Roshan Sitara novel 9th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Roshan Sitara novel 9th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Roshan Sitara is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels
Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front
of the world and improve their abilities in that field.
Roshan Sitara Novel by Umme Hania | Roshan Sitara novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Roshan Sitara novel by Umme Hania Complete PDF download
Online Reading
ناول "روشن ستارا"۔
مصنفہ "ام ہانیہ"۔
Official pg : Umme Hania official
نویں قسط۔۔۔
ماہرا غصے سے کھولتے دماغ کیساتھ فائز کے اپارٹمنٹ سے سیدھا اپنے گھر آئی تھی۔۔۔ فائز کے کہنے ہر وہ خاموش تو ہوگئ تھی مگر اسے بہت سے خدشات لاحق ہو چکے تھے۔۔۔ فائز اسکا تھا اس معاملے میں وہ بہت پوزیسسو تھی۔۔ وہ فائز علوی کو کسی کے ساتھ بانٹنا تو دور تصور بھی نہیں کر سکتی تھی۔۔۔
اسکا سر درد سے پھٹ رہا تھا۔۔۔ کار پورچ میں کھڑی کر کے وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتی درمیانی فاصلہ عبور کر کے دو زینے چڑھ کر لاوئنج کا دروازہ وا کرتی اندر داخل ہوئی۔۔۔
لاوئنج میں ہی صائمہ بیگم ہمیشہ کی طرح سے ٹپ ٹاپ لاوئنج کے صوفے پر بیٹھیں دیوار گیر ایل سی ڈی پر ٹاک شو دیکھ رہی تھیں۔۔۔
وہ غصے سے کھولتی انکے پاس آئی اور اپنا بیگ صوفے پر پٹختی خود بھی صوفے پر ڈھ گئ۔۔۔
صائمہ بیگم نے چونک کر بیٹی کا لال بھبھوکا چہرا دیکھا۔۔۔
Mahira beta is every thing OK...
وہ ریمورٹ سامنے کانچ کے میز پر رکھتیں فکرمندی سے اسکی جانب متوجہ ہوئی۔۔۔
ماہرا نے چہرے پر ہاتھ پھیرتے وہی ہاتھ بالوں پر پھیرا۔۔۔۔ سفید چہرا اس وقت سرخیاں چھلکا رہا تھا۔۔۔ جیسے پورے جسم کا خون سمٹ کر چہرے پر آ گیا ہو۔۔۔
کچھ ٹھیک نہیں ہے مام۔۔۔ کچھ بھی ٹھیک نہیں ہے۔۔۔ وہ بے چینی سے ماں کی جانب متوجہ ہوئی۔۔۔
کیوں کیا ہوا ماہرہ۔۔۔ اسکی حالت دیکھ صاعمہ بیگم کے ہاتھوں کے طوطے اڑے۔۔۔
مام پلیز آپ بابا سے بات کر کے کسی طرح میرا اور فائز کا نکاح کروا دیں پلیز مام۔۔۔ وہ ماں کے ہاتھ تھامتی ملتجی ہوئی۔۔۔ جبکہ صائمہ بیگم نے ایک ہی جھٹکے میں اسکے ہاتھ سے اپنے ہاتھِ چھڑواتے اسے یوں دیکھا جیسے اسکی دماغی حالت خراب ہونے کا شبہ ہو۔۔۔
تمہارا دماغ تو خراب نہیں ہو گیا ماہرہ۔۔۔ میں اس تھڑڈ کلاس گھٹیا ۔۔۔۔ہمارے ہی ٹکروں پر پلنے والے لاوارث یتیم کو میں اپنا ڈرائیور نا رکھوں اور تم اسے میرا داماد بنانا چاہتی ہو۔۔۔۔
کیا فیوچر ہے اس ٹٹ پونجھیے کا۔۔۔ ادھوری ڈگری۔۔۔ کھٹارا بائیک ۔۔۔ پارٹ ٹائم چند ہزار کی جاب اور کرائے کا فلیٹ۔۔۔ جس میں ضروریات زندگی نام کی نہیں۔۔۔
وہ میری پھولوں سی نازو پلی بیٹی کے پاوں کی دھول کے قابل نہیں اور میں اسے تمہارے سر کا تاج بنا دوں۔۔۔ ہے وہ اس قابل۔۔۔ ارے وہ اپنی چند ٹکے کی نوکری سے میری بیٹی کی بنیادی ضروریات پوری نہیں کر سکتا ۔۔۔ اسکی خواہشیں کہاں سے پوری کریے گا۔۔۔ میں مر نا جاوں ایسا سوچنے سے بھی پہلے۔۔۔
وہ بدک کر پیچھے ہٹتی غصے تنفر اور حقارت سے بولیں تو پھر بولتی چلی گئیں۔۔۔
ماہرہ حیرت سے بت بنی ماں کی گوہر افشانیاں سن رہی تھی۔۔۔
وہ شخص جو ہے۔۔۔ جیسا ہے۔۔۔ جس بھی فنانشلی سٹیٹ میں ہے۔۔۔ وہ شخص میری آتی جاتی سانسوں کی وجہ ہے۔۔۔ وہ نا ملا نا تو مر جاوں گی۔۔۔ وہ سرخ نگاہوں سے ماں کو دیکھتی چبا چبا کر گویا ہوئی۔۔۔
بکواس بند کرو اپنی ماہرہ اظہر۔۔۔ یہ میری ہی ڈھیل کا نتیجہ ہے جو تم اسقدر خود سر ہو رہی ہو۔۔۔ صائمہ بیگم زندگی میں پہلی مرتبہ اس پر اسقدر ڈھاری تھیں ورنہ انہیں اپنی بیٹی بیٹے سے بھی زیادہ عزیز تھی۔۔۔ انکا یہ ہی ردعمل انکی فائز علوی سے نفرت ظاہر کرنے کو کافی تھا۔۔۔۔
وہ گھٹیا کم ظرف۔۔ دوسروں کے ٹکروں پر پلنے والا پوری زندگی ہمارے ٹکرے کھا کھا کر اب ہمارے ہی گھر پر نقب لگا کر بیٹھا ہے۔۔۔ اب وہ ہم سب کو تمہاری وجہ سے بے بس کر کے ہماری پڑاپڑتی پر ہمشہ کے لئیے راج کرنا چاہتا ہے۔۔۔ وہ۔۔
بس کر دیں ماں۔۔۔ ماں کی دل چھلنی کرتیں باتیں سن کر وہ سر دونوں ہاتھوں میں تھامتی ڈھاری۔۔۔
بس کر دیں۔۔۔ جسے آپ کم ظرف اور گھٹیا کہہ رہی ہیں نا۔۔۔ وہ بہت باظرف اور خودار انسان ہے۔۔ جو ابھی ڈگری مکمل نا ہونے کے باوجود اپنی رہائش الگ اختیار کر گیا۔۔۔
خاک رہائش الگ اختیار کر گیا۔۔ وہ تو بروقت میری عقل نے کام کیا جو اسکی ماں کے مرنے کے دوسرے ہی دن اسے صاف لفظوں میں جا کر بول دیا میں نے کے ماں مر گئ تمہاری اس لئے اپنی بھی شکل گم کرو یہاں سے۔۔۔ پوری زندگی یتیموں کو پالنے کا ٹھیکہ نہیں لیا ہم نے۔۔۔ اسی لئے تو دوسرے ہی دن باوجود تمہارے باپ کے روکنے کے وہ یہاں روک انہیں۔۔۔
غصے سے کھولتے وہ ماہرہ کی ہر بات کی نفی کرتی یہ انکشاف اس پر کر کے جیسے اسے پتھر کا کر گئ۔۔۔
یکوم ہی اسکی آنکھوں کے سامنے سے وہ منظر گھومنے لگے۔۔۔ پھوپھو کا انہیں چھوڑ کر جانا اور فائز کا یہ صدمہ برداشت نا کرتے بیمار پر جانا۔۔۔ اور دوسرے ہی دن اسکا بخار سے جلتے کسی کی بھی پرواہ نا کرتے اس گھر سے چلے جانا۔۔۔ وہ جیسے لمحوں میں اس وقت پر پہنچتی فائز علوی پر ٹوٹی اس قیامت کو اپنے دل پر گزرےا محسوس کر رہی تھی۔۔۔ دل بھر آنے کیساتھ اسکی آنکھ بھی چھلک اٹھی۔۔۔
یہ سب آپ نے کیا ماں۔۔ آپ نے۔۔۔ کیا لے رہا تھا وہ آپکا۔۔۔
وہ صدمے کے زیر اثر گویا ہوئی۔۔
لے نہیں رہا تھا تو دے کیا رہا تھا۔۔۔ محض پریشانیاں۔۔۔ مفت خوری۔۔۔ کام چوری۔۔۔
بس ماں ۔۔۔ بس۔۔ اس سے پہلے کے صائمہ بیگم پھر سے شروع ہوتی وہ بے ساختہ انکی بات کاٹ گئ۔۔
کس چیز کی عداوت ہے آپکی اسکے ساتھ۔۔۔
اسکی نظر تمہاری جائیدار پر ہے۔۔۔ وہ تاسف سے گویا ہوئیں۔۔۔
وہ تھوکتا نہیں اس جائیداد پر۔۔ وہ تو آپکی نازک اندام نازو پلوں بیٹی کو بھی نگاہ بھڑ کر نہیں دیکھتا۔۔۔ یہ تو میں ہی اسکے پیچھے پاگل ہوں۔۔۔ وہ کیا ہے اور کیا نہیں۔۔۔ مجھے کیسا لائف سٹائل دے سکتا ہے کیسا نہیں ۔۔۔۔ یہ میرا مسلہ ہے آپکا نہیں۔۔۔
میں شادی کروں گی تو محض فائز علوی سے۔۔۔
وہ انگلی اٹھا کر وارن کرتی ۔۔
میں بھی دیکھتی ہوں کے تم میری رضا مندی کے بنا یہ قدم کیسے اٹھاتی ہو۔۔۔
اولاد اگر کنویں میں گرنا چاہیے تو اسے کنویں میں گرنے کے لئے چھوڑ نہین دیا چاتا۔۔۔ جہاں اسے پیار سے بات سمجھ نا آئے تو غصے سے سمجھایا جاسکتا ہے۔۔۔ اوراگر وہ غصے سے بھی نا مانے تو فو تھپڑ بھی جڑ دیئے جاتے ہیں۔۔
انکے لہجے میں نخوت فھا۔۔ چلیں دیکھتے ہیں کہ کیا بنتا ہے۔۔۔ فائز علوی مائرہ اظہر کا ہے اور ہمیشہ رہے گا۔۔۔ وہ ماں کے سامنے بے خوف انداز میں کہتی اپنا بیگ اٹھا کر کمرے جانب بڑھی۔۔۔
جبکہ صائمہ بیگم غصے سے کھولتیں سر نفی میں ہلا کر رہ گئ۔۔۔ بھول ہے یہ تمہاری ماہرہ۔۔۔ کے میں تمہیں اپنی زندگی تباہ کرنے دوں گی۔۔۔
اب اسی کم ظرف کا دماغ درست کرنا پڑے گا جو میری بیٹی کو ہمارے خلاف ورغلا کر بغاوت پر اکسا رہا ہے۔۔۔ وہ غصے سے کھولتی فائز علوی کا نمبر ملانے لگی۔۔۔۔
******
پروفیسر صاحب کیا آپکے پاس سونم گڑیا کے لئے کوئی محفوظ ٹھکانا ہے۔۔۔ فائز علوی پروفیسر عظیم کو دیکھتے سنجیدگی سے گویا ہوا۔۔۔
نہیں تو پھر جب تک حالات سازگار نہیں ہو جاتے آپ بھی میرے فلیٹ میں شف ہو جائیں۔۔ میں تب تک اپنے کسی دوست ہاں شفٹ ہو جاوں گا۔۔۔ فائز نے ماتھا مسلتے جیسے مسلے کا حل بتایا۔۔۔
رہائش کا مسلہ نہیں ہے فائز۔۔۔ میرے پاس اس شہر میں اس گھر کے علاوہ بھی گھر ہے۔۔۔ سونم کے ساتھ میں وہاں شفٹ ہو جاوں گا۔۔۔ لیکن اس گھر کے بارے میں میں پریقین نہیں ہوں کے جب وہ لوگ یہاں اس گھر کے بارے میں معلومات حاصل کر سکتے ہیں تو پتہ نہیں دوسرا گھر بھی انکے ّعلم میں ہے یا نہیں۔۔۔
پروفیسر عظیم اپنے ٹچ کاوئنٹر کے سامنے اس پر جھکے کھڑے تھے جبکہ فائز اپنی مخصوص نشست پر براجمان انہیں دیکھ رہا تھا۔۔۔
لیکن پروفیسر صاحب بھاگنا تو کسی مسلے کا حل نہیں ہے۔۔۔ ہم کب تک بھاگیں گے۔۔۔ ہم فورس کا سہارا کیوں نہیں لے لیتے۔۔۔ وہ اپنی نشست سے اٹھ کر انکے مقابل گیا۔۔۔
یہاں اس مطلبی دنیا میں کون اپنا کون پرایا ہے کچھ کہہ نہیں سکتے ہیں۔۔۔ میں اپنے قابل اعتبار لوگوں کا ہی ڈسا ہوں۔۔۔سکیوڑٹی کے نام پر میں مزید رسک نہیں لے سکتا کم از کم تب تک جب تک یہ پڑاجیکٹ مکمل ہو کر لاوئنچ نہیں ہو جاتا یا پھر جب تک میں اس پوری لیب کا نام و نشان یہاں سے مٹا کر تمہارے ہینڈ اوور نہیں کر دیا مجھے ہر ہر قدم پھونک پھونک کر رکھنا ہے۔۔۔
تم بس جلد از جلد لیب شفٹ کرواو۔۔۔
پروفیسر صاحب کے کہنے ہر وہ سر ہاں میں ہلاتا موبائل جیب سے نکال کر ایک سائیڈ پر ہو گیا۔۔۔
اسے اس سب میں اپنے دوستوں کی ضرورت تھی۔۔۔ جو اسکی طاقت تھے۔۔۔
*****
تین سے چار گھنٹے لگے تھے اسے مرتسم اور وہاج کے ساتھ مل کر بیسمنٹ کے خفیہ راستے کے ذریعے سے لیب وہاں سے شفٹ کرواتے ہوئے۔۔۔ ان دونوں کے علاوہ وہ کسی لیبر کی بھی مدد نہیں لے سکتے تھے۔۔۔ یہ ہی وجہ تھی کے سارا سیٹ آپ ان تینوں نے مل کر ہی کیا تھا۔۔۔
اپنے اپارٹمنٹ جانے سے پہلے ہی وہ بہت رازدارانہ طریقے سے سونم اور عظیم صاحب کو انکی نئ رہائش گاہ پر چھوڑ آیا تھا۔۔۔ پروفیسر عظیم اور سونم کو اسنے خود سے رابطہ کرنے کے لئے وہاج کے نام پر موجود سم ایکٹو کر کے دی تھی تا کے انکے نام پر رجسٹر سم کو اگر ٹریس کی جائے بھی تو انکی کالز ٹریس نا کی جائیں۔۔۔ ان دونوں کے نام سے اشوز سم کو اسنے استعمال کرنے سے سختی سے منع کر رکھا تھا۔۔۔
اب بھی وہ تینوں ہانپتے کانپتے فائز علوی کے اپارٹمنٹ میں موجود تھے۔۔۔
خاصی فلمی سچوئشن ہے فائز علوی۔۔۔ مصیب کسی کی۔۔۔۔کام کسی کا۔۔۔ سائنٹسٹ کوئی اور خدائی فوجدار کون ۔۔۔۔
ہم۔۔۔ تھکا ہارا مرتسم لودھی صوفے پر دھپ سے بیٹھتا نیم دراز ہوتا بے زار سے لہجے میں گویا ہوا۔۔۔ یعنی کے چھری ہماری گردن پر پھرنے کو تیار ہے۔۔۔جبکہ سنگل صوفے پر بیٹھا وہاج اسکے انداز پر کھل کر مسکرا دیا۔۔۔
سائنٹیسٹ کوئی بھی ہو۔۔۔ پراجیکٹ ہمارا ہی ہے۔۔۔۔ فائز نے جوسر میں کٹے ہوئے آم ڈالنے کے بعد دودھ ڈال کر بٹن دبایا تو سارے اپارٹمنٹ میں جوسر چلنے کی آواز گھونجنے لگی۔۔۔۔
فائز ان دونوں کی کیفیت اچھے سے سمجھ رہا تھا۔۔۔ وہ جو ہل کر پانی تک نہیں پیتے تھے۔۔ جنکے آگے پیچھے ملازموں کی فوج ہمہ وقت تیار رہتی وہ دوستی میں اس غضب کی گرمی میں مزدوروں کی طرح ہارڈویئر کا سامان اور لیب کی باقی چیزیں رازدرانہ انداز میں اسکے ساتھ شفٹ کرواتے رہے تھے۔۔۔ اب وہاج تو خاموش تھا مگر مرتسم لودھی ٹھہرا صدا کا منہ پھٹ۔۔۔ وہ دل کی بات دل میں رکھ ہی نہیں سکتا تھا۔۔۔
یہ لو پکڑو شیک پیو اور دماغ ٹھنڈا کرو جسکے حالات ابضی بگڑے ہوئے ہیں۔۔۔۔۔۔۔
وہ شیک کا جگ اور تین گلاس لئے انکے پاس ہی آیا۔۔۔ مرتسم اور وہاج دونوں ہی سیدھے ہو بیٹھے۔۔۔
شکر ہے تمہیں ہمارا کچھ تو احساس ہوا ۔۔۔ مرتسم نے سر جھٹکتے گلاس تھام کر لبوں سے لگایا۔۔۔
یار میری طاقت ہو تم دونوں۔۔۔ تمہارا احساس نہیں ہوگا تو اور کس کا ہوگا۔۔۔۔۔ فائز سنجیدہ ہوا۔۔۔
اپنی سویٹ سی ماہرہ اظہر کا اور کس کا۔۔۔ وہاج نے ماحول کی سنجیدگی دیکھ حسب سابق چٹکولہ چھوڑا۔۔۔ جبکہ شیک مرتسم کی منہ سے پھوار کی صورت باہر نکلا۔۔۔ وہ ہس ہس کر دہرا ہوگیا۔۔ جتنا فائز علوی اس ٹاپک سے چڑتا تھا مرتسم تو نہیں البتہ وہاج اسے بہت چڑاتا تھا۔۔۔ پھر مرتسم بھی اسکا بھرپور ساتھ دیتا۔۔۔
ان کے گروپ میں کوئی لڑکی ڈسکس نہیں ہوتی تھی لیکن ماہرہ اظہر کے فائز علوی کے گرد پروانے کی مانند منڈلانے نیز فائز کے اس سے چڑنے پر وہاج نے یہ اسکی چڑ ہی بنا ڈالی تھی۔۔۔ کیونکہ جو بھی تھا اسے ماہرہ اظہر کی پرواہ بھی بہت تھی۔۔۔۔
فائز نے اسے کھا جانے والی نگاہوں سے گھورا۔۔۔
ویسے سوچو یار۔۔۔ اگر اسے سونم کے بارے میں پتہ چلے کے وہ تمہارے فلیٹ میں تھی یا مستقبل میں یہاں آ سکتی ہے تو ۔۔
وہ سب جانتی ہے۔۔۔ وہاج صوفے کی پشت سے ٹیک لگائے قیاس آرائی کر رہا تھا جب فائز کے کہنے پر سیدھا ہو بیٹھا۔۔۔ اب کی بار اچھو لگنے کی باری اسکی کی تھی۔۔۔
پھر تو اسکا اتنا ٹھنڈا ردعمل کچھ ہضم نہیں ہو رہا۔۔۔ مرتسم نے گلاس خالی کر کے میز پر رکھا۔۔۔ ہمارے اندازے کے مطابق تو اسے زمین آسمان ایک کر دینا چاہیے تھآ۔۔۔
ماہرہ اظہر اور ردعمل ٹھنڈا دے ۔۔۔ دونوّں متزاد چیزیں ہیں۔۔۔ فائز نے تاسف سے سر ہلاتے اپنا خالی ہو چلا گلاس دوبارہ بھرا۔۔۔ا
مطلب کے وہ اچھا خاصا سین کریٹ کر چکی ہے ۔۔۔ آہاہ۔۔۔۔ اور ہم ہی بے خبر رہے۔۔۔ کاش کے ہم لائیو تمہاری ڈرگت دیکھ سکتے۔۔۔۔۔۔ وہاج اسکی بات میں حصہ لیتا اٹھ کر کچن کی جانب بڑھا۔۔۔ اب وہ پورے حق سے فریج کھولے اندر سے کچھ کھانے کو تلاش کر رہا تھا۔۔۔
اس سے پہلے کے فائز علوی اس کو کوئی کڑارا سا جواب دیتا اسکا موبائل فون بج اٹھا ۔۔۔ اسنے ٹیبل پر پڑے موبائل کو اٹھا کر سکرین دیکھی۔۔۔ جہاں مامی کالنگ کے الفاظ جگمھا رہے تھے ۔۔۔ جنہیں دیکھ فائز علوی کے جبڑے بھینچے۔۔۔ اور ماتھے پر لکیریں سی ابھریں۔۔۔
اس عورت کا فون بنا کسی مقصد کے تو نہیں آ سکتا تھا۔۔۔
اسنے وہاں سے اٹھتے فون یس کر کے کان سے گایا ۔ اور خود چلتا ہوا بالکنی میں نکل آیا۔۔۔ یہ فون کال خوشگوار ہو ہی نہیں سکتی تھی اس لئے وہ اپنے دوستوں کی پہنچ سے دور ہوگیا۔۔۔
تم گھٹیا لالچی بے حس اور بیغیرت انسان۔۔۔۔ ہمارے ہی ٹکروں پر پل کر ہمارے ہی منہ کو آ رہے ہو۔۔۔
فون اٹھاتے ہی مامی کی چنگاڑتی آواز اسکے اعصاب چٹخا گئ۔۔۔ وہ ضبط سے مٹھیاں بھینچ کر رہ گیا۔۔۔ یہ عورت یونہی اسے ڈی گریڈ کر کے اسکا ضبط آزماتی تھی۔۔۔
ایکسکیوزمی۔۔۔ وہ بدقت انہیں ٹوکتا
گویا ہوا۔۔۔
بکواس بمد کرو اپنی۔۔۔ میں جیسے تمہیں جانتی ہی نہیں۔۔۔ تمہاری ماں تمہاری تربیت کا راگ الاپ الاپ کر مر گئ۔۔۔ لیکن اسکی تربیت ہار گئ۔۔۔کیونکہ تمہاری رگوں میں ہے ہی گھٹیا خون۔۔۔ اسی گندے دودھیال کا جسنے تمہارے باپ کے مرنے کے بعد تم لوگوں کو پوچھا تک نہیں اور تم اور تمہاری ماں کو لاوارثوں کی طرح ہمارے در پر پھینک دیا۔۔۔۔۔ تم ایک گھٹیا کردار کے کم ظرف شخص ہو جسے اپنی مری ماں کی عزت کا بھی خیال نہیں۔۔۔
لیکن میری ایک بات کان کھول کر سن لو۔۔ اگر تم نے دوبارہ ماہرہ سے رابطہ کرنے کی کوشیش کی تو میں بہت بری طرح پیش آوں گی۔۔۔
میری بیٹی سے دور رہو۔۔۔ وہ چیختے ہوئے اپنی بے سروپا باتوں کے ذریعے سے اپنی اندر کی کھولن نکال رہی تھی۔۔۔ جبکہ فائز علوی کے ضبط کی انتہا ہو چکی تھی اسکے اندر الاو دھکنے لگا
میری بجائے یہ بات آپ اپنی صاحبزادی کو سمجھائے۔۔۔ جو بے وقوفوں کی طرح ایک کمظرف اور گھٹیا شخص کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑی ہے۔۔۔ غصے سے چٹختے دماھ کیساتھ چبا چبا کر اپنی بات مکمل کرتے ہی وہ فون کاٹ گیا۔۔ جنکہ دل سب کچھ تہس نہیس کرنے کو چاہ رہا پے۔۔۔
فون جیب میں ڈالتے وہ غصے سے اپنے کمرے میں آیا

No comments