پودے لگاتے یا انکی کانٹ چھانٹ کرتے دیکھتا تو ان کے ساتھ لگ جاتا۔۔۔ مالی بابا سے انکے نام اور افادیت پوچھ کر اس پر مزید ریسرچ کرتا ۔۔۔۔ پھر مالی بابا کو بھی مشورے دے کر انکے ساتھ مل کر نئے نئے طریقے اپناتا۔۔۔
ماموں کا وہ دائیاں بازو تھا۔۔۔ یہ اسکی ایمانداری اور مخلص پن کا نتیجہ ہی تھا کا ماموں اپنے بیٹے سے زیادہ اس پر اعتبار کرتے۔۔۔ اور اس موازنے کی وجہ سے مامی کے سینے پر سانپ لوٹ جاتے۔۔۔
مامی کی پرزور مخالفت اور بھرپور ضد کے باوجود بھی ماموں نے اسکا داخلہ مظہر کے ساتھ شہر کے ٹاپ کے سکول میں کروایا تھا۔۔۔ دونوں ایک ہی کلاس میں تھے اور ہر دفعہ رزلٹ کے دن مامی کا گھر میں ہنگامہ فائز کی ساری خوشی کو کافور میں بدل دیتا۔۔
مظہر ایک ایوریج سٹودینٹ کی کیٹگری میں بھی نہیں آتا تھا جبکہ دوسری طرف فائز علوی ایک روشن ستارا تھا جو سکول میں بھی ہر ٹیچر کا دلعزیز تھا۔۔۔۔
اس روز روز کے موازنے اور ہر کام میں پیچھے رہ جانے کے باعث مظہر بہت چڑچڑا اور بیزار ہونے لگا۔۔ ماں سے زیادہ اب اسے فائز سے چڑ ہونے لگی تھی۔۔۔ اسکا بس نا چلتا کے فائز علوی کو دھکے دے کر گھر سے نکال دے۔۔۔
گھر میں مامی اور باہر مظہر اسے ڈی گریڈ کرنے میں کوئی کسر نا چھوڑتے۔۔۔ وہ بس ماں کے بارہا سمجھانے پر لب سیئے سب سہتا رہتا۔۔۔
ایسے میں محض ایک ماہرہ ہی تھی۔۔۔ جو نیچر میں ہوبہو ماموں کا پرتو تھی۔۔۔۔
جو اپنی ہر چھوٹی بڑی چیز کے لئے اسکے پیچھے پیچھے پھرتی۔۔۔۔ فائز کو بھی ایک مخلص دوست ملا تھا تو وہ بھی اسکی چھوٹی بڑی ہر خواہش کا احترام کرتا۔۔۔
ماں کے بعد اسکی زندگی میں محض ماہرہ ہی تھی۔۔۔ وہ جب کوئی نئ چیز بنانے کی کوشیش کرتی تو سب سے پہلے وہ فائز کے پاس ہی لاتی۔۔۔۔
شعور کی منازل طے کرتے اور ماں کے نگہانی انداز میں اسے چھوڑ جانے کے بعد ابھی وہ یہ صدمہ ہی سہہ نہیں پایا تھا کے مامی کی رگوں کو کاٹتی تزلیل سے تنگ آ کر وہ گھر چِھوڑ آیا۔۔۔
وہ ایک سیلف میڈ شخص تھا جس نے لڑکپن سے نکلتے ہی پارٹ ٹائم جاب شروع کر دی تھی۔۔۔ یہ ہی وجہ تھی کہ گھر سے نکلتے وقت اسکے پاس اتنی انویسٹمنٹ تھی کے وہ اپنے لئے ایک چھوٹے موٹے فلیٹ کا انتظام کر سکے۔۔۔
پڑھائی میں درجے بلند ہونے کے ساتھ ساتھ اسکے کام کا لیول بھی اپ گریڈ ہوتا گیا۔۔۔ معمولی ہیلپر سے سیل میں اور پھر ایک ٹیوٹر سے ہوتے ہوئے وہ پروفیسر عظیم کی لیب میں پارٹ ٹائم جاب کرنے لگا تھا۔۔۔ ٹیکنالوجی سے اسکی چھوٹی عمر میں ہی بہت بنتی تھی۔۔۔ وہ گھر کی سبھی خراب چیزیں خود ہی کھول کر بیٹھ جاتا۔۔۔ چھوٹی چھوٹی بیٹریوں اور سیلوں کو بروے کار لاتے نئے سے نئے تجربے کرتا رہتا۔۔۔ اپنے اسی انٹرسٹ کو دیکھتے اسنے فیلڈ بھی کمپیوٹر سائنسز کی ہی چنی تھی۔۔۔۔ رہتی کسر پروفیسر عظیم کی ہمراہی نے پوری کر دی تھی۔۔۔ انکی گائیڈلائن میں اسنے تیزی سے ترقی کی منازل طے کرتے اپنا ریسرچ ورک مکمل کیا تھا۔۔۔۔
ایسے میں اتنا عرصہ گزر جانے کے اور اس گھر سے نکل آنے کے بعد بھی مامی کی اس سے چڑ اور نفرت ہنوز وہیں قائم تھی۔۔۔ حالانکہ اپنے بیٹے کو اس روز روز کے موازنے سے بچانے کے لئے وہ کالج کے دور میں ہی اسٹریلا پڑھائی کی غرض سے بھیج چکی تھیں۔۔۔
اب تک مامی کا ہر وار ہر طعنہ قابل قبول تھا کیونکہ اس میں وہ ہمیشہ فائز کی ذات کو رگیڈتی تھیں جبکہ اب انہوں نے وار اسکی مری ماں کی تربیت اور باپ کی نسل پر کیا تھا۔۔۔
اب یہ برداشت سے باہر تھا یہ ہی وجہ تھی کہ ابھی تک اندر ایک آگ سی جل رہی تھی۔۔۔
دفعتاً دروازہ کھلنے کی آواز پر وہ چونک کر حال میں اتا سیدھا ہو کر بیٹھا۔۔
سامنے مسکراتی ہوئیں ناہید بیگم تھیں۔۔۔
ارے آج میرا بیٹا راستہ بھول کر آیا ہے۔۔۔
انہیں اپنی جانب آتا دیکھ وہ اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔
جھک کر ان سے پیار لیا اور انکے ساتھ ہی بیٹھ گیا۔۔۔ کافی دنوں سے آنے کی کوشیش کر رہا تھا آنٹی بس کچھ مصروفیات تھیں جنکی بدولت میں آ نہیں سکا۔۔۔۔
وہ مسکراتے ہوئے گویا ہوا۔۔۔
چلو دیر آئے درست آئے۔۔۔ مرتسم ابھی مجھے تمہاری آمد کا بتا کر فریش ہونے گیا ہے تم بھی فریش ہو جاو آج میں ڈنر اپنے دونوں بیٹوں کے ساتھ ہی کروں گی۔۔۔ اس عورت کی اپنائیت اور خلوص کو دیکھتے وہ اداسی سے مسکرا دیا۔۔۔
*****
مرتسم لودھی ماں کو فائز کی آمد کا بتا کر سیٹی کی لے پر دھن گنگناتا انگلی پر کار کی چابی گھماتا اپنے کمرے کی طرف جا رہا تھا جب پریہا اعظم یکدم سے اسکے سامنے آئی۔۔۔ اسے دیکھ کر وہ ٹھٹھک کر رکا۔۔۔
کیسے ہو مرتسم۔۔۔ وہ مسکرا کر گویا ہوئی۔۔۔ مرتسم نے سر تا پیر اسکا جائزہ لیا۔۔۔
نیلی جینز پر بلڈ ریڈ پیٹ تک آتی شرٹ زیب تن کئے سٹیکنگ زدہ بھورے بال پشت پر بکھیرے وہ مسکراتی ہوئی اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
فائن۔۔۔ وہ یک لفظی جواب دیتا آگے بڑھنے لگا جب وہ پھر سے سرعت سے اسکا راستہ روکتی گویا ہوئی۔۔۔
کدھر ہوتے ہو آج کل ۔۔۔ کہیں دکھائی ہی نہیں دیتے۔۔۔
اب ہر کوئی پریہا اعظم کی طرح فارغ تو ہو نہیں سکتا جو اپنے گھر سے زیادہ دوسروں کے گھر پایا جاتا ہو۔۔۔ بندہ بشر کے سو کام ہوتے ہیں۔۔۔ اب ہر کام تو تمہیں بتانے سے رہا۔۔۔
مرتسم لودھی نے دل رکھنا سیکھا ہی نا تھا۔۔۔ وہ یونہی لمحوں میں سامنے والے کی ذات کو رگیڈ کے رکھ دیتا تھا۔۔۔اب بھی ایسا ہی ہوا تھا
مسٹر مرتسم لودھی۔۔۔ یہ گِھر بھی میرا ہی ہے اسی لئے میں ہر دوسرے دن تمہیں یہاں دکھائی دیتی ہوں۔۔ وہ غصہ ضبط کرتی تنک کر گویا ہوئی۔۔۔
اچھااااا۔۔۔ دراصل مجھے اس چیز کا علم نہیں ۔۔۔ زیادہ تر مصروف ہوتا ہوں نا اس لئے پتہ نہیں چل سکا کے کے میرے ابا نے تمہیں گود لے کر جائیداد میں ایک حصے دار مزید بڑھا لیا ہے۔۔۔ وہ لبوں پر دل جلاتی مسکراہٹ لئے مزید اسکی طرف دو قدم بڑھا۔۔۔
پریہا اعظم نے خود کو اسکی خوبرو پرسنیلٹی کے سحر میں جھکڑتے پایا۔۔۔
اسکے وجود سے پھوٹتی کلون کی مہک ہلکی بڑھی شیو دراز قامت اور ماتھے پر بکھرے بال اور سب سے بڑھ کر اسکی مقناطیسی کشش کی حامل چیلنجنگ آنکھیں۔۔۔ پریہا اسے یکٹک دیکھے گئ۔۔۔
یہ میرا ہونے والا سسرال ہے۔۔۔ اس لئے میں ناہید خالہ کے کہنے پر یہاں آتی ہوں۔۔۔ وہ نڑوتھے پن سے کچھ جتاتی گویا ہوئی۔۔۔
مرتسم قہقہ لگاتا ہس دیا۔۔۔
تمہاری ناہید خالہ کا دوسرا بیٹا ابھی تک میری معلومات سے باہر ہے۔۔۔
وہ تمہاری معلومات سے باہر ہی رہے گا۔۔۔ کیونکہ خالہ کو دوسرے بیٹے کی نہیں بلکہ پوتے کی خواہش ہے جو انکے پہلے بیٹے سے ہی پوری ہوگئ۔۔۔ وہ بالوں کو جھٹکا دیتی مرتسم کو لو دیتی نگاہوں سے دیکھتی خاصی بے باکی سے گویا ہوئی۔۔۔
تم شاید جانتے نہیں کہ گھر میں تمہاری اور میری شادی کی باتیں چل رہی ہیں۔۔۔ پریہا نے جیسے اپنی جانب سے اسکے سامنے دھماکہ کیا۔۔۔
وہ مسکرا دیا۔۔۔ دراصل میری ماں نا بہت ہی جولی قسم کی خاتوں ہے۔۔۔ انہیں نا ہر وقت انٹرٹینمٹ چاہیے ہوتی ہے شاید اسی مقصد کے حصول کے لئے انہون نے تمہیں تمہارا فیورٹ شادی نام کا لولی پاپ تھما دیا ہے۔۔ ورنہ مجھے تم میں کوئی انٹرسٹ نہیں۔۔۔
ایک ہی جھٹکے میں وہ سارے حساب بے باک کر چکا تھا۔۔۔ یکدم ہی پریہا کے چہرے کا رنگ پھیکا پڑا۔۔۔ سبکی کے شدید احساس سے چہرے کا رنگ شرٹ کے ہم رنگ ہو گیا۔۔۔لیکن جلد ہی وہ سمبھلی۔۔۔
مرتسم لودھی اس سے ہی شادی کرے گا جو اس دل کو اس قابل لگے گی کہ اس سے شادی کی جائے۔۔۔
فکر مت کرو۔۔۔ میں بہت جلد اس دل میں گھر کر لوں گی۔۔۔ وہ جلد ہی خود کو کمپوز کرتی بے باکی سے آگے بڑھ کر اسکی شرٹ کے بٹنوں سے چھیر چھاڑ کرنے لگی۔۔۔ جب مرتسم لودھی نے جبڑے بھینچتے ایک ہی جھٹکے میں اسکا ہاتھ کسی اچھوٹ کی مانند تھام کر جھٹکا۔۔۔
یہ میرا دل ہے کوئی سیرائے نہیں جہاں ہر ایرا غیرا آتا جاتا رہے۔۔۔ وہ ایک لائن میں اسے اسکی اوقات واضح کرتا سیڑھیاں چڑھ گیا۔۔۔
جبکہ پیچھے پریہا اعظم غصے سے کپکپا کر رہ گئ۔۔۔ مرتسم لودھی ۔۔۔ تم بھی اب پریہا اعظم کی ضد ہو۔۔۔ دیکھتی ہوں کہ تم کیسے مجھ سے شادی نہیں کرتے۔۔۔ ابھی تم نے مجھے جانا ہی کتنا ہے۔۔۔ تمہارے ہاتھ پاوں باندھ کر تمہیں بے بس کر کے خود سے شادی کرنے ہر مجبور نا کر دیا نا تو کہنا کے میرا نام بھی پریہا اعظم نہیں۔۔۔
Just wait & watch...
وہ چہرے پر تلخ مسکراہٹ لئے مکروہ عزائم بنا رہی تھی۔۔۔
****†*****
مرتسم لودھی دھار سے کمرے کا دروازہ وا کرتا اندر بڑھا۔۔۔ اور ایک جھٹکے سے شرٹ اتار کر بستر پر پھینکی۔۔۔ پریہا اعظم کی بے باک حرکتیں دیکھ اسکا خون خول رہا تھا۔۔۔ اسے وہ رعایت محض اپنی ماں کی بھانجی کی وجہ سے دے رہا تھا ورنہ اسکی جگہ کوئی اور لڑکی ہوتی تو اب تک اسکا حشر بگاڑ چکا ہوتا۔۔۔
اسے لڑکیوں سے انکی اس گھٹیا حرکتوں کی وجہ سے ہی تو شدید چڑ تھی۔۔۔ وہ نگر نگر گھوما تھا۔۔۔ کئ ملمالک دیکھ چکا تھا۔۔۔
جو کچھ ویسٹرن ممالک میں ہو رہا تھا وہی سب اب یہاں بھی ہونے لگا تھا۔۔۔
یہ ویسٹرن ممالک کا خاصا تھا کے لڑکیاں اپنی نسوانیت مردوں کے قدموں میں روندنے کے لئے ہاتھوں میں لئے انکے پیچھے پیچھے گھومتی تھیں۔۔۔
وہاں ان ممالک میں جا کر تو کئ اسکے فیلوز بھی اسے ان برائیوں میں مبتلا ملے تھے۔۔۔ اچھے خاصے شریف گھرانوں کے سپوت وہاں جا کر ون نائٹ سٹینڈ پر یقین رکھنے لگے تھے کہ انکا کہنا تھا کے جب سب کچھ خود کھلی تجویری کی طرح ملے تو کفران نعمت کون کرے۔۔۔ اور صرف ویسٹرن لڑکیاں ہی نہیں اسنے خود اپنے ہی ممالک سے گئ کئ لڑکیوں کو بھی ماحول کے رنگ میں رنگتے دیکھا تھا کے چار دن کی زندگی ہے عیش سے گزارو۔۔۔ جب یہاں کوئی روک ٹوک نہیں کسی کا ڈر نہیں تو کیوں خود کو باونڈ کرنا۔۔۔
اس معاشرے کے اسقدر اخلاقیات سے گرے بگھاڑ کو دیکھ اسکا دل وہاں سے اچاٹ ہو گیا تھا۔۔۔ ہوتے ہونگے کوئی سو میں سے ایک پرسنٹ افراد جو اتنی گندگی اور غلاظت کے ڈھیر میں جا کر بھی خود کو پاک صاف رکھتے ہوں ورنہ مرتسم لودھی نے تو برائی میں اتنی کشش دیکھی تھی کہ بظاہر نیک صالح لوگ بھی رات کے اندھیرے میں اپنے چولے اتارتے دیکھائی دیتے تھے۔۔۔ اسکے خود کے کئ کلاس میٹ کی ریپوٹیشن پاکستان میں شریف زادوں کی حیثیت سے بنی تھی۔۔۔
ان بیرون ممالک گئے لڑکوں کے لئے پاکستانی رشتہ دار اپنی بیٹیوں کے رشتے ہتیھلی پر لئے پھرتے تھے لیکن اندر سے وہ اخلاقیات کی جن گری ہوئی پستیوں میں جا گرے تھے یہ دیکھ مرتسم لودھی تھرا گیا تھا۔۔۔ یہ ہی وجہ تھی کے وہ اس ماحول سے اکتا کر اپنے پہلے سمیسٹر کے پہلے ہی مہینے واپس پاکستان آ گیا تھا۔۔۔ پڑھائی کے لئے اسنے اپنے ہی ملک کو ترجیح دی تھی۔۔۔
اس ماحول کا اچھے سے جائزہ لینے کے بعد اسے یہاں آ کر بھی مایوسی ہی ہوئی تھی۔۔۔ بظاہر ان ممالک میں جو کام کھلے عام ہو رہا تھا وہی کام یہاں چند مصلحتوں کی آڑ میں ہو ریا تھا۔۔۔
وہاں کی بے باک عورت اور یہاں کی آزاد عورت میں بھی کوئی فرق نا تھا۔۔ یہاں بھی اسنے کئ لڑکیوں کو اپنی نسوانیت خود کئ مردوں کے قدموں میں روندتے دیکھا تھا اور یہ سب محض ایلیٹ کلاس تک ہی محدود نا تھا۔۔ بلک مڈل کلاس میں بھی بظاہر باپردہ کئ لڑکیوں کے اسنے گٹھیا روپ دیکھے تھے۔۔۔ یہ ہی وجہ تھی کے اب تو اسکا شادی نامی چیز سے اعتبار ہی اٹھ گیا تھا۔۔
بظاہر ہر کوئی نیک تھا۔۔۔ لیکن اسکی تنہائی کے عمل کیا تھے یہ وہ نہیں جانتا تھا۔۔ اور تنہائی میں اسنے نوے فیصد لوگوں کو گناہ میں ہی مشغول دیکھا تھا۔۔۔ اس گناہ کی کیٹگری ہر کسی کی الگ ہو سکتی تھی۔۔ کسی کا گناہ ہوٹلوں کے کمرے تک جا پہنچا تھا جبکہ کسی کا گناہ ابھی ٹیلیفونک تھا۔۔۔ کوئی کسی نامحرم کے گناہ میں مبتلا تھا تو کہیں کوئی نشے کی لت کی بدولت اپنی تنہائی کا وقت تباہ کر رہا تھا۔۔۔ کسی کی تنہائی پورن ایڈکشن تک محدود تھی تو کوئی فحش مواد پڑھ کر خود کو تباہ کر رہا تھا۔۔۔
وہ کسی بھی ایسے شخص کو دیکھ کر راستہ بدل لیتا۔۔۔ وہ دوسروں کو جج نہیں کرتا تھا۔۔۔ اور پریہا اعظم کو دیکھ کر بھی وہ اسے بنا جج کئے راستہ بدل لینا چاہتا تھا۔۔۔ کئ کئ مردوں کے ساتھ دوستی کے نام پر ہوٹلنگ کرنے والی۔۔۔ یونی فیلوز کی حیثیت سے ان کے ساتھ شاپنگ کرنے جانے والی لڑکی اسے بیوی کی رشتے سے قطعاً نا منظور تھی۔۔
وہ بری تھی یا نہیں۔۔۔ وہ نہیں جانتا تھا۔۔۔ وہ بس اتنا جانتا تھا کے ایک مرد اور عورت کے درمیان تیسرا ہمیشہ شیطان ہوتا ہے۔۔ جو ہمیشہ تنہائی کے وقت حملہ کرتا ہے۔۔۔ اور اسنے ہمیشہ ہی تنہائی میں لوگوں کو شیطان کے ورغلانے پر گناہ پر آمادہ دیکھا تھا۔
اب بھی وہ جھنجھنلاتے اعصاب کو پرسکون کرنے کی خاطر شاور لے کر باہر نکلا۔۔۔ اور فائز کی موجودگی کا احساس کرتا نیچے آیا ورنہ اسکا کھانا کھانے کا کوئی موڈ نا تھا۔۔۔ لاوئنج سے گزرتے اسے کچن میں ایک سبز آنچل لہلہاتا نظر آیا تو وہ لاشعوری طور پر اسی طرف چلا آیا۔۔۔ وہ فاہا لودھی ہی تھی علایہ کے ساتھ کھڑی کوئی نئ ریسپی بنانے کی کوشیش کر رہی تھی۔۔۔ ساتھ ساتھ اسکی زبان بھی خوب چل رہی تھی۔۔۔ جیسے جیسے وہ آگے آیا اپنے بارے میں اسکے عظیم فرمودات سن کر اسکے چودہ طبق روشن ہو گئے۔۔۔
*****

No comments